Al-Furqaan 25:69

Al-Furqaan · from ayah 69

25:69

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَیَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًا ۟ۗۖيُضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ مُهَانًا

قیامت کے دن اس کو دونا عذاب ہوگا اور ذلت وخواری سے ہمیشہ اس میں رہے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Multiplied for him is the punishment on the Day of Resurrection, and he will abide therein humiliated -

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 6 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:69

قیامت کے روز اس کو مکرّر عذاب دیا جائے گا اور اسی میں وہ ہمیشہ ذلت کے ساتھ پڑا رہے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

قیامت کے دن اس کو دونا عذاب ہوگا اور ذلت وخواری سے ہمیشہ اس میں رہے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب کیا جائے گا اور وه ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

قیامت کے دن اس کا عذاب بڑھا بڑھا کر دگنا کردیا جائے گا، اور وہ ذلیل ہو کر اس عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بڑھایا جائے گا اس پر عذابِ قیامت کے دن اور ہمیشہ اس میں ذلت سے رہے گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس کے لئے قیامت کے دن عذاب دو گنا کر دیا جائے گا اور وہ اس میں ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ رہے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کے لیے قیامت کے دن عذاب دگنا کیا جائے گا اور وہ ہمیشہ اس میں ذلیل کیا ہوا رہے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

قیامت کے دن اس کا عذاب دگنا کردیا جائے گا اور ذلیل ہو کر اس میں ہمیشہ کے لئے پڑا رہے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

قیامت کے دن اس کے عذاب میں درجہ بدرجہ اضافہ کیا جائے گا اور وہ اس میں خوار ہو کر ہمیشہ رہے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بڑھایا جاتا رہے گا اس کے لیے عذاب قیامت کے دن اور اس کو ہمیشہ رہنا ہوگا اس میں نہایت ہی ذلت و خواری کے ساتھ

— مولانا اسحاق مدنی

قیامت کے دن اس کا عذاب بڑھتا جائے گا وہ اس میں (ہمیشہ) ذلیل ہو کر پڑا رہے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

قیامت کے دن اس کا عذاب دو گنا کردیا جائے گا اور وہ اس میں رہے گا ہمیشہ ہمیش ذلیل ہو کر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہوگا اور ذلت و خواری سے ہمیشہ اس میں رہے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and his torment shall be doubled on the Day of Resurrection, and he shall abide in a state of ignominy,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the punishment will be doubled for him, and he will remain there disdained, for ever,

— Muhammad Taqi Usmani

the punishment will be doubled for him, and he will remain there disdained, for ever,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The torment will be doubled for him on the Day of Resurrection, and he will abide therein in disgrace;

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The doom will be doubled for him on the Day of Resurrection, and he will abide therein disdained for ever;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Multiplied for him is the punishment on the Day of Resurrection, and he will abide therein humiliated -

— Saheeh International

and on the Day of Judgment their torment will be double. They will suffer forever in disgrace.

— Muhammad Sarwar

The punishment shall be doubled to him on the day of resurrection, and he shall abide therein in abasement;

— Muhammad Habib Shakir

Multiplied for him shall be the torment on the Day of Resurrection, and he shall therein abide disgraced.

— Abdul Majid Daryabadi

(But) the Penalty on the Day of Judgment will be doubled to him, and he will dwell therein in ignominy,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:69

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 68–71

سب سے بڑا گناہ حضور ﷺ سے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا اس سے کم ؟ فرمایا تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے ؟ پوچھا اس کے بعد ؟ فرمایا تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری ومسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ باہر جانے لگے تنہا تھے میں بھی ساتھ ہولیا آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر حضور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 85 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ عذاب کا سلسلہ ٹوٹنے نہ پائے گا، بلکہ پے در پے جاری رہے گا۔ دوسرے یہ کہ جو شخص کفر یا شرک یا دہریت و الحاد کے ساتھ قتل اور زنا اور دوسری معصیتوں کا بوجھ لیے ہوئے جائے گا اس کو بغاوت کی سزا الگ ملے گی اور ایک ایک جرم کی سزا الگ الگ۔ اس کا ہر چھوٹا بڑا قصور حساب میں آئے گا۔ کوئی ایک خطا بھی معاف نہ ہوگی۔ قتل کی سزا ایک نہیں ہوگی بلکہ ہر فعل قتل کی الگ سزا اس کو بھگتنی ہوگی۔ زنا کی سزا بھی ایک نہیں ہوگی بلکہ جتنی بار وہ اس جرم کا مرتکب ہوا اس کی جداگانہ سزا پائے گا۔ اور یہی حال دوسرے تمام جرائم اور معاصی کے معاملے میں بھی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–70

آگے اس عذاب کا بیان ہے جو جرائم مذکورہ کے کرنے والوں پر ہوگا اور آیات کے سیاق وسباق سے یہ بات متعین ہے کہ یہ عذاب کفار کے لئے مخصوص ہے جنہوں نے شرک و کفر بھی کیا اور اس کے ساتھ قتل و زنا میں بھی مبتلا ہوئے۔ کیونکہ اول تو يّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ کے الفاظ مسلمان گناہگاروں کے لئے نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کے ایک گناہ پر ایک ہی سزا کا وعدہ قرآن و سنت میں منصوص ہے۔ سزا میں تضاعف یعنی کیفیت یا کمیت میں زیادتی مومنین کے لئے نہیں ہوگی۔ یہ کفار کی خصوصیت ہے کہ کفر پر جو عذاب ہونا تھا اگر کفر کے ساتھ اور گناہ بھی کئے تو عذاب دوہرا ہوجاوے گا۔ دوسرے اس عذاب میں یہ بھی مذکور ہے وَيَخْلُدْ فِيْهٖ مُهَانًا،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یضعف لہ العذاب یوم القیمۃ ویخلد فیہ مھاناً 69 مضاعفۃ کے معنی کسی شے پر اضافہ کرنے کے ہیں۔ عام اس سے کہ یہ اضافہ دوگنا ہو یا اس سے زیادہ اور استعمالات سے یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کے اندر تدریجی اضافہ کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے جس طرح لاتا کلوالربا اضعافاً مضاعفۃ میں ہے۔ یہ اسی نتیجہ جرائم کا بیان ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا۔ فرمایا کہ جو لوگ ان جرائم میں سے کسی جرم کے مرتکب ہوں گے وہ قیامت میں ان کی سزا اس طرح بھگتیں گے کہ بالتدریج ان کی سزا میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔ یہ نہیں ہوگا کہ کچھ سزا بھگت کر وہ چھوٹ جائیں یا آہستہ آہستہ ان کی سزا میں کچھ تخفیف ہوجائے بلکہ وہ نہایت ذلت کی حالت میں اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 68–69

68-1اور حق کے ساتھ قتل کرنے کی تین صورتیں ہیں، اسلام کے بعد کوئی دوبارہ کفر اختیار کرے، جسے ارتداد کہتے ہیں، یا شادی شدہ ہو کر بدکاری کا ارتکاب کرے یا کسی کو قتل کر دے۔ ان صورتوں میں قتل کیا جائے گا۔ 68-2حدیث میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا، کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا۔ یہ کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے دراں حالیکہ اس نے تجھے پیدا کیا۔ اس نے کہا، اس کے بعد کون سا گناہ بڑا ہے ؟ فرمایا، اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرنا کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی، اس نے پوچھا، پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا، یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ان باتوں کی تصدیق اس آیت سے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–69

24: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر و شرک کا ارتکاب کریں، کیونکہ مومن عذاب میں ہمیشہ نہیں رہیں گے اور اگر انہوں نے گناہ کیے ہوں گے تو اس کی سزا پا کر جنت میں جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یضعف لہ العذاب یوم القیمۃ ویخلدفیہ مھانا (25 : 69) ” قیامت کے روز اس کا عذاب دگنا کردیا جائے گا اور اس میں وہ ہمیشہ ذلت کے ساتھ رہے گا۔ “ یعنی نہ صرف یہ ہوگا کہ اس کا عذاب دگنا کردیا جائے گا بلکہ وہ توہین آمیز بھی ہوگا اور اس طرح یہ عذاب زیادہ شدید اور زیادہ تکلیف دہ بن جائے گا۔ ہاں یہ نہیں ہے کہ جس نے ان گناہوں کا ارتکاب ایک بار کرایا تو اس کی معافی کی کوئی صورت نہیں ہے۔ وہ توبہ اور عمل صالح کے ذریعے اس عذاب سے بچ سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اور گناہوں سے یہ گناہ بڑے ہیں۔ عذاب بھی ان پر بڑا ہوگا اور دم بدم بڑھتا رہے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 69 یُّضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَیَخْلُدْ فِیْہٖ مُہَانًا ” یہ آیت اس اعتبار سے بہت اہم ہے کہ اس سے قیامت کے دن سے پہلے کا عذاب ثابت ہوتا ہے ‘ یعنی جو عذاب اس شخص کو اس سے پہلے دیا جا رہا ہوگا قیامت کے دن اس عذاب کو دو گنا کردیا جائے گا۔ منکرین حدیث عذاب قبر کو نہیں مانتے۔ ان کا اصرار ہے کہ قرآن مجید میں عذاب قبر کا ثبوت نہیں ملتا۔ اگرچہ قرآن میں صراحتاً عذاب قبر کا ذکر نہیں ہے ‘ لیکن بعض آیات سے واضح طور پر برزخی زندگی کا عذاب ثابت ہوتا ہے۔ِ آیت زیر مطالعہ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے مجرمین عذاب جھیل رہے ہوں گے اور یقیناً اس عذاب سے عذاب قبر یا عذاب برزخ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

86 یعنی جو لوگ ایسے جرائم میں مبتلا ہیں۔ ایک تو انھیں ان کی سزا مل کے رہے گی۔ دوسرے ان کے عذاب میں کبھی وقفہ نہیں آئے گا۔ اور تیسرے یہ کہ ان کے عذاب میں دم بدم اضافہ ہی کیا جاتا رہے گا۔ پھر اس جہنم سے نکلنے کی بھی کوئی صورت اس کے لئے ممکن نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

81۔ (آیت) ” ذلک “۔ میں اشارہ ان تمام اعمال کی طرف آگیا جن کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ یعنی شرک، قتل، زنا، عذاب کے ساتھ زیادتی عذاب، دوام عذاب اور اہانت کی قیدوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مقصود یہاں کفار ومشرکین ہی ہیں۔ عاصی مومن پر عذاب اگر ہوگا بھی تو محض اصلاح وتطہیر کی غرض سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–77

آیت نمبر 61 تا 77 ترجمہ : وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے آسمانوں میں بارہ برج بنائے (1) حَمَلْ (2) ثور (3) الجوزاء (4) السرطان (5) الاسد (6) السنبلہ (7) المیزان (8) العقرب (9) القوس (10) الجدی (11) الدلو (12) الحوت یہ سبع سیارہ کی منزلیں ہیں (اور وہ سبع سیارہ یہ ہیں) (1) المریخ : اس کی منزل حمل اور عقرب ہے (2) زہرہ : اس کی منزل ثور اور میزان ہے (3) عطارد : اس کی منزل جوزاء اور سنبلہ ہے (4) القمر اس کی منزل سرطان ہے (5) الشمس اس کی منزل اسد ہے (6) المشتری : اس کی منزل قوس اور حوت ہیں (7) زحل اس کی منزل جدی اور دلو ہے، اور اس نے آسمان میں چراغ بھی بنایا اور وہ سورج ہے اور نورانی چاند بنایا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یضعف لہ العذاب یوم القیمۃ قیامت کے دن اس پر دوہرا عذاب ہوگا۔ کفر کا اور گناہ کا۔ ویخلد فیہ مہانا۔ اور وہ عذاب میں ہمیشہ ذلیل ہو کر رہے گا۔ شیخین نے حضرت ابن عباس ؓ : کی روایت سے بیان کیا ہے کہ مشرکوں میں سے کچھ لوگوں نے بکثرت قتل کئے اور قتل کے ساتھ جرم زنا کے بھی مرتکب ہوئے ‘ پھر رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا آپ جو کچھ فرماتے ہیں اور جس چیز کی آپ دعوت دے رہے ہیں وہ ہے تو اچھی ‘ مگر یہ بتائیے کہ ہمارے گناہ کا اتار کس طرح ہوگا۔ اس پر آیت (وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہسے یَخْلُدْ فِیْہِ مَہَانًا ‘ اِلاَّ مَنْ تَابَ وَاٰمَنْ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا) تک نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(69) اور جو اس کو حلال سمجھے یعنی کافر تو اس کو دوزخ کی وادی یا گڑھے سے ہمیشہ کے لیے سابقہ پڑے گا اور وہ اس عذاب میں ہمیشہ ذلت کے ساتھ رہے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ۔۔ : ”فِيْهٖ“ میں ہائے ضمیر کے کسرہ کے ساتھ یاء ملا دی گئی ہے، اسے اشباع کہتے ہیں۔ ان تینوں برائیوں کو ایک ہی ”اَلَّذِیْنَ“ کے صلے کے طور پر ذکر کیا ہے، گویا ان کے مجموعے کو ایک برائی قرار دیا ہے۔ ”ذٰلِكَ“ کا اشارہ بھی اس مجموعے کی طرف ہے۔ مراد اس سے کفار ہیں، کیونکہ مومن نہ غیر اللہ کو پکارتا ہے، نہ وہ ابدی جہنمی ہے، جبکہ ان تینوں کے مرتکب کے لیے دگنے عذاب کی اور اس میں ذلیل ہو کر ہمیشہ رہنے کی وعید ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 68–69

( والذین لا یدعون۔۔۔۔۔۔ ) والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخر مومن بندوں کو ان کافروں کی صفات سے خارج کرنا مقصود ہے جو بتوں کی عبادت کرتے ہیں، بچیوں کو زندہ درگور کر کے نفوس کو قتل کرتے ہیں اس کے علاوہ وہ ظلم، دھوکا اور غارت گری مچاتے ہیں اور زنا ان کے نزدیک مباح امر ہے۔ علماء معانی میں سے جس نے اس آیت کو ظاہر معنی سے پھیرا اس نے کہا : رحمن نے جن کو اپنی طرف خصوصی طور پر منسوب کیا ہے اور معرفت اور تشریف والی صفات کے ساتھ انہیں موصوف کیا اور ان کا ذکر کیا، تو یہ مناسب نہیں کہ ان سے یہ قبیح امور واقع ہوں یہاں تک کہ ان کی ان سے نفی کے ساتھ مدح کی جائے کیونکہ وہ اس سے اعلیٰ و اشرف ہیں۔ فرمایا : وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 68–71

کسی انسان کو ناحق قتل کرنا حرام ہے 1۔ الفریابی احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن امردویہ والبیہقی فی شعب الایمان ابن مسعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنائے حالانکہ اسی نے تجھ کو پیدا کیا میں نے عرض کیا پھر کون سا گناہ بڑا ہے فرمایا کہ تو اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھانا کھائے گی میں نے پھر عرض کیا پھر کون سا گناہ بڑا ہے فرمایا کہ تو اپنے ہمسائے کی بویوی سے زنا کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت اتاری آیت ” والذین لا یدعون مع اللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يُّضٰعَفْ [ کئی گناہ کیا جائے گا ] لَهُ [ اس کے لئے ] الْعَذَابُ [ عذاب کو ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [ قیامت کے دن ] وَيَخْلُدْ [ اور وہ ہمیشہ رہے گا ] فِيْهٖ [ اس میں ] مُهَانًا [ ذلیل کیا ہوا ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 63–69

عباد الرحمن کی صفات اور ان کے اخلاق و اعمال ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نیک بندوں کی صفات بیان فرمائی ہیں اور انہیں عباد الرحمن کا معزز لقب دیا ہے ان حضرات کی جو چند صفات ذکر فرمائی ہیں ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ انہیں رحمن کا بندہ بتایا یہ بہت بڑا وصف ہے اور بہت بڑا لقب ہے یوں تکوینی طور پر سب ہی رحمن کے بندے ہیں لیکن اپنے اعتقاد سے اور اختیار سے اور اخلاص سے جس نے اپنی ذات کو سچے اعتقاد اور اخلاق کے ساتھ رحمن جل مجدہ کی عبادت میں لگا دیا اور رحمن جل مجدہ نے اس کے بارے میں یہ فرما دیا کہ یہ ہمارا بندہ ہے اس سے بڑھ کر بندہ کا کوئی اعزاز نہیں یہ بندے کا سب سے بڑا معزز لقب ہے اللہ تعالیٰ نے معراج…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–77

مدح عباد رحمان و ذکر شمائل اہل ایمان و عرفان قال اللہ تعالیٰ وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا۔۔۔ الی۔۔۔ فسوف یکون لزاما۔ (ربط) گزشتہ آیات میں رحمان سے نفرت کرنے والوں کا ذکر تھا، اب آئندہ آیات میں عباد رحمن یعنی رحمان کے خاص بندوں کے اوصاف کا ذکر ہے جس سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ رحمن کے بندے رحمن کی رحمتوں اور اس کی نعمتوں کا عملی طور پر کس طرح اور کس صورت میں شکر کرتے ہیں لہٰذا جو شخص رحمن کے آثار رحمت ونعمت کے تشکر کا ارادہ کرے اور رحمن کے آثار قدرت و عجائب صنعت میں تفکر اور تدبر کا ارادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ رحمن کے شکر گزار بندوں کے نقش قدم پر ثلے اور اگر بر بنائے غفلت اس سے کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 68–71

45:۔ ” والذین لا یدعون الخ “ یہ عباد الرحمن کی صفات کی پانچویں نوع ہے جس میں متعدد صفتیں مذکور ہیں (1) وہ اللہ کے سوا کسی اور کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھ کر اپنی حاجات و مشکلات میں ہرگز نہیں پکارتے (2) وہ ناحق قتل نہیں کرتے (3) وہ بدکاری کے نزدیک نہیں جاتے۔ اس کے بعد نافرمان لوگوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” ومن یفعل ذلک الخ “ جو شخص مذکورہ بالا اعمال شنیعہ اور افعال قبیحہ کا مرتکب ہوگا اسے سخت سزا سے دوچار ہونا پڑے گا اور قیامت کے دن اس کو دوہرا عذاب دیا جائیگا ایک کفر و شرک کی وجہ سے دوم دوسرے گناہوں کی وجہ سے اور وہ ذلت و رسوائی کے ساتھ اس عذاب میں ہمیشہ رہیگا الا من تاب وا من الخ یہ ماقبل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 68–72

ربط آیات پہلے خدائے رحمان کے اوصاف اور کمالات کا ذکر ہوا ۔ پھر اللہ نے عباد الرحمان کی صفات بیان فرمائیں ۔ اب تک پانچ صفات کا بیان ہوچکا ہے یعنی خدائے رحمان کے بندے وہ ہیں جو (1) زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے بلکہ وقار اور سکنیت کے ساتھ چلتے ہیں (2) جب ان سے نادان لوگ بات کرتے ہیں تو وہ الجھنے کی بجائے سلام کر کے گزر جاتے ہیں۔ (3) اللہ کے بندوں کی راتیں سجود و قیام میں گزرتی ہیں (4) وہ اپنے پروردگار سے دوزخ کو دور کرنے کی دعائیں کرتے ہیں (5) وہ لوگ خرچ کتے وقت نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔ (6) شرک سے بیزاری اب آج کی آیات میں عباد الرحمان کی چھٹی صفت یہ بیان ہوئی ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُّضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ وَيَخْلُدْ فِيْہٖ مُہَانًا۝ 69ۤۖ ضعف ( دوگنا) ضِّعْفُ هو من الألفاظ المتضایفة التي يقتضي وجود أحدهما وجود الآخر، کالنّصف والزّوج، وهو تركّب قدرین متساويين، ويختصّ بالعدد، فإذا قيل : أَضْعَفْتُ الشیءَ ، وضَعَّفْتُهُ ، وضَاعَفْتُهُ : ضممت إليه مثله فصاعدا . قال بعضهم : ضَاعَفْتُ أبلغ من ضَعَّفْتُ «1» ، ولهذا قرأ أكثرهم : يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ [ الأحزاب/ 30] ، وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضاعِفْها[ النساء/ 40] ، وقال : مَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثالِها [ الأنعام/ 160] ، والمُضَاعَفَةُ علی قضيّة هذا القول تقتضي أن يكون عشر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یُّضٰعَفْ لَـہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ وَیَخْلُدْفِیْہٖ مُھَانًا۔ (الفرقان : 69) (قیامت کے دن اس کے لیے عذاب بڑھایا جاتا رہے گا اور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل و خوار ہوکر۔ ) کبائر کی ہولناک سزا اوپر کی آیت میں جن بڑے بڑے گناہوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ اپنے اثرات کے اعتبار سے اس قدر دوررس اور نتائج کے اعتبار سے ایسے شدید واقع ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا ارتکاب کرنے والوں کو ان کے اثرات و نتائج کے اعتبار سے ایسے شدید عذاب کا سزاوار ٹھہرایا ہے کہ جس سے زیادہ شدید عذاب کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ بڑی سے بڑی سزا بھی غیرمحدود نہیں ہوتی کیونکہ دنیا میں کوئی عمل بھی غیرمحدود نہیں۔ کسی شخص کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 68–69

فہم القرآن ربط کلام : الرّحمن کے بندوں کے مزید اوصاف۔ الرّحمن کے بندے کسی حال میں بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو اِلٰہ نہیں سمجھتے۔ الٰہ کا معنی ہے۔ جس کی عبادت کی جائے۔ انسان کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرے۔ عبادت کی تین اقسام ہیں جن کا ہر نمازی تشہد میں بیٹھ کر اقرار کرتا ہے : (اَلتَّحْیَاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰاتُ وَالطَّیْبَاتُ ) [ رواہ البخاری : باب التشھد فی الاخرۃ ] قولی، مالی اور بدنی عبادات اللہ کے لیے ہے۔ انسان کو حکم ہے کہ وہ نہ ” اللہ “ کے سوا کسی کی عبادت کرے اور نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کرے یا اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

69: یُّضٰعَفْ (دو گنا کیا جائے گا) یہ یلقؔ سے بدل ہے کیونکہ دونوں کا ایک معنی ہے۔ کیونکہ مضاعفۃ العذاب وہی گناہوں کا ملنا ہے۔ جیسا کہ اس شعر میں ہے متی تأتنا تلمم بنا فی دیارنا ٭ تجد حطبا جزلاً ونارًا تأجّجًا یہاں تُلْمِمْ مجزوم ہے کیونکہ یہ تاتنا کے معنی میں ہے۔ کیونکہ آنا وہی اتر نا اور تشریف رکھنا ہے۔ قراءت : مکی و یزید، یعقوب نے یُضَعَّفْ پڑھا ہے۔ اور شامی نے یَضَعَّفُ ۔ اور ابوبکر نے یضاعفؔ پڑھا اور جملہ کو مستانفہ قرار دیا یا حال کی وجہ سے اس صورت میں یُضَاعَفُ لَہٗ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ سے مراد ان کو آخرت میں مرور ایام پر عذاب پر عذاب دیا جائے گا۔ ایک قول یہ ہے جب مشرک شرک کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

69۔ یضاعف لہ العذاب، ،، ،۔ ابن عامر اور ابوبکر نے یضاعف ، پڑھا ہے۔ ویخلد میں خاء پر پیش اور دال ابتدائیہ ہے ابن عامر نے اس کو مشد د پڑھا ہے ، یضعف ، دوسرے قراء نے فاء کے مجزوم کے ساتھ پڑھا ہے اور دال کے سکون کیساتھ جواب شر ط ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 68–77

68۔ 77:۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت 6 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے ‘ اس میں عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت دنیا میں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ‘ آپ نے فرمایا کہ جس اللہ نے بندے کو پیدا کیا ‘ ایک تو اس کی عبادت یا قدرت میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑا گناہ ہے۔ میں نے پوچھا ‘ اس کے بعد کون سا بڑا گناہ ہے آپ نے فرمایا ‘ تنگ دستی کے خوف سے آدمی کا اپنی اولاد کو قتل کر ڈالنا ‘ میں نے پوچھا ‘ پھر اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے ‘ آپ نے فرمایا ‘ پڑوس کی عورت سے بدکاری کا کرنا ‘ آپ کے اس قول کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 63–77

آیت 63 سے 77 اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں : (1) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت : یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بدتمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ (ان کل من فی السموات والارض الی اتی الرحمن عبدا) (مریم : 19/93) ” آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ “ (2) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت : یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ومرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 69–72

زور سے مراد آلات موسیقی قول باری ہے : (والذین لا یشھدون الزور۔ ) اور جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے۔ امام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ زور ، غنا یعنی موسیقی اور گانے بجانے کو کہتے ہیں۔ قول باری : (ومن یشتری لھو الحدیث) اور جو شخص لہو ولعب کی باتیں خریدتا ہے کہ تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو گانے والی عورت خریدتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ مجاہد نے اس آیت کی تفسیر میں کا ہے کہ اس غنا اور ہر لہو ولعب مراد ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے عطا سے اور انہوں نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے حضور ﷺ نے فرمایا : ” مجھے دو بیہودہ قسم کی احمقانہ آوازوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 68–69

86 قتل ناحق سے بچنے کی صفت محمود کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور وہ کسی شخص کو قتل نہیں کرتے مگر حق کے ساتھ "۔ اور حق کے ساتھ قتل کرنے کی حدیث پاک میں تین بڑی اور خاص صورتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو قصاص میں قتل کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ زنا بعد احصان کی صورت میں اس کو رجم اور سنگسار کیا جائے۔ اور تیسرے یہ کہ ارتداد عن الدین کی صورت میں اس کا سرقلم کردیا جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر اس ضمن میں واضح رہے کہ یہ کام ہر ایرے غیرے کے کرنے کا نہیں بلکہ یہ کام وقت کی حکومت کے ذمے ہے۔ اور قاضی کی قضا اور اس کے فیصلے کے تابع ہے۔ جو قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد اس بارے میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–77

آسمانوں کے انتظام ‘ نیک لوگوں کی صفات اور انعام تشریح : یہاں بھی کفار کو اللہ رحمن و رحیم کی کچھ اور مہربانیاں بتائی جا رہی ہیں جو خالصتاً اس وقت کے عرب بدئوں کے معیار کے مطابق بات کی جا رہی ہے۔ گو کہ اس میں بھی افلاک کے بہت سے رازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس وقت یعنی ساتویں صدی کے آغاز کا عرب بدو اپنی تہذیب ‘ زبان ‘ تشبیہ اور ثقافت کے معیار سے ہی بات سمجھ سکتا تھا کیونکہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب وہی عرب بدو تھا۔ لہٰذا رب ذوالجلال انہی کی زبان میں فرماتا ہے کہ ” بڑی بابرکت ہے اس کی ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور پھر سورج کا روشن چراغ رکھ دیا اور چاند کا اجالا کردیا۔ اور وہی ہے جس نے رات دن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–77

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف وہ ذات بہت ہی برکت والی ہے جس نے انسان کو حیات کا اتنا وسیع نظام ایک بہت ہی خوبصورت انداز سے ترتیب دے کر ہر شے کو حتی کہ اجرام فلکی کو بھی انسان ہی کی خدمت پہ لگا دیا جو مدتوں سے اپنے اپنے کام کو پوری باقاعدگی سے انجام دے رہے ہیں اس نے آسمانوں کو پیدا فرمایا اور فضا سے آسمانی بروج یعنی اجرام فلکی کے ٹھکانے اور ان کی راہیں مقرر کردیں ، یہ علم ہیئت ، ستارے اور سیارے ان کی رفتار اور اس کے اثرات ان کا وجود اور اس کی تعمیر اور خصوصیات اس میں بہت لمبی بحث ہے خصوصا اس دور میں جبکہ انسانی قدم چاند تک جا پہنچے ہیں اور وہاں کی فضا اس کے اثرات اور ان کی رفتار اور اس کے اسباب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 69–70

8 ۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ ان کی حالت بدل دے گا یعنی کافر کی بجائے مومن اور عاصی کی بجائے فرمانبردار لکھ دیا جائے گا اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نامہ اعمال سے برائیوں کو مٹا کر ان کی جگہ نیکیاں لکھ دی جائیں گی۔ یہ مطلب صحیح حدیث سے بھی ثابت ہے اور بہت سے صحابہ کا قول بھی یہی ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:69) یضعف۔ مضارع مجہول مجزوم واحد مذکر غائب (باب مفاعلہ) وہ دو گناہ کیا جائیگا۔ یلق سے بدل ہے مبدل منہ کی مطابقت میں مجزوم ہے۔ یخلد۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب خلود مصدر باب نصر۔ وہ ہمیشہ رہیگا۔ مجزوم بوجہ یضاعف کے معطوف ہونے کے۔ فیہ ای فی ذلک العذاب المضاعف۔ اس دو چند کئے گئے عذاب میں۔ مھانا اسم مفعول واحد مذکر اھانۃ مصدر (باب افعال) ھون مادہ۔ ذلیل کیا ہوا ۔ یخلد سے حال ہے۔ (نیز ملاحظہ ہو 25:63)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–77

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 77 : انفقوا (انہوں نے خرچ کیا) ‘ لم یسرفوا (انہوں نے بےجا نہیں اڑایا) ‘ لم یقتروا (نہ انہوں نے تنگی کی ) ‘ قوام ( ٹھرا ہوا۔ اعتدال و میانہ روی) ‘ یلق (وہ پڑے گا) ‘ اثام (گناہ) ‘ یضعف (دوگنا کردے گا) ‘ مھان (ذلیل و خوار) ‘ متاب (لوٹنے والا۔ توبہ کرنے والا) ‘ لایشھدون (وہ موجود نہیں ہیں) ‘ الزور (جھوٹ) ‘ لغو (فضول۔ بےہودہ) ‘ کرام (سنجیدگی۔ عزت) ‘ لم یخروا (وہ نہیں کرتے) ‘ صم (بہرے) ‘ عمیان ( اندھے) ھب (عطا فرما۔ دے دیجئے) ‘ قرۃ (ٹھنڈک) ‘ الغرفۃ (اونچا مکان) ‘ تحیۃ (دعا) ‘ مایعبئو ا (وہ پرواہ نہیں کرتا ) ‘ لزام (چمٹنے والی) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 67 تا 77 : ان آیات سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 68–73

(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ رحمن کے بندوں کی یہ بھی عادت ہے کہ خدا کے ساتھ دوسرے معبودوں کو نہیں پوجتے اور جس جان کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو ناحق نہیں قتل کرتے اور رحمن کے بندوں کی عادت بدکاری کی بھی نہیں ہے اور اگر جو شخص شرک اور ناحق قتل اور بدکاری میں گرفتار ہوگا اور اسی حالت میں مرجائے گا تو ایسا شخص شرک کے سبب سے ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اور سوائے شرک کے اور گناہوں کی سزا جدا اس شخص کو بھگتنی پڑے گی کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ مشرک کی کس طرح بخشش نہیں ہے ہاں مرنے سے پہلے جو شخص ان باتوں سے توبہ کرے گا اور شرک چھوڑ کر ایماندار بن جائے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 69–73

[44] یعنی اور گناہوں سے یہ گناہ یعنی شرک، قتل ناحق اور زنا بڑے ہیں۔ لہذا عذاب بھی ان پر بڑا ہوگا لہذا اسے دوہرا عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 68–73

عبادالرحمن 1: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عبادالرحمن کی صفات بتائی ہیں ۔ یعنی وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کے صحیح معنوں میں بندے ہیں ۔ اور ان کو رحمن کی غلامی اور نیاز مندی کا فخر حاصل ہے ۔ ارشاد ہے کہ وہ دنیا میں ظلم ومعصیت سے علو و برتری نہیں چاہتے ۔ نہایت نرم اور مریخاں مریخ ہوتے ہیں ۔ عجزوانکساری کا یہ عالم ہے کہ چلتے ہیں تو ہولے ہولے ، وقار اور حشمت کے باوجود ان میں شیخی اور گھمنڈ نہیں ہوتا ۔ متانت اور سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہیں او اپنے وقت کی قیمت کو پہنچانتے ہیں ۔ وہ ان لوگوں سے خوب آگاہ ہوتے ہیں ۔ جن میں جہالت ہوتی ہے ۔ اس لئے جہاں ایسے لوگوں سابقہ پڑتا ہے تو سلام کہہ کر گزرجاتے ہیں ۔ ان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(69) کہ اس کو قیامت کے دن دو چند عذاب کیا جائے گا اور وہ اس عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ ذلیل ہوکر رہے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 64–72

ف 3۔ یعنی نہ اس کی طرف مشغول ہوتے ہیں، اور نہ ان کے آثار سے عاصیوں کی تحقیر اور اپنا ترفع اور تکبر ظاہر ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو شخص بھی ان کا مرتکب ہوگا وہ ذلیل و خوار ہوگا اور اس کو دوگنا عذاب دیا جائے گا : 69۔ جو شخص بھی ان جرائم کا مرتکب ہوگا وہ دنیا میں عذاب دیاجائے گا یا نہیں ؟ دونوں باتوں کا احتمال ہے لیکن اگر وہ بغیر توبہ کئے مر گیا تو آخرت میں وہ ضرور عذاب دیا جائے گا اور سزا بھی اس کو اس طرح دی جائے گی کہ آہستہ آہستہ اس کی سزا میں اضافہ در اضافہ ہوتا جائے گا اور دوسرے عذابوں سے زیادہ جو بات اس عذاب میں لازم کی گئی وہ ذلت کی مار ہے فرمایا اس کو عذاب کے ساتھ ساتھ ذلت کی مار بھی پڑے گی ۔ قرآن کریم نے جہاں زنی کی لعنت سے روکا ہے وہاں زنی کی مبادیات سے بھی منع فرمایا ہے لیکن اس وقت قوم مسلم بھی اس برائی میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 69–70

The next verse mentions some details of the punishment to be faced by the aforementioned sinners. In the context of these verses it is certain that this chastisement will be exclusive to those who were infidels and also indulged in adultery or homicide. In the first place the phrase يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ (The punishment will be doubled for him - 69) cannot be applied on Muslim sinners because they are told both in the Qur'an and in the Sunnah that they will get only one punishment against a sin. Any increase in the intensity of chastisement will not be in the case of believers. Doubling…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

85 This can have two meanings: (1) His punishment will never come to an end, but it will continue being inflicted relentlessly over and over again; and (2) the person who in addition to the sins of disbelief, shirk and atheism, would have committed murders, adultery and other sins, will get separate punishment for rebellion and for each other sin. He will be accountable for each of his major and minor sins none of which will be pardoned. For instance, for each murder and for each act of adultery he will be given a separate punishment, and likewise, there will be a separate punishment for…

Read the full tafseer →