Explained with ayahs 72–74
عباد الرحمن کے اوصاف
عباد الرحمن کے اور نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے یعنی شرک نہیں کرتے، بت پرستی سے بچتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے فسق و فجور نہیں کرتے کفر سے الگ رہتے ہیں لغو اور باطل کاموں سے پرہیز کرتے ہیں گانا نہیں سنتے مشرکوں کی عیدیں نہیں مناتے خیانت نہیں کرتے بری مجلسوں میں نشست نہیں رکھتے شرابیں نہیں پیتے شراب خانوں میں نہیں جاتے اس کی رغبت نہیں کرتے حدیث میں بھی ہے کہ سچے مومن کو چاہئے کہ اس دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر دور شراب چل رہا ہو اور یہ بھی مطلب ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ بخاری ومسلم میں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ بتادوں ؟ تین دفعہ…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 92
یعنی ان کو ایمان اور عمل صالح کی توفیق دے اور پاکیزہ اخلاق سے آراستہ کر، کیونکہ ایک مومن کو بیوی بچوں کے حسن و جمال اور عیش و آرام سے نہیں بلکہ ان کی نیک خصالی سے ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے۔ اس کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز تکلیف دہ نہیں ہو سکتی کہ جو دنیا میں اس کو سب سے زیادہ پیارے ہیں انہیں دوزخ کا ایندھن بننے کے لیے تیار ہوتے دیکھے۔ ایسی صورت میں تو بیوی کا حسن اور بچوں کی جوانی و لیاقت اس کے لیے اور بھی زیادہ سوہان روح ہوگی، کیونکہ وہ ہر وقت اس رنج میں مبتلا رہے گا کہ یہ سب اپنی ان خوبیوں کے باوجود اللہ کے عذاب میں گرفتار ہونے والے ہیں۔
یہاں خاص طور پر یہ بات نگاہ میں رہنی…
Read the full tafseer →تیرہویں صفتوَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا، اس میں اپنی اولاد اور ازواج کے لئے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ ان کو میرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے۔ آنکھوں کی ٹھنڈک بنانے سے مراد حضرت حسن بصری کی تفسیر کے مطابق یہ ہے کہ ان کو اللہ کی اطاعت میں مشغول دیکھے یہی ایک انسان کے لئے آنکھوں کی اصلی ٹھنڈک ہے اور اگر اولاد و ازواج کی ظاہری صحت و عافیت اور خوش حالی بھی اس میں شامل کی جائے تو وہ بھی درست ہے۔
یہاں اس دعا سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ کے مقبول بندے صرف اپنے نفس کی اصلاح اور اعمال صالحہ پر…
Read the full tafseer →اہل و عیال کی عاقبت کی فکر
یہ لوگ اپنی عاقبت کی فکر کے ساتھ اپنے اہل و عیال اور اپنی آل و اولاد کی عاقبت کی بھی برابر فکر رکھتے ہیں۔ وہ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ کلم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ ہر شخص اپنے اہل و عیال کا چرواہا بنایا گیا ہے اور قیامت کے روز ہر شخص سے اس کے گلہ کے خیر و شر سے متعلق پرسش ہونی ہے۔ اس ذمہ داری کا کما حقہ، احساس رکھنے کی وجہ سے وہ اپنے اہل و عیال کے اندر ان لاء ابالی لوگوں کی طرح زندگی نہیں گزارتے جن کو صرف اپنے عیش دنیا کی فکر ہوتی ہے، اس امر سے انہیں کوئی بحث نہیں ہوتی کہ ان کے اہل و عیال نیکی کی راہ پر چل رہے ہیں یا بدی کی۔ ان لوگوں کے لا ابالی پن کا ذکر سورة قیامہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
74-1یعنی انھیں اپنا بھی فرماں بردار بنا اور ہمارا بھی اطاعت گزار جس سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔74
۔-1یعنی ایسا اچھا نمونہ کہ خیر میں وہ ہماری پیروی کریں۔
Read the full tafseer →29: باپ عام طور سے اپنے خاندان کا سربراہ ہوتا ہے۔ اس کو یہ دعا سکھائی جا رہی ہے کہ بحیثیت باپ اور شوہر کے مجھے اپنے بیوی بچوں کا سربراہ تو بننا ہے، لیکن میرے بیوی بچوں کو متقی پرہیزگار بنا دیجئے تاکہ میں پرہیزگاروں کا سربراہ بنوں جو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں، فاسق و فاجر لوگوں کا سربراہ نہ بنوں جو میرے لیے عذاب جان بن جائیں۔ جو لوگ اپنے گھر والوں کے رویے سے پریشان رہتے ہیں، انہیں یہ دعا ضرور مانگتے رہنا چاہیے۔
Read the full tafseer →آخر میں یہ کہ وہ صرف رب کے سامنے سجدے اور قیام پر ہی اکتفاء نہیں کرتے ، اور ان دوسرے عظیم صفات کو اپنے اندر جمع کرنے پر ہی اکتفاء نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے بعد ایسی اولاد کی بھی امید کرتے ہیں جو ان کے طریقے پر چلنے والی ہو۔ ان کی بیویاں بھی ان ہی جیسی ہوں۔ ان کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ ان کے دل ان کے بارے میں مطمئن ہوں۔ اور اس طرح ان کی بیویوں اور بچوں کیذریعے عبادالرحمٰن کی تعداد میں اضافہ ہو اور وہ یہ امید بھی کرتے ہیں کہ وہ دور سے نیک بندوں کے لئے بھی اچھا نمونہ ہوں۔
والذین ……اماماً (74)
یہ گہرا فطری اور ایمانی شعور ہے ، یہ کہ ہر مومن صادق یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کے ساتھی زیادہ ہوں…
Read the full tafseer →9 یعنی بیوی بچے ایسے عنایت فرما جنہیں دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی اور قلب مسرور ہو۔ اور ظاہر ہے مومن کامل کا دل اسی وقت ٹھنڈا ہوگا۔ جب اپنے اہل و عیال کو طاعت الٰہی کے راستہ پر گامزن اور علم نافع کی تحصیل میں مشغول پائے۔ دنیا کی سب نعمتیں اور مسرتیں اس کے بعد ہیں۔
10 یعنی ایسا بنا دے کہ لوگ ہماری اقتداء کر کے متقی بن جایا کریں۔ حاصل یہ کہ ہم نہ صرف بذات خود مہتدی، بلکہ دوسروں کے لیے ہادی ہوں۔ اور ہمارا خاندان تقویٰ و طہارت میں ہماری پیروی کرے۔
Read the full tafseer →آیت 74 وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ ”
یعنی جس راستے پر ہم چل رہے ہیں ‘ ہمارے اہل و عیال کو بھی اسی راستے پر چلنے والا بنادے تاکہ ان کی طرف سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ‘ کیونکہ اللہ کے ان نیک بندوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک تو اسی میں ہوگی کہ ان کے گھر والے بھی اللہ کے فرمانبردار بندے بنیں اور اللہ کی بندگی کے راستے کو اختیار کریں۔ اس کے برعکس اگر گھر کا سربراہ اللہ کے دین پر چلنے والا ہو اور اس کے اہل و عیال کی ترجیحات کچھ اور ہوں تو گھر کے اندر کشیدگی اور کش مکش کا ماحول پیدا ہوجائے گا جو ان میں سے کسی کے لیے بھی باعث سکون نہیں…
Read the full tafseer →92 یہ بھی دعاء کا اگلا حصہ ہے۔ یعنی ہماری بیویوں اور اولاد کو نیک اور پرہیز بنا اور پھر ان سے بڑھ کر پرہیزگار بنا کہ ہم خود ان کے امام اور پیش رو ثابت ہوں۔ پھر یہ دعا صرف ازواج و اولاد تک ہی محدود نہیں۔ بلکہ ہمیں اتنا نیک اور پرہیزگار بنادے کہ ہم دوسرے متقین کے لئے رہبر اور نمونہ بن جائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے بندوں کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ نیکی اور پرہیزگاری کے میان میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی آرزو اور اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس مقصد کے لئے اور اس میدان میں امت یا حکومت تک کے لئے آرزو کرنا یا دعا کرنا صرف جائز ہی نہیں تھا بلکہ ضروری ہے۔ جبکہ حب مال یا حب جاء کی غرض سے طلب…
Read the full tafseer →87۔ یعنی ہمارے گھر والے، ہمارے بیوی بچے، سب ایسے دیندار وپابند شریعت ہوں کہ ہم انہیں دیکھ دیکھ کر باغ باغ ہوجایا کریں۔ اور ہم کو تقوی میں کمال بھی اس درجہ کا عطا کر کہ دوسرے اہل تقوی ہم سے ہدایت پائیں۔ انسان کا بجائے خود دیندار ہونا کافی نہیں، اپنے گھروالوں کی بھی دینداری کی دیکھ بھال اس پر لازم ہے۔ ضمنا یہ بات بھی نکل آئی کہ صاحب اہل و عیال ہونا، ایمان کیا معنی کمال ایمان وتقوی کے بھی منافی نہیں۔ اور اس میں رد ہے مسیحیوں اور بعض ان مشرک قوموں کا جنہوں نے تجرد و انقطاع ورہبانیت کو دلیل کمال سمجھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
آیت نمبر 61 تا 77
ترجمہ : وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے آسمانوں میں بارہ برج بنائے (1) حَمَلْ (2) ثور (3) الجوزاء (4) السرطان (5) الاسد (6) السنبلہ (7) المیزان (8) العقرب (9) القوس (10) الجدی (11) الدلو (12) الحوت یہ سبع سیارہ کی منزلیں ہیں (اور وہ سبع سیارہ یہ ہیں) (1) المریخ : اس کی منزل حمل اور عقرب ہے (2) زہرہ : اس کی منزل ثور اور میزان ہے (3) عطارد : اس کی منزل جوزاء اور سنبلہ ہے (4) القمر اس کی منزل سرطان ہے (5) الشمس اس کی منزل اسد ہے (6) المشتری : اس کی منزل قوس اور حوت ہیں (7) زحل اس کی منزل جدی اور دلو ہے، اور اس نے آسمان میں چراغ بھی بنایا اور وہ سورج ہے اور نورانی چاند بنایا اور…
Read the full tafseer →والذین یقولون ربنا ہب لنا من ازواجنا وذریتنا قرۃ اعین اور وہ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم
کو ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عنایت فرما۔
اَعْیُنٍبصیغۂ جمع قلت ذکر کیا (عیون نہیں فرمایا) کیونکہ آنکھوں سے مراد ہیں متقیوں کی آنکھیں اور دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں ان کی تعداد کم ہی ہے۔ مِنْ اَزْوَاجِنَّا میں مِن ابتدائیہ ہے یعنی ہمارے اہل و عیال کو صالح بنا کہ ان سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔
قرطبی نے لکھا ہے مؤمن کی آنکھ کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی ٹھنڈک نہیں کہ وہ اپنی بیوی اور اولاد کو اللہ کا فرماں بردار دیکھے۔
حسن نے کہا قرۃ مصدر ہے اسی لئے اس کو بصیغۂ مفرد ذکر کیا۔ قرۃ کا…
Read the full tafseer →(74) اور وہ حضرات ایسے ہیں جو یہ دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کو نیک صالحہ بناتا کہ ان کو دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ہمیں ایسا نیکوکار بناتا کہ ہماری پیروی کی جائے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا۔۔ : مکی دور میں مسلمانوں کی زندگی کچھ اس طرح سے گزر رہی تھی کہ باپ مسلمان ہے تو اولاد کافر ہے اور اولاد مسلمان ہے تو والدین کافر ہیں، شوہر مسلمان ہے تو بیوی کافر ہے اور بیوی مسلمان ہے تو شوہر کافر ہے۔ یہ صورت حال مسلمانوں کے لیے سخت غم اور اضطراب کا باعث بنی ہوئی تھی، وہ اپنی آنکھوں سے اپنے پیاروں کو جہنم کا ایندھن بنتے ہوئے دیکھتے تو سخت بےچین ہوتے۔ لہٰذا عباد الرحمان کی صفات میں سے ایک صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے ازواج و اولاد کو بھی ایمان کی دولت نصیب فرما، تاکہ انھیں دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھندی ہوں۔ واضح رہے کہ مرد یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
( والذین یقولون۔۔۔۔۔۔ )
وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ ضحاک نے کہا : وہ تیری اطاعت کرتے ہوئے۔
اس آیت میں بچے کی دعا جواز ہے، بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ذریۃ واحد اور جمع ہے، واحد کے لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّـبَۃً ج ( آل عمران : 38) فَھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا۔ ( مریم : 5) جمع کے لیے یہ آیت ہے : ذریۃ صعفا (النسائ : 9) سورة بقرہ میں اس کا اشتقاق مفصل گزر چکا ہے۔
ابن کثیر، ابن عامر اور حضرت حسن بصری نے وذریاتنا قرأت کی ہے۔ ابو عمرو، حمزہ، کسائی، طلحہ اور عیسیٰ نے ذریتنا قرأت کی ہے۔
قرۃ عین مفعول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ آیت ” والذین لا یشہدون الزور “ کے بارے میں فرمایا کہ زور مدینہ میں ایک بت تھا وہ لوگ اس کے اردگرد ساتویں دن کھیلتے تھے جب رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اس کے پاس گزرے تو برے وقار کے ساتھ اس سے گزر جاتے تھے اور اس کی طرف نہ دیکھتے تھے۔
2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) و سے روایت کیا کہ آیت ” والذین لایشہدون الزور “ سے مراد ہے شرک۔
3۔ الخطیب نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” والذین لایشہدون الزور “ سے مراد ہے مشرکین کی عیدیں یعنی خوشی کے دن۔
جھوٹ اور جھوٹی گواہی دونوں حرام ہیں
4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لایشہدون الزور “ سے مراد…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] يَقُوْلُوْنَ [ کہتے ہیں ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] هَبْ [ تو عطا کر ] لَنَا [ ہم کو ] مِنْ اَزْوَاجِنَا [ ہمارے جوڑوں میں سے ] وَذُرِّيّٰتِنَا [ اور ہماری اولادوں میں سے ] قُرَّةَ اَعْيُنٍ [ آنکھوں کی ٹھنڈک ] وَّاجْعَلْنَا [ اور تو بنا ہم کو ] لِلْمُتَّقِيْنَ [ تقوی کرنے والوں کے لئے ] اِمَامًا [ پیشوا ]
Read the full tafseer →عباد الرحمن کی تیرھویں صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ ) (اے ہمارے رب ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما) یعنی انہیں ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے اس کا مفہوم بہت عام ہے بیویاں اور بچے سکھ سے رہیں اور آرام سے جئیں فرمانبر دار بھی ہوں نیک بھی ہوں دین دار بھی ہوں انہیں دیکھ دیکھ کر دل خوش ہوتا ہو یہ سب آنکھوں کی ٹھنڈک میں شامل ہے۔
جو بندے نیک ہوتے ہیں انہیں اپنی ازواج و اولاد کی دینداری کی بھی فکر رہتی ہے وہ جہاں ان کے کھانے پینے کا فکر کرتے ہیں وہاں انہیں دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–77
مدح عباد رحمان و ذکر شمائل اہل ایمان و عرفان
قال اللہ تعالیٰ وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا۔۔۔ الی۔۔۔ فسوف یکون لزاما۔
(ربط) گزشتہ آیات میں رحمان سے نفرت کرنے والوں کا ذکر تھا، اب آئندہ آیات میں عباد رحمن یعنی رحمان کے خاص بندوں کے اوصاف کا ذکر ہے جس سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ رحمن کے بندے رحمن کی رحمتوں اور اس کی نعمتوں کا عملی طور پر کس طرح اور کس صورت میں شکر کرتے ہیں لہٰذا جو شخص رحمن کے آثار رحمت ونعمت کے تشکر کا ارادہ کرے اور رحمن کے آثار قدرت و عجائب صنعت میں تفکر اور تدبر کا ارادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ رحمن کے شکر گزار بندوں کے نقش قدم پر ثلے اور اگر بر بنائے غفلت اس سے کوئی…
Read the full tafseer →48:۔ ” والذین یقولون الخ “ یہ عباد الرحمن کی آٹھویں صفت ہے وہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہتے ہیں اے پروردگار عالم ہماری بیویوں کو اور ہماری اولاد کو ایسا نیک بنا کہ انہیں دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دلوں کو راحت پہنچے اور ہمیں ورع وتقوی کے اس مقام پر پہنچا دے کہ ہم پرہیز گاروں کے امام ہوں۔ اور علم وتقوی میں ہماری اقتداء کی جائے اور ہم سے دوسروں کو دینی نفع حاصل ہو۔ قال ابن عباس والحسن والسدی وقتادۃ والربیع بن انس ائمۃ یقدی بنا فی الخیر (ابن کثیر ج 3 ص 330) ائمۃ یقتدی بنا فی الخیر ولنا نفع متعد الی غیرنا (جامع البیان) حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں للمتقین کا متعلق محذوف ہے یعنی تابعین جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
(21) آیا …………
عبد الرحمن کی صفات ہی کا ذکر ہو رہا ہے ارشاد ہوتا ہے والذین اذا ذکروا بایت ربھم اور اللہ کے بندے وہ ہیں کہ جب انہیں ان کے پروردگار کی آیات یعنی احکام اور دلائل یاددلائے جاتے ہیں سمجھائے جاتے ہیں ۔ لم یخرواغا یھا صم و عمیانا تو وہ اس پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے۔ اس کے بر خلاف وہ اللہ تعالیٰ کے دلائل قدر ت میں غورو فکر کر کے اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں ، اس کے احکام کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور پھر ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اللہ کے بندے آیات الٰہی کے ساتھ کفارو مشرکین جیسے بہرے اور اندھوں کا سا سلوک نہیں کرتے کہ ان کو سنا ، نہ سمجھا ، نہ غور و فکر کیا اور نہ اس پر عمل…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا 74
وهب
الهِبَةُ : أن تجعل ملكك لغیرک بغیر عوض . يقال : وَهَبْتُهُ هِبَةً ومَوْهِبَةً ومَوْهِباً. قال تعالی:
وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْماعِيلَ وَإِسْحاقَ
[إبراهيم/ 39] ، إِنَّما أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19]
( و ہ ب ) وھبتہ
ھبۃ وموھبۃ ومو ھبا بلا عوض کوئی چیز دے دینا یا کچھ دینا قرآن میں ہے : ۔ وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] اور ہم نے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–77
1 ؎ وہ جھوٹے کام میں شامل نہیں ہوتے۔
(7) والذین لایشہدون الزور الخ زور کے معنی ہیں جھوٹی گواہی یعنی جھوٹی گواہی کے پاس بھی نہیں جاتے اور مواضع کذب بھی مراد ہوسکتی ہیں اور ہر نازیبا مجلس بھی مراد ہوسکتی ہے جو خلاف شرع شریف ہے جیسا کہ ناچ رنگ کی مجلسیں اور کھیل اور تماشوں کے مجامع۔ اس طرح کفار و مشرکین و مبتدعین کے میلے اور تیوہار ان سب سے اجتناب کرنا عبادالرحمن کی شان ہے، و اذا مرواباللغو مرواکراما اور جو کہیں ایسے بیہودہ مواقع کے پاس سے گزرنے کا اتفاق بھی ہو تو اعراض کر کے گزر جاتے ہیں منہ ڈہانک کر آنکھ بند کر کے گزرنا ان کی طرف متوجہ نہ ہونا بزرگانہ گزرنا ہے۔ (9) والذین اذا ذکرو الخ کہ جب ان…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ یَـقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَجِنَا وَذُرِّیّٰـتِـنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّـقِیْنَ اِمَامًا۔ (الفرقان : 74)
(اور جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم کو ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی جانب سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا۔ )
عبادالرحمن کی جامعیت
عبادالرحمن کی صفاتِ حمیدہ کو پڑھ کر گمان ہونے لگتا ہے کہ شاید یہ لوگ علائقِ دنیا سے لاتعلق، گھریلو زندگی سے بےنیاز اور حقوق و فرائض کی گراں باریوں سے گریزاں ہوں گے۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں یہ بتا کر ہماری اس غلط فہمی کو دور کردیا گیا ہے کہ وہ ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : الرّحمن کے بندے اس حد تک صاحب بصیرت اور ذمہ دار ہوتے ہیں کہ اپنی اصلاح کے ساتھ اپنے اہل و عیال اور پورے معاشرے کی اصلاح کے لیے دعا گو اور کوشاں رہتے ہیں۔
الرّحمن کے بندے نہ صرف صاحب بصیرت اور ذمہ دار ہوتے ہیں بلکہ اپنی اور دوسروں کی اصلاح کے لیے بھی فکر مند رہتے ہیں۔ اصلاح کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان اپنی اور اپنے اہل و عیال کی اصلاح کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کی اصلاح کی جدوجہد کرتا رہے کیونکہ یہی اصلاح کا مؤثر ذریعہ اور امت کا اجتماعی فرض ہے۔
الرّحمن کے بندے نہ صرف اپنے اہل و عیال کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اپنے رب کی بارگاہ میں رو رو کر دعائیں کرتے ہیں کہ ہمارے رب…
Read the full tafseer →آنکھوں کی ٹھنڈک اولاد :
74: وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا (اور وہ کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہمیں تو ہماری اولاد اور ازواج میں سے) منؔ بیانیہ ہے گو اس طرح فرمایا ہب لناقرۃ اعین۔ پھر (قرۃ) کو واضح کر کے اس کی تفسیر کردی گئی۔ مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا اس کا مطلب یہ ہے ان کو اللہ تعالیٰ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے۔ قُرَّۃَاَعْیُنٍ (آنکھوں کی ٹھنڈک) یہ اسی طرح ہے جیسے محاورہ عرب میں کہتے ہیں۔ رأیت منک اسدًا یعنی انت اسد تو شیر ہے۔
نمبر 2۔ ابتداء کیلئے ہے اس صورت میں معنی یہ ہے ہم کو ان کی طرف سے اس میں وہ بات عنایت فرما جو ہماری…
Read the full tafseer →74۔ والذین یقولون ربناھب لنا من ازواجنا وذریاتنا، ابوعمرو، حمزہ، کسائی نے بغیر الف کے پڑھا ہے اور ابوبکر اور باقی قراء نے ذریاتنا جمع کے صیغہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
قرۃ اعین کی تفسیر۔
” قرۃ اعین، ہماری اولادوں کو متقی اور پرہیزگاری بنا کر ہماری آنکھوں کو ٹھنڈا فرمایا۔ بعض نے کہا کہ ان کو نیک صالح بناتا کہ ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔
قرظی کا قول ہے کہ مومن کی آنکھ کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی ٹھنڈک نہیں کہ وہ اپنی بیوی اور اولاد کو اللہ کا فرمانبردار دیکھے حسن کا قول ہے کہ قرۃ مصدر ہے اسی لیے اس کے صیغہ کو مفرد ذکر کیا قرۃ کا اصل معنی ہے ٹھنڈک ۔ عرب لوگ گرمی کی تکلیف سے ٹھنڈک کی طرف چلتے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
68۔ 77:۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت 6 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے ‘ اس میں عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت دنیا میں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ‘ آپ نے فرمایا کہ جس اللہ نے بندے کو پیدا کیا ‘ ایک تو اس کی عبادت یا قدرت میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑا گناہ ہے۔ میں نے پوچھا ‘ اس کے بعد کون سا بڑا گناہ ہے آپ نے فرمایا ‘ تنگ دستی کے خوف سے آدمی کا اپنی اولاد کو قتل کر ڈالنا ‘ میں نے پوچھا ‘ پھر اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے ‘ آپ نے فرمایا ‘ پڑوس کی عورت سے بدکاری کا کرنا ‘ آپ کے اس قول کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–77
آیت 63 سے 77
اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :
(1) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت : یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بدتمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ (ان کل من فی السموات والارض الی اتی الرحمن عبدا) (مریم : 19/93) ” آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ “
(2) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت : یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ومرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
قرل باری (قوۃ اغین۔ آنکھوں کی ٹھنڈک) یعنی دنیا میں آنکھوں کی ٹھنڈک۔ اس کی صورت یہ ہے کہ انسان اپنی بیوی اور بھائی وغیرہ کو اللہ کی اطاعت میں مصروف دیکھے۔ ان کا قول ہے ” بخدا ایک مسلمان کی آنکھوں کی اس سے بڑھ کر ٹھنڈک نہیں ہے کہ وہ اپنی اولاد یا اپنے والدین یا اپنے بچوں کی اولاد یا بھائی یا دوست کو اللہ کا مطیع اور فرمانبردار پائے۔ “ سلمہ بن کہیل سے مروی ہے کہ ” اے اللہ ! ان کے ذریعہ بایں طور پر آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا کر انہیں اپنی فرمانبرداری کی راہ پر گامزن کردے۔ “ ابو اسامہ نے احوص بن حکیم سے ، انہوں نے ابوالزاہریہ سے اور انہوں نے جبیر بن نفیر سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ سے کا ا رشاد ہے : (من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
93 فکر آخرت کی صفت محمود کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کے اندر اپنے ساتھ ساتھ اپنے اہل و عیال کی عاقبت کی فکر کی صفت محمود و مطلوب بھی پائی جاتی ہے۔ سو وہ بندگان خدا اپنے اہل و عیال کی آخرت کی بھی فکر کرتے ہیں اور ان کے لیے اپنے رب کے حضور دعائیں بھی کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں اور اولادوں کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرما۔ یعنی ہماری بیویوں اور اولادوں کو ایسا صالح اور نیک بنا دے کہ وہ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک کا ذریعہ بن جائیں۔ کیونکہ ایک صالح اور حقیقت شناس انسان کے لئے دنیا سے بڑھ کر آخرت اور صورت سے بڑھ کر سیرت کی بہتری ہی موجب فرحت و سرور اور ذریعہ تسکین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
آسمانوں کے انتظام ‘ نیک لوگوں کی صفات اور انعام
تشریح : یہاں بھی کفار کو اللہ رحمن و رحیم کی کچھ اور مہربانیاں بتائی جا رہی ہیں جو خالصتاً اس وقت کے عرب بدئوں کے معیار کے مطابق بات کی جا رہی ہے۔ گو کہ اس میں بھی افلاک کے بہت سے رازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس وقت یعنی ساتویں صدی کے آغاز کا عرب بدو اپنی تہذیب ‘ زبان ‘ تشبیہ اور ثقافت کے معیار سے ہی بات سمجھ سکتا تھا کیونکہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب وہی عرب بدو تھا۔ لہٰذا رب ذوالجلال انہی کی زبان میں فرماتا ہے کہ ” بڑی بابرکت ہے اس کی ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور پھر سورج کا روشن چراغ رکھ دیا اور چاند کا اجالا کردیا۔ اور وہی ہے جس نے رات دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
وہ ذات بہت ہی برکت والی ہے جس نے انسان کو حیات کا اتنا وسیع نظام ایک بہت ہی خوبصورت انداز سے ترتیب دے کر ہر شے کو حتی کہ اجرام فلکی کو بھی انسان ہی کی خدمت پہ لگا دیا جو مدتوں سے اپنے اپنے کام کو پوری باقاعدگی سے انجام دے رہے ہیں اس نے آسمانوں کو پیدا فرمایا اور فضا سے آسمانی بروج یعنی اجرام فلکی کے ٹھکانے اور ان کی راہیں مقرر کردیں ، یہ علم ہیئت ، ستارے اور سیارے ان کی رفتار اور اس کے اثرات ان کا وجود اور اس کی تعمیر اور خصوصیات اس میں بہت لمبی بحث ہے خصوصا اس دور میں جبکہ انسانی قدم چاند تک جا پہنچے ہیں اور وہاں کی فضا اس کے اثرات اور ان کی رفتار اور اس کے اسباب…
Read the full tafseer →13 ۔ یعنی انہیں نیک اور خدا ترس بنا۔ کیونکہ ایک مومن کی آنکھ محض بیوی بچوں کے ظاہری حسن و جمال اور عیش و آرام سے نہیں بلکہ دراصل ان کی نیکی اور پاکیزہ اخلاق اور اطاعت کیشی سے ٹھنڈی ہوتی ہے۔ 14 ۔ کہ دوسرے لوگ بھی ہماری اتباع کریں اور وہ بھی نیک اور پرہیزگار بن جائیں تاکہ ان کی نیکی کا ثواب، ان کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی ملتا رہے۔
Read the full tafseer →(25:74) قرۃ اعین مضاف مضاف الیہ ۔ آنکھوں کی ٹھنڈک۔ قر (نصر، ضرب، سمع) قر ۔۔ الیوم دن کا ٹھنڈا ہونا۔ اور قرت عینہ کسی کی آنکھ کو ٹھنڈا ہونا۔ قرۃ وقرۃ ورورۃ (ضرب، سمع) قرۃ ٹھنڈک، تازگی۔۔ جسے دیکھ کر انسان کو خوشی حاصل ہو اسے قرۃ عین کہا جاتا ہے جیسے قرۃ عین لی ولک (28:9) یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اعین عین کی جمع ہے آنکھیں۔ عین کی جمع عیون واعیان بھی ہے۔ قرۃ بوجہ مفعول ھب منصوب ہے۔
ھب فعل امر واحد مذکر حاضر وھب وھبۃ مصدر (باب فتح 9 تو عطا کر۔ تو بخش۔ تو بخشش کر۔
اماما۔ بروزن فعال اسم ہے بمعنی من یؤتم بہ یعنی جس کا قصد کیا جائے ، پیشوا ۔ مقتدا جس کی پیروی کی جائے وہ امام ہے۔ مذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–77
لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 77 :
انفقوا (انہوں نے خرچ کیا) ‘ لم یسرفوا (انہوں نے بےجا نہیں اڑایا) ‘ لم یقتروا (نہ انہوں نے تنگی کی ) ‘ قوام ( ٹھرا ہوا۔ اعتدال و میانہ روی) ‘ یلق (وہ پڑے گا) ‘ اثام (گناہ) ‘ یضعف (دوگنا کردے گا) ‘ مھان (ذلیل و خوار) ‘ متاب (لوٹنے والا۔ توبہ کرنے والا) ‘ لایشھدون (وہ موجود نہیں ہیں) ‘ الزور (جھوٹ) ‘ لغو (فضول۔ بےہودہ) ‘ کرام (سنجیدگی۔ عزت) ‘ لم یخروا (وہ نہیں کرتے) ‘ صم (بہرے) ‘ عمیان ( اندھے) ھب (عطا فرما۔ دے دیجئے) ‘ قرۃ (ٹھنڈک) ‘ الغرفۃ (اونچا مکان) ‘ تحیۃ (دعا) ‘ مایعبئو ا (وہ پرواہ نہیں کرتا ) ‘ لزام (چمٹنے والی) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 67 تا 77 :
ان آیات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
بیوی بچوں کے لیے دعا کا ذکر۔ نیک بندوں کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا ہے رحمن کے بندوں میں ایسے بھی لوگ ہیں جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری بیبیاں اور اولاد نیک صالح متقی عطا فرما کہ ان کا حسن عمل اور ان کی اطاعت خدا اور سول دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی اور دل خوش ہوں یا یہ معنی ہیں کہ خود تو دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے ہیں مگر ان کی بیوی بچے ابھی نعمت اسلام سے محروم ہیں اس لیے یہ رحمن کے بندے اپنی بیوی بچوں کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں کہ یا اللہ ہم کو ہمارے بیوی اور بچوں کی طرف سے یہ آنکھوں کی ٹھنڈک دے کہ ہم اپنی آنکھوں سے ان کو ایماندار اور پرہیزگار دیکھ لیں ، اور ہم کو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
[45] مطلب یہ ہے کہ ہم کو اس درجے کا نیک اور پرہیزگار بنا کہ دوسرے لوگ ہمیں دیکھ کر نیک اور پرہیزگار بن جائیں اور نیکی اور پرہیزگاری میں ہم ان کے امام ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
بالا خانوں کے مکین
1: عبادالرحمن کی تفصیل کے بعد ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ وہ لوگ کون ہیں ۔ جو بہشت میں بالاخانوں پر رہیں گے ۔ جن کے مرتبے بلندہوں گے اور فرشتوں کی جانب سے جن کا دعا اسلام کے ساتھ خیر مقدم ہوگا ۔ ارشاد ہے کہ یہ لوگ ہیں ۔ جو مجالس فسق وفجور میں شریک نہیں ہوتے اور عفیف اور پاکباز رہتے ہیں ۔ جو نہایت باوقار اور متین ہوتے ہیں ۔ بےہودہ محفلوں سے باعزت و کرامت گزر جاتے ہیں ۔ اور آنکھ اٹھا کر بھی اس کی جانب نہیں دیکھتے ۔ پھر ان میں یہ بھی خوبی ہوتی ہے ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ کی باتیں ان کو سمجھائی جاتی ہیں ۔ تو وہ فکر اور غور سے سنتے ہیں ۔ اندھا دھند ان پر ٹوٹ نہیں پڑتے ۔
اپنی بیوی بچوں…
Read the full tafseer →(74) اور نیز وہ ایسے ہیں جو اپنے اہل و عیال کے لئے بہتری اور بھلائی کی دعا کرتے ہوں یوں کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما ار ہمیں پرہیز گاروں کا پیشوا بنا دے آنکھوں کی ٹھنڈک کا مطلب یہ ہے کہ ان کو بھی تقوے کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما اور طاعت وتقویٰ میں اتنا بڑھادے کہ لوگ ہماری اقتدار کرنے لگیں دوسروں کے لئے ہم کو ہادی بنادے تاکہ پرہیز گارہماری پرہیز گاری اور تقوے کو دیکھ کر ہماری پیروی کرنے لگیں اور ہمارا خاندان ہمارے نقش قدم پر چلے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آنکھ کی ٹھنڈک یہ کہ وہ بھی اپنی راہ پر ہوں ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
ف 4۔ خود جیسے دین کے عاشق ہیں، اسی طرح اپنے اہل و عیال کے لئے بھی اس کے ساعی اور داعی ہیں۔ چناچہ عملی کوشش کے ساتھ حق تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کو دیندار بنا دے، اور ہم کو ہماری اس سعی دینداری میں کامیاب فرما کر ان کو دینداری کی حالت میں دیکھ کر راحت اور سرور ہو۔
5۔ اصل مقصود افسری مانگنا نہیں گو اس میں بھی قباحت نہیں مگر مقام دلالت نہیں کرتا، بلکہ اصل مقصود اپنے خاندان کے متقی ہونے کی درخواست ہے۔
Read the full tafseer →یہ لوگ اللہ سے اہل واولاد کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک بنانے کی درخواست کرتے ہیں :
74۔ ان عبادالرحمن کی نشانیوں میں سے ایک یہ نشانی بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں ایسی بیویاں اور ایسی اولاد عطا فرما جنہیں دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں اور دل کو سرور آئے اور سکون حاصل ہو اور کوئی پریشانی باقی نہ رہے اور ظاہر ہے کہ یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب بیوی شکل و صورت ‘ عقل وفکر اور اخلاق وکردار کی اچھی ہو اور یہ حال اولاد کا ہے کہ وہ ہر طرف سے درست اور صحیح ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ نہایت باادب اور فرمانبردار بھی ہوتا کہ طرفین کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دل سرور حاصل…
Read the full tafseer →The Thirteenth Characteristic
وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
And those who say, "Our Lord, Give us, from our spouses and our children, coolness of eyes and make us heads of the God-fearing. (25:74)
This verse contains a prayer for one's spouses and children. According to the explanation put forward by Hasan al-Basri (رح) one can draw solace from his dear ones (wife and children) if they submit to the way of Allah. That is the true bliss for a man, and if the good health and well being of…
Read the full tafseer →92 The most distinctive characteristic of the true servants is their eagerness for prayer to Allah. In verse 65 their "prayer" for their own salvation and in verse 74 their prayer for their wives and children have been cited: "Our Lord, make our wives and children true believers so that they should practise righteousness and become a source of comfort for us." Their prayer shows that the true servants of Allah are more concerned about the salvation of their beloved ones in the Hereafter than the enjoyment of the world. It should be noted that this characteristic has been cited here to show…
Read the full tafseer →