Explained with ayahs 51–54
النبی کل عالم ؑ
اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا لیکن اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا ہے کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کردوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی اس سے کفر کرے اس کے ٹھہر نے کی جگہ جہنم ہے اور فرمان ہے کہ تم مکہ والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور آیت میں ہے کہ اے نبی آپ کہہ دیجئے کہ اے تمام لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول اللہ ﷺ بن کر آیا ہوں۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے میں سرخ وسیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ بخاری ومسلم کی اور حدیث میں ہے کہ تمام…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 66
یعنی ایسا کرنا ہماری قدرت سے باہر نہ تھا، چاہتے تو جگہ جگہ نبی پیدا کرسکتے تھے، مگر ہم نے ایسا نہیں کیا اور دنیا بھر کے لیے ایک ہی نبی مبعوث کردیا۔ جس طرح ایک سورج سارے جہان کے لیے کافی ہو رہا ہے اسی طرح یہ اکیلا آفتاب ہدایت ہی سب جہان والوں کے لیے کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ ، مطلب آیت کا یہ ہے کہ بارش کو ہم بدلتے اور پھیرتے رہتے ہیں کبھی ایک شہر میں کبھی دوسرے میں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جو لوگوں میں شہرت ہوتی ہے کہ اس سال بارش زیادہ ہے اس سال کم ہے یہ حقیقت کے اعتبار سے صحیح نہیں بلکہ بارش کا پانی تو ہر سال اللہ تعالیٰ کی طرف سے یکساں نازل ہوتا ہے البتہ حکم الٰہی یہ ہوتا رہتا ہے کہ اس کی مقدار کسی شہر بستی میں زیادہ کردی کسی میں کم کردی۔ بعض اوقات کمی کرکے بستی کے لوگوں کو سزا دینا اور متنبہ کرنا ہوتا ہے اور بعض اوقات زیادتی بھی عذاب بن جاتی ہے۔ تو یہی پانی جو خالص رحمت ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور نافرمانی کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
آیت (52-50)
آنحضرت ﷺ طرف ایک التفات
یہاں قرینہ دلیل ہے کہ ضمیر مفعول کا مرجع قرآن ہے جس کی تائید و تصویب ہی کے لئے اوپر کے دلائل بیان ہوئے ہیں۔ یہ نشانیوں کے ذکر کے بیچ میں نبی ﷺ کی طرف التفات ہے کہ جہاں تک دلائل کا تعلق ہے ان کی وضاحت کے لئے ہم نے اس قرآن کو لوگوں کے درمیان گوناگون اسلوبوں سے سنا دیا ہے کہ لیکن ان کی اکثریت اس نعمت کی قدر کرنے کی بجائے ناشکری اور انکار ہی پر اڑی ہوئی ہے تو اب نہ قصور تمہاری سعی کا ہے اور نہ ہمارے اہتمام تذکیر وتعلیم کا بلکہ سارا قصور ان لوگوں کا اپنا ہے۔
قرآن کے دلائل کے گوناگوں پہلو
تصریف کے مفہوم کی وضاحت دوسرے مقام میں ہوچکی ہے کہ قرآن نے ہر حقیقت کو اتنے…
Read the full tafseer →51-1لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا اور صرف آپ کو ہی تمام بستیوں بلکہ تمام انسانوں کے لیے نذیر بنا کر بھیجا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
18: دریاؤں اور سمندروں کے سنگھم پر یہ نظارہ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ دو الگ الگ قسم کے پانی ساتھ ساتھ چلتے ہیں ؛ لیکن ایک دوسرے میں گڈ مڈ نہیں ہوتے، بلکہ دور تک ان کی خصوصیات الگ الگ دیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہیں، یہی وہ عجیب و غریب آڑ ہے جو دونوں کو ایک دوسرے کی سرحد عبور کرنے نہیں دیتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
ولقد صرفنہ ……کبیراً (52)
ولقد صرفنہ بینھم لیذکروا (25 : 50) ” اس قرآن کو ہم پھیر پھیر کر ان کے سامنے لاتے ہیں تاکہ وہ سبق لیں۔ “ مختلف سورتوں کی شکل میں۔ متعدد اور متنوع اسالیب بیان میں۔ متعدد قطعات کی شکل میں اور اسی کے ذریعہ ہم نے ان کے شعور اور ان کی قوت مدرکہ کو مخاطب کیا۔ ان کی روح اور ان کے اذہان کو مخاطب کیا اور ان کے نفوس کے اندر اسے ہر طرح داخل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے لئے ابلاغ کا ہر حربہ استعمال کیا تاکہ یہ لوگ نصیحت قبول کرلیں۔ یہاں تو صرف یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ وہ حقیقت اور سچائی کا شعور تو خود ان کے نفوس اور ان کی فطرت کے اندر موجود ہے اور انہوں نے حقیقت کے اس شعو رکو اس لئے دبا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
3 یعنی نبی کا آنا تعجب کی چیز نہیں۔ اللہ چاہے تو اب بھی نبیوں کی کثرت کر دے کہ ہر بستی میں علیحدہ نبی ہو۔ مگر اس کو منظور ہی یہ ہوا کہ اب آخر میں سارے جہان کے لیے اکیلے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبی بنا کر بھیجے۔ سو آپ کافروں کے احمقانہ طعن وتشنیع اور سفیہانہ نکتہ چینیوں کی طرف التفات نہ فرمائیں۔ اپنا کام پوری قوت اور جوش سے انجام دیتے رہیں اور قرآن ہاتھ میں لے کر ان منکرین کا مقابلہ زور و شور کے ساتھ کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو کامیاب کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 51 وَلَوْ شِءْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ نَّذِیْرًا ”
اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر بستی میں بھی پیغمبر بھیج سکتے تھے ‘ لیکن عام طور پر ایک قوم کی طرف ایک پیغمبر ہی مبعوث کیا جاتا رہا ہے۔ جیسا کہ سورة الرعد میں فرمایا گیا : وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ کہ ہر قوم کی طرف ایک پیغمبر بھیجا گیا۔ اور یہ پیغمبر ہمیشہ ایسے شہر میں مبعوث کیا جاتا تھا جو متعلقہ قوم یا علاقے کے ثقافتی ‘ علمی ‘ تہذیبی اور سیاسی مرکز کی حیثیت سے معروف ہوتا تھا۔ کیونکہ کسی بھی علاقے کے عوام ہر پہلو سے اپنے مرکزی شہر میں پروان چڑھنے والے رجحانات کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی قانون اور اصول سورة القصص کی آیت 59 میں اس طرح بیان ہوا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
63 یعنی جنتی بھی اللہ کی نشانیاں اوپر مذکور ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور ان سے سبق حاصل کرنے کے لئے تھوڑی نہیں بلکہ بہت کافی ہیں۔ مگر انسانوں کی اکثریت ایسی ہے جو نہ ان باتوں پر دھیان دیتی ہے اور نہ اللہ کی ان نعمتوں کا شکر بجا لاتی ہے۔ اور بعض انسان تو ایسے غلط عقائد میں مبتلا ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ بارش فلاں ستارہ کے فلاں نچھتر میں داخل ہونے سے ہوتی ہے۔ آپ کے زمانہ میں بھی ایسے عقائد عام تھے اور ہر اچھی اور بری بات کو سیاروں کی گردش سے منسوب کردیا جاتا تھا۔ حدیبیہ کے مقام پر جہاں آپ چودہ سو صحابہ سمیت عمرہ کی عرض سے تشریف لائے۔ ایک رات بارش ہوئی جو عرب جیسے بےآب وگیاہ ملک میں ایک عظیم…
Read the full tafseer →58۔ (اور تنہا آپ پر اتنا بار نہ ڈالتے، لیکن ہماری مشیت تکوینی اس کی مقتضی نہیں ہم تو دنیا کی اصلاح کا کام آپ ہی کے ذریعہ سے لینا چاہتے ہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
آیت نمبر 45 تا 60
ترجمہ : کیا تو اپنے رب کی صنعت کو نہیں دیکھتا وقت اسفار سے طلوع شمس کے وقت تک اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک ھالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا، یعنی ساکن رکھتا جو طلوع شمس سے زائل نہ ہوتا پھر ہم نے سورج کو اس سایہ کو اپنی طرف بتدریج سمیٹ لیا یعنی طلوع شمس کی وجہ سے شیئاً فشیئاً اور وہ ایسا ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات کا لباس یعنی لباس کے مانند ساتر بنایا اور نیند کو قطع کرنے والی یعنی جسموں کے لئے اعمال کو موقوف کرکے راحت کی چیز بنایا اور دن کو منتشر ہونے کا وقت بنایا اس میں رزق وغیرہ حاصل کرنے کے لئے اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں اور ایک…
Read the full tafseer →ولو شئنا لبعثنا فی کل قریۃ نذیرا۔ اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے۔
یعنی اس طرح آپ کے اوپر سے تبلیغ کا بار ہلکا ہوجاتا لیکن آپ : ﷺ کو عظمت عطا کرنے اور آپ ﷺ : کی شان بلند کرنے کے لئے ہم نے سب لوگوں کے لئے تنہا آپ کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور تمام پیغمبروں پر آپ کو فضیلت عطا کی۔
نذیر سے مراد ہے پیغمبر جو بستی والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائے۔
Read the full tafseer →(51) مگر ہم چاہتے ہیں تو ہر ایک بستی والوں میں سے ایک ایک پیغمبر بھیج دیتے۔
مگر ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ ہر قسم کا ثواب اور ہر قسم کی فضیلتیں آپ کو حاصل ہوں۔
Read the full tafseer →وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِيْ كُلِّ قَرْيَةٍ نَّذِيْرًا : یعنی جس طرح ہم نے بارش کو مختلف شہروں اور ملکوں میں بانٹ دیا، اگر ہم چاہتے تو اسی طرح ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے، مگر ہم نے ایسا نہیں چاہا، کیونکہ اس سے الگ الگ امتیں وجود میں آتیں، جن کا آپس میں اختلاف ہوتا، اس لیے ہم نے ساری زمین کے لیے ایک آفتاب کی طرح سب کے لیے ایک ہی ڈرانے والا مقرر فرمایا کہ سب اس کی اطاعت کریں اور ان کے انکار کی صورت میں وہ سب کے ساتھ قتال کرے۔ رسول اللہ ﷺ کا قیامت تک کے تمام لوگوں کے لیے نذیر ہونے کا ذکر اسی سورت کے شروع میں بھی ہے : (لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا) مزید حوالہ جات کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(ولو شئنا۔۔۔۔۔۔ )
ولوشئنا لبعثنا فی کل قریۃ نذیرا۔ نذیر سے مراد رسول ہے یعنی اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک رسول بھیج دیتے جو انہیں ڈرائے جس طرح ہم نے بارش کو تقسیم کیا تاکہ آپ سے نبوت کے بوجھ کم ہوجائیں لیکن ہم نے ایسا نہ کیا بلکہ ہم نے آپ کو سب کے لیے نذیر بنایا تاکہ تیرا درجہ بلند ہوجائے پس اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر بجائو لائو۔
فلا تطع الکفرین کفار آپ کو اپنے بتوں کی اتباع کی جو دعوت دیتے ہیں اس میں کافروں کی اطاعت نہ کرو۔
وجاھد ھم بہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ہ ضمیر سے مراد قرآن ہے۔ ابن زید نے کہا : مراد اسلام ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد تلوار ہے، یہ قول حقیقت سے بعید ہے، کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ آتی ” ولقد صرفنہ بینہم “ سے مراد ہے بارش جو کبھی اس زمین کو سیراب کرتی ہے اور دوسری کی سیرابی روک دیتی ہے۔ آیت ” لیذکرو، فابی اکثر الناس الا کفورا “ عکرمہ نے کہا کہ ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ کافروں کی ناشکری سے مراد ہے کہ انہوں نے کہا ستاروں کے باعث ہم پر بارش ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ سورة واقعہ میں فرمایا۔ آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد صرفنہ بینہم سے مراد ہے بارش ایک زمین میں اتاری جاتی ہے اور دوسری میں نہیں اتاری جاتی آیت ” فابی اکثر الناس الا کفورا “…
Read the full tafseer →وَلَوْ شِئْنَا [ اور گار ہم چاہتے ] لَبَعَثْنَا [ تو ہم ضرور بھیجتے ] فِيْ كُلِّ قَرْيَةٍ [ ہر ایک بستی میں ] نَّذِيْرًا [ ایک خبردار کرنے والا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
پھر فرمایا (وَلَوْ شِءْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ نَذِیْرًا) (اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک نذیر بھیج دیتے) جس سے آپ کی ذمہ داری کم ہوجاتی ہر نبی اپنی اپنی بستی میں دعوت کا کام کرتا اور آپ صرف ام القریٰ (مکہ معظمہ) یا مزید اس کے آس پاس کی چند بستیوں کی طرف مبعوث ہوتے، لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا، آپ کو خاتم النبیین بنایا اور سارے عالم کے انسانوں کی طرف رہتی دنیا تک کے لیے مبعوث فرمایا، یہ اللہ تعالیٰ کا آپ پر بہت بڑا انعام ہے، اس انعام کی شکر گزاری بھی لازم ہے، اور دعوت الی الحق کا کام جو سپرد کیا گیا ہے اس میں بھی محنت اور کوشش کے ساتھ لگنا ضروری ہے، جب آپ محنت کریں گے تو اہل کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
قسم سوم از دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ وھو الذی ارسل الریاح بشرا بین یدی رحمتہ .... الیٰ .... وجاھدھم بہ جھادا کبیرا۔
اور وہ خدا وہ ہے جو باران رحمت سے پہلے بشارت دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے بارش اللہ کی رحمت ہے اور اس سے پہلے ہواؤں کا چلنا یہ بشارت ہے کہ عنقریب بارش نازل ہونے والی ہے اور ہم نے اپنی رحمت سے آسمان سے ایسا پانی نازل کیا جو خود بھی پاک ہے اور دوسرے کو بھی پاک کرنے والا ہے تاکہ ہم اس پانی کے ذریعہ مردہ یعنی خشک زمین کو زندہ کریں یعنی خشک زمین سے قسم قسم کی نباتات اگاویں۔ اس طرح قیامت کے قریب ایک غیبی بارش نازل ہوگی جس سے مردے زندہ ہوجائیں گے اور تاکہ اس اپنی مخلوقات میں سے چوپایوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
33:۔ ” ولو شئنا الخ “ یہ تسلی ہے یعنی اگر ہم چاہتے تو تبلیغ رسالت کا کام آپ سے ہلکا کردیتے اور مختلف شہروں میں متعدد انبیاء بھیج دیتے لیکن ہم نے فیصلہ کرلیا کہ اب سارے جہان کی رسالت کا شرف آپ ہی کو عطاء کیا جائے تاکہ آپ رتبہ تمام انبیاء (علیہم السلام) سے اعلیٰ اور آپ کا اجر وثواب سب سے اعظم ہو۔ اس لیے آپ کافروں کی کوئی بات نہ مانیں اور قرآن کے دلائل سے ان کے ساتھ خوب جہاد کریں اور ہر گزس ہمت نہ ہاریں کیونکہ سارے جہان کے ہادی ورہنما آپ ہی ہیں۔ حضرت (رح) تعالیٰ نے فرمایا ” بہ “ کی ضمیر قرآن مجید سے کنایہ ہے بہ ای بالقرآن یعنی بدلائلہ۔ یعنی قرآن کی دعوت اور اس کے دلائل کو خوب واضح کر کے ان تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
ربطہ آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید کے سلسلے میں سائے کا ذکر کیا کہ اس کا تعلق سورج کے ساتھ ہے ۔ سورج اس کی رہنمائی کرتا ہے اور یہ گھٹتا بڑھتا ہے ۔ پھر اللہ نے رات اور دن کا ذکر فرمایا کہ یہ بھی قدرت ِ الٰہی کے ہوتے ہیں ۔ اللہ نے رات کو بمنزلہ لباس قرار دیا ، اور نیند کو آرام کو ذریعہ بنایا ۔ پھر دن کے وقت کا روبار اور محنت مزدوری کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جنہیں دیکھ کر اس کی توحید سمجھ میں آتی ہے۔
باران رحمت کی دعائیں
اب دلائل قدرت ہی کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے ہوا اور پانی کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھو الذی ارسل الریح بشرا بین…
Read the full tafseer →وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِيْ كُلِّ قَرْيَۃٍ نَّذِيْرًا 51ۡۖ
شاء
الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . وعند بعضهم : الشَّيْءُ عبارة عن الموجود «2» ، وأصله : مصدر شَاءَ ، وإذا وصف به تعالیٰ فمعناه : شَاءَ ، وإذا وصف به غيره فمعناه الْمَشِيءُ ، وعلی الثاني قوله تعالی: قُلِ اللَّهُ خالِقُ كُلِّ شَيْءٍ
[ الرعد/ 16] ، فهذا علی العموم بلا مثنويّة إذ کان الشیء هاهنا مصدرا في معنی المفعول . وقوله : قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهادَةً [ الأنعام/ 19] ، فهو بمعنی الفاعل کقوله : فَتَبارَكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–52
1 ؎ یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ ظل سے مراد سایہ الٰہی ہو وہ کسی قوم اور کسی شخص کے لیے خدا نے کیسا دراز کیا ہو ؟ مگر بقاء اسی کو ہے اس کو ٹھہرا نہیں رکھتا وہ پھر ڈھلنے لگتا ہے اور آفتاب عنایت و اقبال اس کی دلیل ہوتا ہے انسان کی عمر بھی ایک سایہ ہے باوجود درازی کے کس طرح سے ڈھلتی ہے اور یہ بیخبر غافل ہے۔ 12 منہ
ترکیب : اناسی اصلا اناسین جمع انسان کسر حان و سراحین ابدلت النون فیہ یاء وادغمت وقیل جمع انسی علی القیاس صرفناہ الضمیر للماء۔
تفسیر : ان کے شبہات رد کر کے اور اس کجروی کا نتیجہ امم گزشتہ کے حالات میں بیان فرما کر اب یہ چند دلائل توحید اور کمال قدرت پر بیان فرماتا ہے : فقال الم ترابی ربک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
وَلَـقَدْ صَرَّفْـنٰـہُ بَیْنَھُمْ لِیَذَّکَّرُوْا صلے ز فَاَبٰٓی اَکْثَرُالنَّاسِ اِلاَّ کُفُوْرًا۔ وَلَوْشِئْـنَا لَبَعَثْـنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ نَّذِیْرًا۔ فَلاَ تُطِعِ الْـکٰفِرِیْنَ وَجَاھِدْھُمْ بِہٖ جِھَادًا کَبِیْرًا۔ (الفرقان : 50 تا 52)
(ہم نے اسے ان کے درمیان مختلف اسالیب سے بیان کیا ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں لیکن اکثر لوگ ناشکری پر ہی اڑے ہوئے ہیں۔ اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے۔ پس آپ کافروں کی بات کی طرف دھیان نہ دیں اور اس قرآن کے ذریعے ان سے پورا پورا جہاد کریں۔ )
تصریفِ آیات کا اعجاز
تصریفِ آیات قرآن کریم کا ایک اعجازی پہلو ہے۔ وہ ایک ایسی بات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیاں دیکھنے کے باوجود لوگوں کی اکثریت کفر اختیار کرتی ہے۔ حالانکہ انھیں سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں اس قدر واضح اور جامع ہیں کہ اگر انسان ان کی طرف تھوڑی سی توجہ بھی مبذول کرے تو وہ اپنے رب کو پہچان اور ہدایت پاسکتا ہے۔ لیکن انسانوں کی اکثریت حقیقت کی نگاہ سے ” اللہ “ کی نشانیوں کو دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ نشانیاں بتلانے اور دکھلانے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ جنھوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ہر بستی کی بجائے ساری کائنات میں ایک ہی منذر بھیج دیا :
51، 52: وَلَوْشِئْنَا لَبَعْثْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ نَّذِیْرًا۔ فَلاَ تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ (اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے۔ پس آپ کافروں کی خوشی کا کام نہ کریں) اگر ہم چاہتے تو تمام بستیوں کو ڈر سنانے کی ذمہ داری آپ سے کم کر کے ہر بستی میں ایک پیغمبر بھیج دیتے۔ لیکن ہم نے چاہا کہ آپ کیلئے تمام رسولوں کے فضائل جمع کریں کافۃ للناس کی طرف آپ کو رسول بنائیں۔ ہم نے آپ کو بھیجنے پر اکتفاء کیا اور آپ کو عظمت سے نوازا۔ پس آپ اکیلے ان تمام کی طرح ہیں اسی وجہ سے خطاب میں صیغہ جمع کا لائے یایھا الرسل ] المؤمنون : 51[ پھر…
Read the full tafseer →51۔ ولو شئنا لبعثنا فی کل قریۃ نذیرا۔ پیغمبر جو بستی والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائے۔ لیکن ہم نے آپ کو تمام بستیوں کی طرف رحمت بناکربھیجا ہے اور تمام پیغمبروں پر آپ کو فضیلت عطا فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
51۔ 52:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے ‘ مینہ کے ذکر کے بعد قرآن شریف کا ذکر جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح مینہ کا پانی عام فائدے کے لیے برستا ہے لیکن اس سے فائدہ فقط اچھی زمین کو پہنچتا ہے اور بری زمین میں وہ پانی بالکل رائیگاں جاتا ہے اسی طرح قرآن کی نصیحت اگرچہ عام لوگوں کے فائدے کے لیے ہے لیکن اس نصیحت سے فائدہ فقط ان ہی لوگوں کو پہنچتا ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
آیت 51 سے 52
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی مشیت کے نفوذ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو ہر بستی میں ڈرانے والا بھیج دیتا، یعنی ہر بستی میں ایسا رسول بھیج دیتا جو ان کو گناہوں کے انجام سے ڈراتا۔ پس اس کی مشیت اس سے قاصر نہ تھی مگر اے محمد ! ﷺ آپ اور اپنے بندوں پر اس کی حکمت اور رحمت کا تقاضا یہ تھا کہ اس نے آپ کو سرخ و سیاہ، عربی وعجمی اور انس و جن تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا، اس لئے (فلا تطع الکفرین) ” پس نہ بات مانیں آپ کافروں کی۔ “ یعنی کفار کی بات مان کر اس چیز کو ترک نہ کیجئے جس چیز کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے بلکہ اس کی تبلیغ کے لئے پوری کوشش کیجئے۔ (وجاھدھم بہ) ” اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–54
نسب اور سسرالی رشتے
قول باری ہے : (وھوالذی خلق من الماء بشرا وجعلہ نسبا وطھوا) اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا اور پھر اس نے نسب اور سسرال کے دو الگ الگ سلسلے چلائے۔ یہاں وہ پانی مراد لینا جائز ہے جس سے جانداروں کی اصل پیدا کی گئی جس کا ذکر اس قول باری میں ہے : (وجعلنا من الماء کل شیء حی) اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی، اور اس سے وہ نطفہ مراد لینا بھی درست ہے جس سے اولاد آدمی کی تخلیق ہوئی۔
قول باری (فجعلہ نسبا وصھرا) کی تفسیر میں طائوس کا قول ہے کہ رضاعت بھی صہر یعنی سسرال میں داخل ہے۔ ایک روایت کے مطابق ضحاک کا قول ہے کہ نسب سے مراد رضاعت ہے اور صہر سے مراد دامادی رشتہ ہے۔…
Read the full tafseer →63 حضرت خاتم الانبیاء کی عظمت شان کے ایک خاص پہلو کا ذکر : کہ آپ کی نبوت و رسالت کا فیضان قیامت تک کے سب زمانوں اور جملہ انسانوں کے لیے جاری وساری ہے۔ ورنہ اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک نذیر اٹھا کھڑا کرتے۔ مگر چونکہ آپ ﷺ کا درجہ و مرتبہ اور اجرو ثواب بڑھانا اور آپ ﷺ کا مقام سب سے بڑا اور سب سے بلند کرنا مقصود تھا اس لئے آپ ہی کی نبوت کو سب کے لئے عام کردیا کہ آفتاب عالمتاب کے ہوتے ہوئے ستاروں کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ سو جس طرح ایک آفتاب عالمتاب کی روشنی سب دنیا جہاں کیلئے کافی ہے اسی طرح آپ ﷺ کا آفتاب نبوت بھی قیامت تک کی سب دنیا کی ہدایت و راہنمائی کیلئے کافی ہے۔ تاکہ اس سب کا اجر وثواب آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
کفار سے جہاد کبیر کیوں اور کیسے ؟
تشریح : جیسا کہ اوپرآ یات میں اللہ کی کچھ نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کسی صورت بھی توحید کے قائل نہیں ہوسکتے تو اللہ رب العزت پیارے نبی ﷺ کو اپنی حکمت سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ آخری اور ایک ہی نبی تمام دنیا کی ہدایت کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ آپ ہی آخری اور ایک ہی نبی ہیں۔ آپ کی شریعت آپ پر نازل کردہ قرآن بہترین مکمل اور ناقابل تردید ہے۔ حق اور سچ ہے اور تاقیامت رہنے والا ہے۔ اس لیے آپ نہ تو اپنے مخالفین سے ڈریں نہ گھبرائیں نہ ہی پریشان ہوں اللہ نے آپ کو اس فرض کو ادا کرنے کے لیے چن لیا ہے۔ آپ بےفکر ہو کر کفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
اے مخاطب تو دیکھتا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہر شے میں اور ہر کام میں ایک رشتہ قائم کردیا ہے یہی رشتہ سبب اور اس کے نتیجے میں ہے سورج کی روشنی اور سائے میں ہے کس طرح قدرت باری نے چیزوں کو سایہ بخشا کہ دور تک پھیلا ہوتا ہے ، اگر اللہ جل جلالہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایسے ہی رکھنے پر قادر تھا مگر اس نے سائے کے بڑھنے گھٹنے کو سورج اور دھوپ سے متعلق کردیا ، سورج اوپر اٹھتا ہے تو سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں اور دھوپ اور گرمی کی تپش پھیلتی ہے اور پھر سورج ڈھلتا ہے تو دوبارہ سائے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ رشتے یہ اسباب ونتائج اللہ نے دنیا کی آبادی اور بنی آدم کے آرام کا سبب بنائے…
Read the full tafseer →15 ۔ یعنی جب ہم نے بارش کو مختلف شہروں اور ملکوں میں بانٹ دیا ہے تو ایک ایک بستی میں ایک ڈرانے والا بھی بھیج سکتے تھے۔ مگر ہم نے ایسا نہیں کیا کیونکہ اس وقت ہماری حکمت کا تقاضا یہی ہوا کہ سارے جہاں کے لئے صرف آپ ﷺ ہی کو ” منذر “ (خوف کی خبر سنانے والا) بنا کر بھیجا جائے۔ (دیکھئے سورة اعراف آیت :158) حدیث میں ہے : و بعثت الی الناس عامہ کہ میری بعثت سب لوگوں کے لئے ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(25:51) لبعثنا۔ لام تاکید کے لئے ہے۔ بعثناماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ بعث مصدر۔ (باب فتح) ہم نے بھیجا۔ لبعثنا ہم ضرور بھیجتے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 60 :
لوشئنا (اگر ہم چاہتے) ‘ لبعثنا ( البتہ ہم ضرور بھیجتے) ‘ لا تطع (کہنا مانیئے) جھاد کبیر (زوردار مقابلہ) ‘ مرج ( اس نے ملایا) ‘ البحرین (دودریاؤں کو) ‘ عذب (میٹھا) ‘ فرات (خوش گوار۔ پی کر مزہ آئے) ‘ ملح (کھاری) ‘ اجاج (کڑوا) ‘ حجر (آڑ۔ رکاوٹ) ‘ محجور ( جو خود آڑ میں ہو) ‘ نسب (نسب۔ نسبی رشتے) ‘ صھر (شادی کے رشتے ۔ سسرال) ‘ ظھیر ( سرکش۔ مقابل۔ پشت پناہی کرنے والا) ‘ ما اسئل (میں نہیں مانگتا) ‘ ذنوب (ذنب) (گناہ ۔ خطائیں) ‘ ستۃ ایام (چھ دن) ‘ استوی ( وہ برابر ہوا۔ جلوہ گرہوا) ‘ تأ مرنا ( تو ہمیں حکم دیتا ہے) ‘ نفور (نفرت۔ ناگواری) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرسنانے والابھیجتے جوان کو اللہ کی طرف بلاتا، لیکن ہم نے تم کو خاص کیا پیغمبری کے ساتھ، اے محبوب تم تمام زمین والوں کی طرف حکم پہنچا دو ، صححین میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا پیغمبر پہلے ایک خاص قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے اور میں تمام دنیا کے لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں پھر فرمایا کہ اس قرآن کے حکم سے ان کے ساتھ جہاد کرو، یعنی تم بڑی کوشش سے ان لوگوں کو قرآن کی آیتیں سناتے رہو، اللہ تمہاری مدد کرے گا۔
Read the full tafseer →[31] مگر ہم نے ایسا نہیں کیا اور ساری دنیا کے لئے ایک ہی نبی بھیجا۔ جس طرح ایک سورج سارے جہان کے لئے کافی ہو رہا ہے اسی طرح یہ اکیلا آفتاب ہدایت تمام جہان کے لئے کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–53
تذکیربآلا اللہ
3: قرآن حکیم دلائل وبراہین کا بےنظیر مجموعہ ہے ۔ اس میں ہر نوع اور ہر طبقے کے لوگوں کے لئے تسکین کا بہتر اور وافر سامان موجود ہے ۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں دعوت و اشاعت کے کسی طریق کو اٹھا نہیں رکھا گیا ۔ اس میں حکمت وفلسفہ بھی ہے ۔ اور نفسیات انسانی کی عکاسی بھی ۔ معقول اور ٹھوس دلائل بھی ہیں ۔ اور اقوام و ملل کے حالات بھی ممکن طریقے تصور میں آسکتے ہیں ۔ وہ سب اس میں موجود ہیں ۔
ان آیات میں مشاہدات فطرت کا بیان ہے ۔ اور تذکیر بآلاء اللہ کے اصول پر ان لوگوں کو دعوت ایمان ہے ۔ جو غرو وفکر کے عادی ہیں ۔
ارشاد ہے کہ دیکھو ہم نے انسانوں کے سکھ اور آرام کے لئے آفات پیدا کیا ۔ اس…
Read the full tafseer →(51) اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ایک پیغمبر بھیج دیتے یعنی آپکی امداد کے لئے آپ کے زمانے میں ہر بستی کے لئے ایک ایک ڈرانے والا بھیج دیتے لیکن ہم نے آپ کے اجر اور تبلیغ کا بلند مرتبہ عنایت کرنے کی غرض سے ایسا نہیں کیا تاکہ آپ کا اجر اور آپ کا مرتبہ بلند ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
ف 1۔ اور تنہا آپ پر تمام کام نہ ڈالتے، لیکن چونکہ آپ کا اجر بڑھانا مقصود ہے، اس لئے ہم نے ایسا نہیں کیا، تو اس طور پر اتنا کام آپ کے سپرد کرنا خدا تعالیٰ کی نعمت ہے۔
Read the full tafseer →ہم چاہتے تو ہر بستی کے لئے الگ الگ رسول بھیج دیتے :
51۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ہم چاہتے تو ہر ایک بستی میں الگ الگ رسول بھیج دیتے جیسا کہ آپ ﷺ سے پہلے ہم ہر ایک بستی اور ہر ایک قوم میں الگ الگ رسول بھیجتے ہی رہے ہیں جیسے کہ پیچھے سورة یونس کی آیت 47 ‘ سورة النحل کی آیت 36 ‘ سورة الرعد کی آیت 7 ‘ سورة ابراہیم کی آیت نمبر 4 میں تفصیل سے بیان کر آئے ہیں اور اس طرح سورة فاطر اور روم میں بھی یہ مضمون آئے گا ۔ اب بھی اگر ہماری حکمت کا تقاضا ایسا ہوتا تو ایسا کرسکتے تھے کہ ہر ایک بستی میں علیحدہ علیحدہ نبی ورسول بھیج دیتے لیکن حکمت کا اب یہ تقاضا نہیں ۔ انسانیت کے بکھرے ہوئے شیرازہ کو یکجا کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَهُمْ (And We have distributed it (the water) among them - 25:50). The verse says that We keep rotating the rainfall, that is, it sometimes falls in one locality and sometimes in another. Then sometimes a locality receives in one year more rain and in subsequent years less. Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbas ؓ says that the presumption of some people that the quantity of rains varies from year to year is not really correct. In fact the aggregate amount of water sent down to the world (at macro-level) is equal every year. However, according to Allah's will, its…
Read the full tafseer →66 That is, "If We had willed, We could have sent a separate Prophet to every habitation but We did not do so, because like the sun, Our Last Prophet suffices to enlighten the whole world."
Read the full tafseer →