Al-Furqaan 25:58

Al-Furqaan · from ayah 58

25:58

وَتَوَكَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهٖ ؕ— وَكَفٰی بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا ۟وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡحَـىِّ الَّذِىۡ لَا يَمُوۡتُ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِهٖ‌ ؕ وَكَفٰى بِهٖ بِذُنُوۡبِ عِبَادِهٖ خَبِيۡرَ ا‌

اور اس (خدائے) زندہ پر بھروسہ رکھو جو (کبھی) نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو۔ اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کو کافی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And rely upon the Ever-Living who does not die, and exalt [Allah] with His praise. And sufficient is He to be, with the sins of His servants, Acquainted -

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:58

اور اے محمدؐ، اُس خدا پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اپنے بندوں کے گناہوں سے بس اُسی کا باخبر ہونا کافی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس (خدائے) زندہ پر بھروسہ رکھو جو (کبھی) نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو۔ اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کو کافی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس ہمیشہ زنده رہنے والے اللہ تعالیٰ پر توکل کریں جسے کبھی موت نہیں اور اس کی تعریف کے ساتھ پاکیزگی بیان کرتے رہیں، وه اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم اس ذات پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے، جسے کبھی موت نہیں آئے گی، اور اسی کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہو، اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کے لیے کافی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بھروسہ کرو اس زندہ پر جو کبھی نہ مرے گا اور اسے سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور وہی کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں پر خبردار

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ اس (ہمیشہ) زندہ رہنے والے (رب) پر بھروسہ کیجئے جو کبھی نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہئے، اور اس کا اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہونا کافی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس زندہ پر بھروسا کر جو نہیں مرے گا اور اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی پوری خبر رکھنے والا کافی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اس ذات پر توکل کیجئے۔ جو (ہمیشہ سے) زندہ ہے اور اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجئے۔ وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کو کافی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اپنے زندہ خداوند پر، جو مرنے والا نہیں ہے، بھروسہ رکھو اور اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے آگاہ رہین کے لئے کافی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بھروسہ ہمیشہ اس زندہ جاوید ہستی پر رکھو جس کو کبھی موت نہیں آنی اور تسبیح کرتے رہا کرو اس کی حمد و ستائش کے ساتھ اور کافی ہے وہ وحدہ لاشریک اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر رہنے کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ بھروسہ اسی زندہ پر رکھیے جسے کبھی موت نہیں اور اسی کی حمد میں تسبیح کرتے رہتے اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے (خوب) خبردار ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آپ ﷺ توکلّ کیے رکھئے اس زندۂ جاوید ہستی پر جسے کبھی موت نہیں آئے گی اور اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کے لیے کافی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس زندہ اللہ پر بھروسہ رکھو جو کبھی نہیں مرے گا ‘ اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کو کافی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O Muhammad trust in that Allah Who is Ever-Living and will never die' Glorify Him with His praise, for He alone is sufficient to be aware of the sins of His servants.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And place your trust in the Ever-Living who cannot die, and proclaim His purity along with His praise. Enough is He to be aware of the sins of His servants,

— Muhammad Taqi Usmani

And place your trust in the Ever-Living who cannot die, and proclaim His purity along with His praise. Enough is He to be aware of the sins of His servants,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And put your trust in the Ever Living One Who dies not, and glorify His praises, and sufficient is He as the All-Knower of the sins of His servants,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And trust thou in the Living One Who dieth not, and hymn His praise. He sufficeth as the Knower of His bondmen's sins,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And rely upon the Ever-Living who does not die, and exalt [Allah] with His praise. And sufficient is He to be, with the sins of His servants, Acquainted -

— Saheeh International

Also trust in the Living One who never dies and glorify Him with His praise. He has sufficient knowledge of the sins of His servants.

— Muhammad Sarwar

And rely on the Ever-living Who dies not, and celebrate His praise; and Sufficient is He as being aware of the faults of His servants,

— Muhammad Habib Shakir

And trust thou in the Living One who dieth not, and hallow His praise; it sufficeth that he of the sins of His bondmen is Aware.

— Abdul Majid Daryabadi

And put thy trust in Him Who lives and dies not; and celebrate his praise; and enough is He to be acquainted with the faults of His servants;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:58

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 55–60

آبائی گمراہی مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں اور بلادلیل وحجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی نفسانی خواہشات سے انکی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول ﷺ سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہوگئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہوگئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہوگا۔ یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا اور آخرت میں ان کا پروردگار انکی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 57–58

سورة الْفُرْقَان 71 (الف) تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم المومنون، حاشیہ 70۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 57–58

قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اَنْ يَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا، یعنی تمہیں ایمان کی دعوت اور اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانے اور دنیا وآخرت میں تمہارے لئے فلاح کی کوشش کرنے میں میرا کوئی دنیوی فائدہ نہیں۔ میں اپنی اس محنت کا تم سے کوئی اجر و معاوضہ نہیں مانگتا۔ میرا فائدہ اس کے سوا نہیں کہ جس کا جی چاہے اللہ کا راستہ اختیار کرلے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ کوئی شخص راہ پر آجاوے تو فائدہ اسی کا ہے اس کو اپنا فائدہ قرار دینا پیغمبرانہ شفقت کی طرف اشارہ ہے کہ میں تمہارے فائدہ ہی کو اپنا فائدہ سمجھتا ہوں۔ یہ ایسا ہے جیسے کوئی بوڑھا ضعیف باپ اولاد کو کہے کہ تم کھاؤ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی اپنے خدائے حی لایموت پر بھروسہ رکھو۔ وہ زندہ خدا ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس پر بھروسہ کرنے والے کبھی محروم و نامراد نہیں ہوتے۔ اس میں ایک لطیف تعریض مشرکین کے ان مردہ خدائوں پر ہے جن کی نسبت فرمایا ہے کہ نہ وہ کوئی نفع پہنچا سکتے نہ نقصان۔ وسبح بحمدہ یہ حصول صبر و توکل کا وسیلہ ہے۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں نبی ﷺ کو صبر و توکل کی تلقین فرمائی گی ہے وہاں زیادہ سے زیادہ خدا کی تسبیح وتحمید میں مشغول رہنے اور اہتمام نماز کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اس پر اس کے محل میں ہم وضاحت کے ساتھ بحث کرچکے ہیں۔ وکفی بہ بذنوب عبادہ خبیراً یعنی اپنے ان مخالفین کا معاملہ اپنے رب کے حوالہ کرو۔ وہ ان کے تمام…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 54–59

19:”استواء“ کے لفظی معنی سیدھا ہوجانے اور مضبوطی سے بیٹھ جانے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عرش پر استواء فرمانے کا کیا مطلب اور اس کی کیا کیفیت ہے ؟ یہ بات ہماری محدود عقل سے ماورا ہے، اور ان متشابہات میں سے جن کا ذکر سورة آل عمران کے بالکل شروع میں آیا ہے۔ اس لیے اس پر جوں کا توں ایمان رکھنا چاہیے۔ اور اس کی کیفیت کی تحقیق و جستجو میں نہیں پڑنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 56–59

وما ارسلنک ……بہ خبیراً (59) یوں رسول اللہ ﷺ کیفریضہ کی حدود کا تعین کردیا جاتا ہے۔ یہ کہ آپ خوشخبری سنانے والے اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں فقط اور مکہ میں آپ کو یہ حکم نہ دیا گیا تھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ جنگ کریں ، کیونکہ مکہ میں تبلیغ دین کی پوری آزادی تھی لیکن بعد میں جب مسلمان مدینہ کو منتقل ہوئے تو اللہ نے قتال کا حکم دے دیا۔ مکہ میں اللہ نے حکم نہ دیا اور مدینہ میں قتال کا حکم دیا۔ اس کی حقیقی حکمت اللہ ہی جانتا ہے۔ جو کچھ ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں ان لوگوں کو تربیت دی جا رہی تھی ، جن پر اس نظریہ حیات کا دار و مدار تھا ، جن کے دلوں میں یہ عقیدہ اچھی طرح بیٹھ گیا تھا اور جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی آپ تنہا خدا پر بھروسہ کر کے اپنا فرض (تبلیغ و دعوت وغیرہ) ادا کیے جائیے۔ کسی کی مخالفت یا موافقت کی پروا نہ کریں۔ فانی چیزوں کا کیا سہارا۔ سہارا تو اسی کا ہے جو ہمیشہ زندہ رہے کبھی نہ مرے۔ 8 یعنی اسی پر توکل رکھیے اور اسی کی عبادت اور حمدو ثنا کرتے رہیے۔ ان مجرموں سے وہ خود نبٹ لے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرَا ” کافر لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے کرتوتوں کو کوئی دیکھ نہیں رہا ہے۔ وہ اللہ جو الحی اور القیوم ہے اور اپنے بندوں کے حال پر ہر آن نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان لوگوں کی ایک ایک حرکت اور ایک ایک بات جواب دہی کے لیے اس کے ہاں ریکارڈ ہو رہی ہے۔ دوسری طرف اہل ایمان کے نیک اعمال کی بھی ایک ایک تفصیل لکھی جا رہی ہے تاکہ انہیں ان کا بھر پور بدلہ دیا جاسکے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

71 یعنی میں اس ہستی پر توکل کرتا ہوں جو ہمیشہ سے زندہ اور قائم و دائم ہے اور قائم دائم اور زندہ ہی رہے گی۔ تمہارے معبودوں کی طرح مخلوق نہیں، نہ وہ اس قدر محتاج ہے کہ اسے اپنی ذات کو قائم رکھنے کے لئے بھی اپنے عقیدت مندوں کی احتیاج ہو اور جو اپنے بھی نفع و نقصان کی مالک نہیں وہ تمہارا کیا بگاڑ یا سنوار سکتی ہے۔ مجھے ایسی ہستی کی عبادت کا حکم ہے اور وہ تمہارے جیسے منکروں کی کرتوتوں سے پوری طرح واقف ہے اور ان کرتوتوں پر تمہیں سزادینے پر قادر بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

66۔ (وہ خود ہی جب مناسب سمجھے گا انہیں پوری سزا دے لے گا) اسم باری حی الذی لایموت ہم مسلمانوں کو ایک معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے اور چونکہ کان شروع ہی سے اس کے عادی ہیں، حیرت اس پر ہوتی ہے اور چونکہ کان شروع ہی سے اس کے عادی ہیں، حیرت اس پر ہوتی ہے کہ اس کے خلاف کوئی عقیدہ ممکن کیونکر ہے ؟ یہ ہو کیسے سکتا ہے کہ کوئی خدا بھی ہو اور ساتھ ہی فانی بھی ! لیکن دنیا کی دوسری قوموں میں خدائی کے تصور کے ساتھ یہ بقا وعدم فنا کالزوم ہرگز قائم نہیں، مشرک قومیں کثرت سے اپنے دیوتاؤں کی مستقل یا عارضی وفات کی قائل ہیں اور صلیب پر ابن اللہ کی وفات (گوتین ہی دن کے لیے سہی) تو مسیحیت کا بنیادی ومرکزی عقیدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–60

آیت نمبر 45 تا 60 ترجمہ : کیا تو اپنے رب کی صنعت کو نہیں دیکھتا وقت اسفار سے طلوع شمس کے وقت تک اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک ھالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا، یعنی ساکن رکھتا جو طلوع شمس سے زائل نہ ہوتا پھر ہم نے سورج کو اس سایہ کو اپنی طرف بتدریج سمیٹ لیا یعنی طلوع شمس کی وجہ سے شیئاً فشیئاً اور وہ ایسا ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات کا لباس یعنی لباس کے مانند ساتر بنایا اور نیند کو قطع کرنے والی یعنی جسموں کے لئے اعمال کو موقوف کرکے راحت کی چیز بنایا اور دن کو منتشر ہونے کا وقت بنایا اس میں رزق وغیرہ حاصل کرنے کے لئے اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں اور ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و توکل علی الحی الذی لا یموت اور اس ذات پر بھروسہ کیجئے جو زندہ ہے کبھی نہیں مرے گی۔ جو ہستیاں زندہ ہیں لیکن موت کا نشانہ ہیں کبھی ان کو موت ضرور آئے گی ایسی ہستیوں پر بھروسہ ‘ بھروسہ کرنے والوں کو بےمدد چھوڑ دیتا ہے اور وہ تباہ ہوجاتے مگر اللہ (کی حیات پر کبھی موت طاری ہونے کا وہم بھی نہیں ہوسکتا اس لئے وہی) اس بات کا مستحق ہے کہ اس پر مخالفوں کے شر سے محفوظ رہنے اور لوگوں کی طرف سے مالی معاوضہ سے بےنیاز رہنے کے سلسلہ میں بھروسہ کیا جاسکتا ہے پس آپ ﷺ ان لوگوں کے شر اور ان کے مال سے بےنیاز رہنے میں اللہ ہی پر بھروسہ کریں۔ وسبح بحمدہ وکفی بہ بذنوب عبادہ خبیرا۔ اور اس کی تسبیح وتحمید میں لگے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(58) اور آپ ان حی لا یموت پر توکل رکھیے اور ایسے زندوں پر بھروسا نہ کیجیے جن کو موت آجاتی ہے جیسا کہ حضرت خدیجہ ؓ اور ابو طالب اور نہ مردوں پر جن میں کسی قسم کی کوئی حرکت نہیں اور اس کے حکم سے نماز پڑھتے رہیے اور اللہ اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَتَوَكَّلْ عَلَي الْـحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ : یہ بتانے کے بعد کہ تمام کفار آپ کی دشمنی میں یک جان اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں، ان کی دشمنی اور ایذا سے بچنے کا طریقہ بتایا کہ آپ ان کی دشمنی پر صبر کریں، نہ کسی کا خوف رکھیں نہ کسی سے امید، اپنے ہر کام میں اس پر بھروسا رکھیں جو ہمیشہ زندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا، وہی آپ کی ہر طرح سے حفاظت فرمائے گا، جیسا کہ فرمایا : (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ) [ المائدۃ : 67 ] ”اے رسول ! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

( و توکل علی الحی الذی۔۔۔۔۔ ) توکل کا معنی سورة آل عمران اور اس سورت میں گزر چکا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ تمام امور میں دل کا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا اور اسباب تو صرف واسطے ہے جن کا حکم دیا گیا ہے ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ وسبح بحمدہ کفار اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان کرتے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرو۔ تسبیح کا معنی پاکی بیان کرتا ہے، یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وسبح کا معنی ہے اس کے لیے نماز پڑھو۔ نماز کو تسبیح کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں پر آگاہ ہے اس لیے انہیں بدلہ عطاء فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی الدنیا فی التوکل والبیہقی فی شعب الایمان عتبہ بن ابی ثبیت (رح) سے روایت کیا کہ تورات شریف میں لکھا ہوا ہے کہ کسی انسان پر بھروسہ نہ کر، کیونکہ انسان کو دوام حاصل نہیں ہے۔ لیکن بھروسہ اس ذات پر ہو جو ہمیشہ زندہ رہے گا اس کو موت نہیں آئے گی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَتَوَكَّلْ [ آپ ﷺ بھروسہ کریں ] عَلَي الْـحَيِّ الَّذِيْ [ اس حقیقی زندہ پو جو ] لَا يَمُوْتُ [ نہیں مرتا ] وَسَبِّحْ [ اور آپ ﷺ تسبیح کریں ] بِحَمْدِهٖ ۭ [ اس کی حمد کے ساتھ ] وَكَفٰى [ اور کافی ہے ] بِهٖ [ وہ ] بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ [ اپنے بندوں کے گناہوں پر ] خَبِيْرَۨا [ باخبر ہونے کے لحاظ سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرًا) (اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر دار ہونے کیلئے کافی ہے) جو لوگ کفر و شرک پر جمے ہوئے ہیں آپ کی دعوت قبول نہیں کرتے آپ کو تکلیفیں دیتے ہیں ان کا حال ذات پاک حی لایموت کو معلوم ہے وہ ان سب کو سزا دے دے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان خالقیت بیان فرماتے ہوئے آسمان و زمین کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو چیزیں ان کے اندر ہیں سب کو چھ دن میں پیدا فرمایا ان چھ دنوں کی تفسیر سورة حم سجدہ ع 2 میں مذکور ہے اس کے بارے میں وہیں عرض کیا جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 55–60

بیان جہالت مشرکین و منکرین نبوت قال اللہ تعالیٰ ویعبدون من دون اللہ مالا ینفعھم ولا یضرھم .... الیٰ .... ازادھم لغفورا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں دلائل توحید وقدرت بیان کیے اب آئندہ آیات میں مشرکین اور منکرین نبوت کی جہالتوں اور خصال بد کو بیان کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک مادہ سے بشر کو پیدا کیا اور دو قسم کا بنایا۔ ایک مذکر اور دوم مؤنث۔ جن کے اعضاء اور طبائع اور شکل و صورت میں بہت فرق ہے اسی طرح اس نے مومن اور کافر کو پیدا کیا جن کی طبیعتوں میں بےانتہا فرق ہے۔ اور جس طرح خدا نے دو قسم کے دریا بنائے ایک شیریں اور دوم تلخ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کسی کو شیریں اور خوشگوار اخلاق پر پیدا کیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

38:۔ ” و توکل الخ “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے یعنی آپ مشرکین کے عناد و انکار اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر کریں اس زندہ جاوید رب پر بھروسہ کریں جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا اور ہر قسم کی برکات و خیرات جس کے قبضہ و اختیار میں ہیں آپ اس کی تسبیح وتحمید کرتے رہیں وہ آپ کا حافظ و ناصر ہے فانہ الحقیق بان یتوکل علیہ دون الاحیاء الذین من شانھم الموت فانھم اذا ماتوا ضاع من توکل علیھم (ابو السعود ج 6 ص 498) ۔ ” و کفی بہ الخ “ یہ کفار کیلئے تخویف اخروی ہے اللہ تعالیٰ ان معاندین کے جرم و گناہ سے بیخبر نہیں بلکہ خوب جانتا ہے اور ان کو پوری پوری سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 56–60

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ کی دو باتوں کا ذکر کیا تھا۔ پہلی بات یہ تھی کہ وہ دو مختلف پانیوں کو اکٹھے چلا کر ان کے درمیان رکاوٹ کٹھ ہی کردیتا ہے جس کی وجہ سے وہ پانی آپس میں خلط ملط نہیں ہوتے ۔ اور دوسری بات یہ فرمائی کہ اس نے انسان کا سلسلہ نسب حقیرقطرہ آب سے چلایا ہے ۔ یہ دونوں باتیں کس کی قدرت کا نمونہ اور توحید کے دو پل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے مگر ان تمام تر دلائل و شواہد کے باوجود لوگ ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان کرسکتی ہیں ۔ فرمایا یہ لوگ خدا کی طرف سے پست پھیر کر شیطان کے …بنے ہوئے ہیں۔ آج کے درس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَتَوَكَّلْ عَلَي الْـحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِہٖ۝ 0ۭ وَكَفٰى بِہٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِيْرَۨا۝ 5 8ۚۙۛ وكل والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال : تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] ( و ک ل) التوکل ( تفعل ) اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 53–59

ترکیب : بینہما ظرف لجعل علی ربہ متعلق ہے ظہیرًا سے خبر کان، الامن شاء استثنیٰ من غیر الجنس الرحمن مبتداء فسئل بہ خبر۔ تفسیر : : وھوالذی مرج البحرین الخ (4) یہ دلیل ہے کہ اس نے دو قسم کے دریا رواں کئے۔ یا یوں کہو دو دریا کو باہم ملایا۔ ایک ان میں سے نہایت شیریں ‘ خوشگوار اور دوسرا کھاری تلخ اور باہم ملنے نہیں پاتے ان میں قدرتی حد فاصل رکھی ہوئی ہے۔ زمین کے دریا رواں جب سمندر میں گرتے ہیں اور یہ دریا شیریں ہوتے ہیں تو دور تک دونوں کی دو دو دھاریں نظر آتی ہیں باہم اختلاط پر امتیاز معلوم ہوتا ہے ان میں سمندر کی دھار کھاری اور زمین کے دریائِ رواں کی دھار شیریں ہوتی ہے سمندر میں پڑنے سے دونوں سمندر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَتَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لاَ یَمُوْتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِہٖ ط وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرَا۔ (الفرقان : 58) (اور بھروسہ کیجیے اس زندہ خدا پر جسے کبھی موت نہیں آئے گی اور اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہئے اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے آگاہ رہنے کے لیے کافی ہے۔ ) اشرافِ قریش نبی کریم ﷺ کو ہمیشہ اپنی افرادی قوت، اپنی طاقت و شوکت اور اپنی رفاہیت و ثروت سے ڈراتے رہتے تھے کہ آپ ﷺ اپنی دعوت سے رک جائیں ورنہ ہم جب چاہیں آپ کو بھی ختم کرسکتے ہیں اور آپ کی دعوت کو بھی۔ ہمارے جواب میں نہ آپ کے پاس افرادی قوت ہے اور نہ کوئی اور قوت کا سامان۔ ان کے جواب میں آنحضرت ﷺ کو تسلی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 57–58

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین کے مقابلہ میں رسول کریم ﷺ کو دو باتوں کی تلقین۔ یہ اعلانِ حق آپ ﷺ کی زبان سے کروایا گیا کہ آپ اپنی قوم کو دو ٹوک انداز میں فرما دیں کہ میں نبوت کی ذمہ داریوں کے بدلے تم سے کسی قسم کا اجر اور معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ اس میں ایک طرف کفار اور مشرکین کے لیے پیغام ہے کہ سوچو اور غور کرو ! کہ جس شخصیت کا نبوت سے پہلے اس قدر احترام اور مقام تھا کہ ہر کوئی اس کا اعتراف کرتا تھا۔ لیکن اس نے اپنے مقام اور احترام کو جس مشن پر قربان کیا ہے اسے اس کے بدلے میں کیا مل رہا ہے ؟ اس کے ساتھ نبی کریم ﷺ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ دلگیر ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ ان سے کسی قسم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

58: وَتَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَایَمُوْتُ (اور اس ذات پر بھروسہ کر وجو زندہ ہے کبھی نہ مرے گا) جس پر موت نہیں اس کو کارساز بنائو۔ وہ ان کے سپرد تمہیں نہیں کرے گا۔ جو ذلت کی موت مرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے اس پر اعتماد کرو اور ان کے شرور سے بچائو کیلئے اپنا معاملہ اس کے سپرد کرے اور ایسے زندہ پر بھروسہ نہ کرے جس پر موت آئے گی۔ نکتہ : بعض صالحین نے جب یہ آیت تلاوت کی تو کہنے لگے عقل مند کو مناسب نہیں کہ اس کے بعد بھی مخلوق پر اعتماد کرے التوکلؔ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ۔ وَسَبِّحْ (اور اس کی تسبیح بیان کر) اللہ تعالیٰ کو اس بات سے پاک قرار دے کہ اس پر تو کل کرنے والا کسی غیر پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 58۔ و توکل علی الحی، اپنی نعمتوں پر شکر ادا کرتے ہوئے نماز پڑھئے۔ بعض نے کہا کہ آپ شکر ادا کرتے ہوئے یوں کہیں، سبحان اللہ والحمدللہ، وکفی بہ بذنوب عبادہ خبیرا۔ وہ اپنے بندوں کے صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو خوب جانتے ہیں اسی کے مطابق بدلہ دیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 58–60

58۔ 60:۔ توکل کے معنی اللہ پر بھروسہ رکھنے کے ہیں ‘ وعظ ونصیحت پر اجرت لینے کی مناہی فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم تو اپنے سب کاموں کا بھروسہ اللہ پر رکھو کہ اس کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے اور اللہ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے ‘ اس واسطے کسی کام کا بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھنے کے بعد اگر اس کام میں کچھ دیر ہو تو وقت مقررہ تک صبر کرنا چاہیے تاکہ اللہ پر بھروسہ رکھنے کا اور صبر کا دونوں کا اجر ملے ‘ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والے لوگ قیامت کے دن بلاحساب جنت میں جاویں گے ‘ بخاری ومسلم میں ابو سعید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 56–60

آیت 56 سے 60 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد ﷺ کو لوگوں پر داروغہ بنا کر بھیجا ہے نہ انہیں فرشتہ بنایا ہے اور نہ ان کے پاس چیزوں کے خزانے ہیں اس نے تو آپ کو صرف (مبشرا) ” خوشخبری سنانے والا “ بنا کر بھیجا ہے آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی ثواب کو خوشخبری سناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے (ونذیرا) ” اور ڈرانے والا۔ “ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اس کو دنیاوی اور اخروی سزا سے ڈراتے ہیں اور یہ اوامرونواہی میں سے ان امور کو تبیین کو مستلزم ہے جن کی بشارت دی گئی ہے اور جن سے انداز حاصل ہوتا ہے۔ اے محمد ! ﷺ آپ قرآن اور ہدایت پہنچانے پر ان سے کسی اجر کا مطالبہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–62

رات دن ایک دوسرے کے جانشین ہیں قول باری ہے : (وھوالذی جعل اللیل والنھار خلفۃ) وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا۔ تاآخر آیت۔ شمر بن عطیہ نے ابن سلمہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص حضرت عمر ؓ کے پاس آکر کہنے لگا۔ امیر المومنین مجھ سے نماز رہ گئی ہے۔ “ آپ نے سن کر فرمایا ” رات کے وقت جو نماز تم سے رہ گئی ہے اس کے بدلے میں دن کے وقت نماز پڑھ لو۔ “ یعنی اس کی قضا دا کرلو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے جانشین بنایا ہے ہر اس شخص کے لئے جو سبق لینا چاہے یا شکر گزار ہونا چاہے۔ “ یونس نے ابن شہاب سے انہوں نے السائب بن زید اور عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے عبدالرحمن بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 58–59

71 بھروسہ اللہ ہی پر رکھنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ بھروسہ ہمیشہ اسی زندئہ جاوید ہستی پر رکھو جسکو کبھی موت نہیں آتی "۔ کہ بھروسہ کرنے کے لائق وہی ذات اقدس و اعلیٰ ہے جس کی قدرت بھی کامل ہے اور اس کی رحمت بھی عام اور شامل۔ جو کارساز و کار فرما بھی ہے اور ازلی و ابدی بھی۔ جو سب کائنات کی خالق بھی ہے اور مالک و متصرف بھی۔ جو شہ رگ سے بھی زیادہ انسان کے قریب بھی ہے اور جو ہر کسی کی سنتی بھی ہے اور ہر کسی کی حاجت روائی و مشکل کشائی کرنے والی بھی۔ جس کو نہ کبھی موت آسکتی ہے نہ فنا۔ اور جب اس ذات اقدس و اعلیٰ کے سوا یہ صفات اور کسی بھی ہستی میں نہ پائی جاتی ہیں نہ پائی جانی ممکن ہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 53–60

اللہ کی طاقت کے ثبوت میٹھا اور کھارا پانی، انسان کی پیدائش، رسول کریم کی بعثت اور اللہ کا عرش پر مستوی ہونا تشریح : رب العزت کو دیکھنا کسی بھی انسانی آنکھ کے لیے ممکن نہیں کیونکہ اس کا جلال اس قدر زیادہ ہے کہ بندہ اس کو قیامت کے دن ہی دیکھ سکے گا اس مادی جسم کے ساتھ اس کو آنکھ سے نہیں البتہ دل کی آنکھ اور فہم و فراست سے اس کی بنائی ہوئی تخلیقات سے اس کی عظمت اور بڑائی کا اندازہ ضرور ر کرسکتا ہے۔ اب یہاں اس کی بیشمار تخلیقات میں سے ایک تو میٹھے اور کھارے پانی کو ایک ہی سمندر میں بہتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک ہی سمندر میں بہہ رہے ہیں مگر پانی آپس میں ملتا نہیں۔ کس قدر حیرت ناک اور عجیب و غریب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف اے مخاطب تو دیکھتا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہر شے میں اور ہر کام میں ایک رشتہ قائم کردیا ہے یہی رشتہ سبب اور اس کے نتیجے میں ہے سورج کی روشنی اور سائے میں ہے کس طرح قدرت باری نے چیزوں کو سایہ بخشا کہ دور تک پھیلا ہوتا ہے ، اگر اللہ جل جلالہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایسے ہی رکھنے پر قادر تھا مگر اس نے سائے کے بڑھنے گھٹنے کو سورج اور دھوپ سے متعلق کردیا ، سورج اوپر اٹھتا ہے تو سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں اور دھوپ اور گرمی کی تپش پھیلتی ہے اور پھر سورج ڈھلتا ہے تو دوبارہ سائے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ رشتے یہ اسباب ونتائج اللہ نے دنیا کی آبادی اور بنی آدم کے آرام کا سبب بنائے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 56–58

4 ۔ چناچہ آنحضرت ﷺ یہ ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے : سبحانک اللھم ربنا وبحمدک۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:58) توکل : توکل (تفعیل) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ توکل کر بھروسہ رکھ۔ اعتماد کر۔ الحی۔ زندہ۔ حیاۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ کفی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ (باب ضرب) یہ صیغہ ماضی کا ہے۔ لیکن مراد استمرار ہے۔ کفایۃ مصدر بھی ہے اور اسم مصدر بھی ہے۔ کفایۃ اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو ضرورت پوری کر دے۔ کفی ۔ کفی ۔ کافی۔ سب کے معنی ضرورت پوری کرنے والا۔ جس کے بعد کسی کی حاجت نہ رہے۔ کفی کا استعمال لغت عرب میں دو طرح آیا ہے :۔ (1) متعدی، مثلاً کفاک الشیئ۔ تیرے لئے وہ چیز کافی ہے یا جیسے قرآن مجید میں ہے :۔ وکفی اللہ المؤمنین القتال (33:25) اور جنگ میں اللہ اہل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–60

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 60 : لوشئنا (اگر ہم چاہتے) ‘ لبعثنا ( البتہ ہم ضرور بھیجتے) ‘ لا تطع (کہنا مانیئے) جھاد کبیر (زوردار مقابلہ) ‘ مرج ( اس نے ملایا) ‘ البحرین (دودریاؤں کو) ‘ عذب (میٹھا) ‘ فرات (خوش گوار۔ پی کر مزہ آئے) ‘ ملح (کھاری) ‘ اجاج (کڑوا) ‘ حجر (آڑ۔ رکاوٹ) ‘ محجور ( جو خود آڑ میں ہو) ‘ نسب (نسب۔ نسبی رشتے) ‘ صھر (شادی کے رشتے ۔ سسرال) ‘ ظھیر ( سرکش۔ مقابل۔ پشت پناہی کرنے والا) ‘ ما اسئل (میں نہیں مانگتا) ‘ ذنوب (ذنب) (گناہ ۔ خطائیں) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) ‘ استوی ( وہ برابر ہوا۔ جلوہ گرہوا) ‘ تأ مرنا ( تو ہمیں حکم دیتا ہے) ‘ نفور (نفرت۔ ناگواری) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 60…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 58–62

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ مسلمانو ! تم اپنے سب کاموں کا بھروسہ اللہ پر رکھو کہ اس کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے اور اللہ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے، اس واسطے کسی کام کا بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھنے کے بعد اگر اس کام میں کچھ توقف ہو تو وقت مقررہ تک صبر کرنا چاہیے تاکہ اللہ پر بھروسہ رکھنے کا اور صبر کا دونوں کا اجر ملے۔ پھر فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ اس کی تسبیح وحمد کرے، اور اس کی اطاعت اور اس کا شکر بجالائے ، پھر فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اپنی قدرت سے بغیر کسی مدد کے چھ دن میں پیدا کیا، اگر اللہ چاہتا تو ایک لمحہ میں آسمان اور زمین سب کچھ پیدا کردیتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 56–58

[37] یعنی رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ لوگوں کو نیک کے انجام کی خوشخبری سنائے اور سرکشی و بدعملی کے نتائج سے خبردار کرے۔ اس طرح کے اشارات جہاں کہیں بھی قرآن میں آئے ہیں ان کا اصل روئے سخن کفار کی طرف ہے اور مقصد یہ بتانا ہے کہ پیغمبر پر تبلیغِ حق سے بڑھ کر کوئی ذمہ داری نہیں۔ وہ لوگوں کو پیغامِ حق قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کے معاملے میں بھی پیغمبر کا کام بس اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے۔ قرآن میں کئی جگہ نہایت صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ پیغمبر کا کام مسلمانوں کو صرف اللہ کا پیغام سنانا ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ان کو کتاب الٰہی کی تعلیم دینا،…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 56–58

بشیر اور نذیر 2: حضور سے قبل جس قدر انبیاء تشریف لائے ۔ وہ یا تو بشیر تھے ۔ یا نذیر ۔ یعنی ان کے پیغام میں یا تو انداز کا عنصر قوی تھا ۔ یا بشارت کا ۔ مگر حضور ﷺ کی جامعیت عقلا کی گئی ۔ آپ بیک وقت بشیر بھی تھے اور نذیر بھی ۔ آپ نے اپنے ماننے والوں اور عقیدتمندوں کو جنت اور فلاح کی ۔ اور کینوز واملاک کی خوشخبریاں سنائیں ۔ اور منکروں کو جہنم اور ناکامی کی خبردی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(58) اور آپ اس پر بھروسہ رکھئے اور توکل کیجئے جو زندہ ہے اور جو مرے گا نہیں اور اس کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہئے اور وہ خود اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کو کافی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ یعنی تبلیغ کی کہ طاعت متعدیہ ہے اور تسبیح وتحمید کہ عبادت لازمہ ہے ان کو بےفکری سے ادا کیجئے۔ 7۔ ان جملوں میں رسول اللہ ﷺ سے حزن و فکر و خوف کو زائل فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اپنے رب پر بھروسہ رکھئے جو ” حی لا یموت “ ہے : 58۔ ” آپ اس حی وقیوم پر بھروسہ رکھئے جو کبھی نہیں مرے گا “ مطلب واضح ہے کہ اگر ان کافروں کو اپنی تعداد کی کثرت ‘ اپنے وسائل کی بہتات اور اپنے دوستوں کی امداد پر بھروسہ ہے تو کیا ہوا یہ سب چیزیں تو فانی ہیں ‘ ان میں آخر کونسی چیز ہے جس کو بقا حاصل ہے ۔ آپ ﷺ اس پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ زندہ ہے اور ہمیشہ قائم رہنے والا ہے اور جس کو کبھی موت نہیں آئے گی اور جس کا معین و مددگار اللہ تعالیٰ ہو یقینا ایک روز فتح ونصرت اس کے قدم چومے گی اور بلاشبہ نفع ونقصان کا خود مالک ہے ” اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہئے ، “ کیونکہ یہی دراصل حصول صبر و توکل علی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–58

قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ‌ إِلَّا مَن شَاءَ أَن يَتَّخِذَ إِلَىٰ رَ‌بِّهِ سَبِيلًا ﴿57﴾ Say, "I do not demand from you any fee, except that whoever so wills, should adopt a way to his Lord - 25:57. Allah Ta’ ala advised the Holy Prophet ﷺ to say that he has no personal interest in inviting to accept and follow Allah's message in order to be profitable in this world and the Hereafter. He does not seek any reward from them for his efforts. His reward is only that they turn towards Allah. It is but obvious that if someone moves to the righteous path it is he who will be the…

Read the full tafseer →