Explained with ayahs 63–67
مومنوں کا کردار
اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہورہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم وستم نہیں کرتے، جیسے حضرت لقمان ؒ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلاکر۔ مگر اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر بیماروں کی طرح قدم قدم چلنا، یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لئے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی عادت اسکے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لئے لپٹی جارہی ہے۔ سلف…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 82
یعنی یہ عبادت ان میں کوئی غرور پیدا نہیں کرتی۔ انہیں اس بات کا کوئی زعم نہیں ہوتا کہ ہم تو اللہ کے پیارے اور اس کے چہیتے ہیں، بھلا آگ ہمیں کہاں چھو سکتی ہے۔ بلکہ اپنی ساری نیکیوں اور عبادتوں کے باوجود وہ اس خوف سے کانپتے رہتے ہیں کہ کہیں ہمارے عمل کی کو تاہیاں ہم کو مبتلائے عذاب نہ کردیں۔ وہ اپنے تقویٰ کے زور سے جنت جیت لینے کا پندار نہیں رکھتے، بلکہ اپنی انسانی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے عذاب سے بچ نکلنے ہی کو غنیمت سمجھتے ہیں، اور اس کے لیے بھی ان کا اعتماد اپنے عمل پر نہیں بلکہ اللہ کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
پانچویں صفتوَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ الآیہ یعنی یہ مقبولین بارگاہ شب و روز عبادت و اطاعت میں مصروف رہنے کے باوجود بےخوف ہو کر نہیں بیٹھ رہتے بلکہ ہر وقت خدا کا خوف اور آخرت کی فکر رکھتے ہیں جس کے لئے عملی کوشش بھی جاری رہتی ہے اور اللہ تعال سے دعائیں بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
آیت 66-64
عباد الرحمٰن کی خلوت کی زندگی
اوپر کی آیت میں ان کی جلوت کی زندگی کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ سا آیت میں ان کی خلوت کی زندگی پر روشنی ڈالی گی ہے۔ فرمایا کہ وہ اپنی راتیں اپنے رب کے آگے سجود و قیام میں گزارتے ہیں۔ سجد او قیاماً کے اسلوب بیان سے جو شوق و اضطراب نمایاں ہو رہا ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے ظاہر کہ اس سے صرف فرض نمازیں مراد نہیں ہیں بلکہ یہ تہجد کے سجود و قیام کی شب بیداریوں اور بےقراریوں کی تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی راتیں نہ عیش کدوں میں گزارتے اور نہ نرم و گرم بستروں میں دنیا و عاقبت سے بےفکر ہو کر سوتے بلکہ راتوں میں اٹھ اٹھ کر عذاب جہنم سے بچائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
65-1اس سے معلوم ہوا کہ رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو ایک طرف راتوں کو اٹھ کر عبادت کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ ڈرتے بھی ہیں کہ کہیں کسی غلطی یا کوتاہی پر اللہ کی گرفت میں نہ آجائیں، اس لئے وہ عذاب جہنم سے پناہ طلب کرتے ہیں۔ گویا اللہ کی عبادت و اطاعت کے باوجود اللہ کے عذاب اور اس کے مؤاخذے سے انسان کو بےخوف اور اپنی عبادت و اطاعت الٰہی پر کسی غرور اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ اسی مفہوم کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے۔ (وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ) 23۔ المومنون :60) اور وہ لوگ کہ جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل ڈرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
24: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر و شرک کا ارتکاب کریں، کیونکہ مومن عذاب میں ہمیشہ نہیں رہیں گے اور اگر انہوں نے گناہ کیے ہوں گے تو اس کی سزا پا کر جنت میں جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
والذین ……ومقاماً (66)
اللہ کے بندوں کی نمازوں کی تعبیر یہاں ارکان نماز سجود و قیام سے کی گئی تاکہ یہ معلوم ہو کہ ان کی سرگرمیاں کیا تھیں۔ راتوں کو جب تمام مخلوق سوتی ہے تو وہ جاگ رہے ہوتے ہیں۔ رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ وہ صرف اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور صرف اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ صرف اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور راتوں کو وہ فرحت بخش اور لذیذ نیند ترک کرتے ہیں کیونکہ ان کو اس میٹھی اور لذیذ نیند سے اللہ کے سامنے قیام و سجود میں زیادہ لذدت آتی ہے۔ ان کا جسم ان کی روح اور ان کی سوچ اللہ سے وابستہ ہوتی ہے۔ اس لئے لوگ غفلت کی نیند سوتے ہیں اور وہ رکوع و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
11 یعنی اتنی عبادت پر اتنا خوف بھی ہے۔ یہ نہیں کہ تہجد کی آٹھ رکعت پڑھ کر خدا کے عذاب و قہر سے بےفکر ہوگئے۔
Read the full tafseer →آیت 66 اِنَّہَا سَآءَ تْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا ”
دنیا میں عام طور پر انسانی طبیعت کا خاصہّ ہے کہ وہ ہر دم تبدیلی چاہتا ہے۔ تبدیلی کے طور پر وہ تھوڑی دیر کے لیے بری سے بری جگہ پر بھی تفریح محسوس کرتا ہے اور اگر اسے اچھی سے اچھی جگہ پر بھی مستقل رہنا پڑے تو وہاں اسے بہت جلد اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس کے برعکس جنت اور جہنم کی کیفیت یکسر مختلف ہے۔ قرآن کے مطابق جنت ایسی پر کشش جگہ ہے کہ وہاں مستقل رہنے کے باوجود اہل جنت کو اس کی دلچسپیوں اور رعنائیوں میں ذرہ بھر کمی محسوس نہیں ہوگی اور جہنم میں اگر کوئی انسان ایک لمحہ کے لیے بھی چلا گیا تو وہ اپنی ساری سختیاں اس پر اسی ایک لمحے میں ظاہر کر…
Read the full tafseer →83 یعنی راتوں کی عبادت یا ان کے دوسرے نیک اعمال انھیں اس غلط فلمی میں مبتلا نہیں کردیتے کہ اب وہ یقینی طور پر جنت کے مستحق ہوگئے ہیں۔ نہ ہی ان میں ان اعمال کی بجا آوری پر پندار نفس یا غرور پیدا ہوتا ہے۔ جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے :
غرور زہد نے سیکھلا دیا ہے واعظ کو “ کہ بندگان خدا ہر زبان دراز کرے ” بلکہ وہ اللہ سے یہ دعا بھی کرتے رہتے ہیں کہ اگر ان اعمال کی بجاآوری میں کچھ تقصیر ہوگئی ہے تو معاف فرما دے۔ ان اعمال کو جیسے بھی وہ ہیں قبول فرما لے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچائے رکھنا گویا اللہ کے بندوں کی چوتھی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہیں کر بیٹھتے بلکہ ان کا اصل اعتماد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
76۔ باوجود طاعت و عبادت میں اس اہتمام تام کے ان کی خشیت قلب کی کیفیت یہ رہتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
آیت نمبر 61 تا 77
ترجمہ : وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے آسمانوں میں بارہ برج بنائے (1) حَمَلْ (2) ثور (3) الجوزاء (4) السرطان (5) الاسد (6) السنبلہ (7) المیزان (8) العقرب (9) القوس (10) الجدی (11) الدلو (12) الحوت یہ سبع سیارہ کی منزلیں ہیں (اور وہ سبع سیارہ یہ ہیں) (1) المریخ : اس کی منزل حمل اور عقرب ہے (2) زہرہ : اس کی منزل ثور اور میزان ہے (3) عطارد : اس کی منزل جوزاء اور سنبلہ ہے (4) القمر اس کی منزل سرطان ہے (5) الشمس اس کی منزل اسد ہے (6) المشتری : اس کی منزل قوس اور حوت ہیں (7) زحل اس کی منزل جدی اور دلو ہے، اور اس نے آسمان میں چراغ بھی بنایا اور وہ سورج ہے اور نورانی چاند بنایا اور…
Read the full tafseer →انہا سآءت مستقرا ومقاما۔ بیشک دوزخ بری قرارگاہ اور جائے قیام ہے۔ یعنی دوزخ میں ٹھہرنا اور
رہنا برا ہے۔ (مطلب یہ کہ مستقر اور مقام بمعنئ مصدری ہیں) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
(65۔ 66) اور جو دعائیں مانگتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم سے دوزخ کا عذاب دور کیجیے کیوں کہ اس کا عذاب لازم ہونے والا اور پوری تباہی ہے۔ بیشک وہ برا ٹھکانا اور برا مقام ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّهَا سَاۗءَتْ مُسْتَــقَرًّا وَّمُقَامًا ”مُسْتَــقَرًّا“ کچھ مدت ٹھہرنے کی جگہ گناہ گار مسلمانوں کے لیے اور ”مُقَامًا“ ہمیشہ اقامت کی جگہ کفار کے لیے۔ یہ جملہ بھی رب رحمٰن اور عباد الرحمان دونوں کا ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
( والذین یقولون۔۔۔۔۔ )
والذین یقولون ربنا اصرف عنا عذاب جہنم وہ اطاعت کرنے کے لیے باوجود اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : وہ اپنے سجدوں اور اپنے قیام میں یہ دعا کرتے ہیں۔
ان عذابھا کان غراما جہنم کا عذاب لازمی، دائمی اور جدا نہ ہونے والا ہے، اس وجہ سے قرض خواہ کو غریم کہتے ہیں کیونکہ وہ مقروض کو لا حق رہتا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : فلان مغرم بکذا یعنی اسے لازم ہے، اس کے ساتھ سخت محبت کرنے والا ہے۔ کلام عرب میں یہی اس کا معنی ہے جو ابن عربی، ابن عرفہ اور دوسرے علماء نے کہا : اعشی نے کہا :
ان یعاقب یکن غراما وان یعط جزیلا فانہ لا یبالی
اگر وہ عقاب دے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
عبادالرحمن کے اوصاف
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وعباد الرحمن “ سے مراد ہے ایمان والے آیت ’ ’ الذین یمشود علی الارض ھونا “ یعنی وہ زمین پر چلتے ہیں اطاعت پاکدامنی اور تواضع کے ساتھ۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” یمشون علی الارض ھونا “ سے مراد ہیں علماء اور حکماء لوگ کہ وہ زمین پر تواضع کے ساتھ چلتے ہیں۔
3۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ھونا “ یہ سریانی زبان کا لفظ ہے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابو عمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ھونا “ سریانی زبان میں بردبار لوگوں کو کہتے ہیں۔
ابن ابی…
Read the full tafseer →اِنَّهَا [ بیشک ] سَاۗءَتْ [ بری ہے ] مُسْتَــقَرًّا [ قرار پکڑنے کی جگہ کے لحاظ سے ] وَّمُقَامًا [ اور ٹھہرائے جانے کی جگہ کے لحاظ سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–69
عباد الرحمن کی صفات اور ان کے اخلاق و اعمال
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نیک بندوں کی صفات بیان فرمائی ہیں اور انہیں عباد الرحمن کا معزز لقب دیا ہے ان حضرات کی جو چند صفات ذکر فرمائی ہیں ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ انہیں رحمن کا بندہ بتایا یہ بہت بڑا وصف ہے اور بہت بڑا لقب ہے یوں تکوینی طور پر سب ہی رحمن کے بندے ہیں لیکن اپنے اعتقاد سے اور اختیار سے اور اخلاص سے جس نے اپنی ذات کو سچے اعتقاد اور اخلاق کے ساتھ رحمن جل مجدہ کی عبادت میں لگا دیا اور رحمن جل مجدہ نے اس کے بارے میں یہ فرما دیا کہ یہ ہمارا بندہ ہے اس سے بڑھ کر بندہ کا کوئی اعزاز نہیں یہ بندے کا سب سے بڑا معزز لقب ہے اللہ تعالیٰ نے معراج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–77
مدح عباد رحمان و ذکر شمائل اہل ایمان و عرفان
قال اللہ تعالیٰ وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا۔۔۔ الی۔۔۔ فسوف یکون لزاما۔
(ربط) گزشتہ آیات میں رحمان سے نفرت کرنے والوں کا ذکر تھا، اب آئندہ آیات میں عباد رحمن یعنی رحمان کے خاص بندوں کے اوصاف کا ذکر ہے جس سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ رحمن کے بندے رحمن کی رحمتوں اور اس کی نعمتوں کا عملی طور پر کس طرح اور کس صورت میں شکر کرتے ہیں لہٰذا جو شخص رحمن کے آثار رحمت ونعمت کے تشکر کا ارادہ کرے اور رحمن کے آثار قدرت و عجائب صنعت میں تفکر اور تدبر کا ارادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ رحمن کے شکر گزار بندوں کے نقش قدم پر ثلے اور اگر بر بنائے غفلت اس سے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
44:۔ ” والذین یبیتون الخ “ یہ دوسری صفت ہے۔ اللہ کے وہ نیک بندے رات بھر اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے اور ساری رات نماز میں گذار دیتے ہیں۔ ” والذین یقولون الخ “ تیسری صفت وہ ہر وقت اللہ کے عذاب سے خائف اور لرزاں رہتے اور اللہ سے دعا مانگتے رہتے ہیں اے اللہ ! ہمیں عذاب جہنم سے بچائیو۔ کیونکہ اس کا عذاب ہلاکت خیز اور تباہ کن ہے اور وہ رہنے کی نہایت ہی بری جگہ ہے۔ ” غرام “ شر لازم اور عذاب دائم۔ الغرام الشر اللازم والھلاک الدائم (خازن ج 5 ص 108) ۔ ” والذین اذا انفقوا الخ “ یہ چوتھی صفت ہے۔ وہ زندگی کے معاملات میں خصوصا مال خرچ کرنے میں راہ اعتدال پر چلتے ہیں۔ مال خرچ کرنے میں نہ اسراف کرتے ہیں نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
ربط آیات
گزشتہ رکوع کے آخر میں مشرکین کا ذکر ہوا کہ جب انہیں خدائے رحمان کے سامنے سجدہ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں ۔ کون ہے رحمان ؟ ہم کسی رحمان کو نہیں جانتے ، اللہ نے ان کے اس بیہودہ کلام کے جواب میں خدائے رحمان کی صفات اور اس کے کمالات کا تذکرہ فرمایا کہ رحمان وہ برکتیں دینے والی ہستی ہے جس نے آسمانوں میں برج قائم کیے۔ سورج جیسا روشن چراغ اور چاند جیسا اجالا کرنے والا سیارہ بنایا ۔ اس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والا بنایا اور اس تغیر و تبدل میں خاص مصلحت رکھی جو نصیحت پکڑنے اور شکر ادا کرنے والوں کو دعوت و غور دے رہی ہے۔ اب اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے خدائے رحمان کے بندوں کی…
Read the full tafseer →اِنَّہَا سَاۗءَتْ مُسْتَــقَرًّا وَّمُقَامًا 66
ساء
ويقال : سَاءَنِي كذا، وسُؤْتَنِي، وأَسَأْتَ إلى فلان، قال : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، وقال : لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] ، مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ [ النساء/ 123] ، أي : قبیحا، وکذا قوله : زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمالِهِمْ [ التوبة/ 37] ، عَلَيْهِمْ دائِرَةُ السَّوْءِ [ الفتح/ 6] ، أي : ما يسوء هم في العاقبة، وکذا قوله : وَساءَتْ مَصِيراً [ النساء/ 97] ، وساءَتْ مُسْتَقَرًّا [ الفرقان/ 66] ، وأما قوله تعالی: فَإِذا نَزَلَ بِساحَتِهِمْ فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] ، وساءَ ما يَعْمَلُونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
(4) والذین یقولون ربنا اصرف الخ یعنی اس عبادت پر ان کو غرور نہیں بلکہ عذاب جہنم سے ڈرتے اور یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم سے عذاب جہنم کو دور رکھیو کیونکہ وہ درد ناک عذاب ہے اور جہنم بری جگہ ہے۔ (5) والذین اذا انفقوا الخ کہ خرچ کرنے میں درمیانہ روی کرتے ہیں نہ اسراف ہے نہ اقتار 1 ؎ کھانے پینے ‘ لباس ‘ مکان سب میں درمیانہ روی مستحسن ہے بعض کہتے ہیں گناہ کے کام میں صرف کرنا اسراف ہے اور حق اللہ میں دست کشی کرنا اقتار یعنی تنگدلی ہے۔ (6) والذین لایدعون الخ کہ وہ ہر حال میں شرک سے بچتے ہیں خدا کا کسی کو شریک نہیں سمجھتے اور کسی کو ناحق قتل بھی نہیں کرتے۔ جن مواقع میں قتل کی رخصت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
وَالَّذِیْنَ یَـقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَھَنَّمَ صلے ق اِنَّ عَذَابَھَا کَانَ غَرَامًا۔ اِنَّھَا سَـآئَ تْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا۔ (الفرقان : 65، 66)
(اور جو دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے، بیشک اس کا عذاب بالکل چمٹ جانے والی چیز ہے۔ بیشک وہ نہایت برا مستقر اور نہایت ہی برا مقام ہے۔ )
عبادت ان میں نیکی کا پندار پیدا نہیں کرتی
غور فرمایئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے جب چلتے ہیں تو ان کا ہر قدم اللہ تعالیٰ کے خوف سے گراں بار ہوتا ہے۔ انسانیت کے مقام کو سمجھنے کی وجہ سے نہایت عاجزی سے چلتے ہیں۔ ان کا سر اللہ تعالیٰ کے خوف سے جھکا رہتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ ” عباد الرحمن “ کے اوصاف۔
اس سے پہلے ” عباد الرحمن “ کی چال ڈھال، گفتار اور رات کے وقت ان کی اپنے رب کے حضور آہ و زاریوں کا تذکرہ ہوا۔ اب مالی معاملات میں ان کے کردار کا ذکر ہوتا ہے۔ ” الرحمن “ کے بندے جس طرح گفتار اور رفتار میں اعلیٰ معیار رکھتے ہیں اسی طرح ہی وہ خرچ میں میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔ خرچ کرتے وقت نہ وہ بےجا خرچ کرتے ہیں اور نہ وہ بخل کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔ دین اسلام کی یہ بھی خوبی ہے کہ دین عبادات اور معاملات دونوں میں اعتدال کا حکم دیتا ہے۔ اس لیے حکم ہوا ہے کہ فضول خرچی سے بچنے کے ساتھ بخیلی سے بھی مکمل اجتناب…
Read the full tafseer →جہنم بدترین قرارگاہ :
66: اِنَّھَا سَآ ئَ تْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا (وہ دوزخ بری قرار گاہ اور جائے قیام ہے۔ )
نحو : ساءت کا حکم بئست ہے۔ اس میں ضمیر مبہم ہے جس کی تفسیر مستقراً کررہا ہے اور مخصوص بالذم محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے ساءت مستقرا و مقاما ہی ہے ( وہ جہنم بہت بری قرار گاہ اور قیام گاہ ہے) اور یہی وہ ضمیر ہے جس نے جملہ کو اِنَّ کے اسم سے جوڑ دیا ہے اور اس کی خبر بنادیا ہے۔ نمبر 2۔ سا ءت بمعنی احزنت ہے اور اس میں ضمیر ہے جو اِنَّ کا اسم ہے اور مستقراً یہ حال ؔ یا تمیز ہے۔
قول آخر : اور یہ بھی صحیح ہے کہ دونوں تعلیلیں ایک دوسری میں داخل یا مترادف ہوں اور یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہو اور ان کے…
Read the full tafseer →66۔ انھا، اس کامرجع جہنم ہے۔ ساء ت مستقر ومقاما، یعنی براٹھکانا اور جائے قرار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
63۔ 67:۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا ‘ جن کے روبرو اللہ کی صفت رحمن بیان کی جاتی تھی ‘ تو وہ بدکتے تھے ‘ ایسے لوگوں کے قائل کرنے کے لیے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے رحمن کے بندوں کے پتے سے اپنے نیک بندوں کی یہ چند صفتیں بیان فرمائیں کہ وہ لوگ جب زمین پر چلتے پھرتے ہیں تو اترا کر نہیں چلتے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 3 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا پچھلی امتوں میں سے بعض اترا کر چلنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں دھنسا دیا ہے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ زمین پر اترا کر چلنے پھرنے کی عادت اللہ تعالیٰ کو بہت ناپسند ہے ‘ اسی واسطے جن لوگوں میں یہ عادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–77
آیت 63 سے 77
اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :
(1) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت : یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بدتمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ (ان کل من فی السموات والارض الی اتی الرحمن عبدا) (مریم : 19/93) ” آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ “
(2) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت : یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ومرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
قول باری ہے : (والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذلک قواما۔ ) جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ دونوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتے ہیں ۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے اس سلسلے میں روایت کی ہے کہ جو شخص اللہ کی نافرمانی میں ایک درہم بھی خرچ کرے گا وہ مسرف کہلائے گا (ولم یقتروا) انہوں نے کہا کہ اس سے بخل مراد ہے جس کے معنی اللہ کے حق کو روکنے کے ہیں۔ وکان بین ذلک قواما کی تفسیر انہوں نے یہ کی کہ ” اعتدال کی راہ اور طاعت خداوندی میں انفاق۔ “ ابن سیرین کا قول ہے سرف کے معنی ناحق خرچ کرنے کے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
84 اپنے رب سے عذاب دوزخ سے پناہ مانگنے کی صفت محمود کا ذکر وبیان : سو ۔ عباد الرحمن ۔ یعنی خدائے رحمان کے خاص بندوں کی ایک صفت یہ بیان فرمائی گئی کہ وہ اپنے رب سے دعائیں مانگتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم سے پھیر دے دوزخ کے عذاب کو۔ یعنی اس سب کے باوجود ان میں کوئی غرور یا تکبر پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اس کے باوجود دوزخ کے عذاب سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے رب کے حضور قیام کرتے اس کی جناب اقدس و اعلیٰ میں سجدہ ریز ہوتے اور عاجزانہ طور پر رو رو کر اور گڑ گڑا گڑ گڑا کر دعائیں کرتے ہیں کہ وہ محض اپنی رحمت و عنایت اور فضل و کرم سے ان سے دوزخ کے عذاب کو پھیر دے۔ اوپر ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
آسمانوں کے انتظام ‘ نیک لوگوں کی صفات اور انعام
تشریح : یہاں بھی کفار کو اللہ رحمن و رحیم کی کچھ اور مہربانیاں بتائی جا رہی ہیں جو خالصتاً اس وقت کے عرب بدئوں کے معیار کے مطابق بات کی جا رہی ہے۔ گو کہ اس میں بھی افلاک کے بہت سے رازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس وقت یعنی ساتویں صدی کے آغاز کا عرب بدو اپنی تہذیب ‘ زبان ‘ تشبیہ اور ثقافت کے معیار سے ہی بات سمجھ سکتا تھا کیونکہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب وہی عرب بدو تھا۔ لہٰذا رب ذوالجلال انہی کی زبان میں فرماتا ہے کہ ” بڑی بابرکت ہے اس کی ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور پھر سورج کا روشن چراغ رکھ دیا اور چاند کا اجالا کردیا۔ اور وہی ہے جس نے رات دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
وہ ذات بہت ہی برکت والی ہے جس نے انسان کو حیات کا اتنا وسیع نظام ایک بہت ہی خوبصورت انداز سے ترتیب دے کر ہر شے کو حتی کہ اجرام فلکی کو بھی انسان ہی کی خدمت پہ لگا دیا جو مدتوں سے اپنے اپنے کام کو پوری باقاعدگی سے انجام دے رہے ہیں اس نے آسمانوں کو پیدا فرمایا اور فضا سے آسمانی بروج یعنی اجرام فلکی کے ٹھکانے اور ان کی راہیں مقرر کردیں ، یہ علم ہیئت ، ستارے اور سیارے ان کی رفتار اور اس کے اثرات ان کا وجود اور اس کی تعمیر اور خصوصیات اس میں بہت لمبی بحث ہے خصوصا اس دور میں جبکہ انسانی قدم چاند تک جا پہنچے ہیں اور وہاں کی فضا اس کے اثرات اور ان کی رفتار اور اس کے اسباب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
3 ۔ یعنی نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ فضول خرچی یہ ہے کہ گناہ کے کاموں میں مال صرف کیا جائے اور بخل یہ ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ حقوق بھی ادا نہ کئے جائیں۔ (شوکانی) ۔
Read the full tafseer →(25:66) انھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جھنم کے لئے ہے۔
ساء ت : ساء یسوء (نصر) سوء سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے وہ بری ہے ۔
مستقرا۔ اسم ظرف مکان منصوب، بوجہ تمیز۔ استقرار (استفعال) مصدر بمعنی قرار گاہ۔ ٹھہرنے کی جگہ۔
مقام۔ اسم ظرف مکان۔ منصوب بوجہ تمیز اقامۃ (افعال) مصدر۔ رہنے کی جگہ یعنی جہنم بطور قرار گاہ اور جائے مقام بہت بری ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
لغات القرآن : آیت نمبر 61 تا 66 :
بروج (برج) (قلعہ۔ بڑے بڑے ستارے) ‘ سراج (چراغ۔ سورج) ‘ قمرمنیر (روشن چاند) ‘ خلفۃ (ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے) ‘ عباد الرحمن ( اللہ کے بندے۔ رحمن کے بندے) ‘ یمشون ( چلتے ہیں) ‘ ھون ( وقار۔ آہستہ اور نرمی) ‘ خاطب (خطاب کیا۔ گفتگو کی) ‘ سلام (سلام۔ سلامتی) ‘ یبیتون ( رات گزارتے ہیں) ‘ اصرف ( دور کردے پھیردے) ‘ غرام ( لپٹ جانا۔ چمٹ جانا) ‘ ساءت (برا) ‘ مستقر (ٹھکانا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 61 تا 66 :
آپ نے اس سے پہلی آیات میں کفار کا یہ انداز ملاحظہ کرلیا ہے کہ وہ اپنے حقیقی معبود اللہ تعالیٰ کو بھول کر بےحقیقت چیزوں کو معبود بنائے بیٹھے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
اللہ کے نیک بندوں کی خصوصیات کا ذکر۔
(ف 1) پہلے کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جن کے روبرو اللہ کی صفت رحمن بنائی جاتی تھی تو وہ بدکتے تھے ایسے لوگوں کے قائل کرنے کے لیے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے رحمن کے بندوں کی یہ چند صفتیں بیان فرمائیں کہ وہ لوگ جب زمین پرچلتے پھرتے ہیں تو اترا کر نہیں چلتے اور رحمن کے بندوں میں یہ بھی اچھی عادت ہے کہ وہ رات کو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ اور قیام میں عاجزی کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں ۔ ابن عباس نے فرمایا کہ جس کسی نے بعد عشا دو رکعت یا زیادہ نفل پڑھے وہ شب بیداری کرنے والے میں داخل ہے ۔ مسلم میں حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
[43] یعنی متکبروں کی طرح اکڑ کر پاؤں زور سے زمین پر مارتے ہوئے نہیں چلتے۔ ان کی چال ڈھال سے تواضع، متانت اور خاکساری ٹپکتی ہے۔ یہاں اللہ کے نیک اور مخلص بندوں کی خصوصیات گناتے ہوئے سب سے پہلے ان کی چال کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ آدمی کی چال محض اس کے انداز رفتار ہی کا نام نہیں ہے بلکہ درحقیقت وہ اس کی سیرت و کردار کی آئینہ دار بھی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
ف 2: یعنی مکہ والوں کے دل میں اس دجہ بتوں کی محبت ہے کہ وہ غلو میں معبود حقیقی کو بھی بھول گئے ہیں ۔ اور جب انہیں دعوت دی جاتی ہے ۔ کہ خدائے رحمن کے سامنے جھکو ۔ اور کسی چیز کی عبادت نہ کرو ۔ تو وہ ازراہ سرکشی کہتے ہیں ۔ یہ خدائے رحمن کون ہے ؟ کیا تمہارے کہنے پر ہم اللہ کی عبادت کرنے لگیں ۔ اور اپنے دیوتاؤں کو چھوڑ دیں ۔
یہ ملحوظ رہے کہ قالوا وما الرحمن سے اسم کا انکار مقصود نہیں ۔ مسمیٰ کا انکار مطلوب ہے اور یہ اس قلیل سے ہے جیسا کہ فرعون نے موسیٰ سے کہا ۔ وما رب العلمین !
حل لغات :۔ ھونا ۔ سہج سے ۔ ہولے ہولے ، بمعنے آرام وآہستگی ووقار ونرمی اور سی کی
غراما ۔ عذاب ۔ ہلاک ۔ ہمیشہ اور پیوستہ…
Read the full tafseer →(66) کیونکہ وہ جہنم با اعتبار ٹھہرنے کے بھی بری ہے اور با اعتبار رہنے کے بھی بری ہے یعنی تھوڑی دیر کو ٹھہر کر دم لینا بھی برا اور زیادہ دیر ٹھہر کر آرام و آسائش کی توقع کرنا بھی برا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–72
ف 3۔ یعنی نہ اس کی طرف مشغول ہوتے ہیں، اور نہ ان کے آثار سے عاصیوں کی تحقیر اور اپنا ترفع اور تکبر ظاہر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →وہ کہتے ہیں کہ دوزخ بلاشبہ ٹھہرنے کی ایک بہت بری جگہ ہے :
66۔ قرآن کریم میں جب وہ دوزخ کی صفات کو پڑھتے ہیں تو ان کا دل یقین کر گیا ہے کہ بلاشبہ دوزخ ایک بہت ہی بری جگہ کا نام ہے اس لئے وہ بار بار اللہ سے اپیل کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم کو اس کی لپیٹ سے بچا لیجئے اور اس سے دور ہی رکھئے ، دوزخ کیا ہے ؟ بلاشبہ وہ ایک شفاخانہ ہے لیکن شفاخانہ میں کون جاتے ہیں ؟ وہی جو بیمار ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اے اللہ مجھے صحت عطا فرمائے رکھ اور مجھے بیمار نہ فرما تاکہ آپریشن کی صعوبتیں سہنا نہ پڑیں اور اے اللہ مجھے اپنی امان میں رکھ دعا صحیح نہیں ہے ؟ کیوں نہیں بلاشبہ ایک صحت مند کو بھی صحت کے برقرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
The Fifth Characteristic
وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ (and those who say, "Our Lord, avert from us the punishment of Jahannam - 25:65). It means that despite their constant prayers day and night, these favoured ones do not sit content, but are always fearful of God and keep in mind the Day of Judgment. To that end they keep alive the righteous deeds as well as supplications before Allah.
Read the full tafseer →82 That is, their worship has not made them vain and proud to presume that they are the beloved ones of AIIah and that the Fire of Hell will not touch them. On the other hand, in spite of all their worship and good deeds, they are so tilled with the fear of the torment of Hell that they pray to their Lord to save them from it, for they do not depend upon their own work for success in the Hereafter but upon the mercy of Allah.
Read the full tafseer →