Explained with ayahs 55–60
آبائی گمراہی
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں اور بلادلیل وحجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی نفسانی خواہشات سے انکی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول ﷺ سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہوگئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہوگئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہوگا۔ یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا اور آخرت میں ان کا پروردگار انکی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 73
یہ بات دراصل وہ محض کافرانہ شوخی اور سراسر ہٹ دھرمی کی بنا پر کہتے تھے، جس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۔ " رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ " حالانکہ نہ کفار مکہ خدائے رحمان سے بیخبر تھے اور نہ فرعون ہی اللہ رب العالمین سے ناواقف تھا۔ بعض مفسرین نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ اہل عرب کے ہاں اللہ تعالیٰ کے لیے " رحمان " کا اسم مبارک شائع نہ تھا اس لیے انہوں نے یہ اعتراض کیا۔ لیکن آیت کا انداز کلام خود بتارہا ہے کہ یہ اعتراض نا واقفیت کی بنا پر نہیں بلکہ طغیان جاہلیت کی بنا پر تھا، ورنہ اس پر گرفت کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ نرمی کے ساتھ انہیں سمجھا دیتا…
Read the full tafseer →قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ ، لفظ رحمن عربی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی سب عرب جانتے تھے مگر یہ لفظ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے نہ بولتے تھے اسی لئے یہاں یہ سوال کیا کہ رحمن کون اور کیا ہے۔
Read the full tafseer →اسم رحمان پر قریش کا اعتراض اور اس کا جواب
یعنی اس کائنات کے خالق کی سب سے بڑی صفت تو رحمان ہے لیکن ان نادانوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کو خدائے رحمان کو سجدہ اور اس کی عبادت کی دعوت دی جاتی ہے تو بڑی رعونت کے ساتھ جواب دیتے ہیں کہ یہ رحمان کیا چیز ہے ؟ کیا ہم ہر اس چیز کو سجدہ کریں جس کا تم ہمیں حکم دیتے ہو ؟ وزادھم نفوراً یعنی بجائے اس کے کہ مطلوب حقیقی کی طرف رہنمائی سے وہ خوش ہوں اور صدق دل سے اس کی قدر کریں، یہ چیز ان کی نفرت اور بیزاری کو بڑھاتی ہے۔
سورة نبی اسرائیل کی آیت 110 کے تحت ہم تفصیل کے ساتھ یہ بیان کرچکے ہیں کہ اہل عرب اگرچہ خدا کے لئے اسم رحمان سے ناواقف نہیں تھے، ان کے لٹریچر…
Read the full tafseer →60-1رَ حْمٰن، رَ حِیْم اللّٰہ کی صفات اور اسمائے حسنٰی میں سے ہیں لیکن اہل جاہلیت، اللہ کو ان ناموں سے نہیں پہچانتے تھے جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقعے پر جب نبی ﷺ نے معاہدے کے آغاز پر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْمِ لکھوایا تو مشرکین مکہ نے کہا، ہم رحمٰن و رحیم کو نہیں جانتے۔ بِاسْمِکَ اللَّھُمَّ ! لکھو (سیرت ابن ہشام۔-2317 مذید دیکھئے (كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِيْٓ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَآ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُوْنَ بالرَّحْمٰنِ ۭ قُلْ هُوَ رَبِّيْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ مَتَابِ) 13۔ الرعد…
Read the full tafseer →20: مشرکین مکہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان رکھتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے ”رحمن“ کے نام کو تسلیم نہیں کرتے تھے، اس لیے جب اللہ تعالیٰ کا ذکر اس نام کے ساتھ کیا جاتا تو وہ بڑی بدتمیزی سے اس مبارک نام کی تردید کرتے تھے۔
21: یہ سجدے کی آیت ہے جو کوئی شخص عربی میں یہ آیت پڑھے یا سنے اس پر سجدہ تلاوت واجب ہے۔
Read the full tafseer →واذا قیل ……نفوراً (60)
یہ برخود غلط لوگوں کو جب رحمٰن کی بندگی کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ لوگ نہایت ہی حقارت ، جھنجھلاہٹ کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ رحمٰن کیا ہے ؟
یہ کفر و سرکشی کی بدترین اور مکروہ ترین تصویر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں کس قدر جری اور گستاخ ہوگئے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی ضد میں اپنے رب کی توہین کے لئے بھی تیار تھے۔ اللہ کے بارے میں بھی وہ یہ انداز گفتگو اختیار کرتے تھے۔ لہٰذا یہ لوگ اگر رسول اللہ ﷺ کے بارے میں برے الفاظ استعمال کرتے تھے تو ان سے کوئی بعید نہ تھا۔ وہ اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم کا یوں انکار کرتے تھے۔ یوں ظاہر کرتے تھے کہ وہ تو رحمٰن…
Read the full tafseer →3 یعنی یہ جاہل مشرک رحمان کی عظمت شان کو کیا سمجھ سکتے ہیں جن کو اس نام سے بھی چڑ ہے۔ جب یہ نام سنتے ہیں تو انتہائی جہل یا بےحیائی اور تعنت سے ناواقف بن کر کہتے ہیں کہ رحمان کون ہے جس کو ہم سے سجدہ کراتا ہے کیا محض تیرے کہہ دینے سے ایسی بات مان لیں ؟ بس تم نے ایک نام لے دیا اور ہم سجدہ میں گرپڑے۔ غرض جس قدر انھیں رحمان کی اطاعت وانقیاد کی طرف توجہ دلائے اسی قدر زیادہ بدکتے اور بھاگتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 60 وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اسْجُدُوْا للرَّحْمٰنِج قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُق ”
مشرکین مکہّ کے لیے اللہ کا لفظ تو معروف تھا مگر رحمن سے وہ واقف نہیں تھے۔ چناچہ وہ حضور ﷺ پر یہ اعتراض بھی کرتے تھے کہ اللہ کے بجائے آپ رحمن کا نام کیوں لیتے ہیں ؟ یہ نیا نام ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔
اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا ”
یعنی ہم آپ ﷺ کے کہنے پر اسے سجدہ کیوں کریں ؟ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ہم نے آپ ﷺ کی بات تسلیم کرلی اور آپ ﷺ جیت گئے۔ یہی وہ ضد ہے جسے قرآن میں ”شِقَاق“ کہا گیا ہے۔ اس ضد اور تعصب میں وہ لوگ آپ ﷺ کی مبنی بر حقیقت بات بھی ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔
وَزَادَہُمْ نُفُوْرًا ”
یعنی اس…
Read the full tafseer →75 قریش مکہ کے سامنے جب رحمن کا ذکر کیا جاتا تو از راہ۔۔ کہا کرے کہ رحمن کیا ہوتا ہے ؟ یہاں ذوی العقول کے لہئے ما کا لفظ اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ قریش رحمن سے ناواقف محض تھے بلکہ یہ تھی رحمن کا لفظ ان کے ہاں مروج نہ تھا۔ اور انھیں اس لفظ سے چڑ سی ہوگئی تھی جیسا کہ پہلے سورة رعد کی آیت نمبر 30 کے حاشیہ 39 میں گزر چکا ہے اور جب انھیں رحمن کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تو یکدم بھڑک اٹھتے تھے اور ان کی حرکت محض ضد اور تعصب کی وجہ سے ہوتی تھی۔ ورنہ اگر انھیں فی الواقعہ رحمن کا علم نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان پر گرفت کرنے کے بجائے انھیں نرمی سے سمجھا اور بتلاسکتے تھے۔
76 اس آیت…
Read the full tafseer →69۔ یہ سوال مشرکین عرب کی طرف سے پیش ہوتا تھا۔ وہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ اللہ تک تو خیر اسے تو معبوداعظم کی حیثیت سے ہم بھی جانتے ہیں، لیکن یہ دوسرا نام (آیت) ” الرحمن “۔ تم کیا لیا کرتے ہو۔ یہ کیا کوئی دوسرا خدا ہے۔ اس کی ماہیت اور صفات تو بیان کرو، مشرکین حق تعالیٰ کی صفت رحمانیت سے بہت ہی دور اور بیگانہ تھے۔
70۔ (اور بجائے اس کے کہ اسلام سے قریب ہوتے اور زیادہ دور ہوگئے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
آیت نمبر 45 تا 60
ترجمہ : کیا تو اپنے رب کی صنعت کو نہیں دیکھتا وقت اسفار سے طلوع شمس کے وقت تک اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک ھالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا، یعنی ساکن رکھتا جو طلوع شمس سے زائل نہ ہوتا پھر ہم نے سورج کو اس سایہ کو اپنی طرف بتدریج سمیٹ لیا یعنی طلوع شمس کی وجہ سے شیئاً فشیئاً اور وہ ایسا ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات کا لباس یعنی لباس کے مانند ساتر بنایا اور نیند کو قطع کرنے والی یعنی جسموں کے لئے اعمال کو موقوف کرکے راحت کی چیز بنایا اور دن کو منتشر ہونے کا وقت بنایا اس میں رزق وغیرہ حاصل کرنے کے لئے اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں اور ایک…
Read the full tafseer →واذا قیل لہم اسجدوا للرحمن قالوا وما الرحمن انسجد لما تامرنا اور جب ان سے
کہا گیا کہ رحمن کو سجدہ کرو ‘ کہنے لگے رحمن کیا چیز ہے (ہر) اس چیز کو ہم سجدہ کرنے لگیں جن کو سجدہ کرنے کا تم ہم کو حکم دو ۔
مشرکین لفظ رحمن کا اطلاق اللہ پر نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ سوائے رحمن یمامہ (یعنی مسیلمہ کذاب متبنی) کے اور کسی رحمن کو ہم نہیں جانتے۔ مشرکین مسیلمہ کو رحمن یمامہ کہتے تھے۔
وزادہم نفورا۔ اور رحمن کو (سجدہ کرنے کے حکم نے) ان کے اندر (ایمان سے) اور نفرت بڑھا دی۔
Read the full tafseer →(60) اور جس وقت ان کفار مکہ سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کو سجدہ کرو اور توحید خداوندی کے قائل رہو، اس کے سامنے سربسجود ہوجاؤ تو کہتے ہیں کہ اللہ کیا چیز ہے ہم تو مسیلمہ کذاب کے علاوہ اور کسی کو نہیں جانتے کیا ہم اس بےسند چیز کو سجدہ کرنے لگیں گے اور اللہ تعالیٰ یا قرآن کریم کے تذکرہ سے یا یہ کہ رسول اکرم ﷺ کی دعوت سے ان کو اور زیادہ نفرت ہوتی ہے اور ایمان سے دور بھاگتے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا للرَّحْمٰنِ۔۔ : اس آیت کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ مشرکین مکہ زمین و آسمان کے خالق کے لیے ”اللہ“ کا لفظ تو مانتے تھے، لیکن وہ اس کے نام ”رحمان“ سے مانوس نہ تھے، اس لیے اسے سنتے ہی چڑ جاتے تھے۔ دیکھیے سورة رعد (30) اور بنی اسرائیل (110) دوسری تفسیر اس کی یہ ہے کہ وہ لوگ یہ بات کہ ”رحمان چیز کیا ہے“ محض کافرانہ شوخی اور سراسر ہٹ دھرمی کی بنا پر کہتے تھے، جس طرح فرعون نے موسیٰ ؑ سے کہا تھا : (وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ) [ الشعراء : 23 ] ”اور رب العالمین کیا چیز ہے ؟“ حالانکہ نہ کفار مکہ اس بیحد رحم والی ہستی سے بیخبر تھے اور نہ فرعون رب العالمین سے ناواقف تھا،…
Read the full tafseer →( واذا قیل لھم۔۔۔۔۔ )
واذا قیل لھم اسجدو اللرحمن، رحمن سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ قالو وما الرحمن وہ بات انکار اور تعجب کے طریقہ پر کرتے ہیں، یعنی ہم تو یمامہ کے رحمن کو جانتے ہیں وہ اس سے مراد مسیلمہ کذاب لیتے۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے گمان کیا ہے : وہ صفت سے جاہل تھے موصوف سے جاہل نہیں تھے۔ اس پر استدلال وما الرحمن سے کیا گیا ہے انہوں نے من الرحمن نے کہا۔ ابن حصار نے کہا : گویا انہوں نے دوسری آیت نہیں پڑھی وہ ہے :” وھم یکفرون بالرحمن “ ( الرعد : 30)
” انسجد لما تامرنا “ یہ مدینہ طیبہ اور بصرہ کے قراء کی قرأت ہے، یعنی اے محمد ﷺ ! کیا ہم اس کو سجدہ کریں جس کے بارے میں تو ہمیں حکم دیتا ہے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
1۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ فسئل بہ خبیرا “ سے مراد ہے کہ میں نے تجھے جس چیز کے بارے میں بتایا تو نے مجھے اس کے بارے میں باخبر کردیا۔
2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے شمر بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الرحمن فسئل بہ خبیرا “ یعنی یہ قرآن اس کے بارے میں آگاہ ہے (اس سے سوال کر)
3۔ ابن ابی حاتم نے عطاء رحمۃ اللہ سے روایت کیا آیت ” واذا قیل لہم اسجدوا للرحمن قالوا وما الرحمن “ یعنی انہوں نے کہا کہ ہم رحمن کو نہیں جانتے مگر یمامہ والے رحمن کو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آیت ” ینظرون، والہکم الہ…
Read the full tafseer →وَاِذَا [ اور جب کبھی ] قِيْلَ [ کہا جاتا ہے ] لَهُمُ [ ان لوگوں سے ] اسْجُدُوْا [ تم لوگ سجدہ کرو ] لِلرَّحْمٰنِ ۚ [ رحمن کے لئے ] قَالُوْا [ تو وہ کہتے ہیں ] وَمَا [ اور کیا (شئے) ہے ] الرَّحْمٰنُ ۤ [ رحمن ] اَنَسْجُدُ [ کیا ہم سجدہ کریں ] لِمَا [ اس کے لئے کس کو ] تَاْمُرُنَا [ آپ ﷺ کہیں ہم سے ] وَزَادَهُمْ [ اور (اس بات نے) زیادہ کیا ان کو ] نُفُوْرًا [ بیزاریوں کے لحاظ سے ]
Read the full tafseer →(وَاِِذَا قِیْلَ لَہُمُ اسْجُدُوْا للرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ ) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ رحمن کیا چیز ہے) یہ بات وہ اپنی جہالت اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے (اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا) (اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تم ہمیں سجدہ کرنے کا حکم دیتے ہو) وہ یہ بات ضد میں کہتے تھے کہ تمہارے کہنے سے ہم کسی کو سجدہ نہیں کریں گے (وَزَادَھُمْ نُفُوْرًا) (اور آپ کا یہ فرمانا کہ تم رحمن کو سجدہ کرو اس سے ان کو اور زیادہ نفرت بڑھ جاتی ہے) قریب آنے کے بجائے اور زیادہ دور ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
بیان جہالت مشرکین و منکرین نبوت
قال اللہ تعالیٰ ویعبدون من دون اللہ مالا ینفعھم ولا یضرھم .... الیٰ .... ازادھم لغفورا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں دلائل توحید وقدرت بیان کیے اب آئندہ آیات میں مشرکین اور منکرین نبوت کی جہالتوں اور خصال بد کو بیان کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک مادہ سے بشر کو پیدا کیا اور دو قسم کا بنایا۔ ایک مذکر اور دوم مؤنث۔ جن کے اعضاء اور طبائع اور شکل و صورت میں بہت فرق ہے اسی طرح اس نے مومن اور کافر کو پیدا کیا جن کی طبیعتوں میں بےانتہا فرق ہے۔
اور جس طرح خدا نے دو قسم کے دریا بنائے ایک شیریں اور دوم تلخ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کسی کو شیریں اور خوشگوار اخلاق پر پیدا کیا…
Read the full tafseer →40:۔ ” واذا قیل الخ “ یہ شکوی ہے۔ مشرکین سے جب کہا جاتا ہے کہ خدائے رحمن کو سجدہ کرو تو وہ کہتے ہیں وہ رحمن کون ہے ہم تو رحمن کو جانتے ہی نہیں۔ تو کیا جسے تو ہمیں سجدہ کرنے کا حکم دیتا ہے ہم اسے علم و معرفت کے بغیر ہی سجدہ کرنے لگیں ؟ مشرکین میں اللہ تعالیٰ کا یہ نام معروف نہیں تھا۔ اس لیے انہوں نے یہ سوال کیا۔ ای لتعرف الرحمن وکانوا ینکرون ان یسمی اللہ باسمہ الرحمن (ابن کثیر ج 3 ص 323) ۔ لانھم ماکانوا یطلقونہ علی اللہ وکانوا یقولون لا نعرف الرحمن الا رحمان الیمامۃ یعنون مسیلمۃ الکذاب یسمونہ رحمان الیمامۃ (مظہری ج 7 ص 39) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ کی دو باتوں کا ذکر کیا تھا۔ پہلی بات یہ تھی کہ وہ دو مختلف پانیوں کو اکٹھے چلا کر ان کے درمیان رکاوٹ کٹھ ہی کردیتا ہے جس کی وجہ سے وہ پانی آپس میں خلط ملط نہیں ہوتے ۔ اور دوسری بات یہ فرمائی کہ اس نے انسان کا سلسلہ نسب حقیرقطرہ آب سے چلایا ہے ۔ یہ دونوں باتیں کس کی قدرت کا نمونہ اور توحید کے دو پل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے مگر ان تمام تر دلائل و شواہد کے باوجود لوگ ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان کرسکتی ہیں ۔ فرمایا یہ لوگ خدا کی طرف سے پست پھیر کر شیطان کے …بنے ہوئے ہیں۔
آج کے درس…
Read the full tafseer →وَاِذَا قِيْلَ لَہُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ 0ۤ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَزَادَہُمْ نُفُوْرًا 60ۧ۞
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
سجد
السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات،
وذلک ضربان : سجود باختیار،
ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله :…
Read the full tafseer →1 ؎ بعض کہتے ہیں کفار نہیں جانتے تھے کہ رحمن اللہ کا نام ہے مگر یہ ٹھیک نہیں کیونکہ لفظ عوتی ہے بلکہ تکبراً خدا سے انکار کرتے تھے اور اس کے لیے سجدہ کرنے سے نفرت کرتے تھے کیونکہ بت پرستی کی عادت تھی۔ 12 منہ۔ اس مقام پر سجدہ واجب ہے۔
ضحاک کہتے ہیں اس موقع پر آنحضرت ﷺ اور خلفار اربعہ و عثمان بن مظعون و عمر بن عبسہ ؓ نے جو سجدہ کیا تو مشرکین مسجد کے کنارے جا کر ہنسنے لگے پس زادھم نفورا سے یہ مراد ہے (ک) 12۔ منہ
Read the full tafseer →وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ ق اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَزَادَھُمْ نُفُوْرًا۔ (الفرقان : 60)
(اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو، وہ پوچھتے ہیں، رحمن کون ہے۔ کیا ہم سجدہ کریں اس کو جس کے متعلق تم ہمیں حکم دیتے ہو، اور یہ چیز ان کی نفرت کو اور بڑھا دیتی ہے۔ )
اسمِ رحمن پر قریش کا اعتراض اور اس کا جواب
اس آیت کریمہ میں قریش اور دیگر مشرکین کی بیخبر ی اور جہالت کا حوالہ دیا گیا ہے جو حقیقت میں تمرد تک پہنچ چکی تھا۔ باوجود اس کے کہ کائنات کے خالق کی سب سے بڑی صفت رحمن ہے اور پروردگار کی اسی صفت کے باعث دنیا وجود میں آئی اور اسی صفت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
فہم القرآن
ربط کلام : جس زندہ اور ہمیشہ قائم رہنے والی ذات پر توکل کرنے کا حکم ہے وہ بڑا ہی مہربان ہے اور اسی نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور خالقیت کے دلائل دیتے ہوئے یہ بات کئی مرتبہ بیان فرمائی ہے کہ اس نے زمینوں، آسمانوں کو چھ دن میں پیدا فرمایا، زمین و آسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد وہ عرش معلی پر اپنی شان کے مطابق مستوی ہوا۔ وہی رحم و کرم کا مالک اور خالق ہے۔ اگر کسی کو شک ہو تو وہ کسی جاننے والے سے پوچھ لے۔ یہ جملہ کفار مکہ کے لیے بولا گیا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نام الرّحمن کا انکار کرتے تھے۔ جب نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کو الرّحمن کہہ کر پکارتے تو…
Read the full tafseer →60: وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ (اور جب ان سے کہا جاتا ہے) جب محمد ﷺ مشرکین کو کہتے ہیں۔ اسْجُدُوْالِلرَّحْمٰنِ (کہ تم رحمان کو سجدہ کرو) اللہ تعالیٰ کیلئے نماز پڑھو اور خضوع اختیار کرو۔ قَالُوْاوَمَا الرَّحْمٰنُ (وہ کہتے ہیں رحمان کون ہے ؟ ) ہم تو رحمان کو نہیں جانتے کہ اس کو سجدہ کریں یہ سوال مسمیٰ بہٖ کے متعلق ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو اس نام سے نہ جانتے تھے۔ اسی لئے مجہول کے متعلق سوال ماؔ سے کیا نمبر 2۔ رحمان کا معنی ہم نہیں جانتے کیونکہ ان کے کلام میں یہ مستعمل نہ تھا۔ جیسا کہ الرحیم، الراحم، الرحوم وغیرہ استعمال ہوتے تھے۔ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا (کیا ہم اس کو سجدہ کریں جس کو تو ہمیں…
Read the full tafseer →60۔ واذاقیل لھم اسجدوا، ،، مشرکین یہ کہتے تھے کہ کون سارحمن ہم تویمامہ کے رحمن کو جانتے ہیں اس سے مراد مسیلمہ کذاب اس کو رحمن یمامہ کہاجاتا تھا۔ انسجد لماتامرنا، حمزہ اور کسائی نے یامرنا، پڑھا ہے۔ اس کا معنی ہوگا کہ جب محمد ہمیں اس کو سجدہ کرنے کا حکم دیں گے دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے کہ جب آپ ہمیں حکم دیں گے ، اے محمد، وزادھم ، کہنے والے کی بات کو اورنفرت بڑھادی۔ اسجدوللرحمن، نفورا، دین اور ایمان سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
58۔ 60:۔ توکل کے معنی اللہ پر بھروسہ رکھنے کے ہیں ‘ وعظ ونصیحت پر اجرت لینے کی مناہی فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم تو اپنے سب کاموں کا بھروسہ اللہ پر رکھو کہ اس کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے اور اللہ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے ‘ اس واسطے کسی کام کا بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھنے کے بعد اگر اس کام میں کچھ دیر ہو تو وقت مقررہ تک صبر کرنا چاہیے تاکہ اللہ پر بھروسہ رکھنے کا اور صبر کا دونوں کا اجر ملے ‘ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والے لوگ قیامت کے دن بلاحساب جنت میں جاویں گے ‘ بخاری ومسلم میں ابو سعید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
آیت 56 سے 60
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد ﷺ کو لوگوں پر داروغہ بنا کر بھیجا ہے نہ انہیں فرشتہ بنایا ہے اور نہ ان کے پاس چیزوں کے خزانے ہیں اس نے تو آپ کو صرف (مبشرا) ” خوشخبری سنانے والا “ بنا کر بھیجا ہے آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی ثواب کو خوشخبری سناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے (ونذیرا) ” اور ڈرانے والا۔ “ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اس کو دنیاوی اور اخروی سزا سے ڈراتے ہیں اور یہ اوامرونواہی میں سے ان امور کو تبیین کو مستلزم ہے جن کی بشارت دی گئی ہے اور جن سے انداز حاصل ہوتا ہے۔ اے محمد ! ﷺ آپ قرآن اور ہدایت پہنچانے پر ان سے کسی اجر کا مطالبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–62
رات دن ایک دوسرے کے جانشین ہیں
قول باری ہے : (وھوالذی جعل اللیل والنھار خلفۃ) وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا۔ تاآخر آیت۔ شمر بن عطیہ نے ابن سلمہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص حضرت عمر ؓ کے پاس آکر کہنے لگا۔ امیر المومنین مجھ سے نماز رہ گئی ہے۔ “ آپ نے سن کر فرمایا ” رات کے وقت جو نماز تم سے رہ گئی ہے اس کے بدلے میں دن کے وقت نماز پڑھ لو۔ “ یعنی اس کی قضا دا کرلو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے جانشین بنایا ہے ہر اس شخص کے لئے جو سبق لینا چاہے یا شکر گزار ہونا چاہے۔ “
یونس نے ابن شہاب سے انہوں نے السائب بن زید اور عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے عبدالرحمن بن…
Read the full tafseer →75 منکرین کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا ایک اور نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم سجدہ کرو خدائے رحمان کو تو یہ لوگ کہتے ہیں رحمن کیا ہوتا ہے ؟ "۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لوگ رحمن کے مفہوم سے نا آشنا تھے۔ یہ تو خالص عربی زبان کا لفظ ہے اور ان کے کلام میں مستعمل تھا۔ اس کا مفہوم ان کے یہاں واضح تھا۔ مگر ضد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ رحمن کیا ہوتا ہے ؟ جیسا کہ فرعون نے کہا تھا ۔ " اور کیا ہوتا ہے رب العالمین " ۔ سو اگر ان کی یہ بات کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہوتی جس طرح کہ عام مفسرین کرام نے فرمایا ہے تو قرآن حکیم میں ان کو اس طرح ٹوکنے اور گرفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
اللہ کی طاقت کے ثبوت
میٹھا اور کھارا پانی، انسان کی پیدائش، رسول کریم کی بعثت اور اللہ کا عرش پر مستوی ہونا
تشریح : رب العزت کو دیکھنا کسی بھی انسانی آنکھ کے لیے ممکن نہیں کیونکہ اس کا جلال اس قدر زیادہ ہے کہ بندہ اس کو قیامت کے دن ہی دیکھ سکے گا اس مادی جسم کے ساتھ اس کو آنکھ سے نہیں البتہ دل کی آنکھ اور فہم و فراست سے اس کی بنائی ہوئی تخلیقات سے اس کی عظمت اور بڑائی کا اندازہ ضرور ر کرسکتا ہے۔ اب یہاں اس کی بیشمار تخلیقات میں سے ایک تو میٹھے اور کھارے پانی کو ایک ہی سمندر میں بہتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک ہی سمندر میں بہہ رہے ہیں مگر پانی آپس میں ملتا نہیں۔ کس قدر حیرت ناک اور عجیب و غریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
اے مخاطب تو دیکھتا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہر شے میں اور ہر کام میں ایک رشتہ قائم کردیا ہے یہی رشتہ سبب اور اس کے نتیجے میں ہے سورج کی روشنی اور سائے میں ہے کس طرح قدرت باری نے چیزوں کو سایہ بخشا کہ دور تک پھیلا ہوتا ہے ، اگر اللہ جل جلالہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایسے ہی رکھنے پر قادر تھا مگر اس نے سائے کے بڑھنے گھٹنے کو سورج اور دھوپ سے متعلق کردیا ، سورج اوپر اٹھتا ہے تو سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں اور دھوپ اور گرمی کی تپش پھیلتی ہے اور پھر سورج ڈھلتا ہے تو دوبارہ سائے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ رشتے یہ اسباب ونتائج اللہ نے دنیا کی آبادی اور بنی آدم کے آرام کا سبب بنائے…
Read the full tafseer →6 ۔ یا ” رحمن کو سجدہ کرنے کے حکم سے “ ان کی نفرت اور بڑھ جاتی ہے۔ یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ مشرکین مکہ زمین و آسمان کے خالق کے لئے ” اللہ “ کا لفظ تو مانتے تھے لیکن وہ اس کے نام ” رحمن “ سے مانوس نہ تھے اس لئے اسے سنتے ہی چڑ جاتے تھے۔ دیکھئے سورة رعد آیت 30، سورة اسرا : آیت 110 ۔ (قرطبی) تنبیہ اس آیت پر سجدہ کرنا ہر پڑھنے اور سننے والے کے لئے مسنون ہے اور اس پر تمام علما کا اتفاق ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(25:60) انسجد بماتا مرنا۔ میں ما مصدریہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ کیا تیرے کہنے پر ہم سجدہ کریں۔ ما موصولہ بھی ہوسکتا ہے بمعنی الذی ترجمہ ہوگا :۔ کیا جس کے لئے تم حکم کرو ہم اسی کو سجدہ کرنے لگیں۔
زادھم : زاد ماضی واحد مذکر غائب زیادۃ مصدر (باب ضرب) ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (اس ضمیر کا مرجع مشرکین ہیں) زاد میں ضمیر فاعل امر بالسجود للرحمن ہے یعنی رحمن کو سجدہ کرنے کا حکم نے ان کی نفرت کو اور بڑھا دیا۔
نفورا۔ کسی چیز سے دور بھاگنا۔ اسی معنی میں ہے وما یریدھم الا نفورا (17:41) مگر وہ حق سے اور زیادہ دور ہی بھاگے جا رہے ہیں اسی معنی میں موجودہ آیت میں استعمال ہوا ہے وزارھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 60 :
لوشئنا (اگر ہم چاہتے) ‘ لبعثنا ( البتہ ہم ضرور بھیجتے) ‘ لا تطع (کہنا مانیئے) جھاد کبیر (زوردار مقابلہ) ‘ مرج ( اس نے ملایا) ‘ البحرین (دودریاؤں کو) ‘ عذب (میٹھا) ‘ فرات (خوش گوار۔ پی کر مزہ آئے) ‘ ملح (کھاری) ‘ اجاج (کڑوا) ‘ حجر (آڑ۔ رکاوٹ) ‘ محجور ( جو خود آڑ میں ہو) ‘ نسب (نسب۔ نسبی رشتے) ‘ صھر (شادی کے رشتے ۔ سسرال) ‘ ظھیر ( سرکش۔ مقابل۔ پشت پناہی کرنے والا) ‘ ما اسئل (میں نہیں مانگتا) ‘ ذنوب (ذنب) (گناہ ۔ خطائیں) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) ‘ استوی ( وہ برابر ہوا۔ جلوہ گرہوا) ‘ تأ مرنا ( تو ہمیں حکم دیتا ہے) ‘ نفور (نفرت۔ ناگواری) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ مسلمانو ! تم اپنے سب کاموں کا بھروسہ اللہ پر رکھو کہ اس کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے اور اللہ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے، اس واسطے کسی کام کا بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھنے کے بعد اگر اس کام میں کچھ توقف ہو تو وقت مقررہ تک صبر کرنا چاہیے تاکہ اللہ پر بھروسہ رکھنے کا اور صبر کا دونوں کا اجر ملے۔ پھر فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ اس کی تسبیح وحمد کرے، اور اس کی اطاعت اور اس کا شکر بجالائے ، پھر فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اپنی قدرت سے بغیر کسی مدد کے چھ دن میں پیدا کیا، اگر اللہ چاہتا تو ایک لمحہ میں آسمان اور زمین سب کچھ پیدا کردیتا ہے…
Read the full tafseer →[39] یہ بات دراصل وہ عناد اور ہٹ دھری کی بناء پر کہتے تھے حالانکہ خوب جانتے تھے کہ رحمن کے معنی نہایت رحمت والا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
پیغمبربلا معاوضہ تبلیغ کرتے ہیں
3: یہ اصل میں حضور ﷺ کی سیرت کی ترجمانی ہے ۔ آپ ﷺ نے تیئس سال تک برابر قوم کو دعوت رشد ہدایت دی اور پیہم اور مسلسل انسانیت کے ارتقا کے لئے جدوجہد فرمائی ۔ گمراہ اور پست خیال انسانوں کو قصر ذات سے اٹھا کر ہدایت اور عروج کے آسمان تک پہنچا دیا ۔ اور ان سے بےمثل خدمت کا بھی کوئی معاوضہ طلب نہ کیا ۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھا ۔ اور دنیا والوں سے بےنیاز رہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ معاوضہ اور اجر سے مستغنی ہوکر اسلام کی خدمت کرتے ہیں ۔ اللہ ان لوگوں کو بذات خود دست گیری کرتا ہے اور دنیا والوں کو ان کی اعانت پر آمادہ کردیتا ہے آج اگر ہمارے علماء وقائدین کی باتوں…
Read the full tafseer →(60) اور جب ان مشرکوں سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمان کیا ہے کیا تو ہم سے جس کو سجدہ کرنے کا حکم کرے ہم اسی کو سجدہ کرنے لگیں اور اسی کے آگے ہم سجدہ ریز ہوجائیں اور یہ سجدہ کرنے کا حکم ان کی نفرت کو اور بڑھاتا ہے یعنی جب رحمان کا نام لیکر ان کو سجدے کی دعوت دی جائے تو انجان بن کر کہتے ہیں اور تجاہل عارفانہ کے طورپر دریافت کرتے ہیں رحمان کیا چیز ہے چونکہ عرب میں اللہ تعالیٰ کے لئے رحمان کا استعمال کم تھا اس لئے اجنبی اور انجان بن کر کہتے تھے یہ بات نہیں کہ رحمان کو جانتے ہی نہ تھے ۔ سلیمہ کذاب کو رحمان الیمامہ کہا کرتے تھے اور ماالرحمان کے ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ کیا جس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
ف 8۔ لفظ رحمن ان میں کم مشہور تھا، مگر یہ نہیں کہ جانتے نہ ہوں، مگر اسلامی تعلیم سے جو مخالفت بڑھی ہوئی تھی تو اطلاقات افضلیہ میں بھی مخالفت کو نباہتے تھے۔ قرآن میں جو یہ لفظ بکثرت آیا وہ اس میں بھی مخالفت کر بیٹھے، اور اس حیثیت سے کہ قرآنی محاورہ ہے تجاہل عارفانہ کے طور پر اس میں کلام اور اس کا انکار کرنے لگے، گو خدا ہی کا انکار اور سوء ادب لازم آجائے۔
Read the full tafseer →جب ان سے الرحمن کے لئے سجدہ کا کہا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم نہیں جانتے کہ رحمن کون ہے ؟ :
60۔ الرحمن اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ناموں میں سے بہت سے ناموں کا استعمال مکہ والوں کے ہاں بھی ہوتا تھا لیکن (الرحمن) انہی ناموں میں سے ایک تھا جن کا استعمال ان کے ہاں نہیں تھا جب قرآن کریم میں (الرحمن) کا نام آیا تو قریش مکہ نے کہا یہ کوئی تمہارا دوسرا خدا ہے حالانکہ اسلام نے بار بار ایک اللہ ہونے کی تلقین فرمائی تھی اور ان کا اس طرح کہنا تجاہل عارفانہ تھا جیسا کہ بڑے لوگ گھمنڈ میں آ کر اس طرح کی باتیں کہہ دیا کرتے ہیں چناچہ فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →قَالُوا وَمَا الرَّحْمَـٰنُ (60) The word رَّحْمَـٰنُ (Rahman, translated as All-Merciful) is an Arabic word and all Arabs knew its meaning, but they did not use it for Allah Ta’ ala. Hence they enquired who and what is Rahman (رَّحْمَـٰنُ ).
Read the full tafseer →73 This they said due to their arrogance and stubbornness just as Pharaoh had said to Prophet Moses: "What is the Lord of the universe?" For the disbelievers of Makkah were not unaware of the Merciful (Rahman), nor was Pharaoh unaware of the "Lord of the universe". The wording of the verse itself chows that their question about the "Merciful" was not the result of their ignorance of Him but was due to their rebelliousness; otherwise Allah would not have punished them for this but would have informed them politely that He Himself is "Merciful". Besides this, it is well known istorically that…
Read the full tafseer →