Al-Furqaan 25:62

Al-Furqaan · from ayah 62

25:62

وَهُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا ۟وَهُوَ الَّذِىۡ جَعَلَ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ خِلۡفَةً لِّمَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّذَّكَّرَ اَوۡ اَرَادَ شُكُوۡرًا

اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔ (یہ باتیں) اس شخص کے لئے جو غور کرنا چاہے یا شکرگزاری کا ارادہ کرے (سوچنے اور سمجھنے کی ہیں)

— Fateh Muhammad Jalandhari

And it is He who has made the night and the day in succession for whoever desires to remember or desires gratitude.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 6 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:62

وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے، یا شکر گزار ہونا چاہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔ (یہ باتیں) اس شخص کے لئے جو غور کرنا چاہے یا شکرگزاری کا ارادہ کرے (سوچنے اور سمجھنے کی ہیں)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اسی نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے واﻻ بنایا۔ اس شخص کی نصیحت کے لیے جو نصیحت حاصل کرنے یا شکر گزاری کرنے کا اراده رکھتا ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایسا بنایا کہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے چلے آتے ہیں (مگر یہ ساری باتیں) اس شخص کے لیے (کارآمد ہیں) جو نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہو یا شکر بجا لانا چاہتا ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہی ہے جس نے رات اور دن کی بدلی رکھی اس کے لیے جو دھیان کرنا چاہے یا شکر کا ارادہ کرے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہی ذات ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے گردش کرنے والا بنایا اس کے لئے جو غور و فکر کرنا چاہے یا شکر گزاری کا ارادہ کرے (ان تخلیقی قدرتوں میں نصیحت و ہدایت ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا، اس کے لیے جو چاہے کہ نصیحت حاصل کرے، یا کچھ شکر کرنا چاہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو بار بار ایک دوسرے کے بعد آنے والا بنایا۔ اب جو چاہے اس سے سبق حاصل کرے اور جو چاہے شکرگزار بنے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو یکے بعد دیگرے آنے والا بنایا ان کے لئے جو یاد دہانی حاصل کریں یا شکر گزار بننا چاہیے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ وہی ہے جس نے بنایا رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والے تاکہ یہ سامان عبرت و بصیرت ہوں ہر اس شخص کے لیے جو نصیحت حاصل کرنا چاہے یا شکرگزار بننا چاہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنا دیا اس شخص کے لئے جو سمجھنا چاہے یا شکر ادا کرنا چاہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہی ہے جس نے دن اور رات کو بنا دیا ہے ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا اس کے لیے جو نصیحت حاصل کرنا چاہے یا شکر گزار بننا چاہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے جانے والا بنایا یہ چیزیں اس شخص کے لیے جو غور کرنا چاہے یا شکر گزاری کا ارادہ کرے (سوچنے اور سمجھنے کی ہیں)۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He it is Who caused the night and the day to succeed each other so that everyone who desires may learn a lesson or become grateful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And He is the One who made the day and the night following each other, for the one who wishes to be mindful or wishes to show gratitude.

— Muhammad Taqi Usmani

And He is the One who made the day and the night following each other, for the one who wishes to be mindful or wishes to show gratitude.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And He it is Who has put the night and the day in succession (Khilfatan), for such who desires to remember or desires to show his gratitude.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And He it is Who hath appointed night and day in succession, for him who desireth to remember, or desireth thankfulness.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And it is He who has made the night and the day in succession for whoever desires to remember or desires gratitude.

— Saheeh International

It is He who has made the night and the day, one proceeding the other, for whoever wants to take heed or give thanks.

— Muhammad Sarwar

And He it is Who made the night and the day to follow each other for him who desires to be mindful or desires to be thankful.

— Muhammad Habib Shakir

And it is He Who hath appointed the night and the day a succession, for him who desireth to consider or desireth to be grateful.

— Abdul Majid Daryabadi

And it is He Who made the Night and the Day to follow each other: for such as have the will to celebrate His praises or to show their gratitude.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:62

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 61–62

اللہ تعالیٰ کی رفعت و عظمت اللہ تعالیٰ کی بڑائی، قدرت، رفعت کو دیکھو کہ اس نے آسمان میں برج بنائے اس سے مراد یا تو بڑے بڑے ستارے ہیں یا چوکیداری کے برج ہیں۔ پہلا قول زیادہ ظاہر ہے اور ہوسکتا ہے کہ بڑے بڑے ستاروں سے مراد بھی یہی برج ہوں۔ اور آیت میں ہے آسمان دنیا کو ہم نے ستاروں کیساتھ مزین بنایا۔ سراج سے مراد سورج ہے جو چمکتا رہتا ہے اور مثل چراغ کے ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا 13؀۽) 78۔ النبأ :13) اور ہم نے روشن چراغ یعنی سورج بنایا اور چاند بنایا جو منور اور روشن ہے دوسرے نور سے جو سورج کے سوا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ اس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو نوربنایا۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 77 یہ دو مراتب ہیں جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے الگ اور اپنے مزاج کے اعتبار سے لازم و ملزوم ہیں۔ گردش لیل و نہار کے نظام پر غور کرنے کا پہلا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی اس سے توحید کا درس لے اور اگر خدا سے غفلت میں پڑا ہوا تھا تو چونک جائے۔ اور دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ خدا کی ربوبیت کا احساس کر کے سر نیاز جھکا دے اور سراپا امتنان بن جائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–62

تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا، وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا۔ مقصود ان آیات سے انسان کو یہ بتلانا ہے کہ ہم نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے اور شمس و قمر اور ان کے ذریعہ رات دن کا انقلاب اور ان کی تاریکی اور روشنی اور زمین و آسمان کی تمام کائنات اس لئے پیدا کئے ہیں کہ غور و فکر کرنے والے کو اس میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور توحید کے دلائل فراہم ہوں۔ اور شکر گزار کے لئے شکر کے مواقع ملیں تو جس شخص کا وقت دنیا میں ان دونوں چیزوں سے خالی گزر گیا اس کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 61–62

آیت 62-61 اصل ضرورت نشانیوں کی نہیں بلکہ نشانیوں سے فائدہ اٹھانی کی زیادہ کی ہے اوپر کی آیات التفات کے بعد یہ آخر میں پھر آیات آفاق کی طرف توجہ دلائی کہ جہاں تک نشانیوں کا تعلق ہے ان کی کمی نہیں ہے۔ ضروتر کسی نئی نشانی کی نہیں بلکہ نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے جذبے اور ارادے کی ہے۔ جن کے اندر یہ جذبہ اور ارادہ نہیں پایا جاتا وہ ہر قسم کی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی اندھے ہی بنے رہتے ہیں۔ لمن برادن یذکر اواراد شکوراً تذکر عقل کا فعل ہے اور شکر دل کا۔ اللہ تعالیٰ نے عقل اور دل کو بیدار کرنے والی نشانیوں سے اس کائنات کے چپہ چپہ کو معمو کر رکھا ہے لیکن ان سے صحیح فائدہ اٹھانا انسان کے اپنے ارادے پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

62-1یعنی رات جاتی ہے تو دن آجاتا ہے اور دن آتا ہے تو رات چلی جاتی ہے۔ دونوں بیک وقت جمع نہیں ہوتے، اس کے فوائد و مصالح محتاج وضاحت نہیں۔ بعض نے خِلْفَۃً کے معنی ایک دوسرے کے مخالف کے کئے ہیں یعنی رات تاریک ہے تو دن روشن۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–63

23: یعنی ان کی بدکلامی اور گالی گفتار کا جواب برے الفاظ میں دینے کے بجائے شریفانہ انداز میں دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 61–62

تبرک الذی ……شکوراً (64) بروج کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ اس سے سیاروں کے مدار مراد ہیں۔ وہ عظیم فلکیاتی مدار جو بہت ہی دور رس اثرات اور دور رس اعمال کا مظہر ہیں۔ کائنات کا یہ عظیم ترین مظہر اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس فقرے کے جواب میں پیش فرمایا ہے کہ (رحمٰن کیا ہوتا ہے) ان کو بتایا جاتا ہے کہ تم رحمٰن کو کیا سمجھتے ہو۔ ذرا رحمٰن کی اس مخلوق کو سمجھنے کی کوشش کرو تو تمہارا سر چکرا جائے۔ جو فی الحقیقت عظیم ہے۔ انہی بروج کے اندر شمس بھی سرگرداں ہے جو ایک چراغ ہے کیونکہ اسی کی روشنی سے زمین منور ہے اور اسی کی روشنی سے قمر بھی منیر ہے۔ جس کی روشنی لطیف اور خوشگوار ہے۔ یہاں گردش لیل و نہار کے تسلسل کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 گھٹنے بڑھنے یا آنے جانے کو بدلنا سدلنا فرمایا، یا یہ مطلب ہے کہ ایک کو دوسرے کا بدل بنایا ہے۔ مثلاً دن کا کام رہ گیا، رات کو کرلیا، رات کا وظیفہ رہ گیا، دن میں پورا کردیا۔ کما ورد فی الحدیث۔ 7 یعنی چاند سورج وغیرہ کا الٹ پھیر اور رات دن کا ادل بدل اس لیے ہے کہ اس میں دھیان کر کے لوگ خداوند قدیر کی معرفت کا سراغ لگائیں کہ یہ سب تصرفات و تقلبات عظیمہ اسی کے دست قدرت کی کارسازیاں ہیں۔ اور رات دن کے فوائد و انعامات کو دیکھ کر اس کی شکر گزاری کی طرف متوجہ ہوں۔ چناچہ رحمان کے مخلص بندے جن کا ذکر آگے آتا ہے، ایسا ہی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 62 وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَ اَوْ اَرَادَ شُکُوْرًا ” دن ‘ رات اور ان کا الٹ پھیر آیات الٰہیہ میں سے ہیں اور آیات الٰہیہ پر غور کرنے سے انسان کو اللہ کی ذات ‘ اس کے علم اور اس کی قدرت و حکمت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ پھر جب انسان اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتا ہے تو اسے کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کی توحید ‘ اس کی صناعی اور اس کی قدرت پر دلالت کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایمان کے ضمن میں یہ دو آیات گویا اس مضمون کی تمہید ہے جس میں ”عباد الرحمن“ یعنی اللہ کے محبوب اور چہیتے بندوں کی سیرت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ان آیات کا مطالعہ کرتے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

79 خلفہ کے معنی ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے۔ رات کے پیچھے دن آتا ہے۔ اور دن کے پیچھے رات۔ اور یہ بار بار ایک دوسرے کے پیچھے آتے رہتے ہیں۔ موجودہ نظریہ ہیئت کے مطابق دن رات سورج کے سامنے زمین کی محوری یک روزہ گردش کی بنا پر پیدا ہوتے ہیں۔ زمین کا محیط پچیس ہزار میل ہے اور زمین اپنی محوری گردش پورے چوبیس گھنٹہ میں پوری کرتی ہے۔ بالفاظ دیگر ہم نے زمین کی محوری گردش کی مدت کو چوبیس گھنٹہ میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اور دن اور رات کی اوقات میں کمی بیشی زمین کی سورج کے گرد سالانہ گردش کی وجہ سے ہوتی ہے اس نظریہ کی رو سے اللہ کی قدرت کے یہ کرشمے اور بھی محیرالعقول بن جاتے ہیں۔ جس نے اتنے بڑے بڑے عظیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

72۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مہیب وعظیم الشان نورانی اجسام تو ایسے ہیں کہ مشرک قومیں انہیں کو دیوتا اور صاحب اختیار و تصرف خدا سمجھ بیٹھی ہیں، ان سب کا ایک نظام کے ماتحت ہونا، ایک آئین میں جکڑا ہونا، ان کے خالق وصانع کی قدرت، حکمت، صفت سب کے کمال، اور صفت یکتائی پر ایک دلیل قوی ہے۔ (آیت) ” لمن ...... شکورا “۔ یہ سب ” سمجھنے والے کی نظر میں استدلالات ہیں اور شکر گزاری کرنے والے کی نظر میں انعامات ہیں۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–77

آیت نمبر 61 تا 77 ترجمہ : وہ ذات بڑی عالی شان ہے جس نے آسمانوں میں بارہ برج بنائے (1) حَمَلْ (2) ثور (3) الجوزاء (4) السرطان (5) الاسد (6) السنبلہ (7) المیزان (8) العقرب (9) القوس (10) الجدی (11) الدلو (12) الحوت یہ سبع سیارہ کی منزلیں ہیں (اور وہ سبع سیارہ یہ ہیں) (1) المریخ : اس کی منزل حمل اور عقرب ہے (2) زہرہ : اس کی منزل ثور اور میزان ہے (3) عطارد : اس کی منزل جوزاء اور سنبلہ ہے (4) القمر اس کی منزل سرطان ہے (5) الشمس اس کی منزل اسد ہے (6) المشتری : اس کی منزل قوس اور حوت ہیں (7) زحل اس کی منزل جدی اور دلو ہے، اور اس نے آسمان میں چراغ بھی بنایا اور وہ سورج ہے اور نورانی چاند بنایا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وہو الذی جعل الیل والنہار خلفۃ لمن اراد ان یذکر او اراد شکورا۔ اور وہ ایسا ہے کہ اس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا اور یہ سب کچھ اس شخص کے (سمجھنے کے) لئے ہے جو سمجھنایا شکر کرنا چاہے۔ خِلْفَۃً یعنی رات اور دن میں سے ہر ایک دوسرے کا قائم مقام ہوجاتا ہے ‘ اسی لئے اگر کسی سے دن یا رات کا کوئی عمل فوت ہوگیا ہو تو دن کے عمل کو رات میں اور رات کے عمل کو دن میں ادا کرسکتا ہے۔ 1 ؂ بغوی نے لکھا ہے کہ ایک شخص حضرت عمر ؓ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا آج میری رات کی نماز فوت ہوگئی حضرت عمر ؓ نے فرمایا رات کو جو نماز فوت ہوگئی اس کو دن میں (پورا) کرلو۔ اللہ نے فرمایا ہے (وَہُوَ الَّذِیْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(62) اور وہ ایسا ہے جس نے رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والے بنائے اس شخص کے لیے جو ان کی آمد ورفت سے نصیحت حاصل کرنا چاہے اور شکر خداوندی میں خوب نیک عمل کرنا چاہے وہ رات کی عبادت دن میں کرنے کے لیے نہ چھوڑے اور دن کی عبادت کو ٹال کر رات پر نہ ڈالے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً : اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی قدرت کا کمال اور نعمتوں کی یاد دہانی تینوں چیزیں موجود ہیں۔ یعنی رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں، رات جاتی ہے تو دن آجاتا ہے اور دن جاتا ہے تو رات آجاتی ہے۔ اگر ہمیشہ دن رہتا یا ہمیشہ رات رہتی تو زندگی اور اس کی مصروفیات کا سلسلہ باقی نہ رہ سکتا۔ (دیکھیے قصص : 71 تا 73) دن رات کے اس بدلنے میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ (دیکھیے بقرہ : 164۔ آل عمران : 190) ایک مطلب اس کا یہ ہے کہ دن اور رات گھٹتے بڑھتے اور ایک دوسرے کی جگہ آتے جاتے رہتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(وھو الذی جعل۔۔۔۔۔ ) مسئلہ نمبر 1 :۔ خلفۃ ابو عبید نے کہا : خلفہ سے مراد ہر ایسی چیز ہے جو کسی چیز کے بعد ہو۔ رات اور دن میں سے ہر ایک دوسرے کے بعد آتا ہے۔ پیٹ کے مرض میں مبتلا لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے : اصابتہ خلفۃ یعنی وہ یکے بعددیگرے اٹھتا بیٹھتا ہے۔ اسی سے خلفۃ النبات ہے یہ ایسا پتہ ہے جو موسم سرما میں پہلے پتے کے بعد نکلتا ہے۔ اسی معنی میں زہیر بن ابی سلمیٰ کا قول ہے : بھا العین والارام یمثین خلفۃ وہاں نیل گائیں اور ہرن کے بچے یکے بعد دیگرے چلتے ہیں۔ رثم ہرن کے بچے کو کہتے ہیں اس کی جمع آرام ہے۔ وہ کہتا ہے : جب ایک جماعت چلی جاتی ہے تو دوسری آجاتی ہے۔ اسی معنی میں ایک اور شاعر کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وہوالذی جعل الیل والنہار خلفۃ “ یعنی دن کو سفید اور رات کو سیاہ بنایا۔ 2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” جعل الیل والنہار خلفۃ “ سے مراد ہے کہ رات دن کے پیچھے آتی ہے ار دن رات کے پیچھے آتا ہے آیت ” لمن اراد ان یذکر “ یعنی وہ ان دونوں (رات دن) میں اپنے رب کی نعمتوں کو یاد کرے آیت ” یذکر او اراد شکورا “ ان نعمتوں کا شکر ادا کرے۔ 3۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” جعل الیل والنہار خلفۃ “ سے مراد ہے کہ وہ دونوں مختلف ہیں رات سیاہ ہوتی ہے اور دن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْ [ وہی ہے جس نے ] جَعَلَ [ بنایا ] الَّيْلَ [ رات کو ] وَالنَّهَارَ [ اور دن کو ] خِلْفَةً [ (ایک دوسرے کے) پیچھے پیچھے آنے والا ہوتے ہوئے ] لِّمَنْ [ اس کے لئے جو ] اَرَادَ [ ارادہ کرے ] اَنْ [ کہ ] يَّذَّكَّرَ [ وہ نصیحت حاصل کرے ] اَوْ اَرَادَ [ یا ارادہ کرے ] شُكُوْرًا [ شکر گزاری کا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 61–62

اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ کے مزید مظاہر بیان فرمائے ارشاد فرمایا (تَبَارَکَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِیْہَا سِرَاجًا وَّقَمَرًا مُّنِیْرًا وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَ اَوْ اَرَادَ شُکُوْرًا) (وہ ذات عالی شان ہے جس نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے بنائے اور ان میں ایک چراغ بنایا اور روشن کرنے والا چاند بنایا اور وہ ایسا ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے آگے پیچھے آنے جانے والا بنایا اس شخص کیلئے جو سمجھنا چاہے یا شکر کرنا چاہے) مقصود ان آیات سے انسان کو یہ بتلانا ہے کہ ہم نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–62

تتمہ دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ ۔ تبارک الذی جعل فی السماء بروجا وجعل فیہا .... الیٰ .... اراد شکورا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں دلائل قدرت کا بیان تھا اب پھر بعض عجائب قدرت کو ذکر کرتے ہیں۔ بہت ہی بڑی برکت والی ہے وہ ذات پاک جس نے اپنی قدرت سے آسمان میں برج بنائے اور رکھا آسمان میں ایک چراغ یعنی آفتاب جو تمام دنیا کے لیے چراغ ہے اگر یہ نہ ہوتا تو جہان میں اندھیرا ہوجاتا اور بنایا اس میں ایک چاند روشن یا روشن کرنے والا جو روشنی میں آفتاب سے کم ہے، دونوں کا یہ تفاوت بھی اس کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ ایک کو زیادہ روشن بنایا اور ایک کو کم۔ ایک دن میں نکلتا ہے اور ایک رات میں۔ ایک مجاہد اور سعید بن جبیر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

42:۔ ” وھوالذی الخ ” یہ دعوی سورت پر تیرہویں عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رات دن کو ایک دوسرے کے بعد آنے والا بنایا تاکہ جو شخص غور و تدبر کرنا چاہے وہ رات دن کے اختلاف میں غور و فکر کر کے عبرت حاصل کرے اور جو ان انعامات پر اللہ کا شکر کرنا چاہے وہ اس کا شکر بجا لائے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–62

آسمان …… گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب کفار و مشرکین کو خدائے رحمان کے سامنے سجدہ کرنے کے لیے کہا جاتا تو وہ کہتے کہ ہم کسی رحمان کو نہیں جانتے اب آج کی پہلی آیت میں اسی اعتراض کا جواب ہے اور اس ذا ت کی تعریف بیان کی گئی ہے جس کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے تبرک الذی جعل فی السماء بروجا بڑی با برکت ہے وہ ذات خداوندی جس نے آسمانوں میں برج بنا دیئے ہیں ۔ وجعل فیھا سرلجا ً اور ان آسمانوں میں ایک روشن چراغ بھی رکھا ہے۔ وقمرامنیرا اور اجالا کرنے والا چاند بھی رکھا ہے ۔ مطلب یہ کہ خدا تعالیٰ کی وہ ذات ہے جو ان صفات کی حامل ہے کہ اس نے آسمانوں میں برج سورج اور چاند جیسی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا۝ 62 ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 61–62

تفسیر : تبارک الذی الخ یہ جواب ہے ان کے اس قول کا وما الرحمن کہ کیا ہے رحمن ! وہ بابرکت ہے کہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں سراج یعنی آفتاب بنایا ہے جو تمام دنیا کا چراغ ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اندھیرا ہوجاتا اور رات کے لیے بھی اس نے چاند چمکتا بنایا ہے۔ مطلب یہ کہ رحمان وہ ہے کہ جس نے دنیا کا گھر بنایا اور اس گھر میں آفتاب و ماہتاب کی قندیلیں روشن کیں اور اس گھر میں تمہارے لیے ہر ایک قسم کا سامان معیشت بہم پہنچایا۔ پھر کہتے ہو کہ رحمان کون ہے اور اس کے سجدہ کرنے سے نفرت کرتے ہو ؟ اور اس پر بس نہ کیا بلکہ اس نے رات دن بنائے جو ایک کے بعد دوسرا آتا ہے رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات یا یوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 61–62

تَبٰـرَکَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَـآئِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِیْھَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا۔ وَھَوَالَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَاَنْ یَّذَّکَّرَاَوْ اَرَادَ شُکُوْرًا۔ (الفرقان : 61، 62) (بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک منور چاند بنایا۔ اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے بعد آنے والا بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے یا شکرگزار بننا چاہے۔ ) تَبَارَکَ کا مفہوم اور سورة کی پہلی آیت سے ربط عجیب بات یہ ہے کہ اس سورة کا آغاز بھی تَبَارَکَ سے ہوا تھا اور اس کے آخری رکوع کا آغاز بھی اسی لفظ سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 61–62

فہم القرآن ربط کلام : الرّحمن کا انکار کرنے والوں کو نصیحت کرنے کے بعد اب پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرتیں یاد کرواتا ہے۔ اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے جس نے آسمان میں برج بنائے اس نے آسمان میں سورج اور چمکتا ہوا چاند بنایا۔ اسی ذات کبریا نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا۔ اس کی قدرتوں میں اس کی ذات پر ایمان لانے کے بڑے ہی ٹھوس دلائل موجود ہیں۔ بشرطیکہ کوئی شخص اس کا شکر گزار بندہ بن کر نصیحت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ یہاں نصیحت کے لیے شکر گزار ہونے کی شرط ذکر کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نصیحت اور شکر آپس میں لازم ملزوم ہیں۔ شکر کی ابتداء اعتراف نعمت سے ہوتی ہے جس شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

رات دن کا انعام : ( علیہ السلام) 62: وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً (اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والابنایا) خلفۃ یہ فِعلۃ کا وزن ہے خلف سے لیا گیا جیسا رکبۃٌ، رکب سے۔ خِلفۃ ؔ اس حالت کو کہا جاتا ہے جس پر دن اور رات ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں۔ مطلب یہ ہے جعلھما ذَوَیْ خلفۃ ایک دوسرے کے پیچھے اسکے چلے جانے پر آتا ہے۔ نمبر 2۔ ایک دوسرے کا قائم مقام ہوجاتا ہے کہ اگر کوئی عمل دن کا فوت ہو رات میں قضاء کرلیا اور رات کا فوت ہو تو دن میں قضاء کرلیا۔ لِّمَنْ اَرَادَاَنْ یَّذَّ کَّرَ اَوْ اَرَادَ شُکُوْرًا (جو سمجھنا یا شکر کرنا چاہتا ہو) ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 62۔ وھوالذی جعل اللیل والنھار خلفہ، اس کی تفسیر میں مفسرین آئمہ کے مختلف اقوال ہیں۔ ابن عباس ، حسن ، قتادہ کے نزدیک اس کا معنی ہے رات اور دن میں ایک دوسرے کا قائم مقام ہوجاتا ہے اس لیے اگر کسی سے دن ورات کا عمل فوت ہوگیا تو دن کے عمل کو رات اور رات کے عمل کو دن میں ادا کرسکتا ہے۔ شفیق کا قول ہے کہ ایک شخص حضرت عمر کی خدمت میں آیا اور عرض کیا آج میری رات کی نماز فوت ہوگئی۔ حضرت عمر نے فرمایا، رات کو جو نماز فوت ہوگئی اس کو دن میں پورا کرلو۔ اللہ نے فرمایا، جعل اللیل والنھارخلفۃ لمن اراد ان یذکر، مجاہد نے خلفہ کا ترجمہ کیا ہے مخالف۔ یعنی رات ارودن باہم مخالف بنائے گئے ہیں ایک سیاہ اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 61–62

61۔ 62:۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بیان فرمائی ‘ سورة یونس اور سورة الحجر میں گزر چکا ہے کہ آسمان میں بارہ برج ہیں اور ہر برج میں تیس تیس درجے ‘ سورج ہر روز میں ایک درجہ کو ایک سال میں بارہ برجوں کو طے کرتا ہے ‘ سورج کے اس دورہ سے جاڑا ‘ گرمی ‘ برسات کی فصلیں ہوتی ہیں جس دورہ کو سورج برس دن میں طے کرتا ہے اس کو چاند اٹھائیس دن میں طے کرتا ہے اور جس طرح سورج کا دورہ فصلوں کے ہے ‘ اسی طرح چاند کا دورہ مہینوں اور سال کے حساب کے لیے ہے ‘ چاند کے دورہ کے حساب سے جو بارہ مہینے پیدا ہوتے ہیں اسلام سے پہلے مشرکین مکہ نے اس حساب کو بدل ڈالا تھا ‘ ملت ابراہیمی میں جو مہینے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 61–62

آیت 61 سے 62 اللہ تعالیٰ نے اس سورة کریمہ میں (تبارک) کا لفظ تین مرتبہ استعمال فرمایا ہے کیونکہ، جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے، یہ لفط باری تعالیٰ کی عظمت، اس کے اوصاف کی کثرت اور اس کے احسان اور بھلائی کی وسعت پر دلالت کرتا ہے۔ یہ سورة مبارکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت، اس کی لامحدود قوت و تسلط، اس کی مشیت کے نفوذ، اس کے علم وقدرت کے عموم، امری و جزائی احکام پر اس کے احاطہء اختیار اور اس کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ اس میں بعض ایسی چیزیں بھی ہیں جو اس کی بےپایاں رحمت، اس کے وسیع جودو کرم اور اس کے دینی و دنیاوی احسانات پر دلالت کرتی ہیں یہ تمام اس وصف حسن کے تکرار کا تقاضا کرتے ہیں۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–62

رات دن ایک دوسرے کے جانشین ہیں قول باری ہے : (وھوالذی جعل اللیل والنھار خلفۃ) وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا۔ تاآخر آیت۔ شمر بن عطیہ نے ابن سلمہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص حضرت عمر ؓ کے پاس آکر کہنے لگا۔ امیر المومنین مجھ سے نماز رہ گئی ہے۔ “ آپ نے سن کر فرمایا ” رات کے وقت جو نماز تم سے رہ گئی ہے اس کے بدلے میں دن کے وقت نماز پڑھ لو۔ “ یعنی اس کی قضا دا کرلو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے جانشین بنایا ہے ہر اس شخص کے لئے جو سبق لینا چاہے یا شکر گزار ہونا چاہے۔ “ یونس نے ابن شہاب سے انہوں نے السائب بن زید اور عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے عبدالرحمن بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

79 تذکّر و تشکّر کی دو حیثیتوں کا ذکر وبیان : سو اس سے نشان ہائے قدرت میں تذکر و تشکر کی دو حیثیتوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ سو تذکر اور تشکر کے دو لفظوں سے در اصل ان نشانہائے قدرت کی دو حیثیتوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ یعنی ان سب نشانات قدرت کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک طرف تو یہ اپنے خالق کی عظمت شان اور اس کی وحدانیت مطلقہ کے کھلے دلائل ہیں۔ اس لئے جو شخص نصیحت حاصل کرنا چاہے وہ آنکھیں کھول کر ان کو دیکھے اور ان میں غور و فکر کر کے اپنے ایمان و یقین کو پکا کرے۔ جبکہ دوسری طرف ان میں انسان کے لئے طرح طرح کے فوائد اور بیشمار منافع بھی ہیں۔ لہذا ان پر نظر کرتے ہوئے وہ اس وہاب مطلق کا شکریہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–77

آسمانوں کے انتظام ‘ نیک لوگوں کی صفات اور انعام تشریح : یہاں بھی کفار کو اللہ رحمن و رحیم کی کچھ اور مہربانیاں بتائی جا رہی ہیں جو خالصتاً اس وقت کے عرب بدئوں کے معیار کے مطابق بات کی جا رہی ہے۔ گو کہ اس میں بھی افلاک کے بہت سے رازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس وقت یعنی ساتویں صدی کے آغاز کا عرب بدو اپنی تہذیب ‘ زبان ‘ تشبیہ اور ثقافت کے معیار سے ہی بات سمجھ سکتا تھا کیونکہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب وہی عرب بدو تھا۔ لہٰذا رب ذوالجلال انہی کی زبان میں فرماتا ہے کہ ” بڑی بابرکت ہے اس کی ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور پھر سورج کا روشن چراغ رکھ دیا اور چاند کا اجالا کردیا۔ اور وہی ہے جس نے رات دن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–77

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف وہ ذات بہت ہی برکت والی ہے جس نے انسان کو حیات کا اتنا وسیع نظام ایک بہت ہی خوبصورت انداز سے ترتیب دے کر ہر شے کو حتی کہ اجرام فلکی کو بھی انسان ہی کی خدمت پہ لگا دیا جو مدتوں سے اپنے اپنے کام کو پوری باقاعدگی سے انجام دے رہے ہیں اس نے آسمانوں کو پیدا فرمایا اور فضا سے آسمانی بروج یعنی اجرام فلکی کے ٹھکانے اور ان کی راہیں مقرر کردیں ، یہ علم ہیئت ، ستارے اور سیارے ان کی رفتار اور اس کے اثرات ان کا وجود اور اس کی تعمیر اور خصوصیات اس میں بہت لمبی بحث ہے خصوصا اس دور میں جبکہ انسانی قدم چاند تک جا پہنچے ہیں اور وہاں کی فضا اس کے اثرات اور ان کی رفتار اور اس کے اسباب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

9 ۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ” دائبین “ ( سورة ابراہیم :33) فرمایا ہے۔ یعنی اپنے دستور پر چل رہے ہیں۔ چناچہ جب رات جاتی ہے تو دن آجاتا ہے اور جب دن جاتا ہے تو رات آجاتی ہے۔ یا ” ایک کو ایک کا جانشین بنایا “ یا ” ایک کو ایک کا مخالف بنایا۔ “ یعنی مگر رات تاریک ہے تو دن روشن۔ لفظ ” خلفا “ کے یہ تینوں معنی ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:62) خلفۃ : خلف بمعنی پیچھے قدام کی ضد ہے۔ خلف یخلف (نصر) خلافۃ جانشین ہونا۔ خلف جو کسی کا جانشین اور قائم مقام ہو۔ خلفۃ ایک کا دوسرے کے بعد آنا یا قائم مقام ہونا۔ ھن یمشین خلفۃ وہ سب ایک دوسرے کے بعد آجاری ہیں۔ جعل الیل والنھار خلفۃ۔ اس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔ لمن اراد ان یذکر او اراد شکورا۔ میں او بمعنی واؤ (اور) کے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ (یہ سب) سمجھنے والے کی نظر میں استدلالات ہیں اور شکر گزاری کرنے والے کی نظر میں انعامات ہیں۔ شکورا مصدر۔ شکر یشکر سے شکر گزاری۔ شکر کرنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–66

لغات القرآن : آیت نمبر 61 تا 66 : بروج (برج) (قلعہ۔ بڑے بڑے ستارے) ‘ سراج (چراغ۔ سورج) ‘ قمرمنیر (روشن چاند) ‘ خلفۃ (ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے) ‘ عباد الرحمن ( اللہ کے بندے۔ رحمن کے بندے) ‘ یمشون ( چلتے ہیں) ‘ ھون ( وقار۔ آہستہ اور نرمی) ‘ خاطب (خطاب کیا۔ گفتگو کی) ‘ سلام (سلام۔ سلامتی) ‘ یبیتون ( رات گزارتے ہیں) ‘ اصرف ( دور کردے پھیردے) ‘ غرام ( لپٹ جانا۔ چمٹ جانا) ‘ ساءت (برا) ‘ مستقر (ٹھکانا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 61 تا 66 : آپ نے اس سے پہلی آیات میں کفار کا یہ انداز ملاحظہ کرلیا ہے کہ وہ اپنے حقیقی معبود اللہ تعالیٰ کو بھول کر بےحقیقت چیزوں کو معبود بنائے بیٹھے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 58–62

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ مسلمانو ! تم اپنے سب کاموں کا بھروسہ اللہ پر رکھو کہ اس کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے اور اللہ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے، اس واسطے کسی کام کا بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھنے کے بعد اگر اس کام میں کچھ توقف ہو تو وقت مقررہ تک صبر کرنا چاہیے تاکہ اللہ پر بھروسہ رکھنے کا اور صبر کا دونوں کا اجر ملے۔ پھر فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ اس کی تسبیح وحمد کرے، اور اس کی اطاعت اور اس کا شکر بجالائے ، پھر فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اپنی قدرت سے بغیر کسی مدد کے چھ دن میں پیدا کیا، اگر اللہ چاہتا تو ایک لمحہ میں آسمان اور زمین سب کچھ پیدا کردیتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[42] یعنی ان سب کا ایک نظام کے تحت ہونا، اور ایک آئین میں جکڑا ہونا، ان کے خالق کی قدرت و حکمت کے کمال اور صفت یکتائی پر ایک قوی دلیل ہے اور اس پر غور و فکر کرنے والے کو توحید کا سبق ملتا ہے اور ان کے فوائد و انعامات دیکھ کر اس کا سرجذبہ شکر سے جھک جاتا ہے۔ آگے اللہ کے ایسے ہی مخلص بندوں کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 61–62

حل لغات : بروجا ۔ منازل ۔ برج کی جمع ہے ۔ یعنی ستاروں کے لئے مفلوہ لائن سرا ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(62) اور وہ ایسا ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین اور ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا اور بدلنے والا بنایا یہ سب دلائل اس شخص کے لئے ہیں جو سوچنے سمجھنے کا ارادہ رکھتا ہو یا شکر بجالا نا چاہتا ہو اولنا بدلنا یا ایک کے پیچھے دوسرے کا آنا یا جانشین اس لئے فرمایا کہ رات کو کوئی کام رہ گیا تو دن کو کرلیا دن کا کوئی کام رہ گیا تو رات کو کرلیا بہرحال ! دونوں اس کی نشانیاں ہیں اور اس رحمان کی قدرت کو ظاہر کرتی ہیں لیکن ان سے نفع اٹھانا اس کی قدرت پر غور کرنا اور اس کی نعمتوں کا شکر بجا لانا یہ انہی کا کام ہے جو واقعی حضرت رحمان کی توحید کے دلائل پر غور کرنے کا ارادہ رکھتے یا ان کی فطرت سلیمہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 61–63

ف 1۔ مطلب یہ کہ ان کے مزاج میں تواضع ہے تمام امور میں، اور اسی کا اثر چلنے میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ 2۔ مطلب یہ کہ اپنے نفس کے لئے انتقام قولی یا فعلی نہیں لیتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دن رات کے آگے پیچھے آنے میں بہت سی نشانیاں رکھی گئی ہیں : 62۔ دن رات کے آگے پیچھے آنے اور دن کے رات میں تبدیل ہونے اور رات کے دن میں تبدیل ہونے میں کیا نشانیاں ہیں اور کیسے نشانیاں ہیں اس کا ذکر سورة البقرہ کی آیت 164 ‘ سورة آلعمران کی آیت 190 ‘ سورة یونس کی آیت 6 اور سورة المومنون کی آیت 80 میں گزر چکا ہے اس لئے بار بار اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں مذکورہ آیات کی تفسیر دیکھ لینا ہی کافی ہوگا ۔ زیر نظر آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس میں بلاشبہ نشانی ہے لیکن ہر ایک کے لئے نہیں صرف اسی کے لئے جو اپنے دل میں اللہ کی یاد رکھنا چاہے اور شکر ادا کرنا چاہے ۔ مطلب یہ ہے کہ نشانیاں تو بہرحال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 61–62

تَبَارَ‌كَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُ‌وجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَ‌اجًا وَقَمَرً‌ا مُّنِيرً‌ا ﴿61﴾ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ‌ خِلْفَةً لِّمَنْ أَرَ‌ادَ أَن يَذَّكَّرَ‌ أَوْ أَرَ‌ادَ شُكُورً‌ا ﴿62﴾ Glorious is the One who made stellar formations in the sky and placed therein a lamp (sun) and a bright moon. [ 61] And He is the One who made the day and the night following each other, for the one who wishes to be mindful or wishes to show gratitude. [ 62] - 25:61-62. In these two verses it is explained that Allah Ta’ ala has created the sun, the moon and stars which bring…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

77 The observation and deep consideration of the wonderful phenomenon of the alternation of the day and night is a proof of Tauhid and His Providence so that man may feel grateful to Him and prostrate himself before Him in all humility.

Read the full tafseer →