Explained with ayahs 68–71
سب سے بڑا گناہ
حضور ﷺ سے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا اس سے کم ؟ فرمایا تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے ؟ پوچھا اس کے بعد ؟ فرمایا تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری ومسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ باہر جانے لگے تنہا تھے میں بھی ساتھ ہولیا آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر حضور…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 86
یہ بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جن کی زندگی پہلے طرح طرح کے جرائم سے آلودہ رہی ہو اور اب وہ اپنے اصلاح پر آمادہ ہوں۔ یہی عام معافی (General Amnesty) کا اعلان تھا جس نے اس بگڑے ہوئے معاشرے کے لاکھوں افراد کو سہارا دے کر مستقل بگاڑ سے بچا لیا۔ اسی نے ان کو امید کی روشنی دکھائی اور اصلاح حال پر آمادہ کیا۔ ورنہ اگر ان سے یہ کہا جاتا کہ جو گناہ تم کرچکے ہو ان کی سزا سے اب تم کسی طرح نہیں بچ سکتے، تو یہ انہیں مایوس کر کے ہمیشہ کے لیے بدی کے بھنور میں پھسا دیتا اور کبھی ان کی اصلاح نہ ہو سکتی۔ مجرم انسان کو صرف معافی امید ہی جرم کے چکر سے نکال سکتی ہے۔ مایوس ہو کر وہ ابلیس بن جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
آگے اس عذاب کا بیان ہے جو جرائم مذکورہ کے کرنے والوں پر ہوگا اور آیات کے سیاق وسباق سے یہ بات متعین ہے کہ یہ عذاب کفار کے لئے مخصوص ہے جنہوں نے شرک و کفر بھی کیا اور اس کے ساتھ قتل و زنا میں بھی مبتلا ہوئے۔ کیونکہ اول تو يّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ کے الفاظ مسلمان گناہگاروں کے لئے نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کے ایک گناہ پر ایک ہی سزا کا وعدہ قرآن و سنت میں منصوص ہے۔ سزا میں تضاعف یعنی کیفیت یا کمیت میں زیادتی مومنین کے لئے نہیں ہوگی۔ یہ کفار کی خصوصیت ہے کہ کفر پر جو عذاب ہونا تھا اگر کفر کے ساتھ اور گناہ بھی کئے تو عذاب دوہرا ہوجاوے گا۔ دوسرے اس عذاب میں یہ بھی مذکور ہے وَيَخْلُدْ فِيْهٖ مُهَانًا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
آیت 71-70
توبہ کے اثرات
فرمایا کہ اس نتائج اعمال کے عذاب سے صرف وہی لوگ محفوظ رہیں گے جو توبہ و اصلاح کر کے ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کرلیں گے۔ توبہ کے شرائط و آداب پر ہم نساء 18-17 کے تحت مفصل گفتگو کرچکے ہیں۔ یبدل اللہ سیاتھم حسنت کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ توبہ کر کے ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرلیتے ہیں ان کی نیکیاں ان کے اعمال نامے کے پچھلے گناہوں کو محو کردیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی جگہ پر ان کی نیکیوں کو رکھ دیتا ہے جو ان کے گناہوں کو ڈھانک لیتی ہیں۔
توبہ کرنے والوں کے لئے عظیم بشارت
ومن تاب وعمل صالحاً فانہ یتوب الی اللہ متاباً یہ ٹکڑا بالکل ومن یفعل ذلک یلق اثاماً کے مقابل…
Read the full tafseer →70-1اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں خالص توبہ سے ہر گناہ معاف ہوسکتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا ہو، اور سورة نساء کی آیت93میں جو مومن کے قتل کی سزا جہنم بتلائی گئی ہے، تو وہ اس صورت پر معمول ہوگی، جب قاتل نے توبہ نہ کی ہو اور بغیر توبہ کئے فوت ہوگیا۔ ورنہ حدیث میں آتا ہے کہ سو آدمی کے قاتل نے بھی خالص توبہ کی تو اللہ نے اسے معاف فرمایا (صحیح مسلم)
70-2اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا حال تبدیل فرما دیتا ہے اسلام قبول کرنے سے پہلے وہ برائیاں کرتا تھا، اب نیکیاں کرتا ہے، پہلے شرک کرتا تھا، اب صرف اللہ واحد کی عبادت کرتا ہے، پہلے کافروں کے ساتھ ملکر مسلمانوں سے لڑتا تھا، اب مسلمانوں کی طرف…
Read the full tafseer →25: یعنی حالت کفر میں انہوں نے جو برے کام کیے تھے، وہ ان کے نامہ اعمال سے مٹا دئیے جائیں گے، اور اسلام لا کر جو نیک عمل کیے ہوں گے وہ ان کی جگہ لے لیں گے۔
Read the full tafseer →الامن تاب وامن و عمل عملاً صالحاً (25 : 80) ” الایہ کہ کوئی ان گناہوں کے بعد توبہ کرچکا ہو اور ایمن لا کر عمل صالح کرنے لگا ہو۔ ‘ ان کے ساتھ وعدہ یہ ہے کہ انہوں نے ایمان ، توبہ اور عمل صالح سے قبل جو برے کام کئے ان کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔
فائولئک یبدل اللہ سیاتھم حسنت (25 : 80) ” ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ “ یہ تو اللہ کا فیضان رحمت ہے۔ اور محض اللہ کا جود و کرم ہے جس کے بدلے میں انسان کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔ بس یہ انعام ہے اس شخص کے لئے جو راہ بد چھوڑ کر راہ ہدایت پر چل نکلتا ہے۔ اللہ کی پناہ میں آجاتا ہے اور بدعملی اور سرکشی کو ترک کر دیات ہے۔
وکان اللہ…
Read the full tafseer →4 یعنی گناہوں کی جگہ نیکیوں کی توفیق دے گا اور کفر کے گناہ معاف کرے گا۔ یا یہ کہ بدیوں کو مٹا کر توبہ اور عمل صالح کی برکت سے ان کی تعداد کے مناسب نیکیاں ثبت فرمائے گا۔ کما یظہر من بعض الاحادیث۔
Read the full tafseer →آیت 70 اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا ”
گویا جو شخص اس طرح کے کبیرہ گناہوں میں ملوث ہوتا ہے اگرچہ قانوناً اس کا شمار کافروں میں نہیں ہوتا مگر حقیقی ایمان اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ اس لیے یہاں توبہ کے بعد ایمان کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔ چناچہ ایسے شخص کی توبہ دراصل از سر نو ایمان لانے کے مترادف ہے۔ بہر حال اگر اس نے موت کے آثار نظر آنے سے پہلے پہلے مَا لَمْ یُغَرْغِرْ توبہ کرلی تو اس کو عذاب سے استثناء مل سکتا ہے۔
فَاُولٰٓءِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ ط ”
اس کے دو معنی ہیں۔ ایک تو یہ کہ نامۂ اعمال میں جو برائیوں کا اندراج تھا وہ صاف کردیا جائے گا اور اس کی…
Read the full tafseer →87 یعنی ایسے شدید جرم کرنے والے کافروں میں سے بھی جو شخص ایمان لائے گا۔ اللہ اس کے سابقہ گناہوں کو کلیتاً معاف فرما دے گا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
1۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا : یارسول اللہ ! ہم نے جو گناہ جاہلیت کے زمانہ میں کئے ہیں کیا ہم سے ان کا مواخذہ ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : جو شخص اسلام لایا پھر نیک عمل کرتا رہا اس سے جاہلیت کے گناہوں کا مواخذہ نہیں ہوگا ( بخاری۔ کتاب استتابہ المرقدین )
2۔ حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں مکہ ایک شخص ( دوران چہارم ( رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ وہ اپنا چہرہ لوہے کے ہتھیاروں سے چھپائے ہوئے تھا۔ کہنے لگا : اے…
Read the full tafseer →82۔ یعنی جو شخص اپنے کفر کو اسلام سے بدل دے اور اپنے فسق کو طاعت سے اس کے گزشتہ یعنی زمانہ کفر کے گناہ تو اسلام کی برکت سے محو ہو ہی جائیں گے، اور اب التزام طاعت سے آیندہ نیکیاں ہی اس کے لیے لکھی جائیں گی ،
83۔ چناچہ بہ اقتضائے مغفرت وہ گناہوں کو محو کردیتا ہے، اور بہ اقتضائے رحیمیت حسنات کو ثبت فرماتا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
آیت نمبر 61 تا 77
ترجمہ : وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے آسمانوں میں بارہ برج بنائے (1) حَمَلْ (2) ثور (3) الجوزاء (4) السرطان (5) الاسد (6) السنبلہ (7) المیزان (8) العقرب (9) القوس (10) الجدی (11) الدلو (12) الحوت یہ سبع سیارہ کی منزلیں ہیں (اور وہ سبع سیارہ یہ ہیں) (1) المریخ : اس کی منزل حمل اور عقرب ہے (2) زہرہ : اس کی منزل ثور اور میزان ہے (3) عطارد : اس کی منزل جوزاء اور سنبلہ ہے (4) القمر اس کی منزل سرطان ہے (5) الشمس اس کی منزل اسد ہے (6) المشتری : اس کی منزل قوس اور حوت ہیں (7) زحل اس کی منزل جدی اور دلو ہے، اور اس نے آسمان میں چراغ بھی بنایا اور وہ سورج ہے اور نورانی چاند بنایا اور…
Read the full tafseer →الا من تاب وامن وعمل صالحا یعنی وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جنہوں نے (شرک سے) توبہ کرلی اور ایمان لے آئے
اور نیک اعمال کئے۔
حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک توبہ کرنے سے مراد ہے گناہ سے توبہ کرنا اور ایمان لانے سے مراد ہے اپنے رب پر ایمان لانا۔
اسی قصے کے متعلق آیت (قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ ۔۔ ) بھی نازل ہوئی۔
بخاری وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب (سورت) الفرقان میں اللہ نے آیات (وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہ اِلٰہًا اٰخَرَ وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ ۔۔ ) نازل فرمائیں تو مکہ کے مشرکوں نے کہا ہم نے تو ناحق قتل بھی…
Read the full tafseer →(70) مگر جو شرک و گناہوں سے توبہ کرے گا اور ایمان لانے کے بعد نیک کام کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے کفر کو ایمان کی برکت سے اور گناہوں کو اطاعت کی برکت سے اور جو غیر اللہ کی عبادت کی تھی اس کو عبادت خداوندی کی برکت سے اور برائیوں کو نیکیوں کی برکت سے معاف فرما دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ تائب کی مغفرت فرمانے والا اور جو توبہ پر مرے اس پر رحمت فرمانے والا ہے۔
Read the full tafseer →اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا۔۔ : ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”اہل شرک میں سے کچھ لوگوں نے قتل کیے اور بہت کیے اور زنا کیے اور بہت کیے، پھر وہ محمد ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے : ”آپ جو بات کہتے ہیں اور جس کی دعوت دیتے ہیں وہ بہت اچھی ہے، اگر آپ ہمیں یہ بتادیں کہ ہم نے جو کچھ کیا اس کا کوئی کفارہ ہے ؟“ تو یہ آیت اتری : (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ۔۔) [ الفرقان : 68 ] اور یہ آیت اتری : (يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ) [ الزمر : 53 ] ”اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ! اللہ…
Read the full tafseer →( الا من تاب وامن۔۔۔۔۔۔ )
الامن تاب وامن وعمل عملاً صالحا ً علماء میں سے کوئی اختلاف نہیں کرتا کہ استثناء کافر اور زانی میں عامل ہے مسلمانوں میں سے جو قاتل ہے اس کے بارے میں اختلاف ہے جس طرح اس کی وضاحت سورة النساء میں گزر چکی ہے، سورة مائدہ میں یہ قول گزر چکا ہے۔ عین میں جو استثناء ہو اس میں تراخی جائز ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ تعالیٰ کا قول ہے، وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں۔
فاولیک یبدل اللہ سیاتھم حسنت نحاس نے کہا : اس کے بارے میں جو اقوال ذکر کیے گئے ہیں ان میں سے سب سے بہترین یہ ہے کہ کافر کی جگہ مومن اور نافرمان کی جگہ مطیع لکھ دیا جاتا ہے۔ مجاہد اور ضحاک نے کہا : اللہ تعالیٰ شرک کو ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
کسی انسان کو ناحق قتل کرنا حرام ہے
1۔ الفریابی احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن امردویہ والبیہقی فی شعب الایمان ابن مسعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنائے حالانکہ اسی نے تجھ کو پیدا کیا میں نے عرض کیا پھر کون سا گناہ بڑا ہے فرمایا کہ تو اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھانا کھائے گی میں نے پھر عرض کیا پھر کون سا گناہ بڑا ہے فرمایا کہ تو اپنے ہمسائے کی بویوی سے زنا کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت اتاری آیت ” والذین لا یدعون مع اللہ…
Read the full tafseer →اِلَّا مَنْ [ سوائے اس کے جس نے ] تَابَ [ توبہ کی ] وَاٰمَنَ [ اور ایمان لایا ] وَعَمِلَ [ اور اس نے عمل کیا ] عَمَلًا صَالِحًا [ جیسا نیک عمل کرنے کا حق ہے ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ہیں ] يُبَدِّلُ [ بدل دے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] سَـيِّاٰتِهِمْ [ جن کی برائیوں کو ] حَسَنٰتٍ ۭ [ بھلائیوں ہوتے ہوئے ] وَكَانَ [ اور ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] غَفُوْرًا [ بےانتہا بخشنے والا ] رَّحِيْمًا [ ہمیشہ رحم کرنے والا ]
نوٹ۔ 1: یبدل اللہ سیاتھم حسنت کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ توبہ کر کے ایمان وعمل صالح کی زندگی اختیار کرلیتے ہیں ان کی نیکیاں ان کے اعمال نامے کے پچھلے گناہوں کو محو کردیتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان…
Read the full tafseer →(اِِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓءِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَّکَان اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا) (سوائے اس کے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیے سو یہ وہ لوگ ہیں جن کی برائیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے) اس استثناء سے معلوم ہوا کہ کافر اور مشرک کے لیے ہر وقت توبہ کا دروازہ کھلا ہے جو بھی کوئی کافر کفر سے توبہ کرے اس کی سابقہ تمام نافرمانیاں معاف فرما دی جائیں گی، حضرت عمرو بن عاص ؓ نے بیان کیا کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں آپ سے بیعت ہونا چاہتا ہوں اور شرط یہ ہے کہ میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–77
مدح عباد رحمان و ذکر شمائل اہل ایمان و عرفان
قال اللہ تعالیٰ وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا۔۔۔ الی۔۔۔ فسوف یکون لزاما۔
(ربط) گزشتہ آیات میں رحمان سے نفرت کرنے والوں کا ذکر تھا، اب آئندہ آیات میں عباد رحمن یعنی رحمان کے خاص بندوں کے اوصاف کا ذکر ہے جس سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ رحمن کے بندے رحمن کی رحمتوں اور اس کی نعمتوں کا عملی طور پر کس طرح اور کس صورت میں شکر کرتے ہیں لہٰذا جو شخص رحمن کے آثار رحمت ونعمت کے تشکر کا ارادہ کرے اور رحمن کے آثار قدرت و عجائب صنعت میں تفکر اور تدبر کا ارادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ رحمن کے شکر گزار بندوں کے نقش قدم پر ثلے اور اگر بر بنائے غفلت اس سے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
45:۔ ” والذین لا یدعون الخ “ یہ عباد الرحمن کی صفات کی پانچویں نوع ہے جس میں متعدد صفتیں مذکور ہیں (1) وہ اللہ کے سوا کسی اور کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھ کر اپنی حاجات و مشکلات میں ہرگز نہیں پکارتے (2) وہ ناحق قتل نہیں کرتے (3) وہ بدکاری کے نزدیک نہیں جاتے۔ اس کے بعد نافرمان لوگوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” ومن یفعل ذلک الخ “ جو شخص مذکورہ بالا اعمال شنیعہ اور افعال قبیحہ کا مرتکب ہوگا اسے سخت سزا سے دوچار ہونا پڑے گا اور قیامت کے دن اس کو دوہرا عذاب دیا جائیگا ایک کفر و شرک کی وجہ سے دوم دوسرے گناہوں کی وجہ سے اور وہ ذلت و رسوائی کے ساتھ اس عذاب میں ہمیشہ رہیگا الا من تاب وا من الخ یہ ماقبل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–72
ربط آیات
پہلے خدائے رحمان کے اوصاف اور کمالات کا ذکر ہوا ۔ پھر اللہ نے عباد الرحمان کی صفات بیان فرمائیں ۔ اب تک پانچ صفات کا بیان ہوچکا ہے یعنی خدائے رحمان کے بندے وہ ہیں جو (1) زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے بلکہ وقار اور سکنیت کے ساتھ چلتے ہیں (2) جب ان سے نادان لوگ بات کرتے ہیں تو وہ الجھنے کی بجائے سلام کر کے گزر جاتے ہیں۔ (3) اللہ کے بندوں کی راتیں سجود و قیام میں گزرتی ہیں (4) وہ اپنے پروردگار سے دوزخ کو دور کرنے کی دعائیں کرتے ہیں (5) وہ لوگ خرچ کتے وقت نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔
(6) شرک سے بیزاری
اب آج کی آیات میں عباد الرحمان کی چھٹی صفت یہ بیان ہوئی ہے…
Read the full tafseer →اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰۗىِٕكَ يُبَدِّلُ اللہُ سَـيِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ 0ۭ وَكَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 70
توب
التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار،
فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول :
فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع :
ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
1 ؎ اقتار وقتور تنگ دلی ‘ کنجوسی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
اِلاَّ مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا فَاُوْلٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیَّاٰ تِہِمْ حَسَنٰتٍ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّـہٗ یَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا۔ (الفرقان : 70، 71)
(مگر وہ جو توبہ کرلیں گے ایمان لائیں گے اور عمل صالح کریں گے، تو اللہ ان کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ اور جو شخص توبہ کرتا اور عمل صالح اختیار کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے۔ )
توبہ، مژدہ جانفزا
اوپر کی آیات میں جن تین بڑے بڑے گناہوں کا ذکر کرنے کے بعد ان کی ہولناک سزائوں کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
فہم القرآن
ربط کلام : اس میں کوئی شک نہیں کہ جن گناہوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ اپنی نوعیت اور سزا کے اعتبار سے بہت بڑے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
بے شک اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا، کسی کو ناحق جان سے مارڈالنا اور بدکاری کی شکل میں حیا کا پردہ چاک کرنا بڑے گناہ اور بھاری جرائم ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے نہ صرف توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے بلکہ اپنے محبوب پیغمبر کے ذریعے یہ کہہ کر اعلان کروایا ہے کہ اے پیغمبر ! انھیں بتلاؤ اور اطمینان دلاؤ کہ میرے بندو ! جنھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے میری رحمت سے مایوس نہ ہونا یقیناً میں معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہوں۔…
Read the full tafseer →تائبین کی صفات :
70: اِلَّا مَنْ تَابَ (مگر وہ شخص جس نے توبہ کی) یہاں شرک سے توبہ مراد ہے یہ جنس سے استثناء ہے اور مقام نسب میں واقع ہے۔ وَاٰمَنَ (جو ایمان لایا) محمد ﷺ پر وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا (اور اس نے نیک عمل کیا) اپنے توبہ کرنے کے بعد فَاُولٰٓپکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ (ان لوگوں کی سیئات کو اللہ تعالیٰ صفات سے بدل دیں گے) قبائح کے بعد محاسن کی توفیق دیں گے۔ نمبر 1۔ توبہ سے گناہوں کو مٹا دے گا۔ اور اس کی جگہ نیکیاں لکھ دے گا۔ الحسنات سے ایمان باللہ مراد ہے اس سے یہ مراد نہیں کہ برائی بعینہٖ حسنہ بن جاتی ہے بلکہ گناہوں کو مٹا کر نیکیاں لکھنا ہے۔
قراءت : یُبدِلُ تخفیف…
Read the full tafseer →70۔ الامن تاب وآمن وعمل عملا صالحا، ، قتادہ کا قول ہے کہ جس نے توبہ کی اور اپنے رب پر ایمان لایا اور نیک عمل کیا جو اس کے اور اس کے رب کے درمیان ہے۔
حضرتابن عباس ؓ عنہمارضی اللہ عہنما کا قول ہے کہ آپ کے زمانے میں ہم دو سال تک آیت ، والذین لایدعون مع اللہ الھا اخر، پڑھا کرتے تھے پھر دو سال کے بعد نازل ہوئی ، الامن تاب وآمن، اس آیت کے نازل ہونے سے اور آیت ، انافتحنالک فتحا مبینا،۔ ،، لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وماتاخر ، کے نازل ہونے سے جیسا خوش رسول اللہ کو دیکھا ایسا خوش میں نے حضور کو کبھی نہیں دیکھا۔
” فاو لئک یبدل اللہ سیاتھم حسنات وکان اللہ غفورارحیما۔ ایک جماعت اس قول کی طرف گئی ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
68۔ 77:۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت 6 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے ‘ اس میں عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت دنیا میں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ‘ آپ نے فرمایا کہ جس اللہ نے بندے کو پیدا کیا ‘ ایک تو اس کی عبادت یا قدرت میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑا گناہ ہے۔ میں نے پوچھا ‘ اس کے بعد کون سا بڑا گناہ ہے آپ نے فرمایا ‘ تنگ دستی کے خوف سے آدمی کا اپنی اولاد کو قتل کر ڈالنا ‘ میں نے پوچھا ‘ پھر اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے ‘ آپ نے فرمایا ‘ پڑوس کی عورت سے بدکاری کا کرنا ‘ آپ کے اس قول کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–77
آیت 63 سے 77
اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :
(1) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت : یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بدتمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ (ان کل من فی السموات والارض الی اتی الرحمن عبدا) (مریم : 19/93) ” آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ “
(2) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت : یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ومرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
زور سے مراد آلات موسیقی
قول باری ہے : (والذین لا یشھدون الزور۔ ) اور جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے۔ امام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ زور ، غنا یعنی موسیقی اور گانے بجانے کو کہتے ہیں۔ قول باری : (ومن یشتری لھو الحدیث) اور جو شخص لہو ولعب کی باتیں خریدتا ہے کہ تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو گانے والی عورت خریدتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔
مجاہد نے اس آیت کی تفسیر میں کا ہے کہ اس غنا اور ہر لہو ولعب مراد ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے عطا سے اور انہوں نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے حضور ﷺ نے فرمایا : ” مجھے دو بیہودہ قسم کی احمقانہ آوازوں سے…
Read the full tafseer →88 سچی توبہ کے عظیم الشان اثرات کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " سچی توبہ پر اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا "۔ اس طرح کہ گزشتہ گناہ تو توبہ سے صاف ہوگئے اور آئندہ نیکیوں کی توفیق ملتی گئی اور اس کی نیکیوں کا سرمایہ جمع ہوتا گیا اور یوں بھی کہ جب انسان کبھی اپنی گزشتہ خطا کاریوں کو یاد کرکے معافی مانگتا رہا تو وہ ہر گناہ کی جگہ نیکی کماتا رہا اور پھر دلوں کی کیفیت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ کیا پتہ کس کی توبہ کس درجے کی ہے اور کس کا اخلاص کس مرتبے کا۔ اس کو دیکھتے ہوئے اللہ پاک اپنی رحمت سے اس کے تمام گناہوں کی جگہ اس کو نیکیاں ہی عطا فرما دے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
آسمانوں کے انتظام ‘ نیک لوگوں کی صفات اور انعام
تشریح : یہاں بھی کفار کو اللہ رحمن و رحیم کی کچھ اور مہربانیاں بتائی جا رہی ہیں جو خالصتاً اس وقت کے عرب بدئوں کے معیار کے مطابق بات کی جا رہی ہے۔ گو کہ اس میں بھی افلاک کے بہت سے رازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس وقت یعنی ساتویں صدی کے آغاز کا عرب بدو اپنی تہذیب ‘ زبان ‘ تشبیہ اور ثقافت کے معیار سے ہی بات سمجھ سکتا تھا کیونکہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب وہی عرب بدو تھا۔ لہٰذا رب ذوالجلال انہی کی زبان میں فرماتا ہے کہ ” بڑی بابرکت ہے اس کی ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور پھر سورج کا روشن چراغ رکھ دیا اور چاند کا اجالا کردیا۔ اور وہی ہے جس نے رات دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
وہ ذات بہت ہی برکت والی ہے جس نے انسان کو حیات کا اتنا وسیع نظام ایک بہت ہی خوبصورت انداز سے ترتیب دے کر ہر شے کو حتی کہ اجرام فلکی کو بھی انسان ہی کی خدمت پہ لگا دیا جو مدتوں سے اپنے اپنے کام کو پوری باقاعدگی سے انجام دے رہے ہیں اس نے آسمانوں کو پیدا فرمایا اور فضا سے آسمانی بروج یعنی اجرام فلکی کے ٹھکانے اور ان کی راہیں مقرر کردیں ، یہ علم ہیئت ، ستارے اور سیارے ان کی رفتار اور اس کے اثرات ان کا وجود اور اس کی تعمیر اور خصوصیات اس میں بہت لمبی بحث ہے خصوصا اس دور میں جبکہ انسانی قدم چاند تک جا پہنچے ہیں اور وہاں کی فضا اس کے اثرات اور ان کی رفتار اور اس کے اسباب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
8 ۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ ان کی حالت بدل دے گا یعنی کافر کی بجائے مومن اور عاصی کی بجائے فرمانبردار لکھ دیا جائے گا اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نامہ اعمال سے برائیوں کو مٹا کر ان کی جگہ نیکیاں لکھ دی جائیں گی۔ یہ مطلب صحیح حدیث سے بھی ثابت ہے اور بہت سے صحابہ کا قول بھی یہی ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)
Read the full tafseer →(25:70) الا حرف استثنائ۔ استثناء متصل ہے اس میں مستثنیٰ من تاب وامن و عمل عملا صالحا (موصول بمعہ اپنے صلہ کے) اور مستثنیٰ منہ ومن یفعل ذلک یلق اثاما ہے الا من ۔۔ صلحا سوائے اس کے جس نے توبہ کرلی۔ ایمان لے آیا۔ اور نیک کام کیا ۔ یا الا بمعنی لیکن ہے جیسا کہ الا من تولی وکفر (88:23)
اولئک۔ اسم اشارہ (جمع کیلئے آتا ہے) وہ سب ۔ مشار الیہ وہ افراد جو من تاب وامن وعمل عملا صالحا میں مراد ہیں
یبدل۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ یبدیل (تفعیل) مصدر ، وہ بدل ڈالے گا۔
سیاتھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ یبدل کا مفعول ۔ ان کی برائیاں ۔ ان کے گناہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–77
لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 77 :
انفقوا (انہوں نے خرچ کیا) ‘ لم یسرفوا (انہوں نے بےجا نہیں اڑایا) ‘ لم یقتروا (نہ انہوں نے تنگی کی ) ‘ قوام ( ٹھرا ہوا۔ اعتدال و میانہ روی) ‘ یلق (وہ پڑے گا) ‘ اثام (گناہ) ‘ یضعف (دوگنا کردے گا) ‘ مھان (ذلیل و خوار) ‘ متاب (لوٹنے والا۔ توبہ کرنے والا) ‘ لایشھدون (وہ موجود نہیں ہیں) ‘ الزور (جھوٹ) ‘ لغو (فضول۔ بےہودہ) ‘ کرام (سنجیدگی۔ عزت) ‘ لم یخروا (وہ نہیں کرتے) ‘ صم (بہرے) ‘ عمیان ( اندھے) ھب (عطا فرما۔ دے دیجئے) ‘ قرۃ (ٹھنڈک) ‘ الغرفۃ (اونچا مکان) ‘ تحیۃ (دعا) ‘ مایعبئو ا (وہ پرواہ نہیں کرتا ) ‘ لزام (چمٹنے والی) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 67 تا 77 :
ان آیات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ رحمن کے بندوں کی یہ بھی عادت ہے کہ خدا کے ساتھ دوسرے معبودوں کو نہیں پوجتے اور جس جان کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو ناحق نہیں قتل کرتے اور رحمن کے بندوں کی عادت بدکاری کی بھی نہیں ہے اور اگر جو شخص شرک اور ناحق قتل اور بدکاری میں گرفتار ہوگا اور اسی حالت میں مرجائے گا تو ایسا شخص شرک کے سبب سے ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اور سوائے شرک کے اور گناہوں کی سزا جدا اس شخص کو بھگتنی پڑے گی کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ مشرک کی کس طرح بخشش نہیں ہے ہاں مرنے سے پہلے جو شخص ان باتوں سے توبہ کرے گا اور شرک چھوڑ کر ایماندار بن جائے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
[44] یعنی اور گناہوں سے یہ گناہ یعنی شرک، قتل ناحق اور زنا بڑے ہیں۔ لہذا عذاب بھی ان پر بڑا ہوگا لہذا اسے دوہرا عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
عبادالرحمن
1: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عبادالرحمن کی صفات بتائی ہیں ۔ یعنی وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کے صحیح معنوں میں بندے ہیں ۔ اور ان کو رحمن کی غلامی اور نیاز مندی کا فخر حاصل ہے ۔
ارشاد ہے کہ وہ دنیا میں ظلم ومعصیت سے علو و برتری نہیں چاہتے ۔ نہایت نرم اور مریخاں مریخ ہوتے ہیں ۔ عجزوانکساری کا یہ عالم ہے کہ چلتے ہیں تو ہولے ہولے ، وقار اور حشمت کے باوجود ان میں شیخی اور گھمنڈ نہیں ہوتا ۔ متانت اور سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہیں او اپنے وقت کی قیمت کو پہنچانتے ہیں ۔ وہ ان لوگوں سے خوب آگاہ ہوتے ہیں ۔ جن میں جہالت ہوتی ہے ۔ اس لئے جہاں ایسے لوگوں سابقہ پڑتا ہے تو سلام کہہ کر گزرجاتے ہیں ۔ ان…
Read the full tafseer →(70) مگر ہاں ! جو کوئی توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے گناہوں کی جگہ نیکیاں عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے ۔
اول عباد الرحمن کے اعتقاد اور تقوے کا بیان ہے کہ وہ لوگ شرک نہیں کرتے ارتکاب قتل نہیں کرتے جن کے خون کا احترام قواعد شرعیہ کے موافق ہے ان کے خون کا احترام کرتے ہیں زنا کا ارتکاب نہیں کرتے مگر ہاں اگر کسی کا قتل شرعاً واجب یا مباح ہو تو وہ مستثنا ہے چونکہ معصیات کا ذکر فرمایا تھا اسی کی مناسبت سے ان گناہوں کے مرتکبین کا ذکر فرما دیا جو مشرک ہیں پھر ان کی سزا اور سزا میں پڑجانے کا ذکر فرمایا اور دو گنے عذاب کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–72
ف 3۔ یعنی نہ اس کی طرف مشغول ہوتے ہیں، اور نہ ان کے آثار سے عاصیوں کی تحقیر اور اپنا ترفع اور تکبر ظاہر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →مگر ہاں ! سچے دل سے توبہ کرنے والے اس سزا سے اپنے آپ کو بچا لیں گے :
70۔ توبہ کیا ہے ؟ توبہ کے اصل معنی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے ہیں خواہ ایسا رجوع کسی بدی کے ارتکاب کے بعد ہو۔ اس کی پوری وضاحت ہم سورة النساء کی آیت 17 ‘ 18 میں کر آئے ہیں جہاں بیان ہوا ہے کہ توبہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا صرف انہی لوگوں کے لئے ہے جو جہالت سے بدی کرتے ہیں اور پھر فرمایا کہ قریب ہی سے توبہ یا رجوع بھی کرلیتے ہیں۔ جہالت کا لفظ اس لئے اختیار فرمایا کہ انسان جو بدی کرتا ہے وہ جہالت سے کرتا ہے اور توبہ کے یہ معنی ہیں کہ اس جہالت سے نکل جائے اور اس کو سمجھ آجائے کہ یہ اچھا کام نہ تھا جو اس نے کیا ۔ جب توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
The next verse mentions some details of the punishment to be faced by the aforementioned sinners. In the context of these verses it is certain that this chastisement will be exclusive to those who were infidels and also indulged in adultery or homicide. In the first place the phrase يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ (The punishment will be doubled for him - 69) cannot be applied on Muslim sinners because they are told both in the Qur'an and in the Sunnah that they will get only one punishment against a sin. Any increase in the intensity of chastisement will not be in the case of believers. Doubling…
Read the full tafseer →86 This is a good news for those people who repented and reformed themselves, for they will have the benefit of the "general amnesty" contained in verse 70. This was regarded as a great blessing by the true servants because very few of those who embraced Islam had been free from those vices during their 'ignorance', and were terrified by the threat contained in vv. 63-69, but this amnesty not only redeemed them but filled them with hope.
Many instances of such people, who sincerely repented and reformed their lives, have been related in the traditions. For instance, Ibn Jarir and Tabarani…
Read the full tafseer →