Al-Furqaan 25:45

Al-Furqaan · from ayah 45

25:45

اَلَمْ تَرَ اِلٰی رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ ۚ— وَلَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا ۚ— ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًا ۟ۙاَلَمۡ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيۡفَ مَدَّ الظِّلَّ‌ ۚ وَلَوۡ شَآءَ لَجَـعَلَهٗ سَاكِنًا‌ ۚ ثُمَّ جَعَلۡنَا الشَّمۡسَ عَلَيۡهِ دَلِيۡلًا

بلکہ تم نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کو نہیں دیکھا کہ وہ سائے کو کس طرح دراز کر (کے پھیلا) دیتا ہے۔ اور اگر وہ چاہتا تو اس کو (بےحرکت) ٹھیرا رکھتا پھر سورج کو اس کا رہنما بنا دیتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Have you not considered your Lord - how He extends the shadow, and if He willed, He could have made it stationary? Then We made the sun for it an indication.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:45

تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا رب کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے؟ اگر وہ چاہتا تو اسے دائمی سایہ بنا دیتا ہم نے سورج کو اُس پر دلیل بنایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بلکہ تم نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کو نہیں دیکھا کہ وہ سائے کو کس طرح دراز کر (کے پھیلا) دیتا ہے۔ اور اگر وہ چاہتا تو اس کو (بےحرکت) ٹھیرا رکھتا پھر سورج کو اس کا رہنما بنا دیتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے سائے کو کس طرح پھیلا دیا ہے؟ اگر چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا ہی کر دیتا۔ پھر ہم نے آفتاب کو اس پر دلیل بنایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تم نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح سائے کو پھیلا تا ہے ؟ اور اگر وہ چاہتا تو اسے ایک جگہ ٹھہرا دیتا۔ پھر ہم نے سورج کو اس کے لیے رہنما بنادیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے محبوب! کیا تم نے اپنے رب کو نہ دیکھا کہ کیسا پھیلا سایہ اور اگر چاہتا تو اسے ٹھہرایا ہوا کردیتا پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل کیا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا آپ نے اپنے رب (کی قدرت) کی طرف نگاہ نہیں ڈالی کہ وہ کس طرح (دوپہر تک) سایہ دراز کرتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اسے ضرور ساکن کر دیتا پھر ہم نے سورج کو اس (سایہ) پر دلیل بنایا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تو نے اپنے رب کو نہیں دیکھا، اس نے کس طرح سائے کو پھیلا دیا اور اگر وہ چاہتا تو اسے ضرور ساکن کردیتا، پھر ہم نے سورج کو اس پر دلالت کرنے والا بنایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ دیکھتے نہیں کہ تمہارا پروردگار ! کسی طرح سایہ پھیلا دیتا ہے اگر وہ چاہتا تو اسے وہیں ساکن ہی رہنے دیتا پھر ہم نے سورج کو اس پر رہنمائی کرنے والا بنادیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم نے اپنے رب کی اس قدرت کی طرف نگاہ نہیں کی کہ کس طرح وہ سایہ کو پھیلا دیتا ہے۔ اور اگر وہ چاہتا تو اس کو اسی طرح ساکن چھوڑ دیتا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے کس طرح پھیلا دیا سائے کو ؟ اگر وہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایک ہی حالت پر ٹھہرائے رکھتا پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنادیا

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تو نے اپنے پروردگا رپر نظر نہیں کی کہ اس نے سایہ کو کیوں کر پھیلا دیا ہے۔ اور اگر وہ چاہتا تو اسے ٹھہرایا ہوا رکھتا پھر ہم نے آفتاب کو اس پر ایک علامت مقرر کردیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم نے دیکھا نہیں اپنے رب (کی قدرت) کی طرف کہ وہ کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اس کو مستقل ٹھہرائے رکھتا پھر ہم نے سورج کو اس پر راہنما بنایا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا تم نے اپنے رب کی قدرت کو نہیں دیکھا کہ وہ سائے کو کس طرح دراز کر کے پھیلا دیتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اس کو بےحرکت ٹھہرا رکھتا پھر سورج کو اس کا رہنما بنا دیتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Have you not seen how your Lord lengthens out the shadow? Had He willed, He would have made it constant, but We have made the sun its pilot;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have you not observed how your Lord stretched out the shadow (of the sun)? If He so willed, He would have made it stand still. Then We made the sun an indicator for it.

— Muhammad Taqi Usmani

Have you not observed how your Lord stretched out the shadow (of the sun)? If He so willed, He would have made it stand still. Then We made the sun an indicator for it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Have you not seen how your Lord spread the shadow. If He willed, He could have made it still -- but We have made the sun its guide.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hast thou not seen how thy Lord hath spread the shade - And if He willed He could have made it still - then We have made the sun its pilot;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Have you not considered your Lord - how He extends the shadow, and if He willed, He could have made it stationary? Then We made the sun for it an indication.

— Saheeh International

Have you not seen that your Lord increases the shadow. Had He wanted He would have made it stationary], and has made the sun their guide.

— Muhammad Sarwar

Have you not considered (the work of) your Lord, how He extends the shade? And if He had pleased He would certainly have made it stationary; then We have made the sun an indication of it

— Muhammad Habib Shakir

Hast thou not observed thine lord-how He hath stretched out the shadow? And if He had willed He would have made it still. Then We have made the sun for it an indication.

— Abdul Majid Daryabadi

Hast thou not turned thy vision to thy Lord?- How He doth prolong the shadow! If He willed, He could make it stationary! then do We make the sun its guide;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:45

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–47

اگر وہ چاہے تو رات دن نہ بدلے اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت پر دلیلیں بیان ہو رہی ہے کہ مختلف اور متضاد چیزوں کو وہ پیدا کر رہا ہے۔ سائے کو وہ بڑھاتا ہے کہتے ہیں کہ یہ وقت صادق سے لے کر سورج کے نکلنے تک کا ہے اگر وہ چاہتا تو اسے ایک ہی حالت پر رکھ دیتا۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر وہ رات ہی رات رکھے تو کوئی دن نہیں کرسکتا اور اگر دن ہی دن رکھے تو کوئی رات نہیں لاسکتا۔ اگر سورج نہ نکلتا تو سائے کا حال ہی معلوم نہ ہوتا۔ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے سائے کے پیچھے دھوپ دھوپ کے پیچھے سایہ بھی قدرت کا انتظام ہے۔ پھر سہج سہج ہم اسے یعنی سائے کو یا سورج کو اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک گھٹتا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 58 یہاں لفظ دلیل ٹھیک اسی معنی میں استعمال ہوا ہے جس میں انگریزی لفظ (Pilot) استعمال ہوتا ہے۔ ملاحوں کی اصطلاح میں دلیل اس شخص کو کہتے ہیں جو کشتیوں کو راست بتاتا ہوا چلے۔ سائے پر سورج کو دلیل بنانے کا مطلب یہ ہے کہ سائے کا پھیلنا اور سکڑنا سورج کے عروج وزوال اور طلوع و غروب کا تابع ہے۔ سائے سے مراد روشنی اور تاریکی کے بین بین وہ درمیانی حالت ہے جو صبح کے وقت طلوع آفتاب سے پہلے ہوتی ہے اور دن بھر مکانوں میں، دیواروں کی اوٹ میں اور درختوں کے نیچے رہتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–46

خلاصہ تفسیر اے مخاطب کیا تو نے اپنے پروردگار (کی اس قدرت) پر نظر نہیں کی کہ اس نے (جب آفتاب افق سے طلوع کرتا ہے اس وقت کھڑی ہوئی چیزوں کے) سایہ کو کیونکر (دور تک) پھیلایا ہے (کیونکہ طلوع کے وقت ہر چیز کا سایہ لمبا ہوتا ہے) اور اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک حالت پر ٹھہرایا ہوا رکھتا (یعنی آفتاب کے بلند ہونے سے بھی نہ گھٹتا اس طرح پر کہ اتنی دور تک آفتاب کی شعاعوں کو نہ آنے دیتا کیونکہ آفتاب کی شعاعوں کا زمین کے حصوں پر پہنچنا بارادہ حق ہے نہ کہ بالاضطرار مگر ہم نے اپنی حکمت سے اس کو ایک حالت پر نہیں رکھا بلکہ اس کو پھیلا ہوا بنا کر) پھر ہم نے آفتاب کو (یعنی اس کے افق کے قریب ہونے اور پھر افق سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 45–46

آگے کا مضمون …… آیات 62-45 اوپر کے مجموعہ آیات میں آپ نے دیکھا کہ تاریخ کے شواہد کی روشنی میں پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔ اب آگے کی آیات میں بعض آفاقی و کائناتی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جن سے ان تمام باتوں کی تصدیق و تائید ہو رہی ہے جو آپ اپنی قوم کے سامنے پیش کر رہے تھے۔ ان نشانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نبی ﷺ کو یہ تلقین بھی فرمائی گئی ہے کہ تمہیں اپنے مفوضہ فریضہ کے ادا کرنے کے لئے جن دلائل وبراہین سے مسلح ہونا چاہئے وہ گوناگوں اسلوبوں سے قرآن میں واضح کردیئے گئے ہیں تو تم اسی کتاب کے ذریعہ سے ان لوگوں پر اللہ کی حجت تمام کرنے کی کوشش کرو اور ان کے ان نت نئے مطالبات و اعتراضات کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

45-1یہاں سے پھر توحید کے دلائل کا آغاز ہو رہا ہے۔ دیکھو، اللہ تعالیٰ نے کائنات میں کس طرح سایہ پھیلایا ہے، جو صبح صادق کے بعد سے سورج طلوع ہونے تک رہتا ہے۔ یعنی اس وقت دھوپ نہیں ہوتی، دھوپ کے ساتھ یہ سمٹتا سکڑنا شروع ہوتا جاتا ہے۔ 45-2یعنی ہمیشہ سایہ ہی رہتا، سورج کی دھوپ سائے کو ختم ہی نہ کرتی۔ 45-3یعنی دھوپ سے ہی سایہ کا پتہ چلتا ہے کہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر سورج نہ ہوتا، تو سائے سے بھی لوگ متعارف نہ ہوتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 44–46

16: یہاں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کی کئی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جن پر انسان غور کرے تو ان میں سے ہر چیز اللہ تعالیٰ کی توحید پر واضح دلیل ہے۔ سب سے پہلے یاد دلایا گیا ہے کہ دھوپ چھاؤں کی تبدیلیاں انسان کی زندگی کے لیے کتنی ضروری ہیں۔ اگر دنیا میں ہمیشہ دھوپ رہتی تب بھی زندگی دو بھر ہوجاتی، اور اگر ہر وقت سایہ ہی سایہ رہتا تو بھی انسان کا کاروبار زندگی معطل ہو کر رہا جاتا۔ اللہ تعالیٰ ہر روز ان دونوں کا حسین امتزاج اس طرح پیدا فرماتا ہے کہ صبح کے وقت سایہ زمین پر پھیلا ہوا ہوتا ہے، پھر جوں جوں سورج چڑھتا جاتا ہے، اس کا سایہ سمٹتا رہتا ہے۔ سورج کو سائے کا رہنما بنانے۔ کا مطلب یہی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 45–46

درس نمبر 159 ایک نظر میں اس سبق میں مشرکین کے اعتراضات اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے بحث و جدل کے موضوع کو چھوڑ کر اس کائنات کے مشاہد و مناظر کی سیر کرائی جاتی ہے۔ نبی ﷺ کے دل اور آپ کے احساسات کو اس کائنات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ مشرکین کے لایعنی اعتراضات کی وجہ سے پیدا ہونے والے غبار خاطر کو دور کرنے کے لیے ‘ مناظر کائنات کے ساتھ یہ اتصال اور ان کی طرف یہ توجہ کافی ہے۔ کائنات کی وسعتوں کی یہ سیر آپ کے دل کے سکون اور شرح صدر کے لیے ایک وسیع میدان ہے جس کے مقابلے میں سازشیں کرنے والوں کی چھوٹی چھوٹ سازشیں اور دشمنی کرنے والوں کی بےمقصد دشمنیاں نہایت ہی حقیر نظر آتی ہیں۔ قرآن کریم انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 45–46

8 صبح سے طلوع شمس تک سب جگہ سایہ رہتا ہے اگر حق تعالیٰ سورج کو طلوع نہ ہونے دیتا تو یہ ہی سایہ قائم رہتا، مگر اس نے اپنی قدرت سے سورج نکالا جس سے دھوپ پھیلنی شروع ہوئی اور سایہ بتدریج ایک طرف کو سمٹنے لگا۔ اگر دھوپ نہ آتی تو سایہ کو ہم سمجھ بھی نہ سکتے۔ کیونکہ ایک ضد کے آنے سے ہی دوسری ضد پہچانی جاتی ہے۔ (قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ سَرْمَدًا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَيْرُ اللّٰهِ يَاْتِيْكُمْ بِضِيَاۗءٍ ۭ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ ) 28 ۔ القصص :71) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اول ہر چیز کا سایہ لمبا پڑتا ہے۔ پھر جس طرف سورج چلتا ہے اس کے مقابل سایہ ہٹا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 45 اَلَمْ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ ج ” جب رات ہوتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے پوری زمین پر ایک سیاہ چادر اوڑھا دی گئی ہے۔ وَلَوْ شَآءَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا ج ” اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو پوری زمین پر ہمیشہ رات ہی رہتی ‘ دن کا اجالا کبھی نمودار ہی نہ ہوتا۔ جیسے کہ سورة القصص میں فرمایا گیا : قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَآءٍط اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ ”اے نبی ﷺ ! ان لوگوں سے پوچھئے : کیا تم نے غور کیا کہ اگر اللہ روز قیامت تک ہمیشہ کے لیے تم پر رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

57 سایوں کا سورج سے گہرا تعلق ہے۔ طبعی اصول یہ ہے کہ روشنی کی شعاعیں یا کرنیں ہمیشہ صراط مستقیم میں سفر کرتی ہیں۔ اس لحاظ سے جہاں بھی روشنی ہوگی چیزوں کا سایہ ہوگا۔ اب اگر کسی چیز کا سایہ روشن چیز روشن چیز سے کم درجہ پر واقع ہوگا تو سایہ لمبا ہوگا اور زاویہ بڑھتا جائے گا تو سایہ چھوٹا ہوتا جائے گا۔ حتیٰ کہ اگر یہ سایہ 90 درجہ پر پہنچ جائے تو ہر چیز کا سایہ اس کے قدموں پر پڑے گا اور بہت چھوٹا رہ جائے گا۔ حتیٰ کہ یہ غائب بھی ہوسکتا ہے۔ اب چونکہ روشنی کا مستقل منبع اور بااعتماد اور منظم منبع یہی سورج ہی ہے۔ لہذا سایوں کے مستقبل منبع کا ذکر کیا اور یہ ذکر اس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ ہر قسم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

51۔ (اے مخاطب ! ) یہاں مسئلہ یہ بیان ہوا ہے کہ چیزوں کے سایہ کا طلوع آفتاب کے بعد، صبح کے وقت پڑھنا اور آفتاب کے بلند ہونے پر خصوصا دوپہر کے وقت بالکل گھٹ جانا اور پھر بڑھتے بڑھتے شام کو معدوم ہوجانا، یہ سب بہ تخلیق باری تعالیٰ ہے۔ ارادۂ حق کا محتاج اور اس کے ماتحت ہے۔ محض اقتضائے طبیعت سے خود بخود نہیں ہورہا ہے۔ (آیت) ’ الظل “۔ صوفیہ کی اصطلاح میں ممکنات کو واجب الوجود کا ظل (سایہ) کہا گیا ہے۔ 52۔ یعنی آفتاب کے طلوع وبلندی کو ایک ظاہری علامت سایہ کی درازی وکوتاہی پر بنا دیا۔ اہل اشارات نے یہاں یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ سارے عالم کی تخلیق و ربوبیت وفنا حق تعالیٰ کے آفتاب قدرت سے وہی نسبت رکھتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–60

آیت نمبر 45 تا 60 ترجمہ : کیا تو اپنے رب کی صنعت کو نہیں دیکھتا وقت اسفار سے طلوع شمس کے وقت تک اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک ھالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا، یعنی ساکن رکھتا جو طلوع شمس سے زائل نہ ہوتا پھر ہم نے سورج کو اس سایہ کو اپنی طرف بتدریج سمیٹ لیا یعنی طلوع شمس کی وجہ سے شیئاً فشیئاً اور وہ ایسا ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات کا لباس یعنی لباس کے مانند ساتر بنایا اور نیند کو قطع کرنے والی یعنی جسموں کے لئے اعمال کو موقوف کرکے راحت کی چیز بنایا اور دن کو منتشر ہونے کا وقت بنایا اس میں رزق وغیرہ حاصل کرنے کے لئے اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں اور ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم تر الی ربک کیف مد الظل کیا آپ نے (اللہ کی صنعت کی طرف) نہیں دیکھا کہ اس نے سایہ کو کیسے پھیلا یا ہے یا یہ معنی ہے کیا آپ نے سایہ کو نہیں دیکھا آپ کے رب نے اس کو کیسے پھیلایا ہے۔ اوّل ترجمہ عقلی طور پر دلالت کر رہا ہے کہ سایہ کا پیدا ہونا اور مفید ترین اسباب ممکنہ کے ساتھ گھومنا چلنا صانع حکیم کی ہستی کو بتارہا ہے اور چونکہ یہ استدلال بالکل واضح ہے اس لئے اسلوب کلام کو بدل دیا (مخلوق کا خالق پر اور مصنوع کا صانع کے وجود پر دلالت کرنا بالکل واضح ہے اور عقلی تائید اس کو حاصل ہے) اور یوں فرمایا کہ کیا آپ نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا ‘ یعنی اللہ کا رب ہونا اور سایہ کے پھیلاؤ کا فاعل حقیقی ہونا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 45–46

(45۔ 46) اے مخاطب کیا تو نے اپنے پروردگار کی اس قدرت وصنعت پر نظر نہیں کی کہ وہ صبح صادق کے بعد سورج نکلنے سے پہلے مشرق سے مغرب تک کس طرح سایہ کو پھیلاتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اس سایہ کو ہمیشہ ایک حالت پر ٹھہرایا ہوا رکھتا کہ آفتاب کی بلندی کا بھی اس پر کچھ اثر نہ پڑتا، پھر ہم نے آفتاب کو اس سایہ کی درازی وکوتاہی پر ایک ظاہری علامت مقرر کردیا کہ جہاں بھی سورج ہوتا ہے، سایہ فورا اس کے ساتھ ہوتا ہے، پھر ہم نے اس سایہ کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیا،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ۔۔ : سورت کی ابتدا توحید کے اثبات اور شرک کے رد کے دلائل سے ہوئی ہے، کفار کی گمراہی کے بیان کے بعد ایک بار پھر توحید کے دلائل کا بیان ہے۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ سائے کے پھیلنے اور سکڑنے کو کائنات میں تدریج کے اصول کی مثال کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، توجہ اس بات کی طرف دلائی جا رہی ہے کہ یہی اصول قرآن کے آہستہ آہستہ نازل ہونے میں کار فرما ہے۔ 3 آیت کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے اپنا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ فرمایا ہے، فرمایا : (اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ) ”کیا تو نے اپنے رب کو نہیں دیکھا، اس نے کس طرح سائے کو پھیلا دیا۔“…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 45–46

( الم ترالی ربک۔۔۔۔۔۔۔ ) الم ترالی ربک کیف مدا الظل یہ جائز ہے کہ روایت سے مراد آنکھ سے دیکھنا ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس سے مراد علم ہو۔ حضرت حسن بصری، قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا : فجر کے طلوع سے لے کر سورج کے طلوع تک سایہ کو لمبا کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد سورج کے غائب ہونے سے اس کے طلوع تک کا وقت ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے، اس پر یہ دلیل یہ ہے کہ اس ساعت پر بڑھ کر کوئی ساعت اچھی نہیں کیونکہ اس میں مسافر ہو اور ہر بیمار راحت پاتا ہے، ان میں مرد و زن کی روحیں اور نفوس جسموں کی طرف لوٹائے جاتے ہیں، اس میں زندوں کے نفوس خوش ہوتے ہیں مغرب کے بعد یہ صفت مفقود ہوتی ہے۔ ابو العالیہ نے کہا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–47

1۔ سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” الم تر الی ربک کیف مد الظل “ سے مراد ہے فجر کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے (سایہ کو کیسے بڑھایا) 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” الم تر الی ربک کیف مد الظل سے مراد ہے کیا تو نے نہیں دیکھا جب تو نے فجر کی نماز پڑھی تو سورج کے طلوع ہونے سے لے کر اس کے غروب ہونے تک ایک سایہ ہوتا ہے ؟ پھر اللہ تعالیٰ اس پر سورج کو دلیل بنا کر بھیجتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سائے کو قبض کرلیتا ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” الم تر الی ربک کیف مد الظل “ یہاں سائے کے پھیلانے سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلَمْ تَرَ [ کیا آپ ﷺ نے غور نہیں کیا ] اِلٰى رَبِّكَ [ اپنے رب (کی قدرت) کی طرف ] كَيْفَ [ کیسے ] مَدَّ [ اس نے دراز کیا ] الظِّلَّ ۚ [ سائے کو ] وَلَوْ شَاۗءَ [ اور اگر وہ چاہتا ] لَجَعَلَهٗ [ تو وہ ضرور بناتا اس کو ] سَاكِنًا ۚ [ ساکن ] ثُمَّ جَعَلْنَا [ پھر ہم نے بنایا ] الشَّمْسَ [ سورج کو ] عَلَيْهِ [ اس پر ] دَلِيْلًا [ ایک رہنمائی کرنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 45–46

سایہ اور آفتاب، رات اور دن ہوائیں اور بارشیں سب تصرفات الہٰیہ کا مظہر ہیں اول ارشاد فرمایا کیا تم نے یہ نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے سایہ کو کس طرح پھیلایا ہے جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ہر چیز کا سایہ خوب لمبا ہوتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو اس کو ایک حالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا جو آفتاب کے بلند ہونے پر بھی نہ گھٹتا، نیز یہ بھی فرمایا کہ ہم نے آفتاب کو سایہ کی درازی اور کوتاہی پر ایک ظاہری علامت مقرر کردیا کہ آفتاب طلوع ہوا تو چیزوں کا سایہ لمبا ظاہر ہوا پھر آفتاب چڑھتا گیا تو سایہ گھٹتا گیا، حتیٰ کہ عین زوال کے وقت ذرا سا سایہ رہ گیا، پھر جب آفتاب آگے بڑھا تو سایہ کا رخ مشرق کی طرف ہوگیا جو زوال کے وقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–46

ذکر دلائل توحید و عجائب قدرت و صنعت قال اللہ تعالیٰ الم تر الیٰ ربک کیف مدا الظل .... الیٰ .... لمن اراد ان یذکر او اراد شکورا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور منکرین نبوت کی جہالت بیان فرما دی اور ان کی گمراہی ظاہر کردی اب آئندہ آیات میں منکرین وحدانیت کی تشنیع کے لیے اپنی قدرت کے آثار اور توحید کے چند دلائل بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اشیاء متضادہ اور مختلفہ کے پیدا کرنے پر قدرت تامہ رکھتا ہے جو خدا تعالیٰ کے قادر مطلق اور واحد قہار ہونے کی دلیل ہے اور ایسی چیزیں ہیں کہ کفار دن رات اسکا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں اگر ذرا غور کریں تو اللہ کی قدرت اور وحدانیت ان پر واضح ہوجائے۔ اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 43–49

30:۔ ” ارایت من الخ “ ان مشرکین سے قبول حق کی توقع بےسود ہے یہ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ محض ضد وعناد کی وجہ سے اپنی خواہشات نفسانیہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ نفس کے بندے ہیں اور خواہش نفس کو انہوں نے اپنا معبود بنا رکھا ہے یعنی اپنی خواہش سے معبودان باطلہ کو حاجت روا اور برکات دہندہ سمجھ رکھا ہے۔ وہ اپنی مرضی اور خواہش سے جس کو چاہتے ہیں اپنا کارساز اور معبود بنا لیتے ہیں۔ اس سے پہلے ” ان کاد لیضلنا عن الھتنا “ بھی قرینہ ہے کہ مشرکین اپنی خواہش سے جسے چاہتے برکات دہندہ بنا لیتے۔ فالایۃ شاملۃ لمن عبد غیر اللہ تعالیٰ حسب ھواہ ولمن اطاع الھوی فی سائر المعاصی وھو الذی یقتضیہ کلام الحسن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–47

ربط آیات گزشتہ آیات میں تسلی کا مضمون تھا۔ اس کے بعد مشرکوں کا رد تھا۔ عبرت کے لیے بعض سابقہ اقوام کا حال بیان ہوا اور ان کی سزا کا ذکر کیا گیا ۔ اللہ نے فرمایا کہ کافر اور مشرک لوگ اللہ کے نبی کو دیکھ کر اس کا تمسخر اڑاتے تھے ۔ اور اپنے باطل عقیدے پر پختگی کا اظہار کرتے تھے ۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ عنقریب عذاب الٰہی کو دیکھیں گے تو پھر انہیں پتہ چلے گا کہ گمراہ کون تھا اور راہ راست پر کون ۔ نیز یہ کہ ان لوگوں سے قبولیت حق کو توقع نہیں رکھنی چاہئے ، جو شخص اپنی خواہش کو ہی معبود بنا لیتا ہے ۔ وہ حق و باطل کی تمیز سے محروم ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگ نہ تو حق بات سنتے ہیں اور نہ اسے سمجھنے کی کوشش…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ۝ 0ۚ وَلَوْ شَاۗءَ لَجَعَلَہٗ سَاكِنًا۝ 0ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْہِ دَلِيْلًا۝ 4 5ۙ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–52

1 ؎ یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ ظل سے مراد سایہ الٰہی ہو وہ کسی قوم اور کسی شخص کے لیے خدا نے کیسا دراز کیا ہو ؟ مگر بقاء اسی کو ہے اس کو ٹھہرا نہیں رکھتا وہ پھر ڈھلنے لگتا ہے اور آفتاب عنایت و اقبال اس کی دلیل ہوتا ہے انسان کی عمر بھی ایک سایہ ہے باوجود درازی کے کس طرح سے ڈھلتی ہے اور یہ بیخبر غافل ہے۔ 12 منہ ترکیب : اناسی اصلا اناسین جمع انسان کسر حان و سراحین ابدلت النون فیہ یاء وادغمت وقیل جمع انسی علی القیاس صرفناہ الضمیر للماء۔ تفسیر : ان کے شبہات رد کر کے اور اس کجروی کا نتیجہ امم گزشتہ کے حالات میں بیان فرما کر اب یہ چند دلائل توحید اور کمال قدرت پر بیان فرماتا ہے : فقال الم ترابی ربک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 45–46

اَلَمْ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیْفَ مَدَّالظِّلَّ ج وَلَوْشَآئَ لَجَعَلَـہٗ سَاکِـنًا ج ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلاً ۔ ثُمَّ قَبَضْنٰـہُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا۔ (الفرقان : 45، 64) (اے مخاطب ! کیا تو نے اپنے رب کی قدرت کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح سایہ کو پھیلا دیتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا بنا دیتا، پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا۔ پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ) سابقہ آیات میں تاریخ کے شواہد کی روشنی میں مخالفین کو تنبیہ کی گئی ہے اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کو یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کی دعوت و تبلیغ کے جواب میں مخالفت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–46

فہم القرآن ربط کلام : نفس کی پیروی کرنے والا شخص اپنے گردوپیش کو دیکھے اور اس پر غور کرے تو اپنے نفس کی پیروی کرنے کی بجائے اپنے رب کا تابعدار بن جائے گا۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان کیا تو اس بات پر غور نہیں کرتا کہ تیرا رب سائے کو کس طرح زمین پر بچھاتا ہے ؟ اگر وہ چاہتا تو سائے کو ایک ہی جگہ جامد کردیتا۔ اس نے سورج کو اس پر دلیل بنایا ہے وہی رب سورج کو اپنی طرف آہستہ آہستہ سمیٹ لیتا ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے سورج اور سائے کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر پیش کیا ہے۔ سورج ایک مقررہ وقت کے مطابق طلوع ہوتا ہے اور دوپہر کے وقت اپنے شباب کو پہنچنے کے بعد آہستہ آہستہ ڈھلنا شروع ہوجاتا ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سورج سے سایہ کی پہچان : 45: اَلَمْ تَرَاِلٰی رَبِّکَ (کیا تم نے اپنے رب کی صنعت وقدرت کو نہیں دیکھا) ۔ کَیْفَ مَدَّ الظِّلَ (کہ کس طرح اس نے سایے کو دراز کیا) اسکو پھیلا کر زمین پر عام کردیا اور یہ طلوع فجر سے طلوع شمس کے وقت تک ہے جمہور کا قول یہی ہے۔ کیونکہ یہ ایسا دراز سایہ ہے جس کے ساتھ سورج کی شعاعیں بالکل نہیں۔ اور نہ ہی اندھیرا ہے اور یہ اس طرح ہے جیسا جنت کے سایہ کے بارے میں فرمایا وظل ممدودٍ اور نہ اندھیرا ہوگا۔ وَلَوْ شَآ ئَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا (اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سایہ کو ٹھہرنے والا بنا دیتا) یعنی دائمی بنا دیتے جو کبھی زائل نہ ہوتا اور نہ اس کو سورج ختم کرسکتا۔ ثُمَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

45۔ الم تر الی ربک کیف مدالظل۔ کیا تم نے اپنے رب کے بنائے ہوئے لمبے سائے کو نہیں دیکھا، جو مشرق سے مغرب تک ہے۔ طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک کا وقت ظل کہلاتا ہے۔ ظل کا لفظ دوسری جگہ بھی آیا ہے۔ فی ظل الجنۃ وظل ممدود۔ جس کے ساتھ سورج نہ ہو۔ ولوشاء لجعلناہ ساکنا، وہ ہمیشہ اور دائم رہے گا، اس کو سورج کی روشنی ختم نہیں کرتا، بلکہ قیامت تک رات ہی رات رہتی۔ ابوعبیدہ کا قول ہے کہ جو سایہ سورج سے زائل ہوجاتا ہے اس کو ظل کہتے ہیں اوجس سایہ سے دھوپ زائل ہوجاتی ہے اس کو فء کہتے ہیں گویا زوال آفتاب سے پہلے ظل ہوتا ہے اور زوال کے بعد فئی آتا ہے زوال کے بعد سایہ بھی مشرق سے مغرب کی طرف لوٹ آتا ہے۔ ثم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–47

45۔ 47:۔ صبح صادق کے شروع سے آفتاب کے نکلنے تک بغیر آفتاب کی دھوپ کے جو ایک سایہ ہوتا ہے اس آیت میں اس سایہ کا ذکر ہے ‘ یہ سایہ جنت میں ایک نشانی ہے ‘ جنت میں آفتاب کی دھوپ نہیں ہوگی یہی سایہ ہوگا ‘ تفسیر عبدالرزاق میں حسن بصری اور قتادہ کی روایت سے اور تفسیر ابن ابی حاتم میں علی بن طلحہ کی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے اس آیت میں جو سایہ کا ذکر ہے ‘ اس کی یہی تفسیر آئی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے اور یہی تفسیر امام بخاری نے صحیح بخاری 1 ؎ میں بیان کے ہے۔ بعضے مفسروں نے اس تفسیر پر یہ اعتراض کیا ہے کہ غروب آفتاب کے شروع سے رات کے اندھیرے کے شروع ہونے تک بھی بغیر آفتاب کی دھوپ کے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–46

آیت 45 سے 46 کیا تم نے اپنی آنکھ اور اپنی بصیرت سے اپنے رب کی قدرت کاملہ اور بےپایاں رحمت کا مشاہدہ نہیں کیا کہ وہ بندوں پر سائے کو پھیلا دیتا ہے اور یہ طلوع آفتاب سے قبل ہوتا ہے۔ (ثم جعلنا الشمس علیہ) ” پھر بنایا ہم نے سورج کو اس پر ” یعنی سائے پر (دلیلا) ” دلیل “ اگر سورج نہ ہوتا تو سایہ نہ پہنچانا جاتا کیونکہ تمام اشیاء اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ (ثم قبضنہ الینا قبضا یسیرا) ” پھر ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ لیا۔ “ پس جوں جوں سورج بلند ہوتا ہے تو سایہ آہستہ آہستہ سکڑتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ختم ہوجاتا ہے۔ مخلوق پر سائے اور دھوپ کا یکے بعد دیگرے واقع ہونا جس کا وہ اپنی آنکھوں سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 44–45

55 لوگوں کی اکثریت حق کو سننے سمجھنے سے عاری ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام انکاری کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ "۔ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ایسے نہیں سمجھنا چاہیئے کہ ایسے لوگ نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔ اور جب یہ سنتے سمجھتے ہی نہیں اور انہوں نے اپنے کانوں اور دلوں کو حق کے سننے اور سمجھنے سے بند کر رکھا ہے تو پھر ان سے کسی خیر کی توقع ہی کیا اور کیسے ہوسکتی ہے ؟ اور پھر ان کی ایذاء رسانیوں اور حق دشمنیوں سے صدمہ اور دکھ ہی کیا ؟ پس ضد اور عناد و ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں۔ ایسے ضدی عناصر کو چھوڑ دو یہ اپنے انجام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 45–49

سورج، دن رات، ہوائیں اور بارش پیدا کرنے کا مقصد تشریح : ان آیات میں اللہ کی تخلیقات میں سے سورج ‘ دن ‘ رات ‘ بارش اور ہوائوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور آخر میں بتایا گیا ہے کہ سب تخلیقات صرف انسانوں کے فائدے کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اور ہر تخلیق اپنی جگہ بےحد اہم اور عجیب و غریب ہے۔ سورج کا اپنے مدار میں گردش کرنا اور زمین کا اپنے مدار میں گردش کرنا ایک خاص اندازے اور خاص نظام کے تحت یہ لوگوں کے لیے رحمت سے کسی طرح کم نہیں کیونکہ اسی کی وجہ سے دھوپ مناسب اوقات میں زمین پر پڑتی ہے جس سے صبح دوپہر شام اور رات وجود میں آتے ہیں۔ بادل بنتے ہیں۔ پھول پھل اور فصلیں پکتی ہیں۔ سایہ جو سورج کی روشنی سے کبھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف اے مخاطب تو دیکھتا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہر شے میں اور ہر کام میں ایک رشتہ قائم کردیا ہے یہی رشتہ سبب اور اس کے نتیجے میں ہے سورج کی روشنی اور سائے میں ہے کس طرح قدرت باری نے چیزوں کو سایہ بخشا کہ دور تک پھیلا ہوتا ہے ، اگر اللہ جل جلالہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایسے ہی رکھنے پر قادر تھا مگر اس نے سائے کے بڑھنے گھٹنے کو سورج اور دھوپ سے متعلق کردیا ، سورج اوپر اٹھتا ہے تو سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں اور دھوپ اور گرمی کی تپش پھیلتی ہے اور پھر سورج ڈھلتا ہے تو دوبارہ سائے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ رشتے یہ اسباب ونتائج اللہ نے دنیا کی آبادی اور بنی آدم کے آرام کا سبب بنائے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

6 ۔ یعنی طلوع فجر سے لے کر سورج نکلنے تک یا غروب سے طلوع تک صرف سایہ رہتا ہے اس کے ساتھ کوئی دھوپ نہیں ہوتی۔ (قرطبی) ان کی گمراہی بیان کرنے کے بعد اب دلائل توحید کا بیان ہے۔ (شوکانی) 7 ۔ یعنی اگر دھوپ نہ ہوتی تو کچھ پتا نہ چلتا کہ سایہ کیا ہوتا ہے کیونکہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ (قرطبی) یا مطلب یہ ہے کہ سایہ دھوپ کے تابع رہتا ہے۔ دھوپ کے اعتبار سے ہی اس میں نقص و زیادت اور امتداد و تقلص ہوتا ہے تو گویا دھوپ اس کے لئے بمزملہ دلیل اور راہنما کے ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:45) الم تر۔ الف استفہامیہ ہے لم تر مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ صیغہ واحد مذکر حاضر کیا تو نے نہیں دیکھا۔ الی ربک : ای الی صنع ربک۔ تیرے رب کی کاریگری کی طرف۔ اپنے رب کی کاریگری کی طرف۔ ساکنا۔ اسم فاعل واحد مذکر سکون سے۔ غیر متحرک ، ٹھہرا ہوا۔ ولا شاء لجعلہ ساکنا جملہ معترضہ ہے۔ ثم حرف عطف ہے، بمعنی پھر۔ اور جعلنا کا عطف مد (جملہ سابقہ پر ہے۔ اسی طرح اگلی آیت میں قبضنہ کا عطف بھی مد پر ہے۔ دلیلا۔ راہنما ۔ راہبر۔ راہ بتانے والا۔ نشانی۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ بمعنی فاعل ہے۔ ملاحوں کی اصطلاح میں دلیل اس شخص کو کہتے ہیں جو کشتیوں کو راہ بتاتا ہوا چلے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–50

لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 50 : مد (پھیلایا) ‘ الظل (سایہ) ‘ ساکن (ٹھرا ہوا) ‘ دلیل (نشانی۔ راستہ بتانے والا) ‘ قبضنا ( ہم نے سمیٹ لیا) ‘ سبات (آرام و راحت کی چیز) ‘ الریاح ( ہوائیں) ‘ طھور (پاکیزہ۔ صاف ستھرا) ‘ بلدۃ ( بستی ۔ شہر) ‘ انعام (جو پائے جانور) ‘ ابی (انکار کیا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 50 : اللہ تعالیٰ کا نظام و انتظام ایسا ہے کہ وہ ہر آن اس کا ئنات کی کیفیات اور حالات کو تبدیل کرتارہتا ہے تاکہ انسان یکسانیت سے اکتانہ جائے کبھی دن کبھی رات ‘ کہیں بہار اور کسی جگہ خزاں ‘ کبھی سردی کبھی گمی یا برسات۔ اگر اللہ تعالیٰ ایک ہی کیفیت رکھتا تو زندگی بےکیف ہو کر رہ جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–47

اللہ کی قدرت کاملہ کا ذکر ۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ کیا تم نے اپنے پروردگار کی قدرت کی طرف نہیں دیکھا کہ جس طرح سایہ کو بڑھایا اور اگر چاہتا تو اس کو ایک ہی جگہ ٹھہرائے رکھتا پھر اس کے پہچاننے کے لیے سورج کو دلیل بنایا کہ سورج سے سای پہچان لیتے ہو پھر فرمایا سورج کے نکلنے کے بعد سورج سے پہلے کا وہ ٹھنڈا سایہ آہستہ آہستہ اللہ کے حکم سے سمیٹ لیاجاتا ہے اور بجائے اس ٹھنڈے سایہ کے تمام دنیا میں دھوپ پھیل جاتی ہے یہ ٹھنڈا سایہ رات کے اندھیرے کے بعد طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے اور پھر دن کے گزرجانے کے بعد رات ہوتی اس واسطے اس ٹھنڈے سایہ کے ذکر میں رات اور دن کا تذکرہ فرمایا۔ جس طرح اوڑھنے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[26] یعنی اللہ چاہتا تو سائے کو ایک ایسی چیز بنا دیتا جس کو آفتاب سے کچھ تعلق نہ ہوتا۔ آفتاب طلوع ہوتا اور دوپہر تک سر پر آجاتا اور پھر ڈھلتا یہاں تک کہ غروب ہوجاتا اور سایہ ایک ہی حالت پر رہتا۔ لیکن اللہ نے سائے کو ایسا بنایا جو آفتاب کی وجہ سے گھٹتا بڑھتا ہے اور شام کو بڑھتے بڑھتے آخر کو ناپید ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 45–46

ف 2: یعنی جس طرح چوپاثوں میں عقل و شعور کی استعداد نہیں ہوتی ۔ اسی طرح یہ لوگ بھی سمجھ بوجھ سے محروم ہیں ۔ بلکہ انہیں لحاظ سے تو ان سے بھی بدتر ہیں کہ وہ کم از کم ان فرائض کو ادا کرتے ہیں ۔ جو فطرت نے ان پر عائد کی ہیں مگر یہ ہیں کہ انسان فرائض کو بھی بھول چکے ہیں اور انسانی شرافت اور بزرگی کو یکسر کھوچکے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(45) اثبات رسالت کے بعد پھر دلائل توحید کا بیان ہے اے پیغمبر ! کیا آپ نے اپنے پروردگار کی طرف نظر نہیں کی کہ اس نے سائے کو کس طرح پھیلایا اور دراز کیا اور اگر وہ چاہتا تو اس سائے کو ایک ہی حالت پر ٹھہرائے رکھتا پھر ہم نے اس سائے کے لئے آفتاب کو ایک علامت اور دلیل قرار دیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 45–47

ف 9۔ اس اعتبار سے کہ سونا مشابہ موت کے ہے اور دن کا وقت جاگنے کا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رات اور دن کو لانا صرف اللہ رب العزت کے اختیار میں ہے : 45۔ (الم تر) اے مخاطب ! تو نے نہیں دیکھا اس سے کون مخاطب ہے بلاشبہ اس سے ہر ایک انسان مخاطب ہے اور خصوصا وہ جو صاحب نظر ہے کیونکہ زیر نظر آیت میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ان کرشمہ سازیوں کا بیان شروع ہو رہا ہے جو انسان کے لئے سراپا لطف ورحمت ہیں اگر اللہ رب العزت اسی فیاضی اور دریا دلی سے ان کو آشکارا نہ کرتا تو انسان کی آفاقی وخلائی فتوحات کیونکر ہوتیں ۔ ہاں فتوحات کا تو ذکر ہی کیا اس کا وجود تک بھی فنا ہوجاتا اگر آفتاب کے طلوع و غروب کا موجودہ نظام نہ ہوتا ۔ اگر ہمیشہ رات ہی رات ہوتی تو انسان تو کجا اس دھرتی پر کوئی حیوانی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–46

Commentary Relationship between causes and effects and their being subject to Allah's will The above verses describe complete and total omnipotence of Allah Ta’ ala and His bounties and favors showered on human kind. This also proves Oneness of Allah and that no one can share His right of worship. أَلَمْ تَرَ‌ إِلَىٰ رَ‌بِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ (Have you not turned your vision to your Lord, how He prolonged the shadow? - 25:45). Sunlight and shade are such blessings of God that without them it would not have been possible for mankind to survive and carry on its day to day functions. If…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

58 The word dalil has been used in the sense of the "pilot", who is a person trained to take ships safely in or out of a harbour, or along a waterway. The sun has been trade the pilot of the shadow because the lengthening out of the shadow and its being rolled up depends on the rising, declining and setting of the sun.

Read the full tafseer →