Al-Furqaan 25:52

Al-Furqaan · from ayah 52

25:52

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَجَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا ۟فَلَا تُطِعِ الۡكٰفِرِيۡنَ وَ جَاهِدۡهُمۡ بِهٖ جِهَادًا كَبِيۡرًا‏

تو تم کافروں کا کہا نہ مانو اور ان سے اس قرآن کے حکم کے مطابق بڑے شدومد سے لڑو

— Fateh Muhammad Jalandhari

So do not obey the disbelievers, and strive against them with the Qur'an a great striving.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:52

پس اے نبیؐ، کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ جہاد کبیر کرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو تم کافروں کا کہا نہ مانو اور ان سے اس قرآن کے حکم کے مطابق بڑے شدومد سے لڑو

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس آپ کافروں کا کہنا نہ مانیں اور قرآن کے ذریعے ان سے پوری طاقت سے بڑا جہاد کریں

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا (اے پیغمبر) تم ان کافروں کا کہنا نہ مانو، اور اس قرآن کے ذریعے ان کے خلاف پوری قوت سے جدوجہد کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کافروں کا کہا نہ مان اور اس قرآن سے ان پر جہاد کر بڑا جہاد،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس (اے مردِ مومن!) تو کافروں کا کہنا نہ مان اور تو اس (قرآن کی دعوت اور دلائل) کے ذریعے ان کے ساتھ بڑا جہاد کر،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس تو کافروں کا کہنا مت مان اور اس کے ساتھ ان سے جہاد کر، بہت بڑا جہاد۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لہٰذا آپ کافروں کا بات نہ مانئے اور اس قرآن کی ہدایات کے مطابق ان سے زبردست جہاد کیجئے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو تم ان ناشکروں کی بات کا دھیان نہ کرو اور اسی کے ذریعہ سے ان سے پورا پورا جہاد کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس کبھی کافروں کا کہنا نہیں ماننا اور ان سے جہاد کرو اس قرآن کے ذریعے بہت بڑا جہاد

— مولانا اسحاق مدنی

سو آپ کافروں کا کہا نہ مانئے اور قرآن کے ذریعہ سے ان کا مقابلہ زور شور سے کیجیے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان کفارّ کر کہنا نہ مانئے اور آپ ﷺ ان کے ساتھ جہاد کریں اس (قرآن) کے ذریعے سے بڑا جہاد

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو تم کافروں کا کہا نہ مانو اور ان سے اس قرآن کے حکم کے مطابق بڑے جوش و جذبہ سے لڑو

— محترمہ رفعت اعجاز

So, O Prophet, do not yield to the disbelievers, but wage a Jihad against them with this Qur'an.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, (O Prophet,) do not obey the infidels, and strive against them with it (the Qur‘an), in utmost endeavor.

— Muhammad Taqi Usmani

So, (O Prophet,) do not obey the infidels, and strive against them with it (the Qur‘an), in utmost endeavor.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So obey not the disbelievers, but strive against them with the utmost endeavor with it.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So obey not the disbelievers, but strive against them herewith with a great endeavour.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So do not obey the disbelievers, and strive against them with the Qur'an a great striving.

— Saheeh International

Do not yield to the unbelievers but launch a great campaign against them with the help of the Quran.

— Muhammad Sarwar

So do not follow the unbelievers, and strive against them a mighty striving with it.

— Muhammad Habib Shakir

Se obey not thou the infidels, but strive against them therewith with a great striving.

— Abdul Majid Daryabadi

Therefore listen not to the Unbelievers, but strive against them with the utmost strenuousness, with the (Qur'an).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:52

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–54

النبی کل عالم ؑ اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا لیکن اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا ہے کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کردوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے ٹھہر نے کی جگہ جہنم ہے اور فرمان ہے کہ تم مکہ والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور آیت میں ہے کہ اے نبی آپ کہہ دیجئے کہ اے تمام لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول اللہ ﷺ بن کر آیا ہوں۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے میں سرخ وسیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ بخاری ومسلم کی اور حدیث میں ہے کہ تمام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 67 جہاد کبیر کے تین معنی ہیں۔ ایک، انتہائی کوشش جس میں آدمی سعی و جاں فشانی کا کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھے۔ دوسرے، بڑے پیمانے پر جد و جہد جس میں آدمی اپنے تمام ذرائع لاکر ڈال دے۔ تیسرے، جامع جدوجہد جس میں آدمی کوشش کا کوئی پہلو اور مقابلے کا کوئی محاذ نہ چھوڑے، جس جس محاذ پر غنیم کی طاقتیں کام کر رہی ہوں اس پر اپنی طاقت بھی لگا دے، اور جس جس پہلو سے بھی حق کی سر بلندی کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہو کرے۔ اس میں زبان و قلم کا جہاد بھی شامل ہے اور جان و مال کا بھی اور توپ و تفنگ کا بھی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

جہاد بالقرآن یعنی قرآن کی دعوت کو پھیلانا جہاد کبیر ہے وَجَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا، یہ آیت مکی ہے جبکہ احکام کفار سے قتال و جنگ کے نازل نہیں ہوئے تھے اسی لئے یہاں جہاد کو بہ کے ساتھ مقید کیا گیا، بہ کی ضمیر تو قرآن کی طرف راجع ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ قرآن کے ذریعہ مخالفین اسلام سے جہاد کرو بڑا جہاد، قرآن کے ذریعہ اس جہاد کا حاصل اس کے احکام کی تبلیغ اور خلق خدا کو اس کی طرف توجہ دینے کی ہر کوشش ہے خواہ زبان سے ہو یا قلم سے دوسرے طریقوں سے اس سب کو یہاں جہاد کبیر فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 50–52

آیت (52-50) آنحضرت ﷺ طرف ایک التفات یہاں قرینہ دلیل ہے کہ ضمیر مفعول کا مرجع قرآن ہے جس کی تائید و تصویب ہی کے لئے اوپر کے دلائل بیان ہوئے ہیں۔ یہ نشانیوں کے ذکر کے بیچ میں نبی ﷺ کی طرف التفات ہے کہ جہاں تک دلائل کا تعلق ہے ان کی وضاحت کے لئے ہم نے اس قرآن کو لوگوں کے درمیان گوناگون اسلوبوں سے سنا دیا ہے کہ لیکن ان کی اکثریت اس نعمت کی قدر کرنے کی بجائے ناشکری اور انکار ہی پر اڑی ہوئی ہے تو اب نہ قصور تمہاری سعی کا ہے اور نہ ہمارے اہتمام تذکیر وتعلیم کا بلکہ سارا قصور ان لوگوں کا اپنا ہے۔ قرآن کے دلائل کے گوناگوں پہلو تصریف کے مفہوم کی وضاحت دوسرے مقام میں ہوچکی ہے کہ قرآن نے ہر حقیقت کو اتنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

52-1جاھدھم بہ میں ھا ضمیر کا مرجع قرآن ہے یعنی اس قرآن کے ذریعے سے جہاد کریں یہ آیت مکی ہے ابھی جہاد کا حکم نہیں ملا تھا اس لیے مطلب یہ ہوا کہ قرآن کے اوامرو نواہی کھول کھول کر بیان کریں اور اہل کفر کے لیے جو زجر و توبیخ اور وعیدیں ہیں وہ واضح کریں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 51–53

18: دریاؤں اور سمندروں کے سنگھم پر یہ نظارہ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ دو الگ الگ قسم کے پانی ساتھ ساتھ چلتے ہیں ؛ لیکن ایک دوسرے میں گڈ مڈ نہیں ہوتے، بلکہ دور تک ان کی خصوصیات الگ الگ دیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہیں، یہی وہ عجیب و غریب آڑ ہے جو دونوں کو ایک دوسرے کی سرحد عبور کرنے نہیں دیتی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 50–52

ولقد صرفنہ ……کبیراً (52) ولقد صرفنہ بینھم لیذکروا (25 : 50) ” اس قرآن کو ہم پھیر پھیر کر ان کے سامنے لاتے ہیں تاکہ وہ سبق لیں۔ “ مختلف سورتوں کی شکل میں۔ متعدد اور متنوع اسالیب بیان میں۔ متعدد قطعات کی شکل میں اور اسی کے ذریعہ ہم نے ان کے شعور اور ان کی قوت مدرکہ کو مخاطب کیا۔ ان کی روح اور ان کے اذہان کو مخاطب کیا اور ان کے نفوس کے اندر اسے ہر طرح داخل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے لئے ابلاغ کا ہر حربہ استعمال کیا تاکہ یہ لوگ نصیحت قبول کرلیں۔ یہاں تو صرف یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ وہ حقیقت اور سچائی کا شعور تو خود ان کے نفوس اور ان کی فطرت کے اندر موجود ہے اور انہوں نے حقیقت کے اس شعو رکو اس لئے دبا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 51–52

3 یعنی نبی کا آنا تعجب کی چیز نہیں۔ اللہ چاہے تو اب بھی نبیوں کی کثرت کر دے کہ ہر بستی میں علیحدہ نبی ہو۔ مگر اس کو منظور ہی یہ ہوا کہ اب آخر میں سارے جہان کے لیے اکیلے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبی بنا کر بھیجے۔ سو آپ کافروں کے احمقانہ طعن وتشنیع اور سفیہانہ نکتہ چینیوں کی طرف التفات نہ فرمائیں۔ اپنا کام پوری قوت اور جوش سے انجام دیتے رہیں اور قرآن ہاتھ میں لے کر ان منکرین کا مقابلہ زور و شور کے ساتھ کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو کامیاب کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 52 فَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ ” یہاں پر لفظ اطاعت حکم کی تعمیل کے مفہوم میں نہیں آیا ‘ بلکہ اس فقرے کا مفہوم سمجھنے کے لیے ان حالات کے بارے میں جاننا ضروری ہے جو اس سورت کے نزول کے وقت حضور ﷺ کو مکہّ میں درپیش تھے۔ اس وقت مکہ کی فضا انتہائی کشیدہ تھی اور حضور ﷺ پر ہر طرف سے شدید دباؤ تھا۔ ان حالات میں اکثر لوگ آپ ﷺ کو مشورے دیتے تھے اور بار بار سمجھاتے تھے کہ آپ ﷺ نے اپنی پوری قوم کے ساتھ جو لڑائی مول لے رکھی ہے یہ مناسب حکمت عملی نہیں ہے۔ اس سے قبیلے میں پھوٹ پڑجائے گئی ‘ بھائی بھائی سے کٹ جائے گا ‘ اولاد والدین سے ُ جدا ہوجائے گی ‘ قبیلے کی بنی بنائی ساکھ برباد ہوجائے گی اور اس کے نتائج…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

64 یعنی ہم چاہتے تو ہر بستی میں الگ الگ نبی بھیج دیتے اور ہر جگہ ہی حق و باط کے معرکہ بپا ہوتے۔ لیکن ہماری سنت یہی ہے کہ اب ایک ہی آفتاب نبوت بھیج دیا جائے جس کی رسالت سب لوگوں کے لئے یکساں ہو اور تاقیامت ہو۔ جیسا کہ ایک ہی آفتاب ساری دنیا کو منور کر رہا ہے اور تاقیامت کرتا رہے گا۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ نبی جتنا عظیم الشان ہوگا۔ معرکہ حق و باطل بھی اتنا ہی بڑا ہوگا۔ اسی لئے یہ تاکید فرمائی کہ کافروں سے کسی قسم کے سمجھوتہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ بلکہ اپنی پوری قوت کے ساتھ ان کافروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیجئے۔ یہ خطاب اگرچہ بظاہر رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ لیکن اس میں آپ کی پوری امت بھی شامل ہے۔ جہاد کا لغوی معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

59۔ (جیسا کہ اب تک یہی کرتے رہے ہیں) یعنی کافر تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ ان کی آزادی میں فرق نہ پڑنے پائے۔ اور آپ تبلیغ کے کام میں سست پڑجائیں، سو آپ کہیں ان کے کہیں میں نہ آجائیے گا۔ آپ قرآن کے قائم کیے ہوئے دلائل حق کے ساتھ اپنی تبلیغ عام وتام دونوں جاری رکھیے۔ فقہاء نے کہا ہے کہ اعلاء کلمۃ الحق اور ترک دعوت کے باب میں کافروں کی رعایت و اطاعت حرام ہے، اور اعلان قرآن وتبلیغ بالقرآن میں غایت سعی و جہاد واجب ہے۔” بہ “۔ میں ضمیر قرآن کی جانب ہے۔ اے بالقران (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–60

آیت نمبر 45 تا 60 ترجمہ : کیا تو اپنے رب کی صنعت کو نہیں دیکھتا وقت اسفار سے طلوع شمس کے وقت تک اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک ھالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا، یعنی ساکن رکھتا جو طلوع شمس سے زائل نہ ہوتا پھر ہم نے سورج کو اس سایہ کو اپنی طرف بتدریج سمیٹ لیا یعنی طلوع شمس کی وجہ سے شیئاً فشیئاً اور وہ ایسا ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات کا لباس یعنی لباس کے مانند ساتر بنایا اور نیند کو قطع کرنے والی یعنی جسموں کے لئے اعمال کو موقوف کرکے راحت کی چیز بنایا اور دن کو منتشر ہونے کا وقت بنایا اس میں رزق وغیرہ حاصل کرنے کے لئے اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں اور ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلا تطع الکفرین وجاہدہم بہ جہادا کبیرا۔ سو (اس نعمت کے شکریہ میں) آپ کافروں کی خوشی کا کام نہ کیجئے اور قرآن سے بڑے زورشور سے ان کا مقابلہ کیجئے۔ یعنی کافر جس طرف آپ کو بلاتے ہیں آپ ﷺ ان کا کہا نہ مانیں ان کی موافقت نہ کریں نہ اس چیز میں ان سے رواداری کا سلوک کریں بلکہ ہماری نعمت کا شکر ادا کریں کہ ہم نے سب لوگوں کے لئے آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے آپ ﷺ اپنی دعوت اور اظہارِ حق پر ثابت قدم رہیں اور اللہ کی مدد و توفیق یا قرآن کے ذریعہ سے یا کافروں کی مخالفت کر کے۔ ان سے جہاد عظیم کریں دل سے بھی اور زبان سے بھی اور تلوار سے بھی (جیسا موقع ہو ویسا جہاد کیجئے) مراد یہ ہے کہ کافر ابطالِ حق کی کوشش…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(52) تو آپ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کی خوشی کا کام نہ کیجیے اور ان سے قرآن کریم اور بذریعہ تلوار زور شور سے مقابلہ کیجیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ چونکہ ہم نے ہر بستی کی طرف الگ الگ نذیر بھیجنے کے بجائے تمام جہانوں کے لیے آپ ہی کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، اس لیے آپ کافروں کا کہنا مت مانیے، خواہ وہ معجزوں کا مطالبہ کریں یا طعن و تشنیع اور ٹھٹھے مذاق کے ساتھ دعوت سے روکنے کی کوشش کریں، یا مدا ہنت کی پیش کش کریں، جیسا کہ فرمایا : (وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ) [ القلم : 9 ] ”وہ چاہتے ہیں کاش ! تو نرمی کرے تو وہ بھی نرمی کریں۔“ وَجَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا : ”جَاھَدَ یُجَاھِدُ جِھَادًا وَ مُجَاھَدَۃً“ (مفاعلہ) کسی کے مقابلے میں اپنی پوری کوشش صرف کردینا۔ ”بِهٖ“ سے مراد قرآن مجید ہے، جس کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 51–52

(ولو شئنا۔۔۔۔۔۔ ) ولوشئنا لبعثنا فی کل قریۃ نذیرا۔ نذیر سے مراد رسول ہے یعنی اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک رسول بھیج دیتے جو انہیں ڈرائے جس طرح ہم نے بارش کو تقسیم کیا تاکہ آپ سے نبوت کے بوجھ کم ہوجائیں لیکن ہم نے ایسا نہ کیا بلکہ ہم نے آپ کو سب کے لیے نذیر بنایا تاکہ تیرا درجہ بلند ہوجائے پس اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر بجائو لائو۔ فلا تطع الکفرین کفار آپ کو اپنے بتوں کی اتباع کی جو دعوت دیتے ہیں اس میں کافروں کی اطاعت نہ کرو۔ وجاھد ھم بہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ہ ضمیر سے مراد قرآن ہے۔ ابن زید نے کہا : مراد اسلام ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد تلوار ہے، یہ قول حقیقت سے بعید ہے، کیونکہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 50–52

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ آتی ” ولقد صرفنہ بینہم “ سے مراد ہے بارش جو کبھی اس زمین کو سیراب کرتی ہے اور دوسری کی سیرابی روک دیتی ہے۔ آیت ” لیذکرو، فابی اکثر الناس الا کفورا “ عکرمہ نے کہا کہ ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ کافروں کی ناشکری سے مراد ہے کہ انہوں نے کہا ستاروں کے باعث ہم پر بارش ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ سورة واقعہ میں فرمایا۔ آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد صرفنہ بینہم سے مراد ہے بارش ایک زمین میں اتاری جاتی ہے اور دوسری میں نہیں اتاری جاتی آیت ” فابی اکثر الناس الا کفورا “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَا تُطِعِ [ تو آپ کہا مت مانیں ] الْكٰفِرِيْنَ [ کافروں کا ] وَجَاهِدْهُمْ [ اور آپ ﷺ جہاد کریں ان سے ] بِهٖ [ اس (قرآن) کے ساتھ ] جِهَادًا كَبِيْرًا [ جیسے بڑا جہاد کرنے کا حق ہے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 52 ۔ میں جھاد کبیرا کا حکم آیا ہے۔ یہ آیت مکی ہے جبکہ کفار سے قتال کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے ، اسی لئے یہاں جہاد کو بہ کے ساتھ مقید کیا گیا۔ بہ کی ضمیر قرآن کے لئے ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ مخالفین اسلام سے جہاد کرو، بڑا جہاد۔ اس کا حاصل قرآن کے احکام کی تبلیغ اور خلق خدا کو اس کی طرف توجہ دلانے کی ہر کوشش ہے ، خواہ زبان سے ہو یا قلم سے یا دوسرے طریقوں سے۔ اس سب کو یہاں جہاد کبیر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–52

پھر فرمایا (وَلَوْ شِءْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ نَذِیْرًا) (اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک نذیر بھیج دیتے) جس سے آپ کی ذمہ داری کم ہوجاتی ہر نبی اپنی اپنی بستی میں دعوت کا کام کرتا اور آپ صرف ام القریٰ (مکہ معظمہ) یا مزید اس کے آس پاس کی چند بستیوں کی طرف مبعوث ہوتے، لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا، آپ کو خاتم النبیین بنایا اور سارے عالم کے انسانوں کی طرف رہتی دنیا تک کے لیے مبعوث فرمایا، یہ اللہ تعالیٰ کا آپ پر بہت بڑا انعام ہے، اس انعام کی شکر گزاری بھی لازم ہے، اور دعوت الی الحق کا کام جو سپرد کیا گیا ہے اس میں بھی محنت اور کوشش کے ساتھ لگنا ضروری ہے، جب آپ محنت کریں گے تو اہل کفر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–52

قسم سوم از دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ وھو الذی ارسل الریاح بشرا بین یدی رحمتہ .... الیٰ .... وجاھدھم بہ جھادا کبیرا۔ اور وہ خدا وہ ہے جو باران رحمت سے پہلے بشارت دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے بارش اللہ کی رحمت ہے اور اس سے پہلے ہواؤں کا چلنا یہ بشارت ہے کہ عنقریب بارش نازل ہونے والی ہے اور ہم نے اپنی رحمت سے آسمان سے ایسا پانی نازل کیا جو خود بھی پاک ہے اور دوسرے کو بھی پاک کرنے والا ہے تاکہ ہم اس پانی کے ذریعہ مردہ یعنی خشک زمین کو زندہ کریں یعنی خشک زمین سے قسم قسم کی نباتات اگاویں۔ اس طرح قیامت کے قریب ایک غیبی بارش نازل ہوگی جس سے مردے زندہ ہوجائیں گے اور تاکہ اس اپنی مخلوقات میں سے چوپایوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 51–52

33:۔ ” ولو شئنا الخ “ یہ تسلی ہے یعنی اگر ہم چاہتے تو تبلیغ رسالت کا کام آپ سے ہلکا کردیتے اور مختلف شہروں میں متعدد انبیاء بھیج دیتے لیکن ہم نے فیصلہ کرلیا کہ اب سارے جہان کی رسالت کا شرف آپ ہی کو عطاء کیا جائے تاکہ آپ رتبہ تمام انبیاء (علیہم السلام) سے اعلیٰ اور آپ کا اجر وثواب سب سے اعظم ہو۔ اس لیے آپ کافروں کی کوئی بات نہ مانیں اور قرآن کے دلائل سے ان کے ساتھ خوب جہاد کریں اور ہر گزس ہمت نہ ہاریں کیونکہ سارے جہان کے ہادی ورہنما آپ ہی ہیں۔ حضرت (رح) تعالیٰ نے فرمایا ” بہ “ کی ضمیر قرآن مجید سے کنایہ ہے بہ ای بالقرآن یعنی بدلائلہ۔ یعنی قرآن کی دعوت اور اس کے دلائل کو خوب واضح کر کے ان تک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 48–52

ربطہ آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید کے سلسلے میں سائے کا ذکر کیا کہ اس کا تعلق سورج کے ساتھ ہے ۔ سورج اس کی رہنمائی کرتا ہے اور یہ گھٹتا بڑھتا ہے ۔ پھر اللہ نے رات اور دن کا ذکر فرمایا کہ یہ بھی قدرت ِ الٰہی کے ہوتے ہیں ۔ اللہ نے رات کو بمنزلہ لباس قرار دیا ، اور نیند کو آرام کو ذریعہ بنایا ۔ پھر دن کے وقت کا روبار اور محنت مزدوری کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جنہیں دیکھ کر اس کی توحید سمجھ میں آتی ہے۔ باران رحمت کی دعائیں اب دلائل قدرت ہی کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے ہوا اور پانی کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھو الذی ارسل الریح بشرا بین…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَجَاہِدْہُمْ بِہٖ جِہَادًا كَبِيْرًا۝ 52 طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» . قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–52

1 ؎ یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ ظل سے مراد سایہ الٰہی ہو وہ کسی قوم اور کسی شخص کے لیے خدا نے کیسا دراز کیا ہو ؟ مگر بقاء اسی کو ہے اس کو ٹھہرا نہیں رکھتا وہ پھر ڈھلنے لگتا ہے اور آفتاب عنایت و اقبال اس کی دلیل ہوتا ہے انسان کی عمر بھی ایک سایہ ہے باوجود درازی کے کس طرح سے ڈھلتی ہے اور یہ بیخبر غافل ہے۔ 12 منہ ترکیب : اناسی اصلا اناسین جمع انسان کسر حان و سراحین ابدلت النون فیہ یاء وادغمت وقیل جمع انسی علی القیاس صرفناہ الضمیر للماء۔ تفسیر : ان کے شبہات رد کر کے اور اس کجروی کا نتیجہ امم گزشتہ کے حالات میں بیان فرما کر اب یہ چند دلائل توحید اور کمال قدرت پر بیان فرماتا ہے : فقال الم ترابی ربک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 50–52

وَلَـقَدْ صَرَّفْـنٰـہُ بَیْنَھُمْ لِیَذَّکَّرُوْا صلے ز فَاَبٰٓی اَکْثَرُالنَّاسِ اِلاَّ کُفُوْرًا۔ وَلَوْشِئْـنَا لَبَعَثْـنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ نَّذِیْرًا۔ فَلاَ تُطِعِ الْـکٰفِرِیْنَ وَجَاھِدْھُمْ بِہٖ جِھَادًا کَبِیْرًا۔ (الفرقان : 50 تا 52) (ہم نے اسے ان کے درمیان مختلف اسالیب سے بیان کیا ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں لیکن اکثر لوگ ناشکری پر ہی اڑے ہوئے ہیں۔ اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے۔ پس آپ کافروں کی بات کی طرف دھیان نہ دیں اور اس قرآن کے ذریعے ان سے پورا پورا جہاد کریں۔ ) تصریفِ آیات کا اعجاز تصریفِ آیات قرآن کریم کا ایک اعجازی پہلو ہے۔ وہ ایک ایسی بات کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–52

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیاں دیکھنے کے باوجود لوگوں کی اکثریت کفر اختیار کرتی ہے۔ حالانکہ انھیں سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں اس قدر واضح اور جامع ہیں کہ اگر انسان ان کی طرف تھوڑی سی توجہ بھی مبذول کرے تو وہ اپنے رب کو پہچان اور ہدایت پاسکتا ہے۔ لیکن انسانوں کی اکثریت حقیقت کی نگاہ سے ” اللہ “ کی نشانیوں کو دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ نشانیاں بتلانے اور دکھلانے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ جنھوں نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 51–52

ہر بستی کی بجائے ساری کائنات میں ایک ہی منذر بھیج دیا : 51، 52: وَلَوْشِئْنَا لَبَعْثْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ نَّذِیْرًا۔ فَلاَ تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ (اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے۔ پس آپ کافروں کی خوشی کا کام نہ کریں) اگر ہم چاہتے تو تمام بستیوں کو ڈر سنانے کی ذمہ داری آپ سے کم کر کے ہر بستی میں ایک پیغمبر بھیج دیتے۔ لیکن ہم نے چاہا کہ آپ کیلئے تمام رسولوں کے فضائل جمع کریں کافۃ للناس کی طرف آپ کو رسول بنائیں۔ ہم نے آپ کو بھیجنے پر اکتفاء کیا اور آپ کو عظمت سے نوازا۔ پس آپ اکیلے ان تمام کی طرح ہیں اسی وجہ سے خطاب میں صیغہ جمع کا لائے یایھا الرسل ] المؤمنون : 51[ پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

52۔ فلاتطع الکافرین ، کافر جس طرف آپ کو بلاتے ہیں۔ آپ ان کا کہانہ مانیں اور ان کی موافقت نہ کریں۔ وجاھدھم بہ، اور ان کے ساتھ جہاد کریں قرآن کے دلائل کے ساتھ، جہادا کبیرا، بڑے زور شور سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–52

51۔ 52:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے ‘ مینہ کے ذکر کے بعد قرآن شریف کا ذکر جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح مینہ کا پانی عام فائدے کے لیے برستا ہے لیکن اس سے فائدہ فقط اچھی زمین کو پہنچتا ہے اور بری زمین میں وہ پانی بالکل رائیگاں جاتا ہے اسی طرح قرآن کی نصیحت اگرچہ عام لوگوں کے فائدے کے لیے ہے لیکن اس نصیحت سے فائدہ فقط ان ہی لوگوں کو پہنچتا ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–52

آیت 51 سے 52 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی مشیت کے نفوذ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو ہر بستی میں ڈرانے والا بھیج دیتا، یعنی ہر بستی میں ایسا رسول بھیج دیتا جو ان کو گناہوں کے انجام سے ڈراتا۔ پس اس کی مشیت اس سے قاصر نہ تھی مگر اے محمد ! ﷺ آپ اور اپنے بندوں پر اس کی حکمت اور رحمت کا تقاضا یہ تھا کہ اس نے آپ کو سرخ و سیاہ، عربی وعجمی اور انس و جن تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا، اس لئے (فلا تطع الکفرین) ” پس نہ بات مانیں آپ کافروں کی۔ “ یعنی کفار کی بات مان کر اس چیز کو ترک نہ کیجئے جس چیز کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے بلکہ اس کی تبلیغ کے لئے پوری کوشش کیجئے۔ (وجاھدھم بہ) ” اور ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 49–54

نسب اور سسرالی رشتے قول باری ہے : (وھوالذی خلق من الماء بشرا وجعلہ نسبا وطھوا) اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا اور پھر اس نے نسب اور سسرال کے دو الگ الگ سلسلے چلائے۔ یہاں وہ پانی مراد لینا جائز ہے جس سے جانداروں کی اصل پیدا کی گئی جس کا ذکر اس قول باری میں ہے : (وجعلنا من الماء کل شیء حی) اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی، اور اس سے وہ نطفہ مراد لینا بھی درست ہے جس سے اولاد آدمی کی تخلیق ہوئی۔ قول باری (فجعلہ نسبا وصھرا) کی تفسیر میں طائوس کا قول ہے کہ رضاعت بھی صہر یعنی سسرال میں داخل ہے۔ ایک روایت کے مطابق ضحاک کا قول ہے کہ نسب سے مراد رضاعت ہے اور صہر سے مراد دامادی رشتہ ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

64 قرآن کے ذریعے جہاد کبیر کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے جہاد کرو اس قرآن کے ذریعے بڑا جہاد "۔ یعنی قرآن حکیم کے احکام و مضامین کی تبلیغ وتعلیم کے ضمن میں اپنے بس کی حد تک جہاں تک ممکن ہو سکے کوشش کرتے جائیے اور اس راہ میں جو رکاوٹیں اور مشکلات پیش آئیں انہیں عزم و استقامت اور خندہ پیشانی سے برداشت کرتے جائیے کہ حق و صداقت اور کامیابی و نجات اور دارین کی فوز و فلاح کی راہ بہرحال یہی اور صرف یہی راہ ہے۔ اور یہ لوگ محض آپ کو زچ کرنے کیلئے نت نئے اور طرح طرح کے مطالبات پیش کرتے ہیں۔ ان کی آپ کوئی پرواہ نہ کریں بلکہ ان کے مقابلے میں قرآن حکیم کے اسی عظیم الشان اور مقدس ہتھیار کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–52

کفار سے جہاد کبیر کیوں اور کیسے ؟ تشریح : جیسا کہ اوپرآ یات میں اللہ کی کچھ نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کسی صورت بھی توحید کے قائل نہیں ہوسکتے تو اللہ رب العزت پیارے نبی ﷺ کو اپنی حکمت سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ آخری اور ایک ہی نبی تمام دنیا کی ہدایت کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ آپ ہی آخری اور ایک ہی نبی ہیں۔ آپ کی شریعت آپ پر نازل کردہ قرآن بہترین مکمل اور ناقابل تردید ہے۔ حق اور سچ ہے اور تاقیامت رہنے والا ہے۔ اس لیے آپ نہ تو اپنے مخالفین سے ڈریں نہ گھبرائیں نہ ہی پریشان ہوں اللہ نے آپ کو اس فرض کو ادا کرنے کے لیے چن لیا ہے۔ آپ بےفکر ہو کر کفار…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف اے مخاطب تو دیکھتا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہر شے میں اور ہر کام میں ایک رشتہ قائم کردیا ہے یہی رشتہ سبب اور اس کے نتیجے میں ہے سورج کی روشنی اور سائے میں ہے کس طرح قدرت باری نے چیزوں کو سایہ بخشا کہ دور تک پھیلا ہوتا ہے ، اگر اللہ جل جلالہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایسے ہی رکھنے پر قادر تھا مگر اس نے سائے کے بڑھنے گھٹنے کو سورج اور دھوپ سے متعلق کردیا ، سورج اوپر اٹھتا ہے تو سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں اور دھوپ اور گرمی کی تپش پھیلتی ہے اور پھر سورج ڈھلتا ہے تو دوبارہ سائے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ رشتے یہ اسباب ونتائج اللہ نے دنیا کی آبادی اور بنی آدم کے آرام کا سبب بنائے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

16 ۔ یعنی توحید کے اثبات اور کفر و شرک کے ابطال کے دلائل سنا سنا کر۔ 17 ۔ یعنی آپ ﷺ کا کام چونکہ بڑا ہے اس لئے آپ ﷺ کو اس سلسلہ میں پوری ہمت صرف کر دینی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:52) لاتطع۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ اطاع یطیع (باب افعال) اطاعت کرنا ۔ حکم ماننا۔ کہا ماننا۔ لاتطع تو کہا مت مان۔ تو اطاعت نہ کر۔ طوع مادہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–60

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 60 : لوشئنا (اگر ہم چاہتے) ‘ لبعثنا ( البتہ ہم ضرور بھیجتے) ‘ لا تطع (کہنا مانیئے) جھاد کبیر (زوردار مقابلہ) ‘ مرج ( اس نے ملایا) ‘ البحرین (دودریاؤں کو) ‘ عذب (میٹھا) ‘ فرات (خوش گوار۔ پی کر مزہ آئے) ‘ ملح (کھاری) ‘ اجاج (کڑوا) ‘ حجر (آڑ۔ رکاوٹ) ‘ محجور ( جو خود آڑ میں ہو) ‘ نسب (نسب۔ نسبی رشتے) ‘ صھر (شادی کے رشتے ۔ سسرال) ‘ ظھیر ( سرکش۔ مقابل۔ پشت پناہی کرنے والا) ‘ ما اسئل (میں نہیں مانگتا) ‘ ذنوب (ذنب) (گناہ ۔ خطائیں) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) ‘ استوی ( وہ برابر ہوا۔ جلوہ گرہوا) ‘ تأ مرنا ( تو ہمیں حکم دیتا ہے) ‘ نفور (نفرت۔ ناگواری) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 60…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–52

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرسنانے والابھیجتے جوان کو اللہ کی طرف بلاتا، لیکن ہم نے تم کو خاص کیا پیغمبری کے ساتھ، اے محبوب تم تمام زمین والوں کی طرف حکم پہنچا دو ، صححین میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا پیغمبر پہلے ایک خاص قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے اور میں تمام دنیا کے لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں پھر فرمایا کہ اس قرآن کے حکم سے ان کے ساتھ جہاد کرو، یعنی تم بڑی کوشش سے ان لوگوں کو قرآن کی آیتیں سناتے رہو، اللہ تمہاری مدد کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[32] جہاد کبیر کے تین معنی ہیں۔ ایک، انتہائی کوشش جس میں آدمی سعی و جانفشانی کا کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھے۔ دوسرے، بڑے پیمانے پر جدوجہد جس میں آدمی اپنے تمام ذرائع لاکر ڈال دے۔ تیسرے، جامع جدوجہد جس میں آدمی کوشش کا کوئی پہلو اور مقابلے کا کوئی محاذ نہ چھوڑے۔ جس جس پہلو سے بھی حق کی سربلندی کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہو کرے۔ اس میں زبان و قلم کا جہاد بھی شامل ہے اور جان و مال کا بھی توپ و تفنگ کا بھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 48–53

تذکیربآلا اللہ 3: قرآن حکیم دلائل وبراہین کا بےنظیر مجموعہ ہے ۔ اس میں ہر نوع اور ہر طبقے کے لوگوں کے لئے تسکین کا بہتر اور وافر سامان موجود ہے ۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں دعوت و اشاعت کے کسی طریق کو اٹھا نہیں رکھا گیا ۔ اس میں حکمت وفلسفہ بھی ہے ۔ اور نفسیات انسانی کی عکاسی بھی ۔ معقول اور ٹھوس دلائل بھی ہیں ۔ اور اقوام و ملل کے حالات بھی ممکن طریقے تصور میں آسکتے ہیں ۔ وہ سب اس میں موجود ہیں ۔ ان آیات میں مشاہدات فطرت کا بیان ہے ۔ اور تذکیر بآلاء اللہ کے اصول پر ان لوگوں کو دعوت ایمان ہے ۔ جو غرو وفکر کے عادی ہیں ۔ ارشاد ہے کہ دیکھو ہم نے انسانوں کے سکھ اور آرام کے لئے آفات پیدا کیا ۔ اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(52) لہٰذا اے پیغمبر آپ ان کافروں کی اطاعت نہ کیجئے اور ان کا کہنا نہ مانئے اور آپ ان کا قرآن کریم اور دلائل توحید کے ساتھ پوری قوت اور پورے زور کے ساتھ ان کا مقابلہ کیجئے اور برابر تبلیغ کرتے رہیے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نبی کا آنا تعجب نہیں اللہ چاہے تو نبیوں کی بہتایت کردے ہر بستی میں ایک نبی سو تو شبہ نہ رکھا کافروں کے انکار سے 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی عام اور تام تبلیغ کیجئے، یعنی سب سے کہئے، اور بار بار کہیئے، اور ہمت قوی رکھیئے، جیسا اب تک آپ کرتے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کافروں کی پیروی نہیں بلکہ ان سے جہاد کرنے کا حکم ہے : 52۔ زیر نظر آیت میں واضح طور پر مسلمانوں کو دو حکم دیئے گئے ہیں اور یہ حکم دینے والا کون ہے ؟ اللہ رب ذوالجلال والاکرام پہلا حکم کیا ہے ؟ ” یہ کہ آپ منکروں کا کہا نہ مانیں “ منکر کون ہیں ؟ اسلام میں سچے دل سے داخل نہ ہونے والے سارے افراد اور انکی مجموعی قومیں خواہ وہ کون ہوں اور خواہ وہ کہاں ہوں ۔ اچھا خود اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کا حیات طیبہ کے وقت آپ ﷺ کی وفات سے لے کر جو لوگ اپنے آپ کو یہودی ‘ عیسائی ‘ ہندو ‘ سکھ ‘ پادری ‘ صابی وغیرہ کے ناموں سے یاد کرتے ہیں کیا یہ سب اہل اسلام ہیں ؟ اگر نہیں تو آج ہم مسلمان من حیث القوم کہا کن کا مان رہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Jihad with Qur'an (its propagation) is great Jihad وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرً‌ا (And strive against them with it (the Qur'an) a great striving - 25:52). This is a Makkan verse when the injunction for Jihad, in the sense of fighting the infidels, had not been revealed. What is ordained in this verse is that you spread the message of Qur'an among the people at large. Propagation of Qur'anic message among people and to make them understand it is great Jihad whether it is by mouth, pen or any other means,

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

67 The Arabic words Jihad-i-Kabir imply three meanings: (1) To exert one's utmost for the cause of Islam, (2) To dedicate all one's resources to this cause, and (3) To tight against the enemies of Islam on all possible fronts with all one's resources in order to raise high the "Word of Allah". This will include jihad with one's tongue, pen, wealth, life and every other available weapon .

Read the full tafseer →