Al-Furqaan 25:54

Al-Furqaan · from ayah 54

25:54

وَهُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّصِهْرًا ؕ— وَكَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا ۟وَهُوَ الَّذِىۡ خَلَقَ مِنَ الۡمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهۡرًا‌ ؕ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيۡرًا

اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا۔ پھر اس کو صاحب نسب اور صاحب قرابت دامادی بنایا۔ اور تمہارا پروردگار (ہر طرح کی) قدرت رکھتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And it is He who has created from water a human being and made him [a relative by] lineage and marriage. And ever is your Lord competent [concerning creation].

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:54

اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا، پھر اس سے نسب اور سسرال کے دو الگ سلسلے چلائے تیرا رب بڑا ہی قدرت والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا۔ پھر اس کو صاحب نسب اور صاحب قرابت دامادی بنایا۔ اور تمہارا پروردگار (ہر طرح کی) قدرت رکھتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اسے نسب واﻻ اور سسرالی رشتوں واﻻ کردیا۔ بلاشبہ آپ کا پروردگار (ہر چیز پر) قادر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہی ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اس کو نسبی اور سسرالی رشتے عطا کیے، اور تمہارا پروردگار بڑی قدرت والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہی ہے جس نے پانی سے بنایا آدمی پھر اس کے رشتے اور سسرال مقرر کی اور تمہارا رب قدرت والا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہی ہے جس نے پانی (کی مانند ایک نطفہ) سے آدمی کو پیدا کیا پھر اسے نسب اور سسرال (کی قرابت) والا بنایا، اور آپ کا رب بڑی قدرت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر کو پیدا کیا، پھر اسے خاندان اور سسرال بنادیا اور تیرا رب بےحد قدرت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور وہی ہے جس نے پانی (نطفہ) سے انسان کو پیدا کیا پھر (میاں بیوی) سے نسب اور سسرال کا سلسلہ چلایا اور آپ کا پروردگار بڑی ہی قدرت والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہی ہے جس نے انسانوں کو اپنی قدرت سے پیدا کیا اور پھر ان کو نسبی اور سسرالی رشتوں سے جوڑا اور تیرا رب بڑی قدرت رکھنے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ وہی ہے جس نے پانی سے پیدا فرمایا انسان جیسی عظیم الشان مخلوق کو پھر مزید کرم یہ فرمایا کہ اس کو نسب اور سسرال کے دو الگ الگ سلسلوں والا بنادیا واقعی تمہارا رب بڑا ہی قدرت والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ وہی ہے جس نے انسان کو پانی سے پیدا کیا۔ پھر اس کو خاندان والا اور سسرال والا بنایا اور آپ کا پروردگار بڑا قدرت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہی ہے جس نے پانی سے پیدا کیا انسان کو تو اس نے بنایا اس کے لیے نسب اور سسرالی رشتہ۔ اور آپ کا رب سب قدرتوں کا مالک ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا پھر اس کو صاحب نسب اور سسرال بنا دیے اور تمہارا رب ہر طرح کی قدرت رکھتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And it is He, Who created man from water: then from him He caused two kinds of kindred, by blood and by marriage: your Lord is AI I-Powerful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And He is the One who created man from water, then made of him relations created by lineage and relations created by marriage. Your Lord is All-Powerful.

— Muhammad Taqi Usmani

And He is the One who created man from water, then made of him relations created by lineage and relations created by marriage. Your Lord is All-Powerful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And it is He Who has created man from water, and has appointed for him kindred by blood, and kindred by marriage. And your Lord is Ever All-Powerful to do what He wills.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And He it is Who hath created man from water, and hath appointed for him kindred by blood and kindred by marriage; for thy Lord is ever Powerful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And it is He who has created from water a human being and made him [a relative by] lineage and marriage. And ever is your Lord competent [concerning creation].

— Saheeh International

It is He who has created the human being from water to have relationships of both lineage and wedlock. Your Lord has all power.

— Muhammad Sarwar

And He it is Who has created man from the water, then He has made for him blood relationship and marriage relationship, and your Lord is powerful.

— Muhammad Habib Shakir

And it is He who hath created man from water, and then made for him kinship by blood and marriage. And thy Lord is ever potent.

— Abdul Majid Daryabadi

It is He Who has created man from water: then has He established relationships of lineage and marriage: for thy Lord has power (over all things).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:54

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–54

النبی کل عالم ؑ اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا لیکن اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا ہے کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کردوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے ٹھہر نے کی جگہ جہنم ہے اور فرمان ہے کہ تم مکہ والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور آیت میں ہے کہ اے نبی آپ کہہ دیجئے کہ اے تمام لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول اللہ ﷺ بن کر آیا ہوں۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے میں سرخ وسیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ بخاری ومسلم کی اور حدیث میں ہے کہ تمام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 69 یعنی بجائے خود یہی کرشمہ کیا کم تھا کہ وہ ایک حقیر پانی کی بوند سے انسان جیسی حیرت انگیز مخلوق بنا کھڑی کرتا ہے، مگر اس پر مزید کرشمہ یہ ہے کہ اس نے انسان کا بھی ایک نمونہ نہیں بلکہ دو الگ نمونے (عورت اور مرد) بنائے جو انسانیت میں یکساں مگر جسمانی و نفسانی خصوصیات میں نہایت مختلف ہیں، اور اس اختلاف کی وجہ سے باہم مخالف و متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کا پورا جوڑ ہیں۔ پھر ان جوڑوں کو ملا کر وہ عجیب توازن کے ساتھ (جس میں کسی دوسرے کی تدبیر کا ادنیٰ دخل بھی نہیں ہے) دنیا میں مرد بھی پیدا کر رہا ہے اور عورتیں بھی، جن سے ایک سلسلہ تعلقات بیٹوں اور پوتوں کا چلتا ہے جو دوسرے گھروں سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–56

وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَاۗءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّصِهْرًا، نسب اس رشتہ اور قرابت کو کہا جاتا ہے جو باپ یا ماں کی طرف سے ہو، اور صہر وہ رشتہ وتعلق ہے جو بیوی کی طرف سے ہو جس کو عرف میں سسرال بولتے ہیں۔ یہ سب تعلقات اور قرابتیں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہیں جو انسان کو خوشگوار زندگی کے لئے لازمی ہیں، اکیلا آدمی کوئی کام بھی نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اضداد میں توافق کی ایک انفسی دلیل نسباً و صھراً یعنی ذانسب وصھر نسب کا مفہوم تو واضح ہے۔ صھر اس قرابت کو کہتے ہیں جو سسرالی رشتہ سے وجود میں آئے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو اللہ نے پانی سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بھی پیدا کیا پھر ان دونوں کے اندر ایسے فطری داعیات ودیعت فرمائے کہ انسان ایک طرف نسبی تعلقات رکھنے والا بن سکے اور دوسری طرف سسرالی روابط کے ساتھ جڑ سکے اور اس طرح اس خاندان اور معاشرت و اجماعیت کی تعمیر کرنے والا بنے جس کے لئے خالق حکیم و قدیر نے اس کو وجود بخشا ہے۔ وکان ربک قدیراً یعنی یہ قدرت و اختیار صرف خدا ہی کو حاصل ہے کہ وہ ایک ہی پانی سے اضداد کو جود میں لائے اور پھر ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 54–56

54-1نسب سے مراد رشتے داریاں ہیں جو باپ یا ماں کی طرف سے ہوں اور صہرا سے مراد وہ قرابت مندی ہے جو شادی کے بعد بیوی کی طرف سے ہو، جس کو ہماری زبان میں سسرالی رشتے کہا جاتا ہے۔ ان دونوں رشتہ داریوں کی تفصیل آیت (وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَاۗؤُكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۭاِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقْتًا ۭوَسَاۗءَ سَبِيْلًا 22؀ۧ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ وَبَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ وَعَمّٰتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَاُمَّھٰتُ نِسَاۗىِٕكُمْ وَرَبَاۗىِٕبُكُمُ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 54–59

19:”استواء“ کے لفظی معنی سیدھا ہوجانے اور مضبوطی سے بیٹھ جانے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عرش پر استواء فرمانے کا کیا مطلب اور اس کی کیا کیفیت ہے ؟ یہ بات ہماری محدود عقل سے ماورا ہے، اور ان متشابہات میں سے جن کا ذکر سورة آل عمران کے بالکل شروع میں آیا ہے۔ اس لیے اس پر جوں کا توں ایمان رکھنا چاہیے۔ اور اس کی کیفیت کی تحقیق و جستجو میں نہیں پڑنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب سمندر اور نہروں کے پانیوں سے روئے سخن ماء حیات کی طرف۔ ذرا اس نطفے کا مطالعہ کرو جس سے انسان پیدا ہوتا ہے۔ وھو الذی ……قدیراً (54) اس پانی ہی سے جنین پیدا ہوتے ہیں۔ اگر جنین مرد ہوں تو وہ نسب ہوں گے اور اگر مادہ ہوں تو سسرال ہوں گے۔ مادہ کو صر اس لئے کہا گیا کہ قرابت کی جگہ عورت ہوتی ہے (یعنی عورت کے ذریعہ قرابت داری پیدا ہوتی ہے) آسمان کے پانی سے جو مخلوقات پیدا ہوتی ہے اس کے مقابلے میں یہ انسانی مخلوق بہت ہی عجیب ہے۔ کیونکہ مرد کے پانی کے ایک قطرے کے اندر جو ہزار باخلیے ہوتے ہیں ان میں سے ایک کے ساتھ رحم مادر کے اندر پایا جانے والا چھوٹا سا انڈا متحد ہوجاتا ہے اور اس سے پھر یہ پیچیدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 54–55

5 دیکھ لو ! کس طرح اپنی قدرت کاملہ سے ایک قطرہ آب کو عاقل و کامل آدمی بنادیا۔ پھر آگے اس سے نسلیں چلائیں اور دامادی اور سسرال کے تعلقات قائم کیے۔ ایک ناچیز قطرہ کو کیا سے کیا کردیا اور کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ لیکن یہ حضرت تھوڑی ہی دیر میں اپنی اصل کو بھول گئے اور رب قدیر کو چھوڑ کر عاجز مخلوق کو خدا کہنے لگے۔ اپنے پروردگار کا حق تو کیا پہچانتے اس سے منہ موڑ کر اور پیٹھ پھیر کر شیطان کی فوج میں جا شامل ہوئے۔ تاکہ اغواء واضلال کے مشن میں اس کی مدد کریں اور مخلوق کو گمراہ کرنے میں اس کا ہاتھ بٹائیں۔ نَعُوذ باللّٰہ مِنْ شُرُور اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 54 وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا ” پانی سے یہاں انسان کا مادۂ تولید بھی مراد ہوسکتا ہے اور عام پانی بھی ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار چیز پانی سے ہی پیدا کی ہے۔ فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّصِہْرًاط وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیْرًا ” انسان کا نسب تو اس کے والدین سے چلتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی بیوی کے حوالے سے دوسرے خاندان کے ساتھ بھی اس کا رشتہ اور تعلق جوڑا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے ساس اور سسر کو بھی اللہ تعالیٰ نے والدین جیسا تقدس اور احترام عطا کیا ہے۔ سسرالی رشتہ داریاں اگر نہ ہوتیں تو قبیلوں اور خاندانوں کا معاشرے میں باہمی ارتباط و اختلاط ممکن نہ ہوتا اور ہر خاندان دوسرے خاندان سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

67 یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ کرشمہ کیا کم ہے کہ اس نے پانی ایک بوند سے انسان جیسی محیرالعقول میشنری رکھنے والی مخلوق پیدا کردی۔ مزید یہ کہ اس پیدا ہونے والے بچہ کو جو مختلف نوعوں میں تقسیم کردیا۔ کبھی لڑکا پیدا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی۔ اور یہ دونوں انسان ہونے کے اعتبار سے تو یکساں ہیں۔ مگر اپنی جسمانی ساخت اور خصوصیات میں بہت سے امور میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ تاہم اس اختلاف کے باوجود وہ دونوں مل کر ایک ہی مقصد پورا کرتے ہیں اور وہ ہے بقائے نسل انسانی۔ ان دونوں نوع کے ملاپ سے دنیا میں ہزاروں مرد اور عورتیں پیدا ہو رہے ہیں۔ پھر اس اختلاف کی بنا پر رشتہ داریاں بھی دو طرح کی بن جاتی ہیں۔ ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

61۔ یہاں پانی سے مراد نطفہ بشری لیا گیا ہے۔ یجوز ان یرید بہ النطفۃ التی خلق بھا ولد ادم (جصاص) یجوز ان یراد بالماء النطفۃ (روح) اگر مطلق پانی بھی مراد لیا جائے تو اس پر حاشیہ سورة الانبیاء پ 17 میں آیت (آیت) ” وجعلنا من المآء کل شیء حی “۔ کے تحت میں گزر چکا۔ 62۔ (کہ کیسی بہ ظاہر بےحقیقت چیز سے کتنی عظیم الشان اور دور دراز کے تعلقات قائم کردیئے) (آیت) ” فجعلہ نسباوصھرا “۔ اسلام نے سارے انسانی معاشرہ کی بنیاد خاندان ہی پر رکھی ہے اور سسرال کو بھی خاندان ہی کا ایک جزو ٹھہرایا ہے۔ عقد مناکحت کی پوری اہمیت جبھی ذہن نشین ہوگی جب پہلے خاندان کی اہمیت اجتماعی زندگی میں ذہن نشین کرلی جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–60

آیت نمبر 45 تا 60 ترجمہ : کیا تو اپنے رب کی صنعت کو نہیں دیکھتا وقت اسفار سے طلوع شمس کے وقت تک اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک ھالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا، یعنی ساکن رکھتا جو طلوع شمس سے زائل نہ ہوتا پھر ہم نے سورج کو اس سایہ کو اپنی طرف بتدریج سمیٹ لیا یعنی طلوع شمس کی وجہ سے شیئاً فشیئاً اور وہ ایسا ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات کا لباس یعنی لباس کے مانند ساتر بنایا اور نیند کو قطع کرنے والی یعنی جسموں کے لئے اعمال کو موقوف کرکے راحت کی چیز بنایا اور دن کو منتشر ہونے کا وقت بنایا اس میں رزق وغیرہ حاصل کرنے کے لئے اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں اور ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وہو الذی خلق من المآء بشرا فجعلہ نسبا وصہرا اور اللہ وہی تو ہے جس نے پانی سے (یعنی نطفہ سے) آدمی کو پیدا کیا پھر اس کو بنایا نسب (یعنی مرد) اور سسرال (یعنی عورت) ۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کی دو صنفیں کردیں (1) نسبت والا یعنی مرد بنایا ‘ مرد کی طرف نسبت لوٹتا ہے۔ (2) سسرال والا یعنی عورت۔ اس تشریح پر اس آیت کا مطلب وہی ہے جو آیت (جَعَلَ مِنْہُ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی) کا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک نسب سے مراد ہے نسب والا جس سے عورت و مرد کے نسب کا جوڑ ملتا ہے یعنی باب دادا ‘ اور صہر سے مراد ہے مرد و عورت کا سسرالی رشتہ۔ وکان ربک قدیرا۔ اور آپ کا رب بڑی قدرت والا ہے جیسے اس کی مشیت ہو ویسا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(54) اور وہ ایسا ہے کہ جس نے مرد و عورت کے نطفہ سے انسانوں کو پیدا کیا اور پھر اسے خاندان والا یعنی ایسے رشتہ داروں والا بنایا جن سے نکاح نہیں کرسکتا اور سسرال والا بنایا کہ جن میں شادی بیاہ کرسکتا ہے اور مخلوق میں جو حلال و حرام رشتے پیدا کیے اور تیرا پروردگار بڑی قدرت والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَاۗءِ بَشَرًا۔۔ : یہ توحید کے دلائل کی پانچویں قسم ہے۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی قدرت کاملہ اور آدمی پر انعام تینوں کا ذکر ہے۔ ”بَشَراً“ کا لفظ ”اَلْبَشَرَۃُ“ (کھال، ظاہری جلد) سے ہے، دوسرے تمام جانوروں کا جسم بالوں سے یا پروں وغیرہ سے چھپا ہوتا ہے، جبکہ انسان کی جلد اس سے صاف ہوتی ہے، اس لیے اسے ”بشر“ کہا جاتا ہے۔ پچھلی آیت میں خالق ومالک اور تنہا معبود ہونے کی دلیل کے طور پر دو پانیوں کو ملنے سے روکنے کی قدرت کا ذکر تھا اور اس آیت میں انھیں ملانے کا ذکر ہے، فرمایا : (اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ڰ نَّبْتَلِيْهِ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(وھو الذی خلق۔۔۔۔۔۔ ) مسئلہ نمبر 1 :۔ وھو الذی خلق من الماء بشر یعنی نطفہ سے انسان کو پیدا کیا۔ فجلہ نسبتا و صھرا، ہ ضمیر سے مراد انسان ہے یعنی انسان کو نسب اور سسرال والا بنا دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : من الماء سے خلقت کی اصل کی طرف اشارہ ہے کہ یہ زندہ پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ اس آیت میں ان نعمتوں کا شمار ہے جو اس کے عدم کے بعد اس کے ایجاد کی صورت میں کی گئیں اور اس میں عبرت پر تنبیہ ہے۔ مسئلہ نمبر 2 :۔ فجلہ نسبا و صھرتا نسب اور صہر دو ایسے معانی ہیں جو ہر رشتہ کو عام ہیں جو دو آدمیوں کے درمیان موجودہوتے ہیں۔ ابن عربی نے کہا : نسب سے مراد مذکر اور مؤنث کے پانی کا شرعی طریقہ سے خلط ملط…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبد بن حمید نے عبداللہ بن مغیرہ (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ نسبتی اور سسرالی رشتہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا میرا خیال ہے کہ تم نسب کو تو پہچان چکے ہو مگر سسرالی رشتہ تو وہ دو بہنیں اور صحابہ ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فجعلہ نسبا وصہرا “ میں نسب سے مراد ہے رضاعت اور صہر سے مراد ہے دامادی رشتہ۔ چودہ قسم کی عورتیں حرام ہیں۔ 3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت ” فجعلہ نسبا وصہرا “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سسرالی رشتہ کو نسبی رشتہ کے ساتھ ذکر فرمایا اور چودہ عورتوں کو حرام فرمایا سات نسبتی رشتہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْ [ وہی ہے جس نے ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] مِنَ الْمَاۗءِ [ پانی سے ] بَشَرًا [ بشر کو ] فَجَعَلَهٗ [ پھر اس نے بنایا اس کو ] نَسَبًا [ رشتہ دار باپ دادا سے ] وَّصِهْرًا ۭ [ اور ناطے دار سسرال سے ] وَكَانَ [ اور ہے ] رَبُّكَ [ آپ ﷺ کا رب ] قَدِيْرًا [ قدرت والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قدرت کاملہ کا ایک بہت بڑا مظاہرہ یہ ہے کہ اس نے نطفہ منی سے انسان کی تخلیق فرمائی، انسان میں شہوت رکھ دی اس شہوت کی وجہ سے بیاہ شادی کی ضرورت پیش آئی جب نکاح ہوتے ہیں تو میاں بیوی کا اختلاط ہوتا ہے اس سے اولاد ہوتی ہے اور اس طرح سے خاندان بڑھتا چلا جاتا ہے اور آپس میں سلسلہ نسب چلتا ہے، ہر پیدا ہونے والے کے دو خاندان ہوتے ہیں ایک باپ کی طرف کا خاندان دوسرا ماں کی طرف سے، پھر شادیاں ایک خاندان کی دوسرے خاندان میں ہوتی ہیں اور غیر خاندانوں میں بھی ہوتی ہیں یہ سسرالی رشتے بھی نعمت عظیمہ ہیں ان کے ذریعہ مختلف خاندانوں میں محبتیں پیدا ہوجاتی ہیں (وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیْرًا) (اور تیرا پروردگار بڑی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 53–54

قسم چہارم از دلائل توحید وھو الذی مرج البحرین ھذا عذب فرات وھذا ملح اجاج۔ اور وہ خدا وہ ہے جس نے اپنی قدرت بالغہ اور حکمت سابقہ سے دو دریاؤں کو ملا کر رواں کیا ان میں سے ایک تو یہ شریں اور خوش ذائقہ اور تشنگی کو دفع کرنے والا اور پیاس بجھانے والا ہے اور ایک یہ دوسرا کھاری ہے کڑوا ہے اور ان کے درمیان اپنی قدرت سے ایک آڑ اور مضبوط روک رکھ دی کہ ایک کا پانی دوسرے سے ملنے نہ پاوے۔ مراد ان دو دریاؤں سے وہ مواقع ہیں جہاں شیریں دریا اور نہریں بہتے بہتے سمندر میں آکر گرتی ہیں۔ جیسے دریائے دجلہ کا پانی نہایت شیریں ہے جب اس کا پانی سمندر میں گرتا ہے تو دور تک دونوں کی موجیں اور دھاریں الگ الگ نظر آتی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

35:۔ ” وھو الذی خلق الخ “ یہ دسویں عقلی دلیل ہے اللہ تعالیٰ نے کمال قدرت سے ایک قطرہ آب سے انسان کو پیدا فرمایا۔ پھر انسانوں کو دو قسم کے رشتوں سے آپس میں جوڑ دیا ایک نسبی رشتہ دوم مصاہرت کا رشتہ۔ یہ رشتے بھی اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ جو اللہ تعالیٰ ایسا قادر اور منعم ہے برکات دہندہ بھی وہی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 53–55

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے نمونے اور توحید کے دلائل بیان فرمائے پہلے سائے کا ذکر ہوا ، پھر شب و روز کے تغیر و تبدل اور ہوائوں کے چلنے کا ذکر ہوا ۔ اللہ نے خاص طور پر پانی کے نزول اور اس کی افادیت کا ذکر کیا ، پھر کافروں کی مذمت بیان ہوئی اور اللہ نے اپنے پیغمبر کو نافرمانوں کے ساتھ بڑا جہاد کرنے کا حکم دیا ۔ معترضین کے رسالت کے متعلق اعتراضات کا ثباتی جواب بھی دیا ۔ اب آج کی آیات بھی خدا تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل ہیں۔ دو متضاد پانیوں کا ملاپ اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی پہلی دلیل یہ بیان فرمائی ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہُوَالَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَاۗءِ بَشَرًا فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّصِہْرًا۝ 0ۭ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيْرًا۝ 54 خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 53–59

ترکیب : بینہما ظرف لجعل علی ربہ متعلق ہے ظہیرًا سے خبر کان، الامن شاء استثنیٰ من غیر الجنس الرحمن مبتداء فسئل بہ خبر۔ تفسیر : : وھوالذی مرج البحرین الخ (4) یہ دلیل ہے کہ اس نے دو قسم کے دریا رواں کئے۔ یا یوں کہو دو دریا کو باہم ملایا۔ ایک ان میں سے نہایت شیریں ‘ خوشگوار اور دوسرا کھاری تلخ اور باہم ملنے نہیں پاتے ان میں قدرتی حد فاصل رکھی ہوئی ہے۔ زمین کے دریا رواں جب سمندر میں گرتے ہیں اور یہ دریا شیریں ہوتے ہیں تو دور تک دونوں کی دو دو دھاریں نظر آتی ہیں باہم اختلاط پر امتیاز معلوم ہوتا ہے ان میں سمندر کی دھار کھاری اور زمین کے دریائِ رواں کی دھار شیریں ہوتی ہے سمندر میں پڑنے سے دونوں سمندر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَھُوَالَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَـآئِ بَشَرًا فَجَعَلَـہٗ نَسَبًا وَّصِھْرًا ط وَکَانَ رَبُّـکَ قَدِیْرًا۔ (الفرقان : 54) (اور وہی ہے جس نے انسان کو پانی (کی بوند) سے پیدا کیا، پھر اس کو نسب والا اور سسرال والا بنادیا اور آپ کا رب بڑی قدرت والا ہے۔ ) سابقہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ پر آفاقی دلائل ذکر فرمائے۔ اب ان انفسی دلائل کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے جو انسان کی اپنی ذات میں موجود ہیں۔ اضداد میں تو افق کی ایک انفسی دلیل بلاشبہ انسان اس کائنات کا گل سرسبد ہے اور اس زمین پر انسان کے وجود اور اس کے عقل و خرد کے معرکوں سے زمین کی سرسبزی و شادابی و…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : دو سمندروں کے مختلف پانیوں کے ذکر کے بعد اس پانی کا تذکرہ جس سے اشرف المخلوق انسان پیدا کیا گیا ہے۔ دو سمندروں کے مختلف پانی کے ذکر کے بعد جس پانی کے قطرہ سے انسان پیدا ہوتا ہے اس کا ذکر اس لیے کیا ہے کیونکہ انسان بھی بنیادی طور پر پانی کے دو قسم کے قطروں سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک قطرہ مرد کے صلب سے اور دوسرا قطرہ عورت کی چھاتی سے نکلتا ہے دونوں قطرے الگ الگ اجزاء پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جنھیں میڈیکل سائنس میں جرثومے کہا جاتا ہے۔ جرثوموں کا دست قدرت کے اشارے سے رحم مادر میں ملاپ ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ مختلف شکلیں اختیار کرتے ہوئے ایک بچہ کی صورت اختیار کرتا ہے پھر زندگی کے مختلف…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

انسانوں کی دو قسمیں : 54: وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآ ئِ (اور اللہ وہی ہے جس نے پانی سے پیدا کیا) الماءؔ سے یہاں نطفہ مراد ہے۔ بَشَرًا (انسان) فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّ صِہْرًا (پس اس کو نسب و دا مادی والا بنایا) مراد یہ ہے کہ انسانوں کو دو قسموں میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ نمبر 1۔ نسب والے یعنی مذکر جن کی طرف نسبت کر کے کہا جاتا ہے فلان بن فلان اور فلانہ بنت فلان نمبر 2۔ دامادی والے یعنی مؤنث ان کی وجہ سے مصاہرت کی جاتی ہے جیسا کہ دوسرے مقام میں فرمایا فجعل منہ الزوجین الذکر والانثٰی ] القیامہ : 39[ وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیْرًا (اور آپ کا رب بڑی قدرت والا ہے۔ ) کہ اس نے ایک ہی نطفہ سے دو قسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

54۔ وھوالذی خلق من المائ۔ اس سے مراد نطفہ ہے۔ بشر فجعلناہ نسبا وصھرا۔ اس کو نسب والا یعنی مرد بنادیا اور سسرال والابنایا۔ نسباوصھرا کی تفسیر۔ بعض نے کہا کہ نسب سے مراد وہ ہے جس کے ساتھ نکاح کرنا حلال نہیں اور صھر سے مراد وہ ہے جس سے نکاح کرنا حلال ہے۔ نسب و حرمت کو واجب کرنے والی ہو اورصھر وہ ہے جو حرمت کو واجب نہ کرنے والی ہو بعض نے کہا کہ وہ نسب کی وجہ سے ہو مثلا قرابت اور صھر جو دوسروں کے ساتھ مل کر قربت والارشتہ حاصل ہوجائے۔ اللہ نے نسب کی وجہ سے سات رشتے حرام کیے ہیں اور سبب کی وجہ سے سات رشتے حرام قرار دیے ہیں اور وہ اس آیت میں ، حرمت علیکم امھاتکم، ہے۔ وکان ربک قدیرا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

54:۔ اس آیت میں قدرت کی ایک اور نشانی بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کا پتلا پانی جیسی پتلی چیز نطفہ سے بنایا ‘ صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود کی حدیث 3 ؎ کئی جگہ گزر چکی ہے کہ عورت کے رحم میں چالیس دن تک نطفہ رہ کر پھر اس کا جما ہوا خون اور پھر اس خون کا گوشت بن جاتا ہے اور اس گوشت سے بچہ کا پتلہ تیار ہوجاتا ہے ‘ پانی جیسی پتلی چیز نطفہ سے جس طرح اولاد آدم کا پتلہ تیار ہوتا ہے اس کا حال اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے پھر فرمایا ‘ اولاد آدم کے پیدا ہونے کے بعد بیاہ ہونے سے پہلے انسان کا نام باپ دادا سے چلتا ہے کہ یہ لڑکا زید کا بیٹا ‘ یا یہ لڑکی زید کی بیٹی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 54 وہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے انسان کو ایک حقیر پانی سے پیدا کیا پھر اس میں سے بیشمار اولاد پھیلائی پھر اس نے نسب اور سسرال کے دو الگ الگ اور اکٹھے سلسلے چلائے ان تمام کا مادہ یہی حقیر پانی ہے اور یہ چیز اس کے اقتدار پر دلالت کرتی ہے۔ (وکان ربک قدیرا) ” اور آپ کا رب بہت قدرت والا ہے۔ “ اور اللہ کا قادر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی عبادت حق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 49–54

نسب اور سسرالی رشتے قول باری ہے : (وھوالذی خلق من الماء بشرا وجعلہ نسبا وطھوا) اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا اور پھر اس نے نسب اور سسرال کے دو الگ الگ سلسلے چلائے۔ یہاں وہ پانی مراد لینا جائز ہے جس سے جانداروں کی اصل پیدا کی گئی جس کا ذکر اس قول باری میں ہے : (وجعلنا من الماء کل شیء حی) اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی، اور اس سے وہ نطفہ مراد لینا بھی درست ہے جس سے اولاد آدمی کی تخلیق ہوئی۔ قول باری (فجعلہ نسبا وصھرا) کی تفسیر میں طائوس کا قول ہے کہ رضاعت بھی صہر یعنی سسرال میں داخل ہے۔ ایک روایت کے مطابق ضحاک کا قول ہے کہ نسب سے مراد رضاعت ہے اور صہر سے مراد دامادی رشتہ ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 54–55

66 خلقت انسانی میں غور و فکر کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے جس نے انسان کو پیدا فرمایا پانی سے۔ پھر اس کو نسب اور سسرال والا بنادیا "۔ ایک حقیر و بےجان پانی سے انسان جیسی اشرف المخلوقات کو پیدا کردینا ہی کیا کچھ کم اعجوبہ قدرت و عنایت تھا کہ اس نے اپنے کرم مزید سے اس کے لئے نسب وصہر کا ایک عظیم الشان اور حکمتوں بھرا سلسلہ بھی جاری فرما دیا۔ جس سے خاندانوں کے خاندان بنتے چلے گئے اور مسلسل و لگاتار بنتے چلے جارہے ہیں۔ واقعی تمہارے رب کی رحمت اور اس کی قدرت کی کوئی انتہاء نہیں۔ سو کتنا بڑا ظالم اور کس قدر بےانصاف ہے وہ شخص جو اس خالق ومالک اور قادر مطلق سے منہ موڑے اور اس کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 53–60

اللہ کی طاقت کے ثبوت میٹھا اور کھارا پانی، انسان کی پیدائش، رسول کریم کی بعثت اور اللہ کا عرش پر مستوی ہونا تشریح : رب العزت کو دیکھنا کسی بھی انسانی آنکھ کے لیے ممکن نہیں کیونکہ اس کا جلال اس قدر زیادہ ہے کہ بندہ اس کو قیامت کے دن ہی دیکھ سکے گا اس مادی جسم کے ساتھ اس کو آنکھ سے نہیں البتہ دل کی آنکھ اور فہم و فراست سے اس کی بنائی ہوئی تخلیقات سے اس کی عظمت اور بڑائی کا اندازہ ضرور ر کرسکتا ہے۔ اب یہاں اس کی بیشمار تخلیقات میں سے ایک تو میٹھے اور کھارے پانی کو ایک ہی سمندر میں بہتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک ہی سمندر میں بہہ رہے ہیں مگر پانی آپس میں ملتا نہیں۔ کس قدر حیرت ناک اور عجیب و غریب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف اے مخاطب تو دیکھتا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہر شے میں اور ہر کام میں ایک رشتہ قائم کردیا ہے یہی رشتہ سبب اور اس کے نتیجے میں ہے سورج کی روشنی اور سائے میں ہے کس طرح قدرت باری نے چیزوں کو سایہ بخشا کہ دور تک پھیلا ہوتا ہے ، اگر اللہ جل جلالہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایسے ہی رکھنے پر قادر تھا مگر اس نے سائے کے بڑھنے گھٹنے کو سورج اور دھوپ سے متعلق کردیا ، سورج اوپر اٹھتا ہے تو سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں اور دھوپ اور گرمی کی تپش پھیلتی ہے اور پھر سورج ڈھلتا ہے تو دوبارہ سائے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ رشتے یہ اسباب ونتائج اللہ نے دنیا کی آبادی اور بنی آدم کے آرام کا سبب بنائے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:54) الماء سے عام پانی مراد ہوسکتا ہے جو کہ حضرت آدم (علیہ السلام) لا خمیر اٹھانے میں استعمال ہوا ۔ یا اس سے مراد مادہ منویہ ہے۔ بشرا۔ سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) بھی ہوسکتے ہیں اور اس صورت میں تنوین تعظیم کے لئے ہے۔ یا یہ جنس بشر کے لئے ہے یعنی آدم و اولاد آدم علیہ السلام۔ فجعلہ نسبا وصھرا : ای قسمۃ قسمین ذوی نسب : ای ذکورا۔ ینسب الیہم وذوات صھر۔ یعنی پھر اس بشر کو دو قسموں میں تقسیم کیا :۔ (1) ذوی نسب ۔ یعنی مرد کہ جن سے نسب چلتا ہے اور کہا جاتا ہے فلاں بن فلاں ۔ (2) ذوات صبر۔ (یعنی عورتیں کہ جن سے سسرالی رشتہ، دامادی رشتہ) ۔ مطلب یہ کہ ایک ناپاک، ناچیز قطرہ آب (نطفہ) سے مردوں اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–60

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 60 : لوشئنا (اگر ہم چاہتے) ‘ لبعثنا ( البتہ ہم ضرور بھیجتے) ‘ لا تطع (کہنا مانیئے) جھاد کبیر (زوردار مقابلہ) ‘ مرج ( اس نے ملایا) ‘ البحرین (دودریاؤں کو) ‘ عذب (میٹھا) ‘ فرات (خوش گوار۔ پی کر مزہ آئے) ‘ ملح (کھاری) ‘ اجاج (کڑوا) ‘ حجر (آڑ۔ رکاوٹ) ‘ محجور ( جو خود آڑ میں ہو) ‘ نسب (نسب۔ نسبی رشتے) ‘ صھر (شادی کے رشتے ۔ سسرال) ‘ ظھیر ( سرکش۔ مقابل۔ پشت پناہی کرنے والا) ‘ ما اسئل (میں نہیں مانگتا) ‘ ذنوب (ذنب) (گناہ ۔ خطائیں) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) ‘ استوی ( وہ برابر ہوا۔ جلوہ گرہوا) ‘ تأ مرنا ( تو ہمیں حکم دیتا ہے) ‘ نفور (نفرت۔ ناگواری) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 60…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 54–55

(ف 3) اس آیت میں فرمایا کہ اللہ وہ ہے جس نے پانی یعنی نطفہ سے انسان کو پیدا کیا اور اس نے ایک نطفہ سے دوقسم کے انسان پیدا کیے ، مرد اور عورت۔ نسب یعنی خا ندان سے مراد مرد ہے کیونکہ نسب مردوں ہی کی طرف منسوب ہوتا ہے کہتے ہیں کہ فلاں بن فلاں اور صہر یعنی سسرال سے مراد عورت ہے کیونکہ نکاح کے رشتے اس سے قائم ہوتے ہیں یہ مثال بیان کرکے فرمایا کہ پھر بھی کافروں کا یہ حال ہے کہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پروردگار کو ہر قسم کی قدرت ہے چاہے لڑکا پیدا کرے چاہے لڑکی، اس کی قدرت میں کوئی شریک نہیں ۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ یہ مشرک لوگ بڑے نادان ہیں کہ اپنے پیدا کرنے والے کو خالص عبادت کو چھوڑ کر پتھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[34] یعنی منی سے۔ [35] یعنی ایک ناچیز قطرے کو کیا سے کیا کردیا اور کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

حل لغات :۔ صھرا ۔ خسر ، داماد ، بہنوئی ، سسرال یا وہ مادی قرابت والا ظھیرا ۔ اصل معنے مددگار اور معاون کے ہیں ۔ مگر جب صلہ علی ہو تو اس کے معنے مخالف اور دشمن کے ہوجاتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(54) وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے بشر کو پانی یعنی نفطہ سے پیدا کیا اور اس کو نسب والا سسرال والا بنایا اور اے مخاطب تیرا پروردگار بڑی قدرت والا ہے یعنی پانی کے قطرے کو کیا سے کیا کردیا ددھیال اور ننہیال کے رشتے قائم کیے اور ن کا ح بیاہ سے داماد اور سسرال کے رشتے قائم کئے اس طرح خاندان اور نسلیں چلائیں اور یہ پروردگار کا بڑا احسان ہے خاندان اور نسلیں ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں اور آپس میں مل کر مضبوط ہوتے ہیں اس نعمت کا حق یہ ہے کہ بشر اسی وحدہ لا شریک کی عبادت کرے لیکن بشر نے اس نعمت کا جس طرح کفران کیا اس کا ذکر آگے فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 54–56

ف 4۔ ان کے ایمان نہ لانے سے آپ کا کیا نقصان ہے، پھر آپ کیوں غم کریں، اور نہ آپ اس مخالفت کو معلوم کر کے فکر میں پڑیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آفاق دلائل کے بعد توحید الہی کے انفسی دلائل اور نئے خدشات کا ازالہ : 54۔ نسب کیا ہے اور صہر کیا ؟ نسب بھی قرابت ہے اور صہر بھی قرابت ہے لیکن ” نسب “ آباء یعنی مرد کی طرف سے ہے اور ” صھر “ عورت کی طرف سے ہے ۔ زیر نظر آیت میں گویا دلائل آفاقی سے دلائل انفس کی طرف مضمون کو منتقل کیا گیا ہے تاکہ توحید الہی کو مختلف دلائل سے ذہن نشین کرایا جائے ، اسی طرح اب انفسی دلائل کی طرف توجہ مبذول کرائی جا رہی ہے جو انسان کی اپنی ذات میں موجود ہیں فرمایا جا رہا ہے کہ اسے انسان ! اپنی چال ڈھال ‘ اپنی نخوت وتکبر ‘ اپنے اکڑنے اور اترانے والے ‘ ذرا دیکھو کہ ہم نے کس حقیر پانی سے تیری پیدائش کردی کہاں وہ قطرہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 54–56

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرً‌ا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرً‌ا (And He is the One who created man from water then made of him kinship of blood and kinship of in-laws. 25:54) نَسَب (nasab, translated above as 'kinship of blood' ) is that relationship which emanates from either parent, and صِهْر (sihr, translated above as 'kinship of in-laws' ) is that kinship which is drawn from the wife's side and is called in - laws. All these relations and bonds are Allah's graces given to mankind for a pleasant and tranquil life. If these relations are taken away from someone's life it will be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

69 Here the miracle of the birth of man from a mere sperm drop and the procreation of his offspring from man and woman have been cited as a proof of Tauhid. Though both man and woman belong to the same genus, they are two species, having important common human characteristics but different physical structures and psychological traits. It is a proof of Tauhid that the All-Powerful Allah has used this "difference" for making the two as complements and not antagonists. ' It is also the design of the All-Powerful Creator that He is creating sons and daughters in the world in due proportion Then…

Read the full tafseer →