Al-Furqaan 25:57

Al-Furqaan · from ayah 57

25:57

قُلْ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّهٖ سَبِیْلًا ۟قُلۡ مَاۤ اَسۡـئَـلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اَنۡ يَّـتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيۡلًا‏

کہہ دو کہ میں تم سے اس (کام) کی اجرت نہیں مانگتا، ہاں جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف جانے کا رستہ اختیار کرے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "I do not ask of you for it any payment - only that whoever wills might take to his Lord a way."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:57

اِن سے کہہ دو کہ "میں اس کام پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا، میری اُجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کر لے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ میں تم سے اس (کام) کی اجرت نہیں مانگتا، ہاں جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف جانے کا رستہ اختیار کرے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے کہ میں قرآن کے پہنچانے پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر جو شخص اپنے رب کی طرف راه پکڑنا چاہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : میں اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ہاں جو شخص یہ چاہے کہ اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرلے (تو یہی میری اجرت ہے)

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر جو چاہے کہ اپنے رب کی طرف راہ لے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ فرما دیجئے کہ میں تم سے اس (تبلیغ) پر کچھ بھی معاوضہ نہیں مانگتا مگر جو شخص اپنے رب تک (پہنچنے کا) راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے (کرلے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا مگر جو چاہے کہ اپنے رب کی طرف کوئی راستہ اختیار کرے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے : کہ میں اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میری اجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کا راستہ اختیار کرے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم کہہ دو کہ میں تم سے اس کا کوئی صلہ نہیں مانگ رہا ہوں۔ بس یہ ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپن رب تک پہنچانے والی راہ اختیار کرے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان سے کہو کہ میں تم سے تبلیغ حق کے اس کام پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا مگر یہ کہ جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ تو مانگتا نہیں۔ ہاں (یہ البتہ چاہتا ہوں کہ) جو کوئی چاہے اپنے پروردگار تک راستہ اختیار کرلے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ میں تم سے اس پر کچھ اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ جو چاہے اپنے رب کا راستہ اختیار کرے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ میں تم سے اس کام کی اجرت نہیں مانگتا ‘ ہاں جو شخص چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا رستہ اختیار کرے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell them, "I do not ask of you any recompense for this work: I only ask of the one, who will, to adopt the way of his Lord.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :I do not demand from you any return, except that one should adopt the (proper) way to his Lord, if he so wills.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :I do not demand from you any return, except that one should adopt the (proper) way to his Lord, if he so wills.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "No reward do I ask of you for this, save that whosoever wills may take a path to his Lord."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: I ask of you no reward for this, save that whoso will may choose a way unto his Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "I do not ask of you for it any payment - only that whoever wills might take to his Lord a way."

— Saheeh International

Tell them, "I ask no recompense for my preaching to you, except the fact that whoever wants should choose the way of God."

— Muhammad Sarwar

Say: I do not ask you aught in return except that he who will, may take the way to his Lord.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou. ask of you no hire for this, save that whosoever will may take unto his Lord a way.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "No reward do I ask of you for it but this: that each one who will may take a (straight) Path to his Lord."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:57

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 55–60

آبائی گمراہی مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں اور بلادلیل وحجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی نفسانی خواہشات سے انکی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول ﷺ سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہوگئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہوگئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہوگا۔ یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا اور آخرت میں ان کا پروردگار انکی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 57–58

سورة الْفُرْقَان 71 (الف) تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم المومنون، حاشیہ 70۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 57–58

قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اَنْ يَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا، یعنی تمہیں ایمان کی دعوت اور اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانے اور دنیا وآخرت میں تمہارے لئے فلاح کی کوشش کرنے میں میرا کوئی دنیوی فائدہ نہیں۔ میں اپنی اس محنت کا تم سے کوئی اجر و معاوضہ نہیں مانگتا۔ میرا فائدہ اس کے سوا نہیں کہ جس کا جی چاہے اللہ کا راستہ اختیار کرلے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ کوئی شخص راہ پر آجاوے تو فائدہ اسی کا ہے اس کو اپنا فائدہ قرار دینا پیغمبرانہ شفقت کی طرف اشارہ ہے کہ میں تمہارے فائدہ ہی کو اپنا فائدہ سمجھتا ہوں۔ یہ ایسا ہے جیسے کوئی بوڑھا ضعیف باپ اولاد کو کہے کہ تم کھاؤ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی ان کو صاف صاف سنا دو کہ میں اس دعوت کا کوئی صلہ تو تم سے مانگ نہیں رہا تھا کہ تمہارے رد و قبول کا مجھ پر کوئی اثر پڑے۔ میں نے تمہارے رب کا پیغام تمہیں پہنچایا ہے اور مدعا صرف یہ ہے کہ جو اپنے رب کی راہ اختیار کرنا چاہئے وہ اس کو اختیار کرے اگر اس کو اختیار کرو گے تو اس کا نفع تمہی کو ہوگا اگر نہ اختیار کرو گے تو اس کا خیاپزہ تمہی بھگتو گے۔ اس سے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ یہی مضمون سورة سبا میں یوں بیان ہوا ہے۔ قل ماسالتکم من اجرفھو لکم، ان اجری الا علی اللہ 47

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 54–59

19:”استواء“ کے لفظی معنی سیدھا ہوجانے اور مضبوطی سے بیٹھ جانے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عرش پر استواء فرمانے کا کیا مطلب اور اس کی کیا کیفیت ہے ؟ یہ بات ہماری محدود عقل سے ماورا ہے، اور ان متشابہات میں سے جن کا ذکر سورة آل عمران کے بالکل شروع میں آیا ہے۔ اس لیے اس پر جوں کا توں ایمان رکھنا چاہیے۔ اور اس کی کیفیت کی تحقیق و جستجو میں نہیں پڑنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 56–59

وما ارسلنک ……بہ خبیراً (59) یوں رسول اللہ ﷺ کیفریضہ کی حدود کا تعین کردیا جاتا ہے۔ یہ کہ آپ خوشخبری سنانے والے اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں فقط اور مکہ میں آپ کو یہ حکم نہ دیا گیا تھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ جنگ کریں ، کیونکہ مکہ میں تبلیغ دین کی پوری آزادی تھی لیکن بعد میں جب مسلمان مدینہ کو منتقل ہوئے تو اللہ نے قتال کا حکم دے دیا۔ مکہ میں اللہ نے حکم نہ دیا اور مدینہ میں قتال کا حکم دیا۔ اس کی حقیقی حکمت اللہ ہی جانتا ہے۔ جو کچھ ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں ان لوگوں کو تربیت دی جا رہی تھی ، جن پر اس نظریہ حیات کا دار و مدار تھا ، جن کے دلوں میں یہ عقیدہ اچھی طرح بیٹھ گیا تھا اور جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 56–57

6 یعنی آپ کا کام خدا تعالیٰ کی وفاداری پر بشارات سنانا اور غداروں کو خراب نتائج و عواقب سے آگاہ کردینا ہے۔ آگے کوئی مانے یا نہ مانے، آپ کو کچھ نقصان نہیں۔ آپ ان سے کچھ فیس یا مزدوری تھوڑی طلب کر رہے تھے کہ ان کے نہ ماننے سے اس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔ آپ تو ان سے صرف اتنا ہی چاہتے ہیں کہ جو کوئی چاہے خدا کی توفیق پا کر اپنے رب کا راستہ پکڑ لے۔ اسی کو چاہو فیس کہہ لو یا مزدوری۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 57 قُلْ مَآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا ” آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ میں تمہیں دعوت دینے اور قرآن سنانے میں ہمہ وقت مصروف رہتا ہوں ‘ لیکن میں نے اس کے عوض تم لوگوں سے کبھی کوئی اجرت نہیں مانگی ‘ کبھی کسی معاوضے کا مطالبہ نہیں کیا۔ تم لوگ مجھ پر شاعر ‘ کاہن اور جادوگر ہونے کا الزام تو دھرتے ہو ‘ مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ شاعر ‘ کاہن ‘ جادوگر وغیرہ سب تو ہر وقت معاوضے اور انعام کے لالچ میں رہتے ہیں ‘ جبکہ میں تو محض اخلاص اور تمہاری خیر خواہی کی بنیاد پر دعوت دین کی خدمت سر انجام دے رہا ہوں۔ اس میں میرا اجر یا معاوضہ ہے تو صرف اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

70 انبیاء کی دعوت اور کفار کے انکار کے سلسلہ میں انبیاء کی طرف سے جواب کے طور پر یہ جملہ قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے۔ اور اس جواب کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ اگر تمہیں میرا یہ دعوت الی اللہ کا کام پسند نہیں آتا تو میں تم سے کوئی معاوضہ یا تنخواہ تھوڑے لے رہا ہوں جو تم اسے بند کردو گے اور میں اپنا کام چھوڑ دوں گا اور نہ ہی تم سے میرا اس قسم کا مطالبہ ہے۔ لہذا تمہیں یہ کام پسند ہو یا نہ ہو یا میں اپنا کام کئے ہی جاؤں گا اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ میں بالکل بےلوث اور بےغرض ہو کر تمہاری بھلائی کی خاطر تمہیں سیدھے راستے کی طرف دعوت دے رہا ہوں اور میں تم سے لیتا بھی کچھ نہیں بلکہ الٹا تم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

65۔ (اور میری کوئی غرض، جاہی ومالی اس تبلغ حق کے سلسلہ میں متعلق نہیں) پیغمبر کے ” تبلیغی لکچروں “۔ کو گراں قدر فیسوں سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا، پیغمبر ایک پیکر بےغرضی وبے نفسی کا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–60

آیت نمبر 45 تا 60 ترجمہ : کیا تو اپنے رب کی صنعت کو نہیں دیکھتا وقت اسفار سے طلوع شمس کے وقت تک اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک ھالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا، یعنی ساکن رکھتا جو طلوع شمس سے زائل نہ ہوتا پھر ہم نے سورج کو اس سایہ کو اپنی طرف بتدریج سمیٹ لیا یعنی طلوع شمس کی وجہ سے شیئاً فشیئاً اور وہ ایسا ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات کا لباس یعنی لباس کے مانند ساتر بنایا اور نیند کو قطع کرنے والی یعنی جسموں کے لئے اعمال کو موقوف کرکے راحت کی چیز بنایا اور دن کو منتشر ہونے کا وقت بنایا اس میں رزق وغیرہ حاصل کرنے کے لئے اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں اور ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ما اسلئکم علیہ من اجر آپ کہہ دیجئے میں اس (تبلیغ) کی کوئی اجرت تم سے طلب نہیں کرتا۔ مِنْ اَجْرٍیعنی کوئی ایسا معاوضہ نہیں مانگتا جو تم کو میرے اتباع سے روکے اور تم اس کو اپنے اوپر تاوان سمجھو۔ الا من شآء ان یتخذ الی ربہ سبیلا۔ مگر (اس شخص کا عمل اور ایمان چاہتا ہوں) جو اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرے۔ یعنی جو اللہ کا قرب اور قرب تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرتا ہے پس مجھے ایسے ہی شخص کی طلب ہے۔ اللہ کے اوامرو نواہی کی تعمیل کے لئے اللہ کے رسول کی اطاعت کو اجر رسالت قرار دیا کیونکہ رسالت کا اصل مقصد ہی یہ ہے اس کے علاوہ ہر اجر تبلیغ کی نفی کردی تاکہ کسی کو شبہ کرنے کا موقع ہی باقی نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(57) آپ ان کفار مکہ سے فرما دیجیے کہ میں تبلیغ توحید وقرآن کریم پر تم سے کسی قسم کا کوئی مالی معاوضہ نہیں مانگتا البتہ جو چاہے وہ ایمان کا راستہ اختیار کرے یا یہ کہ جو چاہے وہ توحید کا قائل ہوجائے اور اس کے ذریعے سے اپنے رب تک پہنچنے کا رستہ اختیار کرے اور وہاں پہنچ کر اس ایمان و توحید پر ثواب حاصل کرے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ : قرآن مجید میں یہ جملہ کئی جگہ آیا ہے، یہاں مطلب یہ ہے کہ کفار جو آپ کی عداوت پر تلے ہوئے ہیں ان سے کہہ دیجیے کہ میں اپنے رب کی طرف سے تمہارے پاس جو پیغام لے کر آیا ہوں، اسے پہنچانے میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا کہ تم اپنے اموال بچانے کی خاطر مجھ پر ایمان لانے سے گریز کرو۔ دوسری جگہ فرمایا : (اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي الَّذِيْ) [ ھود : 51 ] ”میری مزدوری اللہ کے سوا کسی پر نہیں۔“ اس سے بڑی نادانی کیا ہوگی کہ جو شخص تمہاری دین و دنیا کی بہتری کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کر رہا ہے اور اس پر تم سے کسی مزدوری کا مطالبہ بھی نہیں کرتا، تم اسی کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 56–57

( وما ارسلنک الا۔۔۔۔۔ ) یعنی جنت کا بشارت دینے والا اور آگ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ہم نے آپ کو وکیل اور زبردستی کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ میں تمہارے پاس قرآن اور وحی جو لے کر آیا ہوں اس پر تم سے اجر کا مطالبہ نہیں کرتا۔ یہاں من اجر میں من تاکید کے لیے ہے۔ الا من میں الا، لکن کے معنی میں ہے یہ مستثنیٰ منقطع ہے یعنی جو چاہے، یعنی جو چاہتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرے تو وہ مال خرچ کرے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مستثنیٰ متصل ہو اور مضاف مقدر ہو تقدیر کلام یہ ہوگی الا اجر من شاء، یعنی میرے دین کی اتباع کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ کو اپنائے یہاں تک کہ دنیا اور آخرت کی کرامت کو پائے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 56–57

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وما ارسلنک الا مبشرا ونذیرا “ سے مراد ہے کہ خوشخبری دینے والا جنت کی اور ڈرانے والا آگ سے۔ آیت ” الا من شاء ان یتخذ الی ربہ سبیلا “ یعنی اس کی اطاعت کے ساتھ جو چاہ اپنے رب کا راستہ اپنالے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قل ما اسئلکم علیہ من اجر “ سے مراد ہے اے محمد ﷺ ان کو فرمادیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا اس دعوت پر کہ جس کی طرف میں تم کو بلاتا ہوں یعنی دنیا کے مالوں میں سے کسی مال کا مطالبہ نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ [ میں نہیں مانگتا تم لوگوں سے ] عَلَيْهِ [ اس پر ] مِنْ اَجْرٍ [ کوئی بھی اجرت ] اِلَّا مَنْ [ سوائے اس شخص کے جو ] شَاۗءَ [ چاہے ] اَنْ [ کہ ] يَّتَّخِذَ [ وہ پکڑے ] اِلٰى رَبِّهٖ [ اپنے رب کی طرف ] سَبِيْلًا [ ایک راستہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 55–57

اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں آسمانوں کی اور زمین کی تخلیق فرمائی اور رات اور دن کو ایک دوسرے کے بعد آنے جانے والا بنایا ان آیات میں اول تو مشرکین کی بیوقوفی اور بغاوت ظاہر فرمائی ہے اور وہ یہ کہ یہ لوگ اپنے خالق کو چھوڑ کر جس کی صفات اوپر بیان کی گئی ہیں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو اپنے ان پر ستاروں کو نہ نفع دے سکیں اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکیں۔ پھر ان کی مزید سر کشی بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَکَانَ الْکَافِرُ عَلٰی رَبِّہٖ ظَہِیْرًا) (اور کافر اپنے رب کا مخالف ہے) یعنی ایسے عمل کرتا ہے جیسے کوئی شخص کسی کا مخالف ہو اور اس کی مخالفت میں لگ کر ایسے کام کرتا رہے جو اسے نا گوار ہوں جس کی مخالفت پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 55–60

بیان جہالت مشرکین و منکرین نبوت قال اللہ تعالیٰ ویعبدون من دون اللہ مالا ینفعھم ولا یضرھم .... الیٰ .... ازادھم لغفورا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں دلائل توحید وقدرت بیان کیے اب آئندہ آیات میں مشرکین اور منکرین نبوت کی جہالتوں اور خصال بد کو بیان کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک مادہ سے بشر کو پیدا کیا اور دو قسم کا بنایا۔ ایک مذکر اور دوم مؤنث۔ جن کے اعضاء اور طبائع اور شکل و صورت میں بہت فرق ہے اسی طرح اس نے مومن اور کافر کو پیدا کیا جن کی طبیعتوں میں بےانتہا فرق ہے۔ اور جس طرح خدا نے دو قسم کے دریا بنائے ایک شیریں اور دوم تلخ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کسی کو شیریں اور خوشگوار اخلاق پر پیدا کیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 56–57

37:۔ ” و ما ارسلنک الخ “ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ مشرکین ازراہِ ضد و مکابرہ کہتے کوئی معجزہ دکھا دو تو ہم مان لیں گے تو فرمایا ہم نے محمد ﷺ کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے معجزات لانا ان کے اختیار میں نہیں۔ ہم مصالح کے تحت جب چاہتے اور مناسب سمجھتے ہیں اپنے پیغبر کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر کردیتے ہیں ” قل ما اسئلکم علیہ من اجر الخ “ آپ یہ بھی فرما دیں کہ آخر میری تبلیغ تمہیں شاق کیوں گذرتی ہے میں تم سے تبلیغ پر کوئی مزدوری یا تنخواہ تو نہیں مانگتا۔ میرا تم سے صرف یہی مطالبہ ہے کہ تم صدق نیت اور رضاء قلب سے توحید کی راہ اختیار کرو اور اللہ کے دین کو قبول کرلو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 56–60

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ کی دو باتوں کا ذکر کیا تھا۔ پہلی بات یہ تھی کہ وہ دو مختلف پانیوں کو اکٹھے چلا کر ان کے درمیان رکاوٹ کٹھ ہی کردیتا ہے جس کی وجہ سے وہ پانی آپس میں خلط ملط نہیں ہوتے ۔ اور دوسری بات یہ فرمائی کہ اس نے انسان کا سلسلہ نسب حقیرقطرہ آب سے چلایا ہے ۔ یہ دونوں باتیں کس کی قدرت کا نمونہ اور توحید کے دو پل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے مگر ان تمام تر دلائل و شواہد کے باوجود لوگ ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان کرسکتی ہیں ۔ فرمایا یہ لوگ خدا کی طرف سے پست پھیر کر شیطان کے …بنے ہوئے ہیں۔ آج کے درس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْہِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اَنْ يَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّہٖ سَبِيْلًا۝ 57 سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 53–59

ترکیب : بینہما ظرف لجعل علی ربہ متعلق ہے ظہیرًا سے خبر کان، الامن شاء استثنیٰ من غیر الجنس الرحمن مبتداء فسئل بہ خبر۔ تفسیر : : وھوالذی مرج البحرین الخ (4) یہ دلیل ہے کہ اس نے دو قسم کے دریا رواں کئے۔ یا یوں کہو دو دریا کو باہم ملایا۔ ایک ان میں سے نہایت شیریں ‘ خوشگوار اور دوسرا کھاری تلخ اور باہم ملنے نہیں پاتے ان میں قدرتی حد فاصل رکھی ہوئی ہے۔ زمین کے دریا رواں جب سمندر میں گرتے ہیں اور یہ دریا شیریں ہوتے ہیں تو دور تک دونوں کی دو دو دھاریں نظر آتی ہیں باہم اختلاط پر امتیاز معلوم ہوتا ہے ان میں سمندر کی دھار کھاری اور زمین کے دریائِ رواں کی دھار شیریں ہوتی ہے سمندر میں پڑنے سے دونوں سمندر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 56–57

وَمَـآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ مُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا۔ قُلْ مَـآ اَسْئَلُـکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِلاَّ مَنْ شَـآئَ اَنْ یَّـتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلاً ۔ (الفرقان : 56، 57) (اے پیغمبر ! ہم نے آپ کو ایک مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ ان سے کہہ دیجیے کہ میں اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کرلیے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی ذمہ داری صرف انذار وتبشیر ہے، لوگوں کو زبردستی مومن بنانا نہیں۔ جو لوگ ایمان لائیں، آپ انھیں بہتر مستقل کی بشارت دیں۔ اور جو لوگ ایمان لانے سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 57–58

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین کے مقابلہ میں رسول کریم ﷺ کو دو باتوں کی تلقین۔ یہ اعلانِ حق آپ ﷺ کی زبان سے کروایا گیا کہ آپ اپنی قوم کو دو ٹوک انداز میں فرما دیں کہ میں نبوت کی ذمہ داریوں کے بدلے تم سے کسی قسم کا اجر اور معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ اس میں ایک طرف کفار اور مشرکین کے لیے پیغام ہے کہ سوچو اور غور کرو ! کہ جس شخصیت کا نبوت سے پہلے اس قدر احترام اور مقام تھا کہ ہر کوئی اس کا اعتراف کرتا تھا۔ لیکن اس نے اپنے مقام اور احترام کو جس مشن پر قربان کیا ہے اسے اس کے بدلے میں کیا مل رہا ہے ؟ اس کے ساتھ نبی کریم ﷺ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ دلگیر ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ ان سے کسی قسم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تبلیغ پر اجرت نہیں مانگتا : 57: قُلْ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ (کہ دین میں تم سے اس پر نہیں مانگتا) تبلیغ رسالت پر مِنْ اَجْرٍ (کوئی اجرت) انعام اس کی مثل اِلَّا مَنْ شَآ ئَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا (مگر جو شخص چاہیے اپنے رب کی طرف پہنچنے کا راستہ بنالے) مطلب یہ ہے مگر اس کا عمل جس نے چاہا۔ اجر کے استثناء کی مثال : اجرؔ کا استثناء اسی طرح ہے جیسا کہ کوئی تمہارا بڑا محسن ہو اور تمہارے لئے اس نے حصول میں تگ ودوہ بھی کی ہو۔ وہ کہے۔ ما اطلب منک ثوابا علی ماسعیت الا ان تحفظ ھذا المال ولا تضعہٗمیں تم سے اپنی معاونت پر ثواب نہیں چاہتا مگر اتنی بات ضرور چاہتا ہوں کہ تو اس مال کی حفاظت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

57۔ قل مااسئلکم علیہ، وحی کی تبلیغ میں، من اجر ، کوئی ایسامعاوضہ نہیں مانگتا جو تم کو میرے اتباع سے روکے اور تم اس کو اپنے اوپر تاوان سمجھو۔ الا من شاء ان یتخذ الی ربہ سبیلا، یہ استثناء منقطع ہے۔ یعنی جو شخص اپنامال راہ خدا میں اللہ کے قرب کے پہنچنے کے لیے خرچ کرتا ہے وہ ایسا کرے میں اپنے لیے کچھ طلب نہیں کرتا، مطلب یہ کہ میں اپنے لیے تو کچھ مانگتا نہیں ہاں اس بات سے نہیں روکتا، کہ راہ خدا میں کوئی اپنامال صرف کرے اور اللہ کی خوشنودی کا طلب گار ہو اور اس کا راستہ اختیار کرے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 56–57

56۔ 57:۔ اوپر کی آیت میں جن لوگوں کا ذکر تھا ‘ جب وہ ہر وقت کی قرآن کی نصیحت کو سن کر شرک سے باز نہیں آتے تھے تو اس سے اللہ کے رسول ﷺ کو بڑا رنج ہوتا تھا ‘ اس لیے فرمایا اے رسول اللہ کے رنج کی کوئی بات نہیں ہے تمہارا کام اتنا ہی ہے کہ شرک سے باز آنے والوں کو عقبیٰ کی بہبودی کی خوشی اور شرک سے باز نہ آنے والوں کو آخرت کے عذاب کا ڈر سنا دو ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ نیک ٹھہر چکے ہیں ‘ ان کے دل پر ضرور قرآن کی نصیحت کا اثر ہوگا اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد قرار پاچکے ہیں ‘ وہ مرتے دم تک برے کاموں کو اچھا جانتے رہیں گے اور قرآن کی نصیحت کا کچھ اثر ان کے دل پر پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 56–60

آیت 56 سے 60 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد ﷺ کو لوگوں پر داروغہ بنا کر بھیجا ہے نہ انہیں فرشتہ بنایا ہے اور نہ ان کے پاس چیزوں کے خزانے ہیں اس نے تو آپ کو صرف (مبشرا) ” خوشخبری سنانے والا “ بنا کر بھیجا ہے آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی ثواب کو خوشخبری سناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے (ونذیرا) ” اور ڈرانے والا۔ “ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اس کو دنیاوی اور اخروی سزا سے ڈراتے ہیں اور یہ اوامرونواہی میں سے ان امور کو تبیین کو مستلزم ہے جن کی بشارت دی گئی ہے اور جن سے انداز حاصل ہوتا ہے۔ اے محمد ! ﷺ آپ قرآن اور ہدایت پہنچانے پر ان سے کسی اجر کا مطالبہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–62

رات دن ایک دوسرے کے جانشین ہیں قول باری ہے : (وھوالذی جعل اللیل والنھار خلفۃ) وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا۔ تاآخر آیت۔ شمر بن عطیہ نے ابن سلمہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص حضرت عمر ؓ کے پاس آکر کہنے لگا۔ امیر المومنین مجھ سے نماز رہ گئی ہے۔ “ آپ نے سن کر فرمایا ” رات کے وقت جو نماز تم سے رہ گئی ہے اس کے بدلے میں دن کے وقت نماز پڑھ لو۔ “ یعنی اس کی قضا دا کرلو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے جانشین بنایا ہے ہر اس شخص کے لئے جو سبق لینا چاہے یا شکر گزار ہونا چاہے۔ “ یونس نے ابن شہاب سے انہوں نے السائب بن زید اور عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے عبدالرحمن بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

69 پیغمبر کی دعوت بالکل بےلوث : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ میں تم لوگوں سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا " تو پھر تمہارے ماننے سے میرا کیا فائدہ اور تمہارے نہ ماننے سے میرا کیا نقصان ؟ اور تمہیں خود یہ سوچنا چاہیئے کہ ایسے بےغرض و بےلوث شخص کی دعوت کے حق و صدق ہونے میں کسی شک و شبہ کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے جو نہ تو کسی اجر و معاوضے یا دنیاوی مفاد کا کوئی مطالبہ وسوال کرے اور نہ تم سے کچھ مانگے۔ بلکہ دعوت حق کی راہ میں سب کچھ قربان کر دے اور اپنے آرام و سکون تک کو تج دے۔ سو ایسی دعوت سے منہ موڑ نا کس قدر ظلم و زیادتی اور بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو پیغمبر کی دعوت بالکل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 53–60

اللہ کی طاقت کے ثبوت میٹھا اور کھارا پانی، انسان کی پیدائش، رسول کریم کی بعثت اور اللہ کا عرش پر مستوی ہونا تشریح : رب العزت کو دیکھنا کسی بھی انسانی آنکھ کے لیے ممکن نہیں کیونکہ اس کا جلال اس قدر زیادہ ہے کہ بندہ اس کو قیامت کے دن ہی دیکھ سکے گا اس مادی جسم کے ساتھ اس کو آنکھ سے نہیں البتہ دل کی آنکھ اور فہم و فراست سے اس کی بنائی ہوئی تخلیقات سے اس کی عظمت اور بڑائی کا اندازہ ضرور ر کرسکتا ہے۔ اب یہاں اس کی بیشمار تخلیقات میں سے ایک تو میٹھے اور کھارے پانی کو ایک ہی سمندر میں بہتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک ہی سمندر میں بہہ رہے ہیں مگر پانی آپس میں ملتا نہیں۔ کس قدر حیرت ناک اور عجیب و غریب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف اے مخاطب تو دیکھتا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہر شے میں اور ہر کام میں ایک رشتہ قائم کردیا ہے یہی رشتہ سبب اور اس کے نتیجے میں ہے سورج کی روشنی اور سائے میں ہے کس طرح قدرت باری نے چیزوں کو سایہ بخشا کہ دور تک پھیلا ہوتا ہے ، اگر اللہ جل جلالہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایسے ہی رکھنے پر قادر تھا مگر اس نے سائے کے بڑھنے گھٹنے کو سورج اور دھوپ سے متعلق کردیا ، سورج اوپر اٹھتا ہے تو سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں اور دھوپ اور گرمی کی تپش پھیلتی ہے اور پھر سورج ڈھلتا ہے تو دوبارہ سائے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ رشتے یہ اسباب ونتائج اللہ نے دنیا کی آبادی اور بنی آدم کے آرام کا سبب بنائے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 56–58

4 ۔ چناچہ آنحضرت ﷺ یہ ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے : سبحانک اللھم ربنا وبحمدک۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:57) علیہ : علی تبلیغ الرسالۃ او علی المذکور من التبشیر : والانذار علی القران۔ احکام رسالت کی تبلیغ یا بشارت دینے اور ڈرانے کے فرائض کی ادائیگی ۔ یا تبلیغ قرآن۔ یعنی ان میں سے کسی کام کی تم سے اجرت نہیں مانگتا۔ الا۔ حرف اسثنائ۔ اجر مستثنی منہ۔ من شاء مستثنیٰ منقطع (کیونکہ یہ مستثنیٰ کی جنس سے نہیں ہے) ۔ ترجمہ یوں ہوگا :۔ (اے محمد ﷺ ) کہہ دیجئے کہ میں اس (خوشخبری سنانے یا ڈرانے) کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ جو کوئی چاہے اپنے رب کی طرف کا راستہ اختیار کرے۔ یتخذ مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ عمل ان ناصبہ۔ اتخاذ (افتعال) سے مصدر۔ اختیار کرتا ہے ان یتخذ کہ اختیار کرے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–60

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 60 : لوشئنا (اگر ہم چاہتے) ‘ لبعثنا ( البتہ ہم ضرور بھیجتے) ‘ لا تطع (کہنا مانیئے) جھاد کبیر (زوردار مقابلہ) ‘ مرج ( اس نے ملایا) ‘ البحرین (دودریاؤں کو) ‘ عذب (میٹھا) ‘ فرات (خوش گوار۔ پی کر مزہ آئے) ‘ ملح (کھاری) ‘ اجاج (کڑوا) ‘ حجر (آڑ۔ رکاوٹ) ‘ محجور ( جو خود آڑ میں ہو) ‘ نسب (نسب۔ نسبی رشتے) ‘ صھر (شادی کے رشتے ۔ سسرال) ‘ ظھیر ( سرکش۔ مقابل۔ پشت پناہی کرنے والا) ‘ ما اسئل (میں نہیں مانگتا) ‘ ذنوب (ذنب) (گناہ ۔ خطائیں) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) ‘ استوی ( وہ برابر ہوا۔ جلوہ گرہوا) ‘ تأ مرنا ( تو ہمیں حکم دیتا ہے) ‘ نفور (نفرت۔ ناگواری) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 60…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 56–57

(ف 2) اوپر کی آیت میں جن لوگوں کا ذکر تھا جب وہ ہر وقت کی قرآن کی نصیحت کو سن کر اپنے کفر سے باز نہیں آتے تھے تو اس سے نبی کو بڑا رنج ہوتا تھا، اس لیے فرمایا اے محبوب رنج کی کوئی بات نہیں ہے تمہارا کام اتنا ہے کہ ایمان والوں عقبی کی بہبودی کی خوشی اور کافروں کو آخرت کے عذاب کا ڈرسنادو، اور ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دیاجائے کہ میں اس نصیحت کی کچھ مزدوری تم لوگوں سے نہیں مانگتا کہ اس مزدوری کے بارے سے تم کو قرآن کی نصیحت کا سننا شاق گزرے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 56–58

[37] یعنی رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ لوگوں کو نیک کے انجام کی خوشخبری سنائے اور سرکشی و بدعملی کے نتائج سے خبردار کرے۔ اس طرح کے اشارات جہاں کہیں بھی قرآن میں آئے ہیں ان کا اصل روئے سخن کفار کی طرف ہے اور مقصد یہ بتانا ہے کہ پیغمبر پر تبلیغِ حق سے بڑھ کر کوئی ذمہ داری نہیں۔ وہ لوگوں کو پیغامِ حق قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کے معاملے میں بھی پیغمبر کا کام بس اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے۔ قرآن میں کئی جگہ نہایت صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ پیغمبر کا کام مسلمانوں کو صرف اللہ کا پیغام سنانا ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ان کو کتاب الٰہی کی تعلیم دینا،…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 56–58

بشیر اور نذیر 2: حضور سے قبل جس قدر انبیاء تشریف لائے ۔ وہ یا تو بشیر تھے ۔ یا نذیر ۔ یعنی ان کے پیغام میں یا تو انداز کا عنصر قوی تھا ۔ یا بشارت کا ۔ مگر حضور ﷺ کی جامعیت عقلا کی گئی ۔ آپ بیک وقت بشیر بھی تھے اور نذیر بھی ۔ آپ نے اپنے ماننے والوں اور عقیدتمندوں کو جنت اور فلاح کی ۔ اور کینوز واملاک کی خوشخبریاں سنائیں ۔ اور منکروں کو جہنم اور ناکامی کی خبردی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(57) آپ ان سے کہہ دیجئے میں اس تبلیغ میں دین حق پر تم سے کوئی مزدوری طلب نہیں کرتا اور کوئی اجرت نہیں چاہتا مگر ہاں جو چاہے اپنے پروردگار تک پہونچنے کا راستہ اختیار کرلے یعنی میں کوئی مزدوری اپنی تبلیغ پر نہیں مانگتا ہاں میری یہ خواہش ضرور ہے کہ تم میں سے جو اپنے پروردگار تک پہونچنے کی راہ اختیار کرنی چاہئے وہ اختیار کرلے اس کو تم میرا معاوضہ کہو یا میری اس خواہش اور خوشی کا کچھ اور نام رکھو گویا آپ کی شفقت کا یہ عالم ہے کہ جس طرح کوئی مزدور مزدوری لیکر راضی ہوتا ہے اسی طرح پروردگار کی راہ اختیار کرنے سے مجھے خوشی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی اجر تو پیغام پر طلب نہیں کرتا : 57۔ قرآن کریم میں جتنے انبیاء ورسل کا ذکر کیا گیا سب سے اس بات کا اعلان کروایا گیا اور ہر ایک نے اس کا اعلان کیا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں تم سے اس پیغام پر جو تم کو سنا رہا ہوں کوئی عوض طلب نہیں کرتا اور یہی بات نبی اعظم وآخر ﷺ سے بار بار کہلائی گئی چناچہ (ان اجری الا علی اللہ) کے الفاظ قرآن کریم میں 9 بار آئے ہیں یعنی یہ دین اسلام کی باتیں جو میں آپ کو بتا رہا ہوں اور شب و روز اس میں مصروف ہوں ‘ تمہارے طعنے سن کر خاموش ہوجاتا ہوں ‘ تمہاری اذیت رسائیوں پر صبر کرتا ہوں تمہاری گالیاں سن کر دعائیں دیتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–58

قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ‌ إِلَّا مَن شَاءَ أَن يَتَّخِذَ إِلَىٰ رَ‌بِّهِ سَبِيلًا ﴿57﴾ Say, "I do not demand from you any fee, except that whoever so wills, should adopt a way to his Lord - 25:57. Allah Ta’ ala advised the Holy Prophet ﷺ to say that he has no personal interest in inviting to accept and follow Allah's message in order to be profitable in this world and the Hereafter. He does not seek any reward from them for his efforts. His reward is only that they turn towards Allah. It is but obvious that if someone moves to the righteous path it is he who will be the…

Read the full tafseer →