Explained with ayahs 63–67
مومنوں کا کردار
اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہورہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم وستم نہیں کرتے، جیسے حضرت لقمان ؒ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلاکر۔ مگر اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر بیماروں کی طرح قدم قدم چلنا، یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لئے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی عادت اسکے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لئے لپٹی جارہی ہے۔ سلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
سورة الْفُرْقَان 81
یعنی وہ ان کے دن کی زندگی تھی اور یہ ان کی راتوں کی زندگی ہے۔ ان کی راتیں نہ عیاشی میں گزرتی ہیں نہ ناچ گانے میں، نہ لہو و لعب میں، نہ گپوں اور افسانہ گوئیوں میں، اور نہ ڈاکے مارنے اور چوریاں کرنے میں۔ جاہلیت کے ان معروف مشاغل کے برعکس یہ اس معاشرے کے وہ لوگ ہیں جن کی راتیں خدا کے حضور کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے دعا و عبادت کرتے گزرتی ہیں۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ ان کی زندگی کے اس پہلو کو نمایاں کر کے پیش کیا گیا ہے۔ مثلاً سورة سجدہ میں فرمایا تَتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفاً وَّ طَمَعاً ، " ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو…
Read the full tafseer →چوتھی صفتوَالَّذِيْنَ يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّقِيَامًا، یعنی وہ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے۔ عبادت میں شب بیداری کا ذکر خصوصیت سے اس لئے کیا گیا کہ یہ وقت سونے آرام کرنے کا ہے اس میں نماز و عبادت کے لئے کھڑا ہونا خاص مشقت بھی ہے اور اس میں ریا و نمود کے خطرات بھی نہیں ہیں۔ منشاء یہ ہے کہ ان کا لیل و نہار اللہ کی اطاعت میں مشغول ہے دن کو تعلیم و تبلیغ اور جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ کے کام ہیں رات کو اللہ کے سامنے عبادت گزاری کرنا ہے۔ تہجد کی نماز کی حدیث میں بڑی فضیلت آئی ہے۔ ترمذی نے حضرت ابوامامہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
آیت 66-64
عباد الرحمٰن کی خلوت کی زندگی
اوپر کی آیت میں ان کی جلوت کی زندگی کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ سا آیت میں ان کی خلوت کی زندگی پر روشنی ڈالی گی ہے۔ فرمایا کہ وہ اپنی راتیں اپنے رب کے آگے سجود و قیام میں گزارتے ہیں۔ سجد او قیاماً کے اسلوب بیان سے جو شوق و اضطراب نمایاں ہو رہا ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے ظاہر کہ اس سے صرف فرض نمازیں مراد نہیں ہیں بلکہ یہ تہجد کے سجود و قیام کی شب بیداریوں اور بےقراریوں کی تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی راتیں نہ عیش کدوں میں گزارتے اور نہ نرم و گرم بستروں میں دنیا و عاقبت سے بےفکر ہو کر سوتے بلکہ راتوں میں اٹھ اٹھ کر عذاب جہنم سے بچائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
63-1سلام سے مراد یہاں اعراض اور ترک بحث ہے۔ یعنی اہل ایمان، اہل جہالت سے الجھتے نہیں ہیں بلکہ ایسے موقع پر پرہیز اور گریز کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور بےفائدہ بحث نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
24: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر و شرک کا ارتکاب کریں، کیونکہ مومن عذاب میں ہمیشہ نہیں رہیں گے اور اگر انہوں نے گناہ کیے ہوں گے تو اس کی سزا پا کر جنت میں جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
درس نمبر 160 ایک نظر میں
اس سورت کے اس درس چہارم میں عباد الرحمٰن کو ان کے امتیازی اوصاف کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ ان کے کردار کے بنیادی فیچر کیا ہوتے ہیں۔ گو وہ انسانیت کا خلاصہ ہیں اور زمین کا نمک ہیں اور تمام قافلہ رسل کی کشمکش حق و باطل اور انسانی تاریخ کا منتہائے مقصود ہیں۔ گویا وہ باغ انسانیت کا پکا ہوا پھل ہیں۔ کفر ، ناشکری اور اعراض و نافرمانی کے خلاف اہل ہدایت کے طویل جدوجہد کا وہ حاصل ہیں۔
درس سابق کے آخر میں اہل کفر نے رحمٰن کو پہچاننے سے انکار کیا تھا۔ تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کیا تھا تو یہاں بتایا جاتا ہے کہ تم تو رحمٰن کو نہیں مانتے مگر رحمٰن کے بندوں کو مت دیکھ رہے ہو۔ یہ ہیں وہ…
Read the full tafseer →10 یعنی رات کو جب غافل بندے نیند اور آرام کے مزے لوٹتے ہیں، یہ خدا کے آگے کھڑے اور سجدہ میں پڑے ہوئے گذارتے ہیں۔ رکوع چونکہ قیام و سجود کے درمیان واقع ہے، شاید اسی لیے اس کو علیحدہ ذکر نہیں کیا۔ گویا ان ہی دونوں کے بیچ میں آگیا۔
Read the full tafseer →آیت 64 وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا ”
جہاں تک پانچ نمازوں کا تعلق ہے وہ تو فرائض میں شامل ہیں۔ ان نمازوں کی پابندی بندۂ مؤمن کی سیرت کی بنیاد ہے۔ چناچہ سورة المؤمنون کے آغاز میں جب بندۂ مؤمن کے کردار کی اساسات پر بات ہوئی تو وہاں نماز پنج گانہ کی محافظت کا ذکر ہوا : وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ ۔ لیکن یہاں چونکہ اللہ کے ان خصوصی بندوں کا ذکر ہو رہا ہے جنہیں اللہ سے دوستی کا شرف اور اس کا قرب نصیب ہوچکا ہے ‘ اس لیے یہاں جس نماز کا ذکر ہوا ہے وہ نماز بھی خصوصی ہے یعنی نماز تہجد۔ چناچہ اللہ کے یہ نیک بندے اپنے رب کے حضور راتوں کی تنہائیوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
82 اللہ کے بندوں کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ راتوں کو بھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں رہتے۔ بلکہ انھیں رات کو عبادت میں زیادہ مزا آتا ہے۔ اس لئے کہ ایک تو رات کی عبادت میں ریا کا شائبہ نہیں ہوتا۔ دوسرے رات کی تنہائیوں میں بندہ جس طرح اللہ کی طرف متوجہ ہوسکتا ہے اور مناجات کرسکتا ہے دن کو نہیں کرسکتا۔ اسی لئے احادیث میں رات کی عبادت اور بالخصوص نماز تہجد کی بہت فضیلت مذکور ہے۔ نیز حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات قسم کے آدمیوں کو اپنے سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ان سات آدمیوں میں سے ایک وہ شخص ہوگا جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور…
Read the full tafseer →75۔ یہ لوگ راتیں شراب خانوں میں، نشاط خانوں میں، ناچ گھروں میں نہیں گزارتے، سینما، تھیٹر وغیرہ میں مارے مارے نہیں پھرتے۔ جائز استراحت میں توغل سے کام نہیں لیتے، بلکہ الٹے نماز و عبادت میں پوری پوری راتیں گزار دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
آیت نمبر 61 تا 77
ترجمہ : وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے آسمانوں میں بارہ برج بنائے (1) حَمَلْ (2) ثور (3) الجوزاء (4) السرطان (5) الاسد (6) السنبلہ (7) المیزان (8) العقرب (9) القوس (10) الجدی (11) الدلو (12) الحوت یہ سبع سیارہ کی منزلیں ہیں (اور وہ سبع سیارہ یہ ہیں) (1) المریخ : اس کی منزل حمل اور عقرب ہے (2) زہرہ : اس کی منزل ثور اور میزان ہے (3) عطارد : اس کی منزل جوزاء اور سنبلہ ہے (4) القمر اس کی منزل سرطان ہے (5) الشمس اس کی منزل اسد ہے (6) المشتری : اس کی منزل قوس اور حوت ہیں (7) زحل اس کی منزل جدی اور دلو ہے، اور اس نے آسمان میں چراغ بھی بنایا اور وہ سورج ہے اور نورانی چاند بنایا اور…
Read the full tafseer →والذین یبیتون لربہم سجدا وقیاما۔ اور وہ لوگ جو رات کو اپنے رب کے سامنے سجدے کرتے اور
کھڑے رہتے ہیں۔
حسن نے فرمایا ‘ یہ حالت ان کی رات کو ہوتی ہے ‘ عبادت کے لئے رات کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے کیا کہ رات کی عبادت زیادہ دشوار ہوتی ہے ‘ ریاکاری کا بھی اس میں شائبہ نہیں ہوتا ‘ خضوع قلب اور زبان سے دل کی موافقت خوب ہوتی ہے اس کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دن دوسری قسم کی عبادتوں کے لئے مخصوص ہے (جو عام طور پر رات کو ادا نہیں کی جا سکتیں) مثلاً اللہ کی راہ میں جہاد اور کسی ملامت گر کی ملامت کا اندیشہ نہ کرنا تعلیم و تعلم اور ہدایت کرنے اور ہدایت پانے کے لئے نیک لوگوں اور بزرگوں کی صحبت…
Read the full tafseer →(64) اور جو راتوں کو اپنے پروردگار کے سامنے تہجد کی نماز میں لگے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ۔۔ : پچھلی آیت میں لوگوں کے ساتھ ان کے معاملے کا ذکر تھا، اس آیت میں اپنے رب کے ساتھ ان کے معاملے کا ذکر ہے۔ حسن بصری نے فرمایا : ”پچھلی آیت میں ان کے دن کا ذکر ہے اور اس آیت میں ان کی رات کا۔“ اس آیت سے قیام اللیل کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔ مزید دیکھیے آیت : (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ) [ السجدۃ : 16 ] اور آیت : (كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ) [ الذاریات : 17 ] امیر المومنین عثمان بن عفان ؓ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا : (مَنْ صَلَّی الْعِشَاءَ فِيْ جَمَاعَۃٍ فَکَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّیْلِ وَ مَنْ صَلَّی…
Read the full tafseer →(والذین یبیتون۔۔۔۔ )
فبتنا قیاما عند راء جو ادنا یزوالنا عن نفسہ و نزاولہ
ہم نے اپنے گھوڑے کے پاس رات قیام کرتے ہوئے گزاری وہ اپنے نفس کو چھڑانے کے لیے ہمارے ساتھ کوشش کرتا رہا اور ہم اسے قابو کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
انہوں نے اولیاء کی صفت میں یہ اشعار کہے :
امنع جفوتک ان تذوق مناما واذر الدموع علی الخدود سجاما
واعلم بانک میت و محاسب یامن علی سخط الجلیل اقاما
للہ قوم اختلصوا فی حبہ فرضی بھم واختصھم خدا ما
قم اذا جن الظلام علیھم یاتوا ھناک سجدا وقیاما
خمص البطون من التعفف ضمرا لا یعر فون سوی الحلال طعام
اپنی پلکوں کو روکو کہ وہ نیند کا ذائقہ چکھیں، رخساروں پر آنسوئوں کو موسلا دھاربرسائو یہ جان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
عبادالرحمن کے اوصاف
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وعباد الرحمن “ سے مراد ہے ایمان والے آیت ’ ’ الذین یمشود علی الارض ھونا “ یعنی وہ زمین پر چلتے ہیں اطاعت پاکدامنی اور تواضع کے ساتھ۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” یمشون علی الارض ھونا “ سے مراد ہیں علماء اور حکماء لوگ کہ وہ زمین پر تواضع کے ساتھ چلتے ہیں۔
3۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ھونا “ یہ سریانی زبان کا لفظ ہے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابو عمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ھونا “ سریانی زبان میں بردبار لوگوں کو کہتے ہیں۔
ابن ابی…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] يَبِيْتُوْنَ [ رات بسر کرتے ہیں ] لِرَبِّهِمْ [ اپنے رب کے لئے ] سُجَّدًا [ سجدہ کرنے والے ] وَّقِيَامًا [ اور قیام کرنے والے ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–69
عباد الرحمن کی صفات اور ان کے اخلاق و اعمال
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نیک بندوں کی صفات بیان فرمائی ہیں اور انہیں عباد الرحمن کا معزز لقب دیا ہے ان حضرات کی جو چند صفات ذکر فرمائی ہیں ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ انہیں رحمن کا بندہ بتایا یہ بہت بڑا وصف ہے اور بہت بڑا لقب ہے یوں تکوینی طور پر سب ہی رحمن کے بندے ہیں لیکن اپنے اعتقاد سے اور اختیار سے اور اخلاص سے جس نے اپنی ذات کو سچے اعتقاد اور اخلاق کے ساتھ رحمن جل مجدہ کی عبادت میں لگا دیا اور رحمن جل مجدہ نے اس کے بارے میں یہ فرما دیا کہ یہ ہمارا بندہ ہے اس سے بڑھ کر بندہ کا کوئی اعزاز نہیں یہ بندے کا سب سے بڑا معزز لقب ہے اللہ تعالیٰ نے معراج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–77
مدح عباد رحمان و ذکر شمائل اہل ایمان و عرفان
قال اللہ تعالیٰ وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا۔۔۔ الی۔۔۔ فسوف یکون لزاما۔
(ربط) گزشتہ آیات میں رحمان سے نفرت کرنے والوں کا ذکر تھا، اب آئندہ آیات میں عباد رحمن یعنی رحمان کے خاص بندوں کے اوصاف کا ذکر ہے جس سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ رحمن کے بندے رحمن کی رحمتوں اور اس کی نعمتوں کا عملی طور پر کس طرح اور کس صورت میں شکر کرتے ہیں لہٰذا جو شخص رحمن کے آثار رحمت ونعمت کے تشکر کا ارادہ کرے اور رحمن کے آثار قدرت و عجائب صنعت میں تفکر اور تدبر کا ارادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ رحمن کے شکر گزار بندوں کے نقش قدم پر ثلے اور اگر بر بنائے غفلت اس سے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
44:۔ ” والذین یبیتون الخ “ یہ دوسری صفت ہے۔ اللہ کے وہ نیک بندے رات بھر اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے اور ساری رات نماز میں گذار دیتے ہیں۔ ” والذین یقولون الخ “ تیسری صفت وہ ہر وقت اللہ کے عذاب سے خائف اور لرزاں رہتے اور اللہ سے دعا مانگتے رہتے ہیں اے اللہ ! ہمیں عذاب جہنم سے بچائیو۔ کیونکہ اس کا عذاب ہلاکت خیز اور تباہ کن ہے اور وہ رہنے کی نہایت ہی بری جگہ ہے۔ ” غرام “ شر لازم اور عذاب دائم۔ الغرام الشر اللازم والھلاک الدائم (خازن ج 5 ص 108) ۔ ” والذین اذا انفقوا الخ “ یہ چوتھی صفت ہے۔ وہ زندگی کے معاملات میں خصوصا مال خرچ کرنے میں راہ اعتدال پر چلتے ہیں۔ مال خرچ کرنے میں نہ اسراف کرتے ہیں نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
ربط آیات
گزشتہ رکوع کے آخر میں مشرکین کا ذکر ہوا کہ جب انہیں خدائے رحمان کے سامنے سجدہ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں ۔ کون ہے رحمان ؟ ہم کسی رحمان کو نہیں جانتے ، اللہ نے ان کے اس بیہودہ کلام کے جواب میں خدائے رحمان کی صفات اور اس کے کمالات کا تذکرہ فرمایا کہ رحمان وہ برکتیں دینے والی ہستی ہے جس نے آسمانوں میں برج قائم کیے۔ سورج جیسا روشن چراغ اور چاند جیسا اجالا کرنے والا سیارہ بنایا ۔ اس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والا بنایا اور اس تغیر و تبدل میں خاص مصلحت رکھی جو نصیحت پکڑنے اور شکر ادا کرنے والوں کو دعوت و غور دے رہی ہے۔ اب اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے خدائے رحمان کے بندوں کی…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّقِيَامًا 64
بيت
أصل البیت : مأوى الإنسان باللیل، قال عزّ وجلّ : فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] ،
( ب ی ت ) البیت
اصل میں بیت کے معنی انسان کے رات کے ٹھکانہ کے ہیں ۔ کیونکہ بات کا لفظ رات کو کسی جگہ اقامت کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں ۔
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
عباد الرحمن کے چند اوصاف حمیدہ ذکر کرتا ہے جس سے عام مسلمانوں کو بھی ان اوصاف کو حاصل کرنے کی ترغیب دلانی مقصود ہے کہ خالی باتیں بنانے سے رحمان کا بندہ خاص نہیں بنتا جب تک کہ ان باتوں کو اپنے میں پیدا نہ کرے اور یوں تو رحمان کے سبھی بندے ہیں مگر مراد خالص اور اچھے اور مقبول بندے ہیں۔ صفت اول (1) الذین یمشون الخ کہ جو زمین پر اکڑتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے بلکہ تواضع اور فروتنی سے۔ (2) واذا خاطبہم الجاھلون جب جاہلوں سے ہمکلامی کا اتفاق پڑتا ہے تو سلام کہتے ہیں یعنی تسلیم اختیار کرتے ہیں۔ یا یہ کہ سلامتی اور سکوت طلب کرتے ہیں جیسا کہ کہتے ہیں معاف کیجیے ان سے الجھتے الجھتے جھگڑتے نہیں۔ کس لیے…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا۔ (الفرقان : 64)
(اور جو اپنے رب کے حضور سجدہ اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ )
عبادالرحمن کے تعارف میں پہلے ان کی رفتار کا ذکر کیا، پھر گفتار کا اور اب کردار کے ذکر کا آغاز کیا جارہا ہے۔ اور کردار کے ذکر میں سب سے پہلے ان کی راتوں کی زندگی کا حوالہ دیا گیا ہے اور اسے ایسے خوبصورت پیرایہ میں ذکر کیا گیا ہے جس سے ان کی جلوت اور خلوت دونوں روشنی میں آجاتی ہیں۔
تیسری صفت عبادالرحمن کا کردار اور خلوت کی زندگی
انسان کی زندگی شب و روز کے معمولات سے عبارت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان معمولات کی انجام دہی میں میں رفتار اور گفتار بھی شامل ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
فہم القرآن
ربط کلام : عباد الرّحمن کے اوصاف کا تذکرہ جاری ہے۔
الرّحمن کے بندے پوری رات سونے کی بجائے رات کا کچھ حصہ آرام کرنے کے بعد اٹھ کھڑتے ہوتے ہیں۔ ان کے اٹھنے کی کیفیّت قرآن مجید نے یوں بیان کی ہے کہ الرّحمن کے بندے اپنے بستروں سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے رب کو امید اور خوف کی کیفیت میں پکارتے ہیں۔ (السجدۃ : 16) وہ رات کے وقت اپنے رب کے حضور سجدہ اور قیام کرتے ہیں اپنے رب سے فریاد پر فریاد کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمانا۔ بیشک جہنم کا عذاب چمٹ جانے والا ہے یقیناً جہنم ٹھہرنے اور قیام کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔
سحری کا وقت حاجات و مناجات اور سکون و اطمینان…
Read the full tafseer →64: وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبّہِمْ سُجَّدًا وَّ قِیْامًا (اور وہ لوگ رات کو اپنے رب کے سامنے سجدہ اور قیام کرتے ہیں) سُجَّدًا جمع ساجد کی ہے اور قیامًا جمع قائم کی ہے۔ البیتوتۃؔ سائے کے خلاف کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ رات کو وہ پالے خواہ سوئے یا نہ سوئے۔ قول علماء (رح) : جس نے نماز میں تھوڑا سا قرآن رات کو پڑھاگویا اس نے ساری رات سجدہ و قیام میں گزار دی۔ ایک قول یہ مغرب کے بعد والی دورکعتیں ہیں۔ اور عشاء کے بعد والی دو رکعتیں۔ مگر ظاہر بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی صفت احیائے لیل یا اکثر لیل کو بیان فرمایا۔
Read the full tafseer →64۔ والذین یبیتون لربھم۔ کہاجاتا ہے کہ ان میں سے جو رات کو پاتے ہیں جس نے رات گزاری ہو خواہ اس کو وہاں نیند آئی ہو یا نہ آئی ہو۔ جیسے کہاجاتا ہے ، بات فلان قلقا، اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے ہاں رات نماز میں گزاری ۔ سجدا، اپنے چہروں کو اللہ کے لیے جھکاتے ہیں۔ قیاما، اپنے قدموں کے بل۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ جس شخص نے عشاء کی نماز کے بعد دورکعتیں یا اس سے زائدہ پڑھ لیں۔ گویا اس نے ساری رات سجدے اور قیام میں گزاری ہے۔
حضرت عثمان بن عفان سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جس نے عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لی تو ایسا ہوگیا کہ جیسے اس نے آدھی رات قیام کیا، اور جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
63۔ 67:۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا ‘ جن کے روبرو اللہ کی صفت رحمن بیان کی جاتی تھی ‘ تو وہ بدکتے تھے ‘ ایسے لوگوں کے قائل کرنے کے لیے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے رحمن کے بندوں کے پتے سے اپنے نیک بندوں کی یہ چند صفتیں بیان فرمائیں کہ وہ لوگ جب زمین پر چلتے پھرتے ہیں تو اترا کر نہیں چلتے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 3 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا پچھلی امتوں میں سے بعض اترا کر چلنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں دھنسا دیا ہے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ زمین پر اترا کر چلنے پھرنے کی عادت اللہ تعالیٰ کو بہت ناپسند ہے ‘ اسی واسطے جن لوگوں میں یہ عادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–77
آیت 63 سے 77
اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :
(1) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت : یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بدتمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ (ان کل من فی السموات والارض الی اتی الرحمن عبدا) (مریم : 19/93) ” آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ “
(2) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت : یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ومرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
قول باری ہے : (ان عذابھا کان غراما۔ اس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے۔ ) ایک قول کے مطابق (غراما) کے معنی لازم، چمٹ جانے والا اور ہمیشہ ساتھ لگا رہنے والا کے ہیں۔ اسی سے غریم یعنی قرض خواہ کا لفظ نکلا ہے کیونکہ قرض خواہ اپنے مقروض کے ساتھ چمٹا رہتا ہے ۔ اسی سے یہ محاورہ بھی ہے۔ ” انہ لمغرم بانسانء “ (فلاں شخص عورتوں کا دیوانہ ہے) یعنی ان کے پیچھے لگا رہتا ہے اور اسے ان کے بغیر چین نہیں آتا۔ اعشیٰ کا شعر ہے۔
ان یعاقب یکن غراما
وان یعط جزیلا فانہ لا یبالی
اگر اسے سزا دی جائے تو وہ دیوانہ ہوجائے گا اور اگر اسے بڑا حصہ دیا جائے تو اس کی پروا نہیں کرے گا۔
بشر بن ابی حازم کا شعر ہے :
یوم النسار ویوم…
Read the full tafseer →83 راتوں کے قیام اور سجدہ ریزیوں کی صفت محمود کا ذکر وبیان : سو اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں ۔ عباد الرحمن ۔ کی صفات محمودہ کے ذکر وبیان کے ضمن میں مزید ارشاد فرمایا گیا کہ " جو اپنی راتیں اپنے رب کے حضور قیام اور سجدہ ریزیوں کی حالت میں گزارتے ہیں "۔ یعنی وہ اپنے دن اس طرح گزارتے ہیں اور رات اس طرح اپنے رب کے حضور قیام و سجود یعنی نماز کی حالت میں۔ قیام و سجود کے ذکر سے رکوع کا ذکر خود بخود آگیا کہ وہ ان دونوں کے درمیان میں ہوتا ہے۔ اور یہی تینوں نماز کے سب سے بڑے اور اہم ارکان ہیں۔ یعنی خدائے رحمن کے یہ بندے اپنی راتوں کو اپنے رب کی عبادت و بندگی میں گزارتے ہیں اور اسی کی یاد دلشاد میں مشغول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
آسمانوں کے انتظام ‘ نیک لوگوں کی صفات اور انعام
تشریح : یہاں بھی کفار کو اللہ رحمن و رحیم کی کچھ اور مہربانیاں بتائی جا رہی ہیں جو خالصتاً اس وقت کے عرب بدئوں کے معیار کے مطابق بات کی جا رہی ہے۔ گو کہ اس میں بھی افلاک کے بہت سے رازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس وقت یعنی ساتویں صدی کے آغاز کا عرب بدو اپنی تہذیب ‘ زبان ‘ تشبیہ اور ثقافت کے معیار سے ہی بات سمجھ سکتا تھا کیونکہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب وہی عرب بدو تھا۔ لہٰذا رب ذوالجلال انہی کی زبان میں فرماتا ہے کہ ” بڑی بابرکت ہے اس کی ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور پھر سورج کا روشن چراغ رکھ دیا اور چاند کا اجالا کردیا۔ اور وہی ہے جس نے رات دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–77
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
وہ ذات بہت ہی برکت والی ہے جس نے انسان کو حیات کا اتنا وسیع نظام ایک بہت ہی خوبصورت انداز سے ترتیب دے کر ہر شے کو حتی کہ اجرام فلکی کو بھی انسان ہی کی خدمت پہ لگا دیا جو مدتوں سے اپنے اپنے کام کو پوری باقاعدگی سے انجام دے رہے ہیں اس نے آسمانوں کو پیدا فرمایا اور فضا سے آسمانی بروج یعنی اجرام فلکی کے ٹھکانے اور ان کی راہیں مقرر کردیں ، یہ علم ہیئت ، ستارے اور سیارے ان کی رفتار اور اس کے اثرات ان کا وجود اور اس کی تعمیر اور خصوصیات اس میں بہت لمبی بحث ہے خصوصا اس دور میں جبکہ انسانی قدم چاند تک جا پہنچے ہیں اور وہاں کی فضا اس کے اثرات اور ان کی رفتار اور اس کے اسباب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
2 ۔ یعنی ایسا چمٹ جانے والا جو کسی طرح الگ نہ ہو۔ اسی سے فریم ہے یعنی صاحب قرض جو پیچھا نہ چھوڑے۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(25:64) یبیتون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ بات یبیت (ضرب) بیتوتۃ مصدر وہ رات گزارتے ہیں۔ افعال ناقصہ میں سے ہے
لربھم : سجد اوقیاما سے متعلق ہے۔
سجدا ساجد کی جمع ہے ۔ سجدہ کرنے والے۔
قیاما : قائم کی جمع ہے کھڑا ہونے والے۔ سجدا وقیاما۔ دونوں بوجہ حال ہونے کے منصوب ہیں۔ مراد دونوں سے نماز ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
لغات القرآن : آیت نمبر 61 تا 66 :
بروج (برج) (قلعہ۔ بڑے بڑے ستارے) ‘ سراج (چراغ۔ سورج) ‘ قمرمنیر (روشن چاند) ‘ خلفۃ (ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے) ‘ عباد الرحمن ( اللہ کے بندے۔ رحمن کے بندے) ‘ یمشون ( چلتے ہیں) ‘ ھون ( وقار۔ آہستہ اور نرمی) ‘ خاطب (خطاب کیا۔ گفتگو کی) ‘ سلام (سلام۔ سلامتی) ‘ یبیتون ( رات گزارتے ہیں) ‘ اصرف ( دور کردے پھیردے) ‘ غرام ( لپٹ جانا۔ چمٹ جانا) ‘ ساءت (برا) ‘ مستقر (ٹھکانا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 61 تا 66 :
آپ نے اس سے پہلی آیات میں کفار کا یہ انداز ملاحظہ کرلیا ہے کہ وہ اپنے حقیقی معبود اللہ تعالیٰ کو بھول کر بےحقیقت چیزوں کو معبود بنائے بیٹھے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
اللہ کے نیک بندوں کی خصوصیات کا ذکر۔
(ف 1) پہلے کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جن کے روبرو اللہ کی صفت رحمن بنائی جاتی تھی تو وہ بدکتے تھے ایسے لوگوں کے قائل کرنے کے لیے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے رحمن کے بندوں کی یہ چند صفتیں بیان فرمائیں کہ وہ لوگ جب زمین پرچلتے پھرتے ہیں تو اترا کر نہیں چلتے اور رحمن کے بندوں میں یہ بھی اچھی عادت ہے کہ وہ رات کو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ اور قیام میں عاجزی کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں ۔ ابن عباس نے فرمایا کہ جس کسی نے بعد عشا دو رکعت یا زیادہ نفل پڑھے وہ شب بیداری کرنے والے میں داخل ہے ۔ مسلم میں حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
[43] یعنی متکبروں کی طرح اکڑ کر پاؤں زور سے زمین پر مارتے ہوئے نہیں چلتے۔ ان کی چال ڈھال سے تواضع، متانت اور خاکساری ٹپکتی ہے۔ یہاں اللہ کے نیک اور مخلص بندوں کی خصوصیات گناتے ہوئے سب سے پہلے ان کی چال کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ آدمی کی چال محض اس کے انداز رفتار ہی کا نام نہیں ہے بلکہ درحقیقت وہ اس کی سیرت و کردار کی آئینہ دار بھی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
ف 2: یعنی مکہ والوں کے دل میں اس دجہ بتوں کی محبت ہے کہ وہ غلو میں معبود حقیقی کو بھی بھول گئے ہیں ۔ اور جب انہیں دعوت دی جاتی ہے ۔ کہ خدائے رحمن کے سامنے جھکو ۔ اور کسی چیز کی عبادت نہ کرو ۔ تو وہ ازراہ سرکشی کہتے ہیں ۔ یہ خدائے رحمن کون ہے ؟ کیا تمہارے کہنے پر ہم اللہ کی عبادت کرنے لگیں ۔ اور اپنے دیوتاؤں کو چھوڑ دیں ۔
یہ ملحوظ رہے کہ قالوا وما الرحمن سے اسم کا انکار مقصود نہیں ۔ مسمیٰ کا انکار مطلوب ہے اور یہ اس قلیل سے ہے جیسا کہ فرعون نے موسیٰ سے کہا ۔ وما رب العلمین !
حل لغات :۔ ھونا ۔ سہج سے ۔ ہولے ہولے ، بمعنے آرام وآہستگی ووقار ونرمی اور سی کی
غراما ۔ عذاب ۔ ہلاک ۔ ہمیشہ اور پیوستہ…
Read the full tafseer →(64) اور اپنے پروردگار کے آگے سجدے اور قیام میں رات کاٹتے ہیں رات اللہ تعالیٰ کے سامنے نماز میں گزارتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں رکوع کو نہیں گنا رکوع بہت لمبا نہیں ہوتا 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–72
ف 3۔ یعنی نہ اس کی طرف مشغول ہوتے ہیں، اور نہ ان کے آثار سے عاصیوں کی تحقیر اور اپنا ترفع اور تکبر ظاہر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →وہ لوگ جو اپنے رب کے سامنے سجدوں میں راتیں گزراتے ہیں :
64۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی راتیں شراب خانوں ‘ نشاط خانوں ‘ سینموں اور ناچ گھروں میں نہیں گزرتیں اور نہ ہی یہ لوگ دیر تک راتوں کو ٹیوی ‘ وی سی آر اور ناچ گانوں میں گزارتے ہی اور نہ ہی ادھر ادھر مارے مارے پھرتے ہیں بلکہ ان کی راتیں قیام و سجدہ میں گزرتی ہیں گویا اگر ان کے پاس کچھ بھی وقت نیند سے زائد ہو تو وہ رات کے نوافل میں خرچ کرتے ہیں اور اس طرح خاموشی کے ساتھ کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی اگر زیادہ نہ ہو سکے تو رات کو عشاء کی نماز کے بعد جلد سونا اور طلوع فجر کے ساتھ ہی بیدار ہوجانا وہ اپنا معمول بناتے ہیں اور بلاشبہ یہ بات طب…
Read the full tafseer →The Fourth Characteristic
وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا (and those who pass the night prostrating and standing before their Lord, - 25:64). Special mention of night worship is made here firstly, because this time being a time of rest, requires extra effort, and secondly because it rules out the possibility of showing one's worship to others. The idea is to express that they spend their day and night in submission before Allah during the day by teaching and spreading religious tenets and struggling in the way of Allah and at night by praying before Him. The sayings of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
81 That is, they neither spend their nights in fun and merry-making nor in gossips and telling tales, nor in doing wicked deeds, for these are the ways of the ignorant people. The true servants of Allah pass their nights in worshipping and remembering Him as much as they can. This characteristic of theirs has been brought out clearly at several places in the Qur'an, thus: "their backs forsake their beds and they invoke their Lord in fear and in hope." (As-Sajdah: 16). "These people (of Paradise) slept but little at night, and prayed for their forgiveness in the hours of the morning."…
Read the full tafseer →