Explained with ayahs 55–60
آبائی گمراہی
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں اور بلادلیل وحجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی نفسانی خواہشات سے انکی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول ﷺ سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہوگئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہوگئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہوگا۔ یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا اور آخرت میں ان کا پروردگار انکی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 72
اللہ تعالیٰ کے عرش پر جلوہ گر ہونے کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف، حواشی 41۔ 42، یونس، حاشیہ 4، ھود، حاشیہ 7۔
زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کرنے کا مضمون متشابہات کے قبیل سے ہے جس کا مفہوم متعین کرنا مشکل ہے۔ ممکن ہے کہ ایک دن سے مراد ایک دور ہو۔ اور ممکن ہے کہ اس سے مراد وقت کی اتنی ہی مقدار ہو جس پر ہم دنیا میں لفظ دن کا اطلاق کرتے ہیں۔ (مفصل تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، حٰم السجدہ، حواشی 11 تا 15)۔
Read the full tafseer →فَسْـَٔــلْ بِهٖ خَبِيْرًا، یعنی آسمانوں زمینوں کو پیدا کرنا پھر اپنی شان کے مطابق ان پر جلوہ افروز ہونا سب اللہ رحمن کا کام ہے اس کی تصدیق و تحقیق مطلوب ہو تو کسی باخبر سے پوچھیے، باخبر سے مراد حق تعالیٰ یا جبریل امین ہیں اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد کتب سابقہ کے علماء ہوں جن کو اپنے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ اس معاملہ کی اطلاع ملی ہے۔ (مظہری)
Read the full tafseer →چند صفات الٰہی کی طرف اشارہ
یہ اسی خدائے حی لایموت کی مزید صفات بیان ہوئیں کہ اسی نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ چھ دنوں سے مراد، جیسا کہ اعراف 54 کے تحت ہم واضح کرچکے ہیں، خدائی ایام ہیں جن کے طول و عرض کو وہی جانتا ہے۔ ہم ان کو اپنی زبان میں چھ ادوار سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کائنات کسی اتفاقی حادثہ کے طور پر نہیں آگئی ہے بلکہ اس کے خالق نے اس کو نہایت اہتمام سے پیدا کیا ہے۔
ثم استوی علی العرش یعنی اس اہتمام سے اس کائنات کو پیدا کر کے اس کا خالق کسی گوشے میں نہیں جا بیٹھا ہے جیسا کہ احمقوں نے گمان کیا ہے۔ اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
57-1یعنی یہی میرا اجر ہے کہ رب کا راستہ اختیار کرلو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
19:”استواء“ کے لفظی معنی سیدھا ہوجانے اور مضبوطی سے بیٹھ جانے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عرش پر استواء فرمانے کا کیا مطلب اور اس کی کیا کیفیت ہے ؟ یہ بات ہماری محدود عقل سے ماورا ہے، اور ان متشابہات میں سے جن کا ذکر سورة آل عمران کے بالکل شروع میں آیا ہے۔ اس لیے اس پر جوں کا توں ایمان رکھنا چاہیے۔ اور اس کی کیفیت کی تحقیق و جستجو میں نہیں پڑنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
وما ارسلنک ……بہ خبیراً (59)
یوں رسول اللہ ﷺ کیفریضہ کی حدود کا تعین کردیا جاتا ہے۔ یہ کہ آپ خوشخبری سنانے والے اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں فقط اور مکہ میں آپ کو یہ حکم نہ دیا گیا تھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ جنگ کریں ، کیونکہ مکہ میں تبلیغ دین کی پوری آزادی تھی لیکن بعد میں جب مسلمان مدینہ کو منتقل ہوئے تو اللہ نے قتال کا حکم دے دیا۔ مکہ میں اللہ نے حکم نہ دیا اور مدینہ میں قتال کا حکم دیا۔ اس کی حقیقی حکمت اللہ ہی جانتا ہے۔ جو کچھ ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں ان لوگوں کو تربیت دی جا رہی تھی ، جن پر اس نظریہ حیات کا دار و مدار تھا ، جن کے دلوں میں یہ عقیدہ اچھی طرح بیٹھ گیا تھا اور جن…
Read the full tafseer →1 اس کا بیان سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔
2 یعنی اللہ تعالیٰ کی شانوں اور رحمتوں کو کسی جاننے والے سے پوچھو۔ یہ جاہل مشرک اسے کیا جانیں۔ (وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ) 6 ۔ الانعام :91) اپنی شؤن و کمالات کا پوری طرح جاننے والا تو خدا ہی ہے۔ " اَنْتَ کَمَآ اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ " لیکن مخلوق میں سب سے بڑے جاننے والے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جن کی ذات گرامی میں حق تعالیٰ نے اولین و آخرین کے تمام علوم جمع کردیئے، خدا تعالیٰ کی شانوں کو کوئی ان سے پوچھے۔
Read the full tafseer →اَلرَّحْمٰنُ فَسْءَلْ بِہٖ خَبِیْرًا ”
اللہ تعالیٰ کی صفات اور شان کے بارے میں جاننا چاہتے ہو تو کسی صاحب علم سے پوچھو ! جب کبھی انسان اپنے متعلق سوچتا ہے یا اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں غور کرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ کوئی تو ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے ‘ اس کائنات کو پیدا کیا ہے۔ چناچہ وہ اپنے خالق کے بارے میں جاننا چاہتا ہے ‘ اس تک رسائی چاہتا ہے ‘ اسے پانا چاہتا ہے۔ یہ سوچ اور یہ تجسسّ انسان کی فطرت کا تقاضا ہے۔ انسانی فطرت کی اسی آواز کو کسی شاعر نے الفاظ کے قالب میں اس طرح ڈھالا ہے :
مجھ کو ہے تیری جستجو ‘ مجھ کو تری تلاش ہے
خالق مرے کہاں ہے تو ؟ مجھ کو تری تلاش ہے !
انسانی فطرت کی…
Read the full tafseer →72 استوی علی العرش کی تفسیر کے لئے سورة طٰہ کی آیت نمبر 5 کا حاشیہ نمبر 3، سورة اعراف کی آیت نمبر 54 کا حاشیہ نمبر 54۔
73 استوی علی العرش کے فعل کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اور بعص مقامات پر رحمن کی طرف جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رحمن بھی اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے اور اللہ کی باقی صفات بھی، جن کا سابقہ آیات میں ذکر ہوا ہے۔ رحمن کی طرف منسوب کی جاسکتی ہیں۔
74 یہاں خبیر سے مراد ایسا عالم ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی کائنات میں بکھری ہوئی آیات میں غور و فکر کرکے اللہ تعالیٰ کی معرفت کا علم حاصل کیا ہو۔ ایسے ہی خبیر کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر لفظ…
Read the full tafseer →67۔ تخت یعنی تخت حکومت۔ (آیت) ” ستۃ ایام، استوی “۔ عرش سب پر مفصل حاشیے سورة اعراف رکوع 7 میں گزر چکے۔
68۔ (کافروں ومشرکوں، منکروں کو کیا خبر اور کیا قدر ؟ ) مشرک جاہلی قومیں اپنے دیوی دیوتاؤں کو ہوا بنائے ہوئے ان سے محض ڈرنا، سہمنا، خوف کرنا جانتی ہیں۔ صفت رحمانیت کا مظہر کامل ہونا ان کی سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ خود مسیحیوں کو بھی اسی صفت باری کے سمجھنے میں ٹھوکر لگی، اور اسی سے انہیں کفار وغیرہ کے عقاید تراشنے کی ضرورت پڑی۔ (آیت) ” بہ “۔ میں ب عن کے معنی میں ہے، یہ بھی کیا گیا ہے کہ سوال کا صلہ جس طرح عن آتا ہے۔ ب بھی آتا ہے۔ اہل نحو سے دونوں قول منقول ہیں۔ والباء فی بہ صلۃ سئل کماتکون عن صلتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
آیت نمبر 45 تا 60
ترجمہ : کیا تو اپنے رب کی صنعت کو نہیں دیکھتا وقت اسفار سے طلوع شمس کے وقت تک اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک ھالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا، یعنی ساکن رکھتا جو طلوع شمس سے زائل نہ ہوتا پھر ہم نے سورج کو اس سایہ کو اپنی طرف بتدریج سمیٹ لیا یعنی طلوع شمس کی وجہ سے شیئاً فشیئاً اور وہ ایسا ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات کا لباس یعنی لباس کے مانند ساتر بنایا اور نیند کو قطع کرنے والی یعنی جسموں کے لئے اعمال کو موقوف کرکے راحت کی چیز بنایا اور دن کو منتشر ہونے کا وقت بنایا اس میں رزق وغیرہ حاصل کرنے کے لئے اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں اور ایک…
Read the full tafseer →الذی خلق السموت والارض وما بینہما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش
وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان دونوں کی درمیانی کائنات کو (ایک اندازے کے ساتھ) پیدا کیا چھ دن (کی مقدار) میں پھر تخت (الوہیت) پر قائم ہوا۔
یہ آیت سابق آیت کے مضمون کو ثابت کر رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ ہی سب کا خالق اور متصرفِ کل ہے تو اسی پر بھروسہ رکھاجائے۔ آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ آدمی تمام امور میں تدریج اور آہستگی اختیار کرے ‘ کیونکہ وہ اللہ جس کی قدرت محیط کل ہے اور اس کا حکم انتہائی سریع النفوذ ہے اس نے تخلیق کائنات میں تدریج اور آہستگی اختیار فرمائی (اور یکدم سب کو پیدا نہیں کردیا) ۔
الرحمن فسئل بہ…
Read the full tafseer →(59) اور وہ ایسا ہے کہ جس نے تمام مخلوقات اور تمام عجائبات کو چھ دن میں پیدا کیا یعنی دنیا کے اول دنوں میں کہ ہر ایک دن کی مقدار ہمارے حساب سے سال بھر کے برابر تھی اتوار سے شروع فرما کر جمعہ کو پورا کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ تخت شاہی پر قائم ہوا سو اس کی شان کسی اللہ والے سے پوچھنی چاہیے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی شان اہل علم سے دریافت کرو وہ تمہیں بتا دیں گے۔
Read the full tafseer →الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا۔۔ : اس کی تفسیر سورة یونس، ہود اور طٰہٰ میں گزر چکی ہے۔ یہاں ان صفات کا ذکر اللہ تعالیٰ پر توکل کی تلقین کے لیے بھی ہے اور اس میں نزول قرآن میں تدریج پر اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ بھی ہے۔
فَسْـَٔــلْ بِهٖ خَبِيْرًا :”پورے باخبر“ سے مراد خود اللہ تبارک و تعالیٰ ہے اور ”بِهٖ“ سے مراد ”عَنْہُ“ (اس کے متعلق) ہے۔ اس آیت میں مزید وہ افعال و اوصاف ذکر فرمائے ہیں جن کی وجہ سے اللہ پر توکل کرنا چاہیے، یعنی اس پر توکل کر جو ہمیشہ زندہ ہے، جس پر کبھی موت نہیں آئے گی، جس نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش پر مستوی ہوگیا، جو بیحد رحم…
Read the full tafseer →( الذی خلق السموات۔۔۔۔ )
” الَّذِیْ خََلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ قف “ سورة اعراف میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ الذی محل جر میں ہے کیونکہ یہ الحی کی صفت ہے بینھما فرمایا بینھن نہیں فرمایا کیونکہ وہ صفت، دو نوح اور دو چیزیں مراد لی ہیں جس طرح قطاری کا قول ہے :
الم یحزنک ان حبال قیس و تغلب قد تباینتا انقطاعا
کیا تجھے غمگین نہیں کرتا کہ قیس اور تغلب کے تعلقات ختم ہوچکے ہیں۔
یہاں وحبال تغلب کا ارادہ کیا تو اسے تثنیہ بنایا جمال جمع کا صیغہ ہے کیونکہ دو چیزوں اور دو نوح کا ارادہ کیا۔
الرحمن مسئل بہ خبیراً زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے اس کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
1۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ فسئل بہ خبیرا “ سے مراد ہے کہ میں نے تجھے جس چیز کے بارے میں بتایا تو نے مجھے اس کے بارے میں باخبر کردیا۔
2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے شمر بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الرحمن فسئل بہ خبیرا “ یعنی یہ قرآن اس کے بارے میں آگاہ ہے (اس سے سوال کر)
3۔ ابن ابی حاتم نے عطاء رحمۃ اللہ سے روایت کیا آیت ” واذا قیل لہم اسجدوا للرحمن قالوا وما الرحمن “ یعنی انہوں نے کہا کہ ہم رحمن کو نہیں جانتے مگر یمامہ والے رحمن کو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آیت ” ینظرون، والہکم الہ…
Read the full tafseer →الَّذِيْ [ وہ جس نے ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں کو ] وَالْاَرْضَ [ اور زمین کو ] وَمَا [ اور اس کو جو ] بَيْنَهُمَا [ ان دونوں کے مابین ہے ] فِيْ سِـتَّةِ اَيَّامٍ [ چھ دنوں میں ] ثُمَّ [ پھر ] اسْتَوٰي [ وہ متمکن ہوا ] عَلَي الْعَرْشِ ڔ [ عرش پر ] اَلرَّحْمٰنُ [ (وہ) رحمن ہے ] فَسْـَٔــلْ [ تو آپ ﷺ پوچھ لیں ] بِهٖ [ اس کے بارے میں ] خَبِيْرًا [ کسی باخبر سے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ ) (پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا) استواء قائم ہونے کو اور عرش تخت شاہی کو کہا جاتا ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں (ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ) فرمایا ہے اور (الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی) بھی فرمایا ہے اس کو سمجھنے کے لیے بعض لوگوں نے مختلف تاویلیں کی ہیں۔ اس کے بارے میں حضرات سلف صالحین صحابہ وتابعین ؓ سے جو بات منقول ہے وہ یہ ہے کہ انسانی عقل اللہ جل شانہٗ کی ذات وصفات کو پوری طرح سمجھنے اور احاطہ کرنے سے عاجز ہے لہٰذا جو کچھ فرمایا ہے اس سب پر ایمان لائیں اور سمجھنے کے لیے کھول کرید میں نہ پڑیں۔
یہی مسلک بےغبار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
بیان جہالت مشرکین و منکرین نبوت
قال اللہ تعالیٰ ویعبدون من دون اللہ مالا ینفعھم ولا یضرھم .... الیٰ .... ازادھم لغفورا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں دلائل توحید وقدرت بیان کیے اب آئندہ آیات میں مشرکین اور منکرین نبوت کی جہالتوں اور خصال بد کو بیان کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک مادہ سے بشر کو پیدا کیا اور دو قسم کا بنایا۔ ایک مذکر اور دوم مؤنث۔ جن کے اعضاء اور طبائع اور شکل و صورت میں بہت فرق ہے اسی طرح اس نے مومن اور کافر کو پیدا کیا جن کی طبیعتوں میں بےانتہا فرق ہے۔
اور جس طرح خدا نے دو قسم کے دریا بنائے ایک شیریں اور دوم تلخ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کسی کو شیریں اور خوشگوار اخلاق پر پیدا کیا…
Read the full tafseer →39:۔ ” الذی خلق الخ “ یہ دعوی سورت پر گیارہویں عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور ساری کائنات کو پیدا کر کے خود ہی اس میں متصرف ہے اور کوئی اختیار اس نے کسی کے حوالے نہیں فرمایا۔ لہذا برکات دہندہ بھی وہی ہے۔ ” الرحمن “ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے ای ھو الرحمن فالرحمن خبر مبتدا محذوف (مدارک) جو سارے جہان کا خالق ومالک اور ساری کائنات میں متصرف و حکمران ہے اس کا ایک نام رحمن ہے وہ بڑا ہی مہربان ہے اس لیے وہی برکات دہندہ ہے اور ہر قسم کی عبادت و تعظیم اور سجود اسی ہی کے لیے روا ہے۔ ای ھو الرحمن الذی لا ینبغی السجود والتعظیم الالہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ کی دو باتوں کا ذکر کیا تھا۔ پہلی بات یہ تھی کہ وہ دو مختلف پانیوں کو اکٹھے چلا کر ان کے درمیان رکاوٹ کٹھ ہی کردیتا ہے جس کی وجہ سے وہ پانی آپس میں خلط ملط نہیں ہوتے ۔ اور دوسری بات یہ فرمائی کہ اس نے انسان کا سلسلہ نسب حقیرقطرہ آب سے چلایا ہے ۔ یہ دونوں باتیں کس کی قدرت کا نمونہ اور توحید کے دو پل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے مگر ان تمام تر دلائل و شواہد کے باوجود لوگ ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان کرسکتی ہیں ۔ فرمایا یہ لوگ خدا کی طرف سے پست پھیر کر شیطان کے …بنے ہوئے ہیں۔
آج کے درس…
Read the full tafseer →الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَہُمَا فِيْ سِـتَّۃِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ 0ۚۛ اَلرَّحْمٰنُ فَسْـَٔــلْ بِہٖ خَبِيْرًا 59
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
ترکیب : بینہما ظرف لجعل علی ربہ متعلق ہے ظہیرًا سے خبر کان، الامن شاء استثنیٰ من غیر الجنس الرحمن مبتداء فسئل بہ خبر۔
تفسیر : : وھوالذی مرج البحرین الخ (4) یہ دلیل ہے کہ اس نے دو قسم کے دریا رواں کئے۔ یا یوں کہو دو دریا کو باہم ملایا۔ ایک ان میں سے نہایت شیریں ‘ خوشگوار اور دوسرا کھاری تلخ اور باہم ملنے نہیں پاتے ان میں قدرتی حد فاصل رکھی ہوئی ہے۔ زمین کے دریا رواں جب سمندر میں گرتے ہیں اور یہ دریا شیریں ہوتے ہیں تو دور تک دونوں کی دو دو دھاریں نظر آتی ہیں باہم اختلاط پر امتیاز معلوم ہوتا ہے ان میں سمندر کی دھار کھاری اور زمین کے دریائِ رواں کی دھار شیریں ہوتی ہے سمندر میں پڑنے سے دونوں سمندر…
Read the full tafseer →الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَ یَّـامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ج اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِہٖ خَبِیْرًا۔ (الفرقان : 59)
(جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ ادوار میں، پھر وہ اپنے عرش پر متمکن ہوا (جیسے اس کی شان ہے) وہ رحمن ہے، پس اس کی شان باخبر سے پوچھو۔ )
پروردگار کی چند مزید صفات کا ذکر
اس آیت کریمہ میں پروردگار کی مزید صفات بیان ہوئی ہیں کہ وہ صرف زندہ ہی نہیں بلکہ آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان تمام چیزوں کو اس نے چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔ سورة الاعراف میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ دنوں سے کیا مراد ہے ؟ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
فہم القرآن
ربط کلام : جس زندہ اور ہمیشہ قائم رہنے والی ذات پر توکل کرنے کا حکم ہے وہ بڑا ہی مہربان ہے اور اسی نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور خالقیت کے دلائل دیتے ہوئے یہ بات کئی مرتبہ بیان فرمائی ہے کہ اس نے زمینوں، آسمانوں کو چھ دن میں پیدا فرمایا، زمین و آسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد وہ عرش معلی پر اپنی شان کے مطابق مستوی ہوا۔ وہی رحم و کرم کا مالک اور خالق ہے۔ اگر کسی کو شک ہو تو وہ کسی جاننے والے سے پوچھ لے۔ یہ جملہ کفار مکہ کے لیے بولا گیا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نام الرّحمن کا انکار کرتے تھے۔ جب نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کو الرّحمن کہہ کر پکارتے تو…
Read the full tafseer →رحمن کی صفت کا تذکرہ :
59: الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَابَیْنَھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ (وہ اللہ تعالیٰ جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے مابین جو کچھ ہے چھ دن میں پیدا کردیا) اتنی مدت کی مقدار کے مطابق کیونکہ یہ دن رات تو اس وقت نہ تھے۔
قول مجاہد (رح) : پہلا دن ہفتہ اور آخری یوم جمعہ تھا۔ اور ان کو چھ دن میں بنایا۔ حالانکہ وہ تو ان کو ایک لحظہ میں پیدا کرسکتا ہے صرف مخلوق کو معاملات میں پختگی اور آہستگی کی تعلیم دینے کیلئے ایسا کیا گیا۔ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ اَلرَّحْمٰنُ (پھر عرش پر جا ٹھہرا) یعنی وہ رحمان ہے۔
نحو : الرحمن یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ نمبر 2۔ ضمیر سے…
Read the full tafseer →59۔ الذی خلق السماوات والارض، ،، ، خبیرا۔ اس سے مراد رحمن ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ اس تخلیق کائنات اور استوی علی العرش کے متعلق کسی عالم سے پوچھ لو۔ بعض نے کہا کہ اس سے خطاب رسول کریم کو ہے مراد انسے امت ہے جو آپ کی تصدیق کرتی ہے آیت کا معنی یہ ہے اے انسان تو اس علم کے متعلق کسی غیر سے طلب نہ کر بلکہ اسی سے طلب کر۔ بعض نے کہا کہ باء بمعنی عن کے ہے۔ پوچھ اس سے جو باخبر ہے مراد اس سے اللہ تعالیٰ ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے پوچھ اور بعض حضرات نے کہا کہ اس سے مرادحضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
58۔ 60:۔ توکل کے معنی اللہ پر بھروسہ رکھنے کے ہیں ‘ وعظ ونصیحت پر اجرت لینے کی مناہی فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم تو اپنے سب کاموں کا بھروسہ اللہ پر رکھو کہ اس کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے اور اللہ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے ‘ اس واسطے کسی کام کا بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھنے کے بعد اگر اس کام میں کچھ دیر ہو تو وقت مقررہ تک صبر کرنا چاہیے تاکہ اللہ پر بھروسہ رکھنے کا اور صبر کا دونوں کا اجر ملے ‘ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والے لوگ قیامت کے دن بلاحساب جنت میں جاویں گے ‘ بخاری ومسلم میں ابو سعید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
آیت 56 سے 60
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد ﷺ کو لوگوں پر داروغہ بنا کر بھیجا ہے نہ انہیں فرشتہ بنایا ہے اور نہ ان کے پاس چیزوں کے خزانے ہیں اس نے تو آپ کو صرف (مبشرا) ” خوشخبری سنانے والا “ بنا کر بھیجا ہے آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی ثواب کو خوشخبری سناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے (ونذیرا) ” اور ڈرانے والا۔ “ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اس کو دنیاوی اور اخروی سزا سے ڈراتے ہیں اور یہ اوامرونواہی میں سے ان امور کو تبیین کو مستلزم ہے جن کی بشارت دی گئی ہے اور جن سے انداز حاصل ہوتا ہے۔ اے محمد ! ﷺ آپ قرآن اور ہدایت پہنچانے پر ان سے کسی اجر کا مطالبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–62
رات دن ایک دوسرے کے جانشین ہیں
قول باری ہے : (وھوالذی جعل اللیل والنھار خلفۃ) وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا۔ تاآخر آیت۔ شمر بن عطیہ نے ابن سلمہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص حضرت عمر ؓ کے پاس آکر کہنے لگا۔ امیر المومنین مجھ سے نماز رہ گئی ہے۔ “ آپ نے سن کر فرمایا ” رات کے وقت جو نماز تم سے رہ گئی ہے اس کے بدلے میں دن کے وقت نماز پڑھ لو۔ “ یعنی اس کی قضا دا کرلو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے جانشین بنایا ہے ہر اس شخص کے لئے جو سبق لینا چاہے یا شکر گزار ہونا چاہے۔ “
یونس نے ابن شہاب سے انہوں نے السائب بن زید اور عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے عبدالرحمن بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
71 بھروسہ اللہ ہی پر رکھنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ بھروسہ ہمیشہ اسی زندئہ جاوید ہستی پر رکھو جسکو کبھی موت نہیں آتی "۔ کہ بھروسہ کرنے کے لائق وہی ذات اقدس و اعلیٰ ہے جس کی قدرت بھی کامل ہے اور اس کی رحمت بھی عام اور شامل۔ جو کارساز و کار فرما بھی ہے اور ازلی و ابدی بھی۔ جو سب کائنات کی خالق بھی ہے اور مالک و متصرف بھی۔ جو شہ رگ سے بھی زیادہ انسان کے قریب بھی ہے اور جو ہر کسی کی سنتی بھی ہے اور ہر کسی کی حاجت روائی و مشکل کشائی کرنے والی بھی۔ جس کو نہ کبھی موت آسکتی ہے نہ فنا۔ اور جب اس ذات اقدس و اعلیٰ کے سوا یہ صفات اور کسی بھی ہستی میں نہ پائی جاتی ہیں نہ پائی جانی ممکن ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
اللہ کی طاقت کے ثبوت
میٹھا اور کھارا پانی، انسان کی پیدائش، رسول کریم کی بعثت اور اللہ کا عرش پر مستوی ہونا
تشریح : رب العزت کو دیکھنا کسی بھی انسانی آنکھ کے لیے ممکن نہیں کیونکہ اس کا جلال اس قدر زیادہ ہے کہ بندہ اس کو قیامت کے دن ہی دیکھ سکے گا اس مادی جسم کے ساتھ اس کو آنکھ سے نہیں البتہ دل کی آنکھ اور فہم و فراست سے اس کی بنائی ہوئی تخلیقات سے اس کی عظمت اور بڑائی کا اندازہ ضرور ر کرسکتا ہے۔ اب یہاں اس کی بیشمار تخلیقات میں سے ایک تو میٹھے اور کھارے پانی کو ایک ہی سمندر میں بہتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک ہی سمندر میں بہہ رہے ہیں مگر پانی آپس میں ملتا نہیں۔ کس قدر حیرت ناک اور عجیب و غریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
اے مخاطب تو دیکھتا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہر شے میں اور ہر کام میں ایک رشتہ قائم کردیا ہے یہی رشتہ سبب اور اس کے نتیجے میں ہے سورج کی روشنی اور سائے میں ہے کس طرح قدرت باری نے چیزوں کو سایہ بخشا کہ دور تک پھیلا ہوتا ہے ، اگر اللہ جل جلالہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایسے ہی رکھنے پر قادر تھا مگر اس نے سائے کے بڑھنے گھٹنے کو سورج اور دھوپ سے متعلق کردیا ، سورج اوپر اٹھتا ہے تو سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں اور دھوپ اور گرمی کی تپش پھیلتی ہے اور پھر سورج ڈھلتا ہے تو دوبارہ سائے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ رشتے یہ اسباب ونتائج اللہ نے دنیا کی آبادی اور بنی آدم کے آرام کا سبب بنائے…
Read the full tafseer →5 ۔ یہاں ” جاننے والے “ سے مراد خود اللہ تعالیٰ ہے اور ” بہ “ بمعنی ” عنہ “ ہے اور مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش اور استواء علی العرش وغیرہ کے بارے میں اہل کتاب یا مشرکین کیا جانیں۔ ان کی تفصیلات کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے لہٰذا اسی سے دریافت کیجئے۔ آیت کی جو توجیہات یہاں بیان کی گئی ہیں ان سب سے یہ توجیہہ بہتر ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(25:59) الذی خلق السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش ۔ الرحمن فسئل بہ خبیرا۔ ترکیب کے لحاظ سے اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔
(1) الذی اسم موصول ۔ محل جر ہے اور الحی (آیۃ 58) کی دوسری صفت ہے اور خلق السموت والارض ۔۔ اس کا صلہ۔
(2) الذی خلق (بصورت محل رفع۔ مبتدا ہے اور الرحمن اس کی خبر ہے۔
(3) الرحمن مبتدا ہے اور فسئل بہ خبیرا اس کی خبر ہے۔
لفظ بہ میں با بمعنی عن استعمال ہوئی ہے۔ یوں بھی سوال کا صلہ عن اور ب دونوں آتے ہیں۔ مثلاً :۔
(1) سئل سائل بعذاب واقع للکفرین (70:1-2) ایک مانگنے والے نے (اس ) عذاب کا سوال کیا ہے جو کافروں پر واقع ہونے والا ہے۔
(2) ثم لتسئلن یؤمئذ عن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 60 :
لوشئنا (اگر ہم چاہتے) ‘ لبعثنا ( البتہ ہم ضرور بھیجتے) ‘ لا تطع (کہنا مانیئے) جھاد کبیر (زوردار مقابلہ) ‘ مرج ( اس نے ملایا) ‘ البحرین (دودریاؤں کو) ‘ عذب (میٹھا) ‘ فرات (خوش گوار۔ پی کر مزہ آئے) ‘ ملح (کھاری) ‘ اجاج (کڑوا) ‘ حجر (آڑ۔ رکاوٹ) ‘ محجور ( جو خود آڑ میں ہو) ‘ نسب (نسب۔ نسبی رشتے) ‘ صھر (شادی کے رشتے ۔ سسرال) ‘ ظھیر ( سرکش۔ مقابل۔ پشت پناہی کرنے والا) ‘ ما اسئل (میں نہیں مانگتا) ‘ ذنوب (ذنب) (گناہ ۔ خطائیں) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) ‘ استوی ( وہ برابر ہوا۔ جلوہ گرہوا) ‘ تأ مرنا ( تو ہمیں حکم دیتا ہے) ‘ نفور (نفرت۔ ناگواری) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ مسلمانو ! تم اپنے سب کاموں کا بھروسہ اللہ پر رکھو کہ اس کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے اور اللہ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے، اس واسطے کسی کام کا بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھنے کے بعد اگر اس کام میں کچھ توقف ہو تو وقت مقررہ تک صبر کرنا چاہیے تاکہ اللہ پر بھروسہ رکھنے کا اور صبر کا دونوں کا اجر ملے۔ پھر فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ اس کی تسبیح وحمد کرے، اور اس کی اطاعت اور اس کا شکر بجالائے ، پھر فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اپنی قدرت سے بغیر کسی مدد کے چھ دن میں پیدا کیا، اگر اللہ چاہتا تو ایک لمحہ میں آسمان اور زمین سب کچھ پیدا کردیتا ہے…
Read the full tafseer →[38] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة اعراف حواشی 25، 26 صفحہ 283۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
پیغمبربلا معاوضہ تبلیغ کرتے ہیں
3: یہ اصل میں حضور ﷺ کی سیرت کی ترجمانی ہے ۔ آپ ﷺ نے تیئس سال تک برابر قوم کو دعوت رشد ہدایت دی اور پیہم اور مسلسل انسانیت کے ارتقا کے لئے جدوجہد فرمائی ۔ گمراہ اور پست خیال انسانوں کو قصر ذات سے اٹھا کر ہدایت اور عروج کے آسمان تک پہنچا دیا ۔ اور ان سے بےمثل خدمت کا بھی کوئی معاوضہ طلب نہ کیا ۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھا ۔ اور دنیا والوں سے بےنیاز رہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ معاوضہ اور اجر سے مستغنی ہوکر اسلام کی خدمت کرتے ہیں ۔ اللہ ان لوگوں کو بذات خود دست گیری کرتا ہے اور دنیا والوں کو ان کی اعانت پر آمادہ کردیتا ہے آج اگر ہمارے علماء وقائدین کی باتوں…
Read the full tafseer →(59) وہ ایسا ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ آسمانوں اور زمین کے درمیان ہے سب کو چھ دن کی مقدار میں پیدا کیا پھر اپنی شان کے موافق عرش پر قائم اور جلوہ گر ہوا وہ بڑا مہربان ہے
پس اے مخاطب تو اس کی شان اور اس کی صفات کو کسی باخبر اور واقف حال سے دریافت کر اور پوچھ یعنی اے پیغمبر ! خواہ عبادت تبلیغ ہو جس کا تعلق مخلوق کی خدمت سے ہے یا عبادت لازمہ ہو جیسے اس کی تسبیح اور تحمید سو آپ ان دونوں قسموں کی عبادت میں اس زندہ خدا پر بھروسہ رکھئے جو کبھی نہیں مرتا اور بندوں کے اعمال کی خبر گیری اور نگرانی اس پر چھوڑ دیجئے وہ ان کے گناہوں کی خبر رکھنے کو کافی اور کفایت کرنے والا ہے وہ پروردگار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
ف 8۔ لفظ رحمن ان میں کم مشہور تھا، مگر یہ نہیں کہ جانتے نہ ہوں، مگر اسلامی تعلیم سے جو مخالفت بڑھی ہوئی تھی تو اطلاقات افضلیہ میں بھی مخالفت کو نباہتے تھے۔ قرآن میں جو یہ لفظ بکثرت آیا وہ اس میں بھی مخالفت کر بیٹھے، اور اس حیثیت سے کہ قرآنی محاورہ ہے تجاہل عارفانہ کے طور پر اس میں کلام اور اس کا انکار کرنے لگے، گو خدا ہی کا انکار اور سوء ادب لازم آجائے۔
Read the full tafseer →وہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے کو چھ ادوار میں پیدا کرنے والا ہے :
59۔ زیر نظر آیت پیچھے تین بار گزر چکی ہے ‘ سورة الاعراف کی آیت 54 ‘ سورة یونس کی آیت 3 اور سورة ہود کی آیت 7 کے طور پر اور وہاں ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں اس لئے ان تینوں مقامات کو اب بھی دیکھ لیا جائے اس جگہ آیت کے آخر میں فرمایا (آیت) ” الرحمن فسئل بہ خبیرا “۔ ” وہ رحمن ہے پس اس کے متعلق کسی باخبر سے پوچھو “۔ یہ کن سے کہا جارہا ہے ؟ ظاہ رہے کہ خطاب عام مخاطبین سے ہے جن سے اوپر بحث چلی آرہی ہے اس لئے یہاں قابل غور ہے کہ جب سب کو کسی باخبر سے پوچھنے کا کہا جا رہا ہے تو اللہ سے بڑھ کر خبر رکھنے والا کون ہے ؟ اور…
Read the full tafseer →فَاسْأَلْ بِهِ خَبِيرًا (So ask about Him someone who knows - 25:59). In this verse it is described that the creation of the earth and the skies, and then to place Himself on ` Arsh in consonance to His exalted position are all acts of Allah Ta’ ala. If someone wants its confirmation, he should find out from those who know the truth. Here the allusion for knowledge is toward Allah Ta’ ala or Jibra'il (علیہ السلام) . It is also possible that the reference is toward the scholars of the previous Books wherein the truth was also mentioned. (Mazhari)
Read the full tafseer →72 For explanation of "Throne", see E.N.'s 41, 42 of Al-A'raf, E.N. 4 of Yunus, and E.N. 7 of Hud. It is difficult to say what exactly is mean by "six days" Here a "day" thay mean a period of time or an ordinary day of this world. For explanation of the "day", see E.N.'s 11 to 15 of Surah Ha Mim Sajdah.
Read the full tafseer →