Al-Furqaan 25:56

Al-Furqaan · from ayah 56

25:56

وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا ۟وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِيۡرًا‏

اور ہم نے (اے محمدﷺ) تم کو صرف خوشی اور عذاب کی خبر سنانے کو بھیجا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have not sent you, [O Muhammad], except as a bringer of good tidings and a warner.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:56

اے محمدؐ، تم کو تو ہم نے بس ایک مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے (اے محمدﷺ) تم کو صرف خوشی اور عذاب کی خبر سنانے کو بھیجا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے تو آپ کو خوشخبری اور ڈر سنانے واﻻ (نبی) بنا کر بھیجا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں کسی اور کام کے لیے نہیں، بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ تم لوگوں کو خوشخبری دو ، اور خبردار کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر خوشی اور ڈر سناتا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر (اللہ کے اطاعت گزار بندوں کو) خوشخبری سنانے والا اور (بغاوت شعار لوگوں کو) ڈر سنانے والا بنا کر،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (اے نبی) ہم نے تو آپ کو بس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے تو تم کو بس ایک خوشخبری دینے والا اور ایک آگاہ کردینے والا بنا کر بھیجا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور انھیں بھیجا ہم نے آپ کو اے پیغمبر ! مگر خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے تو آپ کو بس اس لئے بھیجا ہے کہ خوش خبری سنائیں اور ڈرائیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہیں بھیجا ہم نے آپ ﷺ کو مگر بشیر اور نذیر بنا کر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور (اے محمد ! ﷺ ہم نے آپ کو صرف خوشی اور عذاب کی خبر سنانے کو بھیجا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O Muhammad, We have sent you only to proclaim good tidings and to give warning.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We did not send you but as a bearer of good news and as a warner.

— Muhammad Taqi Usmani

We did not send you but as a bearer of good news and as a warner.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We have sent you only as a bearer of good news and a warner.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We have sent thee (O Muhammad) only as a bearer of good tidings and a warner.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have not sent you, [O Muhammad], except as a bringer of good tidings and a warner.

— Saheeh International

We have sent you for no other reason but to be a bearer of glad news and warning.

— Muhammad Sarwar

And We have not sent you but as a giver of good news and as a warner.

— Muhammad Habib Shakir

And We sent thee but as a bearer of glad tidings and warner.

— Abdul Majid Daryabadi

But thee We only sent to give glad tidings and admonition.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:56

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 55–60

آبائی گمراہی مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں اور بلادلیل وحجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی نفسانی خواہشات سے انکی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول ﷺ سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہوگئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہوگئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہوگا۔ یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا اور آخرت میں ان کا پروردگار انکی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 71 یعنی تمہارا کام نہ کسی ایمان لانے والے کو جزا دینا ہے، نہ کسی انکار کرنے والے کو سزا دینا۔ تم کسی کو ایمان کی طرف کھینچ لانے اور انکار سے زبردستی روک دینے پر مامور نہیں کیے گئے ہو۔ تمہاری ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ جو راہ راست قبول کرے اسے انجام نیک کی بشارت دے دو ، اور جو اپنی بد راہی پر جما رہے اس کو اللہ کی پکڑ سے ڈرا دو۔ اس طرح کے ارشادات قرآن مجید میں جہاں بھی آئے ہیں ان کا اصل روئے سخن کفار کی طرف ہے، اور مقصد دراصل ان کو یہ بتانا ہے کہ نبی ایک بےغرض مصلح ہے جو خلق خدا کی بھلائی کے لیے خدا کا پیغام پہنچاتا ہے اور انہیں ان کے انجام کا نیک و بد بتادیتا ہے۔ وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–56

وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَاۗءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّصِهْرًا، نسب اس رشتہ اور قرابت کو کہا جاتا ہے جو باپ یا ماں کی طرف سے ہو، اور صہر وہ رشتہ وتعلق ہے جو بیوی کی طرف سے ہو جس کو عرف میں سسرال بولتے ہیں۔ یہ سب تعلقات اور قرابتیں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہیں جو انسان کو خوشگوار زندگی کے لئے لازمی ہیں، اکیلا آدمی کوئی کام بھی نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نبی ﷺ کو تسلی یہ نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہاری ذمہ داری انذار وتبشیر ہے۔ تم اپنی دعوت ان لوگوں کو پہنچا دو اور اس کی تکذیب کے نتائج سے اچھی طرح آگاہ کر دو۔ اس کو قبول کرنا یا نہ کرنا ان کی اپنی ذمہ داری ہے۔ اس کی بابت تم سے کوئی پرستش نہیں ہونی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 54–56

54-1نسب سے مراد رشتے داریاں ہیں جو باپ یا ماں کی طرف سے ہوں اور صہرا سے مراد وہ قرابت مندی ہے جو شادی کے بعد بیوی کی طرف سے ہو، جس کو ہماری زبان میں سسرالی رشتے کہا جاتا ہے۔ ان دونوں رشتہ داریوں کی تفصیل آیت (وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَاۗؤُكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۭاِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقْتًا ۭوَسَاۗءَ سَبِيْلًا 22؀ۧ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ وَبَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ وَعَمّٰتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَاُمَّھٰتُ نِسَاۗىِٕكُمْ وَرَبَاۗىِٕبُكُمُ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 54–59

19:”استواء“ کے لفظی معنی سیدھا ہوجانے اور مضبوطی سے بیٹھ جانے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عرش پر استواء فرمانے کا کیا مطلب اور اس کی کیا کیفیت ہے ؟ یہ بات ہماری محدود عقل سے ماورا ہے، اور ان متشابہات میں سے جن کا ذکر سورة آل عمران کے بالکل شروع میں آیا ہے۔ اس لیے اس پر جوں کا توں ایمان رکھنا چاہیے۔ اور اس کی کیفیت کی تحقیق و جستجو میں نہیں پڑنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 56–59

وما ارسلنک ……بہ خبیراً (59) یوں رسول اللہ ﷺ کیفریضہ کی حدود کا تعین کردیا جاتا ہے۔ یہ کہ آپ خوشخبری سنانے والے اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں فقط اور مکہ میں آپ کو یہ حکم نہ دیا گیا تھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ جنگ کریں ، کیونکہ مکہ میں تبلیغ دین کی پوری آزادی تھی لیکن بعد میں جب مسلمان مدینہ کو منتقل ہوئے تو اللہ نے قتال کا حکم دے دیا۔ مکہ میں اللہ نے حکم نہ دیا اور مدینہ میں قتال کا حکم دیا۔ اس کی حقیقی حکمت اللہ ہی جانتا ہے۔ جو کچھ ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں ان لوگوں کو تربیت دی جا رہی تھی ، جن پر اس نظریہ حیات کا دار و مدار تھا ، جن کے دلوں میں یہ عقیدہ اچھی طرح بیٹھ گیا تھا اور جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 56–57

6 یعنی آپ کا کام خدا تعالیٰ کی وفاداری پر بشارات سنانا اور غداروں کو خراب نتائج و عواقب سے آگاہ کردینا ہے۔ آگے کوئی مانے یا نہ مانے، آپ کو کچھ نقصان نہیں۔ آپ ان سے کچھ فیس یا مزدوری تھوڑی طلب کر رہے تھے کہ ان کے نہ ماننے سے اس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔ آپ تو ان سے صرف اتنا ہی چاہتے ہیں کہ جو کوئی چاہے خدا کی توفیق پا کر اپنے رب کا راستہ پکڑ لے۔ اسی کو چاہو فیس کہہ لو یا مزدوری۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 56 وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا ” تا کہ جو لوگ حق کا راستہ اختیار کرلیں انہیں اللہ کی رحمتوں اور جنت کی نعمتوں کی بشارت دیں : فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌلا وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ الواقعہ۔ اور جو لوگ انکار پر مصر رہیں انہیں جہنم کے عذاب سے خبردار کریں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

69 یعنی آپ کا یہ کام نہیں کہ آپ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے مجبور کریں۔ نہ ہی یہ کام ہے کہ ایمان نہ لانے والوں کو کچھ سزا دیں اور ایمان لانے والوں کو مالی امداد بہم پہنچائیں۔ بلکہ آپ کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ سب لوگوں کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کردیں۔ منکرین حق کو ان کے برے انجام سے ڈرائیں اور ایمان لانے والوں کو ان کے اعمال صالحہ کے اجر کی خوشخبری دیں۔ بس آپ کا کام اتنا ہی ہے۔ واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف ایسا خطاب دراصل کافروں کو دعوت دینے کی حد تک ہے۔ ورنہ جو لوگ ایمان لے آئیں تو ان کے لئے نبی کا کام اتنا ہی نہیں کہ آپ انھیں بھی بس ان کے اعمال صالحہ کی خوشخبری دے دیں۔ بلکہ ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–60

آیت نمبر 45 تا 60 ترجمہ : کیا تو اپنے رب کی صنعت کو نہیں دیکھتا وقت اسفار سے طلوع شمس کے وقت تک اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک ھالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا، یعنی ساکن رکھتا جو طلوع شمس سے زائل نہ ہوتا پھر ہم نے سورج کو اس سایہ کو اپنی طرف بتدریج سمیٹ لیا یعنی طلوع شمس کی وجہ سے شیئاً فشیئاً اور وہ ایسا ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات کا لباس یعنی لباس کے مانند ساتر بنایا اور نیند کو قطع کرنے والی یعنی جسموں کے لئے اعمال کو موقوف کرکے راحت کی چیز بنایا اور دن کو منتشر ہونے کا وقت بنایا اس میں رزق وغیرہ حاصل کرنے کے لئے اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں اور ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ارسلنک الا مبشرا ونذیرا۔ اور ہم نے آپ کو (قادر مطلق یا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا بلکہ) صرف خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ یعنی مؤمنوں کو جنت کی خوشخبری سنانے والا اور کافروں کو دوزخ سے ڈرانے والا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(56) اور اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو مکہ والوں کی طرف جنت کی خوشخبری سنانے والا اور دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا : اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے اور کفار کے لیے تنبیہ، یعنی اگر کافر ایمان نہیں لاتے اور اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی دشمنی اور مخالفت سے باز نہیں آتے تو اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں، آپ کا کام حق قبول کرنے والوں کو بشارت دینا اور اسے ٹھکرانے والے کو ڈرانا ہے اور بس۔ کفار کو سمجھایا جا رہا ہے کہ جس رسول کی دشمنی پر تم کمر باندھے ہوئے ہو وہ تو سر سے پاؤں تک تمہارا خیر خواہ ہے، وہ تمہیں ایمان قبول کرنے پر جنت کی خوش خبری دینے والا اور ایمان سے انکار کرنے پر اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہے، ایسے خیر خواہ سے دشمنی رکھنا تمہیں زیب دیتا بھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 56–57

( وما ارسلنک الا۔۔۔۔۔ ) یعنی جنت کا بشارت دینے والا اور آگ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ہم نے آپ کو وکیل اور زبردستی کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ میں تمہارے پاس قرآن اور وحی جو لے کر آیا ہوں اس پر تم سے اجر کا مطالبہ نہیں کرتا۔ یہاں من اجر میں من تاکید کے لیے ہے۔ الا من میں الا، لکن کے معنی میں ہے یہ مستثنیٰ منقطع ہے یعنی جو چاہے، یعنی جو چاہتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرے تو وہ مال خرچ کرے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مستثنیٰ متصل ہو اور مضاف مقدر ہو تقدیر کلام یہ ہوگی الا اجر من شاء، یعنی میرے دین کی اتباع کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ کو اپنائے یہاں تک کہ دنیا اور آخرت کی کرامت کو پائے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 56–57

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وما ارسلنک الا مبشرا ونذیرا “ سے مراد ہے کہ خوشخبری دینے والا جنت کی اور ڈرانے والا آگ سے۔ آیت ” الا من شاء ان یتخذ الی ربہ سبیلا “ یعنی اس کی اطاعت کے ساتھ جو چاہ اپنے رب کا راستہ اپنالے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قل ما اسئلکم علیہ من اجر “ سے مراد ہے اے محمد ﷺ ان کو فرمادیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا اس دعوت پر کہ جس کی طرف میں تم کو بلاتا ہوں یعنی دنیا کے مالوں میں سے کسی مال کا مطالبہ نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ [ اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ کو ] اِلَّا [ مگر ] مُبَشِّرًا [ خوشخبری دینے والا ] وَّنَذِيْرًا [ اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 55–57

اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں آسمانوں کی اور زمین کی تخلیق فرمائی اور رات اور دن کو ایک دوسرے کے بعد آنے جانے والا بنایا ان آیات میں اول تو مشرکین کی بیوقوفی اور بغاوت ظاہر فرمائی ہے اور وہ یہ کہ یہ لوگ اپنے خالق کو چھوڑ کر جس کی صفات اوپر بیان کی گئی ہیں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو اپنے ان پر ستاروں کو نہ نفع دے سکیں اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکیں۔ پھر ان کی مزید سر کشی بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَکَانَ الْکَافِرُ عَلٰی رَبِّہٖ ظَہِیْرًا) (اور کافر اپنے رب کا مخالف ہے) یعنی ایسے عمل کرتا ہے جیسے کوئی شخص کسی کا مخالف ہو اور اس کی مخالفت میں لگ کر ایسے کام کرتا رہے جو اسے نا گوار ہوں جس کی مخالفت پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 55–60

بیان جہالت مشرکین و منکرین نبوت قال اللہ تعالیٰ ویعبدون من دون اللہ مالا ینفعھم ولا یضرھم .... الیٰ .... ازادھم لغفورا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں دلائل توحید وقدرت بیان کیے اب آئندہ آیات میں مشرکین اور منکرین نبوت کی جہالتوں اور خصال بد کو بیان کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک مادہ سے بشر کو پیدا کیا اور دو قسم کا بنایا۔ ایک مذکر اور دوم مؤنث۔ جن کے اعضاء اور طبائع اور شکل و صورت میں بہت فرق ہے اسی طرح اس نے مومن اور کافر کو پیدا کیا جن کی طبیعتوں میں بےانتہا فرق ہے۔ اور جس طرح خدا نے دو قسم کے دریا بنائے ایک شیریں اور دوم تلخ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کسی کو شیریں اور خوشگوار اخلاق پر پیدا کیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 56–57

37:۔ ” و ما ارسلنک الخ “ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ مشرکین ازراہِ ضد و مکابرہ کہتے کوئی معجزہ دکھا دو تو ہم مان لیں گے تو فرمایا ہم نے محمد ﷺ کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے معجزات لانا ان کے اختیار میں نہیں۔ ہم مصالح کے تحت جب چاہتے اور مناسب سمجھتے ہیں اپنے پیغبر کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر کردیتے ہیں ” قل ما اسئلکم علیہ من اجر الخ “ آپ یہ بھی فرما دیں کہ آخر میری تبلیغ تمہیں شاق کیوں گذرتی ہے میں تم سے تبلیغ پر کوئی مزدوری یا تنخواہ تو نہیں مانگتا۔ میرا تم سے صرف یہی مطالبہ ہے کہ تم صدق نیت اور رضاء قلب سے توحید کی راہ اختیار کرو اور اللہ کے دین کو قبول کرلو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 56–60

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ کی دو باتوں کا ذکر کیا تھا۔ پہلی بات یہ تھی کہ وہ دو مختلف پانیوں کو اکٹھے چلا کر ان کے درمیان رکاوٹ کٹھ ہی کردیتا ہے جس کی وجہ سے وہ پانی آپس میں خلط ملط نہیں ہوتے ۔ اور دوسری بات یہ فرمائی کہ اس نے انسان کا سلسلہ نسب حقیرقطرہ آب سے چلایا ہے ۔ یہ دونوں باتیں کس کی قدرت کا نمونہ اور توحید کے دو پل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے مگر ان تمام تر دلائل و شواہد کے باوجود لوگ ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان کرسکتی ہیں ۔ فرمایا یہ لوگ خدا کی طرف سے پست پھیر کر شیطان کے …بنے ہوئے ہیں۔ آج کے درس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا۝ 56 رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 53–59

ترکیب : بینہما ظرف لجعل علی ربہ متعلق ہے ظہیرًا سے خبر کان، الامن شاء استثنیٰ من غیر الجنس الرحمن مبتداء فسئل بہ خبر۔ تفسیر : : وھوالذی مرج البحرین الخ (4) یہ دلیل ہے کہ اس نے دو قسم کے دریا رواں کئے۔ یا یوں کہو دو دریا کو باہم ملایا۔ ایک ان میں سے نہایت شیریں ‘ خوشگوار اور دوسرا کھاری تلخ اور باہم ملنے نہیں پاتے ان میں قدرتی حد فاصل رکھی ہوئی ہے۔ زمین کے دریا رواں جب سمندر میں گرتے ہیں اور یہ دریا شیریں ہوتے ہیں تو دور تک دونوں کی دو دو دھاریں نظر آتی ہیں باہم اختلاط پر امتیاز معلوم ہوتا ہے ان میں سمندر کی دھار کھاری اور زمین کے دریائِ رواں کی دھار شیریں ہوتی ہے سمندر میں پڑنے سے دونوں سمندر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 56–57

وَمَـآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ مُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا۔ قُلْ مَـآ اَسْئَلُـکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِلاَّ مَنْ شَـآئَ اَنْ یَّـتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلاً ۔ (الفرقان : 56، 57) (اے پیغمبر ! ہم نے آپ کو ایک مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ ان سے کہہ دیجیے کہ میں اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کرلیے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی ذمہ داری صرف انذار وتبشیر ہے، لوگوں کو زبردستی مومن بنانا نہیں۔ جو لوگ ایمان لائیں، آپ انھیں بہتر مستقل کی بشارت دیں۔ اور جو لوگ ایمان لانے سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 55–56

فہم القرآن ربط کلام : انسان کو اس کی تخلیق یاد کروا کے بتلایا گیا ہے کہ تیرا خالق ” اللہ “ ہے لہٰذا تجھے صرف اسی کی عبادت کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیات سے پہلی آیت میں اپنے رب ہونے کے 18 دلائل دیے ہیں۔ ان دلائل میں اس کے خالق، رازق اور مالک ہونے کے اس قدر ٹھوس ثبوت ہیں جن میں سے کوئی ایک صفت اور ثبوت اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی ذات میں نہیں پایا جاتا۔ اس حقیقت کے ناقابل تردید دلائل دینے کے بعد انسان کو اس بات کا احساس دلایا ہے کہ کچھ لوگ ایسے زبردست مالک، خالق اور رازق کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو انھیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہ لوگ حقیقتاً کافر ہیں اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

56: وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرً ا (اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر مبشر بنا کر) ایمان والوں کیلئے وَّ نَذِیْرًا (اور ڈرانے والا) کفار کیلئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 56–57

56۔ 57:۔ اوپر کی آیت میں جن لوگوں کا ذکر تھا ‘ جب وہ ہر وقت کی قرآن کی نصیحت کو سن کر شرک سے باز نہیں آتے تھے تو اس سے اللہ کے رسول ﷺ کو بڑا رنج ہوتا تھا ‘ اس لیے فرمایا اے رسول اللہ کے رنج کی کوئی بات نہیں ہے تمہارا کام اتنا ہی ہے کہ شرک سے باز آنے والوں کو عقبیٰ کی بہبودی کی خوشی اور شرک سے باز نہ آنے والوں کو آخرت کے عذاب کا ڈر سنا دو ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ نیک ٹھہر چکے ہیں ‘ ان کے دل پر ضرور قرآن کی نصیحت کا اثر ہوگا اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد قرار پاچکے ہیں ‘ وہ مرتے دم تک برے کاموں کو اچھا جانتے رہیں گے اور قرآن کی نصیحت کا کچھ اثر ان کے دل پر پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 56–60

آیت 56 سے 60 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد ﷺ کو لوگوں پر داروغہ بنا کر بھیجا ہے نہ انہیں فرشتہ بنایا ہے اور نہ ان کے پاس چیزوں کے خزانے ہیں اس نے تو آپ کو صرف (مبشرا) ” خوشخبری سنانے والا “ بنا کر بھیجا ہے آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی ثواب کو خوشخبری سناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے (ونذیرا) ” اور ڈرانے والا۔ “ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اس کو دنیاوی اور اخروی سزا سے ڈراتے ہیں اور یہ اوامرونواہی میں سے ان امور کو تبیین کو مستلزم ہے جن کی بشارت دی گئی ہے اور جن سے انداز حاصل ہوتا ہے۔ اے محمد ! ﷺ آپ قرآن اور ہدایت پہنچانے پر ان سے کسی اجر کا مطالبہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–62

رات دن ایک دوسرے کے جانشین ہیں قول باری ہے : (وھوالذی جعل اللیل والنھار خلفۃ) وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا۔ تاآخر آیت۔ شمر بن عطیہ نے ابن سلمہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص حضرت عمر ؓ کے پاس آکر کہنے لگا۔ امیر المومنین مجھ سے نماز رہ گئی ہے۔ “ آپ نے سن کر فرمایا ” رات کے وقت جو نماز تم سے رہ گئی ہے اس کے بدلے میں دن کے وقت نماز پڑھ لو۔ “ یعنی اس کی قضا دا کرلو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے جانشین بنایا ہے ہر اس شخص کے لئے جو سبق لینا چاہے یا شکر گزار ہونا چاہے۔ “ یونس نے ابن شہاب سے انہوں نے السائب بن زید اور عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے عبدالرحمن بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

68 پیغمبر کا کام انذار اور تبشیر ہے اور بس : یعنی حق کی تبلیغ کرنے پر ماننے والوں کو دارین کی فوز و فلاح کی خوشخبری دے دینا اور نہ ماننے والوں کو ان کے انجام بد سے خبردار کردینا ہی آپ کا کام ہے اور بس۔ اس کے سوا آپ ﷺ کی کوئی ذمہ داری نہیں کہ دلوں کو پھیرنا اور ان میں کلمہ حق اتار دینا نہ آپ ﷺ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ کام آپ ﷺ کے ذمے ہے۔ پس تبلیغِ حق کرتے جائیے اور اس کے بعد ان کا معاملہ اپنے خالق ومالک پر چھوڑ دیجئے۔ وہ خود ان سے نمٹ لے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد میں ایک طرف تو پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ آپ کا کام تو صرف تبلیغِ حق اور انذار وتبشیر ہے اور وہ آپ نے پورا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 53–60

اللہ کی طاقت کے ثبوت میٹھا اور کھارا پانی، انسان کی پیدائش، رسول کریم کی بعثت اور اللہ کا عرش پر مستوی ہونا تشریح : رب العزت کو دیکھنا کسی بھی انسانی آنکھ کے لیے ممکن نہیں کیونکہ اس کا جلال اس قدر زیادہ ہے کہ بندہ اس کو قیامت کے دن ہی دیکھ سکے گا اس مادی جسم کے ساتھ اس کو آنکھ سے نہیں البتہ دل کی آنکھ اور فہم و فراست سے اس کی بنائی ہوئی تخلیقات سے اس کی عظمت اور بڑائی کا اندازہ ضرور ر کرسکتا ہے۔ اب یہاں اس کی بیشمار تخلیقات میں سے ایک تو میٹھے اور کھارے پانی کو ایک ہی سمندر میں بہتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک ہی سمندر میں بہہ رہے ہیں مگر پانی آپس میں ملتا نہیں۔ کس قدر حیرت ناک اور عجیب و غریب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف اے مخاطب تو دیکھتا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہر شے میں اور ہر کام میں ایک رشتہ قائم کردیا ہے یہی رشتہ سبب اور اس کے نتیجے میں ہے سورج کی روشنی اور سائے میں ہے کس طرح قدرت باری نے چیزوں کو سایہ بخشا کہ دور تک پھیلا ہوتا ہے ، اگر اللہ جل جلالہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایسے ہی رکھنے پر قادر تھا مگر اس نے سائے کے بڑھنے گھٹنے کو سورج اور دھوپ سے متعلق کردیا ، سورج اوپر اٹھتا ہے تو سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں اور دھوپ اور گرمی کی تپش پھیلتی ہے اور پھر سورج ڈھلتا ہے تو دوبارہ سائے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ رشتے یہ اسباب ونتائج اللہ نے دنیا کی آبادی اور بنی آدم کے آرام کا سبب بنائے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 56–58

4 ۔ چناچہ آنحضرت ﷺ یہ ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے : سبحانک اللھم ربنا وبحمدک۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 55–56

(25:55) الکافر۔ مفرد ہے لیکن بطور اسم جنس یہاں استعمال ہوا ہے۔ ظھیرا۔ پشتیبان۔ مددگار۔ مظاھرۃ (مفاعلۃ) سے بروزن فعیل بمعنی فاعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ظھر۔ پیٹھ، پشت۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–60

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 60 : لوشئنا (اگر ہم چاہتے) ‘ لبعثنا ( البتہ ہم ضرور بھیجتے) ‘ لا تطع (کہنا مانیئے) جھاد کبیر (زوردار مقابلہ) ‘ مرج ( اس نے ملایا) ‘ البحرین (دودریاؤں کو) ‘ عذب (میٹھا) ‘ فرات (خوش گوار۔ پی کر مزہ آئے) ‘ ملح (کھاری) ‘ اجاج (کڑوا) ‘ حجر (آڑ۔ رکاوٹ) ‘ محجور ( جو خود آڑ میں ہو) ‘ نسب (نسب۔ نسبی رشتے) ‘ صھر (شادی کے رشتے ۔ سسرال) ‘ ظھیر ( سرکش۔ مقابل۔ پشت پناہی کرنے والا) ‘ ما اسئل (میں نہیں مانگتا) ‘ ذنوب (ذنب) (گناہ ۔ خطائیں) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) ‘ استوی ( وہ برابر ہوا۔ جلوہ گرہوا) ‘ تأ مرنا ( تو ہمیں حکم دیتا ہے) ‘ نفور (نفرت۔ ناگواری) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 60…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 56–57

(ف 2) اوپر کی آیت میں جن لوگوں کا ذکر تھا جب وہ ہر وقت کی قرآن کی نصیحت کو سن کر اپنے کفر سے باز نہیں آتے تھے تو اس سے نبی کو بڑا رنج ہوتا تھا، اس لیے فرمایا اے محبوب رنج کی کوئی بات نہیں ہے تمہارا کام اتنا ہے کہ ایمان والوں عقبی کی بہبودی کی خوشی اور کافروں کو آخرت کے عذاب کا ڈرسنادو، اور ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دیاجائے کہ میں اس نصیحت کی کچھ مزدوری تم لوگوں سے نہیں مانگتا کہ اس مزدوری کے بارے سے تم کو قرآن کی نصیحت کا سننا شاق گزرے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 56–58

[37] یعنی رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ لوگوں کو نیک کے انجام کی خوشخبری سنائے اور سرکشی و بدعملی کے نتائج سے خبردار کرے۔ اس طرح کے اشارات جہاں کہیں بھی قرآن میں آئے ہیں ان کا اصل روئے سخن کفار کی طرف ہے اور مقصد یہ بتانا ہے کہ پیغمبر پر تبلیغِ حق سے بڑھ کر کوئی ذمہ داری نہیں۔ وہ لوگوں کو پیغامِ حق قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کے معاملے میں بھی پیغمبر کا کام بس اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے۔ قرآن میں کئی جگہ نہایت صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ پیغمبر کا کام مسلمانوں کو صرف اللہ کا پیغام سنانا ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ان کو کتاب الٰہی کی تعلیم دینا،…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 56–58

بشیر اور نذیر 2: حضور سے قبل جس قدر انبیاء تشریف لائے ۔ وہ یا تو بشیر تھے ۔ یا نذیر ۔ یعنی ان کے پیغام میں یا تو انداز کا عنصر قوی تھا ۔ یا بشارت کا ۔ مگر حضور ﷺ کی جامعیت عقلا کی گئی ۔ آپ بیک وقت بشیر بھی تھے اور نذیر بھی ۔ آپ نے اپنے ماننے والوں اور عقیدتمندوں کو جنت اور فلاح کی ۔ اور کینوز واملاک کی خوشخبریاں سنائیں ۔ اور منکروں کو جہنم اور ناکامی کی خبردی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(56) اور ہم نے آپ کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے یعنی آپ ان منکرین دین حق کی شرارتوں سے متاثر اور غمگین نہ ہوں آپ کا کام صرف اتنا ہے کہ نیکوں کو بشارت دیدیں اور بدکار لوگوں کو خدا تعالیٰ کے عذاب سے ڈرا دیں باقی ان کی مخالفت وغیرہ کی کوئی فکر آپ کو نہ ہونی چاہئے بلکہ ہر کام میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجئے اور اپنا کام کرتے رہیے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 54–56

ف 4۔ ان کے ایمان نہ لانے سے آپ کا کیا نقصان ہے، پھر آپ کیوں غم کریں، اور نہ آپ اس مخالفت کو معلوم کر کے فکر میں پڑیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ کو ہم نے خوشخبری دینے والا ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے : 56۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کو ہم نے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور بلاشبہ یہی آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے آپ ﷺ نے اپنا کام کردیا تو اب ان کو ہدایت دینا یا ہدایت پر چلانا اور قائم رکھنا آپ ﷺ کی ذمہ داری نہیں اس لئے آپ ﷺ زیادہ متفکر نہ ہوں کہ کون کیا کرتا ہے اور کیا نہیں ؟ اس لئے کہ آپ ﷺ کی ذمہ داری اس کے متعلق مطلق نہیں ہے۔ جو شخص آپ ﷺ کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے اس کے مطابق عمل کرے گا اس کا اپنا فائدہ ہے اور جو اس سے روگردانی کرے گا اس کا اپنا نقصان پھر جو شخص اپنا نقصان خود کرتا ہے اسکے لئے آپ ﷺ اس قدر متفکر کیوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 54–56

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرً‌ا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرً‌ا (And He is the One who created man from water then made of him kinship of blood and kinship of in-laws. 25:54) نَسَب (nasab, translated above as 'kinship of blood' ) is that relationship which emanates from either parent, and صِهْر (sihr, translated above as 'kinship of in-laws' ) is that kinship which is drawn from the wife's side and is called in - laws. All these relations and bonds are Allah's graces given to mankind for a pleasant and tranquil life. If these relations are taken away from someone's life it will be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

71 This verse (56) was meant to comfort the Holy Prophet and to warn the disbelievers who opposed him and obstructed his work, as if to say, "Your duty is only to convey the Message of good news to the people and to warn them of the consequences of disbelief: you are not responsible as to whether they accept .your Message or reject it, or to reward the Believers and punish the disbelievers." Such words occur in the Qur'an at other places also and are obviously directed to the disbelievers, as if to say, "The Message of the Prophet is meant to reform the people without any tinge of…

Read the full tafseer →