Explained with ayahs 55–60
آبائی گمراہی
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں اور بلادلیل وحجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی نفسانی خواہشات سے انکی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول ﷺ سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہوگئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہوگئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہوگا۔ یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا اور آخرت میں ان کا پروردگار انکی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 70
یعنی اللہ کا کلمہ بلند کرنے اور اس کے احکام و قوانین کو نافذ کرنے کے لیے جو کوشش بھی کہیں ہو رہی ہو، کافر کی ہمدردیاں اس کوشش کے ساتھ نہیں بلکہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گی جو اسے نیچا دکھانے کے در پے ہوں۔ اسی طرح اللہ کی فرماں برداری و اطاعت سے نہیں بلکہ اس کی نافرمانی ہی سے کافر کی ساری دلچسپیاں وابستہ ہوں گی۔ نافرمانی کا کام جو جہاں بھی کر رہا ہو کافر اگر عملاً اس کا شریک نہ ہو سکے گا تو کم از کم زندہ باد کا نعرہ ہی مار دے گا تاکہ خدا کے باغیوں کی ہمت افزائی ہو۔ بخلاف اس کے اگر کوئی فرماں برداری کا کام کر رہا ہو تو کافر اس کی مزاحمت میں ذرا دریغ نہ کرے گا۔ خود مزاحمت نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَاۗءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّصِهْرًا، نسب اس رشتہ اور قرابت کو کہا جاتا ہے جو باپ یا ماں کی طرف سے ہو، اور صہر وہ رشتہ وتعلق ہے جو بیوی کی طرف سے ہو جس کو عرف میں سسرال بولتے ہیں۔ یہ سب تعلقات اور قرابتیں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہیں جو انسان کو خوشگوار زندگی کے لئے لازمی ہیں، اکیلا آدمی کوئی کام بھی نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →شیطان سے دوستی اور خدا سے پیکار
آفاق وانفس کے دلائل و شواہد تو اس بات کو ثابت کر رہے ہیں کہ کائنات کا خالق ومالک اللہ وحدہ لاشریک ہے جو پوری قدرت و حکمت کے ساتھ اس کے نظام کو چلا رہا ہے لیکن یہ احمق لوگ ایسی چیزوں کی پرستش کر رہے ہیں جو نہ انہیں کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں، نہ کوئی نقصان
وکان الکافر علی ربہ ظھیراً ، کافر یہاں اس جنس کے مفہوم میں ہے اور اس سے مراد وہ مشرکین ہی ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے اس لئے کہ شرک اپنی حقیقت کے اعتبار سے کفر ہی ہے ظہیر کے معنی مددگار کے ہیں اور جب اس کے ساتھ علی آئیتو اس کے اندر حریف اور مدمقابل کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اصل حقیقت تو وہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
54-1نسب سے مراد رشتے داریاں ہیں جو باپ یا ماں کی طرف سے ہوں اور صہرا سے مراد وہ قرابت مندی ہے جو شادی کے بعد بیوی کی طرف سے ہو، جس کو ہماری زبان میں سسرالی رشتے کہا جاتا ہے۔ ان دونوں رشتہ داریوں کی تفصیل آیت (وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَاۗؤُكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۭاِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقْتًا ۭوَسَاۗءَ سَبِيْلًا 22ۧ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ وَبَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ وَعَمّٰتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَاُمَّھٰتُ نِسَاۗىِٕكُمْ وَرَبَاۗىِٕبُكُمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
19:”استواء“ کے لفظی معنی سیدھا ہوجانے اور مضبوطی سے بیٹھ جانے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عرش پر استواء فرمانے کا کیا مطلب اور اس کی کیا کیفیت ہے ؟ یہ بات ہماری محدود عقل سے ماورا ہے، اور ان متشابہات میں سے جن کا ذکر سورة آل عمران کے بالکل شروع میں آیا ہے۔ اس لیے اس پر جوں کا توں ایمان رکھنا چاہیے۔ اور اس کی کیفیت کی تحقیق و جستجو میں نہیں پڑنا چاہیے۔
Read the full tafseer →اس فضائے تخلیق اور تخلیق کے اندر پھر تقدیر اور اس منظر کے سامنے کہ آسمانوں سے پانی برسنا ہے اور اس سے اور پھر انسانی نطفے کے پانی سے کیا کچھ پیدا ہوتا ہے اور کیا کیا خصوصیات کن کن جینز میں رکھی گئی ہیں کہ ایک خلیے سے ایک مرد تشکیل پاتا ہے اپنے تمام موروثی خصائص کے ساتھ ، اور پھر ایسے ہی ایک خلیے سے ایک عورت پیدا ہوتی ہے اپنے تمام خصائص کے ساتھ۔ ایسے قادر مطلق کی قدرت کی بوقلمونیوں کو دیکھتے ہوئے بھی جو لوگ غیر اللہ کی بندگی کرتے ہیں وہ نہایت ہی عجیب و غریب ہیں۔ فطرت سلیمہ اس بات سے اباء کرتی ہے کہ ایسا فعل کوئی معقول انسان کرسکتا ہے ۔ چناچہ اس مسئلے کو یہاں لیا جاتا ہے۔
ویعبدون ……ظھیراً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
5 دیکھ لو ! کس طرح اپنی قدرت کاملہ سے ایک قطرہ آب کو عاقل و کامل آدمی بنادیا۔ پھر آگے اس سے نسلیں چلائیں اور دامادی اور سسرال کے تعلقات قائم کیے۔ ایک ناچیز قطرہ کو کیا سے کیا کردیا اور کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ لیکن یہ حضرت تھوڑی ہی دیر میں اپنی اصل کو بھول گئے اور رب قدیر کو چھوڑ کر عاجز مخلوق کو خدا کہنے لگے۔ اپنے پروردگار کا حق تو کیا پہچانتے اس سے منہ موڑ کر اور پیٹھ پھیر کر شیطان کی فوج میں جا شامل ہوئے۔ تاکہ اغواء واضلال کے مشن میں اس کی مدد کریں اور مخلوق کو گمراہ کرنے میں اس کا ہاتھ بٹائیں۔ نَعُوذ باللّٰہ مِنْ شُرُور اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا۔
Read the full tafseer →وَکَانَ الْکَافِرُ عَلٰی رَبِّہٖ ظَہِیْرًا ”
یہ لوگ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہی نہیں۔ ظھیر کا معنی مددگار بھی ہے اور علٰی مخالفت کے لیے آتا ہے۔ اس طرح ان الفاظ کا مفہوم ہوگا کہ کافر لوگ اپنے رب کے خلاف دوسروں کے مددگار بنتے ہیں۔
Read the full tafseer →68 یعنی کاز کا کام یہ ہوتا ہے کہ یہاں کہیں بھی اعلائے کلمہ اللہ کا کام شروع ہو تو وہ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہوجاتا ہے۔ اس کی اخلاقی زبانی، مالی اور جانی ہمدردیاں ہمیشہ ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہیں جو اقامت دین الٰہی کے راستہ میں مزاحم ہو رہے ہوں۔ انھیں کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ ان کی زندگی اور اس کی بقاء کے اسباب تو اللہ تعالیٰ حیرت انگیز طریقوں سے مہیا کر رہا ہے۔ لہذا انھیں اسی اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بن کر رہنا چاہئے۔ الٹا وہ ہر اس عمل اور اس سازش میں شریک ہوجاتا ہے جو اللہ کی نافرمانی پر مشتمل ہو اور ایسی چیزوں کی عبادت گزاری اور فرمانبرداری کرنے لگتا ہے جن کے اختیار میں ان کا اپنا بھی نفع…
Read the full tafseer →63۔ (سومخالف کی فکروغم ہی میں آپ کیوں پڑیے اور اس کے ایمان وہدایت کی کیوں اتنی پروا کیجئے) (آیت) ” الکافر “۔ صورۃ مفرد ہے۔ بہ طور اسم جنس آیا ہے۔ والمراد بالکافر الجنس (بیضاوی) یرید بالکافر الجنس (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
آیت نمبر 45 تا 60
ترجمہ : کیا تو اپنے رب کی صنعت کو نہیں دیکھتا وقت اسفار سے طلوع شمس کے وقت تک اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک ھالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا، یعنی ساکن رکھتا جو طلوع شمس سے زائل نہ ہوتا پھر ہم نے سورج کو اس سایہ کو اپنی طرف بتدریج سمیٹ لیا یعنی طلوع شمس کی وجہ سے شیئاً فشیئاً اور وہ ایسا ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات کا لباس یعنی لباس کے مانند ساتر بنایا اور نیند کو قطع کرنے والی یعنی جسموں کے لئے اعمال کو موقوف کرکے راحت کی چیز بنایا اور دن کو منتشر ہونے کا وقت بنایا اس میں رزق وغیرہ حاصل کرنے کے لئے اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں اور ایک…
Read the full tafseer →ویعبدون من دون اللہ مالا ینفعہم ولا یضرہم اور اللہ کے سوا وہ ایسی چیزوں کو پوجتے ہیں جو نہ ان کو فائدہ پہنچاتی ہیں نہ ضرر۔ یعنی اگر ان چیزوں کو پوجا جائے تو وہ پوجنے والوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتیں اور ان کی پوجا نہ کی جائے تو نہ پوجنے والوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔
وکان الکافر علی ربہ ظہیرا۔ اور کافر اپنے رب کے خلاف (گناہ کر کے شیطان کا) مددگار ہوجاتا ہے۔ بعض علماء نے ظہیر کا ترجمہ کیا ہے ذلیل ‘ کمین ‘ جعلنی ظہیر اس نے مجھے ذلیل کردیا۔ ظحرت الشً میں نے اس چیز کو پس پشت پھینک دیا۔ یعنی ناقابل توجہ کردیا۔
Read the full tafseer →(55) اور یہ کفار مکہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں کہ دنیا وآخرت میں ان کی یہ عبادت اور اطاعت ان لوگوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتی اور نہ ان جھوٹے معبودوں کی نافرمانی اور ترک عبادت ان لوگوں کے لیے کوئی نقصان دہ ہے اور ابو جہل تو اپنے رب کا مخالفہی ہے یا یہ کہ کافروں کی مدد کرکے اپنے پروردگار کی کفر کے ساتھ مخالفت کرتا ہے۔
Read the full tafseer →وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُهُمْ وَلَا يَضُرُّهُمْ۔۔ : انسان کو کسی کی عبادت اور خود سپردگی پر آمادہ کرنے والی چیز اس سے فائدے کی امید ہوتی ہے یا نقصان کا خوف۔ اللہ تعالیٰ نے انسان پر اپنے انعامات اور عاد وثمود اور دوسری قوموں کو دی جانے والی سزائیں شمار کرنے کے بعد کفار کی بےعقلی بیان فرمائی کہ وہ اس محسن کو چھوڑ کر جس نے انھیں پانی کی ایک بوند سے پیدا فرما کر ضرورت کی ہر چیز اور ہر نعمت عطا فرمائی ہے، ان بےحقیقت چیزوں کی پوجا کر رہے ہیں جو نہ انھیں کوئی فائدہ پہنچاتی ہیں اور نہ نقصان۔ ”يَعْبُدُوْنَ“ مضارع کا صیغہ (جو استمرار کے لیے ہے) ان کے حال پر تعجب کے لیے ذکر…
Read the full tafseer →( ویعبدون۔۔۔۔۔ )
ویعبدون من دون اللہ مالا یفعھم ولا یضرھم جب اللہ تعالیٰ نے نعمتوں کو بیان کیا اور اپنی کمال قدرت کو بیان کیا تو مشرکین پر تعجب کا اظہار کیا کہ وہ اس ذات کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو نفع اور نقصان پر قادر نہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے ہی مذکورہ چیزوں کو پیدا کیا پھر یہ جہلاء اپنی جہالت کی وجہ سے ایسے جمادات کی عبادت کرتے ہیں جو نفع اور نقصان نہیں دیتے۔
وکان الکافر علی ربہ ظھیرا حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : یہاں کافر سے مراد ابو جہل ہے ( اللہ تعالیٰ کی اس پر لعنت ہو) اس کی وضاحت یہ ہے کہ وہ بتوں کی عبادت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے خلاف مدد طلب کرتا ہے۔ عکرمہ نے…
Read the full tafseer →1۔ ابن جریر وابن امردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وکان الکافر علی ربہ ظہیرا “ میں کافر سے مراد ہے کہ ابو الحکم جس کو رسول اللہ ﷺ نے ابوجہل بن ہشام کا نام دیا۔
2۔ ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ وکان الکافر علی ربہ ظہیرا “ سے مراد ہے ابوجہل۔
3۔ ابن المنذر نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وکان الکافر علی ربہ ظہیرا “ سے مراد ہے ابو جہل۔
4۔ ابن ابی شیبہ سعید بن منصور والفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وکان الکافر علی ربہ ظہیرا “ میں کافر سے مراد شیطان کی مدد کرنے والا اللہ کی نافرنامی پر۔ عبد بن حمید نے حسن…
Read the full tafseer →وَيَعْبُدُوْنَ [ اور وہ لوگ بندگی کرتے ہیں ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] مَا [ اس کی جو ] لَا يَنْفَعُهُمْ [ نفع نہیں دیتی ان کو ] وَلَا يَضُرُّهُمْ ۭ [ اور نہ نقصان پہنچاتی ہے ان کو ] وَكَانَ [ اور ہیں ] الْكَافِرُ [ سب کافر ] عَلٰي رَبِّهٖ [ اپنے رب (کی مخالفت) پر ] ظَهِيْرًا [ مدد کرنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں آسمانوں کی اور زمین کی تخلیق فرمائی اور رات اور دن کو ایک دوسرے کے بعد آنے جانے والا بنایا
ان آیات میں اول تو مشرکین کی بیوقوفی اور بغاوت ظاہر فرمائی ہے اور وہ یہ کہ یہ لوگ اپنے خالق کو چھوڑ کر جس کی صفات اوپر بیان کی گئی ہیں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو اپنے ان پر ستاروں کو نہ نفع دے سکیں اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکیں۔ پھر ان کی مزید سر کشی بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَکَانَ الْکَافِرُ عَلٰی رَبِّہٖ ظَہِیْرًا) (اور کافر اپنے رب کا مخالف ہے) یعنی ایسے عمل کرتا ہے جیسے کوئی شخص کسی کا مخالف ہو اور اس کی مخالفت میں لگ کر ایسے کام کرتا رہے جو اسے نا گوار ہوں جس کی مخالفت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–60
بیان جہالت مشرکین و منکرین نبوت
قال اللہ تعالیٰ ویعبدون من دون اللہ مالا ینفعھم ولا یضرھم .... الیٰ .... ازادھم لغفورا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں دلائل توحید وقدرت بیان کیے اب آئندہ آیات میں مشرکین اور منکرین نبوت کی جہالتوں اور خصال بد کو بیان کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک مادہ سے بشر کو پیدا کیا اور دو قسم کا بنایا۔ ایک مذکر اور دوم مؤنث۔ جن کے اعضاء اور طبائع اور شکل و صورت میں بہت فرق ہے اسی طرح اس نے مومن اور کافر کو پیدا کیا جن کی طبیعتوں میں بےانتہا فرق ہے۔
اور جس طرح خدا نے دو قسم کے دریا بنائے ایک شیریں اور دوم تلخ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کسی کو شیریں اور خوشگوار اخلاق پر پیدا کیا…
Read the full tafseer →36:۔” و یعبدون الخ “ یہ شکوی ہے بطور زجر۔ یعنی اس قدر واضح دلائل کے باوجود مشرکین اللہ کے سوا ایسی عاجز مخلوق کو برکات دہندہ اور کارساز سمجھتے ہیں جنہیں اپنی ذات کو بھی نفع پہنچانے اور ضرر سے بچانے کا اختیار نہیں بھلا جو اس قدر عاجز ہوں کہ اپنے نفع و ضرر کے مالک نہ ہوں وہ دوسروں کو کیا برکات دے سکتے ہیں ” وکان الکافر علی ربہ ظھیرا “ علی ربہ میں تضمین ہے۔ ای عالیا علی مخالفۃ ربہ یا علی بمعنی الی ہے اور ظھیرا کے معنی ہیں پیٹھ پھیرنے والا یا ظہیرا کے معنی معاون اور مددگار کے ہیں یعنی کافر اسلام کی عداوت اور شرک سے شیطان کی معاونت کرتا ہے یقول عونا لی شیطان علی و بہ بالعداوۃ والشرک (ابن کثیر ج 3…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے نمونے اور توحید کے دلائل بیان فرمائے پہلے سائے کا ذکر ہوا ، پھر شب و روز کے تغیر و تبدل اور ہوائوں کے چلنے کا ذکر ہوا ۔ اللہ نے خاص طور پر پانی کے نزول اور اس کی افادیت کا ذکر کیا ، پھر کافروں کی مذمت بیان ہوئی اور اللہ نے اپنے پیغمبر کو نافرمانوں کے ساتھ بڑا جہاد کرنے کا حکم دیا ۔ معترضین کے رسالت کے متعلق اعتراضات کا ثباتی جواب بھی دیا ۔ اب آج کی آیات بھی خدا تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل ہیں۔
دو متضاد پانیوں کا ملاپ
اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی پہلی دلیل یہ بیان فرمائی ہے…
Read the full tafseer →وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَا يَنْفَعُہُمْ وَلَا يَضُرُّہُمْ 0ۭ وَكَانَ الْكَافِرُ عَلٰي رَبِّہٖ ظَہِيْرًا 55
عبد
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] .
( ع ب د ) العبودیۃ
کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
ترکیب : بینہما ظرف لجعل علی ربہ متعلق ہے ظہیرًا سے خبر کان، الامن شاء استثنیٰ من غیر الجنس الرحمن مبتداء فسئل بہ خبر۔
تفسیر : : وھوالذی مرج البحرین الخ (4) یہ دلیل ہے کہ اس نے دو قسم کے دریا رواں کئے۔ یا یوں کہو دو دریا کو باہم ملایا۔ ایک ان میں سے نہایت شیریں ‘ خوشگوار اور دوسرا کھاری تلخ اور باہم ملنے نہیں پاتے ان میں قدرتی حد فاصل رکھی ہوئی ہے۔ زمین کے دریا رواں جب سمندر میں گرتے ہیں اور یہ دریا شیریں ہوتے ہیں تو دور تک دونوں کی دو دو دھاریں نظر آتی ہیں باہم اختلاط پر امتیاز معلوم ہوتا ہے ان میں سمندر کی دھار کھاری اور زمین کے دریائِ رواں کی دھار شیریں ہوتی ہے سمندر میں پڑنے سے دونوں سمندر…
Read the full tafseer →وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالاَ یَنْفَعُھُمْ وَلاَّیَضُرُّھُمْ ط وَکَانَ الْکَافِرُعَلٰی رَبِّہٖ ظَہِیْرًا۔ (الفرقان : 55)
(اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیزوں کی بندگی کرتے ہیں جو انھیں کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان، اور کافر اپنے رب کے مقابلے میں (ہمیشہ شیطان کا) مددگار ہوتا ہے۔ )
کافر کی عصبیت
گزشتہ آیات میں جو آفاقی اور انفسی دلائل بیان کیے گئے ہیں اس کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے کہ ان دلائل کے سننے والے اللہ تعالیٰ کو کائنات کا خالق ومالک اور اللہ وحدہ لاشریک سمجھیں۔ اور اس کی الوہیت کے سامنے سر جھکا دیں۔ لیکن یہ احمق لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان قوتوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
فہم القرآن
ربط کلام : انسان کو اس کی تخلیق یاد کروا کے بتلایا گیا ہے کہ تیرا خالق ” اللہ “ ہے لہٰذا تجھے صرف اسی کی عبادت کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیات سے پہلی آیت میں اپنے رب ہونے کے 18 دلائل دیے ہیں۔ ان دلائل میں اس کے خالق، رازق اور مالک ہونے کے اس قدر ٹھوس ثبوت ہیں جن میں سے کوئی ایک صفت اور ثبوت اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی ذات میں نہیں پایا جاتا۔ اس حقیقت کے ناقابل تردید دلائل دینے کے بعد انسان کو اس بات کا احساس دلایا ہے کہ کچھ لوگ ایسے زبردست مالک، خالق اور رازق کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو انھیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہ لوگ حقیقتاً کافر ہیں اور…
Read the full tafseer →55: وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہ مَالَا یَنْفَعُہُمْ (وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیزوں کو پوجتے ہیں۔ جو ان کو فائدہ نہیں پہنچاتی) خواہ اس کی عبادت کریں۔ وَلَا یَضُرُّھُمْ (اور ان کو نقصان نہیں پہنچاتی ہیں) اگر ان کو چھوڑ دیں وَکَانَ الْکَافِرُ عَلٰی رَبِّہٖ (اور کافر اپنے رب کے خلاف) اپنے رب کی معصیت و نافرمانی کر کے ظَھِیْرًا (مددگار ہے) و مظاہرہ کرنے والے اور یہ فعیل بمعنی مفاعل ہے نہ کہ عزیز کی طرح۔ الظہیر اور المظاہر یہ عوین اور معاون کی طرح ہے اور المظاہرۃ معاونت کو کہتے ہیں مطلب یہ ہے کافر بت کی عبادت کر کے شیطان کی اتباع کرتا ہے اور رحمان کی نافرمانی میں اس کا معاون بنتا ہے۔
Read the full tafseer →55۔ ویعبدون من دون اللہ ، یہ مشرکین مالاینفعھم، اگر تم ان کی عبادت کرو گے تو وہ تمہیں کسی قسم کانفع نہیں دیں گے۔ ولایضرھم ، اگر تم ان کی عبادت کرنا چھوڑ دو گے تو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے۔ وکان الکافر علی ربہ ظہیرا، اپنے رب کی نافرمانی کرکے اپنے شیطانوں کا مددگار ہوجاتا ہے۔ زجاج کا قول ہے کہ شیطان کے مددگار اس طرح ہوتے ہیں کہ وہ بتوں کی پوجار کرتے ہیں اور بتوں کی پوجا کرنا شیطان کی معاونت ہے۔ بعض نے کہا کہ ظہر کا ترجمہ ہے ذلیل کمینہ جیسا کہ کہاجاتا ہے ، جعلنی بظہیر، اس نے مجھے ذلیل کردیا اور کہاجاتا ہے، ظھر بہ، جب کسی چیز کو پس پشت پھینک دیا اور اس کی طرف التفات نہیں کیا۔
Read the full tafseer →55۔ انسان کو اس کی ضرورت کی چیزوں کو پیدا کرنے کا ذکر اوپر فرما کر اس آیت میں فرمایا کہ یہ مشرک لوگ بڑے نادان ہیں کہ اپنے پیدا کرنے والے کی خاص عبادت کہ چھوڑ کر پتھر کی ایسی مورتوں کو اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں شریک کرتے ہیں کہ جن کے اختیار میں نہ کسی کا کچھ فائدہ ہے نہ نقصان اللہ تعالیٰ کے اختیار میں انسان کا جو فائدہ ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ اس نے انسان کو انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح اپنی قدرت سے پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے اور اسی کے اختیار میں انسان کا جو کچھ نقصان ہے اس کا حال بھی ان لوگوں کو جتلا دیا گیا ہے کہ اس صاحب قدرت نے قوم نوح سے لے کر قوم فرعون تک…
Read the full tafseer →آیت 55
یعنی یہ لوگ بتوں اور مردوں کی عبادت کرتے ہیں جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ انہوں نے ان معبود ان باطل کو نفع و نقصان کے مالک کے ہمسر بنا رکھا ہے، حالانکہ ان پر فرض ہے کہ وہ اپنے رب کے ارشادات کی پیروی کریں اور اس کے دین کا دفاع کریں، لیکن ان کا رویہ اس کے برعکس ہے۔ (وکان الکافر علی ربہ ظھیرا) ” اور ہے کافر اپنے رب کے خلاف ان کی معاونت کرکے اپنے رب کا دشمن بن جاتا ہے اور اس کے خلاف جنگ اور عداوت کا اعلان کرتا ہے، حالانکہ وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا، اسے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت، تسلط اور قبضہء قدرت سے باہر نہیں نکل سکتا اور اللہ تعالیٰ اس سے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–62
رات دن ایک دوسرے کے جانشین ہیں
قول باری ہے : (وھوالذی جعل اللیل والنھار خلفۃ) وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا۔ تاآخر آیت۔ شمر بن عطیہ نے ابن سلمہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص حضرت عمر ؓ کے پاس آکر کہنے لگا۔ امیر المومنین مجھ سے نماز رہ گئی ہے۔ “ آپ نے سن کر فرمایا ” رات کے وقت جو نماز تم سے رہ گئی ہے اس کے بدلے میں دن کے وقت نماز پڑھ لو۔ “ یعنی اس کی قضا دا کرلو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے جانشین بنایا ہے ہر اس شخص کے لئے جو سبق لینا چاہے یا شکر گزار ہونا چاہے۔ “
یونس نے ابن شہاب سے انہوں نے السائب بن زید اور عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے عبدالرحمن بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
66 خلقت انسانی میں غور و فکر کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے جس نے انسان کو پیدا فرمایا پانی سے۔ پھر اس کو نسب اور سسرال والا بنادیا "۔ ایک حقیر و بےجان پانی سے انسان جیسی اشرف المخلوقات کو پیدا کردینا ہی کیا کچھ کم اعجوبہ قدرت و عنایت تھا کہ اس نے اپنے کرم مزید سے اس کے لئے نسب وصہر کا ایک عظیم الشان اور حکمتوں بھرا سلسلہ بھی جاری فرما دیا۔ جس سے خاندانوں کے خاندان بنتے چلے گئے اور مسلسل و لگاتار بنتے چلے جارہے ہیں۔ واقعی تمہارے رب کی رحمت اور اس کی قدرت کی کوئی انتہاء نہیں۔ سو کتنا بڑا ظالم اور کس قدر بےانصاف ہے وہ شخص جو اس خالق ومالک اور قادر مطلق سے منہ موڑے اور اس کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
اللہ کی طاقت کے ثبوت
میٹھا اور کھارا پانی، انسان کی پیدائش، رسول کریم کی بعثت اور اللہ کا عرش پر مستوی ہونا
تشریح : رب العزت کو دیکھنا کسی بھی انسانی آنکھ کے لیے ممکن نہیں کیونکہ اس کا جلال اس قدر زیادہ ہے کہ بندہ اس کو قیامت کے دن ہی دیکھ سکے گا اس مادی جسم کے ساتھ اس کو آنکھ سے نہیں البتہ دل کی آنکھ اور فہم و فراست سے اس کی بنائی ہوئی تخلیقات سے اس کی عظمت اور بڑائی کا اندازہ ضرور ر کرسکتا ہے۔ اب یہاں اس کی بیشمار تخلیقات میں سے ایک تو میٹھے اور کھارے پانی کو ایک ہی سمندر میں بہتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک ہی سمندر میں بہہ رہے ہیں مگر پانی آپس میں ملتا نہیں۔ کس قدر حیرت ناک اور عجیب و غریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
اے مخاطب تو دیکھتا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہر شے میں اور ہر کام میں ایک رشتہ قائم کردیا ہے یہی رشتہ سبب اور اس کے نتیجے میں ہے سورج کی روشنی اور سائے میں ہے کس طرح قدرت باری نے چیزوں کو سایہ بخشا کہ دور تک پھیلا ہوتا ہے ، اگر اللہ جل جلالہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایسے ہی رکھنے پر قادر تھا مگر اس نے سائے کے بڑھنے گھٹنے کو سورج اور دھوپ سے متعلق کردیا ، سورج اوپر اٹھتا ہے تو سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں اور دھوپ اور گرمی کی تپش پھیلتی ہے اور پھر سورج ڈھلتا ہے تو دوبارہ سائے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ رشتے یہ اسباب ونتائج اللہ نے دنیا کی آبادی اور بنی آدم کے آرام کا سبب بنائے…
Read the full tafseer →3 ۔ یعنی کفر و شرک کا ارتکاب کر کے اپنے رب کے خلاف اس کے دشمن شیطان کا مددگار بنا ہوا ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
(25:55) الکافر۔ مفرد ہے لیکن بطور اسم جنس یہاں استعمال ہوا ہے۔
ظھیرا۔ پشتیبان۔ مددگار۔ مظاھرۃ (مفاعلۃ) سے بروزن فعیل بمعنی فاعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ظھر۔ پیٹھ، پشت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 60 :
لوشئنا (اگر ہم چاہتے) ‘ لبعثنا ( البتہ ہم ضرور بھیجتے) ‘ لا تطع (کہنا مانیئے) جھاد کبیر (زوردار مقابلہ) ‘ مرج ( اس نے ملایا) ‘ البحرین (دودریاؤں کو) ‘ عذب (میٹھا) ‘ فرات (خوش گوار۔ پی کر مزہ آئے) ‘ ملح (کھاری) ‘ اجاج (کڑوا) ‘ حجر (آڑ۔ رکاوٹ) ‘ محجور ( جو خود آڑ میں ہو) ‘ نسب (نسب۔ نسبی رشتے) ‘ صھر (شادی کے رشتے ۔ سسرال) ‘ ظھیر ( سرکش۔ مقابل۔ پشت پناہی کرنے والا) ‘ ما اسئل (میں نہیں مانگتا) ‘ ذنوب (ذنب) (گناہ ۔ خطائیں) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) ‘ استوی ( وہ برابر ہوا۔ جلوہ گرہوا) ‘ تأ مرنا ( تو ہمیں حکم دیتا ہے) ‘ نفور (نفرت۔ ناگواری) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(ف 3) اس آیت میں فرمایا کہ اللہ وہ ہے جس نے پانی یعنی نطفہ سے انسان کو پیدا کیا اور اس نے ایک نطفہ سے دوقسم کے انسان پیدا کیے ، مرد اور عورت۔ نسب یعنی خا ندان سے مراد مرد ہے کیونکہ نسب مردوں ہی کی طرف منسوب ہوتا ہے کہتے ہیں کہ فلاں بن فلاں اور صہر یعنی سسرال سے مراد عورت ہے کیونکہ نکاح کے رشتے اس سے قائم ہوتے ہیں یہ مثال بیان کرکے فرمایا کہ پھر بھی کافروں کا یہ حال ہے کہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پروردگار کو ہر قسم کی قدرت ہے چاہے لڑکا پیدا کرے چاہے لڑکی، اس کی قدرت میں کوئی شریک نہیں ۔
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ یہ مشرک لوگ بڑے نادان ہیں کہ اپنے پیدا کرنے والے کو خالص عبادت کو چھوڑ کر پتھر…
Read the full tafseer →[36] یعنی کافروں کی ہمدردیاں ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہیں جو اللہ کے نافرمان ہیں۔
Read the full tafseer →شرک اللہ کا کھلا انکار ہے !
1: اللہ کے مختلف انعامات آپ دیکھ چکے اور آپ کو معلوم ہوگیا ۔ کہ ہر قسم اور ہر نوع کی قدرتیں اس کے ساتھ مختص ہیں وہی کائنات کا مالک ہے اور اسی کی ذات بابرکات کو ہر طرح کے اختیارات حاصل ہیں ۔ اگر مشرکوں کی بےوقوفی اور کم عقلی ملاحظہ ہو ۔ کہ باوجود ایک قادر و عظیم خدا کے یہ ایسی چیزیں کی پوجا اور عبادت میں مصروف ہیں ۔ جو ان کو نہ تو کئی نفع پہنچا سکتی ہیں ۔ اور نہ نقصان ۔ ارشاد ہے ۔ کہ یہ شرک اللہ تعالیٰ کا کھلا انکار ہے اور کھلی بغاوت ہے ۔
Read the full tafseer →(55) اور یہ مشرک اس اللہ تعالیٰ اور وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر ان چیزوں کی پوجا کرتے ہیں جو نہ ان کو نفع پہونچا سکتی ہیں اور نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں اور منکر تو اللہ تعالیٰ کے بالمقابل شیطان کا مددگار ہے یعنی مشرکین بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اس کی مخلوق میں سے ایسی چیزوں کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع پہونچانے کی قدرت رکھتی ہیں اور نہ نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتی ہیں اور دین حق کے منکر کا تو شیوہ ہی یہ ہے کہ وہ اپنے پروردگار کے خلاف طاغوتی طاقتوں کا معین و مددگار ہوتا ہے مدعا یہ ہے کہ کافر ہمیشہ حق کی مخالفت کرتا ہے اور حق کو پیٹھ دکھاتا ہے اور حق کا ساتھ چھو ڑ دیتا ہے۔
حضرت شاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
ف 4۔ ان کے ایمان نہ لانے سے آپ کا کیا نقصان ہے، پھر آپ کیوں غم کریں، اور نہ آپ اس مخالفت کو معلوم کر کے فکر میں پڑیں۔
Read the full tafseer →انفسی دلائل کے بعد انسانی حماقت کا بیان بڑا معنی خیز ہے :
55۔ گزشتہ دلائل آفاق اور دلائل انفس سے کیا ثابت ہوتا ہے کون نہیں جانتا ؟ بلاشبہ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کائنات کا خالق ومالک اور انسانوں کو نفع ونقصان دینے والا صرف اور صرف اللہ رب العزت ہے کہ وہ وحدہ لا شریک لہ ہے اور اس کائنات میں کوئی اس کا شریک نہیں لیکن کتنے نادان ہیں وہ لوگ جو اسے چھوڑ کر دوسروں کو اپنا معبود ‘ حاجت روا اور مشکل کشا بناتے ہیں اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو پس پشت ڈال دیتے ہیں جیسا کہ کافروں نے پہلے ہی اس کو پس ڈال دیا ہوا ہے ۔ اور اس مضمون کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس طرح دوسروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا (And He is the One who created man from water then made of him kinship of blood and kinship of in-laws. 25:54) نَسَب (nasab, translated above as 'kinship of blood' ) is that relationship which emanates from either parent, and صِهْر (sihr, translated above as 'kinship of in-laws' ) is that kinship which is drawn from the wife's side and is called in - laws. All these relations and bonds are Allah's graces given to mankind for a pleasant and tranquil life. If these relations are taken away from someone's life it will be…
Read the full tafseer →70 This is a characteristic of the typical disbeliever: he is a helper and defender of all those who are rebels against AIIah and an enemy of aII those who may he striving to raise Allah's Word and enforce His Law in the world; he is associated directly or indirectly with all the works of Allah's disobedience and opposes and resists in one way or the other every effort that is made to bring people to the path of Allah's obedience and service.
Read the full tafseer →