Al-Furqaan 25:65

Al-Furqaan · from ayah 65

25:65

وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖۗ— اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ۟ۗۖوَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَـنَّمَ ‌ۖ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا

اور جو دعا مانگتے رہتے ہیں کہ اے پروردگار دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھیو کہ اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who say, "Our Lord, avert from us the punishment of Hell. Indeed, its punishment is ever adhering;

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 6 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:65

جو دعائیں کرتے ہیں کہ "اے ہمارے رب، جہنم کے عذاب سے ہم کو بچا لے، اُس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو دعا مانگتے رہتے ہیں کہ اے پروردگار دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھیو کہ اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم سے دوزخ کا عذاب پرے ہی پرے رکھ، کیونکہ اس کا عذاب چمٹ جانے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو یہ کہتے ہیں کہ : ہمارے پروردگار ! جہنم کے عذاب کو ہم سے دور رکھیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا عذاب وہ تباہی ہے جو چمٹ کر رہ جاتی ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب! ہم سے پھیر دے جہنم کا عذاب، بیشک اس کا عذاب گلے کا غل (پھندا) ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو (ہمہ وقت حضورِ باری تعالیٰ میں) عرض گزار رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! تو ہم سے دوزخ کا عذاب ہٹا لے، بیشک اس کا عذاب بڑا مہلک (اور دائمی) ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہم سے جہنم کا عذاب پھیر دے۔ بیشک اس کا عذاب ہمیشہ چمٹ جانے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور دعا کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! جہنم کے عذاب سے ہمیں بچائے رکھنا، کیونکہ اس کا عذاب ٹلنے والا نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ بیشک اس کا عذاب بالکل چمٹ جانے والی چیز ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو دعائیں کرتے ہیں اپنے رب کے حضور کہ اے ہمارے رب پھیر دے ہم سے جہنم کا عذاب بیشک اس کا عذاب ایک بڑی ہی ہولناک اور چمٹ جانی والی شے ہے۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ جو دعائیں مانگتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم سے جہنم کے عذاب کو دور رکھیو کہ بیشک اس کا عذاب پوری تباہی ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اس کے باوجود) وہ لوگ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ ! عذاب جہنم کو ہم سے پھیر دے یقیناً اس کا عذاب چمٹ جانے والی شے ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ جو دعا مانگتے رہتے ہیں کہ اے رب العزت دوزخ کے عذاب سے ہم کو بچانا کہ اس کا عذاب بڑا تکلیف دینے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

who pray, "Our Lord, save us from the torment of Hell, for its torment is killing:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and those who say, :Our Lord, avert from us the punishment of Jahannam (the Hell); indeed, its punishment is a persisting affliction.

— Muhammad Taqi Usmani

and those who say, :Our Lord, avert from us the punishment of Jahannam (the Hell); indeed, its punishment is a persisting affliction.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who say: "Our Lord! Avert from us the torment of Hell. Verily, its torment is ever an inseparable, permanent punishment."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And who say: Our Lord! Avert from us the doom of hell; lo! the doom thereof is anguish;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who say, "Our Lord, avert from us the punishment of Hell. Indeed, its punishment is ever adhering;

— Saheeh International

who pray, "Lord, protect us from the torment of hell; it is a great loss.

— Muhammad Sarwar

And they who say: O our Lord! turn away from us the punishment of hell, surely the punishment thereof is a lasting

— Muhammad Habib Shakir

And these who say: our Lord! avert from us the torment of Hell verily the torment thereof is perishment.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who say, "Our Lord! avert from us the Wrath of Hell, for its Wrath is indeed an affliction grievous,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:65

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–67

مومنوں کا کردار اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہورہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم وستم نہیں کرتے، جیسے حضرت لقمان ؒ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلاکر۔ مگر اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر بیماروں کی طرح قدم قدم چلنا، یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لئے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی عادت اسکے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لئے لپٹی جارہی ہے۔ سلف…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 64–65

سورة الْفُرْقَان 81 یعنی وہ ان کے دن کی زندگی تھی اور یہ ان کی راتوں کی زندگی ہے۔ ان کی راتیں نہ عیاشی میں گزرتی ہیں نہ ناچ گانے میں، نہ لہو و لعب میں، نہ گپوں اور افسانہ گوئیوں میں، اور نہ ڈاکے مارنے اور چوریاں کرنے میں۔ جاہلیت کے ان معروف مشاغل کے برعکس یہ اس معاشرے کے وہ لوگ ہیں جن کی راتیں خدا کے حضور کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے دعا و عبادت کرتے گزرتی ہیں۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ ان کی زندگی کے اس پہلو کو نمایاں کر کے پیش کیا گیا ہے۔ مثلاً سورة سجدہ میں فرمایا تَتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفاً وَّ طَمَعاً ، " ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–66

پانچویں صفتوَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ الآیہ یعنی یہ مقبولین بارگاہ شب و روز عبادت و اطاعت میں مصروف رہنے کے باوجود بےخوف ہو کر نہیں بیٹھ رہتے بلکہ ہر وقت خدا کا خوف اور آخرت کی فکر رکھتے ہیں جس کے لئے عملی کوشش بھی جاری رہتی ہے اور اللہ تعال سے دعائیں بھی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 64–66

آیت 66-64 عباد الرحمٰن کی خلوت کی زندگی اوپر کی آیت میں ان کی جلوت کی زندگی کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ سا آیت میں ان کی خلوت کی زندگی پر روشنی ڈالی گی ہے۔ فرمایا کہ وہ اپنی راتیں اپنے رب کے آگے سجود و قیام میں گزارتے ہیں۔ سجد او قیاماً کے اسلوب بیان سے جو شوق و اضطراب نمایاں ہو رہا ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے ظاہر کہ اس سے صرف فرض نمازیں مراد نہیں ہیں بلکہ یہ تہجد کے سجود و قیام کی شب بیداریوں اور بےقراریوں کی تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی راتیں نہ عیش کدوں میں گزارتے اور نہ نرم و گرم بستروں میں دنیا و عاقبت سے بےفکر ہو کر سوتے بلکہ راتوں میں اٹھ اٹھ کر عذاب جہنم سے بچائے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 65–66

65-1اس سے معلوم ہوا کہ رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو ایک طرف راتوں کو اٹھ کر عبادت کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ ڈرتے بھی ہیں کہ کہیں کسی غلطی یا کوتاہی پر اللہ کی گرفت میں نہ آجائیں، اس لئے وہ عذاب جہنم سے پناہ طلب کرتے ہیں۔ گویا اللہ کی عبادت و اطاعت کے باوجود اللہ کے عذاب اور اس کے مؤاخذے سے انسان کو بےخوف اور اپنی عبادت و اطاعت الٰہی پر کسی غرور اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ اسی مفہوم کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے۔ (وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ) 23۔ المومنون :60) اور وہ لوگ کہ جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل ڈرتے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–69

24: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر و شرک کا ارتکاب کریں، کیونکہ مومن عذاب میں ہمیشہ نہیں رہیں گے اور اگر انہوں نے گناہ کیے ہوں گے تو اس کی سزا پا کر جنت میں جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 65–66

والذین ……ومقاماً (66) اللہ کے بندوں کی نمازوں کی تعبیر یہاں ارکان نماز سجود و قیام سے کی گئی تاکہ یہ معلوم ہو کہ ان کی سرگرمیاں کیا تھیں۔ راتوں کو جب تمام مخلوق سوتی ہے تو وہ جاگ رہے ہوتے ہیں۔ رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ وہ صرف اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور صرف اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ صرف اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور راتوں کو وہ فرحت بخش اور لذیذ نیند ترک کرتے ہیں کیونکہ ان کو اس میٹھی اور لذیذ نیند سے اللہ کے سامنے قیام و سجود میں زیادہ لذدت آتی ہے۔ ان کا جسم ان کی روح اور ان کی سوچ اللہ سے وابستہ ہوتی ہے۔ اس لئے لوگ غفلت کی نیند سوتے ہیں اور وہ رکوع و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 65–66

11 یعنی اتنی عبادت پر اتنا خوف بھی ہے۔ یہ نہیں کہ تہجد کی آٹھ رکعت پڑھ کر خدا کے عذاب و قہر سے بےفکر ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 65 وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَق اِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا ” سورۃ النور میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب بندوں کی ایسی ہی کیفیت بیان فرمائی ہے : یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ ”وہ ڈرتے رہتے ہیں اس دن کے خیال سے جس میں دل اور نگاہیں الٹ دیے جائیں گے“۔ یعنی اگرچہ وہ اپنی ہر مصروفیت پر اللہ کے ذکر کو ترجیح دیتے ہیں اور ہر حالت میں نماز قائم کرتے ہیں ‘ مگر اس سب کچھ کے باوجود بھی وہ احتساب آخرت کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 64–65

82 اللہ کے بندوں کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ راتوں کو بھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں رہتے۔ بلکہ انھیں رات کو عبادت میں زیادہ مزا آتا ہے۔ اس لئے کہ ایک تو رات کی عبادت میں ریا کا شائبہ نہیں ہوتا۔ دوسرے رات کی تنہائیوں میں بندہ جس طرح اللہ کی طرف متوجہ ہوسکتا ہے اور مناجات کرسکتا ہے دن کو نہیں کرسکتا۔ اسی لئے احادیث میں رات کی عبادت اور بالخصوص نماز تہجد کی بہت فضیلت مذکور ہے۔ نیز حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات قسم کے آدمیوں کو اپنے سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ان سات آدمیوں میں سے ایک وہ شخص ہوگا جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 65–66

76۔ باوجود طاعت و عبادت میں اس اہتمام تام کے ان کی خشیت قلب کی کیفیت یہ رہتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–77

آیت نمبر 61 تا 77 ترجمہ : وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے آسمانوں میں بارہ برج بنائے (1) حَمَلْ (2) ثور (3) الجوزاء (4) السرطان (5) الاسد (6) السنبلہ (7) المیزان (8) العقرب (9) القوس (10) الجدی (11) الدلو (12) الحوت یہ سبع سیارہ کی منزلیں ہیں (اور وہ سبع سیارہ یہ ہیں) (1) المریخ : اس کی منزل حمل اور عقرب ہے (2) زہرہ : اس کی منزل ثور اور میزان ہے (3) عطارد : اس کی منزل جوزاء اور سنبلہ ہے (4) القمر اس کی منزل سرطان ہے (5) الشمس اس کی منزل اسد ہے (6) المشتری : اس کی منزل قوس اور حوت ہیں (7) زحل اس کی منزل جدی اور دلو ہے، اور اس نے آسمان میں چراغ بھی بنایا اور وہ سورج ہے اور نورانی چاند بنایا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین یقولون ربنا اصرف عنا عذاب جہنم ان عذابہا کان غراما۔ اور وہ لوگ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہماری طرف سے عذاب جہنم (کا رخ) پھیر دے بلاشبہ جہنم کا عذاب بڑا سخت ہے۔ یعنی وہ اللہ کی عبادت میں سرگرم رہتے ہیں ‘ مخلوق سے معاشرتی ‘ سماجی اور اخلاقی تعلقات بھی مبنی بر انصاف رکھتے ہیں اس کے باوجود وہ اللہ کے عذاب سے خوف زدہ رہتے ہیں اللہ کے سامنے زاری کرتے ہیں کہ وہ اپنا عذاب ان کی طرف سے پھیر دے کیونکہ ان کو اپنے اعمال پر بھروسہ نہیں ہوتا نہ وہ اپنی حالت پر اعتماد رکھتے ہیں۔ حضرت علی ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے انبیاء بنی اسرائیل میں سے ایک نبی (یعنی حضرت داؤد ( علیہ السلام) کے پاس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 65–66

(65۔ 66) اور جو دعائیں مانگتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم سے دوزخ کا عذاب دور کیجیے کیوں کہ اس کا عذاب لازم ہونے والا اور پوری تباہی ہے۔ بیشک وہ برا ٹھکانا اور برا مقام ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا۔۔ : مخلوق اور خالق کے ساتھ اپنا معاملہ درست کرنے کے باوجود ان میں غرور یا خود پسندی کا شائبہ تک نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے اپنے آپ کو عذاب کا مستحق سمجھتے ہوئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت اور عفو کے طلب گار اور عذاب جہنم سے بچنے کے خواست گار رہتے ہیں۔ سورة مومنون کی آیت (60) : (وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ) (اور وہ کہ انھوں نے جو کچھ دیا اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں) میں ان کی یہی کیفیت بیان ہوئی ہے اور سورة ذاریات کی آیت (17، 18) : (كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 65–66

( والذین یقولون۔۔۔۔۔ ) والذین یقولون ربنا اصرف عنا عذاب جہنم وہ اطاعت کرنے کے لیے باوجود اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : وہ اپنے سجدوں اور اپنے قیام میں یہ دعا کرتے ہیں۔ ان عذابھا کان غراما جہنم کا عذاب لازمی، دائمی اور جدا نہ ہونے والا ہے، اس وجہ سے قرض خواہ کو غریم کہتے ہیں کیونکہ وہ مقروض کو لا حق رہتا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : فلان مغرم بکذا یعنی اسے لازم ہے، اس کے ساتھ سخت محبت کرنے والا ہے۔ کلام عرب میں یہی اس کا معنی ہے جو ابن عربی، ابن عرفہ اور دوسرے علماء نے کہا : اعشی نے کہا : ان یعاقب یکن غراما وان یعط جزیلا فانہ لا یبالی اگر وہ عقاب دے تو وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 63–67

عبادالرحمن کے اوصاف 1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وعباد الرحمن “ سے مراد ہے ایمان والے آیت ’ ’ الذین یمشود علی الارض ھونا “ یعنی وہ زمین پر چلتے ہیں اطاعت پاکدامنی اور تواضع کے ساتھ۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” یمشون علی الارض ھونا “ سے مراد ہیں علماء اور حکماء لوگ کہ وہ زمین پر تواضع کے ساتھ چلتے ہیں۔ 3۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ھونا “ یہ سریانی زبان کا لفظ ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو عمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ھونا “ سریانی زبان میں بردبار لوگوں کو کہتے ہیں۔ ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] يَقُوْلُوْنَ [ کہتے ہیں ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] اصْرِفْ [ تو پھیر دے ] عَنَّا [ ہم سے ] عَذَابَ جَهَنَّمَ [ جہنم کا عذاب کو ] اِنَّ [ بیشک ] عَذَابَهَا [ اس کا عذاب ] كَانَ [ ہے ] غَرَامًا [ چمٹنے والی چیز ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 63–69

عباد الرحمن کی صفات اور ان کے اخلاق و اعمال ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نیک بندوں کی صفات بیان فرمائی ہیں اور انہیں عباد الرحمن کا معزز لقب دیا ہے ان حضرات کی جو چند صفات ذکر فرمائی ہیں ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ انہیں رحمن کا بندہ بتایا یہ بہت بڑا وصف ہے اور بہت بڑا لقب ہے یوں تکوینی طور پر سب ہی رحمن کے بندے ہیں لیکن اپنے اعتقاد سے اور اختیار سے اور اخلاص سے جس نے اپنی ذات کو سچے اعتقاد اور اخلاق کے ساتھ رحمن جل مجدہ کی عبادت میں لگا دیا اور رحمن جل مجدہ نے اس کے بارے میں یہ فرما دیا کہ یہ ہمارا بندہ ہے اس سے بڑھ کر بندہ کا کوئی اعزاز نہیں یہ بندے کا سب سے بڑا معزز لقب ہے اللہ تعالیٰ نے معراج…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–77

مدح عباد رحمان و ذکر شمائل اہل ایمان و عرفان قال اللہ تعالیٰ وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا۔۔۔ الی۔۔۔ فسوف یکون لزاما۔ (ربط) گزشتہ آیات میں رحمان سے نفرت کرنے والوں کا ذکر تھا، اب آئندہ آیات میں عباد رحمن یعنی رحمان کے خاص بندوں کے اوصاف کا ذکر ہے جس سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ رحمن کے بندے رحمن کی رحمتوں اور اس کی نعمتوں کا عملی طور پر کس طرح اور کس صورت میں شکر کرتے ہیں لہٰذا جو شخص رحمن کے آثار رحمت ونعمت کے تشکر کا ارادہ کرے اور رحمن کے آثار قدرت و عجائب صنعت میں تفکر اور تدبر کا ارادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ رحمن کے شکر گزار بندوں کے نقش قدم پر ثلے اور اگر بر بنائے غفلت اس سے کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 64–67

44:۔ ” والذین یبیتون الخ “ یہ دوسری صفت ہے۔ اللہ کے وہ نیک بندے رات بھر اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے اور ساری رات نماز میں گذار دیتے ہیں۔ ” والذین یقولون الخ “ تیسری صفت وہ ہر وقت اللہ کے عذاب سے خائف اور لرزاں رہتے اور اللہ سے دعا مانگتے رہتے ہیں اے اللہ ! ہمیں عذاب جہنم سے بچائیو۔ کیونکہ اس کا عذاب ہلاکت خیز اور تباہ کن ہے اور وہ رہنے کی نہایت ہی بری جگہ ہے۔ ” غرام “ شر لازم اور عذاب دائم۔ الغرام الشر اللازم والھلاک الدائم (خازن ج 5 ص 108) ۔ ” والذین اذا انفقوا الخ “ یہ چوتھی صفت ہے۔ وہ زندگی کے معاملات میں خصوصا مال خرچ کرنے میں راہ اعتدال پر چلتے ہیں۔ مال خرچ کرنے میں نہ اسراف کرتے ہیں نہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 63–67

ربط آیات گزشتہ رکوع کے آخر میں مشرکین کا ذکر ہوا کہ جب انہیں خدائے رحمان کے سامنے سجدہ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں ۔ کون ہے رحمان ؟ ہم کسی رحمان کو نہیں جانتے ، اللہ نے ان کے اس بیہودہ کلام کے جواب میں خدائے رحمان کی صفات اور اس کے کمالات کا تذکرہ فرمایا کہ رحمان وہ برکتیں دینے والی ہستی ہے جس نے آسمانوں میں برج قائم کیے۔ سورج جیسا روشن چراغ اور چاند جیسا اجالا کرنے والا سیارہ بنایا ۔ اس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والا بنایا اور اس تغیر و تبدل میں خاص مصلحت رکھی جو نصیحت پکڑنے اور شکر ادا کرنے والوں کو دعوت و غور دے رہی ہے۔ اب اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے خدائے رحمان کے بندوں کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ۝ 0 ۤۖ اِنَّ عَذَابَہَا كَانَ غَرَامًا۝ 6 5ۤۖ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ صرف الصَّرْفُ : ردّ الشیء من حالة إلى حالة، أو إبداله بغیره، يقال : صَرَفْتُهُ فَانْصَرَفَ. قال تعالی: ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152] ( ص ر) الصرف کے معنی ہیں کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیر دینا یا کسی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 65–66

(4) والذین یقولون ربنا اصرف الخ یعنی اس عبادت پر ان کو غرور نہیں بلکہ عذاب جہنم سے ڈرتے اور یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم سے عذاب جہنم کو دور رکھیو کیونکہ وہ درد ناک عذاب ہے اور جہنم بری جگہ ہے۔ (5) والذین اذا انفقوا الخ کہ خرچ کرنے میں درمیانہ روی کرتے ہیں نہ اسراف ہے نہ اقتار 1 ؎ کھانے پینے ‘ لباس ‘ مکان سب میں درمیانہ روی مستحسن ہے بعض کہتے ہیں گناہ کے کام میں صرف کرنا اسراف ہے اور حق اللہ میں دست کشی کرنا اقتار یعنی تنگدلی ہے۔ (6) والذین لایدعون الخ کہ وہ ہر حال میں شرک سے بچتے ہیں خدا کا کسی کو شریک نہیں سمجھتے اور کسی کو ناحق قتل بھی نہیں کرتے۔ جن مواقع میں قتل کی رخصت ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 65–66

وَالَّذِیْنَ یَـقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَھَنَّمَ صلے ق اِنَّ عَذَابَھَا کَانَ غَرَامًا۔ اِنَّھَا سَـآئَ تْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا۔ (الفرقان : 65، 66) (اور جو دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے، بیشک اس کا عذاب بالکل چمٹ جانے والی چیز ہے۔ بیشک وہ نہایت برا مستقر اور نہایت ہی برا مقام ہے۔ ) عبادت ان میں نیکی کا پندار پیدا نہیں کرتی غور فرمایئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے جب چلتے ہیں تو ان کا ہر قدم اللہ تعالیٰ کے خوف سے گراں بار ہوتا ہے۔ انسانیت کے مقام کو سمجھنے کی وجہ سے نہایت عاجزی سے چلتے ہیں۔ ان کا سر اللہ تعالیٰ کے خوف سے جھکا رہتا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 64–65

فہم القرآن ربط کلام : عباد الرّحمن کے اوصاف کا تذکرہ جاری ہے۔ الرّحمن کے بندے پوری رات سونے کی بجائے رات کا کچھ حصہ آرام کرنے کے بعد اٹھ کھڑتے ہوتے ہیں۔ ان کے اٹھنے کی کیفیّت قرآن مجید نے یوں بیان کی ہے کہ الرّحمن کے بندے اپنے بستروں سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے رب کو امید اور خوف کی کیفیت میں پکارتے ہیں۔ (السجدۃ : 16) وہ رات کے وقت اپنے رب کے حضور سجدہ اور قیام کرتے ہیں اپنے رب سے فریاد پر فریاد کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمانا۔ بیشک جہنم کا عذاب چمٹ جانے والا ہے یقیناً جہنم ٹھہرنے اور قیام کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔ سحری کا وقت حاجات و مناجات اور سکون و اطمینان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

65: وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عََذَابَ جَھَنَّمَ اِنَّ عَذَابَھَا کَانَ غَرَامًا (اور وہ لوگ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہماری طرف سے عذاب جہنم (کارخ) پھیر دے بلاشبہ جہنم کا عذاب بڑا سخت ہے) ۔ غرامًا وہ ہلاکت جو لازم ہوجانے والی ہو۔ اسی سے الغریمؔ کا لفظ ہے کیونکہ وہ اس کو لازم پکڑتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی احیائے لیل کی تعریف فرمائی کہ وہ سجدہ و قیام کی حالت میں رات گزاردیتے ہیں پھر ان کی دعا کا ذکر کیا گیا تاکہ وہ باوجود اتنی محنت و کوشش جو عبادت کے سلسلہ میں انجام دیتے ہیں پھر بھی خوف زدہ اور دعا میں خوب گڑگڑانے والے ہیں کہ اے اللہ ہم سے جہنم کا عذاب پھیر دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 65۔ والذین یقولون ربنااصرف عنا، ،،۔ غرام کا معنی ہیی بہت سخت چمٹنے والا۔ کفار کو ایسا عذاب دیاجائے گا، جوان سے جدا ہونے والا نہیں ہوگا، اور قرض دار کو بھی غریم کہتے ہیں کہ وہ قرض خواہ کو چمٹارہتا ہے۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا کہ اللہ نے کافروں کو حکم دیا کہ اس کی نعمتوں کا شکراداکریں لیکن انہوں نے شکرادا نہیں کیا، اس لیے اللہ نے ان پر سخت مصیبت ڈال دی اور وہ دوزخ میں رہیں گے حسن نے کہا کہ ہر غریم اپنے غریم سے جدا ہوتا ہے لیکن جہنم جدا نہیں ہوگی۔ غرام شر لازم کو کہتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ غرام ہلاکت کو کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 63–67

63۔ 67:۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا ‘ جن کے روبرو اللہ کی صفت رحمن بیان کی جاتی تھی ‘ تو وہ بدکتے تھے ‘ ایسے لوگوں کے قائل کرنے کے لیے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے رحمن کے بندوں کے پتے سے اپنے نیک بندوں کی یہ چند صفتیں بیان فرمائیں کہ وہ لوگ جب زمین پر چلتے پھرتے ہیں تو اترا کر نہیں چلتے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 3 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا پچھلی امتوں میں سے بعض اترا کر چلنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں دھنسا دیا ہے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ زمین پر اترا کر چلنے پھرنے کی عادت اللہ تعالیٰ کو بہت ناپسند ہے ‘ اسی واسطے جن لوگوں میں یہ عادت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 63–77

آیت 63 سے 77 اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں : (1) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت : یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بدتمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ (ان کل من فی السموات والارض الی اتی الرحمن عبدا) (مریم : 19/93) ” آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ “ (2) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت : یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ومرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 64–65

قول باری ہے : (ان عذابھا کان غراما۔ اس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے۔ ) ایک قول کے مطابق (غراما) کے معنی لازم، چمٹ جانے والا اور ہمیشہ ساتھ لگا رہنے والا کے ہیں۔ اسی سے غریم یعنی قرض خواہ کا لفظ نکلا ہے کیونکہ قرض خواہ اپنے مقروض کے ساتھ چمٹا رہتا ہے ۔ اسی سے یہ محاورہ بھی ہے۔ ” انہ لمغرم بانسانء “ (فلاں شخص عورتوں کا دیوانہ ہے) یعنی ان کے پیچھے لگا رہتا ہے اور اسے ان کے بغیر چین نہیں آتا۔ اعشیٰ کا شعر ہے۔ ان یعاقب یکن غراما وان یعط جزیلا فانہ لا یبالی اگر اسے سزا دی جائے تو وہ دیوانہ ہوجائے گا اور اگر اسے بڑا حصہ دیا جائے تو اس کی پروا نہیں کرے گا۔ بشر بن ابی حازم کا شعر ہے : یوم النسار ویوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 65–66

84 اپنے رب سے عذاب دوزخ سے پناہ مانگنے کی صفت محمود کا ذکر وبیان : سو ۔ عباد الرحمن ۔ یعنی خدائے رحمان کے خاص بندوں کی ایک صفت یہ بیان فرمائی گئی کہ وہ اپنے رب سے دعائیں مانگتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم سے پھیر دے دوزخ کے عذاب کو۔ یعنی اس سب کے باوجود ان میں کوئی غرور یا تکبر پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اس کے باوجود دوزخ کے عذاب سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے رب کے حضور قیام کرتے اس کی جناب اقدس و اعلیٰ میں سجدہ ریز ہوتے اور عاجزانہ طور پر رو رو کر اور گڑ گڑا گڑ گڑا کر دعائیں کرتے ہیں کہ وہ محض اپنی رحمت و عنایت اور فضل و کرم سے ان سے دوزخ کے عذاب کو پھیر دے۔ اوپر ان کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–77

آسمانوں کے انتظام ‘ نیک لوگوں کی صفات اور انعام تشریح : یہاں بھی کفار کو اللہ رحمن و رحیم کی کچھ اور مہربانیاں بتائی جا رہی ہیں جو خالصتاً اس وقت کے عرب بدئوں کے معیار کے مطابق بات کی جا رہی ہے۔ گو کہ اس میں بھی افلاک کے بہت سے رازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس وقت یعنی ساتویں صدی کے آغاز کا عرب بدو اپنی تہذیب ‘ زبان ‘ تشبیہ اور ثقافت کے معیار سے ہی بات سمجھ سکتا تھا کیونکہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب وہی عرب بدو تھا۔ لہٰذا رب ذوالجلال انہی کی زبان میں فرماتا ہے کہ ” بڑی بابرکت ہے اس کی ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور پھر سورج کا روشن چراغ رکھ دیا اور چاند کا اجالا کردیا۔ اور وہی ہے جس نے رات دن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–77

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف وہ ذات بہت ہی برکت والی ہے جس نے انسان کو حیات کا اتنا وسیع نظام ایک بہت ہی خوبصورت انداز سے ترتیب دے کر ہر شے کو حتی کہ اجرام فلکی کو بھی انسان ہی کی خدمت پہ لگا دیا جو مدتوں سے اپنے اپنے کام کو پوری باقاعدگی سے انجام دے رہے ہیں اس نے آسمانوں کو پیدا فرمایا اور فضا سے آسمانی بروج یعنی اجرام فلکی کے ٹھکانے اور ان کی راہیں مقرر کردیں ، یہ علم ہیئت ، ستارے اور سیارے ان کی رفتار اور اس کے اثرات ان کا وجود اور اس کی تعمیر اور خصوصیات اس میں بہت لمبی بحث ہے خصوصا اس دور میں جبکہ انسانی قدم چاند تک جا پہنچے ہیں اور وہاں کی فضا اس کے اثرات اور ان کی رفتار اور اس کے اسباب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 64–65

2 ۔ یعنی ایسا چمٹ جانے والا جو کسی طرح الگ نہ ہو۔ اسی سے فریم ہے یعنی صاحب قرض جو پیچھا نہ چھوڑے۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:65) اصرف : صرف یصرف (ضرب) صرف سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر تو ہٹا دے۔ تو پھیر دے۔ غراما : الغرم مفت کا تاوان یا جرمانہ ۔ وہ مال نقصان جو کسی قسم کی خیانت یا جنایت (جرم) کا ارتکاب کئے بغیر انسان کو اٹھانا پڑے۔ مثلاٍ قرآن مجید میں ہے انا لمغرمون (56:66) (ہائے) ہم مفت میں تاوان میں پھنس گئے یا فھم من مغرم مثقلون (52:40) کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے۔ اور جو تکلیف یا مصیبت پہنچتی ہے اسے غرام کہاجاتا ہے لہٰذا پیہم تکلیف یا ہلاکت کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے ان عذابھا کان غراما بیشک اس کا عذاب پیہم اور ہلاکت خیز ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–66

لغات القرآن : آیت نمبر 61 تا 66 : بروج (برج) (قلعہ۔ بڑے بڑے ستارے) ‘ سراج (چراغ۔ سورج) ‘ قمرمنیر (روشن چاند) ‘ خلفۃ (ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے) ‘ عباد الرحمن ( اللہ کے بندے۔ رحمن کے بندے) ‘ یمشون ( چلتے ہیں) ‘ ھون ( وقار۔ آہستہ اور نرمی) ‘ خاطب (خطاب کیا۔ گفتگو کی) ‘ سلام (سلام۔ سلامتی) ‘ یبیتون ( رات گزارتے ہیں) ‘ اصرف ( دور کردے پھیردے) ‘ غرام ( لپٹ جانا۔ چمٹ جانا) ‘ ساءت (برا) ‘ مستقر (ٹھکانا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 61 تا 66 : آپ نے اس سے پہلی آیات میں کفار کا یہ انداز ملاحظہ کرلیا ہے کہ وہ اپنے حقیقی معبود اللہ تعالیٰ کو بھول کر بےحقیقت چیزوں کو معبود بنائے بیٹھے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–67

اللہ کے نیک بندوں کی خصوصیات کا ذکر۔ (ف 1) پہلے کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جن کے روبرو اللہ کی صفت رحمن بنائی جاتی تھی تو وہ بدکتے تھے ایسے لوگوں کے قائل کرنے کے لیے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے رحمن کے بندوں کی یہ چند صفتیں بیان فرمائیں کہ وہ لوگ جب زمین پرچلتے پھرتے ہیں تو اترا کر نہیں چلتے اور رحمن کے بندوں میں یہ بھی اچھی عادت ہے کہ وہ رات کو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ اور قیام میں عاجزی کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں ۔ ابن عباس نے فرمایا کہ جس کسی نے بعد عشا دو رکعت یا زیادہ نفل پڑھے وہ شب بیداری کرنے والے میں داخل ہے ۔ مسلم میں حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ جس نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 63–68

[43] یعنی متکبروں کی طرح اکڑ کر پاؤں زور سے زمین پر مارتے ہوئے نہیں چلتے۔ ان کی چال ڈھال سے تواضع، متانت اور خاکساری ٹپکتی ہے۔ یہاں اللہ کے نیک اور مخلص بندوں کی خصوصیات گناتے ہوئے سب سے پہلے ان کی چال کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ آدمی کی چال محض اس کے انداز رفتار ہی کا نام نہیں ہے بلکہ درحقیقت وہ اس کی سیرت و کردار کی آئینہ دار بھی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 63–67

ف 2: یعنی مکہ والوں کے دل میں اس دجہ بتوں کی محبت ہے کہ وہ غلو میں معبود حقیقی کو بھی بھول گئے ہیں ۔ اور جب انہیں دعوت دی جاتی ہے ۔ کہ خدائے رحمن کے سامنے جھکو ۔ اور کسی چیز کی عبادت نہ کرو ۔ تو وہ ازراہ سرکشی کہتے ہیں ۔ یہ خدائے رحمن کون ہے ؟ کیا تمہارے کہنے پر ہم اللہ کی عبادت کرنے لگیں ۔ اور اپنے دیوتاؤں کو چھوڑ دیں ۔ یہ ملحوظ رہے کہ قالوا وما الرحمن سے اسم کا انکار مقصود نہیں ۔ مسمیٰ کا انکار مطلوب ہے اور یہ اس قلیل سے ہے جیسا کہ فرعون نے موسیٰ سے کہا ۔ وما رب العلمین ! حل لغات :۔ ھونا ۔ سہج سے ۔ ہولے ہولے ، بمعنے آرام وآہستگی ووقار ونرمی اور سی کی غراما ۔ عذاب ۔ ہلاک ۔ ہمیشہ اور پیوستہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(65) اور وہ جو یوں دعائیں کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم سے جہنم کے عذاب کو دور رکھیو کیونکہ دوزخ کا عذاب ہمیشہ کی تباہی اور چمٹ جانے والا ہے یعنی باوجود اس قدر احتیاط اور عبادت کے جہنم اور اس کے عذاب سے ڈرتے اور پناہ مانگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 64–72

ف 3۔ یعنی نہ اس کی طرف مشغول ہوتے ہیں، اور نہ ان کے آثار سے عاصیوں کی تحقیر اور اپنا ترفع اور تکبر ظاہر ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ لوگ بدرگاہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام مناجات کرتے ہیں : 65۔ بلاشبہ یہ لوگ صوم وصلوۃ کے پابند ‘ زکوۃ وحج کے ادا کرنے کے ساتھ ساتھ راتوں کو بھی یاد الہی میں قیام و رکوع اور سجدے کرے ہیں گویا ہر طرح کی عبادت کرنے کے باوجود وہ اپنے آپ کو لغزش سے مبرا اور پاک وبے عیب نہیں سمجھتے بلکہ ان کو ہر وقت یہ خوف لگا رہتا ہے کہ ان کو جس طرح عبادت کرنا چاہئے ویسے نہیں کرسکے کہیں اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر یا ان کی قوم پر نہ آدھمکے وہ بار بارگاہ ایزدی میں عرض کرتے ہیں رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم سے عذاب جہنم دور فرما دے کیونکہ تیرا عذاب ایک بہت بڑی بھاری مصیبت ہے (غرم) قرض ‘ تاوان اور ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–66

The Fifth Characteristic وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَ‌بَّنَا اصْرِ‌فْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ (and those who say, "Our Lord, avert from us the punishment of Jahannam - 25:65). It means that despite their constant prayers day and night, these favoured ones do not sit content, but are always fearful of God and keep in mind the Day of Judgment. To that end they keep alive the righteous deeds as well as supplications before Allah.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–65

81 That is, they neither spend their nights in fun and merry-making nor in gossips and telling tales, nor in doing wicked deeds, for these are the ways of the ignorant people. The true servants of Allah pass their nights in worshipping and remembering Him as much as they can. This characteristic of theirs has been brought out clearly at several places in the Qur'an, thus: "their backs forsake their beds and they invoke their Lord in fear and in hope." (As-Sajdah: 16). "These people (of Paradise) slept but little at night, and prayed for their forgiveness in the hours of the morning."…

Read the full tafseer →