Al-Furqaan 25:61

Al-Furqaan · from ayah 61

25:61

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِیْرًا ۟تَبٰـرَكَ الَّذِىۡ جَعَلَ فِى السَّمَآءِ بُرُوۡجًا وَّجَعَلَ فِيۡهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيۡرًا

اور (خدا) بڑی برکت والا ہے جس نے آسمانوں میں برج بنائے اور ان میں (آفتاب کا نہایت روشن) چراغ اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Blessed is He who has placed in the sky great stars and placed therein a [burning] lamp and luminous moon.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 6 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:61

بڑا متبرک ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک چمکتا چاند روشن کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (خدا) بڑی برکت والا ہے جس نے آسمانوں میں برج بنائے اور ان میں (آفتاب کا نہایت روشن) چراغ اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

بابرکت ہے وه جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں آفتاب بنایا اور منور مہتاب بھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

بڑی شان ہے اس کی جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک روشن چراغ اور نور پھیلانے والا چاند پیدا کیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بڑی برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور ان میں چراغ رکھا اور چمکتا چاند،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہی بڑی برکت و عظمت والا ہے جس نے آسمانی کائنات میں (کہکشاؤں کی شکل میں) سماوی کرّوں کی وسیع منزلیں بنائیں اور اس میں (سورج کو روشنی اور تپش دینے والا) چراغ بنایا اور (اس نظامِ شمسی کے اندر) چمکنے والا چاند بنایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بہت برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک روشنی کرنے والا چاند بنایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس (آسمان) میں چراغ (سورج) اور چمکتا ہوا چاند پیدا کیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک منور چاند بنایا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جس نے بنا دئے آسمان میں عظیم الشان برج اور رکھ دیا اس نے اس میں اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے ایک عظٰم الشان چراغ اور ایک چمکتا دمکتا روشن چاند

— مولانا اسحاق مدنی

بہت عالی شان ہے وہ جس نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے بنائے اور اس میں ایک چراغ اور نورانی چاند بنادیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں رکھ دیا ایک چراغ اور ایک روشن چاند

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اللہ بڑی برکت والا ہے جس نے آسمانوں میں برج بنائے اور ان میں آفتاب کا نہایت روشن چراغ اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Highly blessed is He, Who has made fortified spheres in the heavens and has set in it a "lamp" and a shining moon.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Glorious is the One who made stellar formations in the sky, and placed therein a lamp (i.e. the sun) and a bright moon.

— Muhammad Taqi Usmani

Glorious is the One who made stellar formations in the sky, and placed therein a lamp (i.e. the sun) and a bright moon.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Blessed be He Who has placed in the heaven Al-Buruj, and has placed therein a great lamp, and a moon giving light.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Blessed be He Who hath placed in the heaven mansions of the stars, and hath placed therein a great lamp and a moon giving light!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Blessed is He who has placed in the sky great stars and placed therein a [burning] lamp and luminous moon.

— Saheeh International

Blessed is He who has established constellations in the sky and made therein a lamp and a shining moon.

— Muhammad Sarwar

Blessed is He Who made the constellations in the heavens and made therein a lamp and a shining moon.

— Muhammad Habib Shakir

Blest be He Who hath placed big stars in the heaven, and hath placed therein a lamp and a moon enlightening.

— Abdul Majid Daryabadi

Blessed is He Who made constellations in the skies, and placed therein a Lamp and a Moon giving light;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:61

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 61–62

اللہ تعالیٰ کی رفعت و عظمت اللہ تعالیٰ کی بڑائی، قدرت، رفعت کو دیکھو کہ اس نے آسمان میں برج بنائے اس سے مراد یا تو بڑے بڑے ستارے ہیں یا چوکیداری کے برج ہیں۔ پہلا قول زیادہ ظاہر ہے اور ہوسکتا ہے کہ بڑے بڑے ستاروں سے مراد بھی یہی برج ہوں۔ اور آیت میں ہے آسمان دنیا کو ہم نے ستاروں کیساتھ مزین بنایا۔ سراج سے مراد سورج ہے جو چمکتا رہتا ہے اور مثل چراغ کے ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا 13؀۽) 78۔ النبأ :13) اور ہم نے روشن چراغ یعنی سورج بنایا اور چاند بنایا جو منور اور روشن ہے دوسرے نور سے جو سورج کے سوا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ اس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو نوربنایا۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 75 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الحجر، حواشی 8 تا 12۔ سورة الْفُرْقَان 76 یعنی سورج، جیسا کہ سورة نوح میں بتصریح فرمایا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجاً (آیت 16)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–62

تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا، وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا۔ مقصود ان آیات سے انسان کو یہ بتلانا ہے کہ ہم نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے اور شمس و قمر اور ان کے ذریعہ رات دن کا انقلاب اور ان کی تاریکی اور روشنی اور زمین و آسمان کی تمام کائنات اس لئے پیدا کئے ہیں کہ غور و فکر کرنے والے کو اس میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور توحید کے دلائل فراہم ہوں۔ اور شکر گزار کے لئے شکر کے مواقع ملیں تو جس شخص کا وقت دنیا میں ان دونوں چیزوں سے خالی گزر گیا اس کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 61–62

آیت 62-61 اصل ضرورت نشانیوں کی نہیں بلکہ نشانیوں سے فائدہ اٹھانی کی زیادہ کی ہے اوپر کی آیات التفات کے بعد یہ آخر میں پھر آیات آفاق کی طرف توجہ دلائی کہ جہاں تک نشانیوں کا تعلق ہے ان کی کمی نہیں ہے۔ ضروتر کسی نئی نشانی کی نہیں بلکہ نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے جذبے اور ارادے کی ہے۔ جن کے اندر یہ جذبہ اور ارادہ نہیں پایا جاتا وہ ہر قسم کی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی اندھے ہی بنے رہتے ہیں۔ لمن برادن یذکر اواراد شکوراً تذکر عقل کا فعل ہے اور شکر دل کا۔ اللہ تعالیٰ نے عقل اور دل کو بیدار کرنے والی نشانیوں سے اس کائنات کے چپہ چپہ کو معمو کر رکھا ہے لیکن ان سے صحیح فائدہ اٹھانا انسان کے اپنے ارادے پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

61-1بروج۔ برج کی جمع ہے، سلف کی تفسیر میں بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے لئے گئے ہیں۔ اور اسی مراد پر کلام کا نظم واضح ہے کہ بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے اور سورج اور چاند بنائے۔ بعد کے مفسرین نے اس سے اہل نجوم کے مطابق بروج مراد لئے اور یہ بارہ برج ہیں، حمل، ثور، جوزاء، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو اور حوت اور یہ برج سات بڑے سیاروں کی منزلیں ہیں جن کے نام ہیں مریخ، زہرہ، عطارد، قمر، شمس، مشتری اور زحل۔ یہ کواکب (سیارے) ان برجوں میں اس طرح اترتے ہیں جیسے یہ ان کے لئے عالی شان محل ہیں (ایسرالتفاسیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

22:”بروج“ سے مراد ستارے بھی ہوسکتے ہیں، اور آسمان کے وہ مختلف حصے بھی جنہیں فل کیا والے بروج کہتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے بالائی فضا کے کچھ ایسے اجسام مراد ہوں جن تک ابھی انسان کی پہنچ نہیں ہوسکی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 61–62

تبرک الذی ……شکوراً (64) بروج کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ اس سے سیاروں کے مدار مراد ہیں۔ وہ عظیم فلکیاتی مدار جو بہت ہی دور رس اثرات اور دور رس اعمال کا مظہر ہیں۔ کائنات کا یہ عظیم ترین مظہر اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس فقرے کے جواب میں پیش فرمایا ہے کہ (رحمٰن کیا ہوتا ہے) ان کو بتایا جاتا ہے کہ تم رحمٰن کو کیا سمجھتے ہو۔ ذرا رحمٰن کی اس مخلوق کو سمجھنے کی کوشش کرو تو تمہارا سر چکرا جائے۔ جو فی الحقیقت عظیم ہے۔ انہی بروج کے اندر شمس بھی سرگرداں ہے جو ایک چراغ ہے کیونکہ اسی کی روشنی سے زمین منور ہے اور اسی کی روشنی سے قمر بھی منیر ہے۔ جس کی روشنی لطیف اور خوشگوار ہے۔ یہاں گردش لیل و نہار کے تسلسل کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی بڑے بڑے ستارے، یا آسمانی قلعے جن میں فرشتے پہرہ دیتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ آسمان کے بارہ حصے، ان کا نام برج، ہر ایک پر ستاروں کا پتہ، یہ حدیں رکھی ہیں حساب کو۔ (موضح) 5 یعنی سورج، شاید نور و حرارت کے جمع ہونے اور صفت احراق رکھنے کی وجہ سے اس کو چراغ فرمایا۔ (وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا) 71 ۔ نوح :16)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اب اس سورة کا آخری رکوع شروع ہو رہا ہے جو ہمارے مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب کا ایک اہم درس درس نمبر 11 بھی ہے۔ منتخب نصاب کے حصہ اول میں چار جامع اسباق ہیں۔ ان میں سے دوسرا درس آیت البر سورۃ البقرۃ کی آیت 177 پر مشتمل ہے ‘ جس کا مطالعہ ہم کرچکے ہیں۔ حصہ دوم میں ”مباحث ایمان“ کے عنوان کے تحت پانچ دروس ہیں جن میں سے تین مقامات سورۃ الفاتحہ ‘ سورة آل عمران کے آخری رکوع کی آیات اور سورة النور کی آیات نور یعنی پانچواں رکوع کا مطالعہ ہم اس سے پہلے کرچکے ہیں۔ منتخب نصاب کا تیسرا حصہ ”مباحث عمل صالح“ پر مشتمل ہے اور اس حصے کا پہلا درس سورة المؤمنون کی ابتدائی آیات کے حوالے سے ہے ‘ جن کا مطالعہ ہم…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

77 آسمان میں بارہ برجوں کی وضاحت کے لئے سورة حجر کی آیت نمبر 16 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔ 78 ان کے وقت سورج روشنی کا سب سے بڑا قدرتی منبع ہے اور رات کے وقت چاند۔ پھر ان دونوں کی روشنی میں بڑا فرق ہے۔ سورج کی روشنی میں تپش اور حرارت ہے اور وہ سرخی مائل ہوتی ہے اور اس کی شعاعیں انسان کی آنکھ کے سامنے والے پردہ پر پڑیں تو سخت کوفت ہوتی ہے۔ جبکہ چاند کی روشنی میں ایک سرور بخش ٹھنڈک ہوتی ہے اور انسان کا جی چاہتا ہے کہ اس کی طرف دیکھتا رہے۔ حتیٰ کہ چاند کی چاندنی کا تصور ہی ہر شخص کی خوشی کا باعث ہے پھر ان دونوں سیاروں سے ہمیں صرف روشنی ہی حاصل نہیں ہوتی بلکہ اور بھی بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں فصلوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

71۔ (آیت) ” سرجا “۔ سراج سے مراد یہاں آفتاب ہے۔ یعنی الشمس (راغب) ویعبر بہ کل مضیء (راغب) وھی الشمس المنیرۃ التیھی کالسراج فی الوجود (ابن کثیر) (آیت) ” بروجا “۔ بروج کے معنی بڑے بڑے ستاروں کے ہیں، البروجھی الکواکب العظام (کبیر۔ عن ابن عباس ؓ ھی الکواکب العظام (ابن کثیر، عن مجاہد، و سعید بن جبیر وابی صالح والحسن وقتادۃ) (آیت) ” فیھا “۔ سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ اجرام فلکی، فلک کے اندر ہی ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–77

آیت نمبر 61 تا 77 ترجمہ : وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے آسمانوں میں بارہ برج بنائے (1) حَمَلْ (2) ثور (3) الجوزاء (4) السرطان (5) الاسد (6) السنبلہ (7) المیزان (8) العقرب (9) القوس (10) الجدی (11) الدلو (12) الحوت یہ سبع سیارہ کی منزلیں ہیں (اور وہ سبع سیارہ یہ ہیں) (1) المریخ : اس کی منزل حمل اور عقرب ہے (2) زہرہ : اس کی منزل ثور اور میزان ہے (3) عطارد : اس کی منزل جوزاء اور سنبلہ ہے (4) القمر اس کی منزل سرطان ہے (5) الشمس اس کی منزل اسد ہے (6) المشتری : اس کی منزل قوس اور حوت ہیں (7) زحل اس کی منزل جدی اور دلو ہے، اور اس نے آسمان میں چراغ بھی بنایا اور وہ سورج ہے اور نورانی چاند بنایا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تبرک الذی جعل فی السمآء بروجا وجعل فیہا سرجا وقمرا منیرا۔ بڑی خیر والا ہے وہ اللہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور سورج اور روشنی دینے والا چاند بنایا۔ حسن ‘ قتادہ اور مجاہد نے کہا بروج بڑے بڑے ستارے (برج ظاہر ہونے کو کہتے ہیں) بڑے بڑے ستارے ظہور کی وجہ سے بروج کہلاتے ہیں۔ عطیہ عوفی ‘ بروج سے مراد وہ اونچے محل ہیں جن میں چوکیدار اور محافظ موجود ہیں۔ سرجا (چراغ روشن) یعنی سورج۔ دوسری آیت میں اللہ نے فرمایا ہے (وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرٰجًا) کسائی اور حمزہ کی قراءت میں سُرُجاً بصیغۂ جمع آیا ہے۔ اس وقت سرجٍُ سے مراد ہوں گے سورج اور دوسرے ستارے ‘ چاند مراد نہ ہوگا۔ کیونکہ چاند چراغ نہیں ہے اس کی اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(61) وہ ذات بہت عالی شان برکتوں والی ہے جس نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے یا یہ کہ برج بنائے اور اس میں ایک روشن آفتاب جو انسانوں کے لیے دن کو روشن کردیتا ہے اور ایک نورانی چاند جو نبی آدم کے لیے رات کو چمکدار بنا دیتا ہے بنایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا۔۔ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة حجر (16) اور بروج (1)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

( تبرک الذی جعل۔۔۔۔ ) تبرک الذی جعل فی السما بروجا بروج سے مراد منازل ہیں، اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ وجعل فیھا سرجا ً حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سراج سے مراد سورج ہے، اس کی نظیر یہ آیت کریمہ ہے :” وجعل الشمس سراجا۔ “ ( نوح) عام قرأت سراجاً ہے جو واحد کا صیغہ ہے۔ حمزہ اور کسائی نے سرجا قرأت کی وہ اس سے بڑے روشن ستارے مراد لیتے ہیں۔ پہلی قرأت ابو عبید کے نزدیک اولیٰ ہے، کیونکہ انہوں نے یہ تاویل کی ہے کہ بروج سے مراد بڑے ستارے ہیں۔ ثعلبی نے کہا : جس طرح زہرہ، مشتری، زحل اور سما کین وغیرہ۔ وقمر منیرا جب و طلوع ہو تو زمین کو روشن کرتا ہے۔ عصمہ نے اعمش سے روایت نقل کی ہے وقمر اقاف پر ضمہ اور میم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ الخطیب فی کتاب النجوم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” تبرک الذی جعل فی السماء بروجا “ سے بارہ برج مراد ہیں اس کا پہلا حمل ہے پھر ثور ہے پھر جوزا ہے پھر سرطان ہے پھر اسد ہے پھر سنبلہ ہے پھر میزان ہے پھر عقرب ہے پھر قوس ہے پھر جدی ہے پھر دلو ہے پھر حوت ہے۔ 2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” تبرک الذی جعل فی السماء بروجا “ سے وہ محلات مراد ہیں جو آسمان کے دروازوں پر ہیں جن میں چوکیدار ہوتے ہیں۔ 3۔ ہناد وعبد بن حمید وابن جریر نے یحییٰ بن رافع (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” جعل فی السماء بروجا “ سے آسمان میں محلات مراد ہیں۔ 4۔ عبد بن حمید وابن جریر نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تَبٰرَكَ [ بابرکت ہوا ] الَّذِيْ [ وہ جس نے ] جَعَلَ [ مقرر کیں ] فِي السَّمَاۗءِ [ آسمان میں ] بُرُوْجًا [ منزلیں ] وَّجَعَلَ [ اور اس نے بنایا ] فِيْهَا [ اس (آسمان) میں ] سِرٰجًا [ ایک چراغ ] وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا [ اور ایک چمکنے والا چاند ] س ر ج (ن) سرجا بالوں کو گوندھ کر چوٹی بنانا۔ (افعال) اسراجا بتی اور تیل سے کسی چیز کو روشن کرنا۔ سراج وہ چیز جو روشن کی جائے۔ چراغ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 61 ۔ نوٹ۔ 1: آیات۔ 61 ۔ 62 ۔ میں پھر آفاق کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ جہاں تک نشانیوں کا تعلق ہے ، ان کی کمی نہیں ہے۔ ضرورت کسی نئی نشانی کی نہیں بلکہ نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے ارادے اور جذبے کی ہے۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 61–62

اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ کے مزید مظاہر بیان فرمائے ارشاد فرمایا (تَبَارَکَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِیْہَا سِرَاجًا وَّقَمَرًا مُّنِیْرًا وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَ اَوْ اَرَادَ شُکُوْرًا) (وہ ذات عالی شان ہے جس نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے بنائے اور ان میں ایک چراغ بنایا اور روشن کرنے والا چاند بنایا اور وہ ایسا ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے آگے پیچھے آنے جانے والا بنایا اس شخص کیلئے جو سمجھنا چاہے یا شکر کرنا چاہے) مقصود ان آیات سے انسان کو یہ بتلانا ہے کہ ہم نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–62

تتمہ دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ ۔ تبارک الذی جعل فی السماء بروجا وجعل فیہا .... الیٰ .... اراد شکورا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں دلائل قدرت کا بیان تھا اب پھر بعض عجائب قدرت کو ذکر کرتے ہیں۔ بہت ہی بڑی برکت والی ہے وہ ذات پاک جس نے اپنی قدرت سے آسمان میں برج بنائے اور رکھا آسمان میں ایک چراغ یعنی آفتاب جو تمام دنیا کے لیے چراغ ہے اگر یہ نہ ہوتا تو جہان میں اندھیرا ہوجاتا اور بنایا اس میں ایک چاند روشن یا روشن کرنے والا جو روشنی میں آفتاب سے کم ہے، دونوں کا یہ تفاوت بھی اس کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ ایک کو زیادہ روشن بنایا اور ایک کو کم۔ ایک دن میں نکلتا ہے اور ایک رات میں۔ ایک مجاہد اور سعید بن جبیر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

41:۔ ” تبرک الخ “ یہ دعوی سورت کا دوسری بار اعادہ اور دعوے پر بارہویں عقلی دلیل ہے جس اللہ نے آسمان کو مختلف برجوں میں تقسیم فرمایا اور اس میں آفتاب عالم تاب ایسا چراغ روشن کیا اور رات کی تاریکی میں نور کی سفید چادر بچھانے والا چاند پیدا فرمایا وہی برکات دہندہ ہے دوسرا کوئی نہیں۔ بروج سے کواکب سیارہ کی منازل مراد ہیں ھی منازل الکواکب السیارۃ (مدارک ج 3 ص 133) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–62

آسمان …… گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب کفار و مشرکین کو خدائے رحمان کے سامنے سجدہ کرنے کے لیے کہا جاتا تو وہ کہتے کہ ہم کسی رحمان کو نہیں جانتے اب آج کی پہلی آیت میں اسی اعتراض کا جواب ہے اور اس ذا ت کی تعریف بیان کی گئی ہے جس کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے تبرک الذی جعل فی السماء بروجا بڑی با برکت ہے وہ ذات خداوندی جس نے آسمانوں میں برج بنا دیئے ہیں ۔ وجعل فیھا سرلجا ً اور ان آسمانوں میں ایک روشن چراغ بھی رکھا ہے۔ وقمرامنیرا اور اجالا کرنے والا چاند بھی رکھا ہے ۔ مطلب یہ کہ خدا تعالیٰ کی وہ ذات ہے جو ان صفات کی حامل ہے کہ اس نے آسمانوں میں برج سورج اور چاند جیسی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْہَا سِرٰجًا وَّقَمَـــرًا مُّنِيْرًا۝ 61 برك أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء . قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ( ب رک ) البرک اصل میں البرک کے معنی اونٹ کے سینہ کے ہیں ( جس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 61–62

تفسیر : تبارک الذی الخ یہ جواب ہے ان کے اس قول کا وما الرحمن کہ کیا ہے رحمن ! وہ بابرکت ہے کہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں سراج یعنی آفتاب بنایا ہے جو تمام دنیا کا چراغ ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اندھیرا ہوجاتا اور رات کے لیے بھی اس نے چاند چمکتا بنایا ہے۔ مطلب یہ کہ رحمان وہ ہے کہ جس نے دنیا کا گھر بنایا اور اس گھر میں آفتاب و ماہتاب کی قندیلیں روشن کیں اور اس گھر میں تمہارے لیے ہر ایک قسم کا سامان معیشت بہم پہنچایا۔ پھر کہتے ہو کہ رحمان کون ہے اور اس کے سجدہ کرنے سے نفرت کرتے ہو ؟ اور اس پر بس نہ کیا بلکہ اس نے رات دن بنائے جو ایک کے بعد دوسرا آتا ہے رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات یا یوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 61–62

تَبٰـرَکَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَـآئِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِیْھَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا۔ وَھَوَالَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَاَنْ یَّذَّکَّرَاَوْ اَرَادَ شُکُوْرًا۔ (الفرقان : 61، 62) (بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک منور چاند بنایا۔ اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے بعد آنے والا بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے یا شکرگزار بننا چاہے۔ ) تَبَارَکَ کا مفہوم اور سورة کی پہلی آیت سے ربط عجیب بات یہ ہے کہ اس سورة کا آغاز بھی تَبَارَکَ سے ہوا تھا اور اس کے آخری رکوع کا آغاز بھی اسی لفظ سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 61–62

فہم القرآن ربط کلام : الرّحمن کا انکار کرنے والوں کو نصیحت کرنے کے بعد اب پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرتیں یاد کرواتا ہے۔ اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے جس نے آسمان میں برج بنائے اس نے آسمان میں سورج اور چمکتا ہوا چاند بنایا۔ اسی ذات کبریا نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا۔ اس کی قدرتوں میں اس کی ذات پر ایمان لانے کے بڑے ہی ٹھوس دلائل موجود ہیں۔ بشرطیکہ کوئی شخص اس کا شکر گزار بندہ بن کر نصیحت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ یہاں نصیحت کے لیے شکر گزار ہونے کی شرط ذکر کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نصیحت اور شکر آپس میں لازم ملزوم ہیں۔ شکر کی ابتداء اعتراف نعمت سے ہوتی ہے جس شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آسمان میں برج بنائے : 61: تَبٰرَکَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآ ئِ بُرُوْجًا (بڑی خیر والا ہے وہ اللہ تعالیٰ جس نے آسمان میں برج بنائے) برجؔ سے سبعہ سیارات کی منازل مراد ہیں۔ ہر ستارے کے دو ٹھکانے ہیں جن میں اس کی حالت مضبوط ہوتی ہے۔ اور سورج کا ایک گھر اور چاند کا ایک گھر اور حمل و عقرب مریخ کا مکان ہے۔ اور ثور و میزان یہ زہرہ کے گھر ہیں۔ جوزاء اور سنبلہ یہ دونوں عطارد کا گھر ہیں۔ اور سرطان چاند کا گھر ہے۔ اور اسد سورج کا گھر ہیں۔ اور قوس وحوت یہ دونوں مشتری کے گھر ہیں اور جدی اور دلو یہ دونوں زحل کے گھر ہیں۔ ان بروج کی طبع کے لحاظ سے چار قسمیں ہیں۔ ان میں سے ہر ایک تین بروج کو پاتا ہے پس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

61۔ تبارک الذی جعل فی السماء بروجا۔ بروج کی تفسیر۔ حسن اور قتادہ کا اور مجاہد کا قول ہے کہ بروج بڑے بڑے ستاروں کو کہاجاتا ہے بڑے بڑے ستارے ظہور کی وجہ سے بروج کہلاتے ہیں عطیہ عوفی کا قول ہے ، بروج سے رماد وہ اونچے محل ہیں جن میں چوکیدار اور محافظ موجود ہیں۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے، ولوکنتم فی بروج مشیدہ، عطائابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کرتے ہیں ، بروج بارہ ہیں اور وہ سات ستاروں کی منزلیں ہیں۔ وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ حمل، ثور، جوزائ، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ حمل اور عقرب کا گھر مریخ ہے۔ ثور اور میزان زہرہ میں رہتے ہیں ، جوزاء ، سنبلہ، عطارد میں ان کا ٹھکانہ ہے۔ سرطان چاند…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 61–62

61۔ 62:۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بیان فرمائی ‘ سورة یونس اور سورة الحجر میں گزر چکا ہے کہ آسمان میں بارہ برج ہیں اور ہر برج میں تیس تیس درجے ‘ سورج ہر روز میں ایک درجہ کو ایک سال میں بارہ برجوں کو طے کرتا ہے ‘ سورج کے اس دورہ سے جاڑا ‘ گرمی ‘ برسات کی فصلیں ہوتی ہیں جس دورہ کو سورج برس دن میں طے کرتا ہے اس کو چاند اٹھائیس دن میں طے کرتا ہے اور جس طرح سورج کا دورہ فصلوں کے ہے ‘ اسی طرح چاند کا دورہ مہینوں اور سال کے حساب کے لیے ہے ‘ چاند کے دورہ کے حساب سے جو بارہ مہینے پیدا ہوتے ہیں اسلام سے پہلے مشرکین مکہ نے اس حساب کو بدل ڈالا تھا ‘ ملت ابراہیمی میں جو مہینے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 61–62

آیت 61 سے 62 اللہ تعالیٰ نے اس سورة کریمہ میں (تبارک) کا لفظ تین مرتبہ استعمال فرمایا ہے کیونکہ، جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے، یہ لفط باری تعالیٰ کی عظمت، اس کے اوصاف کی کثرت اور اس کے احسان اور بھلائی کی وسعت پر دلالت کرتا ہے۔ یہ سورة مبارکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت، اس کی لامحدود قوت و تسلط، اس کی مشیت کے نفوذ، اس کے علم وقدرت کے عموم، امری و جزائی احکام پر اس کے احاطہء اختیار اور اس کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ اس میں بعض ایسی چیزیں بھی ہیں جو اس کی بےپایاں رحمت، اس کے وسیع جودو کرم اور اس کے دینی و دنیاوی احسانات پر دلالت کرتی ہیں یہ تمام اس وصف حسن کے تکرار کا تقاضا کرتے ہیں۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–62

رات دن ایک دوسرے کے جانشین ہیں قول باری ہے : (وھوالذی جعل اللیل والنھار خلفۃ) وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا۔ تاآخر آیت۔ شمر بن عطیہ نے ابن سلمہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص حضرت عمر ؓ کے پاس آکر کہنے لگا۔ امیر المومنین مجھ سے نماز رہ گئی ہے۔ “ آپ نے سن کر فرمایا ” رات کے وقت جو نماز تم سے رہ گئی ہے اس کے بدلے میں دن کے وقت نماز پڑھ لو۔ “ یعنی اس کی قضا دا کرلو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے جانشین بنایا ہے ہر اس شخص کے لئے جو سبق لینا چاہے یا شکر گزار ہونا چاہے۔ “ یونس نے ابن شہاب سے انہوں نے السائب بن زید اور عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے عبدالرحمن بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

77 اللہ تعالیٰ کی برکت کے بعض مظاہر میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جس نے آسمان میں عظیم الشان برج بنائے "۔ " برج " کے معنیٰ " قلعہ "، " قصر " اور مستحکم عمارت وغیرہ کے آتے ہیں۔ ہئیت قدیم میں سورج کی رفتار کے اعتبار سے جو بارہ منزلیں مقرر کی گئی ہیں ان کو بھی برج کہا گیا ہے۔ اسی لئے بعض مفسرین کرام انہی کو اس ارشاد ربانی کا مصداق قرار دیا ہے۔ اور بعض نے اس سے مراد مختلف ستارے اور سیارے لئے ہیں۔ جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ ان برجوں سے مراد عالم بالا کے وہ مختلف اور محفوظ خطے ہیں جن میں سے ایک کی مخلوق کو دوسرے خطے تک پہنچنا بہت مشکل ہے وغیرہ۔ سو اس بارے یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–77

آسمانوں کے انتظام ‘ نیک لوگوں کی صفات اور انعام تشریح : یہاں بھی کفار کو اللہ رحمن و رحیم کی کچھ اور مہربانیاں بتائی جا رہی ہیں جو خالصتاً اس وقت کے عرب بدئوں کے معیار کے مطابق بات کی جا رہی ہے۔ گو کہ اس میں بھی افلاک کے بہت سے رازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس وقت یعنی ساتویں صدی کے آغاز کا عرب بدو اپنی تہذیب ‘ زبان ‘ تشبیہ اور ثقافت کے معیار سے ہی بات سمجھ سکتا تھا کیونکہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب وہی عرب بدو تھا۔ لہٰذا رب ذوالجلال انہی کی زبان میں فرماتا ہے کہ ” بڑی بابرکت ہے اس کی ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور پھر سورج کا روشن چراغ رکھ دیا اور چاند کا اجالا کردیا۔ اور وہی ہے جس نے رات دن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–77

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف وہ ذات بہت ہی برکت والی ہے جس نے انسان کو حیات کا اتنا وسیع نظام ایک بہت ہی خوبصورت انداز سے ترتیب دے کر ہر شے کو حتی کہ اجرام فلکی کو بھی انسان ہی کی خدمت پہ لگا دیا جو مدتوں سے اپنے اپنے کام کو پوری باقاعدگی سے انجام دے رہے ہیں اس نے آسمانوں کو پیدا فرمایا اور فضا سے آسمانی بروج یعنی اجرام فلکی کے ٹھکانے اور ان کی راہیں مقرر کردیں ، یہ علم ہیئت ، ستارے اور سیارے ان کی رفتار اور اس کے اثرات ان کا وجود اور اس کی تعمیر اور خصوصیات اس میں بہت لمبی بحث ہے خصوصا اس دور میں جبکہ انسانی قدم چاند تک جا پہنچے ہیں اور وہاں کی فضا اس کے اثرات اور ان کی رفتار اور اس کے اسباب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ برجوں سے مراد بڑے ستارے ہیں یا وہ بارہ منزلیں جن سے سورج، چاند اور ستارے اپنی اپنی گردش کے دوران میں گزرتے ہیں۔ (دیکھئے سورة الحجر آیت 16) 8 ۔ جیسا کہ سورة نوح ( علیہ السلام) میں بصراحت فرمایا : وجعل الشمس سراجا اور اس نے سورج کو چراغ بنایا۔ (آیت 71)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:61) بروجا : برج کی جمع۔ علم فلکیات کے مطابق یہ بارہ برج ہیں جن کے نام یہ ہیں :۔ الحمل۔ الثور ۔ الجوزاء ۔ السرطان ۔ الاسد۔ السنبلۃ ۔ المیزان ۔ العقرب ۔ القوس۔ الجدی ۔ الدلو ۔ الحوت۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ والسماء ذات البروج (85:1) قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔ برج بمعنی بلند عمارت اور محل بھی ہے جیسے ولو کنتم فی بروج مشیدۃ (4:78) خواہ تم مضبوط قلعوں ہی میں ہو۔ سراجا : السراج (چراغ) وہ چیز جو بتی اور تیل سے روشن ہوتی ہے۔ مجازاً ہر روشن چیز کو روشن کہا جاتا ہے۔ یہاں سراجا سے مراد روشن سورج ہے۔ جیسا کہ اور جگہ فرمایا : وجعل الشمس سراجا (71:16) اور آفتاب کو چراغ (کی طرح روشن بنایا) ۔ سراج…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–66

لغات القرآن : آیت نمبر 61 تا 66 : بروج (برج) (قلعہ۔ بڑے بڑے ستارے) ‘ سراج (چراغ۔ سورج) ‘ قمرمنیر (روشن چاند) ‘ خلفۃ (ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے) ‘ عباد الرحمن ( اللہ کے بندے۔ رحمن کے بندے) ‘ یمشون ( چلتے ہیں) ‘ ھون ( وقار۔ آہستہ اور نرمی) ‘ خاطب (خطاب کیا۔ گفتگو کی) ‘ سلام (سلام۔ سلامتی) ‘ یبیتون ( رات گزارتے ہیں) ‘ اصرف ( دور کردے پھیردے) ‘ غرام ( لپٹ جانا۔ چمٹ جانا) ‘ ساءت (برا) ‘ مستقر (ٹھکانا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 61 تا 66 : آپ نے اس سے پہلی آیات میں کفار کا یہ انداز ملاحظہ کرلیا ہے کہ وہ اپنے حقیقی معبود اللہ تعالیٰ کو بھول کر بےحقیقت چیزوں کو معبود بنائے بیٹھے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 58–62

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ مسلمانو ! تم اپنے سب کاموں کا بھروسہ اللہ پر رکھو کہ اس کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے اور اللہ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے، اس واسطے کسی کام کا بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھنے کے بعد اگر اس کام میں کچھ توقف ہو تو وقت مقررہ تک صبر کرنا چاہیے تاکہ اللہ پر بھروسہ رکھنے کا اور صبر کا دونوں کا اجر ملے۔ پھر فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ اس کی تسبیح وحمد کرے، اور اس کی اطاعت اور اس کا شکر بجالائے ، پھر فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اپنی قدرت سے بغیر کسی مدد کے چھ دن میں پیدا کیا، اگر اللہ چاہتا تو ایک لمحہ میں آسمان اور زمین سب کچھ پیدا کردیتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[40] '' برج کے معنی قلعہ اور محل کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد وہ آسمانی قلعے یا خطے ہیں جو اللہ نے آسمانوں میں بنائے ہیں جن میں اس کے ملائکہ کی فوجیں برابر مامور رہتی ہیں اور ان حدود اور دائروں کی نگرانی کرتی ہیں جن سے آگے بڑھنے کی اجازت نہ شیاطین انس کو ہے اور نہ شیاطین جن کو، اگر کوئی شیطان ملاو اعلیٰ کی باتوں کی کچھ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے۔ تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حجر حاشیہ 6 صفحہ۔ 596 [41] یعنی سورج۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 61–62

حل لغات : بروجا ۔ منازل ۔ برج کی جمع ہے ۔ یعنی ستاروں کے لئے مفلوہ لائن سرا ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(61) وہ بڑی با برکت اور بڑی عالیشان ذات ہے جس نے آسمان میں برج یعنی بڑے بڑے ستارے بنائے اور اسی نے آسمان میں ایک روشن چراغ اور نورانی چاند بنایا بڑے بڑے ستاروں کو برج فرمایا اور آسمان کے قلعوں کو بھی برج کہا جاسکتا ہے یا سورج کی بارہ منزلوں کو برج فرمایا اور آسمان کے قلعوں کو بھی برج چراغ اور نورانی چاند بنایا بڑے بڑے ستاروں کو برج فرمایا اور آسمانوں کے قلعوں کو بھی برج کہا جاسکتا ہے یا سورج کی بارہ منزلوں کو برج فرمایا جو اہل ہئیت کہتے ہیں یعنی حمل، ثور، جوزا، سرطان، اسد، میزان، عقرب، قوس، جدی ڈول اور مچھلی اہل عرب کو ستاروں کی گردش کا علم بڑا اہم تھا یہ تمام برج آفتاب کی گردش کے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 61–63

ف 1۔ مطلب یہ کہ ان کے مزاج میں تواضع ہے تمام امور میں، اور اسی کا اثر چلنے میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ 2۔ مطلب یہ کہ اپنے نفس کے لئے انتقام قولی یا فعلی نہیں لیتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

برکت والی ہے وہ ذات جس نے آسمانوں میں برج بنائے ہیں : 61۔ تصریف آیات کے مطابق مضمون کو استشہاد کے طور پر پھرایا جا رہا ہے کبھی آفاق اور کبھی انفس کی نشانیاں ذکر کی گئی ہیں اور توحید الہی میں ان کو پیش کیا گیا ہے کبھی مجرد آسمان و زمین کی بات کی گئی اور کبھی پھر آسمان و زمین کے اندر جو نظام کا بندھن باندھا گیا ہے اس کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ، زیر نظر آیت میں پھر آیات آفاق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ آفاق میں ذرا نظر دوڑاؤ اور دیکھو کہ آسمانوں میں جو برج ہیں وہ کس نے بنائے ہیں اور کیوں بنائے ہیں اس طرح اتنے بڑے سورج کو جو تمہاری زمین سے بھی بہت بڑا بتایا گیا ہے کس طرح قائم ہے اور اس سے کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 61–62

تَبَارَ‌كَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُ‌وجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَ‌اجًا وَقَمَرً‌ا مُّنِيرً‌ا ﴿61﴾ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ‌ خِلْفَةً لِّمَنْ أَرَ‌ادَ أَن يَذَّكَّرَ‌ أَوْ أَرَ‌ادَ شُكُورً‌ا ﴿62﴾ Glorious is the One who made stellar formations in the sky and placed therein a lamp (sun) and a bright moon. [ 61] And He is the One who made the day and the night following each other, for the one who wishes to be mindful or wishes to show gratitude. [ 62] - 25:61-62. In these two verses it is explained that Allah Ta’ ala has created the sun, the moon and stars which bring…

Read the full tafseer →