Al-Furqaan 25:67

Al-Furqaan · from ayah 67

25:67

وَالَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَكَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا ۟وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا وَكَانَ بَيۡنَ ذٰلِكَ قَوَامًا‏

اور وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بےجا اُڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ۔ نہ ضرورت سے زیادہ نہ کم

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [they are] those who, when they spend, do so not excessively or sparingly but are ever, between that, [justly] moderate

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 6 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:67

جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بےجا اُڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ۔ نہ ضرورت سے زیادہ نہ کم

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو خرچ کرتے وقت بھی نہ تو اسراف کرتے ہیں نہ بخیلی، بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل طریقے پر خرچ کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں، نہ تنگی کرتے ہیں، بلکہ ان کا طریقہ اس (افراط وتفریط) کے درمیان اعتدال کا طریقہ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بے جا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان کا خرچ کرنا (زیادتی اور کمی کی) ان دو حدوں کے درمیان اعتدال پر (مبنی) ہوتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں اور (ان کا خرچ) اس کے درمیان معتدل ہوتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل بلکہ ان کا خرچ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے اور نہ تنگی اور اس کے درمیان کی معتدل راہ اختیار کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ کنجوسی بلکہ ان کا خرچ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ لوگ جب خرچ کرنے لگتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور اس کے درمیان (ان کا خرچ) اعتدال پر رہتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ لوگ کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ (ان کا معاملہ) اس کے بین بین معتدل ہوتا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچ کرتے ہیں اور نہ ہی بخل کرتے ہیں بلکہ درمیانہ، یعنی میانہ روری سے کام لیتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

who, when they spend, are neither extravagant nor miserly but keep the golden mean between the two (extremes):

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

- and those who, when they spend, are neither extravagant nor miserly, and it (i.e. their spending) is moderate in between (the two extremes,)

— Muhammad Taqi Usmani

- and those who, when they spend, are neither extravagant nor miserly, and it (i.e. their spending) is moderate in between (the two extremes,)

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who, when they spend, are neither extravagant nor stingy, but are in a just balance between them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who, when they spend, are neither prodigal nor grudging; and there is ever a firm station between the two;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [they are] those who, when they spend, do so not excessively or sparingly but are ever, between that, [justly] moderate

— Saheeh International

who in their spending are neither extravagant nor stingy but maintain moderation,

— Muhammad Sarwar

And they who when they spend, are neither extravagant nor parsimonious, and (keep) between these the just mean.

— Muhammad Habib Shakir

And those who when they expend, are neither extravagant nor sparing, and it is a medium in-between.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who, when they spend, are not extravagant and not niggardly, but hold a just (balance) between those (extremes);

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:67

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–67

مومنوں کا کردار اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہورہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم وستم نہیں کرتے، جیسے حضرت لقمان ؒ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلاکر۔ مگر اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر بیماروں کی طرح قدم قدم چلنا، یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لئے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی عادت اسکے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لئے لپٹی جارہی ہے۔ سلف…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 83 یعنی نہ تو ان کا حال یہ ہے کہ عیاشی، اور قمار بازی، اور شراب نوشی، اور یار باشی، اور میلوں ٹھیلوں، اور شادی بیاہ میں بےدریغ روپیہ خرچ کریں اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنی شان دکھانے کے لیے غذا مکان، لباس اور تزئین و آرائش پر دولت لٹائیں۔ اور نہ ان کی کیفیت یہ ہے کہ ایک زر پرست آدمی کی طرح پیسہ جوڑ جوڑ کر رکھیں، نہ خود کھائیں، نہ بال بچوں کی ضروریات اپنی استطاعت کے مطابق پوری کریں، اور نہ کسی راہ خیر میں خوش دلی کے ساتھ کچھ دیں۔ عرب میں یہ دونوں قسم کے نمونے کثرت سے پائے جاتے تھے۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جو خوب دل کھول کر خرچ کرتے تھے، مگر ان کے ہر خرچ کا مقصود یا تو ذاتی عیش و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چھٹی صفتوَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا الآیتہ، یعنی اللہ کے مقبول بندے مال خرچ کرنے کے وقت نہ اسراف اور فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل و کو تاہی، بلکہ دونوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتے ہیں۔ آیت میں اسراف اور اس کے بالمقابل اقتار کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ اسراف کے لغوی معنے حد سے تجاوز کرنے کے ہیں۔ اصطلاح شرع میں حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ، ابن جریج کے نزدیک اللہ کی معصیت میں خرچ کرنا اسراف ہے اگرچہ ایک پیسہ ہی ہو، اور بعض حضرات نے فرمایا، جائز اور مباح کا کاموں میں ضرورت سے زائد خرچ کرنا جو تبذیر یعنی فضول خرچی کی حد میں داخل ہوجائے وہ بھی اسراف کے حکم میں ہے کیونکہ تبذیر یعنی فضول خرچی بنص…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

انفاق کے لئے اہتمام یہ ان کے اس اہتمام کی طرف اشارہ ہے جو ان کے اندر انفاق فی سبیل اللہ کے لئے پایا جاتا ہے۔ فرمایا کہ جب وہ اپنی ضروریات پر خرچ کرتے ہیں تو اس میں احتیاط و کفایت شعاری محلوظ رکھتے ہیں۔ نہ وہ اس میں اسراف کو راہ دیتے ہیں نہ بخالت کو۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے مال میں دوسروں کے بھی حقوق ہیں۔ اس وجہ سے وہ اپنی ضروریات کو ان کے حدود سے متجاوز نہیں ہونے دیتے تاکہ دوسروں کے حقوق اد اکر سکیں۔ اگرچہ متوسط درجہ کی زندگی کے لئے کوئی ایک معین معیار مقرر کرنا مشکل ہے۔ اس میں حالات کی تغیر کے اعتبار سے فرق ہوسکتا ہے لیکن یہ فرق اتنا باریک نہیں ہے کہ ایک عادمی اس کو معلوم نہ کرسکے۔ اپنی قوم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

67-1اللہ کی نافرمانی میں خرچ کرنا اسراف اور اللہ کی اطاعت میں خرچ کرنا بخیلی اور اللہ کے احکام و اطاعت کے مطابق خرچ کرنا قوام ہے (فتح القدیر) اسی طرح نفقات واجبہ اور مباحات میں حد اعتدال سے تجاوز بھی اسراف میں آسکتا ہے، اس لیے وہاں بھی احتیاط اور میانہ روی نہایت ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–69

24: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر و شرک کا ارتکاب کریں، کیونکہ مومن عذاب میں ہمیشہ نہیں رہیں گے اور اگر انہوں نے گناہ کیے ہوں گے تو اس کی سزا پا کر جنت میں جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

پھر یہ بندے اعتدال و میانہ روی کا نمونہ ہیں۔ ان کی زندگی نہایت ہی متوازن ہے۔ والذین ……قواماً (67) یہ اسلام کی بنیادی خصوصیت ہے ، جسے وہ ایک مسلم فرد اور ایک مسلم جماعت کی زندگی کے اندر ایک حقیقت کی شکل میں پیدا کرت ا ہے۔ اسلام اس خصوصیت کو اپنے نظام تربیت و اخلاق اور نظام معیشت و قانون دانوں میں پیش نظر رکھتا ہے۔ چناچہ اسلامی نظام کے ہر جز کو مدار توازن اور اعتدال پر ہے۔ باوجود اس کے کہ اسلام ایک فرد کو انفرادی مخصوص ملکیت رکھنے کی اجازت دیتا ہے لیکن اسلام ایک مسلم فرد کو کھلی چھٹی نہیں دیتا کہ وہ ” اپنی “ دولت کو جس طرح چاہے خرچ کرے۔ جبکہ مغربی سرمایہ دارانہ نظام میں ایک فرد کو مکمل آزادی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی موقع دیکھ بھال کر میانہ روی کے ساتھ خرچ کرتے ہیں۔ نہ مال کی محبت نہ اس کی اضاعت۔ کما قال تعالٰی۔ (وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا) 17 ۔ الاسراء :29)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 67 وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا۔ ” اگرچہ کسی بھی معاملے میں اعتدال قائم رکھنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے مگر اللہ کے ان بندوں کی سیرت ایسی پختہ mature ہوتی ہے کہ انہیں اپنے اخراجات کے اندر اعتدال اور توازن قائم رکھنے میں مشکل پیش نہیں آتی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

84 اسراف کا اطلاق ضرورت کے کاموں سے زیادہ خرچ کرنے پر ہوتا ہے۔ مثلاً اپنے سامان خوردو نوش یا کپڑوں پر یا مکان پر یا شادی بیاہ پر بھی بےدریغ خرچ کردینا یا اپنی ہمت اور مقدور سے زیادہ خرچ کردینا۔ ایسی فضول خرچیوں سے اسلام نے سختی سے روک دیا ہے۔ پھر اسراف کی ایک قسم ایسی ہے جسے تبذیر کہتے ہیں۔ جس کا معنی یہ ہے کہ ناجائز کاموں یا ناجائز ضرورتوں پر خرچ کرنا۔ جیسے شراب نوشی، قمار بازی، بیاہ شادی کے موقعہ پر آتش بازی اور راگ رنگ وغیرہ ایسے کاموں میں ایک پیسہ بھی خرچ کرنا حرام ہے۔ چہ جائیکہ ایسے کاموں پر بھی بےدریخ اور بےتحاشا خرچ کردیا جائے۔ اور اسراف کی ضد بخل ہے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ مقدور ہوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

77۔ یعنی مالی معاملات میں ان کا طریقہ عین اعتدال ومیانہ روی کا رہتا ہے، نہ وہ افراط کہ معصیت کی راہ میں خرچ کرنے لگیں، نہ یہ تفریط کہ طاعت و عبادت کے موقع پر بھی پیسہ اٹھانے سے بخل کریں۔ مختصر آیت کے اندر صحیح معاشیات ملی وانفرادی کا اصل اصول بیان کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–77

آیت نمبر 61 تا 77 ترجمہ : وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے آسمانوں میں بارہ برج بنائے (1) حَمَلْ (2) ثور (3) الجوزاء (4) السرطان (5) الاسد (6) السنبلہ (7) المیزان (8) العقرب (9) القوس (10) الجدی (11) الدلو (12) الحوت یہ سبع سیارہ کی منزلیں ہیں (اور وہ سبع سیارہ یہ ہیں) (1) المریخ : اس کی منزل حمل اور عقرب ہے (2) زہرہ : اس کی منزل ثور اور میزان ہے (3) عطارد : اس کی منزل جوزاء اور سنبلہ ہے (4) القمر اس کی منزل سرطان ہے (5) الشمس اس کی منزل اسد ہے (6) المشتری : اس کی منزل قوس اور حوت ہیں (7) زحل اس کی منزل جدی اور دلو ہے، اور اس نے آسمان میں چراغ بھی بنایا اور وہ سورج ہے اور نورانی چاند بنایا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا اور وہ لوگ جو خرچ کرتے وقت نہ اسراف کرتے ہیں نہ کنجوسی۔ اسراف گناہ کے راستہ میں خرچ کرنا خواہ کتنی ہی قلیل مقدار ہو اقتار اللہ کے حق کو روکنا۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد ‘ قتادہ اور ابن جریج کا یہی قول ہے حسن نے اس کی تائید میں آیت کا معنی اس طرح بیان کیا کہ وہ اللہ کی نافرمانی میں خرچ نہیں کرتے اور نہ اللہ کے قائم کئے ہوئے حقوق کو ادا کرنے میں بخل کرتے ہیں بعض لوگوں نے کہا اسراف کے معنی حد سے بڑھ کر فضول خرچی جو حد تبذیر (مال بکھیرنے) تک پہنچا دے اوراقتار کا معنی ہے انتہائی ضرورت کے موقع پر بھی خرچ نہ کرنا۔ ابراہیم کے اس قول کے بھی یہی معنی ہیں کہ وہ نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(67) اور طاعات مالیہ میں ان کا یہ طریقہ ہے کہ جب وہ خرچ کی کوتاہی کریں اور ان کا خرچ اس اسراف اور اس قسم کی کمی کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا۔۔ : لوگوں کے ساتھ اور اپنے رب کے ساتھ رویے کے بعد ان کے مالی معاملے کا ذکر ہے۔ اسراف کا اطلاق کسی کام میں ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے پر ہوتا ہے، مثلاً کھانے پینے یا لباس یا مکان یا شادی بیاہ وغیرہ پر بےدریغ خرچ کردینا (ایک بلب کی ضرورت ہو تو زیادہ بلب لگا دینا، تھوڑے پانی سے کام چلتا ہو تو بےدریغ پانی بہا دینا) یا اپنی ہمت اور مقدور سے زیادہ خرچ کردینا (پھر قرض اتارتے رہنا یا مانگنا شروع کردینا) ایسی فضول خرچیوں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ پھر اسراف کی ایک قسم تبذیر ہے، جس کا معنی ہے بلاضرورت خرچ کرنا، مثلاً دن کو بھی گلی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

( والذین۔۔۔۔۔۔۔ ) والذین اذا انفقوا لم یسرفوا مفسرین نے اس آیت کی تاویل میں اختلاف کیا ہے۔ نحاس نے کہا : اس کے متعلق جو یہ کہا گیا وہ کتنا اچھا کہا گیا : جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے بغیر مال خرچ کیا تو وہ اسراف ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے رک گیا وہ اقتار ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خرچ کیا تو وہ قوام ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : جس نے ایک لاکھ حق کے راستہ میں خرچ کیا وہ اسراف نہیں اور جس نے ناحق ایک درہم خرچ کیا وہ اسراف ہے جس نے اس میں سے روکاجو اس پر واجب تھا تو وہ اقتار ہے : یہ مجاہد، ابن زید اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ عون بن عبد اللہ نے کہا : اسراف یہ ہے کہ تو کسی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 63–67

عبادالرحمن کے اوصاف 1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وعباد الرحمن “ سے مراد ہے ایمان والے آیت ’ ’ الذین یمشود علی الارض ھونا “ یعنی وہ زمین پر چلتے ہیں اطاعت پاکدامنی اور تواضع کے ساتھ۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” یمشون علی الارض ھونا “ سے مراد ہیں علماء اور حکماء لوگ کہ وہ زمین پر تواضع کے ساتھ چلتے ہیں۔ 3۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ھونا “ یہ سریانی زبان کا لفظ ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو عمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ھونا “ سریانی زبان میں بردبار لوگوں کو کہتے ہیں۔ ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] اِذَآ [ جب بھی ] اَنْفَقُوْا [ خرچ کرتے ہیں ] لَمْ يُسْرِفُوْا [ تو ضرورت سے زیادہ خرچ نہیں کرتے ] وَلَمْ يَـقْتُرُوْا [ اور خرچ میں تنگی نہیں کرتے ] وَكَانَ [ اور ہے ] بَيْنَ ذٰلِكَ [ اس کے درمیان ] قَوَامًا [ ایک اعتدال ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 63–69

عباد الرحمن کی صفات اور ان کے اخلاق و اعمال ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نیک بندوں کی صفات بیان فرمائی ہیں اور انہیں عباد الرحمن کا معزز لقب دیا ہے ان حضرات کی جو چند صفات ذکر فرمائی ہیں ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ انہیں رحمن کا بندہ بتایا یہ بہت بڑا وصف ہے اور بہت بڑا لقب ہے یوں تکوینی طور پر سب ہی رحمن کے بندے ہیں لیکن اپنے اعتقاد سے اور اختیار سے اور اخلاص سے جس نے اپنی ذات کو سچے اعتقاد اور اخلاق کے ساتھ رحمن جل مجدہ کی عبادت میں لگا دیا اور رحمن جل مجدہ نے اس کے بارے میں یہ فرما دیا کہ یہ ہمارا بندہ ہے اس سے بڑھ کر بندہ کا کوئی اعزاز نہیں یہ بندے کا سب سے بڑا معزز لقب ہے اللہ تعالیٰ نے معراج…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–77

مدح عباد رحمان و ذکر شمائل اہل ایمان و عرفان قال اللہ تعالیٰ وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا۔۔۔ الی۔۔۔ فسوف یکون لزاما۔ (ربط) گزشتہ آیات میں رحمان سے نفرت کرنے والوں کا ذکر تھا، اب آئندہ آیات میں عباد رحمن یعنی رحمان کے خاص بندوں کے اوصاف کا ذکر ہے جس سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ رحمن کے بندے رحمن کی رحمتوں اور اس کی نعمتوں کا عملی طور پر کس طرح اور کس صورت میں شکر کرتے ہیں لہٰذا جو شخص رحمن کے آثار رحمت ونعمت کے تشکر کا ارادہ کرے اور رحمن کے آثار قدرت و عجائب صنعت میں تفکر اور تدبر کا ارادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ رحمن کے شکر گزار بندوں کے نقش قدم پر ثلے اور اگر بر بنائے غفلت اس سے کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 64–67

44:۔ ” والذین یبیتون الخ “ یہ دوسری صفت ہے۔ اللہ کے وہ نیک بندے رات بھر اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے اور ساری رات نماز میں گذار دیتے ہیں۔ ” والذین یقولون الخ “ تیسری صفت وہ ہر وقت اللہ کے عذاب سے خائف اور لرزاں رہتے اور اللہ سے دعا مانگتے رہتے ہیں اے اللہ ! ہمیں عذاب جہنم سے بچائیو۔ کیونکہ اس کا عذاب ہلاکت خیز اور تباہ کن ہے اور وہ رہنے کی نہایت ہی بری جگہ ہے۔ ” غرام “ شر لازم اور عذاب دائم۔ الغرام الشر اللازم والھلاک الدائم (خازن ج 5 ص 108) ۔ ” والذین اذا انفقوا الخ “ یہ چوتھی صفت ہے۔ وہ زندگی کے معاملات میں خصوصا مال خرچ کرنے میں راہ اعتدال پر چلتے ہیں۔ مال خرچ کرنے میں نہ اسراف کرتے ہیں نہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 63–67

ربط آیات گزشتہ رکوع کے آخر میں مشرکین کا ذکر ہوا کہ جب انہیں خدائے رحمان کے سامنے سجدہ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں ۔ کون ہے رحمان ؟ ہم کسی رحمان کو نہیں جانتے ، اللہ نے ان کے اس بیہودہ کلام کے جواب میں خدائے رحمان کی صفات اور اس کے کمالات کا تذکرہ فرمایا کہ رحمان وہ برکتیں دینے والی ہستی ہے جس نے آسمانوں میں برج قائم کیے۔ سورج جیسا روشن چراغ اور چاند جیسا اجالا کرنے والا سیارہ بنایا ۔ اس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والا بنایا اور اس تغیر و تبدل میں خاص مصلحت رکھی جو نصیحت پکڑنے اور شکر ادا کرنے والوں کو دعوت و غور دے رہی ہے۔ اب اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے خدائے رحمان کے بندوں کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا۝ 67 نفق نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] ، وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 254] ( نق ) نفق ( ن ) س…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ اِذَٓا اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا۔ (الفرقان : 67) (اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں بلکہ ان کا خرچ کرنا اسراف اور بخل کے درمیان اعتدال سے ہوتا ہے۔ ) عبادالرحمن کی ایک اور صفت عبادالرحمن کی ایک صفت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں اگر دولت عطا کرے تو وہ دولت کے نشے میں مخمور ہو کر بےاعتدالی کی روش اختیار نہیں کرتے۔ زندگی کے باقی معاملات کی طرح ان کی زندگی کا یہ پہلو بھی نہایت اعتدال کی تصویر ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے پاس مال و دولت اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، ہماری ملکیت نہیں۔ ملکیت رکھنے والا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 66–67

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ ” عباد الرحمن “ کے اوصاف۔ اس سے پہلے ” عباد الرحمن “ کی چال ڈھال، گفتار اور رات کے وقت ان کی اپنے رب کے حضور آہ و زاریوں کا تذکرہ ہوا۔ اب مالی معاملات میں ان کے کردار کا ذکر ہوتا ہے۔ ” الرحمن “ کے بندے جس طرح گفتار اور رفتار میں اعلیٰ معیار رکھتے ہیں اسی طرح ہی وہ خرچ میں میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔ خرچ کرتے وقت نہ وہ بےجا خرچ کرتے ہیں اور نہ وہ بخل کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔ دین اسلام کی یہ بھی خوبی ہے کہ دین عبادات اور معاملات دونوں میں اعتدال کا حکم دیتا ہے۔ اس لیے حکم ہوا ہے کہ فضول خرچی سے بچنے کے ساتھ بخیلی سے بھی مکمل اجتناب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

67: وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا (اور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہوئے اسراف سے کام نہیں لیتے) خرچ میں حدود سے تجاوز نہیں کرتے۔ نمبر 2۔ وہ خوش عیشی کیلئے نہیں کھاتے اور ڈھینگ مارنے کیلئے نہیں پہنتے ہیں۔ قول ابن عباس ؓ : وہ گناہوں پر خرچ نہیں کرتے اسراف کی تعریف : اسراف : حکم کے حدود سے تجاوز کو کہتے ہیں اور مقدار کے اندر تجاوز نہیں۔ ایک آدمی نے ایک دوسرے آدمی کو یہ کہتے سنا اسراف میں کوئی خیر نہیں تو اس نے کہا لا اسراف فی الخیر۔ نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) نے فرمایا جس نے کسی حق والے کا حق روکا اس نے بخل کیا اور جس نے کسی غیر مستحق کو دیا اس نے اسراف کیا۔ وَلَمْ یَقْتُرُوْا (اور وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

67۔ والذین اذا انفقوا لم یسرفواولم یقتروا۔ ابن کثیر اوراہل بصرہ نے ، یقتروا، یاء کے فتحہ اور تاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ قراء اہل مدینہ ابن عامر نے یاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور تائ کے کسرہ کے ساتھ اور دوسرے قراء نے یاء کے فتحہ کے ساتھ اور تاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ سب لغات صحیح ہیں۔ جیسے کہاجاتا ہے ، اقتر وقتر، تشدید کے ساتھ اور قتر ، یقتر۔ اسراف اوراقتار کی تفسیر۔ اسراف اوراقتار کے معنی میں آئمہ مفسرین کا اختلاف ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک اسراف کہتے ہیں گناہ کے راستے میں خرچ کرنا اور خواہ کتنی ہی قلیل مقدار ہو اوراقتار اللہ کے حق کو روکنا۔ حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور ابن جریج کا یہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 63–67

63۔ 67:۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا ‘ جن کے روبرو اللہ کی صفت رحمن بیان کی جاتی تھی ‘ تو وہ بدکتے تھے ‘ ایسے لوگوں کے قائل کرنے کے لیے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے رحمن کے بندوں کے پتے سے اپنے نیک بندوں کی یہ چند صفتیں بیان فرمائیں کہ وہ لوگ جب زمین پر چلتے پھرتے ہیں تو اترا کر نہیں چلتے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 3 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا پچھلی امتوں میں سے بعض اترا کر چلنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں دھنسا دیا ہے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ زمین پر اترا کر چلنے پھرنے کی عادت اللہ تعالیٰ کو بہت ناپسند ہے ‘ اسی واسطے جن لوگوں میں یہ عادت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 63–77

آیت 63 سے 77 اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں : (1) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت : یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بدتمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ (ان کل من فی السموات والارض الی اتی الرحمن عبدا) (مریم : 19/93) ” آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ “ (2) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت : یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ومرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 66–67

قول باری ہے : (والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذلک قواما۔ ) جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ دونوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتے ہیں ۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے اس سلسلے میں روایت کی ہے کہ جو شخص اللہ کی نافرمانی میں ایک درہم بھی خرچ کرے گا وہ مسرف کہلائے گا (ولم یقتروا) انہوں نے کہا کہ اس سے بخل مراد ہے جس کے معنی اللہ کے حق کو روکنے کے ہیں۔ وکان بین ذلک قواما کی تفسیر انہوں نے یہ کی کہ ” اعتدال کی راہ اور طاعت خداوندی میں انفاق۔ “ ابن سیرین کا قول ہے سرف کے معنی ناحق خرچ کرنے کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

85 خرچ کے سلسلے میں میانہ روی کی صفت محمود کا ذکر وبیان : سو ۔ عباد الرحمن ۔ کی خاص صفات کے بیان کے سلسلے میں مزید ارشاد فرمایا گیا کہ وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ وہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔ فضول خرچی اور اسی طرح کنجوسی کی کئی شکلیں ہوتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ انسان اپنا مال ناجائز کاموں میں صرف کرے یا جائز کاموں میں ضرورت سے زیادہ خرچ کرے۔ یا حقوق واجبہ اور ضروریات زندگی میں بھی کمی کرنے لگے وغیرہ۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ نیک کاموں میں جتنا بھی خرچ کرے وہ فضول خرچی میں نہیں آتا۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ ایک بزرگ نے جب ایک دوسرے بزرگ کو کارخیر میں بہت مال خرچ کرتے دیکھا تو انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–77

آسمانوں کے انتظام ‘ نیک لوگوں کی صفات اور انعام تشریح : یہاں بھی کفار کو اللہ رحمن و رحیم کی کچھ اور مہربانیاں بتائی جا رہی ہیں جو خالصتاً اس وقت کے عرب بدئوں کے معیار کے مطابق بات کی جا رہی ہے۔ گو کہ اس میں بھی افلاک کے بہت سے رازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس وقت یعنی ساتویں صدی کے آغاز کا عرب بدو اپنی تہذیب ‘ زبان ‘ تشبیہ اور ثقافت کے معیار سے ہی بات سمجھ سکتا تھا کیونکہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب وہی عرب بدو تھا۔ لہٰذا رب ذوالجلال انہی کی زبان میں فرماتا ہے کہ ” بڑی بابرکت ہے اس کی ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور پھر سورج کا روشن چراغ رکھ دیا اور چاند کا اجالا کردیا۔ اور وہی ہے جس نے رات دن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–77

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف وہ ذات بہت ہی برکت والی ہے جس نے انسان کو حیات کا اتنا وسیع نظام ایک بہت ہی خوبصورت انداز سے ترتیب دے کر ہر شے کو حتی کہ اجرام فلکی کو بھی انسان ہی کی خدمت پہ لگا دیا جو مدتوں سے اپنے اپنے کام کو پوری باقاعدگی سے انجام دے رہے ہیں اس نے آسمانوں کو پیدا فرمایا اور فضا سے آسمانی بروج یعنی اجرام فلکی کے ٹھکانے اور ان کی راہیں مقرر کردیں ، یہ علم ہیئت ، ستارے اور سیارے ان کی رفتار اور اس کے اثرات ان کا وجود اور اس کی تعمیر اور خصوصیات اس میں بہت لمبی بحث ہے خصوصا اس دور میں جبکہ انسانی قدم چاند تک جا پہنچے ہیں اور وہاں کی فضا اس کے اثرات اور ان کی رفتار اور اس کے اسباب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 66–67

3 ۔ یعنی نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ فضول خرچی یہ ہے کہ گناہ کے کاموں میں مال صرف کیا جائے اور بخل یہ ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ حقوق بھی ادا نہ کئے جائیں۔ (شوکانی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:67) انفقوا۔ ماضی جمع مذکر غائب انفاق (افعال) مصدر۔ انہوں نے خرچ کیا۔ ماضی بمعنی حال۔ وہ خرچ کرتے ہیں۔ لم یسرفوا مضارع نفی جحد بلم۔ جمع مذکر غائب اسراف (افعال) مصدر ۔ وہ فضول خرچی نہیں کرتے۔ بےجا نہیں اڑاتے۔ بیجا سرف کرنا مقدار اور کیفیت دونوں کے لحاظ سے بولا جاتا ہے۔ چناچہ حضرت سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرکے ایک حبہ بھی خرچ کیا جائے تو وہ بھی اسراف میں داخل ہے۔ حدا عتدال سے تکاوز کرنا بھی اسراف ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے :۔ ان اللہ لا یھدی من ھو مسرف کذاب (40:28) بیشک خدا اس شخص جو ہدایت نہیں دینا جو حد سے نکل جانے والا (اور) جھوٹا ہے۔ لم یفتروا۔ مضارع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–77

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 77 : انفقوا (انہوں نے خرچ کیا) ‘ لم یسرفوا (انہوں نے بےجا نہیں اڑایا) ‘ لم یقتروا (نہ انہوں نے تنگی کی ) ‘ قوام ( ٹھرا ہوا۔ اعتدال و میانہ روی) ‘ یلق (وہ پڑے گا) ‘ اثام (گناہ) ‘ یضعف (دوگنا کردے گا) ‘ مھان (ذلیل و خوار) ‘ متاب (لوٹنے والا۔ توبہ کرنے والا) ‘ لایشھدون (وہ موجود نہیں ہیں) ‘ الزور (جھوٹ) ‘ لغو (فضول۔ بےہودہ) ‘ کرام (سنجیدگی۔ عزت) ‘ لم یخروا (وہ نہیں کرتے) ‘ صم (بہرے) ‘ عمیان ( اندھے) ھب (عطا فرما۔ دے دیجئے) ‘ قرۃ (ٹھنڈک) ‘ الغرفۃ (اونچا مکان) ‘ تحیۃ (دعا) ‘ مایعبئو ا (وہ پرواہ نہیں کرتا ) ‘ لزام (چمٹنے والی) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 67 تا 77 : ان آیات سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–67

اللہ کے نیک بندوں کی خصوصیات کا ذکر۔ (ف 1) پہلے کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جن کے روبرو اللہ کی صفت رحمن بنائی جاتی تھی تو وہ بدکتے تھے ایسے لوگوں کے قائل کرنے کے لیے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے رحمن کے بندوں کی یہ چند صفتیں بیان فرمائیں کہ وہ لوگ جب زمین پرچلتے پھرتے ہیں تو اترا کر نہیں چلتے اور رحمن کے بندوں میں یہ بھی اچھی عادت ہے کہ وہ رات کو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ اور قیام میں عاجزی کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں ۔ ابن عباس نے فرمایا کہ جس کسی نے بعد عشا دو رکعت یا زیادہ نفل پڑھے وہ شب بیداری کرنے والے میں داخل ہے ۔ مسلم میں حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ جس نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 63–68

[43] یعنی متکبروں کی طرح اکڑ کر پاؤں زور سے زمین پر مارتے ہوئے نہیں چلتے۔ ان کی چال ڈھال سے تواضع، متانت اور خاکساری ٹپکتی ہے۔ یہاں اللہ کے نیک اور مخلص بندوں کی خصوصیات گناتے ہوئے سب سے پہلے ان کی چال کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ آدمی کی چال محض اس کے انداز رفتار ہی کا نام نہیں ہے بلکہ درحقیقت وہ اس کی سیرت و کردار کی آئینہ دار بھی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 63–67

ف 2: یعنی مکہ والوں کے دل میں اس دجہ بتوں کی محبت ہے کہ وہ غلو میں معبود حقیقی کو بھی بھول گئے ہیں ۔ اور جب انہیں دعوت دی جاتی ہے ۔ کہ خدائے رحمن کے سامنے جھکو ۔ اور کسی چیز کی عبادت نہ کرو ۔ تو وہ ازراہ سرکشی کہتے ہیں ۔ یہ خدائے رحمن کون ہے ؟ کیا تمہارے کہنے پر ہم اللہ کی عبادت کرنے لگیں ۔ اور اپنے دیوتاؤں کو چھوڑ دیں ۔ یہ ملحوظ رہے کہ قالوا وما الرحمن سے اسم کا انکار مقصود نہیں ۔ مسمیٰ کا انکار مطلوب ہے اور یہ اس قلیل سے ہے جیسا کہ فرعون نے موسیٰ سے کہا ۔ وما رب العلمین ! حل لغات :۔ ھونا ۔ سہج سے ۔ ہولے ہولے ، بمعنے آرام وآہستگی ووقار ونرمی اور سی کی غراما ۔ عذاب ۔ ہلاک ۔ ہمیشہ اور پیوستہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(67) عبادت بدنی کے ساتھ طاعت مالی کا ذکر فرماتے ہیں اور وہ جب خرچ کرنے لگتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ وہ خرچ کرنے میں تنگی اور بخل کرتے ہیں ان کا خرچ کرنا ان دونوں باتوں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے یعنی نہ ممسک نہ مسرف بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں اور ایک سیدھی گذارن پسند کرتے ہیں نہ ایسا اسراف کہ معصیت میں خرچ کرنے لگیں نہ ایسا کہ امساک کہ طاعات میں تنگی دکھائیں نہ ایسا اڑائیں کہ تنگدست ہوکر بیٹھ جائیں نہ ایسا امساک اور بخل کہ مٹھی بالکل بند کرلیں بلکہ رحمان کے خاص بندے انفاق میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 64–72

ف 3۔ یعنی نہ اس کی طرف مشغول ہوتے ہیں، اور نہ ان کے آثار سے عاصیوں کی تحقیر اور اپنا ترفع اور تکبر ظاہر ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں : 67۔ اسراف کیا ہے ؟ فضول خرچی کا دوسرا نام ہے یا اس طرح کہیں کہ جس چیز کو اردو میں فضول خرچی کہا جاتا ہے عربی میں اس کو ” اسراف “ کہتے ہیں ۔ اور فضول خرچی یہ ہے کہ انسان اپنی حیثیت اور موقع کی ضرورت سے زیادہ خرچ کرے چونکہ اسلام عرب میں آیا اور عربوں کی فیاضی ‘ فضول خرچی کی حد تک پہنچی ہوئی تھی اس لئے اسلام نے فضول خرچی کو روکا اور انسان کو اپنی حد میں رہ کر خرچ کرنے کا حکم دیا کیونکہ فضول خرچی کی عادت سے قومی سرمایہ بہت بری طرح برباد ہو کر فنا ہوتا ہے اور فضول خرچی عموما فخر و غرور اور نمائش کے پردہ میں ظاہر ہوتی ہے اور ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Sixth Characteristic وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِ‌فُوا وَلَمْ يَقْتُرُ‌وا (and those who, when they spend, are neither extravagant nor miserly - 25:67). That is Allah's blessed servants are neither spendthrifts nor misers but they spend moderately. The words اسراف (israf, i.e. extravagance) and إقتَار (iqtar, i.e. miserliness) are used in the verse for the two opposite traits. Israf means to cross the limits. According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، Mujahid, Qatadah and Ibn Juraij رحمۃ اللہ علیہم any spending on something sinful, however little it may be, is israf, while others…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

83 The true servants of Allah adopt "the golden mean" between the two extremes in spending their money. They neither go beyond prudence and necessity in expenditure nor live in wretched 'circumstances in order to save and hoard money but are frugal. This was the characteristic of the followers of the Holy Prophet, which distinguished them from the well-to-do people of Arabia, who were either spend-thrifts in regard to the gratific ation of their own lusts or niggardly in spending their money on good works. According to Islam extravagance is: (1) To spend even the smallest amount of money in…

Read the full tafseer →