Explained with ayahs 72–74
عباد الرحمن کے اوصاف
عباد الرحمن کے اور نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے یعنی شرک نہیں کرتے، بت پرستی سے بچتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے فسق و فجور نہیں کرتے کفر سے الگ رہتے ہیں لغو اور باطل کاموں سے پرہیز کرتے ہیں گانا نہیں سنتے مشرکوں کی عیدیں نہیں مناتے خیانت نہیں کرتے بری مجلسوں میں نشست نہیں رکھتے شرابیں نہیں پیتے شراب خانوں میں نہیں جاتے اس کی رغبت نہیں کرتے حدیث میں بھی ہے کہ سچے مومن کو چاہئے کہ اس دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر دور شراب چل رہا ہو اور یہ بھی مطلب ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ بخاری ومسلم میں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ بتادوں ؟ تین دفعہ…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 89
اس کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کسی جھوٹی بات کی گواہی نہیں دیتے اور کسی ایسی چیز کو واقعہ اور حقیقت قرار نہیں دیتے جس کے واقعہ اور حقیقت ہونے کا انہیں علم نہ ہو، یا جس کے خلاف واقعہ و حقیقت ہونے کا انہیں اطمینان ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ جھوٹ کا مشاہدہ نہیں کرتے، اس کے تماشائی نہیں بنتے، اس کو دیکھنے کا قصد نہیں کرتے۔ اس دوسرے مطلب کے اعتبار سے " جھوٹ " کا لفظ باطل اور شر کا ہم معنی ہے۔ انسان جس برائی کی طرف بھی جاتا ہے، لذت یا خوشنمائی یا ظاہری فائدے کے اس جھوٹے ملمع کی وجہ سے جاتا ہے جو شیطان نے اس پر چڑھا رکھا ہے یہ ملمع اتر جائے تو ہر بدی سراسر کھوٹ ہی کھوٹ ہے جس پر…
Read the full tafseer →دسویں صفتوَالَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ ، یعنی یہ لوگ جھوٹ اور باطل کی مجلسوں میں شریک نہیں ہوتے۔ سب سے بڑا جھوٹ اور باطل تو شرک و کفر ہے اس کے بعد عام جھوٹ اور گناہ کے کام ہیں۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے ایسی مجلسوں میں شرکت سے بھی گریز کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد مشرکین کی عیدیں اور میلے ٹھیلے ہیں حضرت مجاہد اور محمد بن حنفیہ نے فرمایا کہ اس سے مراد گانے بجانے کی محفلیں ہیں۔ عمرو بن قیس نے فرمایا کہ بےحیائی اور ناچ رنگ کی محفلیں مراد ہیں۔ زہری، امام مالک نے فرمایا کہ شراب پینے پلانے کی مجلسیں مراد ہیں (ابن کثیر) اور حقیقت یہ ہے کہ ان اقوال…
Read the full tafseer →لغویات سے احتراز
زوء، کذب و باطل کو کہتے ہیں اور لغو سے مراد وہ باتیں اور کام ہیں جو ثقہ و سنجیدہ لوگوں کے شایان شان نہ ہوں۔ فرمایا کہ ہمارے یہ بندے کسی باطل کام میں شریک نہیں ہوتے اور اگر کسی لغو چیز کے پاس سے گزرنا ہی پڑجائے تو نہایت وقار و شرافت سے وہاں سے گزر جاتے ہیں جس طرح ایک گندی جگہ سے ایک صفائی پسند آدمی گزر جاتا ہے۔ سورة قصص آیت 55 میں یہی بات یوں بیان ہوئی ہے۔ واذا سمعوا الغوا عوضوا عنہ وقالوالنا اعمالنا و لکم ”اعمالکم سلم علیکم ز لاتبتغی الجھلین (اور جب وہ لغو باتیں سنتے ہیں تو ان سے اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے ساتھ تمہارے اعمال ہمارا…
Read the full tafseer →72-1زور کے معنی جھوٹ کے ہیں۔ ہر باطل چیز بھی جھوٹ ہے، اس لئے جھوٹی گواہی سے لے کر کفر و شرک اور ہر طرح کی غلط چیزیں مثلاً ، گانا اور دیگر بےہودہ جاہلانہ رسوم و افعال، سب اس میں شامل ہیں اور اللہ کے نیک بندوں کی یہ صفت بھی ہے کہ وہ کسی بھی جھوٹ میں اور جھوٹی مجلس میں حاضر نہیں ہوتے۔
72-2لَغْو ہر وہ بات اور کام ہے، جس میں شرعاً کوئی فائدہ نہیں۔ یعنی ایسے کاموں اور باتوں میں بھی شرکت نہیں کرتے بلکہ خاموشی کے ساتھ عزت اور وقار سے گزر جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
26: قرآن کریم میں اصل لفظ ”زور“ استعمال ہوا ہے جس کے معنی جھوٹ کے ہیں۔ اور ہر باطل اور ناحق کو بھی ”زور“ کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں ناحق اور ناجائز کام ہو رہے ہوں، اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ان میں شامل نہیں ہوتے۔ اور اس کا ایک یہ ترجمہ بھی ممکن ہے کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔
27: یعنی نہ تو اس لغو اور بےہودہ کام میں شریک ہوتے ہیں، اور نہ ان لوگوں کی تحقیر کرتے ہیں جو ان کاموں میں مبتلا ہیں، البتہ اس برے کام کو برا سمجھتے ہوئے وقار کے ساتھ وہاں سے گذر جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →والذین ……کراماً (72)
” جھوٹی شہادت نہ دینے کا قریبی اور اصطلاحی مفہوم بھی لیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی عدالت میں جھوٹی شہادت نہیں دیتے۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں لوگوں کے حقوق ضائع ہوتے ہیں اور ظلم پر اعانت کا جرم واقع ہوتا ہے اور اس سے حقیقی شہادت بھی مراد ہو سکتی ہے یعنی کسی مجلس ، کسی سوسائٹی یا کسی جگہ میں جھوٹ اور برائی کا ارتکاب ہو رہ اہو تو یہ لوگوہاں حاضر نہیں ہوتے یعنی ایسی سوسائٹی سے دو ررہتے ہیں ، جس میں برائی کا ارتکاب ہوتا ہے اور یہ زیادہ بلیغ اور دل لگتی تفسیر ہے۔ اسی طرحوہ لغو اور بیہودہ محافل یا ماقمات سے بھی اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔
واذا مروا باللغو مروا کراماً (25 : 82) ” اور کسی لغو…
Read the full tafseer →6 یعنی نہ جھوٹ بولیں نہ جھوٹی شہادت دیں۔ نہ باطل کاموں اور گناہ کی مجلسوں میں حاضر ہوں۔
7 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی گناہ میں شامل نہیں، اور کھیل کی باتوں کی طرف دھیان نہیں کرتے نہ اس میں شامل نہ ان سے لڑیں۔ "
Read the full tafseer →آیت 72 وَالَّذِیْنَ لَا یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَلا ”
یہ صرف جھوٹ کی گواہی سے بچنے کی بات نہیں بلکہ اس سے ایسی بلند تر کیفیت کا ذکر ہے جس کے اندر جھوٹی گواہی سے بچنے کا مفہوم ضمنی طور پر خود بخود آجاتا ہے۔ یعنی اللہ کے یہ نیک بندے حق و صداقت کی غیرت و حمیت میں اس قدر پختہ ہوتے ہیں کہ کسی ایسی جگہ پر وہ اپنی موجودگی بھی گوارا نہیں کرتے جہاں جھوٹ بولا جا رہا ہو یا جھوٹ پر مبنی کوئی دھندا ہو رہا ہو۔
وَاِذَا مَرُّوْا باللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا ”
اگر ان لوگوں کا کہیں اتفاق سے کسی کھیل تماشے اور لغو کام پر سے گزر ہو تو وہ اس سے اپنا دامن بچا کر بےنیازی سے گزر جاتے ہیں۔ یہی مضمون سورة المؤمنون میں اس…
Read the full tafseer →89 اس کا ایک ترجمہ تو وہی ہے جو ترجمہ سے واضح ہے البتہ یہ وضاحت باقی رہ جاتی ہے کہ زور کا معنی محض جھوٹ نہیں بلکہ ہر باطل اور لغو کام بھی زور میں شامل ہے۔ اسی طرح شہادۃ الزور سے مراد محض جھوٹی شہادت نہیں۔ جبکہ گول مول سی شہادت دینا، شہادت کا کچھ حصہ چھپا جانا اور بیان نہ کرنا یا ایسی ہیراپھیری کرنا کہ غیر اہم بات نہایت اہم اور اہم بات نہایت معمول معلوم ہونے لگے یہ ایسی سب باتیں شہادۃ الزور میں داخل ہیں۔ اور ایسی شہادت کا مقصد کسی نہ کسی فریق کی ناجائز حمایت اور طرفداری ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں فریق ثانی کی از خود حق تلفی ہوجاتی ہے۔ ایسی شہادت کو رسول اللہ ﷺ نے بڑے بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے۔ (…
Read the full tafseer →85۔ یعنی نظریں نیچی کیے ہوئے سلامت روی کے ساتھ ان بیہودگیوں سے گزر جاتے ہیں نہ ان لایعنی مشاغل کی طرف مشغول ہوتے ہیں، نہ عاصیوں کی تحقیر کرکے اپنا کبر ظاہر کرتے ہیں۔ (آیت) ” الزور “۔ زور کے معنی کذب اور میل عن الحق کے ہیں، (راغب) یشھدون الزور سے مراد لی گئی ہے ناجائز مجمع میں حاضری۔ اے حضور مواضع الکذب (کبیر) ویحتمل کل موضع یجری فیہ مالا ینبغی (کبیر) اور اس کے تحت میں مشرکوں کے جشن اور فاسقوں کے جلسے سب داخل ہیں۔ یدخل فیہ اعیاد المشرکین ومجامع الفساق (کبیر) عن عکرمۃ لعب کان فی الجاھلیۃ یسمی بالزور (قرطبی) ہمارے زمانہ کے میلے ٹھیلے، مختلف ” بازیوں “ کے جمگھٹے، ناچ رنگ کی محفلیں، تھیڑ، سینما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
آیت نمبر 61 تا 77
ترجمہ : وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے آسمانوں میں بارہ برج بنائے (1) حَمَلْ (2) ثور (3) الجوزاء (4) السرطان (5) الاسد (6) السنبلہ (7) المیزان (8) العقرب (9) القوس (10) الجدی (11) الدلو (12) الحوت یہ سبع سیارہ کی منزلیں ہیں (اور وہ سبع سیارہ یہ ہیں) (1) المریخ : اس کی منزل حمل اور عقرب ہے (2) زہرہ : اس کی منزل ثور اور میزان ہے (3) عطارد : اس کی منزل جوزاء اور سنبلہ ہے (4) القمر اس کی منزل سرطان ہے (5) الشمس اس کی منزل اسد ہے (6) المشتری : اس کی منزل قوس اور حوت ہیں (7) زحل اس کی منزل جدی اور دلو ہے، اور اس نے آسمان میں چراغ بھی بنایا اور وہ سورج ہے اور نورانی چاند بنایا اور…
Read the full tafseer →والذین لا یشہدون الزور اور وہ جو جھوٹی شہادت نہیں دیتے۔
بغوی نے لکھا ہے ضحاک اور اکثر مفسرین کے نزدیک زور سے مراد ہے شرک۔
میں کہتا ہوں اس تفسیر پر نفی شرک کی تکرار ہوجائے گی۔ کیونکہ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہَ اِلَہًا اٰخَرَمیں شرک کی نفی ہے۔ علی بن طلحہ کے نزدیک شہادت زور سے مراد ہے لوگوں کے خلاف جھوٹی شہادت دینی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا جھوٹے گواہ کے چالیس تسمے (کوڑے) مارے جائیں اور منہ کالا کر کے بازار میں گھمایا جائے۔
ابن ابی شیبہ نے بروایت ابو خالد بحوالۂ حجاج بوساطت مکحول ولید کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنے عاملوں کو جو شام میں مامور تھے لکھ بھیجا تھا کہ جھوٹے…
Read the full tafseer →(72) اور اللہ تعالیٰ کے خصوصی بندوں میں یہ بات ہے کہ وہ بیہودہ باتوں کی مجالس میں شریک نہیں ہوتے اور اگر اتفاقی طور پر ایسی مجالس پر سے گزرنا پڑجائے تو وہ سنجید گی ومتانت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ : اہل ایمان کی تین بنیادی صفات کے بعد اب چند مزید صفات کا ذکر ہوتا ہے، جن کے ساتھ ایمان میں کمال حاصل ہوتا ہے۔ ”شَھِدَ یَشْھَدُ“ حاضر ہونے کے معنی میں آتا ہے اور اس کا اصل مفہوم یہی ہے، جیسا کہ فرمایا : (فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ) [ البقرۃ : 185 ] ”تو تم میں سے جو اس مہینے میں حاضر ہو وہ اس کا روزہ رکھے۔“ اور کسی چیز کے متعلق گواہی دینے کے لیے بھی آتا ہے، جس میں وہ حاضر رہا ہو یا جانتا ہو، جیسا کہ فرمایا : (وَّاَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ) [ الطلاق : 2 ] ”اور اپنوں میں سے دو صاحب عدل آدمی گواہ بنا لو۔“ اور فرمایا : (شَهِدَ…
Read the full tafseer →(والذین لایشھدون۔۔۔۔۔۔
مسئلہ نمبر 1 :۔ والدین لا شھدون الزور جو کذب اور باطل کے پاس حاضر نہیں ہوتے اور نہ ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ زد و اس باطل کو کہتے ہیں جسے آراستہ کر کے پیش کیا جائے۔ ان میں سے سب سے عظیم شرک اور شریکوں کی تعظیم بجا لانا ہے، ضحاک، ابن زیاد اور حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تفسیر بیان کی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے : مراد مشرکوں کی عیدیں ہیں۔ عکرمہ نے کہا : مراد لعب ( کھیل کود) ہے دور جاہلیت میں اسے زور کہتے۔ مجاہد نے کہا مراد گانا گانا ہے، یہ حضرت محمد بن حنیفہ کا بھی قول ہے۔ ابن جریج نے کہا : مراد جھوٹ ہے، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے۔ علی بن طلحہ اور محمد بن علی نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ آیت ” والذین لا یشہدون الزور “ کے بارے میں فرمایا کہ زور مدینہ میں ایک بت تھا وہ لوگ اس کے اردگرد ساتویں دن کھیلتے تھے جب رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اس کے پاس گزرے تو برے وقار کے ساتھ اس سے گزر جاتے تھے اور اس کی طرف نہ دیکھتے تھے۔
2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) و سے روایت کیا کہ آیت ” والذین لایشہدون الزور “ سے مراد ہے شرک۔
3۔ الخطیب نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” والذین لایشہدون الزور “ سے مراد ہے مشرکین کی عیدیں یعنی خوشی کے دن۔
جھوٹ اور جھوٹی گواہی دونوں حرام ہیں
4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لایشہدون الزور “ سے مراد…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] لَا يَشْهَدُوْنَ [ موقع پر موجود نہیں ہوتے ] الزُّوْرَ ۙ [ جھوٹ کے ] وَاِذَا [ اور جب کبھی ] مَرُّوْا [ وہ گزرتے ہیں ] بِاللَّغْوِ [ بےفائدہ چیز پر ] مَرُّوْا [ تو وہ گزرتے ہیں ] كِرَامًا [ معزز ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →عباد الرحمن کی دسویں صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ لاَ یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ ) (اور یہ وہ لوگ ہیں جو جھوٹ کے کاموں میں حاضر نہیں ہوتے) جھوٹ کے کاموں سے وہ تمام کام مراد ہیں جو شریعت مطہرہ کے خلاف ہوں کوئی شخص گناہ کا کام کرے اس کی ممانعت سب ہی کو معلوم ہے جن مواقع میں گناہ ہو رہے ہوں ان مواقع میں جانا بھی ممنوع ہے، مشرکین کی عبادت گاہوں میں ان کے تہواروں میں اور ان کے میلوں میں نہ جائیں۔ جہاں گانا بجانا ہو رہا ہو، ناچ رنگ کی محفل ہو، شراب پینے پلانے کی مجلس ہو، ان سب مواقع میں اللہ کے بندے نہیں جاتے، گو اپنے عمل سے گناہ میں شریک نہ ہوں لیکن جب اپنے جسم سے حاضر ہوگئے تو اول تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–77
مدح عباد رحمان و ذکر شمائل اہل ایمان و عرفان
قال اللہ تعالیٰ وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا۔۔۔ الی۔۔۔ فسوف یکون لزاما۔
(ربط) گزشتہ آیات میں رحمان سے نفرت کرنے والوں کا ذکر تھا، اب آئندہ آیات میں عباد رحمن یعنی رحمان کے خاص بندوں کے اوصاف کا ذکر ہے جس سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ رحمن کے بندے رحمن کی رحمتوں اور اس کی نعمتوں کا عملی طور پر کس طرح اور کس صورت میں شکر کرتے ہیں لہٰذا جو شخص رحمن کے آثار رحمت ونعمت کے تشکر کا ارادہ کرے اور رحمن کے آثار قدرت و عجائب صنعت میں تفکر اور تدبر کا ارادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ رحمن کے شکر گزار بندوں کے نقش قدم پر ثلے اور اگر بر بنائے غفلت اس سے کوئی…
Read the full tafseer →46:۔ ” والذین لا یشہدون الخ “ یہ عباد الرحمن کی چھٹی صفت ہے۔ ” الزور “ سے یا تو جھوٹی شہادت مراد ہے اس صورت میں ” ہشہدون “ شہادۃ سے ہوگا یا الزور سے مراد شرک ہے یا لہو ولعب اور گانا بجانا اس صورت میں ہشہدون، شھود سے ہوگا۔ والظاھر ان المعنی لا یشھدون بالزور او شہادۃ الزور قالہ علی والباقر فھو من الشھادۃ او المعنی لا یحضرون من المشاھدۃ و الزار الشر والصنم او الکذب او الۃ الغناء (بحر ج 6 ص 516) ۔ اور ” اللغو “ سے تمام معاصی مراد ہیں یعنی وہ شرک و معصیت کی مجالس میں ہرگز شریک نہیں ہوتے لیکن اگر اتفاق سے کبھی اہل شرک اور اہل معاصی کی مجالس کے پاس سے ان کا گذر ہوجائے تو دامن کو ان کی آلودگیوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–72
ربط آیات
پہلے خدائے رحمان کے اوصاف اور کمالات کا ذکر ہوا ۔ پھر اللہ نے عباد الرحمان کی صفات بیان فرمائیں ۔ اب تک پانچ صفات کا بیان ہوچکا ہے یعنی خدائے رحمان کے بندے وہ ہیں جو (1) زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے بلکہ وقار اور سکنیت کے ساتھ چلتے ہیں (2) جب ان سے نادان لوگ بات کرتے ہیں تو وہ الجھنے کی بجائے سلام کر کے گزر جاتے ہیں۔ (3) اللہ کے بندوں کی راتیں سجود و قیام میں گزرتی ہیں (4) وہ اپنے پروردگار سے دوزخ کو دور کرنے کی دعائیں کرتے ہیں (5) وہ لوگ خرچ کتے وقت نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔
(6) شرک سے بیزاری
اب آج کی آیات میں عباد الرحمان کی چھٹی صفت یہ بیان ہوئی ہے…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ لَا يَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ 0ۙ وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا 72
شهد
وشَهِدْتُ يقال علی ضربین :
أحدهما
جار مجری العلم، وبلفظه تقام الشّهادة، ويقال : أَشْهَدُ بکذا، ولا يرضی من الشّاهد أن يقول : أعلم، بل يحتاج أن يقول :
أشهد . والثاني يجري مجری القسم،
فيقول : أشهد بالله أنّ زيدا منطلق، فيكون قسما، ومنهم من يقول : إن قال : أشهد، ولم يقل : بالله يكون قسما،
( ش ھ د ) المشھود والشھادۃ
شھدت کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔
( 1) علم کی جگہ آتا ہے اور اسی سے شہادت ادا ہوتی ہے مگر اشھد بکذا کی بجائے اگر اعلم کہا جائے تو شہادت قبول ہوگی بلکہ اشھد ہی کہنا ضروری ہے ۔ ( 2)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–77
1 ؎ وہ جھوٹے کام میں شامل نہیں ہوتے۔
(7) والذین لایشہدون الزور الخ زور کے معنی ہیں جھوٹی گواہی یعنی جھوٹی گواہی کے پاس بھی نہیں جاتے اور مواضع کذب بھی مراد ہوسکتی ہیں اور ہر نازیبا مجلس بھی مراد ہوسکتی ہے جو خلاف شرع شریف ہے جیسا کہ ناچ رنگ کی مجلسیں اور کھیل اور تماشوں کے مجامع۔ اس طرح کفار و مشرکین و مبتدعین کے میلے اور تیوہار ان سب سے اجتناب کرنا عبادالرحمن کی شان ہے، و اذا مرواباللغو مرواکراما اور جو کہیں ایسے بیہودہ مواقع کے پاس سے گزرنے کا اتفاق بھی ہو تو اعراض کر کے گزر جاتے ہیں منہ ڈہانک کر آنکھ بند کر کے گزرنا ان کی طرف متوجہ نہ ہونا بزرگانہ گزرنا ہے۔ (9) والذین اذا ذکرو الخ کہ جب ان…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ لاَ یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ لا وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِمَرُّوْا کِرَامًا۔ (الفرقان : 72)
(اور (عبادالرحمن وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے، اور اگر کسی بےہودہ بات پر ان کا گزر ہوتا ہے تو وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ )
عبادالرحمن کا لغویات سے احتراز
زُور … جھوٹ یا جھوٹی بات کو کہتے ہیں۔ باطل کے لیے بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے کسی باطل اور کسی جھوٹی بات میں کبھی شریک نہیں ہوتے۔ اور کسی ایسی تقریب اور ایسی مجلس میں جانا پسند نہیں کرتے جہاں کوئی باطل بات ہورہی ہو یعنی کوئی خلاف شریعت کام سرانجام دیا جارہا ہو۔ اور کسی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ” عباد الرّحمن “ کے اوصاف کا مزید تذکرہ۔
” عباد الرّحمن “ اس قدر حق گو اور کردار کے سچے ہوتے ہیں کہ جب انھیں کسی معاملہ میں گواہی دینا ہو تو وہ کبھی جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ ان کا واسطہ کسی بےمقصد یا بےہودہ بات یا کام سے پڑے تو یہ بڑے وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔
زُوْرکا معنٰی :
زُوْرکا معنی ہے جھوٹ، باطل، اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، گانے بجانے کی مجالس۔
لغو کا معنٰی بےہودہ۔ بےمقصد کام یا گفتگو
لغو میں جھوٹ بھی شامل ہے جس کی تشریح اوپر کی جا چکی ہے اور اس کے ساتھ تمام فضول، لا یعنی اور بےفائدہ باتیں اور کام بھی اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ اللہ کے بندوں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جان…
Read the full tafseer →72: وَالَّذِیْنَ لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ (اور وہ لوگ جو جھوٹ کی مجلسوں میں حاضر نہیں ہوتے) الزورؔ سے جھوٹ مراد ہے کذابوں کی مجالس سے ان کو نفرت ہے اور گناہوں میں ملوث لوگوں کی مجالس سے وہ ایک طرف رہتے ہیں ان کے قریب تک نہیں جاتے تاکہ شر اور شریروں سے بچیں اور باطل کا مشاہدہ بھی شرک کے مترادف ہے اس کا ارتکاب نہ ہو۔
مسئلہ : کسی ایسی چیز کو دیکھنا جس کی شریعت نے اجازت نہ دی ہو گناہ کرنے والوں کے ساتھ شرکت کی طرح ہے۔ کیونکہ وہاں حاضری اور نظارہ یہ رضا مندی کی دلیل ہے۔ اور اس برائی میں اضافہ کا باعث ہے۔ موعظہ عیسیٰ ( علیہ السلام) خطاکاروں کی مجالس سے بچو ! نمبر 2۔ لا یشھدون الزور کا معنی جھوٹی…
Read the full tafseer →لایشھدون الزور کی تفسیر۔
72۔ والذین لایشھدون الزور۔ ضحاک اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اس سے مراد شرک ہے، علی بن طلحۃ کا قول ہے ، اس سے مراد جھوٹی گواہی ہے ، عمر بن خطاب نے فرمایا جھوٹے گواہ کے چالیس تسمے (کوڑے) مارے جائیں گے اور منہ کالا کرکے بازار میں گھمایاجائے گا، ابن جریج کا قول ہے کہ اس سے مراد جھوٹ ہے مجاہد کا قول ہے کہ مشرکین کی عیدیں ہیں بعض نے کہا کہ نوحہ ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ زور سے مراد اہل باطل کا ایساباطل جس کی کوشش سے ان کو کچھ حاصل نہ ہو۔ محمد بن حنفیہ نے فرمایا لغو اور گانے کے موقع پر حاضر نہیں ہوتے۔
حضرت ابن مسعود نے فرمایا گانادلوں میں نفاق کو اس طرح اگاتا ہے جس طرح پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
68۔ 77:۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت 6 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے ‘ اس میں عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت دنیا میں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ‘ آپ نے فرمایا کہ جس اللہ نے بندے کو پیدا کیا ‘ ایک تو اس کی عبادت یا قدرت میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑا گناہ ہے۔ میں نے پوچھا ‘ اس کے بعد کون سا بڑا گناہ ہے آپ نے فرمایا ‘ تنگ دستی کے خوف سے آدمی کا اپنی اولاد کو قتل کر ڈالنا ‘ میں نے پوچھا ‘ پھر اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے ‘ آپ نے فرمایا ‘ پڑوس کی عورت سے بدکاری کا کرنا ‘ آپ کے اس قول کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–77
آیت 63 سے 77
اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :
(1) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت : یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بدتمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ (ان کل من فی السموات والارض الی اتی الرحمن عبدا) (مریم : 19/93) ” آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ “
(2) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت : یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ومرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
زور سے مراد آلات موسیقی
قول باری ہے : (والذین لا یشھدون الزور۔ ) اور جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے۔ امام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ زور ، غنا یعنی موسیقی اور گانے بجانے کو کہتے ہیں۔ قول باری : (ومن یشتری لھو الحدیث) اور جو شخص لہو ولعب کی باتیں خریدتا ہے کہ تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو گانے والی عورت خریدتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔
مجاہد نے اس آیت کی تفسیر میں کا ہے کہ اس غنا اور ہر لہو ولعب مراد ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے عطا سے اور انہوں نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے حضور ﷺ نے فرمایا : ” مجھے دو بیہودہ قسم کی احمقانہ آوازوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
90 توبہ کا معنی و مفہوم اور اس پر عظیم اشان بشارت کا ذکر : سو سچی توبہ کرنے والوں کیلئے عظیم الشان بشارت و خوشخبری ہے اور توبہ کے اصل معنی لوٹنے اور رجوع کرنے کے ہیں۔ سو ایک انسان جب گناہ کا ارتکاب کرلیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو وہ اپنے رب سے اور اس کی رحمتوں سے دور ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور پھر جب وہ سچی توبہ کرتا ہے تو وہ اس کی طرف لوٹ آتا ہے اور اللہ پاک کی رحمت و عنایت بھی اس کی طرف عود کر آتی ہے۔ اور توبہ کا اصل تعلق دل سے ہے اور اس کی ظاہری نشانی اور ثبوت عمل صالح ہے کہ توبہ کرنے والے کی بعد کی زندگی پہلی زندگی سے یکسر بدلی ہوئی محسوس ہونے لگے۔ اور اگر وہ زبانی کلامی توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
آسمانوں کے انتظام ‘ نیک لوگوں کی صفات اور انعام
تشریح : یہاں بھی کفار کو اللہ رحمن و رحیم کی کچھ اور مہربانیاں بتائی جا رہی ہیں جو خالصتاً اس وقت کے عرب بدئوں کے معیار کے مطابق بات کی جا رہی ہے۔ گو کہ اس میں بھی افلاک کے بہت سے رازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس وقت یعنی ساتویں صدی کے آغاز کا عرب بدو اپنی تہذیب ‘ زبان ‘ تشبیہ اور ثقافت کے معیار سے ہی بات سمجھ سکتا تھا کیونکہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب وہی عرب بدو تھا۔ لہٰذا رب ذوالجلال انہی کی زبان میں فرماتا ہے کہ ” بڑی بابرکت ہے اس کی ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور پھر سورج کا روشن چراغ رکھ دیا اور چاند کا اجالا کردیا۔ اور وہی ہے جس نے رات دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
وہ ذات بہت ہی برکت والی ہے جس نے انسان کو حیات کا اتنا وسیع نظام ایک بہت ہی خوبصورت انداز سے ترتیب دے کر ہر شے کو حتی کہ اجرام فلکی کو بھی انسان ہی کی خدمت پہ لگا دیا جو مدتوں سے اپنے اپنے کام کو پوری باقاعدگی سے انجام دے رہے ہیں اس نے آسمانوں کو پیدا فرمایا اور فضا سے آسمانی بروج یعنی اجرام فلکی کے ٹھکانے اور ان کی راہیں مقرر کردیں ، یہ علم ہیئت ، ستارے اور سیارے ان کی رفتار اور اس کے اثرات ان کا وجود اور اس کی تعمیر اور خصوصیات اس میں بہت لمبی بحث ہے خصوصا اس دور میں جبکہ انسانی قدم چاند تک جا پہنچے ہیں اور وہاں کی فضا اس کے اثرات اور ان کی رفتار اور اس کے اسباب…
Read the full tafseer →10 ۔ ” لا یشھدون الزور “ کے یہ دونوں مفہوم ہوسکتے ہیں۔ یعنی جھوٹی شہادت (گواہی) دینا اور جھوٹ کا مشاہدہ کرنا۔ ای حدیث میں جھوٹی گواہی کو آنحضرت ﷺ نے سب سے بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے۔ (ابن کثیر) 11 ۔ یا ” شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں بغیر اس کے کہ اس بیہودہ کام میں شریک ہوں۔ لفظ ” لغو “ کے مفہوم میں گناہ کے تمام کام بھی آجاتے ہیں اور رقص و سرور اور تمام فضول کام اور باتیں بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
(25:72) لایشھدون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب وہ شہادت نہیں دیتے۔ شھد یشھد (سمع) شھادۃ مصدر۔ گواہی دینا۔
الزور : الزور کے معنی سینہ کے ایک طرف جھکا ہونے کے ہیں اور جس کے سینہ میں ٹیڑھا پن ہو اسے الازور کہتے ہیں۔ اور اسی معنی میں قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے تز اور عن کھفھم (18:17) سورج ان کے غار سے ایک طرف کو ہٹ کر نکل جاتا ہے ۔ زور زور ازوار افعلال مصادر بمعنی انحراف۔ چونکہ جھوٹ بھی جہت راست سے ہٹا ہوا ہوتا ہے اس لئے اس کو شور کہا جاتا ہے۔
الزور یا تو بوجہ منصوب ہے یا یہ مضاف الیہ ہے اور مضاف شھادۃ محذوف ہے ۔ مضاف کا حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام لایا گیا اور اسی کی مطابقت سے منصوب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–77
لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 77 :
انفقوا (انہوں نے خرچ کیا) ‘ لم یسرفوا (انہوں نے بےجا نہیں اڑایا) ‘ لم یقتروا (نہ انہوں نے تنگی کی ) ‘ قوام ( ٹھرا ہوا۔ اعتدال و میانہ روی) ‘ یلق (وہ پڑے گا) ‘ اثام (گناہ) ‘ یضعف (دوگنا کردے گا) ‘ مھان (ذلیل و خوار) ‘ متاب (لوٹنے والا۔ توبہ کرنے والا) ‘ لایشھدون (وہ موجود نہیں ہیں) ‘ الزور (جھوٹ) ‘ لغو (فضول۔ بےہودہ) ‘ کرام (سنجیدگی۔ عزت) ‘ لم یخروا (وہ نہیں کرتے) ‘ صم (بہرے) ‘ عمیان ( اندھے) ھب (عطا فرما۔ دے دیجئے) ‘ قرۃ (ٹھنڈک) ‘ الغرفۃ (اونچا مکان) ‘ تحیۃ (دعا) ‘ مایعبئو ا (وہ پرواہ نہیں کرتا ) ‘ لزام (چمٹنے والی) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 67 تا 77 :
ان آیات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ رحمن کے بندوں کی یہ بھی عادت ہے کہ خدا کے ساتھ دوسرے معبودوں کو نہیں پوجتے اور جس جان کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو ناحق نہیں قتل کرتے اور رحمن کے بندوں کی عادت بدکاری کی بھی نہیں ہے اور اگر جو شخص شرک اور ناحق قتل اور بدکاری میں گرفتار ہوگا اور اسی حالت میں مرجائے گا تو ایسا شخص شرک کے سبب سے ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اور سوائے شرک کے اور گناہوں کی سزا جدا اس شخص کو بھگتنی پڑے گی کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ مشرک کی کس طرح بخشش نہیں ہے ہاں مرنے سے پہلے جو شخص ان باتوں سے توبہ کرے گا اور شرک چھوڑ کر ایماندار بن جائے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
[44] یعنی اور گناہوں سے یہ گناہ یعنی شرک، قتل ناحق اور زنا بڑے ہیں۔ لہذا عذاب بھی ان پر بڑا ہوگا لہذا اسے دوہرا عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
عبادالرحمن
1: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عبادالرحمن کی صفات بتائی ہیں ۔ یعنی وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کے صحیح معنوں میں بندے ہیں ۔ اور ان کو رحمن کی غلامی اور نیاز مندی کا فخر حاصل ہے ۔
ارشاد ہے کہ وہ دنیا میں ظلم ومعصیت سے علو و برتری نہیں چاہتے ۔ نہایت نرم اور مریخاں مریخ ہوتے ہیں ۔ عجزوانکساری کا یہ عالم ہے کہ چلتے ہیں تو ہولے ہولے ، وقار اور حشمت کے باوجود ان میں شیخی اور گھمنڈ نہیں ہوتا ۔ متانت اور سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہیں او اپنے وقت کی قیمت کو پہنچانتے ہیں ۔ وہ ان لوگوں سے خوب آگاہ ہوتے ہیں ۔ جن میں جہالت ہوتی ہے ۔ اس لئے جہاں ایسے لوگوں سابقہ پڑتا ہے تو سلام کہہ کر گزرجاتے ہیں ۔ ان…
Read the full tafseer →(72) رحمان کے بندے وہ لوگ ہیں جو جھوٹے کاموں اور بےہودہ باتوں میں شامل نہیں ہوتے اور جب وہ اتفاقاً کبھی بےہودہ اور لہو و لعب کی مجالس پر سے گزرتے ہیں تو سنجیدگی کے ساتھ بزرگانہ انداز سے گذر جاتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی گناہ میں شامل نہیں اور کھیل کی باتوں کی طرف دھیان نہیں کرتے نہ اس میں شامل نہ ان سے لڑیں 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–72
ف 3۔ یعنی نہ اس کی طرف مشغول ہوتے ہیں، اور نہ ان کے آثار سے عاصیوں کی تحقیر اور اپنا ترفع اور تکبر ظاہر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →وہ لوگ کبھی جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور لغویات سے باوقار گزر جاتے ہیں :
72۔ عبادالرحمن کی آٹھویں نشانی اس آیت میں یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی جھوٹی باتوں میں حاضر نہیں ہوتے اور دوسرا مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ وہ کبھی جھوٹی گواہی نہیں دیتے لیکن پہلے ترجمہ اور اس کے مفہوم میں وسعت زیادہ ہے ، مطلب یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نظریں نیچے کئے ہوئے سلامت روی کے ساتھ ان بیہودگیوں سے گزر جاتے ہیں نہ ان لا یعنی اور فضول مشاغل میں کبھی مشغول ہوتے ہیں اور نہ ہی گنہگاروں کی تحقیر کر کے اپنا کبر ظاہر کرتے ہیں ۔ الزور زور کے معنی کذب اور میلان عن الحق کے ہیں یہی وجہ ہے کہ الزور سے مراد مفسرین نے…
Read the full tafseer →The tenth characteristic
وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ (And those who do not witness falsehood - 25:72). That is they do not participate in the meetings where lie and falsehood has currency. The biggest falsehood is the kufr (disbelief) and shirk, and the next in order comes the common lie and acts of sin. In other words the blessed and favoured servants of Allah avoid attending such meetings. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has said that these meetings or assemblies refer to infidels festivals, carnivals and field days; while Sayyidna Mujahid and Muhammad Ibn Hanifah رحمۃ اللہ علیہما are of…
Read the full tafseer →89 This also has two meanings: (1) They do not give evidence (in a law court etc.) in regard to a false thing in order to prove it right, when in tact it is a falsehood, or at best a doubtful thing; and (2) they have no intention to witness any thing which is false, evil or wicked as spectators. In this sense, every sin and every indecency, every sham and counterfeit act is a falsehood. A true servant of AIlah recognizes it as false and shuns it even if it is presented in the seemingly beautiful forms of "art" .
90 The Arabic word laghv implies aII that is vain, useless and meaningless and it…
Read the full tafseer →