Al-Furqaan 25:73

Al-Furqaan · from ayah 73

25:73

وَالَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا ۟وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا

اور وہ کہ جب ان کو پروردگار کی باتیں سمجھائی جاتی ہیں تو اُن پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے (بلکہ غور سے سنتے ہیں)

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who, when reminded of the verses of their Lord, do not fall upon them deaf and blind.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 6 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:73

جنہیں اگر اُن کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہ کہ جب ان کو پروردگار کی باتیں سمجھائی جاتی ہیں تو اُن پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے (بلکہ غور سے سنتے ہیں)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب انہیں ان کے رب کے کلام کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وه اندھے بہرے ہو کر ان پر نہیں گرتے۔

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب انہیں اپنے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ان پر بہرے اور اندھے بن کر نہیں گرتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ کہ جب کہ انہیں ان کے رب کی آیتیں یاد د لائی جائیں تو ان پر بہرے اندھے ہوکر نہیں گرتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں ان کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے (بلکہ غور و فکر بھی کرتے ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ کہ جب انھیں ان کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی جائے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب انھیں اپنے رب کی آیات سے نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے (بلکہ ان کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں)

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جن کا حال یہ ہے کہ جب انکو ان کے رب کی آیات کے ذریعہ سے یاد دہانی کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب ان کو نصیحت و یاددھانی کی جاتی ہے ان کے رب کی آیتوں کے ذریعے تو وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں رہ جاتے

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ لوگ ایسے ہیں کہ جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے ان کے پروردگار کی آیات کے ذریعہ سے تو یہ ان پر اندھے بہرے ہو کر نہیں گرتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ لوگ کہ جب انہیں ان کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرپڑتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ لوگ کہ جب ان کو رب کی باتیں بتائیں جاتی ہیں تو وہ اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گزر جاتے۔ (بلکہ غوروفکر سے سنتے ہیں)

— محترمہ رفعت اعجاز

who do not behave like the blind and the deaf, when the Revelations of their Lord are recited to them for admonition;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and those who, when they are reminded of the verses of their Lord, do not fall at them as deaf and blind ones,

— Muhammad Taqi Usmani

and those who, when they are reminded of the verses of their Lord, do not fall at them as deaf and blind ones,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who, when they are reminded of the Ayat of their Lord, fall not deaf and blind thereat.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who, when they are reminded of the revelations of their Lord, fall not deaf and blind thereat.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who, when reminded of the verses of their Lord, do not fall upon them deaf and blind.

— Saheeh International

who, when reminded of the revelations of their Lord, do not try to ignore them as though deaf and blind. Rather, they try to understand and think about them.

— Muhammad Sarwar

And they who, when reminded of the communications of their Lord, do not fall down thereat deaf and blind.

— Muhammad Habib Shakir

And those who, when they are admonished by the commands of Allah, fall not down thereat, deaf and blind.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who, when they are admonished with the Signs of their Lord, droop not down at them as if they were deaf or blind;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:73

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 72–74

عباد الرحمن کے اوصاف عباد الرحمن کے اور نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے یعنی شرک نہیں کرتے، بت پرستی سے بچتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے فسق و فجور نہیں کرتے کفر سے الگ رہتے ہیں لغو اور باطل کاموں سے پرہیز کرتے ہیں گانا نہیں سنتے مشرکوں کی عیدیں نہیں مناتے خیانت نہیں کرتے بری مجلسوں میں نشست نہیں رکھتے شرابیں نہیں پیتے شراب خانوں میں نہیں جاتے اس کی رغبت نہیں کرتے حدیث میں بھی ہے کہ سچے مومن کو چاہئے کہ اس دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر دور شراب چل رہا ہو اور یہ بھی مطلب ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ بخاری ومسلم میں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ بتادوں ؟ تین دفعہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 91 اصل میں الفاظ ہیں لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیھَا صُمّاً وَّ عَمْیَاناً ، جن کا لفظی ترجمہ یہ ہے " وہ ان پر اندھے بہرے بن کر نہیں گرتے "۔ لیکن یہاں " گرنے " کا لفظ اپنے لغوی معنی کے لیے نہیں بلکہ محاورے کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ جیسے ہم اردو میں کہتے ہیں " جہاد کا حکم سن کر بیٹھے رہ گئے "۔ اس میں بیٹھنے کا لفظ اپنے لغوی معنی میں نہیں بلکہ جہاد کے لیے شرکت نہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ نہیں ہیں جو اللہ کی آیات سن کر ٹس سے مس نہ ہوں، بلکہ وہ ان کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں۔ جو ہدایت ان آیات میں آئی ہو اس کی پیروی کرتے ہیں، جس چیز کو فرض قرار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

بارہویں صفتوَالَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِـرُّوْا عَلَيْهَا صُمًّا وَّعُمْيَانًا یعنی ان مقبول بندوں کی یہ شان ہے کہ جب ان کو اللہ کی آیات اور آخرت کی یاد دلائی جاتی ہے تو وہ ان آیات کی طرف اندھے بہروں کی طرح متوجہ نہیں ہوتے بلکہ سمیع وبصیر انسان کی طرح ان میں غور کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ غافل اور مغفل لوگوں کی طرح ایسا معاملہ نہیں کرتے کہ انہوں نے سنا ہی نہیں یا دیکھا ہی نہیں۔ اس آیت میں دو چیزیں مذکور ہیں ایک آیات الہیہ پر گر پڑنا یعنی اہمتام کے ساتھ متوجہ ہونا یہ تو امر محمود و مقصود اور بہت بڑی نیکی ہے۔ دوسرے اندھے بہروں کی طرح گرنا کہ قرآن کی آیات پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قرآن کے مخالفین پر تعریض اس آیت میں اللہ کے ان بندوں کی تعریف بھی ہے اور ساتھ ہی اس میں قرآن کے ان اندھے بہرے مخالفین پر تعریض بھی جو قرآن کو محض اعتراض و نکتہ چینی کے لئے سنتے تھے۔ فرمایا کہ ہمارے ان بندوں کو قرآن کے ذریعہ سے جب تعلیم و تذکیر کی جاتی ہے تو وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس کی مخالفت کے لئے اس پر اندھے بہرے ہو کر نہیں گرتے۔ یہ مضمون سورة جن آیت 19 اور معارج آیات 37-36 میں تفصیل سے آئے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

73-1یعنی وہ ان سے اعراض و غفلت نہیں برتتے جیسے وہ بہرے ہوں کہ سنیں ہی نہیں یا اندھے ہوں کہ دیکھیں ہی نہیں۔ بلکہ وہ غور اور توجہ سے سنتے اور انھیں آویزہ گوش اور حرز جان بناتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

28: یہ منافقین پر طنز ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں سن کر وہ بظاہر تو بڑے اشتیاق کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ان کے آگے گرے اور جھکے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں انہوں نے حق بات کے لیے اپنے کان بند کیے ہوتے ہیں، اور آنکھیں اندھی بنائی ہوتی ہیں اس لیے ان آیتوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ان آیتوں کا شوق سے استقبال کرتے ہیں تو ان کے مضامین کو توجہ سے سنتے بھی ہیں، اور جن حقائق کی طرف وہ توجہ دلاتی ہیں، انہیں کھلی آنکھوں سمجھنے اور محسوس کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

والذین ……وعمیاناً (73) اس آیت میں مشرکین مکہ پر ایک لطیف طنز بھی ہے کہ وہ اندھے اور بہرے ہو کر اپنے بوتوں کی عبادت میں لگے ہوئے تھے اور احمقانہ اور باطل عقائد کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے۔ نہ وہ کوئی عقل کی بات سننا چاہتے تھے اور نہ کھلے حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ نہ وہ کھلی روشنی کو دیکھتے تھے اور نہ سیدھی راہ کو دیکھتے ہوئے اس پر چلتے تھے۔ اوندھے منہ اندھا اور بہرا ہو کر چلنا ، بغیر سوچے سمجھے اور عقل و تدبر کرتے ہوئے چلنا۔ یہ محاورہ ایک ایسی حالت کی تصویر کشی کرتا ہے جس سے غفلت اور کم عقلی کی انتہائی حالت کا اظہار ہوتا ہے ، جس میں کوئی غور و تدبر نہ ہو۔ رہے اللہ کے بندے اور رحمن کے بندے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 بلکہ نہایت فکرو تدبر اور دھیان سے سنیں اور سن کر متاثر ہوں مشرکین کی طرح پتھر کی مورتیں نہ بن جائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 73 وَالَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْہَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا ” اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ ایسے لوگ جب قرآنی آیات کو پڑھتے یا سنتے ہیں تو ان کا رویہ اندھوں یا بہروں جیسا نہیں ہوتا ‘ بلکہ وہ ان پر غور و فکر اور تدبر کرتے ہیں۔ اور دوسرا مفہوم یہ کہ وہ قریش مکہّ کی طرح اندھے اور بہرے بن کر اللہ کی آیات کی مخالفت پر کمر نہیں کس لیتے۔ اس مفہوم میں اس آیت کا انداز طنزیہ ہوگا کہ جو رویہ مشرکین مکہّ نے کلام اللہ کے ساتھ اپنا رکھا ہے ‘ اللہ کے نیک بندوں کا ایسا رویہ نہیں ہوتا۔ سورة محمد میں کفار کے اس رویے کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے : اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

90 یعنی جب اللہ کے بندوں کو آیات الٰہی سے نصیحت اور یاددہانی کرائی جاتی ہے تو اس نصیحت سے ان کے دل پوری طرح اثر قبول کرتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں وہ اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ بعض عقل پرست حضرات اس آیت کا مفہوم یہ لیتے ہیں کہ اللہ کے بندوں کو جب آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بلا سوچے سمجھے ان پر نہیں گرے پڑتے۔ بلکہ اگر وہ آیات عقل کے مطابق ہوں تو تب انھیں قبول کرتے ہیں اور اس سے مزید نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ قرآن کا کوئی حکم ایسا نہیں جو عقل انسان کے مطابق نہ ہو۔ اس طرح وہ وحی الٰہی کو عقل کے تابع بنادیتے ہیں۔ یہ سلوک تو ان کا قرآن سے ہے اور جو سلوک ان کا احادیث نبویہ سے ہوسکتا ہے اس کا آپ خود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

86۔ یعنی قرآن کے حقائق ومعارف کی طرف سے اندھے بہرے نہیں ہوجاتے بلکہ عقل وفہم کے ساتھ اس طرف متوجہ ہوتے اور تعمیل احکام میں الگ جاتے ہیں، یہ انہیں بگوش قبول سنتے اور بچشم عبرت دیکھتے ہیں۔ ایات سے مراد احکام الہی بھی ہوسکتے ہیں اور اللہ کی نشانیاں بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–77

آیت نمبر 61 تا 77 ترجمہ : وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے آسمانوں میں بارہ برج بنائے (1) حَمَلْ (2) ثور (3) الجوزاء (4) السرطان (5) الاسد (6) السنبلہ (7) المیزان (8) العقرب (9) القوس (10) الجدی (11) الدلو (12) الحوت یہ سبع سیارہ کی منزلیں ہیں (اور وہ سبع سیارہ یہ ہیں) (1) المریخ : اس کی منزل حمل اور عقرب ہے (2) زہرہ : اس کی منزل ثور اور میزان ہے (3) عطارد : اس کی منزل جوزاء اور سنبلہ ہے (4) القمر اس کی منزل سرطان ہے (5) الشمس اس کی منزل اسد ہے (6) المشتری : اس کی منزل قوس اور حوت ہیں (7) زحل اس کی منزل جدی اور دلو ہے، اور اس نے آسمان میں چراغ بھی بنایا اور وہ سورج ہے اور نورانی چاند بنایا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین اذا ذکروا بایت ربہم اور وہ ایسے ہیں کہ جب اللہ کے احکام کے ذریعہ سے ان کو نصیحت کی جاتی ہے۔ یعنی وعظ و نصیحت کی جاتی ہے اور آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں یا یہ مراد ہے کہ (آیات سے مراد ہیں انفسی اور آفاقی دلائل توحید) جب ان کو دلائل توحید و تنزیہ پیش کر کے نصیحت کی جاتی ہے۔ لم یخروا علیہا صما وعمیانا۔ تو ان احکام پر بہرے اندھے ہو کر نہیں گرتے۔ یعنی بغیر گوش ہوش سے سننے اور بغیر چشم حقیقت بین سے دیکھنے کے اندھوں بہروں کی طرح نہیں اٹھ کھڑے ہوتے بلکہ گوش قبول سے سنتے اور سمجھتے ہیں اور چشم بصیرت سے حق کو دیکھتے اور اس پر چلتے ہیں۔ آیت میں نفی حالت مراد ہے نفی فعل مراد نہیں ہے یعنی ان کی حالت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(73) اور وہ ایسے ہیں کہ جس وقت ان کو اللہ کے احکام کے ذریعے سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ احکام خداوندی پر بہرے ہو کر اور اندھے ہو کر اس پر نہیں گرتے بلکہ ان کو سنتے اور دیکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ۔۔ : ”بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے“ بلکہ وہ انھیں نہایت غور و فکر سے سنتے اور ان کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں۔ اس میں کفار پر چوٹ ہے کہ وہ اپنے رب کی آیات سن کر ذرہ بھر متاثر نہیں ہوتے، بلکہ اپنے کفر پر سختی سے جمے رہتے ہیں۔ نوح ؑ نے اپنی قوم کے کفار کا یہی نقشہ کھینچا ہے، فرمایا : (وَاِنِّىْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَهُمْ فِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَاَصَرُّوْا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا) [ نوح : 7 ] ”اور بیشک میں نے جب بھی انھیں دعوت دی، تاکہ تو انھیں معاف کردے، انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

( والذین اذاذکر۔۔۔۔۔۔ ) مسئلہ نمبر : 1۔ والذین اذا ذکر و بایت ربھم جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ اپنی آخرت کو یاد کرتے ہیں اور وہ غافل نہیں ہوتے یہاں تک کہ وہ اس کے قائم مقام ہوجاتے جو سنتا ہی نہیں۔ لم یخروا وہاں کوئی خرور نہیں ہوتا، جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے : قعدیبلی وہ روتا رہا، اگرچہ وہاں بیٹھنا نہیں ہوتا، یہ طبریٰ نے کہا اور اسے پسند کیا۔ ابن عطیہ نے کہا : وہ بہرے اور اندھے گر پڑتے ہیں، یہ کفار کی صفت ہے اس سے مراد ان کا اعراض کرنا ہے یہ تیرے اس قول کے موافق ہے : قعد فلان یشتنی، قام فلان یبی، تو نے اس کے ساتھ قعود ( بیٹھنے) اور قیام (کھڑے ہونا) کی خبر دینے کا قصد نہیں کیا۔ یہ کلام…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 72–74

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ آیت ” والذین لا یشہدون الزور “ کے بارے میں فرمایا کہ زور مدینہ میں ایک بت تھا وہ لوگ اس کے اردگرد ساتویں دن کھیلتے تھے جب رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اس کے پاس گزرے تو برے وقار کے ساتھ اس سے گزر جاتے تھے اور اس کی طرف نہ دیکھتے تھے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) و سے روایت کیا کہ آیت ” والذین لایشہدون الزور “ سے مراد ہے شرک۔ 3۔ الخطیب نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” والذین لایشہدون الزور “ سے مراد ہے مشرکین کی عیدیں یعنی خوشی کے دن۔ جھوٹ اور جھوٹی گواہی دونوں حرام ہیں 4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لایشہدون الزور “ سے مراد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] اِذَا [ (کہ) جب ] ذُكِّرُوْا [ انھیں یاد کرائی جاتی ہیں ] بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ [ ان کے رب کی آیات ] لَمْ يَخِـرُّوْا [ تو وہ نہیں گرتے ] عَلَيْهَا [ ان پر ] صُمًّا [ بہرے ہوتے ہوئے ] وَّعُمْيَانًا [ اور اندھے ہوتے ہوئے ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 73 ۔ میں ــــ ” نہیں گرتے “ کا لفظ اپنے لغوی معنی کے لئے نہیں بلکہ محاورے کے طور پر استعمال ہوا ہے ۔ جیسے ہم اردو میں کہتے ہیں ” جہاد کا حکم بیٹھے رہ گے ۔ “ اس میں بیٹھنے کا لفظ اپنے لغوی معنی میں بلکہ جہاد کے لئے حرکت نہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ وہ ایسے لوگ نہیں ہیں جو اللہ کی آیت سن کر ٹس سے مس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

عباد الرحمن کی بارھویں صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ اِِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْہَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا) یعنی ان بندوں کی شان یہ ہے کہ جب انہیں ان کے رب کی آیات کے ذریعہ تذکیر کی جاتی ہے یعنی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور ان کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو ان پر گونگے بہرے ہو کر نہیں گرپڑتے۔ مطلب یہ ہے کہ ان آیات پر اچھی طرح متوجہ ہوتے ہیں ان کے سمجھنے اور تقاضے جاننے کے لیے سمع و بصر کو استعمال کرتے ہیں ایسا طرز استعمال نہیں کرتے جیسے سنا ہی نہیں اور دیکھا ہی نہیں۔ اس سے معلوم ہوا قرآن کے معاصی اور مفاھیم کو اچھی طرح سمجھا جائے اور ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–77

مدح عباد رحمان و ذکر شمائل اہل ایمان و عرفان قال اللہ تعالیٰ وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا۔۔۔ الی۔۔۔ فسوف یکون لزاما۔ (ربط) گزشتہ آیات میں رحمان سے نفرت کرنے والوں کا ذکر تھا، اب آئندہ آیات میں عباد رحمن یعنی رحمان کے خاص بندوں کے اوصاف کا ذکر ہے جس سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ رحمن کے بندے رحمن کی رحمتوں اور اس کی نعمتوں کا عملی طور پر کس طرح اور کس صورت میں شکر کرتے ہیں لہٰذا جو شخص رحمن کے آثار رحمت ونعمت کے تشکر کا ارادہ کرے اور رحمن کے آثار قدرت و عجائب صنعت میں تفکر اور تدبر کا ارادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ رحمن کے شکر گزار بندوں کے نقش قدم پر ثلے اور اگر بر بنائے غفلت اس سے کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

47:۔ ” والذین اذا الخ “ یہ ساتویں صفت ہے۔ جب ان کے پاس اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان میں غور و فکر کرتے اور ان کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بےسوچے سمجھے اندھا دھند نہیں گرے پڑتے یعنی اگر آیتیں سن کر شدت خوف یا فرط مسرت سے سجدے میں گر جاتے ہیں تو ان کے مفہوم و مطلب کو سمجھ کر ایسا کرتے ہیں۔ منافقوں کی طرح جھوٹے تاثر کو ظاہر کرنے کے لیے تکلف اور تصنع سے ایسا نہیں کرتے یعنی انھم اذا ذکروا بھا خرو سجدا و ب کیا سامعین باذان واعیۃ مبصرین بعیون راعیۃ لما امروا بہ و نھوا عنہ لا کالمنافقین واشباھھم (مدارک ج 3 ص 135) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 73–77

(21) آیا ………… عبد الرحمن کی صفات ہی کا ذکر ہو رہا ہے ارشاد ہوتا ہے والذین اذا ذکروا بایت ربھم اور اللہ کے بندے وہ ہیں کہ جب انہیں ان کے پروردگار کی آیات یعنی احکام اور دلائل یاددلائے جاتے ہیں سمجھائے جاتے ہیں ۔ لم یخرواغا یھا صم و عمیانا تو وہ اس پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے۔ اس کے بر خلاف وہ اللہ تعالیٰ کے دلائل قدر ت میں غورو فکر کر کے اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں ، اس کے احکام کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور پھر ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اللہ کے بندے آیات الٰہی کے ساتھ کفارو مشرکین جیسے بہرے اور اندھوں کا سا سلوک نہیں کرتے کہ ان کو سنا ، نہ سمجھا ، نہ غور و فکر کیا اور نہ اس پر عمل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ يَخِـرُّوْا عَلَيْہَا صُمًّا وَّعُمْيَانًا۝ 73 ذكر ( نصیحت) وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» . قال بعض العلماء «2» في الفرق بين قوله : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] ، وبین قوله : اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] : إنّ قوله : فَاذْكُرُونِي مخاطبة لأصحاب النبي صلّى اللہ عليه وسلم الذین حصل لهم فضل قوّة بمعرفته تعالی، فأمرهم بأن يذكروه بغیر واسطة، وقوله تعالی: اذْكُرُوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 72–77

1 ؎ وہ جھوٹے کام میں شامل نہیں ہوتے۔ (7) والذین لایشہدون الزور الخ زور کے معنی ہیں جھوٹی گواہی یعنی جھوٹی گواہی کے پاس بھی نہیں جاتے اور مواضع کذب بھی مراد ہوسکتی ہیں اور ہر نازیبا مجلس بھی مراد ہوسکتی ہے جو خلاف شرع شریف ہے جیسا کہ ناچ رنگ کی مجلسیں اور کھیل اور تماشوں کے مجامع۔ اس طرح کفار و مشرکین و مبتدعین کے میلے اور تیوہار ان سب سے اجتناب کرنا عبادالرحمن کی شان ہے، و اذا مرواباللغو مرواکراما اور جو کہیں ایسے بیہودہ مواقع کے پاس سے گزرنے کا اتفاق بھی ہو تو اعراض کر کے گزر جاتے ہیں منہ ڈہانک کر آنکھ بند کر کے گزرنا ان کی طرف متوجہ نہ ہونا بزرگانہ گزرنا ہے۔ (9) والذین اذا ذکرو الخ کہ جب ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْھَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا۔ (الفرقان : 73) (اور (عبادالرحمن) وہ لوگ ہیں کہ جب انھیں نصیحت کی جاتی ہے ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے۔ ) لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْھَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا … قرطبی اور بحرمحیط کی وضاحت کے مطابق لَمْ یَخِرُّوْاگر پڑنے کے مفہوم پر دلالت نہیں کرتا بلکہ اس کا مفہوم روگردانی اور سرتابی ہے۔ عبادالرحمن کا نصیحت سے شغف انسان میں بعض کمزوریاں ایسی ہیں کہ جب تک انسان نہایت ہوش مندی سے اپنا احتساب نہ کرے اسے ان کمزوریوں کا احساس نہیں ہوپاتا۔ انہی میں سے ایک کمزوری یہ ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : عباد الرّحمن صرف عقیدہ، اخلاق، معاملات اور کردار کے اعتبار سے نیک نہیں ہوتے بلکہ وہ فہم و فراست میں بھی لوگوں سے آگے ہوتے ہیں۔ مفسرین نے اس آیت کا شان نزول یوں بیان فرمایا ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَرَأَ النَّبِیُّ ﷺ النَّجْمَ بِمَکَّۃَ فَسَجَدَ فیہَا، وَسَجَدَ مَنْ مَعَہُ ، غَیْرَ شَیْخٍ أَخَذَ کَفًّا مِنْ حَصًی أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَہُ إِلَی جَبْہَتِہِ وَقَالَ یَکْفِینِی ہَذَا فَرَأَیْتُہُ بَعْدَ ذَلِکَ قُتِلَ کَافِرًا) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی سُجُودِ الْقُرْآنِ وَسُنَّتِہَا ] حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے سورة نجم کی تلاوت کرتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

73: وَالَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ (اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے) یعنی ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے نمبر 2۔ قرآن کے مواعظ بیان کیے جاتے ہیں۔ لَمْ یَخِرُّ وْا عَلَیْہَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا (تو ان احکام پر بہرے اندھے ہو کر نہیں گرپڑتے) اس میں خرورؔ کی نفی نہیں بلکہ اس کا اثبات ہے اور بہرے اور اندھے پن کی نفی ہے گویا نفی فعل مراد نہیں بلکہ مرد کی حالت کی نفی مقصود ہے جیسے کہتے ہیں لا یلقانی زیدٌ مسلما اس میں ملاقات کی نفی نہیں بلکہ سلام کی نفی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جب ان کو نصیحت کی جائے تو اندھوں بہروں جیسی ان کی حالت نہیں ہوتی بلکہ وہ سجدہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

73۔ والذین اذاذکرو بایات ربھم لم یخرو۔ اس میں گرتے نہیں اور نہ ہی اس میں مشغول ہوتے ہیں۔ علیھا صما وعمیانا، گویا کہ وہ اندھے اور بہرے ہیں بلکہ وہ سنتے ہٰں جو نصحت ان کو کی جاتی ہے اور اس کو سمجھتے بھی ہیں اور حق کو دیکھتے اور اس کی پیروی بھی کرتے ہیں ۔ قتیبی کا قول ہے کہ وہ اس سے ذرہ بھر بھی غافل نہین ہوتے گویا کہ وہ بہرے ہیں انہوں نے کچھ سنا ہی نہیں اور اندھے ہیں کچھ دیکھا ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 68–77

68۔ 77:۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت 6 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے ‘ اس میں عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت دنیا میں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ‘ آپ نے فرمایا کہ جس اللہ نے بندے کو پیدا کیا ‘ ایک تو اس کی عبادت یا قدرت میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑا گناہ ہے۔ میں نے پوچھا ‘ اس کے بعد کون سا بڑا گناہ ہے آپ نے فرمایا ‘ تنگ دستی کے خوف سے آدمی کا اپنی اولاد کو قتل کر ڈالنا ‘ میں نے پوچھا ‘ پھر اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے ‘ آپ نے فرمایا ‘ پڑوس کی عورت سے بدکاری کا کرنا ‘ آپ کے اس قول کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 63–77

آیت 63 سے 77 اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں : (1) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت : یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بدتمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ (ان کل من فی السموات والارض الی اتی الرحمن عبدا) (مریم : 19/93) ” آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ “ (2) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت : یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ومرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 73–74

قرل باری (قوۃ اغین۔ آنکھوں کی ٹھنڈک) یعنی دنیا میں آنکھوں کی ٹھنڈک۔ اس کی صورت یہ ہے کہ انسان اپنی بیوی اور بھائی وغیرہ کو اللہ کی اطاعت میں مصروف دیکھے۔ ان کا قول ہے ” بخدا ایک مسلمان کی آنکھوں کی اس سے بڑھ کر ٹھنڈک نہیں ہے کہ وہ اپنی اولاد یا اپنے والدین یا اپنے بچوں کی اولاد یا بھائی یا دوست کو اللہ کا مطیع اور فرمانبردار پائے۔ “ سلمہ بن کہیل سے مروی ہے کہ ” اے اللہ ! ان کے ذریعہ بایں طور پر آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا کر انہیں اپنی فرمانبرداری کی راہ پر گامزن کردے۔ “ ابو اسامہ نے احوص بن حکیم سے ، انہوں نے ابوالزاہریہ سے اور انہوں نے جبیر بن نفیر سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ سے کا ا رشاد ہے : (من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

92 آیات قرآن میں غور و تدبر کی صفت محمود کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ان بندگان خدا کو آیات قرآن کے ذریعے تذکیر و نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اللہ کی آیتیں سننے پر اندھے بہرے بن کر نہیں رہ جاتے۔ " خرور " کے اصل معنی جھکنے اور گرنے کے آتے ہیں۔ مگر یہاں اس کے لغوی معنی مراد نہیں بلکہ محاورہ کے معنیٰ مراد ہیں۔ یعنی ایسے حضرات اپنے رب کی آیتوں سے غفلت نہیں برتتے بلکہ وہ ان کو غور سے سنتے اور ان کے آگے سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔ جیسا کہ اردو میں کہا جاتا ہے کہ " فلاں شخص مکان کو آگ لگنے کی خبر سن کر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہا "۔ یا " اس نے حرکت تک نہ کی " وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–77

آسمانوں کے انتظام ‘ نیک لوگوں کی صفات اور انعام تشریح : یہاں بھی کفار کو اللہ رحمن و رحیم کی کچھ اور مہربانیاں بتائی جا رہی ہیں جو خالصتاً اس وقت کے عرب بدئوں کے معیار کے مطابق بات کی جا رہی ہے۔ گو کہ اس میں بھی افلاک کے بہت سے رازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس وقت یعنی ساتویں صدی کے آغاز کا عرب بدو اپنی تہذیب ‘ زبان ‘ تشبیہ اور ثقافت کے معیار سے ہی بات سمجھ سکتا تھا کیونکہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب وہی عرب بدو تھا۔ لہٰذا رب ذوالجلال انہی کی زبان میں فرماتا ہے کہ ” بڑی بابرکت ہے اس کی ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور پھر سورج کا روشن چراغ رکھ دیا اور چاند کا اجالا کردیا۔ اور وہی ہے جس نے رات دن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–77

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف وہ ذات بہت ہی برکت والی ہے جس نے انسان کو حیات کا اتنا وسیع نظام ایک بہت ہی خوبصورت انداز سے ترتیب دے کر ہر شے کو حتی کہ اجرام فلکی کو بھی انسان ہی کی خدمت پہ لگا دیا جو مدتوں سے اپنے اپنے کام کو پوری باقاعدگی سے انجام دے رہے ہیں اس نے آسمانوں کو پیدا فرمایا اور فضا سے آسمانی بروج یعنی اجرام فلکی کے ٹھکانے اور ان کی راہیں مقرر کردیں ، یہ علم ہیئت ، ستارے اور سیارے ان کی رفتار اور اس کے اثرات ان کا وجود اور اس کی تعمیر اور خصوصیات اس میں بہت لمبی بحث ہے خصوصا اس دور میں جبکہ انسانی قدم چاند تک جا پہنچے ہیں اور وہاں کی فضا اس کے اثرات اور ان کی رفتار اور اس کے اسباب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

12 ۔ بلکہ وہ انہیں نہایت غور و فکر سے سنتے اور ان سے متاثر ہوتے ہیں بخلاف کافروں کے جو انہیں سن کر ذرہ بھر متاثر نہیں ہوتے بلکہ اپنے کفر پر سختی سے جمے رہتے ہیں۔ علامہ ابن جریر (رح) لکھتے ہیں کہ اس آیت میں ” گرنے “ کا لفظ اپنے لغوی معنی میں نہیں بلکہ محاورے کے طور پر استعمال ہوا ہے جیسے کہا جاتا ہے ” قعدیب کی “ اس کے لفظی معنی تو یہ ہیں ” وہ روتے ہوئے بیٹھ گیا۔ لیکن مطلب یہ ہے کہ ” وہ روتا رہ گیا۔ “ اسی طرح اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ” وہ اللہ کی آیتوں کو سن کر گونگے بہرے بنے نہیں بیٹھ رہتے بلکہ ان کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں اور جس چیز کا ان میں حکم دیا جاتا ہے اس کی پیروی کرتے ہیں۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 72–73

(25:72) لایشھدون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب وہ شہادت نہیں دیتے۔ شھد یشھد (سمع) شھادۃ مصدر۔ گواہی دینا۔ الزور : الزور کے معنی سینہ کے ایک طرف جھکا ہونے کے ہیں اور جس کے سینہ میں ٹیڑھا پن ہو اسے الازور کہتے ہیں۔ اور اسی معنی میں قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے تز اور عن کھفھم (18:17) سورج ان کے غار سے ایک طرف کو ہٹ کر نکل جاتا ہے ۔ زور زور ازوار افعلال مصادر بمعنی انحراف۔ چونکہ جھوٹ بھی جہت راست سے ہٹا ہوا ہوتا ہے اس لئے اس کو شور کہا جاتا ہے۔ الزور یا تو بوجہ منصوب ہے یا یہ مضاف الیہ ہے اور مضاف شھادۃ محذوف ہے ۔ مضاف کا حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام لایا گیا اور اسی کی مطابقت سے منصوب سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–77

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 77 : انفقوا (انہوں نے خرچ کیا) ‘ لم یسرفوا (انہوں نے بےجا نہیں اڑایا) ‘ لم یقتروا (نہ انہوں نے تنگی کی ) ‘ قوام ( ٹھرا ہوا۔ اعتدال و میانہ روی) ‘ یلق (وہ پڑے گا) ‘ اثام (گناہ) ‘ یضعف (دوگنا کردے گا) ‘ مھان (ذلیل و خوار) ‘ متاب (لوٹنے والا۔ توبہ کرنے والا) ‘ لایشھدون (وہ موجود نہیں ہیں) ‘ الزور (جھوٹ) ‘ لغو (فضول۔ بےہودہ) ‘ کرام (سنجیدگی۔ عزت) ‘ لم یخروا (وہ نہیں کرتے) ‘ صم (بہرے) ‘ عمیان ( اندھے) ھب (عطا فرما۔ دے دیجئے) ‘ قرۃ (ٹھنڈک) ‘ الغرفۃ (اونچا مکان) ‘ تحیۃ (دعا) ‘ مایعبئو ا (وہ پرواہ نہیں کرتا ) ‘ لزام (چمٹنے والی) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 67 تا 77 : ان آیات سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 68–73

(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ رحمن کے بندوں کی یہ بھی عادت ہے کہ خدا کے ساتھ دوسرے معبودوں کو نہیں پوجتے اور جس جان کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو ناحق نہیں قتل کرتے اور رحمن کے بندوں کی عادت بدکاری کی بھی نہیں ہے اور اگر جو شخص شرک اور ناحق قتل اور بدکاری میں گرفتار ہوگا اور اسی حالت میں مرجائے گا تو ایسا شخص شرک کے سبب سے ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اور سوائے شرک کے اور گناہوں کی سزا جدا اس شخص کو بھگتنی پڑے گی کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ مشرک کی کس طرح بخشش نہیں ہے ہاں مرنے سے پہلے جو شخص ان باتوں سے توبہ کرے گا اور شرک چھوڑ کر ایماندار بن جائے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 69–73

[44] یعنی اور گناہوں سے یہ گناہ یعنی شرک، قتل ناحق اور زنا بڑے ہیں۔ لہذا عذاب بھی ان پر بڑا ہوگا لہذا اسے دوہرا عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 68–73

عبادالرحمن 1: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عبادالرحمن کی صفات بتائی ہیں ۔ یعنی وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کے صحیح معنوں میں بندے ہیں ۔ اور ان کو رحمن کی غلامی اور نیاز مندی کا فخر حاصل ہے ۔ ارشاد ہے کہ وہ دنیا میں ظلم ومعصیت سے علو و برتری نہیں چاہتے ۔ نہایت نرم اور مریخاں مریخ ہوتے ہیں ۔ عجزوانکساری کا یہ عالم ہے کہ چلتے ہیں تو ہولے ہولے ، وقار اور حشمت کے باوجود ان میں شیخی اور گھمنڈ نہیں ہوتا ۔ متانت اور سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہیں او اپنے وقت کی قیمت کو پہنچانتے ہیں ۔ وہ ان لوگوں سے خوب آگاہ ہوتے ہیں ۔ جن میں جہالت ہوتی ہے ۔ اس لئے جہاں ایسے لوگوں سابقہ پڑتا ہے تو سلام کہہ کر گزرجاتے ہیں ۔ ان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(73) اور نیز وہ ایسے ہیں کہ جب ان کو ان کے پروردگار کے کلام کی آیتیں سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ا ن پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گرتے یعنی جس طرح کافر اور دین حق کے منکر کلام الٰہی سن کر غل مچاتے اور ہجوم کرتے ہیں عباد الرحمان کا یہ طریقہ نہیں ہے بلکہ کلام الٰہی کو توجہ کے ساتھ سنتے اور قبول کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دھیان سے سنیں 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 73–74

ف 4۔ خود جیسے دین کے عاشق ہیں، اسی طرح اپنے اہل و عیال کے لئے بھی اس کے ساعی اور داعی ہیں۔ چناچہ عملی کوشش کے ساتھ حق تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کو دیندار بنا دے، اور ہم کو ہماری اس سعی دینداری میں کامیاب فرما کر ان کو دینداری کی حالت میں دیکھ کر راحت اور سرور ہو۔ 5۔ اصل مقصود افسری مانگنا نہیں گو اس میں بھی قباحت نہیں مگر مقام دلالت نہیں کرتا، بلکہ اصل مقصود اپنے خاندان کے متقی ہونے کی درخواست ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ لوگ اللہ کی آیتوں پر اندھے ‘ بہرے ہو کر نہیں گرتے بلکہ عقل وفکر سے کام لیتے ہیں : 73۔ اللہ کی آیتوں سے کیا مراد ہے ؟ قرآن کریم کی آیات وواقعات ‘ احکامات اور منہات بھی مراد ہو سکتی ہیں اور آسمان و زمین کی نشانیاں بھی مراد لی جاسکتی ہیں اور وہ کھنڈرات ‘ اجاڑ بستیاں ‘ بنجر زمینیں ‘ بےکار اور ناکارہ کنوئیں وغیرہ سب اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی نشانیاں ہیں اور سب کی سب اس سے مراد لی جاسکتی ہیں کہ اللہ کے بندے جب ان پر سے گزرتے ہیں تو اندھے ‘ بہرے ہو کر نہیں گزر جاتے بلکہ اس سے سبق حاصل کرتے ہیں اور انکے پیش کردہ درس کو بگوش ہوش سنتے ہیں کہ یہ ساری چیزیں کیا پکار پکار کر کہہ رہی ہیں ۔ اسی طرح یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Twelveth Characteristic وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُ‌وا بِآيَاتِ رَ‌بِّهِمْ لَمْ يَخِرُّ‌وا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا And those who, when they are reminded of the verses of their Lord, do not fall at them as deaf and blind ones - 25:73 That is when the blessed servants of Allah are reminded of His verses and the Hereafter, they do not throw themselves upon them as if they were blind and dumb, but pay heed to them like sober and sensible persons, and act upon them. They do not behave like the ignorant or negligent persons as if they have not seen or listened i.e. not understood the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

91 The true servants of Allah do not behave like the blind and the deaf towards the Revelations of Allah, when they are recited to them for their admonition. They do not turn a deaf ear to their teachings and Message and do not deliberately close their eyes to the Signs that they are asked to observe, but are deeply moved by them. They follow and practise what they are enjoined and retrain from what is forbidden.

Read the full tafseer →