Al-Furqaan 25:50

Al-Furqaan · from ayah 50

25:50

وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا ۖؗ— فَاَبٰۤی اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا ۟وَلَـقَدۡ صَرَّفۡنٰهُ بَيۡنَهُمۡ لِيَذَّكَّرُوْا ‌ ۖ فَاَبٰٓى اَكۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوۡرًا‏

اور ہم نے اس (قرآن کی آیتوں) کو طرح طرح سے لوگوں میں بیان کیا تاکہ نصیحت پکڑیں مگر بہت سے لوگوں نے انکار کے سوا قبول نہ کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have certainly distributed it among them that they might be reminded, but most of the people refuse except disbelief.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:50

اس کرشمے کو ہم بار بار ان کے سامنے لاتے ہیں تاکہ وہ کچھ سبق لیں، مگر اکثر لوگ کفر اور ناشکری کے سوا کوئی دوسرا رویہ اختیار کرنے سے انکار کر دیتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے اس (قرآن کی آیتوں) کو طرح طرح سے لوگوں میں بیان کیا تاکہ نصیحت پکڑیں مگر بہت سے لوگوں نے انکار کے سوا قبول نہ کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بے شک ہم نے اسےان کے درمیان طرح طرح سے بیان کیا تاکہ وه نصیحت حاصل کریں، مگر پھر بھی اکثر لوگوں نے سوائے ناشکری کے مانا نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے لوگوں کے فائدے کے لیے اس (پانی) کی الٹ پھیر کر رکھی ہے، تاکہ وہ سبق حاصل کریں۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کے سوا ہر بات سے انکاری ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے ان میں پانی کے پھیرے رکھے کہ وہ دھیان کریں تو بہت لوگوں نے نہ مانا مگر ناشکری کرنا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم اس (بارش) کو ان کے درمیان (مختلف شہروں اور وقتوں کے حساب سے) گھماتے (رہتے) ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں پھر بھی اکثر لوگوں نے بجز ناشکری کے (کچھ) قبول نہ کیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلا شبہ یقینا ہم نے اسے ان کے درمیان پھیر پھیر کر بیان کیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں، مگر اکثر لوگوں نے ناشکری کرنے کے سوا کچھ نہیں مانا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے یہ بات مختلف طریقوں سے ان کے سامنے بیان کی ہے تاکہ وہ کچھ سبق حاصل کریں۔ لیکن اکثر لوگ کے سوا کوئی اور بات تسلیم ہی نہیں کرتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اس کو ان کے درمیان گوناگوں اسلوبوں سے واضح کردیا ہے تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں لیکن اکثر لوگ ناشکری ہی پر اڑے ہوئے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم نے اس کو ان کے درمیان طرح طرح سے پھیرا ہے تاکہ لوگ سبق لیں مگر لوگوں کی اکثریت ایمان و یقین سے متعلق ہر اچھے روئیے کا انکار ہی کرتی رہی اور انہوں نے نہیں اپنایا مگر کفر اور ناشکری ہی کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم اس پانی کو ان کے درمیان تقسیم کردیتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔ تاہم اکثر لوگ ناشکر اگزار ہوئے بغیر نہیں رہتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس کو ہم نے گردش میں رکھا ہوا ہے ان کے مابین تاکہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں لیکن اکثر لوگ کفران نعمت ہی کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے اس (قرآن کی آیتوں) کو طرح طرح سے بیان کیا لوگوں کے لیے تاکہ نصیحت پکڑیں مگر بہت سے لوگوں نے انکار کے سوا قبول نہ کیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We present the same phenomenon over and over again before them so that they may learn a lesson from it; but most people decline to adopt any other attitude than of disbelief and ingratitude.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We have distributed it (the water) among them, so that they may take lesson. Yet most of the people refused all but ungratefulness.

— Muhammad Taqi Usmani

And We have distributed it (the water) among them, so that they may take lesson. Yet most of the people refused all but ungratefulness.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We have distributed it among them in order that they may remember the grace of Allah, but most men refuse (out of) gratitude.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And verily We have repeated it among them that they may remember, but most of mankind begrudge aught save ingratitude.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have certainly distributed it among them that they might be reminded, but most of the people refuse except disbelief.

— Saheeh International

We send them rain from time to time so that they may take heed. Many people have responded, but ungratefully.

— Muhammad Sarwar

And certainly We have repeated this to them that they may be mindful, but the greater number of men do not consent to aught except denying.

— Muhammad Habib Shakir

And We set it forth among them, that they may be admonished, but most men begrudge aught save infidelity.

— Abdul Majid Daryabadi

And We have distributed the (water) amongst them, in order that they may celebrate (our) praises, but most men are averse (to aught) but (rank) ingratitude.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 48–50

بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔ ان ہواؤں میں رب نے بہت سے خواص رکھے ہیں۔ بعض بادلوں کو پراگندہ کردیتی ہیں، بعض انہیں اٹھاتی ہیں، بعض انہیں لے چلتی ہیں بعض خنک اور بھیگی ہوئی چل کر لوگوں کو باران رحمت کی طرف متوجہ کردیتی ہیں بعض اس سے پہلے زمین کو تیار کردیتی ہیں بعض بادلوں کو پانی سے بھردیتی ہیں اور انہیں بوجھل کردیتی ہیں۔ آسمان سے ہم پاک صاف پانی برساتے ہیں کہ وہ پاکیزگی کا آلہ بنے۔ یہاں طہور ایسا ہی ہے جیسا سحور اور وجور وغیرہ بعض نے کہا ہے کہ یہ فعول معنی میں فاعل کے ہے یا مبالغہ کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 64 اصل الفاظ ہیں لَقَدْ صَرَّفْنَاہُ۔ اس کے تین معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ بارش کے اس مضمون کو ہم نے بار بار قرآن میں بیان کر کے حقیقت سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ دوسرے یہ کہ ہم بار بار گرمی و خشکی کے، موسمی ہواؤں اور گھٹاؤں کے، اور برسات اور اس سے رونما ہونے والی رونق حیات کے کرشمے ان کو دکھاتے رہتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ ہم بارش کو گردش دیتے رہتے ہیں۔ یعنی ہمیشہ ہر جگہ یکساں بارش نہیں ہوتی بلکہ کبھی کہیں بالکل خشک سالی ہوتی ہے، کبھی کہیں کم بارش ہوتی ہے، کبھی کہیں مناسب بارش ہوتی ہے، کبھی کہیں طوفان اور سیلاب کی نوبت آجاتی ہے، اور ان سب حالتوں کے بیشمار مختلف نتائج ان کے سامنے آتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–51

وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ ، مطلب آیت کا یہ ہے کہ بارش کو ہم بدلتے اور پھیرتے رہتے ہیں کبھی ایک شہر میں کبھی دوسرے میں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جو لوگوں میں شہرت ہوتی ہے کہ اس سال بارش زیادہ ہے اس سال کم ہے یہ حقیقت کے اعتبار سے صحیح نہیں بلکہ بارش کا پانی تو ہر سال اللہ تعالیٰ کی طرف سے یکساں نازل ہوتا ہے البتہ حکم الٰہی یہ ہوتا رہتا ہے کہ اس کی مقدار کسی شہر بستی میں زیادہ کردی کسی میں کم کردی۔ بعض اوقات کمی کرکے بستی کے لوگوں کو سزا دینا اور متنبہ کرنا ہوتا ہے اور بعض اوقات زیادتی بھی عذاب بن جاتی ہے۔ تو یہی پانی جو خالص رحمت ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور نافرمانی کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 50–52

آیت (52-50) آنحضرت ﷺ طرف ایک التفات یہاں قرینہ دلیل ہے کہ ضمیر مفعول کا مرجع قرآن ہے جس کی تائید و تصویب ہی کے لئے اوپر کے دلائل بیان ہوئے ہیں۔ یہ نشانیوں کے ذکر کے بیچ میں نبی ﷺ کی طرف التفات ہے کہ جہاں تک دلائل کا تعلق ہے ان کی وضاحت کے لئے ہم نے اس قرآن کو لوگوں کے درمیان گوناگون اسلوبوں سے سنا دیا ہے کہ لیکن ان کی اکثریت اس نعمت کی قدر کرنے کی بجائے ناشکری اور انکار ہی پر اڑی ہوئی ہے تو اب نہ قصور تمہاری سعی کا ہے اور نہ ہمارے اہتمام تذکیر وتعلیم کا بلکہ سارا قصور ان لوگوں کا اپنا ہے۔ قرآن کے دلائل کے گوناگوں پہلو تصریف کے مفہوم کی وضاحت دوسرے مقام میں ہوچکی ہے کہ قرآن نے ہر حقیقت کو اتنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

50-1یعنی قرآن کریم کو اور بعض نے صٓرفناہ میں ھا کا مرجع بارش قرار دیا ہے جس کا مطب یہ ہوگا کہ بارش کو ہم پھیر پھیر کر برساتے ہیں یعنی کبھی ایک علاقے میں کبھی دوسرے علاقے میں حتی کہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی ایک ہی شہر کے ایک حصے میں بارش ہوتی ہے دوسروں میں نہیں ہوتی اور کبھی دوسرے حصوں میں ہوتی ہے پہلے حصے میں نہیں ہوتی یہ اللہ کی حکمت ومشیت ہے وہ جس طرح چاہتا ہے کہیں بارش برساتا ہے اور کہیں نہیں اور کبھی کسی علاقے میں کبھی کسی اور علاقے میں۔ 50-2اور ایک کفر ناشکری یہ بھی ہے کہ بارش کو مشیت الٰہی کی بجائے ستاروں کی گردش کا نتیجہ قرار دیا جائے، جیسا کہ اہل جاہلیت کہا کرتے تھے۔ کما فی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–50

17: پانی کی الٹ پھیر کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ پانی اللہ تعالیٰ انسانوں کے درمیان اپنی خمت سے ایک خاص تناسب کے مطابق تقسیم فرماتے ہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پانی کا اصل ذخیرہ سمندر میں ہے۔ اللہ تعالیٰ وہاں سے اسے بادلوں کے ذریعے اٹھاتے ہیں، اور پہاڑوں پر برف کی صورت میں جما دیتے ہیں جہاں سے وہ پگھل پگھل کر دریاؤں کی صورت اختیار کرتا ہے، اور لوگ اس سے اپنی ضروریات پوری کر کے اسے ضائع کردیتے ہیں، لیکن یہی مستعمل پانی ندی نالوں کے ذریعے دوبارہ سمندروں میں جا گرتا ہے، اور پاک پانی کے اس ذخیرے میں بہہ بہہ کر دوبارہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ اسے پھر بادلوں کے ذریعے اوپر اٹھایا جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 50–52

ولقد صرفنہ ……کبیراً (52) ولقد صرفنہ بینھم لیذکروا (25 : 50) ” اس قرآن کو ہم پھیر پھیر کر ان کے سامنے لاتے ہیں تاکہ وہ سبق لیں۔ “ مختلف سورتوں کی شکل میں۔ متعدد اور متنوع اسالیب بیان میں۔ متعدد قطعات کی شکل میں اور اسی کے ذریعہ ہم نے ان کے شعور اور ان کی قوت مدرکہ کو مخاطب کیا۔ ان کی روح اور ان کے اذہان کو مخاطب کیا اور ان کے نفوس کے اندر اسے ہر طرح داخل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے لئے ابلاغ کا ہر حربہ استعمال کیا تاکہ یہ لوگ نصیحت قبول کرلیں۔ یہاں تو صرف یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ وہ حقیقت اور سچائی کا شعور تو خود ان کے نفوس اور ان کی فطرت کے اندر موجود ہے اور انہوں نے حقیقت کے اس شعو رکو اس لئے دبا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی بارش کا پانی تمام زمینوں اور آدمیوں کو یکساں نہیں پہنچتا بلکہ کہیں کم کہیں زیادہ، کہیں جلد کہیں بدیر، جس طرح اللہ کی حکمت مقتضی ہو پہنچتا رہتا ہے۔ تاکہ لوگ سمجھیں کہ اس کی تقسیم کسی قادر مختار و حکیم کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن بہت لوگ پھر بھی نہیں سمجھتے اور نعمت الٰہی کا شکر ادا نہیں کرتے۔ الٹے کفر اور ناشکری پر اتر آتے ہیں۔ یہی حال روحانی بارش کا ہے کہ جس کو اپنے استعداد اور ظرف کے موافق جتنا حصہ ملنا تھا مل گیا اور بہت سے اس نعمت عظمیٰ کا کفران ہی کرتے رہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 50 وَلَقَدْ صَرَّفْنٰہُ بَیْنَہُمْ لِیَذَّکَّرُوْاز ” سمندر کے بخارات سے بادلوں کا بننا ‘ اربوں ٹن پانی کا ہواؤں کے دوش پر ہزاروں میلوں کے فاصلے طے کر کے مختلف علاقوں میں بارش برسانا ‘ ان بارشوں سے ندی نالوں اور دریاؤں کے سلسلوں کا جنم لینا ‘ انسانی آبادیوں سے میلوں کی بلندیوں پر گلیشیرز کی صورت میں پانی کے کبھی نہ ختم ہونے والے ذخائر over head tanks کا وجود میں آنا ‘ پھر گلیشیرز کا پگھل پگھل کر ایک تسلسل کے ساتھ انسانی ضرورتوں کی سیرابی کا ذریعہ بننا ‘ اور اس سب کچھ کے بعد فالتو پانی کا پھر سے سمندر میں پہنچ جانا ! یہ ہے پانی کی گردش water cycle کا عظیم الشان نظام جو قدرت کے بڑے بڑے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 50–51

63 یعنی جنتی بھی اللہ کی نشانیاں اوپر مذکور ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور ان سے سبق حاصل کرنے کے لئے تھوڑی نہیں بلکہ بہت کافی ہیں۔ مگر انسانوں کی اکثریت ایسی ہے جو نہ ان باتوں پر دھیان دیتی ہے اور نہ اللہ کی ان نعمتوں کا شکر بجا لاتی ہے۔ اور بعض انسان تو ایسے غلط عقائد میں مبتلا ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ بارش فلاں ستارہ کے فلاں نچھتر میں داخل ہونے سے ہوتی ہے۔ آپ کے زمانہ میں بھی ایسے عقائد عام تھے اور ہر اچھی اور بری بات کو سیاروں کی گردش سے منسوب کردیا جاتا تھا۔ حدیبیہ کے مقام پر جہاں آپ چودہ سو صحابہ سمیت عمرہ کی عرض سے تشریف لائے۔ ایک رات بارش ہوئی جو عرب جیسے بےآب وگیاہ ملک میں ایک عظیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 49–50

56۔ (اور اس نتیجہ تک پہنچیں کہ یہ سارے طبعی تصرفات اور پھر انسانوں کے درمیان پانی کی حسب مصلحت تقسیم کسی بڑے قادر و حکیم ہی کے ہوسکتے ہیں) (آیت) ” صرفنہ “۔ میں ضمیر پانی کی طرف بھی ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے۔ اور قول کی جانب بھی ہوسکتی ہے یعنی ہم نے یہ حقیقت ان پرانی امتوں کے سامنے بار بار دہرائی ہے۔ (آیت) ” بلدۃ میتا “۔ سے مراد خشک زمین ہے۔ 57۔ (اور سب سے بڑی ناشکری کفر وشرک ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–60

آیت نمبر 45 تا 60 ترجمہ : کیا تو اپنے رب کی صنعت کو نہیں دیکھتا وقت اسفار سے طلوع شمس کے وقت تک اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک ھالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا، یعنی ساکن رکھتا جو طلوع شمس سے زائل نہ ہوتا پھر ہم نے سورج کو اس سایہ کو اپنی طرف بتدریج سمیٹ لیا یعنی طلوع شمس کی وجہ سے شیئاً فشیئاً اور وہ ایسا ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات کا لباس یعنی لباس کے مانند ساتر بنایا اور نیند کو قطع کرنے والی یعنی جسموں کے لئے اعمال کو موقوف کرکے راحت کی چیز بنایا اور دن کو منتشر ہونے کا وقت بنایا اس میں رزق وغیرہ حاصل کرنے کے لئے اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں اور ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد صرفنہ بینہم اور ہم نے پانی کو انسانوں میں گھمایا پھرایا ‘ کبھی ایک شہر میں کبھی دوسری بستی میں بارش کی۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ کوئی سال ایسا نہیں ہوتا کہ دوسرے سال سے اس میں بارش زیادہ ہو بلکہ اللہ بارش کو زمین پر گھماتا رہتا ہے پھر آپ نے یہی آیت پڑھی ایک مرفوع روایت میں آیا ہے کہ کوئی ساعت ایسی نہیں ہوتی نہ رات میں نہ دن میں کہ ابر سے بارش نہ ہوتی ہو ‘ اللہ بارش کا رخ جس طرف چاہتا ہے پھیر دیتا ہے ابن اسحاق ابن جرع اور مقاتل نے حضرت ابن مسعود تک اس قول کو پہنچایا ہے اور حضرت ابن مسعود نے اس کو رسول اللہ ﷺ کا ارشاد فرمایا ہے کہ کسی ایک سال دوسرے سال سے زیادہ بارش…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(50) اور ہم اس پانی کو بقدر مصلحت سال بہ سال تقسیم کردیتے ہیں تاکہ لوگ اس کے ذریعہ سے نصیحت حاصل کریں لیکن لوگوں نے اللہ کے اس انعام کو قبول نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کے ساتھ کفر کیے بغیر نہ رہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ۔۔ : اس آیت کی دو تفسیریں ہیں اور دونوں درست ہیں۔ اگر ”صَرَّفْنٰهُ“ میں ”ہٗ“ کی ضمیر اوپر بیان کردہ دلائل کی طرف ہو، جیسا کہ اکثر مفسرین کا رجحان ہے، تو معنی یہ ہوگا کہ ہم نے توحید کے دلائل کو قرآن مجید میں مختلف طریقوں سے پھیر پھیر کر بیان کیا ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں، مگر اکثر لوگوں نے توحید قبول نہیں کی اور انھوں نے ناشکری اور کفر کے سوا کچھ مانا ہی نہیں۔ اور اگر ”صَرَّفْنٰهُ“ کی ضمیر ”مَاءً“ کی طرف ہو تو معنی یہ ہوگا کہ ہم نے اس پانی کو ان کے درمیان طرح طرح سے پھیرا ہے، چناچہ وہ کہیں زیادہ برستا ہے کہیں کم۔ سب جگہ ایک جیسا اور ایک وقت میں نہیں برستا، کسی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

( ولقد صرفنہ۔۔۔۔۔ ) ولقد صرفنہ بینھم، ضمیر سے مراد قرآن ہے، سورت کے آغاز میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” تبرک الذی نزل الفرقان “ اللہ تعالیٰ کا فرما ہے ” لقد ضلنی عن الذکر بعد اذجاءنی “ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’ ’ اتخذ ھذا القرآن مجھورا۔ “ لیذکروا فابی اکثر الناس الا کفورا۔ کفورا یعنی اس کا انکار کرتے ہوئے اور اسے جھٹلاتے ہوئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ولقد صرفنہ بینھم میں ہ ضمیر سے مراد بارش ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے : کوئی ایسا سال نہیں جو کسی سال کی بنسبت زیادہ بارش والا ہو لیکن اللہ تعالیٰ اسے جہاں چاہتا ہے پھیر دیتا ہے کسی علاقہ کے لوگوں پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 50–52

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ آتی ” ولقد صرفنہ بینہم “ سے مراد ہے بارش جو کبھی اس زمین کو سیراب کرتی ہے اور دوسری کی سیرابی روک دیتی ہے۔ آیت ” لیذکرو، فابی اکثر الناس الا کفورا “ عکرمہ نے کہا کہ ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ کافروں کی ناشکری سے مراد ہے کہ انہوں نے کہا ستاروں کے باعث ہم پر بارش ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ سورة واقعہ میں فرمایا۔ آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد صرفنہ بینہم سے مراد ہے بارش ایک زمین میں اتاری جاتی ہے اور دوسری میں نہیں اتاری جاتی آیت ” فابی اکثر الناس الا کفورا “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ [ اور بیشک ہم نے بار بار بیان کیا ہے اس (قرآن) کو ] بَيْنَهُمْ [ ان کے مابین ] لِيَذَّكَّرُوْا ڮ [ تاکہ وہ لوگ نصیحت پکڑیں ] فَاَبٰٓى [ تو قبول نہ کیا ] اَكْثَرُ النَّاسِ [ لوگوں کے اکثر نے ] اِلَّا [ اگر ] كُفُوْرًا [ ناشکری کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا کہ ہم نے پانی کو لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا یعنی اس پانی کو حکمت اور مصلحت کے مطابق مختلف مواقع میں پہنچاتے ہیں۔ کبھی کہیں بارش ہوتی ہے کبھی کہیں، کبھی تھوڑی کبھی خوب زیادہ، اس میں عبرت ہے اور نصیحت ہے لیکن لوگ اس سے نصیحت حاصل نہیں کرتے، اکثر لوگوں کا بس یہی کام ہے کہ نا شکری میں لگے رہتے ہیں، یہ نا شکری انسانوں میں عموماً کفر کی حد تک ہے کھاتے ہیں اور پہنتے ہیں اللہ کی پیدا کردہ چیزیں اور عبادت کرتے ہیں دوسروں کی، اور بہت سے لوگوں کی نا شکری کفر کی حد تک تو نہیں لیکن نافرمانی اور معاصی میں لگے رہتے ہیں یہ بھی ناشکری ہے دونوں قسم کی ناشکری کے بارے میں فرمایا (فَاَبٰی اَکْثَرُ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–52

قسم سوم از دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ وھو الذی ارسل الریاح بشرا بین یدی رحمتہ .... الیٰ .... وجاھدھم بہ جھادا کبیرا۔ اور وہ خدا وہ ہے جو باران رحمت سے پہلے بشارت دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے بارش اللہ کی رحمت ہے اور اس سے پہلے ہواؤں کا چلنا یہ بشارت ہے کہ عنقریب بارش نازل ہونے والی ہے اور ہم نے اپنی رحمت سے آسمان سے ایسا پانی نازل کیا جو خود بھی پاک ہے اور دوسرے کو بھی پاک کرنے والا ہے تاکہ ہم اس پانی کے ذریعہ مردہ یعنی خشک زمین کو زندہ کریں یعنی خشک زمین سے قسم قسم کی نباتات اگاویں۔ اس طرح قیامت کے قریب ایک غیبی بارش نازل ہوگی جس سے مردے زندہ ہوجائیں گے اور تاکہ اس اپنی مخلوقات میں سے چوپایوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

32:۔ ” ولقد صرفنہ الخ “ یہ زجر ہے یعنی ہم دعوی توحید کو گناگوں دلائل سے اور مختلف اسالیب بیان سے واضح کر کے بتاتے ہیں تاکہ وہ اس میں غور وکفکر کریں اور اسے سمجھ لیں مگر اکثر لوگ پھر بھی انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 48–52

ربطہ آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید کے سلسلے میں سائے کا ذکر کیا کہ اس کا تعلق سورج کے ساتھ ہے ۔ سورج اس کی رہنمائی کرتا ہے اور یہ گھٹتا بڑھتا ہے ۔ پھر اللہ نے رات اور دن کا ذکر فرمایا کہ یہ بھی قدرت ِ الٰہی کے ہوتے ہیں ۔ اللہ نے رات کو بمنزلہ لباس قرار دیا ، اور نیند کو آرام کو ذریعہ بنایا ۔ پھر دن کے وقت کا روبار اور محنت مزدوری کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جنہیں دیکھ کر اس کی توحید سمجھ میں آتی ہے۔ باران رحمت کی دعائیں اب دلائل قدرت ہی کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے ہوا اور پانی کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھو الذی ارسل الریح بشرا بین…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ صَرَّفْنٰہُ بَيْنَہُمْ لِيَذَّكَّرُوْا۝ 0ۡۖ فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا۝ 50 صرف الصَّرْفُ : ردّ الشیء من حالة إلى حالة، أو إبداله بغیره، يقال : صَرَفْتُهُ فَانْصَرَفَ. قال تعالی: ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152] ( ص ر) الصرف کے معنی ہیں کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیر دینا یا کسی اور چیز سے بدل دینا ۔ محاور ہ ہے ۔ صرفتہ فانصرف میں نے اسے پھیر دیا چناچہ وہ پھر گیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152] پھر خدا نے تم کو ان کے مقابلے سے پھیر کر بھگادیا ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–52

1 ؎ یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ ظل سے مراد سایہ الٰہی ہو وہ کسی قوم اور کسی شخص کے لیے خدا نے کیسا دراز کیا ہو ؟ مگر بقاء اسی کو ہے اس کو ٹھہرا نہیں رکھتا وہ پھر ڈھلنے لگتا ہے اور آفتاب عنایت و اقبال اس کی دلیل ہوتا ہے انسان کی عمر بھی ایک سایہ ہے باوجود درازی کے کس طرح سے ڈھلتی ہے اور یہ بیخبر غافل ہے۔ 12 منہ ترکیب : اناسی اصلا اناسین جمع انسان کسر حان و سراحین ابدلت النون فیہ یاء وادغمت وقیل جمع انسی علی القیاس صرفناہ الضمیر للماء۔ تفسیر : ان کے شبہات رد کر کے اور اس کجروی کا نتیجہ امم گزشتہ کے حالات میں بیان فرما کر اب یہ چند دلائل توحید اور کمال قدرت پر بیان فرماتا ہے : فقال الم ترابی ربک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 50–52

وَلَـقَدْ صَرَّفْـنٰـہُ بَیْنَھُمْ لِیَذَّکَّرُوْا صلے ز فَاَبٰٓی اَکْثَرُالنَّاسِ اِلاَّ کُفُوْرًا۔ وَلَوْشِئْـنَا لَبَعَثْـنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ نَّذِیْرًا۔ فَلاَ تُطِعِ الْـکٰفِرِیْنَ وَجَاھِدْھُمْ بِہٖ جِھَادًا کَبِیْرًا۔ (الفرقان : 50 تا 52) (ہم نے اسے ان کے درمیان مختلف اسالیب سے بیان کیا ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں لیکن اکثر لوگ ناشکری پر ہی اڑے ہوئے ہیں۔ اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے۔ پس آپ کافروں کی بات کی طرف دھیان نہ دیں اور اس قرآن کے ذریعے ان سے پورا پورا جہاد کریں۔ ) تصریفِ آیات کا اعجاز تصریفِ آیات قرآن کریم کا ایک اعجازی پہلو ہے۔ وہ ایک ایسی بات کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–50

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مزید دلائل۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ہواؤں پر اختیار نہیں وہی ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے جس سے لوگ بارش کی آمد آمد محسوس کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی آسمان سے بارش کی صورت میں پاک پانی نازل کرتا ہے، پھر بارش سے مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو پائے اور انسان پیدا کیے ہیں وہی بارش کے ذریعے انھیں پانی پلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مختلف الفاظ اور انداز میں لوگوں کو نصیحت فرماتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت اپنے رب کی ذات اور اس کے فرمودات کا انکار کرتی ہے۔ اس آیت میں ” اَلرِّیٰحٌ“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بارش کو پھیرنے کا معنی : 50: وَلَقَدْ صَرَّفْنٰہُ بَیْنَھُمْ لِیَذَّکَّرُوْا (اور ہم نے پانی کو انسانوں میں گھما یا اور پھر ایا تاکہ لوگ غور کریں) قراءت : لِیَذَّکَّرُوْا حمزہ و علی نے پڑھا ان کی مراد یہ ہے کہ ہم نے یہ بات لوگوں کے درمیان قرآن اور تمام کتب منزلہ علی الرسل میں پھیر پھیر کر بیان کی۔ اور وہ بادل کا بننا اور بارش کا اترنا۔ تاکہ لوگ سوچ و بچار کریں اور عبرت حاصل کریں اور اس پانی میں اللہ تعالیٰ کے انعام کا حق پہچان کر شکریہ ادا کرلیں۔ فَاَبٰی اَکْثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوْرًا (مگر لوگوں کی اکثریت ناشکری کے بغیر نہ رہی) اکثریت نے کفر انِ نعمت کے علاوہ ہر بات سے انکار کردیا۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

50۔ ولقد صرفناہ بینھم، ہم اس بارش کو کبھی ایک شہر کی طرف کبھی دوسرے شہر کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ کوئی سال ایسا نہیں ہوتا کہ دوسرے سال سے اس میں بارش زیادہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ بارش کو زمین پر گھماتا رہتا ہے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ ایک مرفوع روایت میں آتا ہے کہ کوئی ساعت ایسی نہیں ہوتی نہ رات میں نہ دن میں کہ ابر سے بارش نہ ہوتی ہو۔ اللہ تعالیٰ بارش کا رخ جس طرح چاہتا ہے پھیردیتا ہے۔ ابن اسحاق اور ابن جریج اور مقاتل نے حضرت ابن مسعود تک اس قول کو پہنچایا ہے اور حضرت ابن مسعود نے اس کو رسول اللہ کا ارشاد فرمایا ہے کہ کسی ایک سال دوسرے سال سے زیادہ بارش نہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–50

48۔ 50:۔ مینہ کا پانی جب تک زمین پر نہ آوے اور زمین کی کوئی نجاست کی چیز اس میں نہ ملے ‘ اس پانی کا اسی آیت میں ذکر ہے کہ وہ پانی پاک ہے اور زمین کے پانی کا یہ ذکر کہ کون سا پانی پاک ہے اور کس قدر پانی پاک ہے ‘ اس کی تفصیل حدیث شریف اور فقہ میں ہے ‘ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے ‘ پوری تفصیل تو اس مسئلہ کی یہاں ممکن نہیں مگر حاصل کلام یہ ہے کہ بہتا ہوا پانی تو بلا اختلاف کے سب علماء کے نزدیک خواہ کتنا ہی ہو پاک ہے ‘ رکے ہوئے پانی میں علماء کا اختلاف ہے ‘ اس اختلاف کا حاصل یہ ہے کہ مسند امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابوداؤد ‘ نسائی میں حضرت ابو سعید خدری سے ایک روایت 2 ؎ ہے ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 48–50

آیت 48 سے 50 یعنی اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اپنے بندوں کو اپنی بےپایاں رحمت سے ڈھانپ لیا ہے اور اپنے رزق کی ان پر اس طرح فراوانی کی کہ اس نے اپنی رحمت یعنی بارش کے آگے آگے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجیں (اور اس کے ذریعے سے اس نے بادلوں پر اپنے رزق کے دروازے کھول دئیے) ان ہواؤں کے ذریعے سے بادل اٹھتا ہے پھر اکٹھا ہو کر گھٹا کے ٹکڑے بن جاتا ہے، ہوائیں اسے بار آور کرتی ہیں اور پھر اپنے رب اور تصرف کرنے والے کے حکم سے اس گھٹا کو کھینچ کر لاتی ہیں۔۔۔ تاکہ بارش برسنے سے پہلے بندے بارش کی آمد کی نوید پر خوش ہوجائیں اور بارش کے اچانک آجانے سے پہلے بارش کے لئے تیار ہوجائیں۔ (وانزلنا من السماء ماء…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 49–54

نسب اور سسرالی رشتے قول باری ہے : (وھوالذی خلق من الماء بشرا وجعلہ نسبا وطھوا) اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا اور پھر اس نے نسب اور سسرال کے دو الگ الگ سلسلے چلائے۔ یہاں وہ پانی مراد لینا جائز ہے جس سے جانداروں کی اصل پیدا کی گئی جس کا ذکر اس قول باری میں ہے : (وجعلنا من الماء کل شیء حی) اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی، اور اس سے وہ نطفہ مراد لینا بھی درست ہے جس سے اولاد آدمی کی تخلیق ہوئی۔ قول باری (فجعلہ نسبا وصھرا) کی تفسیر میں طائوس کا قول ہے کہ رضاعت بھی صہر یعنی سسرال میں داخل ہے۔ ایک روایت کے مطابق ضحاک کا قول ہے کہ نسب سے مراد رضاعت ہے اور صہر سے مراد دامادی رشتہ ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

62 حکمت تصریف کی توضیح و تشریح : سو اس سے قرآن حکیم کو مختلف اسالیب میں بیان کرنے کے احسان کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے اس کو انکے درمیان طرح طرح سے پھیرا ہے تاکہ لوگ سبق لیں "۔ یعنی ہدایت کے اس مضمون کو ہم نے طرح طرح سے بیان کیا ہے تاکہ لوگ سبق لیں اور نصیحت حاصل کرلیں۔ اور ہدایت کے نور سے اپنے باطن کو منور کریں کہ اس میں ان کی سعادت و کامرانی ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور یہ تفسیر مبنی ہے اس قول و احتمال پر کہ { صرفناہ } کی ضمیر مفعول کا مرجع قرآن ہے۔ جیسا کہ بعض اہل علم نے اس کو ترجیح دی ہے۔ جبکہ اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–52

کفار سے جہاد کبیر کیوں اور کیسے ؟ تشریح : جیسا کہ اوپرآ یات میں اللہ کی کچھ نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کسی صورت بھی توحید کے قائل نہیں ہوسکتے تو اللہ رب العزت پیارے نبی ﷺ کو اپنی حکمت سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ آخری اور ایک ہی نبی تمام دنیا کی ہدایت کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ آپ ہی آخری اور ایک ہی نبی ہیں۔ آپ کی شریعت آپ پر نازل کردہ قرآن بہترین مکمل اور ناقابل تردید ہے۔ حق اور سچ ہے اور تاقیامت رہنے والا ہے۔ اس لیے آپ نہ تو اپنے مخالفین سے ڈریں نہ گھبرائیں نہ ہی پریشان ہوں اللہ نے آپ کو اس فرض کو ادا کرنے کے لیے چن لیا ہے۔ آپ بےفکر ہو کر کفار…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف اے مخاطب تو دیکھتا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہر شے میں اور ہر کام میں ایک رشتہ قائم کردیا ہے یہی رشتہ سبب اور اس کے نتیجے میں ہے سورج کی روشنی اور سائے میں ہے کس طرح قدرت باری نے چیزوں کو سایہ بخشا کہ دور تک پھیلا ہوتا ہے ، اگر اللہ جل جلالہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایسے ہی رکھنے پر قادر تھا مگر اس نے سائے کے بڑھنے گھٹنے کو سورج اور دھوپ سے متعلق کردیا ، سورج اوپر اٹھتا ہے تو سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں اور دھوپ اور گرمی کی تپش پھیلتی ہے اور پھر سورج ڈھلتا ہے تو دوبارہ سائے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ رشتے یہ اسباب ونتائج اللہ نے دنیا کی آبادی اور بنی آدم کے آرام کا سبب بنائے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

13 ۔ یعنی بارش کہیں زیادہ ہوتی ہے اور کہیں کم۔ سب جگہ یکساں ہو۔ بیک وقت نہیں ہوتی۔ کسی جگہ بارش سے سیلاب آجاتا ہے اور کہیں بارش نہ ہونے سے خشک سالی ہوجاتی ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی قدرت کے کرشمے ہیں۔ (ابن کثیر) آیت کا یہ ترجمہ اور مفہوم اس صورت میں ہوگا جب ” صرفناہ “ میں ” ہ “ کی ضمیر بارش کے لئے قرار دی جائے اور اگر یہ ضمیر اوپر بیان شدہ دلائل کے لئے قرار دی جائے۔ کما ھو عند جھور المفسرین تو مطلب یہ ہوگا کہ ” ہم نے توحید کے دلائل کو مختلف طریقوں سے پھیر پھیر کر قرآن اور دیگر کتب سماویہ میں بیان کیا ہے۔ (شوکانی) 14 ۔ ناشکری یہ کہ اس بارش کو ستاروں کا کرشمہ قرار دیا جائے۔ صحیح…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:50) صرفنہ : صرفنا۔ ماضی جمع متکلم ہ ضمیر مفعول واحد مذکر گا ئب ضمیر کا مرجع الماء المنزل من السماء ہے آسمان سے نازل کیا ہوا پانی یعنی بارش۔ ہم تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ ہم بانٹتے رہتے ہیں۔ لیذکرو۔ لام تعلیل کا ہے۔ صیغہ جمع مذکر غائب منصوب بوجہ عامل لام تعلیل ۔ تاکہ وہ غور و خوض کریں۔ تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ فابی : ابی یابی (باب فتح) اباء مصدر۔ ابی ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے سختی سے انکار کیا۔ ای ابوا عن عذکر۔ انہوں نے (اس کی ان نعمتوں پر غور کرنے اور خدا وند تعالیٰ کے حق النعمۃ کو پہچاننے اور اس سے نصیحت حاصل کرنے سے) انکار کردیا۔ کفورا۔ کفر۔ کفران۔ انکار۔ مصدر ہے۔ الا کفورا سوائے کفران نعمت کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–50

لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 50 : مد (پھیلایا) ‘ الظل (سایہ) ‘ ساکن (ٹھرا ہوا) ‘ دلیل (نشانی۔ راستہ بتانے والا) ‘ قبضنا ( ہم نے سمیٹ لیا) ‘ سبات (آرام و راحت کی چیز) ‘ الریاح ( ہوائیں) ‘ طھور (پاکیزہ۔ صاف ستھرا) ‘ بلدۃ ( بستی ۔ شہر) ‘ انعام (جو پائے جانور) ‘ ابی (انکار کیا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 50 : اللہ تعالیٰ کا نظام و انتظام ایسا ہے کہ وہ ہر آن اس کا ئنات کی کیفیات اور حالات کو تبدیل کرتارہتا ہے تاکہ انسان یکسانیت سے اکتانہ جائے کبھی دن کبھی رات ‘ کہیں بہار اور کسی جگہ خزاں ‘ کبھی سردی کبھی گمی یا برسات۔ اگر اللہ تعالیٰ ایک ہی کیفیت رکھتا تو زندگی بےکیف ہو کر رہ جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–50

(ف 1) اللہ تعالیٰ وہ قدرت رکھتا ہے کہ بارش آنے سے پہلے ایک ایسی ہوا چلاتا ہے جو بارش کی خوش خبری دینے والی ہوتی ہے وہ بادلوں کے اٹھنے کا سبب ہوتی ہے پھر فرمایا کہ آسمان سے پاکیزہ اور ستھرا پانی برستا ہے جس سے سوکھی مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے اور اس میں طرح طرح کی پیداوار ہوتی ہے اور مینہ کا پانی ندی نالوں اور تالابوں میں جو جمع ہوتا ہے وہ چوپایوں اور آدمیوں کے پینے کے کام آتا ہے پھر فرمایا ہر ملک کی ضرورت کے موافق اللہ تعالیٰ نے مینہ کے پانی کی تقسیم کردی ہے جہاں جتنی ضرورت ہوتی ہے وہاں اسی قدر مینہ برستا ہے پھر فرمایا بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[30] یعنی بارش کے اس مضمون کو ہم نے باربار قرآن میں بیان کر کے حقیقت سمجھانے کی کوشش کی ہے تاکہ لوگ اس سے سبق لیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 48–53

تذکیربآلا اللہ 3: قرآن حکیم دلائل وبراہین کا بےنظیر مجموعہ ہے ۔ اس میں ہر نوع اور ہر طبقے کے لوگوں کے لئے تسکین کا بہتر اور وافر سامان موجود ہے ۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں دعوت و اشاعت کے کسی طریق کو اٹھا نہیں رکھا گیا ۔ اس میں حکمت وفلسفہ بھی ہے ۔ اور نفسیات انسانی کی عکاسی بھی ۔ معقول اور ٹھوس دلائل بھی ہیں ۔ اور اقوام و ملل کے حالات بھی ممکن طریقے تصور میں آسکتے ہیں ۔ وہ سب اس میں موجود ہیں ۔ ان آیات میں مشاہدات فطرت کا بیان ہے ۔ اور تذکیر بآلاء اللہ کے اصول پر ان لوگوں کو دعوت ایمان ہے ۔ جو غرو وفکر کے عادی ہیں ۔ ارشاد ہے کہ دیکھو ہم نے انسانوں کے سکھ اور آرام کے لئے آفات پیدا کیا ۔ اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(50) اور ہم نے ہی اس پانی کو لوگوں کے درمیان مختلف مقدار سے تقسیم کردیا تاکہ غور کریں اور سمجھیں مگر پھر بھی اکثر لوگوں نے سوائے کفران نعمت اور ناسپاسی کے اور کچھ نہیں کیا یعنی پانی کی تقسیم اس طرح کہ بارش کا حصہ ہر ایک کو پہنچانا تاکہ یہ غور کریں کہ وہ قادر و مختار کون ہے جس کے حکم سے آگے پیچھے بادل سب جگہ پہنچتے ہیں اور بارش ہوتی ہے لیکن اکثر انسانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ ناشکری اور کفران نعمت کئے بغیر نہ رہے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی بجائے نافرمانی اور ناسپاسی پر اڑے رہے بعض حضرات نے صرفناہ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف لوٹائی ہے اس تقدیر پر وہی معنی ہوں گے جو بنی اسرائیل میں ولقد صرفنا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–51

ف 1۔ اور تنہا آپ پر تمام کام نہ ڈالتے، لیکن چونکہ آپ کا اجر بڑھانا مقصود ہے، اس لئے ہم نے ایسا نہیں کیا، تو اس طور پر اتنا کام آپ کے سپرد کرنا خدا تعالیٰ کی نعمت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تصریف آیات کے تحت ہم سمجھاتے ہیں اگر کوئی سمجھنے والا ہوں : 50۔ ” اور بلاشبہ ہم نے اس کو لوگوں کے درمیان بیان کیا تاکہ لوگ یاد رکھیں (صرفنہ) کی ضمیر کو مفسرین نے زیادہ تر بارش کی طرف پھیرا ہے اور بعض نے موسموں کے تغیر وتبدل کا بھی ذکر کیا ہے اور قرآن کریم کی طرف بھی ہمارے خیال اس آخری مرجع کی طرف ہے کیونکہ اس طرح اس مضمون کی طرف بھی اور قرآن کریم کی انقلاب عظیم کی طرف بھی اور بارش کی مضمون کی طرف بھی خود بخود منتقل ہوجائے گا کیونکہ قرآن کریم میں بارش کے مضمون کو بار بار بیان کرکے اور اس کی مثال دے دے کر بات سمجھائی ہے اور قرآن کریم نے جو انقلاب عظیم پیدا کیا ہے یہ تمام مثالیں اس پر بھی فٹ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–51

وَلَقَدْ صَرَّ‌فْنَاهُ بَيْنَهُمْ (And We have distributed it (the water) among them - 25:50). The verse says that We keep rotating the rainfall, that is, it sometimes falls in one locality and sometimes in another. Then sometimes a locality receives in one year more rain and in subsequent years less. Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbas ؓ says that the presumption of some people that the quantity of rains varies from year to year is not really correct. In fact the aggregate amount of water sent down to the world (at macro-level) is equal every year. However, according to Allah's will, its…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

64 "We present...before them" may have three meanings: (1)"We have cited the phenomenon of rainfall over and over again in the Qur'an in order to make plain to them the Reality." (2) "We are time and again showing them the wonderful phenomenon of the heat and drought, seasonal winds and clouds, rainfall and its lifeproducing effects." (3) "We go on changing the system of the distribution of rainfall throughout the , world year after year, so that the same place does not receive the same amount of rainfall every time: sometimes a place is left completely dry, another has more or less of…

Read the full tafseer →