Explained with ayahs 68–71
سب سے بڑا گناہ
حضور ﷺ سے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا اس سے کم ؟ فرمایا تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے ؟ پوچھا اس کے بعد ؟ فرمایا تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری ومسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ باہر جانے لگے تنہا تھے میں بھی ساتھ ہولیا آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر حضور…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 88
یعنی فطرت کے اعتبار سے بھی بندے کا اصلی مرجع اسی کی بارگاہ ہے، اور اخلاقی حیثیت سے بھی وہی ایک بارگاہ ہے جس کی طرف اسے پلٹنا چاہیے، اور نتیجے کے اعتبار سے بھی اس بارگاہ کی طرف پلٹنا مفید ہے، ورنہ کوئی دوسری جگہ ایسی نہیں ہے جدھر رجوع کر کے وہ سزا سے بچ سکتے یا ثواب پا سکے۔ علاوہ بریں اس کا مطلب یہ بھی کہ وہ پلٹ کر ایک ایسی بارگاہ کی طرف جاتا ہے جو واقعی ہے ہی پلٹنے کے قابل جگہ، بہترین بارگاہ، جہاں سے تمام بھلائیاں ملتی ہیں، جہاں سے قصوروں پر شرمسار ہونے والے دھتکارے نہیں جاتے بلکہ معافی اور انعام سے نوازے جاتے ہیں، جہاں معافی مانگنے والے کے جرم نہیں گنے جاتے بلکہ یہ دیکھا…
Read the full tafseer →وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا، بظاہر یہ اسی مضمون کا تکرار ہے جو اس سے پہلے آیت میں آیا ہے اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا اور قرطبی نے قفال سے یہ نقل کیا ہے کہ یہ توبہ پہلی توبہ سے مختلف اور الگ ہے کیونکہ پہلا معاملہ کافر و مشرکین کا تھا جو قتل و زنا میں بھی مبتلا ہوئے تھے، پھر ایمان لے آئے تو ان کی سیئات حسنات سے بدل دی گئیں اور یہاں مسلمان گناہگاروں کی توبہ کا ذکر ہے۔ اسی لئے پہلی توبہ کے ساتھ وَاٰمَنَ یعنی اس کے ایمان لانے کا ذکر تھا، اس دوسری توبہ میں وہ مذکور نہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ توبہ ان لوگوں کی ذکر کی گئی ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
آیت 71-70
توبہ کے اثرات
فرمایا کہ اس نتائج اعمال کے عذاب سے صرف وہی لوگ محفوظ رہیں گے جو توبہ و اصلاح کر کے ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کرلیں گے۔ توبہ کے شرائط و آداب پر ہم نساء 18-17 کے تحت مفصل گفتگو کرچکے ہیں۔ یبدل اللہ سیاتھم حسنت کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ توبہ کر کے ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرلیتے ہیں ان کی نیکیاں ان کے اعمال نامے کے پچھلے گناہوں کو محو کردیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی جگہ پر ان کی نیکیوں کو رکھ دیتا ہے جو ان کے گناہوں کو ڈھانک لیتی ہیں۔
توبہ کرنے والوں کے لئے عظیم بشارت
ومن تاب وعمل صالحاً فانہ یتوب الی اللہ متاباً یہ ٹکڑا بالکل ومن یفعل ذلک یلق اثاماً کے مقابل…
Read the full tafseer →71-1پہلی توبہ کا تعلق کفر و شرک سے ہے۔ اس توبہ کا تعلق دیگر معاصی اور کوتاہیوں سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
26: قرآن کریم میں اصل لفظ ”زور“ استعمال ہوا ہے جس کے معنی جھوٹ کے ہیں۔ اور ہر باطل اور ناحق کو بھی ”زور“ کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں ناحق اور ناجائز کام ہو رہے ہوں، اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ان میں شامل نہیں ہوتے۔ اور اس کا ایک یہ ترجمہ بھی ممکن ہے کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔
27: یعنی نہ تو اس لغو اور بےہودہ کام میں شریک ہوتے ہیں، اور نہ ان لوگوں کی تحقیر کرتے ہیں جو ان کاموں میں مبتلا ہیں، البتہ اس برے کام کو برا سمجھتے ہوئے وقار کے ساتھ وہاں سے گذر جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →ومن تاب و عمل صالحاً فانہ یتوب الی اللہ متابا (25 : 81) ” جو شخص توبہ کر کے نیک عمل اختیار کرتا ہے وہ تو اللہ کیطرف پلٹآتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے۔ “ توبہ کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ کسی گناہ گا رکو ندامت آجائے اور پھر وہ معصیت کو چھوڑ دے اور اس کے بعد وہ نیکیوں پر عمل پیرا ہوجائے تو ثابت ہوگا کہ اس شخص کی توبہ صحیح ہے اور یہ شخص سچا ہے۔ یعنی اس نے برائیوں کو ترک کر کے مثبت پیش رفت شروع کردیا ہے۔ کیونکہ معصیت دراصل زندگی کا ایک عمل اور تحریک ہوتی ہے جو شخص ان معاصی کو ترک کرے گا بیشک اس کی زندگی معاصی سے خالی ہوگی لیکن اس کی زندگی کے اس خلا کو مثبت اعمال سے بھرنا بھی ضروری ہے۔ یہ ہے اسلامی نظام…
Read the full tafseer →5 پہلے ذکر تھا کافر کے گناہوں کا جو پیچھے ایمان لے آیا۔ یہ ذکر ہے اسلام میں گناہ کرنے کا۔ وہ بھی جب توبہ کرے یعنی پھر برے کام سے تو اللہ کے یہاں جگہ پائے۔ معلوم ہوا کہ سورة نسآء میں جو فرمایا (وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاۗؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا) 4 ۔ النسآء :93) وہ غیر تائب کے حق میں ہے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 71 وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا ”
یعنی توبہ کے بعد گناہوں سے کنارہ کش ہوگیا اور تقویٰ کی روش اختیار کرلی تو یہی اصل توبہ ہے۔ اس کے برعکس اگر ایک شخص زبان سے توبہ توبہ کے الفاظ ادا کرتا رہے اور استغفار کی تسبیحات پڑھتا رہے ‘ سوا لاکھ مرتبہ آیت کریمہ پڑھوا کر ختم بھی دلائے مگر اس کی حرام خوری جوں کی توں رہے اور وہ گناہوں سے باز نہ آئے تو اس کی توبہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →88 سابقہ آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو کفر سے توبہ کرتے اور دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ان مسلمانوں کا ذکر ہے جن سے گناہ سرزد ہوجائیں اور وہ توبہ کرتے ہیں۔ توبہ کی قبولیت کی شرائط یہ ہیں کہ وہ فی الواقعہ اپنے کئے پر نادم ہو۔ پھر اللہ سے استغفار کرے۔ توبہ استغفار کے بعد اپنی اصلاح کرے اور کم از کم اس سے وہ گناہ سرزد نہ ہو جس سے اس نے توبہ کی تھی۔ اب وہ توبہ استغفار کے بعد جس قدر اپنی اصلاح کرتا اور اعمال صالحہ بجا لاتا رہے گا اسی قدر وہ اللہ کے حضور مقرب بنتا جائے گا۔
Read the full tafseer →84۔ یہاں ذکر مومن عاصی کا ہے جو معصیتوں سے تائب ہورہا ہے اور آئندہ نیکیاں کرتا ہے۔ یعنی ان معصیتوں کا اعادہ نہیں ہونے دیتا۔ (آیت) ” متابا “۔ متاب مصدر ہے جو فعل کی تاکید کے لیے لایا گیا ہے۔ یعنی مومن عاصی توبہ نصوح کررہا ہے، اللہ کیوں نہ اسے قبول کرے گا۔ اے تاب حق التوبہ وھی النصوح ولذا اکد بالمصدر، فمتابا مصدرمعناہ التاکید کقولہ کلم اللہ موسیٰ تکلیما اے فانہ یتوب الی اللہ حقا فیقبل اللہ توبتہ حقا (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
آیت نمبر 61 تا 77
ترجمہ : وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے آسمانوں میں بارہ برج بنائے (1) حَمَلْ (2) ثور (3) الجوزاء (4) السرطان (5) الاسد (6) السنبلہ (7) المیزان (8) العقرب (9) القوس (10) الجدی (11) الدلو (12) الحوت یہ سبع سیارہ کی منزلیں ہیں (اور وہ سبع سیارہ یہ ہیں) (1) المریخ : اس کی منزل حمل اور عقرب ہے (2) زہرہ : اس کی منزل ثور اور میزان ہے (3) عطارد : اس کی منزل جوزاء اور سنبلہ ہے (4) القمر اس کی منزل سرطان ہے (5) الشمس اس کی منزل اسد ہے (6) المشتری : اس کی منزل قوس اور حوت ہیں (7) زحل اس کی منزل جدی اور دلو ہے، اور اس نے آسمان میں چراغ بھی بنایا اور وہ سورج ہے اور نورانی چاند بنایا اور…
Read the full tafseer →ومن تاب اور جس نے توبہ کی۔ یعنی شرک و معاصی سے توبہ کی۔ شرک اور گناہ کو چھوڑ دیا اور ندامت کے ساتھ معافی کا طلبگار ہوا۔
وعمل صالحا اور نیک عمل کئے۔ یعنی گزشتہ عمل بد کی تلافی نیک اعمال سے کی یا یہ مطلب ہے کہ شرک و معصیت کو چھوڑ کر دائرۂ طاعت میں داخل ہوگیا۔
فانہ یتوب الی اللہ متابا۔ تو (وہ بھی عذاب سے بچا رہے گا کیونکہ) حقیقت میں وہ اللہ کی طرف سے
خاص طور پر رجوع کر رہا ہے۔
پس اللہ کا (عطا کیا ہوا) حق ہے کہ اللہ اس کو ثواب دے اور اس کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے۔
مَتَابًاکی تنوین بعض اہل تفسیر کے نزدیک تعظیم کے لئے اور توبہ کی ترغیب کے لئے ہے مطلب یہ کہ وہ اللہ کی طرف ایسا عظیم الشان رجوع…
Read the full tafseer →(71) اور جو شخص گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور خلوص کے ساتھ اعمال صالحہ کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں پختہ توبہ کرنے والا ہوگا اور اس توبہ کا ثواب وہ اللہ تعالیٰ کے دربان میں پائے گا۔
Read the full tafseer →وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوْبُ۔۔ : یہاں ایک سوال یہ ہے کہ پچھلی آیت میں توبہ کے ذکر کے بعد دوبارہ توبہ کے ذکر میں کیا حکمت ہے ؟ اور ایک یہ کہ یہ کہنا کہ ”جو شخص توبہ کرے تو وہ توبہ کرتا ہے۔۔“ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے ”مَنْ قَامَ فَإِنَّہُ یَقُوْمُ“ یعنی جو کھڑا ہو تو وہ کھڑا ہوتا ہے، تو اس سے کیا فائدہ حاصل ہوا ؟ اس کا جواب کئی طرح سے دیا گیا ہے، ایک یہ کہ اس میں توبہ کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ جو شخص توبہ کرے اور عمل صالح کرے، تو اسے جان لینا چاہیے کہ وہ اس توبہ کے ساتھ کسی معمولی ہستی کی طرف پلٹ کر نہیں جا رہا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ کر جا رہا ہے، جو بندے کی توبہ سے…
Read the full tafseer →( ومن تاب وعمل صالحا۔۔۔۔۔ )
یہ جملہ نہیں کہا جاتا : من قام فانہ یقوم، تو یہ کس طرح فرمایا :’ ’ ومن تاب فانہ یتوب ؟ “ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے اہل مکہ میں سے جو ایمان لایا اور ہجرت کی اس نے نہ قتل کیا تھا اور نہ ہی زنا کیا تھا بلکہ اس نے عمل صالحہ کیا اور فرائض کو ادا کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرنے والا ہے، یعنی میں نے انہیں ان لوگوں پر مقدم رکھا اور ان پر فضلیت دی جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے جنگ کی اور محارم کو حلال جانا۔ قفال نے کہا : یہ احتمال موجود ہے کہ پہلی آیت ان لوگوں کے بارے میں ہو جنہوں نے مشرک ہونے کے بعد توبہ کی، اسی وجہ سے فرمایا : ’ ’ الا من تاب وامن “ پھر مسلمانوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
کسی انسان کو ناحق قتل کرنا حرام ہے
1۔ الفریابی احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن امردویہ والبیہقی فی شعب الایمان ابن مسعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنائے حالانکہ اسی نے تجھ کو پیدا کیا میں نے عرض کیا پھر کون سا گناہ بڑا ہے فرمایا کہ تو اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھانا کھائے گی میں نے پھر عرض کیا پھر کون سا گناہ بڑا ہے فرمایا کہ تو اپنے ہمسائے کی بویوی سے زنا کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت اتاری آیت ” والذین لا یدعون مع اللہ…
Read the full tafseer →وَمَنْ [ اور جس نے ] تَابَ [ توبہ کی ] وَعَمِلَ [ اور عمل کیا ] صَالِحًا [ نیک ] فَاِنَّهٗ [ تو بیشک وہ ] يَتُوْبُ [ پلٹتا ہے ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ] مَتَابًا [ جیسا پلٹنے کا حق ہے ]
Read the full tafseer →(وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا) (اور جو شخص توبہ کرتا ہے اور نیک کام کرتا ہے وہ اللہ کی طرف خاص طور پر رجوع کرتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتا ہے اور اخلاص سے توبہ کرتا ہے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کرتا ہے اور نیکی پر رہنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
قال صاحب الروح ای رجوعا عظیم الشان مرضیا عندہ تعالیٰ ماحیا للعقاب محصلا للثواب اس آیت شریفہ میں توبہ کا طریقہ بتادیا کہ پختہ عزم کے ساتھ توبہ کرے اور اللہ کی رضا کے کاموں میں لگے اور گناہوں سے خاص طور پر پرہیز کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–77
مدح عباد رحمان و ذکر شمائل اہل ایمان و عرفان
قال اللہ تعالیٰ وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا۔۔۔ الی۔۔۔ فسوف یکون لزاما۔
(ربط) گزشتہ آیات میں رحمان سے نفرت کرنے والوں کا ذکر تھا، اب آئندہ آیات میں عباد رحمن یعنی رحمان کے خاص بندوں کے اوصاف کا ذکر ہے جس سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ رحمن کے بندے رحمن کی رحمتوں اور اس کی نعمتوں کا عملی طور پر کس طرح اور کس صورت میں شکر کرتے ہیں لہٰذا جو شخص رحمن کے آثار رحمت ونعمت کے تشکر کا ارادہ کرے اور رحمن کے آثار قدرت و عجائب صنعت میں تفکر اور تدبر کا ارادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ رحمن کے شکر گزار بندوں کے نقش قدم پر ثلے اور اگر بر بنائے غفلت اس سے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
45:۔ ” والذین لا یدعون الخ “ یہ عباد الرحمن کی صفات کی پانچویں نوع ہے جس میں متعدد صفتیں مذکور ہیں (1) وہ اللہ کے سوا کسی اور کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھ کر اپنی حاجات و مشکلات میں ہرگز نہیں پکارتے (2) وہ ناحق قتل نہیں کرتے (3) وہ بدکاری کے نزدیک نہیں جاتے۔ اس کے بعد نافرمان لوگوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” ومن یفعل ذلک الخ “ جو شخص مذکورہ بالا اعمال شنیعہ اور افعال قبیحہ کا مرتکب ہوگا اسے سخت سزا سے دوچار ہونا پڑے گا اور قیامت کے دن اس کو دوہرا عذاب دیا جائیگا ایک کفر و شرک کی وجہ سے دوم دوسرے گناہوں کی وجہ سے اور وہ ذلت و رسوائی کے ساتھ اس عذاب میں ہمیشہ رہیگا الا من تاب وا من الخ یہ ماقبل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–72
ربط آیات
پہلے خدائے رحمان کے اوصاف اور کمالات کا ذکر ہوا ۔ پھر اللہ نے عباد الرحمان کی صفات بیان فرمائیں ۔ اب تک پانچ صفات کا بیان ہوچکا ہے یعنی خدائے رحمان کے بندے وہ ہیں جو (1) زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے بلکہ وقار اور سکنیت کے ساتھ چلتے ہیں (2) جب ان سے نادان لوگ بات کرتے ہیں تو وہ الجھنے کی بجائے سلام کر کے گزر جاتے ہیں۔ (3) اللہ کے بندوں کی راتیں سجود و قیام میں گزرتی ہیں (4) وہ اپنے پروردگار سے دوزخ کو دور کرنے کی دعائیں کرتے ہیں (5) وہ لوگ خرچ کتے وقت نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔
(6) شرک سے بیزاری
اب آج کی آیات میں عباد الرحمان کی چھٹی صفت یہ بیان ہوئی ہے…
Read the full tafseer →وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ يَتُوْبُ اِلَى اللہِ مَتَابًا 71
توب
التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار،
فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول :
فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع :
ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة، نحو : فَتُوبُوا إِلى بارِئِكُمْ [ البقرة/ 54]
( ت و ب ) التوب
( ن)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
1 ؎ اقتار وقتور تنگ دلی ‘ کنجوسی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
اِلاَّ مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا فَاُوْلٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیَّاٰ تِہِمْ حَسَنٰتٍ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّـہٗ یَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا۔ (الفرقان : 70، 71)
(مگر وہ جو توبہ کرلیں گے ایمان لائیں گے اور عمل صالح کریں گے، تو اللہ ان کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ اور جو شخص توبہ کرتا اور عمل صالح اختیار کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے۔ )
توبہ، مژدہ جانفزا
اوپر کی آیات میں جن تین بڑے بڑے گناہوں کا ذکر کرنے کے بعد ان کی ہولناک سزائوں کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
فہم القرآن
ربط کلام : اس میں کوئی شک نہیں کہ جن گناہوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ اپنی نوعیت اور سزا کے اعتبار سے بہت بڑے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
بے شک اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا، کسی کو ناحق جان سے مارڈالنا اور بدکاری کی شکل میں حیا کا پردہ چاک کرنا بڑے گناہ اور بھاری جرائم ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے نہ صرف توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے بلکہ اپنے محبوب پیغمبر کے ذریعے یہ کہہ کر اعلان کروایا ہے کہ اے پیغمبر ! انھیں بتلاؤ اور اطمینان دلاؤ کہ میرے بندو ! جنھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے میری رحمت سے مایوس نہ ہونا یقیناً میں معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہوں۔…
Read the full tafseer →71: وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا (اور جس نے توبہ کی اور نیک عمل کیے پس بیشک وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے رجوع کرنا) یعنی جس نے توبہ کی اور پھر توبہ پر مضبوطی سے عمل صالح کے ذریعہ قائم رہا پس وہ اس ثابت قدمی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والا ہے۔ ایسا رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ غلطیوں کو مٹانے والا اور ثواب کو مہیا کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →71۔ ومن تاب عمل صالحا، بعضا اہل علم کا قول ہے کہ اس ایت میں جس توبہ کا ذکر ہے اور وہ ہے جو ماقبل آیت میں گزر گیا۔ ان کے علاوہ گناہوں کا ذکر ہے۔ قتل اور زنا سے۔ یعنی جس نے شرک سے توبہ کی اور نیک عمل کیے، فرائض کو ادا کیا، اس نے نہ کسی کو قتل کیا اور نہ زنا کیا، فانہ یتوب الی اللہ ، موت کے ذریعے سے وہ اللہ ک پاس پہنچ جاتا ہے۔ متابا، اس کو نیکی دیتے ہیں اور وہ دوسرے لوگوں پر فضیلت حاصل کرلیتا ہے جن لوگوں نے قتل کیا یازنا کیا، توبہ اولی سے ، ومن تاب، جس نے شرک سے توبہ کی اور دوسری توبہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے رجوع کرے۔ بعض حضرات کا قول ہے یہ آیت تمام گناہوں سے توبہ مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
68۔ 77:۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت 6 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے ‘ اس میں عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت دنیا میں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ‘ آپ نے فرمایا کہ جس اللہ نے بندے کو پیدا کیا ‘ ایک تو اس کی عبادت یا قدرت میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑا گناہ ہے۔ میں نے پوچھا ‘ اس کے بعد کون سا بڑا گناہ ہے آپ نے فرمایا ‘ تنگ دستی کے خوف سے آدمی کا اپنی اولاد کو قتل کر ڈالنا ‘ میں نے پوچھا ‘ پھر اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے ‘ آپ نے فرمایا ‘ پڑوس کی عورت سے بدکاری کا کرنا ‘ آپ کے اس قول کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–77
آیت 63 سے 77
اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :
(1) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت : یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بدتمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ (ان کل من فی السموات والارض الی اتی الرحمن عبدا) (مریم : 19/93) ” آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ “
(2) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت : یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ومرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
زور سے مراد آلات موسیقی
قول باری ہے : (والذین لا یشھدون الزور۔ ) اور جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے۔ امام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ زور ، غنا یعنی موسیقی اور گانے بجانے کو کہتے ہیں۔ قول باری : (ومن یشتری لھو الحدیث) اور جو شخص لہو ولعب کی باتیں خریدتا ہے کہ تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو گانے والی عورت خریدتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔
مجاہد نے اس آیت کی تفسیر میں کا ہے کہ اس غنا اور ہر لہو ولعب مراد ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے عطا سے اور انہوں نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے حضور ﷺ نے فرمایا : ” مجھے دو بیہودہ قسم کی احمقانہ آوازوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
90 توبہ کا معنی و مفہوم اور اس پر عظیم اشان بشارت کا ذکر : سو سچی توبہ کرنے والوں کیلئے عظیم الشان بشارت و خوشخبری ہے اور توبہ کے اصل معنی لوٹنے اور رجوع کرنے کے ہیں۔ سو ایک انسان جب گناہ کا ارتکاب کرلیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو وہ اپنے رب سے اور اس کی رحمتوں سے دور ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور پھر جب وہ سچی توبہ کرتا ہے تو وہ اس کی طرف لوٹ آتا ہے اور اللہ پاک کی رحمت و عنایت بھی اس کی طرف عود کر آتی ہے۔ اور توبہ کا اصل تعلق دل سے ہے اور اس کی ظاہری نشانی اور ثبوت عمل صالح ہے کہ توبہ کرنے والے کی بعد کی زندگی پہلی زندگی سے یکسر بدلی ہوئی محسوس ہونے لگے۔ اور اگر وہ زبانی کلامی توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
آسمانوں کے انتظام ‘ نیک لوگوں کی صفات اور انعام
تشریح : یہاں بھی کفار کو اللہ رحمن و رحیم کی کچھ اور مہربانیاں بتائی جا رہی ہیں جو خالصتاً اس وقت کے عرب بدئوں کے معیار کے مطابق بات کی جا رہی ہے۔ گو کہ اس میں بھی افلاک کے بہت سے رازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس وقت یعنی ساتویں صدی کے آغاز کا عرب بدو اپنی تہذیب ‘ زبان ‘ تشبیہ اور ثقافت کے معیار سے ہی بات سمجھ سکتا تھا کیونکہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب وہی عرب بدو تھا۔ لہٰذا رب ذوالجلال انہی کی زبان میں فرماتا ہے کہ ” بڑی بابرکت ہے اس کی ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور پھر سورج کا روشن چراغ رکھ دیا اور چاند کا اجالا کردیا۔ اور وہی ہے جس نے رات دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
وہ ذات بہت ہی برکت والی ہے جس نے انسان کو حیات کا اتنا وسیع نظام ایک بہت ہی خوبصورت انداز سے ترتیب دے کر ہر شے کو حتی کہ اجرام فلکی کو بھی انسان ہی کی خدمت پہ لگا دیا جو مدتوں سے اپنے اپنے کام کو پوری باقاعدگی سے انجام دے رہے ہیں اس نے آسمانوں کو پیدا فرمایا اور فضا سے آسمانی بروج یعنی اجرام فلکی کے ٹھکانے اور ان کی راہیں مقرر کردیں ، یہ علم ہیئت ، ستارے اور سیارے ان کی رفتار اور اس کے اثرات ان کا وجود اور اس کی تعمیر اور خصوصیات اس میں بہت لمبی بحث ہے خصوصا اس دور میں جبکہ انسانی قدم چاند تک جا پہنچے ہیں اور وہاں کی فضا اس کے اثرات اور ان کی رفتار اور اس کے اسباب…
Read the full tafseer →9 ۔ پہلا ذکر تھا کفر (کی حالت) کے گناہوں کا جو پیچھے ایمان لایا۔ یہ ذکر ہے اسلام میں گناہ کرنے کا، وہ بھی جب توبہ کرے یعنی پھرے اپنے کام سے تو اللہ کے یہاں جگہ پاوے۔ (موضح)
Read the full tafseer →(25:71) عمل صلحا : ای عمل عملا صالحا (جس نے) نیک کام کئے۔
یتوب الیٰ ۔ مضارع واحد مذکر غائب کسی کے آگے توبہ کرنا۔ اور علی کے صلہ کے ساتھ بمعنی توبہ قبول کرنا۔ التوب (باب نصر) کے معنی گناہ کے باحسن وجوہ ترک کرنے کے ہیں اور یہ معذرت کی سب سے بہتر صورت ہے۔ کیونکہ اعتزار کی تین ہی صورتیں ہیں :۔
(1) پہلی صورت یہ ہے کہ عذر کنندہ اپنے جرم کا سرے سے انکار کر دے اور کہہ دے کہ میں نے کیا ہی نہیں۔
(2) دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے لئے وجہ تلاش کرے اور بہانے تراشنے لگ جائے۔
(3) تیسری صورت یہ ہے کہ اعتراف جرم کے ساتھ آئندہ کرنے کا بھی یقین دلائے۔ اس آخری صورت کو توبہ کہا جاتا ہے۔
شرعا توبہ کو یوبہ جب کہیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–77
لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 77 :
انفقوا (انہوں نے خرچ کیا) ‘ لم یسرفوا (انہوں نے بےجا نہیں اڑایا) ‘ لم یقتروا (نہ انہوں نے تنگی کی ) ‘ قوام ( ٹھرا ہوا۔ اعتدال و میانہ روی) ‘ یلق (وہ پڑے گا) ‘ اثام (گناہ) ‘ یضعف (دوگنا کردے گا) ‘ مھان (ذلیل و خوار) ‘ متاب (لوٹنے والا۔ توبہ کرنے والا) ‘ لایشھدون (وہ موجود نہیں ہیں) ‘ الزور (جھوٹ) ‘ لغو (فضول۔ بےہودہ) ‘ کرام (سنجیدگی۔ عزت) ‘ لم یخروا (وہ نہیں کرتے) ‘ صم (بہرے) ‘ عمیان ( اندھے) ھب (عطا فرما۔ دے دیجئے) ‘ قرۃ (ٹھنڈک) ‘ الغرفۃ (اونچا مکان) ‘ تحیۃ (دعا) ‘ مایعبئو ا (وہ پرواہ نہیں کرتا ) ‘ لزام (چمٹنے والی) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 67 تا 77 :
ان آیات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ رحمن کے بندوں کی یہ بھی عادت ہے کہ خدا کے ساتھ دوسرے معبودوں کو نہیں پوجتے اور جس جان کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو ناحق نہیں قتل کرتے اور رحمن کے بندوں کی عادت بدکاری کی بھی نہیں ہے اور اگر جو شخص شرک اور ناحق قتل اور بدکاری میں گرفتار ہوگا اور اسی حالت میں مرجائے گا تو ایسا شخص شرک کے سبب سے ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اور سوائے شرک کے اور گناہوں کی سزا جدا اس شخص کو بھگتنی پڑے گی کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ مشرک کی کس طرح بخشش نہیں ہے ہاں مرنے سے پہلے جو شخص ان باتوں سے توبہ کرے گا اور شرک چھوڑ کر ایماندار بن جائے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
[44] یعنی اور گناہوں سے یہ گناہ یعنی شرک، قتل ناحق اور زنا بڑے ہیں۔ لہذا عذاب بھی ان پر بڑا ہوگا لہذا اسے دوہرا عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
عبادالرحمن
1: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عبادالرحمن کی صفات بتائی ہیں ۔ یعنی وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کے صحیح معنوں میں بندے ہیں ۔ اور ان کو رحمن کی غلامی اور نیاز مندی کا فخر حاصل ہے ۔
ارشاد ہے کہ وہ دنیا میں ظلم ومعصیت سے علو و برتری نہیں چاہتے ۔ نہایت نرم اور مریخاں مریخ ہوتے ہیں ۔ عجزوانکساری کا یہ عالم ہے کہ چلتے ہیں تو ہولے ہولے ، وقار اور حشمت کے باوجود ان میں شیخی اور گھمنڈ نہیں ہوتا ۔ متانت اور سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہیں او اپنے وقت کی قیمت کو پہنچانتے ہیں ۔ وہ ان لوگوں سے خوب آگاہ ہوتے ہیں ۔ جن میں جہالت ہوتی ہے ۔ اس لئے جہاں ایسے لوگوں سابقہ پڑتا ہے تو سلام کہہ کر گزرجاتے ہیں ۔ ان…
Read the full tafseer →(71) اور جو شخص توبہ کرتا ہے اور توبہ کے نیک عمل کرنے لگتا ہے اور نیک اعمال کا پابند ہوجاتا ہے تو وہی حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے یعنی اہل ایمان میں سے اگر کوئی شخص گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے اور وہ توبہ کرکے نیک اعمال کا پابند ہوجائے اور گناہوں سے بچتا رہے تو وہ خاص طورپر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلا ذکر تھا کفر کے گناہوں کا جو پیچھے ایمان لایا یہ ذکر ہے اسلام میں گناہ کرنے کا وہ بھی جب توبہ کرے یعنی پھرے اپنے کام سے تو اللہ کے یہاں جگہ پاوے 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–72
ف 3۔ یعنی نہ اس کی طرف مشغول ہوتے ہیں، اور نہ ان کے آثار سے عاصیوں کی تحقیر اور اپنا ترفع اور تکبر ظاہر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →اس کی توبہ یقینا توبۃ النصوح ہوئی اور اس کا اجر عنداللہ محفوظ ہوگیا :
71۔ زیر نظر آیت میں توبہ کرنے والوں کے لئے جو بشارت دی گئی تھی اس کی مزید وضاحت کردی کہ توبہ کے باعث انہوں نے گناہ آج تک یعنی توبہ کرنے سے پہلے پہلے کئے تھے وہ تو اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے معاف کردیئے اور اس طرح گویا ان کے بیاض عمل ایک بار بالکل صاف ہوگئی کیونکہ گزشتہ سب معاف ہوگیا اور ظاہر ہے کہ اب جو کچھ بھی ان کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا وہ نیک عمل کے سوا کچھ نہیں ہوگا اور یہ بھی کہ اب ان کی نافرمانی اور سرتابی کی قوت کی اطاعت وانقیاد کی قوت سے بدل دیا جائے گا پہلے وہ ارتکاب گناہ پر اپنے آپ کو مجبور پاتے تھے اور اب…
Read the full tafseer →وَمَن تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللَّـهِ مَتَابًا (And whoever repents and does righteous deeds he turns to Allah truly - 25:71). On the face of it, it looks repetition of the same subject as described in the preceding verse i.e. تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا . But Qurtubi while quoting Qaffal has explained that this repentance is different and separate from the repentance described in the previous verse. It is because the previous verse related to deniers of monotheism and infidels who indulged in adultery and homicide and then submitted to Islam. Hence their…
Read the full tafseer →87 It has two meanings: (1) When he has repented sincerely, he will start a new life of belief and obedience to Allah and by His grace and help will start doing good deeds instead of evil deeds that he used to do in his life of unbelief, and his evil deeds will be replaced by good deeds; and (2) Not only will his evil deeds done in the past be written off, but it will also be recorded in his conduct register that he was the servant who gave up rebellion against his Lord and adopted the way of His obedience. Then, as he will feel more and more sorry for his past sins and offer repentance, more…
Read the full tafseer →