Explained with ayahs 68–71
سب سے بڑا گناہ
حضور ﷺ سے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا اس سے کم ؟ فرمایا تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے ؟ پوچھا اس کے بعد ؟ فرمایا تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری ومسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ باہر جانے لگے تنہا تھے میں بھی ساتھ ہولیا آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر حضور…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 84
یعنی وہ ان تین بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں جن میں اہل عرب کثرت سے مبتلا ہیں۔ ایک شرک باللہ، دوسرے قتل ناحق، تیسرے زنا۔ اسی مضمون کو نبی ﷺ نے بکثرت احادیث میں بیان فرمایا ہے۔ مثلاً عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ سے پوچھا گیا، سب سے بڑا گناہ کیا ہے۔ فرمایا اَنْ تَجْعَلَ للہِ نِدًّا وَّھُوَ خَلَقَکَ " یہ کہ تو کسی کو اللہ کا مد مقابل اور ہمسر ٹھہرائے، حالانکہ تجھے پیدا اللہ نے کیا ہے "۔ پوچھا گیا اس کے بعد فرمایا ان تقتل ولدک خشیۃ ان یطعَمَ معک، " یہ کہ تو اپنے بچے کو اس خوف سے قتل کر ڈالے کہ وہ تیرے ساتھ کھانے میں شریک ہوجائے گا "۔ پوچھا گیا پھر۔ فرمایا اَنْ…
Read the full tafseer →ساتویں صفتوَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ ، پہلی چھ صفات میں اطاعت و فرمانبرداری کے اصول آگئے ہیں اب معصیت و نافرمانی کے اصول مہمہ کا بیان ہے جن میں پہلی چیز عقیدہ سے متعلق ہے کہ یہ لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور کو عبادت میں شریک نہیں کرتے جس سے شرک کا سب سے بڑا گناہ ہونا معلوم ہوا۔
آٹھویں اور نویں صفتلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الآیہ، یہ عملی گناہوں میں سے بڑے بڑے اور سخت گناہوں کا بیان ہے کہ اللہ کے مقبول بندے ان کے پاس نہیں جاتے، کسی کو ناحق قتل نہیں کرتے اور زنا کے پاس نہیں جاتے۔ یہ تین عقیدہ اور عمل کے بڑے گناہ بیان فرمانے کے بعد آیت میں ارشاد ہے وَمَنْ يَّفْعَلْ…
Read the full tafseer →جرائم سے اجتناب
اثام کے معنی جوہری نے نتیجہ گناہ کے لئے ہیں۔ یہ اسی طرح کا استعمال ہے جس طرح کوئی فعل یا اسم لاتے ہیں اور مقصود اس سے اس کا ثمرہ نتیجہ ہوتا ہے۔ سیلقون غیا میں بھی یہی اسلوب محلوظ ہے۔ فرمایا کہ نہ وہ اپنے رب کا کسی کو شریک ٹھہراتے اور نہ کسی جان کو ناحق قتل کرتے اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے۔ النفس التی حرم اللہ الا بالحق میں یہ حقیقت واضح فرمائی گی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جان کو محترم ٹھہرایا ہے اور اس پر تعدی حرام ہے حالانکہ وہ کسی ایسے جرم کا ارتکاب کرے جس کے نتیجہ میں وہ قانون الٰہی کی اس حفاظت سے محروم ہو ائے۔ یہ تینوں جرائم … شرک، قتل اور زنا … حقوق اللہ اور حقوق العباد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
68-1اور حق کے ساتھ قتل کرنے کی تین صورتیں ہیں، اسلام کے بعد کوئی دوبارہ کفر اختیار کرے، جسے ارتداد کہتے ہیں، یا شادی شدہ ہو کر بدکاری کا ارتکاب کرے یا کسی کو قتل کر دے۔ ان صورتوں میں قتل کیا جائے گا۔
68-2حدیث میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا، کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا۔ یہ کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے دراں حالیکہ اس نے تجھے پیدا کیا۔ اس نے کہا، اس کے بعد کون سا گناہ بڑا ہے ؟ فرمایا، اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرنا کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی، اس نے پوچھا، پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا، یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ان باتوں کی تصدیق اس آیت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
24: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر و شرک کا ارتکاب کریں، کیونکہ مومن عذاب میں ہمیشہ نہیں رہیں گے اور اگر انہوں نے گناہ کیے ہوں گے تو اس کی سزا پا کر جنت میں جائیں گے۔
Read the full tafseer →والذین ……الی اللہ متاباً (71)
خدا کو وحدہ لاشریک جاننا اسلامی نظریہ حیات کی اساس ہے۔ عقیدہ توحید نہایت واضح ، سیدھا اور سادہ عقیدہ ہے۔ اور اس کے مقابلے میں جس قدر عقائد ہیں وہ پیچیدہ ، ٹیڑھے اور ناقابل فہم عقید ہیں۔ اسلامی نظریہ حیات پر جس طرح ایک صحیح نظام زندگی قائم ہوتا ہے اسی طرح دوسرے عقائد پر کوئی سیدھا اور صالح نظام زندگی قائم ہی نہیں ہو سکتا۔
کسی جاندار کو ناحق نہ قتل کرنا اور سوسائٹی کی اجتماعی زندگی کو پرسکون ، پرامن اور مطمئنبنانا اسلامی اور انسانی زندگی کا طرہامتیاز ہوتا ہے ، جبکہ قتل و غارت اور لوٹ مار جنگل کی زندگی کا خاصہ ہوتا ہے اور کوئی ایسی سوسائٹی جس میں ہر طرف قتل و غارت…
Read the full tafseer →1 مثلاً قتل عمد کے بدلہ قتل کرنا، یا بدکاری کی سزا میں زانی محصن کو سنگسار کرنا، یا جو شخص دین چھوڑ کر جماعت سے علیحدہ ہوجائے اس کو مار ڈالنا، یہ سب صورتیں " الا بالحق " میں شامل ہیں۔ کما ورد فی الحدیث۔
2 یعنی بڑا سخت گناہ کیا جس کی سزا مل کر رہے گی۔ بعض روایات میں آیا کہ " آثام " جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں بہت ہی ہولناک عذاب بیان کیے گئے ہیں۔ اعاذنا اللہ منہا۔
Read the full tafseer →وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ ط ”
حق سے مراد یہاں وہ قانونی صورتیں ہیں جن صورتوں میں کسی انسان کی جان لی جاسکتی ہے ‘ یعنی قتل کے بدلے قتل ‘ مرتد کا قتل ‘ حربی کافر کا قتل اور شادی شدہ زانی کا رجم۔
اس آیت میں تین کبیرہ گناہوں کا ذکر ہوا ہے : شرک ‘ قتلِ ناحق اور زنا۔ شرک کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دو دفعہ فرما دیا کہ مشرک کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ اور قتل ایسا بھیانک گناہ اور جرم ہے جس سے تمدن کی جڑ کٹتی ہے ‘ جبکہ زنا سے معاشرہ گندگی کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة النساء میں ایسے کبیرہ گناہوں سے بچنے والوں کے…
Read the full tafseer →85 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان تین بڑے بڑے گناہوں کا ذکر فرمایا۔ جن میں اس دور کا عرب معاشرہ بری طرح مبتلا تھا۔ ہر قبیلے کا الگ الگ بت ہوتا تھا۔ پھر ایک بڑا بٹ کئی قبائل کا مشترکہ بھی ہوتا تھا۔ بیت اللہ شریف کے متولیوں نے اللہ کے اس گھر کو جس کی بنیادی ہی توحید پر رکھی گئی تھی تین سو ساٹھ بتوں سے بھر دیا تھا۔ پورے عرب میں لوٹ مار اور قتل و غارت ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ پھر اگر کسی قبیلہ کا کوئی دشمن قتل ہوجاتا تو سمجھ لو کہ سالہا سال تک کے لئے ان دونوں قبائل میں جنگ ٹھن گئی۔ ایسی لڑائیوں نے گھرانوں کے گھرانوں اجاڑ دیئے تھے۔ شراب نوشی اور زنا ان لوگوں کی گھٹی میں پڑا ہوا تھا۔ زنا کو وہ کوئی…
Read the full tafseer →78۔ اور اپنے عقیدہ میں کوئی شائبہ شرک کا نہیں آنے دیتے)
79۔ یعنی بجز اس صورت کے کہ کسی کے قتل کے وجوب یا جوز پر کوئی شرعی سند ہی مل جائے، ان کا دامن قتل وخون سے تمامتر پاک رہتا ہے، اس کی پوری قدر اس وقت ہوگی جب یہ پیش نظر رہے کہ اہل عرب اسلام سے معا قبل بھی قتل و خونریزی میں کس قدر غرق تھے، بات بات پر تلواریں نکل آتیں اور گردنیں کٹ جاتی تھیں۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
80۔ حالانکہ چند ہی سال قبل ان کی سوسائٹی میں حرام کاری بالکل معیوب نہ تھی، بلکہ ٹھیک آج کل کی جاہلی فرنگی کی طرح اس جاہلی فرنگی قوموں کی طرح اس جاہلی تہذیب میں بھی تھوڑی بہت حرام کاری اور ” خوش وقتی “ عین فیشن میں داخل تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
آیت نمبر 61 تا 77
ترجمہ : وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے آسمانوں میں بارہ برج بنائے (1) حَمَلْ (2) ثور (3) الجوزاء (4) السرطان (5) الاسد (6) السنبلہ (7) المیزان (8) العقرب (9) القوس (10) الجدی (11) الدلو (12) الحوت یہ سبع سیارہ کی منزلیں ہیں (اور وہ سبع سیارہ یہ ہیں) (1) المریخ : اس کی منزل حمل اور عقرب ہے (2) زہرہ : اس کی منزل ثور اور میزان ہے (3) عطارد : اس کی منزل جوزاء اور سنبلہ ہے (4) القمر اس کی منزل سرطان ہے (5) الشمس اس کی منزل اسد ہے (6) المشتری : اس کی منزل قوس اور حوت ہیں (7) زحل اس کی منزل جدی اور دلو ہے، اور اس نے آسمان میں چراغ بھی بنایا اور وہ سورج ہے اور نورانی چاند بنایا اور…
Read the full tafseer →والذین لا یدعون مع اللہ الہا اخر ولا یقتلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق ولا یزنون
اور وہ لوگ جو کسی دوسرے معبود کو اللہ کے ساتھ نہیں پکارتے اور نہ بغیر حق کے کسی ایسے شخص کو قتل کرتے ہیں جس کو قتل کرنے کی اللہ نے ممانعت فرما دی ہے اور نہ زنا کرتے ہیں۔
بِالْحَقِّیعنی حق پر قتل کرتے ہیں مثلاً قصاص میں قتل کرتے ہیں یا (محصن کو) زنا کی سزا میں سنگسار کرتے ہیں وغیرہ ان آیات میں بنیادی گناہوں کی نفی کی گئی ہے اس سے اوپر اصول طاعات کا اثبات کیا گیا تھا اس نفی و اثبات سے مقصود ہے مؤمنوں کے کمال ایمانی کا اظہار اور اس بات پر تنبیہ کہ جس اجر کا وعدہ کیا گیا ہے وہ انہی مسلمانوں سے کیا گیا ہے جو اصول…
Read the full tafseer →(68) اور جو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کسی معبود کی عبادت نہیں کرتے اور جس شخص کے قتل کرنے کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو قتل نہیں کرتے اور نہ اس کے قتل کو حلال سمجھتے ہیں مگر حق پر یعنی قتل کرنے کا کوئی سبب ہو جیسا کہ رجم قصاص، ارتداد وغیرہ اور وہ زنا نہیں کرتے اور نہ زنا کو حلال سمجھتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”۔ والذین لایدعون“۔ (الخ)
امام بخاری ؒ ومسلم ؒ نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے، میں نے عرض کیا پھر کون…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ : یہ عباد الرحمن کی صفات کی ایک اور قسم ہے، یعنی ان برائیوں اور کمینگیوں سے پاک ہونا جو مشرکین میں پائی جاتی ہیں اور عباد الرحمان ایمان کی وجہ سے ان سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہاں ان کے تین بڑی برائیوں سے بچے رہنے کا ذکر فرمایا، یعنی شرک، قتل ناحق اور زنا۔ اگرچہ کبیرہ گناہ اور بھی بہت سے ہیں، مگر عرب کے معاشرے میں اس وقت زیادہ تسلط انھی تین گناہوں کا تھا، اس لیے مسلمانوں کی اس خصوصیت کو نمایاں کیا گیا، اس سے مشرکین پر چوٹ بھی مقصود ہے کہ وہ اتنی نمایاں برائیوں میں مبتلا ہیں جن کی برائی ہر عقل سلیم پر واضح ہے۔
وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
( والذین لا یدعون۔۔۔۔۔۔ )
والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخر مومن بندوں کو ان کافروں کی صفات سے خارج کرنا مقصود ہے جو بتوں کی عبادت کرتے ہیں، بچیوں کو زندہ درگور کر کے نفوس کو قتل کرتے ہیں اس کے علاوہ وہ ظلم، دھوکا اور غارت گری مچاتے ہیں اور زنا ان کے نزدیک مباح امر ہے۔ علماء معانی میں سے جس نے اس آیت کو ظاہر معنی سے پھیرا اس نے کہا : رحمن نے جن کو اپنی طرف خصوصی طور پر منسوب کیا ہے اور معرفت اور تشریف والی صفات کے ساتھ انہیں موصوف کیا اور ان کا ذکر کیا، تو یہ مناسب نہیں کہ ان سے یہ قبیح امور واقع ہوں یہاں تک کہ ان کی ان سے نفی کے ساتھ مدح کی جائے کیونکہ وہ اس سے اعلیٰ و اشرف ہیں۔ فرمایا : وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
کسی انسان کو ناحق قتل کرنا حرام ہے
1۔ الفریابی احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن امردویہ والبیہقی فی شعب الایمان ابن مسعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنائے حالانکہ اسی نے تجھ کو پیدا کیا میں نے عرض کیا پھر کون سا گناہ بڑا ہے فرمایا کہ تو اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھانا کھائے گی میں نے پھر عرض کیا پھر کون سا گناہ بڑا ہے فرمایا کہ تو اپنے ہمسائے کی بویوی سے زنا کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت اتاری آیت ” والذین لا یدعون مع اللہ…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] لَا يَدْعُوْنَ [ نہیں پکارتے ] مَعَ اللّٰهِ [ اللہ کے ساتھ ] اِلٰــهًا اٰخَرَ [ کسی دوسرے الہٰ کو ] وَلَا يَقْتُلُوْنَ [ اور قتل نہیں کرتے ] النَّفْسَ الَّتِيْ [ اس جان کو جس کو ] حَرَّمَ [ (قتل کرنا) حرام کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] اِلَّا [ مگر ] بِالْحَقِّ [ حق کے ساتھ ] وَلَا يَزْنُوْنَ ۚ [ اور وہ لوگ زنا نہیں کرتے ] وَمَنْ [ اور جو ] يَّفْعَلْ [ کرے گا ] ذٰلِكَ [ وہ ] يَلْقَ [ تو وہ ملے گا ] اَثَامًا [ گناہ کی سزا ہے ]
ترکیب : آیت ۔ 68) ومن یفعل میں من شرطیہ ہے اس لئے یفعل شرط ہونے کی وجہ سء مجزوم ہے جبکہ یلق۔ یصنف اور یخلد جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–69
عباد الرحمن کی صفات اور ان کے اخلاق و اعمال
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نیک بندوں کی صفات بیان فرمائی ہیں اور انہیں عباد الرحمن کا معزز لقب دیا ہے ان حضرات کی جو چند صفات ذکر فرمائی ہیں ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ انہیں رحمن کا بندہ بتایا یہ بہت بڑا وصف ہے اور بہت بڑا لقب ہے یوں تکوینی طور پر سب ہی رحمن کے بندے ہیں لیکن اپنے اعتقاد سے اور اختیار سے اور اخلاص سے جس نے اپنی ذات کو سچے اعتقاد اور اخلاق کے ساتھ رحمن جل مجدہ کی عبادت میں لگا دیا اور رحمن جل مجدہ نے اس کے بارے میں یہ فرما دیا کہ یہ ہمارا بندہ ہے اس سے بڑھ کر بندہ کا کوئی اعزاز نہیں یہ بندے کا سب سے بڑا معزز لقب ہے اللہ تعالیٰ نے معراج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–77
مدح عباد رحمان و ذکر شمائل اہل ایمان و عرفان
قال اللہ تعالیٰ وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا۔۔۔ الی۔۔۔ فسوف یکون لزاما۔
(ربط) گزشتہ آیات میں رحمان سے نفرت کرنے والوں کا ذکر تھا، اب آئندہ آیات میں عباد رحمن یعنی رحمان کے خاص بندوں کے اوصاف کا ذکر ہے جس سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ رحمن کے بندے رحمن کی رحمتوں اور اس کی نعمتوں کا عملی طور پر کس طرح اور کس صورت میں شکر کرتے ہیں لہٰذا جو شخص رحمن کے آثار رحمت ونعمت کے تشکر کا ارادہ کرے اور رحمن کے آثار قدرت و عجائب صنعت میں تفکر اور تدبر کا ارادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ رحمن کے شکر گزار بندوں کے نقش قدم پر ثلے اور اگر بر بنائے غفلت اس سے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
45:۔ ” والذین لا یدعون الخ “ یہ عباد الرحمن کی صفات کی پانچویں نوع ہے جس میں متعدد صفتیں مذکور ہیں (1) وہ اللہ کے سوا کسی اور کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھ کر اپنی حاجات و مشکلات میں ہرگز نہیں پکارتے (2) وہ ناحق قتل نہیں کرتے (3) وہ بدکاری کے نزدیک نہیں جاتے۔ اس کے بعد نافرمان لوگوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” ومن یفعل ذلک الخ “ جو شخص مذکورہ بالا اعمال شنیعہ اور افعال قبیحہ کا مرتکب ہوگا اسے سخت سزا سے دوچار ہونا پڑے گا اور قیامت کے دن اس کو دوہرا عذاب دیا جائیگا ایک کفر و شرک کی وجہ سے دوم دوسرے گناہوں کی وجہ سے اور وہ ذلت و رسوائی کے ساتھ اس عذاب میں ہمیشہ رہیگا الا من تاب وا من الخ یہ ماقبل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–72
ربط آیات
پہلے خدائے رحمان کے اوصاف اور کمالات کا ذکر ہوا ۔ پھر اللہ نے عباد الرحمان کی صفات بیان فرمائیں ۔ اب تک پانچ صفات کا بیان ہوچکا ہے یعنی خدائے رحمان کے بندے وہ ہیں جو (1) زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے بلکہ وقار اور سکنیت کے ساتھ چلتے ہیں (2) جب ان سے نادان لوگ بات کرتے ہیں تو وہ الجھنے کی بجائے سلام کر کے گزر جاتے ہیں۔ (3) اللہ کے بندوں کی راتیں سجود و قیام میں گزرتی ہیں (4) وہ اپنے پروردگار سے دوزخ کو دور کرنے کی دعائیں کرتے ہیں (5) وہ لوگ خرچ کتے وقت نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔
(6) شرک سے بیزاری
اب آج کی آیات میں عباد الرحمان کی چھٹی صفت یہ بیان ہوئی ہے…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللہِ اِلٰــہًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ 0ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا 68ۙ
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
1 ؎ اقتار وقتور تنگ دلی ‘ کنجوسی۔
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَوَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُوْنَ ج وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا۔ (الفرقان : 68)
(اور (عبادالرحمن وہ لوگ ہیں) جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ وہ اس جان کو قتل کرتے ہیں جس کے قتل کو اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے بغیر کسی حق کے اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی ان باتوں کا مرتکب ہوگا وہ اپنے گناہوں کے انجام سے دوچار ہوگا۔ )
عبادالرحمن کا کبائر سے اجتناب
عبادالرحمن کی صفات کا ذکر ہورہا ہے، اسی ضمن میں ان کی انتہائی پاکیزہ زندگی کے تین مزید روشن ابواب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
فہم القرآن
ربط کلام : الرّحمن کے بندوں کے مزید اوصاف۔
الرّحمن کے بندے کسی حال میں بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو اِلٰہ نہیں سمجھتے۔ الٰہ کا معنی ہے۔ جس کی عبادت کی جائے۔ انسان کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرے۔ عبادت کی تین اقسام ہیں جن کا ہر نمازی تشہد میں بیٹھ کر اقرار کرتا ہے :
(اَلتَّحْیَاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰاتُ وَالطَّیْبَاتُ ) [ رواہ البخاری : باب التشھد فی الاخرۃ ]
قولی، مالی اور بدنی عبادات اللہ کے لیے ہے۔
انسان کو حکم ہے کہ وہ نہ ” اللہ “ کے سوا کسی کی عبادت کرے اور نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کرے یا اللہ…
Read the full tafseer →حق سے قتل پانچ قسم :
68: وَالَّذِیْنَ لَایَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا ٰاخَرَ (اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود کو نہیں پکارتے) یعنی شرک نہیں کرتے۔ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ (اور اس جان کو قتل نہیں کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے) اس کے قتل کو حرام کیا ہے۔ اِلَّا بِالْحَقِّ (مگر حق کے ساتھ) قصاص یا رجم یا نمبر 3۔ ارتداد یا نمبر 4۔ شرک یا نمبر 5۔ زمین میں فساد برپا کرنے کے باعث
نحو : یہ قتل محذوف سے متعلق ہے یا لا یقتلون سے وَلَا یَزْنُوْنَ (وہ زنا نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ نے ان کبار کی اپنے صالح بندوں سے نفی کی اس میں قریش پر تعریض ہے جن میں یہ…
Read the full tafseer →68۔ والذی لایدعون مع اللہ الھا آخر۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے جب یہ آیت نازل ہوئی توم کہ کے مشرکوں نے کہ اہم نے توناحق قتل بھی کیے ہیں اور اللہ کے ساتھ دوسروں معبودوں کی بھی عبادت کی ہے اور بے حیائی کے کاموں کا ارتکاب بھی کیا ہے اس پر آیت ، الا من تاب ، نازل ہوئی۔
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اے اللہ کے اللہ ، اللہ کے نزدیک بڑا گناہ کون سا ہے ؟ فرمایا کہ تو غیر اللہ کو پکارے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجھے پیدا کیا ، کہا پھر کون سا، گناہ فرمایا کہ تو اپنے بیٹے کو اس خوف سے قتل کردے کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا، فرمایا پھر کون سا، فرمایا اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
68۔ 77:۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت 6 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے ‘ اس میں عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت دنیا میں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ‘ آپ نے فرمایا کہ جس اللہ نے بندے کو پیدا کیا ‘ ایک تو اس کی عبادت یا قدرت میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑا گناہ ہے۔ میں نے پوچھا ‘ اس کے بعد کون سا بڑا گناہ ہے آپ نے فرمایا ‘ تنگ دستی کے خوف سے آدمی کا اپنی اولاد کو قتل کر ڈالنا ‘ میں نے پوچھا ‘ پھر اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے ‘ آپ نے فرمایا ‘ پڑوس کی عورت سے بدکاری کا کرنا ‘ آپ کے اس قول کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–77
آیت 63 سے 77
اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :
(1) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت : یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بدتمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ (ان کل من فی السموات والارض الی اتی الرحمن عبدا) (مریم : 19/93) ” آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ “
(2) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت : یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ومرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →قول باری ہے : (والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخر) جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے تا آخر آیت۔ اعمش نے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ ” اللہ کے رسول ﷺ ! سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ؟ “ آپ نے جواب دیا : ” سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم کسی کو اللہ کے مدمقابل ٹھہرائو حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا۔ “ اس نے عرض کیا : ” اس کے بعد کونسا ؟ “ آپ نے جواب دیا۔ اس کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اپنے بچے کو اس خوف سے مار ڈالو کہ کہیں وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک نہ ہوجائے۔ “ اس نے پھر عرض کیا : ” اس کے بعد کونسا ؟ “ آپ نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
86 قتل ناحق سے بچنے کی صفت محمود کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور وہ کسی شخص کو قتل نہیں کرتے مگر حق کے ساتھ "۔ اور حق کے ساتھ قتل کرنے کی حدیث پاک میں تین بڑی اور خاص صورتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو قصاص میں قتل کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ زنا بعد احصان کی صورت میں اس کو رجم اور سنگسار کیا جائے۔ اور تیسرے یہ کہ ارتداد عن الدین کی صورت میں اس کا سرقلم کردیا جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر اس ضمن میں واضح رہے کہ یہ کام ہر ایرے غیرے کے کرنے کا نہیں بلکہ یہ کام وقت کی حکومت کے ذمے ہے۔ اور قاضی کی قضا اور اس کے فیصلے کے تابع ہے۔ جو قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد اس بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
آسمانوں کے انتظام ‘ نیک لوگوں کی صفات اور انعام
تشریح : یہاں بھی کفار کو اللہ رحمن و رحیم کی کچھ اور مہربانیاں بتائی جا رہی ہیں جو خالصتاً اس وقت کے عرب بدئوں کے معیار کے مطابق بات کی جا رہی ہے۔ گو کہ اس میں بھی افلاک کے بہت سے رازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس وقت یعنی ساتویں صدی کے آغاز کا عرب بدو اپنی تہذیب ‘ زبان ‘ تشبیہ اور ثقافت کے معیار سے ہی بات سمجھ سکتا تھا کیونکہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب وہی عرب بدو تھا۔ لہٰذا رب ذوالجلال انہی کی زبان میں فرماتا ہے کہ ” بڑی بابرکت ہے اس کی ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور پھر سورج کا روشن چراغ رکھ دیا اور چاند کا اجالا کردیا۔ اور وہی ہے جس نے رات دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
وہ ذات بہت ہی برکت والی ہے جس نے انسان کو حیات کا اتنا وسیع نظام ایک بہت ہی خوبصورت انداز سے ترتیب دے کر ہر شے کو حتی کہ اجرام فلکی کو بھی انسان ہی کی خدمت پہ لگا دیا جو مدتوں سے اپنے اپنے کام کو پوری باقاعدگی سے انجام دے رہے ہیں اس نے آسمانوں کو پیدا فرمایا اور فضا سے آسمانی بروج یعنی اجرام فلکی کے ٹھکانے اور ان کی راہیں مقرر کردیں ، یہ علم ہیئت ، ستارے اور سیارے ان کی رفتار اور اس کے اثرات ان کا وجود اور اس کی تعمیر اور خصوصیات اس میں بہت لمبی بحث ہے خصوصا اس دور میں جبکہ انسانی قدم چاند تک جا پہنچے ہیں اور وہاں کی فضا اس کے اثرات اور ان کی رفتار اور اس کے اسباب…
Read the full tafseer →4 مراد ہے ہر انسانی جان۔ کیونکہ ہر انسانی جان کا مارنا اللہ نے حرام کیا ہے۔ 5 ۔ یا جیسے شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنا یا مرتد کو قتل کرنا اور جنگ میں کافر کو ماردینا، یہ سب صورتیں ” الابالحق “ کے تحت آجاتی ہیں۔ 6 ۔ یہ تینوں گناہ اسی ترتیب کے ساتھ ایک حدیث میں مذکور ہیں۔ عبد اللہ ؓ بن مسعود سے روایت ہے نبی ﷺ سے پوچھا گیا۔ ” سب سے بڑا گناہ کونسا ہے۔ “ فرمایا : ” یہ کہ تم کسی کو اللہ کا ہمسر قرار دو حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا۔ “ سائل نے عرض کیا پھر کونسا ؟ فرمایا :” یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس اندیشے سے قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک ہوگی “ سائل نے عرض کی پھر کونسا ؟ فرمایا کہ ” تم…
Read the full tafseer →(25:28) یلق۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ اصل میں یلقی تھا۔ لقی مصدر (باب سمع) وہ پائے گا۔ لقاء بھی مصدر ہے جس کے معنی کسی کے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں۔ ان دونوں معنی میں سے ہر ایک پر الگ الگ بھی بولا جاتا ہے۔ سامنے آنے کے معنی میں ہے واعلموا انکم ملقوہ (2:223) اور جان رکھ کہ ایک دن تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے ۔ اور پالینے کے معنی ہے فمن یلق خیرا یحمد الناس امرہ جو شخص خیر کو پالیتا ہے لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں۔
اثاما۔ گناہ۔ مجازا عذاب۔ یلق اشاما : ای یلق جزاء اثام۔ یعنی گناہوں کی سزا پائے گا۔ گناہوں کا عذاب پائے گا۔ اثام۔ اثم کی جمع ہے بمعنی گناہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–77
لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 77 :
انفقوا (انہوں نے خرچ کیا) ‘ لم یسرفوا (انہوں نے بےجا نہیں اڑایا) ‘ لم یقتروا (نہ انہوں نے تنگی کی ) ‘ قوام ( ٹھرا ہوا۔ اعتدال و میانہ روی) ‘ یلق (وہ پڑے گا) ‘ اثام (گناہ) ‘ یضعف (دوگنا کردے گا) ‘ مھان (ذلیل و خوار) ‘ متاب (لوٹنے والا۔ توبہ کرنے والا) ‘ لایشھدون (وہ موجود نہیں ہیں) ‘ الزور (جھوٹ) ‘ لغو (فضول۔ بےہودہ) ‘ کرام (سنجیدگی۔ عزت) ‘ لم یخروا (وہ نہیں کرتے) ‘ صم (بہرے) ‘ عمیان ( اندھے) ھب (عطا فرما۔ دے دیجئے) ‘ قرۃ (ٹھنڈک) ‘ الغرفۃ (اونچا مکان) ‘ تحیۃ (دعا) ‘ مایعبئو ا (وہ پرواہ نہیں کرتا ) ‘ لزام (چمٹنے والی) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 67 تا 77 :
ان آیات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ رحمن کے بندوں کی یہ بھی عادت ہے کہ خدا کے ساتھ دوسرے معبودوں کو نہیں پوجتے اور جس جان کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو ناحق نہیں قتل کرتے اور رحمن کے بندوں کی عادت بدکاری کی بھی نہیں ہے اور اگر جو شخص شرک اور ناحق قتل اور بدکاری میں گرفتار ہوگا اور اسی حالت میں مرجائے گا تو ایسا شخص شرک کے سبب سے ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اور سوائے شرک کے اور گناہوں کی سزا جدا اس شخص کو بھگتنی پڑے گی کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ مشرک کی کس طرح بخشش نہیں ہے ہاں مرنے سے پہلے جو شخص ان باتوں سے توبہ کرے گا اور شرک چھوڑ کر ایماندار بن جائے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
[43] یعنی متکبروں کی طرح اکڑ کر پاؤں زور سے زمین پر مارتے ہوئے نہیں چلتے۔ ان کی چال ڈھال سے تواضع، متانت اور خاکساری ٹپکتی ہے۔ یہاں اللہ کے نیک اور مخلص بندوں کی خصوصیات گناتے ہوئے سب سے پہلے ان کی چال کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ آدمی کی چال محض اس کے انداز رفتار ہی کا نام نہیں ہے بلکہ درحقیقت وہ اس کی سیرت و کردار کی آئینہ دار بھی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
عبادالرحمن
1: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عبادالرحمن کی صفات بتائی ہیں ۔ یعنی وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کے صحیح معنوں میں بندے ہیں ۔ اور ان کو رحمن کی غلامی اور نیاز مندی کا فخر حاصل ہے ۔
ارشاد ہے کہ وہ دنیا میں ظلم ومعصیت سے علو و برتری نہیں چاہتے ۔ نہایت نرم اور مریخاں مریخ ہوتے ہیں ۔ عجزوانکساری کا یہ عالم ہے کہ چلتے ہیں تو ہولے ہولے ، وقار اور حشمت کے باوجود ان میں شیخی اور گھمنڈ نہیں ہوتا ۔ متانت اور سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہیں او اپنے وقت کی قیمت کو پہنچانتے ہیں ۔ وہ ان لوگوں سے خوب آگاہ ہوتے ہیں ۔ جن میں جہالت ہوتی ہے ۔ اس لئے جہاں ایسے لوگوں سابقہ پڑتا ہے تو سلام کہہ کر گزرجاتے ہیں ۔ ان…
Read the full tafseer →(68) اور وہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور باطل معبود کی پرستش اور پوجا کرتے اور جس شخص کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے شرعی طریقہ پر حرام فرمایا ہے اس کو قتل نہیں کرتے مگر ہاں کسی حق شرعی کے ساتھ اور نہ وہ عباد الرحمن زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو شخص یہ برے کام کرے گا تو وہ شخص گناہوں کا وبال دیکھے گا اور اس کو سزا سے سابقہ پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–72
ف 3۔ یعنی نہ اس کی طرف مشغول ہوتے ہیں، اور نہ ان کے آثار سے عاصیوں کی تحقیر اور اپنا ترفع اور تکبر ظاہر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →وہ لوگ شرک ‘ ناحق قتل اور زنا جیسی برائی کے قریب بھی نہیں جاتے :
68۔ گزشتہ آیات میں عبادالرحمن کی چار صفات بیان کی گئی تھیں اور تین زیر نظر آیت میں مزید بتا دی ہیں کہ وہ ان تینوں چیزوں سے ہمیشہ بچتے رہنے کی کوشش کرتے ہیں گویا پہلے تین انکی صفات حمیدہ بیان کی گئیں جن سے اللہ کے بندے ہمیشہ متصف ہوتے ہیں اور اسراف وبخل کے ساتھ صفات ذمیمہ کا ذکر ہو رہا ہے جن کی آلائش سے اللہ کے بندوں کا دامن ہمیشہ پاک ہوتا ہے ، ان میں سرفہرست شرک ہے اور قتل ناحق کا دوسرا درجہ ہے اور اس کے بعد زنا ہے ، دور جاہلیت میں یہی چیزیں عز وافتخار کا سبب سمجھی جاتی تھیں وہ اپنی فلاح ونجات شرک میں سمجھتے تھے ، قتل و غارت کو…
Read the full tafseer →The Seventh Characteristic
وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ (And those who do not invoke any other god along with Allah - 25:68). The first six characteristics included the principles of obedience and now the characteristics of disobedience are described. Among these the very first one relates to belief, that is these blessed servants do not associate any one with Allah Ta’ ala in His worship. This point establishes that shirk (شِرک) is the biggest sin of all.
The Eighth and Ninth characteristic
لَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ (do not kill a person…
Read the full tafseer →84 The true servants refrain from three great sins: Shirk, murder and adultery. The Holy Prophet himself warned of their gravity. According to 'Abdullah bin Mas`ud, when some one asked him about the worst sins, he replied, (1) "It is to set up someone as equal in rank with Allah, Who has created you, (2) to kill your own child for fear of its sustenance, and (3) to commit adultery with the wife of your neighbour." (Bukhari, Muslim, Tirmizi, Nasa`i, Ahmad). Obviously this is not a complete list of the "heinous sins". But these three instances have been cited because they were most prevalent in…
Read the full tafseer →