Explained with ayahs 51–54
النبی کل عالم ؑ
اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا لیکن اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا ہے کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کردوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے ٹھہر نے کی جگہ جہنم ہے اور فرمان ہے کہ تم مکہ والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور آیت میں ہے کہ اے نبی آپ کہہ دیجئے کہ اے تمام لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول اللہ ﷺ بن کر آیا ہوں۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے میں سرخ وسیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ بخاری ومسلم کی اور حدیث میں ہے کہ تمام…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 68
یہ کیفیت ہر اس جگہ رونما ہوتی ہے جہاں کوئی بڑا دریا سمندر میں آ کر گرتا ہے۔ اس کے علاوہ خود سمندر میں بھی مختلف مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے پائے جاتے ہیں جن کا پانی سمندر کے نہایت تلخ پانی کے درمیان بھی اپنی مٹھاس پر قائم رہتا ہے۔ ترکی امیر البحر سیدی علی رئیس (کاتب رومی) اپنی کتاب مرآۃ الممالک میں، جو سولہویں صدی عیسوی کی تصنیف ہے خلیج فارس کے اندر ایسے ہی ایک مقام کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ وہاں آب شور کے نیچے آب شیریں کے چشمے ہیں، جن سے میں خود اپنے بیڑے کے لیے پینے کا پانی حاصل کرتا رہا ہوں۔ موجودہ زمانے میں جب امریکن کمپنی نے سعودی عرب میں تیل نکالنے کا…
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ۚ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا، لفظ مرج آزاد چھوڑ دینے کے معنے میں آتا ہے اسی وجہ سے مرج چراگاہ کو کہتے ہیں جہاں جانور آزادی سے چلیں پھریں اور چریں۔ عذب میٹھے پانی کو کہا جاتا ہے۔ فرات خوش ذائقہ اور خوشگوار ملح نمکین اجاج تیز وتلخ۔
حق تعالیٰ نے اپنے فضل اور حکمت بالغہ سے دنیا میں دو طرح کے دریا پیدا فرمائے ہیں۔ ایک سب سے بڑا بحر محیط جس کو سمندر کہتے ہیں اور زمین کے سب اطراف اس میں گھرے ہوئے ہیں ایک چوتھائی کے قریب حصہ ہے جو اس سے کھلا ہوا ہے اس میں ساری دنیا آباد ہے۔ یہ سب سے بڑا دریا…
Read the full tafseer →کائنات کے اضداد کی باگ خدا کے ہاتھ میں ہے
مرج کے معنی چھوڑنے کے ہیں اور فرات کے معنی ہیں غایت درجہ شیریں و خوشگوار
حجر معجوراً کی وضاحت آیت 2 ہ کے تحت گزر چکی ہے۔ یہاں یہ مضبوط آڑ اور محکم اوٹ کے مفہوم میں ہے۔ حجراً معجوراً اسی طرح کی ترکیب ہے جس طرح ظلاظلیلاً وغیرہ ترکیبیں ہیں۔
التفات کی آیات کے بعد یہ پھر آفاق کی نشانیوں میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت کی ایک اور عظیم نشانی کی طرف توجہ دلائی کہ وہی خدا ہے جو ایک طرف سے شیریں پانی کے دریا کو چھوڑتا ہے دوسری طرف سے کھاری پانی کے سمندر کو دونوں کی موجیں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ نہیں ہوتا کہ شیریں پانی کھاری بن جائے…
Read the full tafseer →53-1آپ شریں کو فرات کہتے ہیں، فَرَات کے معنی کاٹ دینا، توڑ دینا، میٹھا پانی پیاس کو کاٹ دیتا ہے یعنی ختم کردیتا ہے۔ اُجَاج، سخت کھاری یا کڑوا۔
53-2جو ایک دوسرے سے ملنے نہیں دیتی بعض نے حجرا محجورا کے معنی کیے ہیں حراما محرما ان پر حرام کردیا گیا ہے کہ میٹھا پانی کھاری یا کھاری پانی میٹھا ہوجائے اور بعض مفسرین نے مرج البحرین کا ترجمہ کیا ہے خلق المائین دو پانی پیدا کیے ایک میٹھا اور دوسرا کھاری میٹھا پانی تو وہ ہے جو نہروں چشموں اور کنوؤں کی شکل میں آبادیوں کے درمیان پایا جاتا ہے جس کو انسان اپنی ضروریات کے لیے استعمال کرتا ہے اور کھاری پانی وہ ہے جو مشرق و مغرب میں پھیلے ہوئے بڑے بڑے سمندروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
18: دریاؤں اور سمندروں کے سنگھم پر یہ نظارہ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ دو الگ الگ قسم کے پانی ساتھ ساتھ چلتے ہیں ؛ لیکن ایک دوسرے میں گڈ مڈ نہیں ہوتے، بلکہ دور تک ان کی خصوصیات الگ الگ دیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہیں، یہی وہ عجیب و غریب آڑ ہے جو دونوں کو ایک دوسرے کی سرحد عبور کرنے نہیں دیتی۔
Read the full tafseer →اس کے بعد روئے سخن اس کائنات کے مناظر کی طرف پھرجاتا ہے۔ چناچہ ہوائوں کے منظر ، پاک و صاف پانی کے منظر ، سمندروں میں میٹھے اور کھارے پانی اور ان کے درمیان پائے جانے والے قدرتی پردے کے مناظر بیان کئے جاتے ہیں۔
وھو الذی ……محجوراً (54)
یعنی وہ ذات جس نے وہ سمندروں کو چلا رکھا ہے ، ایک میٹھا ہے اور دوسرا نمکین اور کھارا ہے ، دونوں ایک جگہ باہم ملے ہئے ہیں لیکن وہ باہم مخلوط نہیں ہوتے۔ ان کے درمیان قدرت نے ایک پردہ قائل کردیا ہے۔ دونوں کی فطرت ایسی بنا دی ہے کہ وہ باہم مل ہی نہیں سکتے۔ کڑوے سمندروں کے اوپر میٹھے پانی کی نہریں ہیں۔ میٹھے پانی کی ایک نہر سطح سمندر کے اوپر چلتی ہے۔ اس کے برعکس کم ہی…
Read the full tafseer →4 بیان القرآن میں دو معتبر بنگالی علماء کی شہادت نقل کی ہے کہ " ارکان " سے " چاٹگام " تک دریا کی شان یہ ہے کہ اس کی دو جانبیں بالکل الگ الگ نوعیت کے دو دریا نظر آتے ہیں، ایک کا پانی سفید ہے، ایک کا سیاہ، سیاہ میں سمندر کی طرح طوفانی تلاطم اور تموج ہوتا ہے اور سفید بالکل ساکن رہتا ہے کشتی سفید میں چلتی ہے اور دونوں کے بیچ میں ایک دھاری سی برابر چلی گئی ہے جو دونوں کا ملتقی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سفید پانی میٹھا ہے اور سیاہ کڑوا۔ اور مجھ سے " باریسال " کے بعض طلبہ نے بیان کیا کہ ضلع " باریسال " میں دو ندیاں ہیں جو ایک ہی دریا سے نکلی ہیں۔ ایک کا پانی کھاری بالکل کڑوا، اور ایک کا نہایت شیریں اور…
Read the full tafseer →ہٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّہٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ج ”
اس کی قدرت سے نمکین اور کھارے سمندر کے اندر میٹھے پانی کی رو بھی بہہ رہی ہے۔
وَجَعَلَ بَیْنَہُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا ”
یہ پردہ ‘ آڑ یا روک نظر آنے والی کوئی چیز تو نہیں ہے ‘ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی صناعیّ کا شاہکار ہے کہ میٹھا پانی کڑوے پانی کے ساتھ سمندر کے اندر دور تک ملنے نہیں پاتا۔
Read the full tafseer →65 مرج کا لغوی معنی دو چیزوں کو اس طرح ملانا یا ان کا آپس میں اس طرح ملنا ہے کہ ان دونوں کی انفرادی حیثیت اور خواص برقرار رہیں۔ جیسے غصن مریج باہم گتھی ہوئی ٹہنی ( مفرادت امام راغب ( اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ایک نہایت محیرالعقول نشانی بتلائی ہے اور وہ نشانی اتنی عام ہے جو بیشمار لوگوں کے مشاہدہ میں آچکی ہے۔ اور جغرافیہ دان حضرات اور جغرافیہ پڑھنے والے طالب علم اس حقیقت سے خوب واقف ہیں جو سمندروں کے اندر بھی ایسے۔۔ چل رہے ہیں جیسے سطح زمین پر بہہ رہے ہیں۔ کہیں گرم پانی کی روئیں چل رہی ہیں کہیں ٹھنڈے پانی کی، کہیں کھاری پانی کی، کہیں میٹھے پانی کی، اور یہ روئیں اتنی لمبی ہوتی ہیں…
Read the full tafseer →60۔ (جو خود تو خفی اور غیر محسوس ہے لیکن اس کا اثر یعنی امتیاز دونوں پانیوں کے درمیان محسوس ہے) مراد ان دو دریاؤں سے وہ مواقع ہیں جہاں شیریں ندیاں اور نہریں بہتے بہتے سمندر میں آکر گری ہیں، وہاں باوجود اس کے کہ اوپر سے دونوں کی سطح ایک معلوم ہوتی ہے لیکن قدرت الہیہ سے ان میں ایک ایسی حد فاصل ہے کہ ملتقی کے ایک جانب سے پانی لیاجائے تو شیریں سے اور دوسری جانب سے جو کہ جانب اول کے بالکل قریب ہے پانی لیاجائے تو تلخ (تھانوی (رح) ہندوستان میں دو دریاؤں کے درمیان اس قسم کے اختلاط صوری اور افتراق معنوی کا مشاہدہ متعدد مقامات پر ہوسکتا ہے۔ مثلا مشرقی سرحد پر، اراکان (علاقہ برھما) اور چاٹگام کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
آیت نمبر 45 تا 60
ترجمہ : کیا تو اپنے رب کی صنعت کو نہیں دیکھتا وقت اسفار سے طلوع شمس کے وقت تک اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک ھالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا، یعنی ساکن رکھتا جو طلوع شمس سے زائل نہ ہوتا پھر ہم نے سورج کو اس سایہ کو اپنی طرف بتدریج سمیٹ لیا یعنی طلوع شمس کی وجہ سے شیئاً فشیئاً اور وہ ایسا ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات کا لباس یعنی لباس کے مانند ساتر بنایا اور نیند کو قطع کرنے والی یعنی جسموں کے لئے اعمال کو موقوف کرکے راحت کی چیز بنایا اور دن کو منتشر ہونے کا وقت بنایا اس میں رزق وغیرہ حاصل کرنے کے لئے اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں اور ایک…
Read the full tafseer →وہو الذی مرج البحرین ہذا عذب فرات وہذا ملح اجاج وجعل بینہما برزخا وحجرا محجورا۔ اور اللہ وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملایا (اور متصل کیا) ہے یہ میٹھا ہے پیاس بجھانے والا اور یہ
نمکین ہے کڑوا اور دونوں کے درمیان ایک پردہ بنا دیا ہے اور ایک مضبوط بندش کردی ہے۔
مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یعنی ایک سمندر کو دوسرے سمندر سے متصل اور چسپاں کر کے آزاد چھوڑ دیا (کہ اگر ہو سکے تو ایک دوسرے کے ساتھ مخلوط اور یکذات ہوجائیں لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔ ہر سمندر باوجودیکہ دوسرے سے ملا ہوا اور متصل ہے مگر اپنی حد میں رہتا ہے۔ مترجم) مَرَجَ الدَّابَّۃَاور اَمْرَج الدَّابَّۃَجانور کو چراگاہ میں آزاد چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے…
Read the full tafseer →(53) اور وہ ایسا ہے جس نے دو دریاؤں کو ملایا جن میں ایک تو شیریں تسکین بخش ہے اور ایک شور تلخ ہے۔
اور باوجود اس کے ان دونوں یعنی شیریں اور تلخ کے درمیان ایک حجاب اور ایک دوسرے کے پانی کے اختلاط سے ایک مانع قوی رکھ دیا۔
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ۔۔ : ”فُرَاتٌ“ ”فَرُتَ یَفْرُتُ“ کا معنی توڑ دینا ہے، میٹھا پانی پیاس کو ختم کرتا ہے، اس لیے اسے ”فُرَاتٌ“ کہتے ہیں۔ توحید کے دلائل جو ”اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ“ سے شروع ہوئے تھے یہ ان کا چوتھا سلسلہ ہے۔ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی قدرت کے کمال اور انسان پر اس کے انعامات تینوں چیزوں کا بیان ہے۔ اس کی ہم معنی آیت سورة رحمن میں ہے : (مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيٰنِ) [ الرحمٰن : 19، 20 ] ”اس نے دو سمندروں کو ملادیا، جو اس حال میں مل رہے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے (جس سے) وہ…
Read the full tafseer →(وھو الذی مرج البحرین۔۔۔۔۔
وھو الذی مرج البحرین کلام نعم کے ذکر کی طرف راجع ہے مرج کا کا معنی تخلیہ، خلط ملط کرنا اور بھیجنا ہے۔ مجاہد نے کہا : دونوں کو بھیجا اور ایک دو سے میں بہایا ہے۔ ابن عرفہ نے کہا : مرج البحرین دونوں کو خلط ملط کردیا پس دونوں آپس میں مل جاتے ہیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : مرجتہ جب تو اسے خلط ملط کر دے۔ مرج الدین والا مردین اور امر خلط ملط ہوجائے اور مضطرب ہوجائے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فی امر مریج۔ ( ق) اسی معنی میں رسول اللہ ﷺ کا حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص کو فرمان ہے : اذا رایت الناس مرجت عھودھم وخفت اما ناتھم وکانوا ھکذا وھکذا (1) جب تو لوگوں کو دیکھے کہ…
Read the full tafseer →1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وھو الذی مرج البحرین “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک سمندر کو دوسرے پر چھوڑدیا اور میٹھا پانی نمکین کو خراب نہیں کرتا اور نمکین میٹھے کو خراب نہیں کرتا۔
2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ” وہو الذی مرج البحرین “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سمندر کو دوسرے پر بہادیا (مگر پانی آپس میں نہیں ملتے)
3۔ ابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” مرج البحرین “ سے مراد ہے ایک سمندر آسمان میں اور ایک سمندر زمین میں۔
4۔ ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ ” فرات “ سے مراد ہے میٹھا اور ”…
Read the full tafseer →وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْ [ وہی ہے جس نے ] مَرَجَ [ رواں کئے ] الْبَحْرَيْنِ [ دو سمندر ] ھٰذَا [ یہ ] عَذْبٌ [ خوشگوار ہے ] فُرَاتٌ [ نہایت شیریں ہے ] وَّھٰذَا [ اور یہ ] مِلْحٌ [ کھاری ہے ] اُجَاجٌ ۚ [ نہایت کڑوا ہے ] وَجَعَلَ [ اور اس نے بنایا ] بَيْنَهُمَا [ ان دونوں کے درمیان ] بَرْزَخًا [ ایک پردہ ] وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا [ اور ایک مضبوط رکاوٹ ]
م ر ج
(ن) مرجا (1) گڈمڈ کرنا۔ الجھا دینا۔ (2) مویشی کو چرنے کے لئے یا پانی کو بہنے کے لئے چھوڑنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 53 ۔
مریج پیچیدہ یا الجھا ہوا معاملہ۔ فھم فی امر مریج (پس وہ لوگ ایک الجھے ہوئے کام میں ہیں) 50/5 ۔
مارج دھواں ملا ہوا شعلہ۔…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر، میٹھے اور کھارے سمندر میں امتزاج، نطفہ سے انسان کی تخلیق
ان دونوں آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے بعض مظاہر بیان فرمائے ہیں، جو لوگوں کی نظر کے سامنے ہیں اور ان چیزوں کو لوگ جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں، ان میں سے ایک تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دو سمندروں کو اس طرح ملا دیا کہ دونوں ساتھ چلتے ہیں ان میں سے ایک میٹھا ہے جس سے خوب اچھی طرح پیاس بجھتی ہے اور ایک خوب زیادہ شور ہے کڑوا ہے، ان دونوں کے درمیان اللہ تعالیٰ نے ایک آڑ بنا دی ہے اور رکاوٹ لگا دی ہے جس کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے میں گھلتے ملتے نہیں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ظاہری کوئی آڑ نہیں ہے، بس اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
قسم چہارم از دلائل توحید
وھو الذی مرج البحرین ھذا عذب فرات وھذا ملح اجاج۔
اور وہ خدا وہ ہے جس نے اپنی قدرت بالغہ اور حکمت سابقہ سے دو دریاؤں کو ملا کر رواں کیا ان میں سے ایک تو یہ شریں اور خوش ذائقہ اور تشنگی کو دفع کرنے والا اور پیاس بجھانے والا ہے اور ایک یہ دوسرا کھاری ہے کڑوا ہے اور ان کے درمیان اپنی قدرت سے ایک آڑ اور مضبوط روک رکھ دی کہ ایک کا پانی دوسرے سے ملنے نہ پاوے۔ مراد ان دو دریاؤں سے وہ مواقع ہیں جہاں شیریں دریا اور نہریں بہتے بہتے سمندر میں آکر گرتی ہیں۔ جیسے دریائے دجلہ کا پانی نہایت شیریں ہے جب اس کا پانی سمندر میں گرتا ہے تو دور تک دونوں کی موجیں اور دھاریں الگ الگ نظر آتی…
Read the full tafseer →34:۔ ” وھو الذی مرج الک “ یہ دعوی سورت پر نویں عقلی دلیل ہے یہ بھی اس کی توحید اور قدرت کاملہ کی دلیل ہے کہ دو سمندر ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ایک کا پانی نہایت میٹھا اور خوشگوار ہے اور دوسرے کا پانی نہایت تلخ ہے اور ان کے درمیان برزخ اور ایک ایسا پردہ حائل ہے جو کسی کو نظر نہیں آتا یعنی کوئی مرئی پردہ نہیں محض قدرتی پردہ ہے مگر اس کے باوجود دونوں آپس میں ملتے نہیں حاجز اغیر مرئی من قدرتہ (ابو السعود) جو اللہ ایسی زبردست قدرت والا ہے وہی برکات دہندہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے نمونے اور توحید کے دلائل بیان فرمائے پہلے سائے کا ذکر ہوا ، پھر شب و روز کے تغیر و تبدل اور ہوائوں کے چلنے کا ذکر ہوا ۔ اللہ نے خاص طور پر پانی کے نزول اور اس کی افادیت کا ذکر کیا ، پھر کافروں کی مذمت بیان ہوئی اور اللہ نے اپنے پیغمبر کو نافرمانوں کے ساتھ بڑا جہاد کرنے کا حکم دیا ۔ معترضین کے رسالت کے متعلق اعتراضات کا ثباتی جواب بھی دیا ۔ اب آج کی آیات بھی خدا تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل ہیں۔
دو متضاد پانیوں کا ملاپ
اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی پہلی دلیل یہ بیان فرمائی ہے…
Read the full tafseer →وَہُوَالَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ 0ۚ وَجَعَلَ بَيْنَہُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا 53
مرج
أصل المَرْج : الخلط، والمرج الاختلاط، يقال : مَرِجَ أمرُهم «2» : اختلط، ومَرِجَ الخاتَمُ في أصبعي، فهو مارجٌ ، ويقال : أمرٌ مَرِيجٌ. أي : مختلط، ومنه غصنٌ مَرِيجٌ: مختلط، قال تعالی: فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَرِيجٍ [ ق/ 5] والمَرْجان : صغار اللّؤلؤ . قال : كَأَنَّهُنَّ الْياقُوتُ وَالْمَرْجانُ [ الرحمن/ 19] من قولهم : مَرَجَ.
ويقال للأرض التي يكثر فيها النّبات فتمرح فيه الدّواب : مَرْجٌ ، وقوله : مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ
[ الرحمن/ 15] أي : لهيب مختلط،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
ترکیب : بینہما ظرف لجعل علی ربہ متعلق ہے ظہیرًا سے خبر کان، الامن شاء استثنیٰ من غیر الجنس الرحمن مبتداء فسئل بہ خبر۔
تفسیر : : وھوالذی مرج البحرین الخ (4) یہ دلیل ہے کہ اس نے دو قسم کے دریا رواں کئے۔ یا یوں کہو دو دریا کو باہم ملایا۔ ایک ان میں سے نہایت شیریں ‘ خوشگوار اور دوسرا کھاری تلخ اور باہم ملنے نہیں پاتے ان میں قدرتی حد فاصل رکھی ہوئی ہے۔ زمین کے دریا رواں جب سمندر میں گرتے ہیں اور یہ دریا شیریں ہوتے ہیں تو دور تک دونوں کی دو دو دھاریں نظر آتی ہیں باہم اختلاط پر امتیاز معلوم ہوتا ہے ان میں سمندر کی دھار کھاری اور زمین کے دریائِ رواں کی دھار شیریں ہوتی ہے سمندر میں پڑنے سے دونوں سمندر…
Read the full tafseer →وَھُوَالَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ج وَجَعَلَ بَیْنَھُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا۔ (الفرقان : 53)
(اور وہی ہے جس نے ملادیا ہے دو دریائوں کو، ایک کا پانی شیریں اور خوشگوار اور دوسرے کا نہایت شور و تلخ اور ان دونوں کے درمیان اس نے ایک پردہ بنادیا ہے اور ایک مضبوط رکاوٹ۔ )
مَرَجَ … کے معنی چھوڑنے اور ملانے کے ہیں۔ فُرَاتٌ … کا معنی ہے شیریں اور خوشگوار۔
حِجْرًا مَّحْجُوْرًا … کے معنی مضبوط آڑ اور محکم اوٹ کے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک اور نشانی
آفاق کی نشانیوں میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ایک حیران کن کرشمے کی طرف توجہ دلائی ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : رسول اکرم ﷺ کو کفر کے خلاف جہاد کبیر کرنے کا حکم دینے کے بعد اب پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرتوں کا تذکرہ کرتا ہے۔ اشارۃً یہ بھی سمجھا دیا کہ جس طرح سمندر کا پانی کڑوا اور میٹھا ہوتا ہے اور اس کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ اسی طرح لوگوں کا معاملہ ہے کچھ نیک ہوتے ہیں اور کچھ برے ہوتے ہیں۔
وہی ذات کبریا ہے جس نے دو سمندروں کو باہم ملا رکھا ہے۔ ایک طرف نہایت میٹھا پانی چل رہا ہے اور اس کے ساتھ، ساتھ نہایت کڑوا پانی بہہ رہا ہے۔ ایک ہی سمندر میں چلنے والے دونوں پانیوں کے درمیان ایک غیرمری پردہ حائل کردیا گیا ہے۔ نہ میٹھا پانی کڑوے کے ساتھ ملتا ہے اور نہ کڑوا میٹھے پانی میں دخل انداز…
Read the full tafseer →قدرت کا عجیب نظارہ :
53: وَھُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ (اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملایا) مرج کا معنی ملا ہوا اور پاس پاس چھوڑدیا۔ یہ مرجت الدابۃ سے لیا گیا جبکہ اس کو چر نے کیلئے چھوڑا جائے بحرینؔ کثیر مقدار اور وسیع مقدار میں پانی کو کہتے ہیں۔ ھٰذَا (یہ) ایک ان میں سے عَذْبٌ فَرَاتٌ (میٹھا پیاس بجھانے والا۔ )
نحو : فرات یہ عذب کی صفت ہے۔ بہت ہی میٹھا یہاں تک کہ حلاوت کے قریب پہنچ جائے۔
وَّ ھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ (اور یہ نمکین کھاری ہے) اُجاجؔ یہ ملحٌ کی صفت ہے یعنی انتہائی نمکین۔ وَجَعَلَ بَیْنَھُمَا بَرْزَخًا (اور ان کے درمیان پردہ بنادیا) ان کے مابین حائل بنایا جو ان کو…
Read the full tafseer →53۔ وھوالذی مرج البحرین، وہ ایک سمندر کو دوسرے سمندر سے متصل اور چسپاں کرکے آزاد چھوڑ دیا۔ بعض نے کہا کہ ان دونوں کو چلنے کے لیے آپس میں چھوڑ دیا جیسے کہاجاتا ہے یرسل الخیل المرج، گھوڑے کو چراگاہ میں آزاد چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چرتا پھرے مرج اصل میں کہاجاتا ہے کسی چیز کو خلط ملط کرکے چھوڑ دینا۔
” ھذاعذب فرات، شدید پیاس کو بھجانے والا۔ وھذاملح اجاج، شدید نمکین، بعض نے کہا کہ اجاج کا معنی ہے تلخ، کڑوا، وجعل بینھما برزخا، ان دونوں کے درمیان آڑ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا شاہکار تاکہ نمکین شرین کے ساتھ نہ ملے اور شیرین نمکین کے ساتھ نہ ملے۔ وحجرامحجورا، وہ پردہ سخت ہے کوئی اس کی حد سے آگے نہیں…
Read the full tafseer →53:۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ زمین کے نیچے پانی ہے کس واسطے کہ جہاں سے زمین کو کھودا جائے ‘ وہاں سے پانی نکلتا ہے ‘ پھر کہیں سے کھارا پانی نکلتا ہے اور کہیں سے میٹھا اور زمین کے نیچے دونوں پانی ملنے نہیں پاتے ‘ اسی طرح زمین کے اوپر میٹھی ندیاں اور چشمے جو جاری ہیں ان میں کھاری پانی کا کوئی چشمہ ابل کر نہیں مل سکتا ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ آیت میں میٹھے دریا سے زمین کے نیچے کا دریا مراد ہے جس میں سے بیٹھے کنویں کھودنے سے نکلتے ہیں اور میٹھی ندیاں اور چشمے جو جاری ہیں وہ بھی اس میں داخل ہیں کھاری پانی کے دریائوں میں دریائے ہند دریائے یمن ‘ دریائے چین اور دریائے روم وغیرہ سب داخل ہیں ‘ تھمے پانی کا…
Read the full tafseer →آیت 53
یعنی وہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے، ایک لذیذ اور شیریں پانی، اور یہ روئے زمین پر بہنے والے دریا ہیں، دوسرا تلخ اور شورپانی۔ دونوں کی منفعت بندوں کے مصالح کے لئے ہے۔ (وجعل بینھما برزخا) ” اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل کر رکھا ہے “ جو دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملنے سے روکتا ہے تاکہ منفعت مقصود ضائع نہ ہو۔ (وحجرا محجورا) اور دونوں کے درمیان ایک مضبوط رکاوٹ حائل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
نسب اور سسرالی رشتے
قول باری ہے : (وھوالذی خلق من الماء بشرا وجعلہ نسبا وطھوا) اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا اور پھر اس نے نسب اور سسرال کے دو الگ الگ سلسلے چلائے۔ یہاں وہ پانی مراد لینا جائز ہے جس سے جانداروں کی اصل پیدا کی گئی جس کا ذکر اس قول باری میں ہے : (وجعلنا من الماء کل شیء حی) اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی، اور اس سے وہ نطفہ مراد لینا بھی درست ہے جس سے اولاد آدمی کی تخلیق ہوئی۔
قول باری (فجعلہ نسبا وصھرا) کی تفسیر میں طائوس کا قول ہے کہ رضاعت بھی صہر یعنی سسرال میں داخل ہے۔ ایک روایت کے مطابق ضحاک کا قول ہے کہ نسب سے مراد رضاعت ہے اور صہر سے مراد دامادی رشتہ ہے۔…
Read the full tafseer →65 پانی کے دو عظیم الشان ذخیروں کی نعمت میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اللہ وہی ہے جس نے ملا رکھا ہے پانی کے دو عظیم الشان ذخیروں کو "۔ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے۔ اور ان دو سمندروں سے مراد ایک تو میٹھے اور کھاری پانی کے دو ذخیرے ہیں جن میں سے ایک یعنی میٹھے پانی سے انسان اور حیوان پیتے اور دوسری طرح طرح کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں جو کہ چشموں، دریاؤں، نہروں اور تالابوں وغیرہ کی شکل میں پایا جاتا ہے۔ اور دوسرا ذخیرہ سمندروں اور خلیجوں وغیرہ کا وہ ذخیرہ ہے جس کا پانی کھارا اور تلخ ہوتا ہے۔ اور جو خشک زمین سے کہیں زیادہ ہے۔ اور جس سے تمہارے جہاز رانی، بحری نقل و حرکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
اللہ کی طاقت کے ثبوت
میٹھا اور کھارا پانی، انسان کی پیدائش، رسول کریم کی بعثت اور اللہ کا عرش پر مستوی ہونا
تشریح : رب العزت کو دیکھنا کسی بھی انسانی آنکھ کے لیے ممکن نہیں کیونکہ اس کا جلال اس قدر زیادہ ہے کہ بندہ اس کو قیامت کے دن ہی دیکھ سکے گا اس مادی جسم کے ساتھ اس کو آنکھ سے نہیں البتہ دل کی آنکھ اور فہم و فراست سے اس کی بنائی ہوئی تخلیقات سے اس کی عظمت اور بڑائی کا اندازہ ضرور ر کرسکتا ہے۔ اب یہاں اس کی بیشمار تخلیقات میں سے ایک تو میٹھے اور کھارے پانی کو ایک ہی سمندر میں بہتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک ہی سمندر میں بہہ رہے ہیں مگر پانی آپس میں ملتا نہیں۔ کس قدر حیرت ناک اور عجیب و غریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
اے مخاطب تو دیکھتا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہر شے میں اور ہر کام میں ایک رشتہ قائم کردیا ہے یہی رشتہ سبب اور اس کے نتیجے میں ہے سورج کی روشنی اور سائے میں ہے کس طرح قدرت باری نے چیزوں کو سایہ بخشا کہ دور تک پھیلا ہوتا ہے ، اگر اللہ جل جلالہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایسے ہی رکھنے پر قادر تھا مگر اس نے سائے کے بڑھنے گھٹنے کو سورج اور دھوپ سے متعلق کردیا ، سورج اوپر اٹھتا ہے تو سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں اور دھوپ اور گرمی کی تپش پھیلتی ہے اور پھر سورج ڈھلتا ہے تو دوبارہ سائے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ رشتے یہ اسباب ونتائج اللہ نے دنیا کی آبادی اور بنی آدم کے آرام کا سبب بنائے…
Read the full tafseer →1 ۔ جس کی وجہ سے دونوں پانی آپس میں ملنے نہیں پاتے۔ میٹھا میٹھا رہتا ہے اور کھاری کھاری۔ یہ کیفیت ان جگہوں میں اکثر پیش آتی ہے جہاں وہ دریا یا نالوں کا ایک دوسرے سے ملاپ ہوتا ہے یا جہاں کوئی بڑا دریا سمندر میں گرتا ہے۔
Read the full tafseer →(25:53) مرج۔ المرج کے اصل معنی خلط ملط کرنے اور ملا دینے کے ہیں۔ المروج مل جانا۔ اختلاط۔ اسی معنی میں قول حق تعالیٰ ہے۔ فھم فی امر مریج (50:5) سو یہ ایک الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔ وھو الذی مرج المحرین اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے۔
ھذا عذب فرات : ھذا یعنی ان دونوں میں سے ایک۔ عذب میٹھا پانی۔ شیریں، عذوبۃ سے جس کے معنی اپنی کے میٹھا اور خوشگوار ہونے کے ہیں۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ فرات بمعنی شدید العذوبۃ۔ نہایت شیریں پانی، فروتہ (باب کرم فرت یفرت سے) یہ بھی صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ ھذا عذب فرات یہ شیریں ولذیذ پانی۔
وھذا ملح اجاج : ملح (ملح یملح باب کرم سے) یہ بھی صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 60 :
لوشئنا (اگر ہم چاہتے) ‘ لبعثنا ( البتہ ہم ضرور بھیجتے) ‘ لا تطع (کہنا مانیئے) جھاد کبیر (زوردار مقابلہ) ‘ مرج ( اس نے ملایا) ‘ البحرین (دودریاؤں کو) ‘ عذب (میٹھا) ‘ فرات (خوش گوار۔ پی کر مزہ آئے) ‘ ملح (کھاری) ‘ اجاج (کڑوا) ‘ حجر (آڑ۔ رکاوٹ) ‘ محجور ( جو خود آڑ میں ہو) ‘ نسب (نسب۔ نسبی رشتے) ‘ صھر (شادی کے رشتے ۔ سسرال) ‘ ظھیر ( سرکش۔ مقابل۔ پشت پناہی کرنے والا) ‘ ما اسئل (میں نہیں مانگتا) ‘ ذنوب (ذنب) (گناہ ۔ خطائیں) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) ‘ استوی ( وہ برابر ہوا۔ جلوہ گرہوا) ‘ تأ مرنا ( تو ہمیں حکم دیتا ہے) ‘ نفور (نفرت۔ ناگواری) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی قدرت کانمونہ۔
(ف 2) حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی قدرت کی ایک نشانی ہے کہ اس نے میٹھے اور کھاری دریازمین کے اوپر اور نیچے پیدا کیے یہ تو سب کو معلوم ہے کہ زمین کے نیچے پانی ہے کیونکہ جہاں سے زمین کو کھودا جائے وہاں پانی نکلتا ہے کہیں سے کھاری پانی نکلتا ہے اور کہیں سے میٹھا، اور زمین کے نیچے دونوں پانی ملنے نہی پاتے جیسے کہ دجلہ دریائے شور میں میلوں تک چلاجاتا ہے اور اس کے ذائقہ میں کوئی تغیر ہیں آتا عجب شان الٰہی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی پیدا کی ہوئی نعمتوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ لوگ اللہ کی نعمتوں کو پہچان کر اللہ کا شکر ادا کریں۔
Read the full tafseer →[33] چناچہ بنگال میں اس طرح کے دریا پائے جاتے ہیں۔ ارکان سے چاٹگام تک دو دریا بالکل الگ تھلگ نوعیت کے نظر آتے ہیں۔ ایک کا پانی سفید ہے اور دوسرے کا سیاہ اور دونوں کے بیچ ایک دھاری چلی گئی
ہے۔ سفید پانی میٹھا ہے اور سیاہ کڑوا۔ اس طرح بنگال کے ضلع باریسال میں دوندیاں ایک ہی دریا سے نکلی ہیں، ایک کا پانی کھاری اور کڑوا اور دوسرے کا لذیذ و شیریں۔ خلیج فارس کی تہہ سے بہت سے چشمے نکلے ہیں جن سے لوگ میٹھا پانی حاصل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–53
تذکیربآلا اللہ
3: قرآن حکیم دلائل وبراہین کا بےنظیر مجموعہ ہے ۔ اس میں ہر نوع اور ہر طبقے کے لوگوں کے لئے تسکین کا بہتر اور وافر سامان موجود ہے ۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں دعوت و اشاعت کے کسی طریق کو اٹھا نہیں رکھا گیا ۔ اس میں حکمت وفلسفہ بھی ہے ۔ اور نفسیات انسانی کی عکاسی بھی ۔ معقول اور ٹھوس دلائل بھی ہیں ۔ اور اقوام و ملل کے حالات بھی ممکن طریقے تصور میں آسکتے ہیں ۔ وہ سب اس میں موجود ہیں ۔
ان آیات میں مشاہدات فطرت کا بیان ہے ۔ اور تذکیر بآلاء اللہ کے اصول پر ان لوگوں کو دعوت ایمان ہے ۔ جو غرو وفکر کے عادی ہیں ۔
ارشاد ہے کہ دیکھو ہم نے انسانوں کے سکھ اور آرام کے لئے آفات پیدا کیا ۔ اس…
Read the full tafseer →(53) اور وہ قادر مطلق ایسا ہے جس نے دو دریائوں کو ملا کر چلایا ان میں سے ایک کا پانی شیریں اور خوش ذائقہ اور تسکین بخش ہے اور دوسرے کا پانی ان میں سے کھاری ہے سخت کڑوا اور اسی اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اور ایک مضبوط آڑ کردی ہے یہ بات ہندوستان میں جہاں سمندر کا پانی کسی ندی سے ملتا ہے یا ندی سمندر میں ملتی ہے وہاں ایسا ہوتا ہے نہ صرف مزا بلکہ سفید و سیاہ رنگت بھی پانیوں کی ممتاز ہوتی ہے اور یہ کمال قدرت ہے کہ دریا اور سمندر کا پانی مل کر بہے اور ایک دوسرے سے مزے اور رنگ میں جدا رہے اور ایک دوسرے پر غالب نہ آئے دیکھنے والوں کو دونوں دریائوں کے بیچ میں ایک دھاری نظر آتی ہے پنجاب…
Read the full tafseer →ف 3۔ مراد ان دو دریاوں سے وہ مواقع ہیں جہاں شیریں ندیاں اور نہریں بہتے بہتے سمندر میں آکر گری ہیں، وہاں باوجود اس کے کہ اوپر سے دونوں کا سطح ایک معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الہیہ سے ان میں ایک ایسی حد فاصل ہے کہ ملتقی کے ایک جانب سے پانی لیا جاوے تو شیریں اور دوسری جانب سے جو کہ جانب اول سے بالکل قریب ہے پانی لیا جاوے تو تلخ، چناچہ بنگال میں بھی ایسا موقع موجود ہے۔
Read the full tafseer →اضداد کائنات کی باگ ڈور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے :
53۔ (مرج) کا لفظ پہلی بار اس جگہ استعمال ہوا ہے اور دوسری بار سورة الرحمن کی آیت 19 میں اور اس اصل کا ایک لفط (مریج) سورة ق کی آیت 5 میں استعمال ہوا ہے مارج کا لفظ سورة الرحمن کی آیت 15 میں آیا ہے ۔ مرج ای خلط کے معنی ملا دینے کے ہیں ۔ مرج الدابہ کے معنی ہیں جانور کو چراگاہ میں چھوڑ دیا جہاں اور جانور بھی چرتے ہیں تاکہ وہ بھی چرے اور مرج کے معنی اجرا کے بھی ہیں یعنی جاری کردینا اور اس جگہ دونوں معنی کئے گئے ہیں یعنی ملا دیا اور جاری کیا یا چلایا ، (السان العرب) فرات بہت میٹھے پانی کو کہتے ہیں جس طرح اجاج نہایت ہی کھاری پانی کو کہا جاتا ہے ،…
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَـٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَـٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَّحْجُورًا ﴿53﴾
And He is the One who joined the two seas - this is sweat, very sweat and this is bitter, very bitter - and made between them a buffer and a barrier, prohibited (to cross) - 25:53.
The word مَرَج (maraja) means to let off or allow to roam freely and hence pasture is called رَج (maraj) that is where animals can graze and roam about. عَذْبٌ ('adhb) is sweet water, while فُراَت means delicious and pleasant; and مِلح (milh) means salty and أُجَاجٌ…
Read the full tafseer →68 This phenomenon has been perceived in many places in the sea and on the land that sweet water and bitter water has existed side by side. Turkish Admiral Syedi Ali Ra'is, in his book Mir 'at-al-Mamalik, written in the 16th century, has mentioned a place in the Persian Gulf, where springs of sweet waver exist under the bitter waters of the sea, where he could get drinking water for his fleet. The American Oil Company at first obtained water from the same springs in the Persian Gulf, before they dug up wells near Dhahran for supply of drinking water. Near Bahrain also there exist springs of…
Read the full tafseer →