Al-Furqaan 25:44

Al-Furqaan · from ayah 44

25:44

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ ؕ— اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا ۟۠اَمۡ تَحۡسَبُ اَنَّ اَكۡثَرَهُمۡ يَسۡمَعُوۡنَ اَوۡ يَعۡقِلُوۡنَ‌ ؕ اِنۡ هُمۡ اِلَّا كَالۡاَنۡعَامِ‌ بَلۡ هُمۡ اَضَلُّ سَبِيۡلًا

یا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں (نہیں) یہ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or do you think that most of them hear or reason? They are not except like livestock. Rather, they are [even] more astray in [their] way.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 4 of surah · Ruku 2 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:44

کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی گئے گزرے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں (نہیں) یہ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا آپ اسی خیال میں ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں۔ وه تو نرے چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیاده بھٹکے ہوئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یا تمہارا خیال یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ نہیں ! ان کی مثال تو بس چار پاؤں کے جانوروں کی سی ہے، بلکہ یہ ان سے زیادہ راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا یہ سمجھتے ہو کہ ان میں بہت کچھ سنتے یا سمجھتے ہیں وہ تو نہیں مگر جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں؟ (نہیں) وہ تو چوپایوں کی مانند (ہو چکے) ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا تو گمان کرتا ہے کہ واقعی ان کے اکثرسنتے ہیں یا سمجھتے ہیں، وہ نہیں ہیں مگر چوپاؤں کی طرح، بلکہ وہ راستے کے اعتبار سے زیادہ گمراہ ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں اکثر سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو مویشیوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں ! یہ تو بس چوپایوں کے مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گم کردار

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی کہیں بڑھ کر گمراہ،

— مولانا اسحاق مدنی

یا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بےراہ ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یا آپ ﷺ کا خیال ہے کہ ان میں سے اکثر سنتے اور سمجھتے ہیں یہ نہیں ہیں مگر چوپایوں کی مانند بلکہ ان سے بڑھ کر بھٹکے ہوئے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ نہیں یہ تو چوپایوں کی طرح کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do you think that most of them hear or understand? They are only like the cattle; nay, even worse than the cattle.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Or do you think that most of them listen or understand? They are but like cattle. Rather, they are even farther astray from the (right) way.

— Muhammad Taqi Usmani

Or do you think that most of them listen or understand? They are but like cattle. Rather, they are even farther astray from the (right) way.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or do you think that most of them hear or understand They are only like cattle -- nay, they are even farther astray from the path.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or deemest thou that most of them hear or understand? They are but as the cattle - nay, but they are farther astray?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or do you think that most of them hear or reason? They are not except like livestock. Rather, they are [even] more astray in [their] way.

— Saheeh International

Do you think that most of them listen and understand? They are like cattle or even more, straying and confused.

— Muhammad Sarwar

Or do you think that most of them do hear or understand? They are nothing but as cattle; nay, they are straying farther off from the path.

— Muhammad Habib Shakir

Or deemest thou that most of them hear or understand? They are but like unto the cattle; nay, they are even farther astray from the path.

— Abdul Majid Daryabadi

Or thinkest thou that most of them listen or understand? They are only like cattle;- nay, they are worse astray in Path.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:44

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–44

انبیاء کا مذاق کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ 10 ؀) 6۔ الانعام :10) تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ کہنے لگے وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے ؟ عذاب کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 57 یعنی جس طرح بھیڑ بکریوں کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ہانکنے والا انہیں چراگاہ کی طرف لے جا رہا ہے یا بوچڑخانے کی طرف۔ وہ بس آنکھیں بند کر کے ہانکنے والے اشاروں پر چلتی رہتی ہیں۔ اسی طرح یہ عوام الناس بھی اپنے شیطان نفس اور اپنے گمراہ کن لیڈروں کے اشاروں پر آنکھیں بند کیے چلے جار ہے ہیں، کچھ نہیں جانتے کہ وہ انہیں فلاح کی طرف ہانک رہے ہیں یا تباہی و بربادی کی طرف۔ اس حد تک تو ان کی حالت بھیڑ بکریوں کے مشابہ ہے۔ لیکن بھیڑ بکریوں کو خدا نے عقل و شعور سے نہیں نوازا ہے۔ وہ اگر چرواہے اور قصائی میں امتیاز نہیں کرتیں تو کچھ عیب نہیں۔ البتہ حیف ہے ان انسانوں پر جو خدا سے عقل و شعور کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 43–44

خلاف شرع خواہشات کی پیروی ایک قسم کی بت پرستی ہے اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـهَهٗ هَوٰىهُ ، اس آیت میں اس شخص کو جو اسلام و شریعت کے خلاف اپنی خواہشات کا پیرو ہو یہ کہا گیا ہے کہ اس نے اپنی خواہشات کو معبود بنا لیا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ خلاف شرع خواہشات نفسانی بھی ایک بت ہے جس کی پرستش کی جاتی ہے پھر استدلال میں یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 43–44

آیت 44-43 خواہشوں کے غلام چوپایوں سے بھی بدتر ہیں ارءیت کے اسلوب خطاب پر اس کے محل میں ہم گفتگو کرچکے ہیں۔ یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ جن لوگوں نے اپنی عقل کو معطل کر کے اپنی باگ اپنی خواہشوں کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے بھلا تم ان کی ہدایت و اصلاح کے ذمہ دار کس طرح بن سکتے ہو ! انسان کے اندر رہنمائی کا چراغ عقل نہ کہ نفس کی خواہشیں تو جو لوگ اس چراغ کو گل کر کے اپنی خواہشوں کے پرستار بن جائیں گے آخر ان کو رستہ دکھانا کس کے بس میں ہے ! یہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ خواہشیں جتنی بھی ہیں وہ سب اندھی ہیں۔ وہ صرف اپنے مطالبے کو پورا کرنا چاہتی ہیں۔ ان کو اس سے کوئی بحث نہیں ہوتی کہ کیا حق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

43-1یعنی یہ چوپائے جس مقصد کے لئے پیدا کیئے گئے ہیں، اسے وہ سمجھتے ہیں۔ لیکن انسان، جسے صرف اللہ کی عبادت کے لئے پیدا کیا گیا تھا، وہ رسولوں کی یاد دہانی کے باوجود اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتا اور در در پر اپنا ماتھا ٹیکتا پھرتا ہے۔ اس اعتبار سے چوپائے سے بھی زیادہ بدتر اور گمراہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 44–46

16: یہاں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کی کئی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جن پر انسان غور کرے تو ان میں سے ہر چیز اللہ تعالیٰ کی توحید پر واضح دلیل ہے۔ سب سے پہلے یاد دلایا گیا ہے کہ دھوپ چھاؤں کی تبدیلیاں انسان کی زندگی کے لیے کتنی ضروری ہیں۔ اگر دنیا میں ہمیشہ دھوپ رہتی تب بھی زندگی دو بھر ہوجاتی، اور اگر ہر وقت سایہ ہی سایہ رہتا تو بھی انسان کا کاروبار زندگی معطل ہو کر رہا جاتا۔ اللہ تعالیٰ ہر روز ان دونوں کا حسین امتزاج اس طرح پیدا فرماتا ہے کہ صبح کے وقت سایہ زمین پر پھیلا ہوا ہوتا ہے، پھر جوں جوں سورج چڑھتا جاتا ہے، اس کا سایہ سمٹتا رہتا ہے۔ سورج کو سائے کا رہنما بنانے۔ کا مطلب یہی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 35–44

(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ” یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔ القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی کیسی ہی نصیحتیں سنائیے، یہ تو چوپائے جانور ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر، انھیں سننے یا سمجھنے سے کیا واسطہ چوپائے تو بہرحال اپنے پرورش کرنے والے مالک کے سامنے گردن جھکا دیتے ہیں۔ اپنے محسن کو پہچانتے ہیں، نافع و مضر کی کچھ شناخت رکھتے ہیں۔ کھلا چھوڑ دو تو اپنی چراگاہ اور پانی پینے کی جگہ پہنچ جاتے ہیں، لیکن ان بدبختوں کا حال یہ ہے کہ نہ اپنے خالق و رازق کا حق پہچانا، نہ اس کے احسانات کو سمجھا۔ نہ بھلے برے کی تمیز کی، نہ دوست دشمن میں فرق کیا، نہ غذائے روحانی اور چشمہ ہدایت کی طرف قدم اٹھایا۔ بلکہ اس سے کوسوں دور بھاگے اور جو قوتیں خدا تعالیٰ نے عطا کی تھیں ان کو معطل کیے رکھا بلکہ بےموقع…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 44 اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَکْثَرَہُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ ط ” یہ لوگ آپ ﷺ کی محفل میں کچھ سننے اور سمجھنے کے لیے نہیں آتے بلکہ یہ تو اپنے عوام کو دھوکا دینے کے لیے آتے ہیں تاکہ واپس جا کر انہیں بتاسکیں کہ ہم تو بڑے اہتمام کے ساتھ گئے تھے کہ محمد ﷺ کی باتوں کو خود سنیں اور سمجھیں لیکن ان سے تو ہمیں کوئی خاص بات سننے کو ملی ہی نہیں۔ اِنْ ہُمْ اِلَّا کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا ” چوپائے تو کسی کلام کے مفہوم کو سمجھنے سے اس لیے معذور ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس سطح کا شعور ہی نہیں دیا ‘ لیکن یہ لوگ انسان ہو کر بھی عقل اور شعور سے کام نہیں لیتے۔ اس لحاظ سے یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

56 ایسے انسانوں کی مویشیوں سے بدتر ہونے کی دو وجوہ ہیں ایک یہ کہ ہر مویشی اپنے پالنے والے کو خوب پہچانتا ہے اور اس کا وفادار اور فرمانبردار ہوتا ہے۔ اور اپنے مالک کے سامنے گردن جھکا دیتا ہے۔ اور اگر انھیں کھلا چھوڑ دیا جائے تو اپنے مالک کے گھر واپس آتے ہیں۔ لیکن حضرت انسان کا یہ حال ہے کہ وہ بات تسلیم کرنے کے باوجود کہ اس کا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے۔ اپنی نیاز مندیوں اور نذروں نیازوں میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک بنالیتا ہے۔ اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی آنکھوں اور کانوں سے اتنا ہی کام نہ لینا چاہئے۔ جتنا جانور لیتے ہیں۔ مثلاً بھیڑ بکریوں کا ریوڑ اپنے ہانکنے والے کو دیکھتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

50۔ (کہ وہ مکلف نہیں اور یہ مکلف ہو کر بھی نہ حق بات سنتے ہیں نہ فہم سے کام لیتے ہیں) (آیت) ” کالانعام “۔ چوپایوں سے تشبیہ ان کی بےحسی اور عدم تأثر میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 35–44

آیت نمبر 35 تا 44 ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر (یعنی) معین بنادیا اور ہم نے دونوں کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری دلیلوں کو جھٹلایا ہے یعنی قبطیوں کی طرف جو کہ فرعون اور اس کی قوم ہے چناچہ (یہ دونوں) پیغام لیکر ان کے پاس گئے مگر ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو تہس نہس کردیا (یعنی) پوری طرح ہلاک کردیا اور قوم نوح کا تذکرہ کیجئے جبکہ انہوں نے (تمام) رسولوں کی تکذیب کی نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرکے، نوح (علیہ السلام) کے ان کے درمیان زمانہ دراز تک قیام کرنے کی وجہ سے، گویا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام تحسب ان اکثرہم یسمعون او یعقلون کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ (کلام اللہ کو) سنتے یا (اس کے مطلب اور غرض کو) سمجھتے ہیں۔ استفہام انکاری ہے اور اَمْ بمعنی بَلْ کے ہے ‘ منقطعہ ہے۔ یعنی حقیقت میں یہ لوگ نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں ‘ اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے سننے سے مراد ہے دل کا سننا۔ دل کے کانوں سے سننا ‘ چونکہ دل کے کانوں سے نہیں سنتے اور نہیں سمجھتے اس لئے نہ کسی نصیحت سے ان کو فائدہ پہنچتا ہے نہ دلیل سے۔ آیت بتارہی ہے کہ ہر دلیل صحیح مفید علم ہوتی ہے۔ دلیل سے نتیجہ کا علم ہوجاتا ہے لیکن (خود بالذات دلیل سے نتیجہ دماغ میں نہیں بیٹھتا بلکہ) اللہ کی مشیت سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(44) یا آپ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر حق بات کو سنتے ہیں یا یہ کہ جس وقت وہ حق بات کو سنتے ہیں تو اس کو سمجھتے ہیں ان کا سننا اور پھر سمجھنا تو درکنار یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں کہ جن کو کھانے پینے کے علاوہ کسی قسم کی سمجھ بوجھ نہیں بلکہ یہ تو دین وحجت میں ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں کیوں کہ چوپائے تو ان راہ دین کے مکلف ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُوْنَ۔۔ : راستے کے اعتبار سے زیادہ گمراہ اس لیے کہ جانور تو معذور ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سوچنے سمجھنے کا مادہ ہی نہیں رکھا، مگر افسوس ان پر ہے جو عقل و شعور رکھتے ہیں مگر اس سے کوئی کام نہیں لیتے، یا لیتے ہیں تو الٹا لیتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ چوپائے تو پھر بھی اپنے مالک کے تابع رہتے ہیں، چراگاہ میں چلے جاتے ہیں، پھر واپس ٹھکانے پر پہنچ جاتے ہیں، مگر یہ نہ اپنے خالق ومالک کو پہچانتے ہیں نہ اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔ دیکھیے سورة اعراف (179)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

( ام تحسب ان اکثرھم۔۔۔۔۔ ) ام تحسب ان اکثر ھم یسمعون او یعقلون، انھم نہیں فرمایا کیونکہ ان میں سے ایسے افراد بھی تھے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ وہ ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ان کی مذمت کی ہے۔ یہاں سننے سے ایسا سننا ہے جو قبولیت کا سننا ہے یا جو آپ کہتے ہیں اس میں غور و فکر کرتے ہیں تو وہ اسے سمجھ جاتے ہیں یعنی وہ اس آدمی کی جگہ ہیں جو عقل نہیں رکھتے اور نہ ہی اسے سنتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے جب وہ اس چیز سے نفع حاصل نہیں کرتے جس کو سنتے ہیں تو گویا انہوں نے سنا ہی نہیں، مراد اہل مکہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ام اس قسم کے موقع میں بل کے معنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–44

1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ’ ’ ارءیت من اتخذ الہہ ہواہ “ کے بارے میں فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی ایک زمانے تک سفید پتھر کی عبادت کرتا تھا جب اس سے خوبصورت پتھر کو پاتا تھا تو اس کو پھینک دیتا تھا اور دوسرے کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ،۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابو رجاء عطاردی (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں خون کو بالوں کے ساتھ ملا کر کھاتے تھے اور پتھروں کی عبادت کرتے تھے جب بعد میں اس سے خوبصورت پتھر کو پاتے تو پہلے پتھر کو پھینک کر دوسرے کی عبادت کرتے تھے جب دوسرا گم ہوجاتا تو کسی منادی کرنے والے کو حکم کرتے تو وہ منادی دیتا اے لوگو !…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ [ یا ] تَحْسَبُ [ آپ ﷺ سمجھتے ہیں ] اَنَّ [ کہ ] اَكْثَرَهُمْ [ ان کے اکثر ] يَسْمَعُوْنَ [ سنتے ہیں ] اَوْ يَعْقِلُوْنَ ۭ [ یا عقل سے کام لیتے ہیں ] اِنْ هُمْ [ نہیں ہیں وہ ] اِلَّا [ مگر ] كَالْاَنْعَامِ [ چوپایوں کی مانند ] بَلْ [ بلکہ ] هُمْ [ وہ ] اَضَلُّ [ زیادہ گمراہ ہیں ] سَبِيْلًا [ بلحاظ راستے کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اہل مکہ اپنے کفر و شرک پر خوش تھے اور اس میں بڑا کمال سمجھتے تھے کہ ہم نے توحید کی دعوت قبول نہیں کی وہ کہتے تھے کہ اگر ہم اپنی معبودوں پر جمے ہوئے نہ رہتے تو یہ شخص تو ہمیں ان کی پرستش سے ہٹا ہی دیتا ان کی جہالت کا جواب دیتے ہوئے فرمایا (وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ) (الآیۃ) اور جس وقت یہ لوگ عذاب دیکھیں گے اس وقت جان لیں گے کہ راہ حق سے ہٹا ہوا کون تھا، عذاب سب سمجھا دے گا اور اس وقت حقیقت ظاہر ہوجائے گی، دنیا میں رسول اللہ ﷺ کو جو بےراہ بتاتے تھے قیامت کے دن ان کا اپنا گمراہ ہونا واضح ہوجائے گا، ان کے بعد رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا (اَرَاَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰھَہٗ ھَوَاہُ ) (کیا آپ نے اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–44

تشنیع کفار براستہزاء سید الابرار قال اللہ تعالیٰ واذا اروک ان یتخذونک الا ھزوا .... الیٰ .... بل ھم اضل سبیلا۔ (ربط) اوپر سے سلسلہ کلام کفار کے اعتراضات اور ان کے جوابات کا چلا آرہا تھا جس سے مقصود کفار کی تشنیع اور ملامت تھی اب آئندہ آیات میں پھر کفار کے ذمائم اور شنائع قولیہ اور فعلیہ کو بیان کرتے ہیں کہ یہ منکرین نبوت آپ ﷺ کو غایت درجہ حقیر سمجھتے ہیں اور آپ کے ساتھ تمسخر کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنے دین پر مضبوطی کے ساتھ قائم نہ رہتے تو یہ محض ہم کو کبھی کا گمراہ کرچکا ہوتا حق تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ عنقریب یعنی مرنے کے بعد معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہ تھا۔ اور یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 43–49

30:۔ ” ارایت من الخ “ ان مشرکین سے قبول حق کی توقع بےسود ہے یہ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ محض ضد وعناد کی وجہ سے اپنی خواہشات نفسانیہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ نفس کے بندے ہیں اور خواہش نفس کو انہوں نے اپنا معبود بنا رکھا ہے یعنی اپنی خواہش سے معبودان باطلہ کو حاجت روا اور برکات دہندہ سمجھ رکھا ہے۔ وہ اپنی مرضی اور خواہش سے جس کو چاہتے ہیں اپنا کارساز اور معبود بنا لیتے ہیں۔ اس سے پہلے ” ان کاد لیضلنا عن الھتنا “ بھی قرینہ ہے کہ مشرکین اپنی خواہش سے جسے چاہتے برکات دہندہ بنا لیتے۔ فالایۃ شاملۃ لمن عبد غیر اللہ تعالیٰ حسب ھواہ ولمن اطاع الھوی فی سائر المعاصی وھو الذی یقتضیہ کلام الحسن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–44

ربط ِ آیات اس رکوع کی پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر کر کے حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دی ۔ ان انبیائے کرام کو بڑے سر کش اور مغرور لوگوں سے واسطہ پڑا ۔ اللہ نے ان کے غرور کو توڑا اور ان کو تباہ و برباد کیا ۔ اللہ نے نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی فرمایا کہ آپ کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا ، پھر قوم عاد ، ثمود اور کنوئیں والوں نے اللہ کے نبیوں کے ساتھ زیادتی کی تو ان کو بھی ہلاک کیا گیا ۔ درمیان میں بہت سی دیگر قومیں بھی گزر ی ہیں جن کا تذکرہ نہ تو کتب سماویہ نے کیا ہے اور نہ ہی تاریخ نے انہیں محفوظ رکھا ہے ہر قوم کے لیے اللہ نے رسول بھیجے ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَہُمْ يَسْمَعُوْنَ اَوْ يَعْقِلُوْنَ۝ 0ۭ اِنْ ہُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ سَبِيْلًا۝ 44ۧ حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 35–44

ترکیب : ہارون بدل من اخاہ وزیرا مفعول ثان بجعلنا وقوم یجوزان یکون معطوفا علی دمرنا یا مفعول اذکر محذوف۔ علی ہذا القیاس عادا و ثمودا الخ، تفسیر : جبکہ توحیدِ و نفی انداد و اثبات نبوت میں کلام ہوچکا اور منکرین کے شبہات رد کردیے گئے اور قیامت کا حال اور منکرین کا وبال بھی بیان ہوچکا تو مجملاً انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ان کے دشمنوں پر آخر کار کیا کیا بلائیں نازل ہوئیں کیونکہ آپ کی تسلی کے لیے پہلے فرمایا تھا وکذالک جعلنا لکل نبی عدوًا اور قرآن کا یہی طریقہ ہے کہ ایسے موقعوں پر قصص انبیاء بیان ہوتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ ان کے تذکرہ بار بار آتے ہیں۔ فقال ولقد اتینا موسیٰ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 43–44

اَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـھَہٗ ھَوٰ ہُ ط اَفَاَنْتَ تَـکُوْنُ عَلَیْہِ وَکِیْلاً ۔ اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَکْثَرَھُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْیَعْقِلُوْنَ ط اِنْ ھُمْ اِلاَّ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ سَبِیْلاً ۔ (الفرقان : 43، 44) (کیا آپ نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے، کیا آپ ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہیں ؟ کیا آپ گمان رکھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں، یہ تو بس چوپایوں کے مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے۔ ) قریش کی گمراہی کا ایک بہت بڑا سبب اتباعِ ہَوائے نفس ہے گزشتہ آیت کریمہ میں قریش کا آنحضرت ﷺ پر ایمان نہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : دین حق کی مخالفت اور انسان کی گمراہی کا بنیادی سبب نفس پرستی ہے۔ اس لیے نفس پر ستی کی نفی کی گئی ہے۔ انسان جب بھی حق بات کی مخالفت کرتا ہے یا کسی گناہ میں ملّوث ہوتا ہے تو اس کے پیچھے اس کی نفسانی خواہش کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اس حد تک اپنے نفس کے بندے بن چکے ہوتے ہیں کہ ان کے ہر کام کے پیچھے اپنی منشاء اور مفاد کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ایسے شخص کے بارے میں آپ ﷺ کو ارشاد ہوا ہے کیا آپ نے اس شخص کے کردار پر غور نہیں کیا جس نے اپنی خواہش کو خدا کا درجہ دے دیا ہے ؟ ایسے شخص کو راہ راست پر لانا کسی کے بس کا روگ نہیں ہوتا لہٰذا آپ کو ارشاد ہوا کہ آپ ایسے شخص کے فکر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

44: اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَکْثَرَھُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْیَعْقِلُوْنَ اِنْ ھُمْ اِلَّا کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا (کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کی اکثریت (کلام اللہ) کو سنتے یا سمجھتے ہیں وہ نہیں ہیں مگر چوپایوں کی طرح بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ گمراہ۔ نحو : یہ امؔ منقطعہ ہے اور اس کا معنی بلؔ ہے بلکہ کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں گویا پہلے جو مذمت گزری یہ اس سے زیادہ سخت ہے یہاں تک کہ اس سے اضراب کر کے اس کی طرف رجوع کرنا پڑا۔ تفصیلِ اعراض : وہ یہ ہے کہ ان کی عقلیں اور قوت سمع چھن چکی ہے۔ کیونکہ وہ حق کو سننے کی طرف ذرا کان نہیں دھرتے۔ اور نہ اس میں تدبر کیلئے عقل کو استعمال کرتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

44۔ ام تحسب ان اکثرھم یسمعون، ، یہ لوگ سمجھنے کی غرض سے نہیں سنتے۔ او یعقلون، وہ اس پر غور نہیں کرتے نہ کسی نصیحت کو اورنہ ہی دلیل کو۔ ان ھم، اس کا معنی ہے ، ماھم ، نہیں ہیں وہ، الاکالانعام بل ھم اضل سبیلا۔ چونکہ چوپائے بھی اپنے پینے کی جگہ اور چرنے کی جگہ خود چلے جاتے ہیں اور اپنے مالک کے حکم کو مانتے ہیں جبکہ یہ کفار حق کے راستے کو نہیں جانتے اور نہ ہی اللہ رب العزت کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے رزق کی قدر نہیں کرتے چونکہ چوپائے چارہ گھاس کھاتے ہیں اور اللہ کی تسبیح اور اس کے سامنے جھکتے بھی ہیں جبکہ کفار نہ تسبیح پر ھتے ہیں اور نہ ہی اللہ کی فرمانبرداری میں جھکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–44

38۔ 44:۔ سیرۃ ابن اسحاق اور مسند عبد بن حمید وغیرہ میں ایک روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن سب سے پہلے ایک حبشی غلام جنت میں جاوے گا کس لیے کہ پہلے زمانہ میں ایک نبی کو ان نبی کی قوم نے ایک کنویں میں ڈال کر اس کنویں کے منہ پر ایک پتھر کی سل ڈھانک دی تھی ‘ وہ حبشی غلام ان نبی پر ایمان لے آیا تھا ‘ اس لیے ہر روز لکڑیاں جنگل میں سے چن کر لاتا تھا اور ان لکڑیوں کو بیچ کر کچھ کھانے کی چیز خریدتا تھا اور قوم کے لوگوں سے چھپ کر اس کنویں پر آتا تھا اور اللہ تعالیٰ اس کو اتنی قوت دے دیتا کہ وہ اس بھاری پتھر کی سل کو کنویں کے منہ پر سے ہٹا کر ان نبی کو کھانا کھلاتا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 35–44

آیت 35 سے 40 اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے، تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً حجر کے علاقے میں صالح (علیہ السلام) کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 44–45

55 لوگوں کی اکثریت حق کو سننے سمجھنے سے عاری ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام انکاری کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ "۔ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ایسے نہیں سمجھنا چاہیئے کہ ایسے لوگ نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔ اور جب یہ سنتے سمجھتے ہی نہیں اور انہوں نے اپنے کانوں اور دلوں کو حق کے سننے اور سمجھنے سے بند کر رکھا ہے تو پھر ان سے کسی خیر کی توقع ہی کیا اور کیسے ہوسکتی ہے ؟ اور پھر ان کی ایذاء رسانیوں اور حق دشمنیوں سے صدمہ اور دکھ ہی کیا ؟ پس ضد اور عناد و ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں۔ ایسے ضدی عناصر کو چھوڑ دو یہ اپنے انجام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 35–44

پچھلی قوموں کا عبرت ناک انجام تشریح : ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ سیدنا ابراہیم و اسمعٰیل (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور توحید کی ابتدا کی۔ مکہ میں خانہ کعبہ سب سے پہلا اللہ کا گھر بنایا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ لوگ ان کی تعلیمات بھولتے گئے۔ تو انہوں نے اپنی مرضی سے کئی مذہب بنا لیے تو عرب کے قدیم باشندوں نے عرب سے نکل کر بابل ‘ شام اور مصر میں حکومتیں قائم کی تھیں۔ ان کو عرب بائدہ یعنی جونا پید ہوگئے کہا جاتا ہے عاد اور ثمود کی قومیں اسی دور سے تعلق رکھتے تھے۔ سب کے پاس نبی بھیجے گئے، آسمانی کتابیں بھیجی گئیں جیسا کہ ان کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا جا چکا ہے کہ سب کے پاس کفار مکہ کی طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 35–44

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اور اگر ان کی یہی دلیل ہو کہ قرآن یکبارگی نازل کیوں نہ ہوا تو قبل ازیں موسیٰ (علیہ السلام) کو تو یکبارگی کتاب عطا ہوئی تھی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی معاون بنا دیا گیا اور دونوں کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا یعنی فرعون اور آل فرعون کی طرف جنہوں نے ہماری آیات اور عظمت کے دلائل کو ماننے اور سمجھنے سے انکار کر رکھا تھا مگر انہوں نے کب مان کردیا تھا حتی کہ معجزات تک کا انکار کیا اور اپنے کفر پر قائم رہے تاآنکہ قہر الہی نے انہیں برباد کر کے نام ونشان مٹا دیا یعنی غرق دریا ہوگئے اگرچہ فرعون نزول کتاب سے قبل ہلاک ہوا مگر بعد کے کفار نے بھی تسلیم تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

4 ۔ یعنی ان کے لیڈر اور بڑے لوگ بھیڑ بکریوں کی طرح انہیں ہانک کر جدھر لے جانا چاہتے ہیں لے جاتے ہیں۔ 5 ۔ کیونکہ جانور تو اس لحاظ سے معذور ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سوچنے سمجھنے کا مادہ ہی نہیں رکھا مگر تف ہے ان بدبختوں پر کہ عقل و شعور رکھتے ہیں مگر اس سے کوئی کام نہیں لیتے یا لیتے ہیں تو الٹا لیتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ بہائم (چوپائے جانور) تو پھر بھی اپنے مالک کے تابع رہتے ہیں۔ چراگاہ میں چلے جاتے ہیں۔ پھر واپس اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتے ہیں مگر یہ نہ اپنے خالق و رازق کو پہچانتے ہیں اور نہ اس کی مرضی کے مطابق زندگی ہی گزار رہے ہیں۔ (قرطبی۔ شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:44) ام۔ کیا۔ خواہ۔ یا ۔ یحسب : مضارع واحد مذکر حاضر۔ تو گمان کرتا ہے، تو خیال کرتا ہے۔ (باب حسب ، سمع) حسبان مصدر۔ ان ھم : میں ان نافیہ ہے۔ بل : حرف اضراب ہے۔ یہاں تدارک کی دوسری صورت ہے (پہلی صورت 25:40 ملاحظہ ہو) کہ پہلے حکم کو برقرار رکھ کر اس کے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کردیا جائے ۔ جیسے بل قالوا اضغاث احلام۔ بل افترہ بل ہو شاعر (21:5) بلکہ انہوں نے کہا کہ خیالات پریشاں ہیں بلکہ اس کو اس نے (آنحضرت ﷺ نے) گھڑلیا ہے بلکہ یہ شاعر ہے۔ مطلب یہ کہ ایک قرآن کو خیالات پریشان کہتے ہیں پھر مزید اسے افتراء بتلاتے ہیں اور اسی پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ نعوذ باللہ آپ کو شاعر سمجھتے ہیں۔ یہاں آیۃ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 35–44

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 44 : اخاہ ( اس کا بھائی) ‘(وزیر) بوجھ اٹھانے والا۔ مددگار) ‘ دمرنا (ہم نے تباہ کردیا) ‘ تدمیر ( اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ اعتدنا ( ہم نے تیار کردیا) ‘ قرون (قرن) قومیں۔ جماعتیں ‘ اصحب الرس (کنویں والے) ‘ تتبیر (اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ امطرت (برسایا گیا) ‘ مطرالسوئ (بدترین بارش) ‘ نشور (مرنے کے بعد زندہ ہونا) ‘ ھزو (مذاق۔ ہنسی۔ اڑانا) ‘ بعث (اس نے بھیجا) ‘ کا د (قریب ہے) ‘ صبرنا ( ہم جمے رہے) ‘ اضل (زیادہ گمراہ) ‘۔ تشریح آیت نمبر 35 تا 44 : دنیا میں ہر ظالم و جابر اور قوت و طاقت رکھنے والے شخص کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کی خواہش کے غلام اور حکم کے بندے بن کر رہیں۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 43–44

مشرکین کے بتوں کی کیفیت۔ (ف 1) شان نزول : مشرکین کا یہ طریقہ تھا کہ جب کبھی ان کو کوئی خوبصورت چیز لکڑی یا پتھر وغیرہ نظرآتی تو اس کو فورا اٹھالیتے اور اس کا بت بنا کرپوجتے، اور وہ پہلا پرانا بت چھوڑ دیتے تھے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اے محبوب تم نے ان لوگوں کی نادانی دیکھی کہ جس بت کی پوجا کو ان کا جی چاہتا ہے اس کی پوجا کرتے ہیں پس انہوں نے اپنی خواہش نفسانی کو اپنا خدا بنارکھا ہے پھر کیا تم ان کی نگہبانی کا ذمہ لے سکتے ہو پھر فرمایا اے محبوب کیا تم اپنے جی میں یہ خیال کرتے ہو کہ یہ لوگ قرآن سنتے اور اس کی نصیحت کو سمجھتے ہیں نہیں یہ لوگ تو اپنی نادانی کے سبب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 40–44

[23] یعنی قوم لوط کی بستی۔ [24] یعنی پتھروں کی بارش۔ [25] یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے قائل نہ تھے کہ انھیں آخرت کے عذاب وثواب کی پروا ہوتی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 1: مقصود یہ ہے ۔ کہ یہ لوگ دلائل و ہوا مین کی وجہ سے اسلام کی صداقتوں کا انکار کرتے ۔ بلکہ محض ہوائے نفس کی پیروی میں ایسا کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کا خدا تو ان کی اپنی خواہشات ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(44) یا آپ خیال کرتے ہیں کہ ان کافروں میں سے اکثر سنتے اور سمجھتے ہیں یہ تو محض ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ یہ ان چوپایوں سے بھی زیادہ گمر کردہ راہ اور بےراہ ہیں یعنی جس شخص نے اپنی نفسانی خواہش کو خدا بنا رکھا ہے تو آپ پر ایسے شخص کی کیا ذمہ داری ہے یہ شاید ان لوگوں کو فرمایا کہ جن کو جب کوئی اچھا پتھرنظر آیا تو اس کو لاکر معبود بنالیا پھر جب کوئی اس سے اچھا پتھر ملا اس کو معبود بنایا یا ان کو فرمایا کہ جو ہر بات اپنی نفسانی خواہش کے مطابق کرتے ہیں جو دل میں آیا وہ کرلیا قطع نظر اس کے کہ اس کام کا اخلاقی اثر کیا ہوگا اور آسمانی شریعت اس کام کو جائز سمجھتی ہے یا نہیں اس قسم کے بدذوق لوگوں کے نہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 43–44

ف 7۔ مطلب یہ کہ آپ ان کی ہدایت نہ ہونے سے مغموم نہ ہوجایئے، کیونکہ آپ ان پر مسلط نہیں کہ خواہی نخواہی ان کو راہ پر لاویں، اور نہ ہدایت کی ان سے توقع کیجئے کیونکہ ان کو نہ سماع ہے نہ عقل ہے۔ 8۔ کیونکہ وہ اس راہ دین کے مکلف نہیں تو ان کا نہ سمجھنا مذموم نہیں، اور یہ مکلف ہیں، پھر نہیں سمجھتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عقل وکفر سے کام نہ لینے والے کون ہیں ؟ آخر چوپائے ہی تو ہیں : 44۔ ہر ایک انسان دوسرے انسان کو کیا سمجھے گا ؟ ظاہر ہے کہ وہ دوسرے کو انسان ہی سمجھے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ اوصاف ہیں جو انسان کو انسان بناتے ہیں رہی یہ بات کہ وہ اوصاف کیا ہیں ؟ وہ سماعت اور عقل وفکر ہی ہیں اور جو انسان سنی ان سنی کر دے اور اسی طرح عقل وفکر سے بھی کام نہ لے وہ بلاشبہ چوپایوں کی مانند ہی ہے بلکہ ان سے بھی گیا گزرا ہے ، حیوان کو عقل اللہ تعالیٰ نے عطا ہی نہیں کی لیکن انسانوں کو تو انسان محض اس ورطے کہا گیا کہ وہ عقل وفکر دیا گیا ہے پھر جب وہ عقل وفکر رکھنے کے باوجود حیوانوں کے سے کام سرانجام دے تو وہ بلاشبہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–44

Following forbidden things - a type of idolatry أَرَ‌أَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَـٰهَهُ هَوَاهُ (Tell me about the one who has taken his desire as his god - 25:43). The one who practises forbidden things which are against the tenets of Islam to satisfy his personal desires is described in this verse as the worshiper of his own lust. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ said that the selfish desires are like an idol which is worshipped (by the infidels) and then he recited this verse to prove his point. (Qurtubi)

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

57 "They are only like the cattle" because they follow their lusts blindly. Just as the sheep and cattle do not know where their driver is taking them, to the meadow or to the slaughter house, so are these people also following their leaders blindly without knowing or judging where they are being led-to success or to destruction.. The only difference between the two is that the cattle have no intelligence and will not be accountable as to the place where they are being taken by the driver. But it is a pity that human beings who are endowed with reason, should behave like cattle; therefore…

Read the full tafseer →