Explained with ayahs 41–44
انبیاء کا مذاق
کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ 10 ) 6۔ الانعام :10) تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ کہنے لگے وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے ؟ عذاب کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 56
خواہش نفس کا خدا بنا لینے سے مراد اس کی بندگی کرنا ہے، اور یہ بھی حقیقت کے اعتبار سے ویسا ہی شرک ہے جیسا بت کو پوجنا یا کسی مخلوق کو معبود بنانا۔ حضرت ابو امامہ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ماتحت ظل السمآء من الٰہ یعبد من دون اللہ تعالیٰ اعظم عند اللہ عزوجل من ھوی یتبع، " اس آسمان کے نیچے اللہ تعالیٰ کے سوا جتنے معبود بھی پوجے جا رہے ہیں ان میں اللہ کے نزدیک بد ترین معبود وہ خواہش نفس ہے جس کی پیروی کی جا رہی ہو "۔ (طبرانی)۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو الکہف، حاشیہ 50۔
جو شخص اپنی خواہش کو عقل کے تابع رکھتا ہو اور عقل سے کام لے کر فیصلہ کرتا ہو کہ اس کے لیے صحیح راہ کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
خلاف شرع خواہشات کی پیروی ایک قسم کی بت پرستی ہے
اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـهَهٗ هَوٰىهُ ، اس آیت میں اس شخص کو جو اسلام و شریعت کے خلاف اپنی خواہشات کا پیرو ہو یہ کہا گیا ہے کہ اس نے اپنی خواہشات کو معبود بنا لیا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ خلاف شرع خواہشات نفسانی بھی ایک بت ہے جس کی پرستش کی جاتی ہے پھر استدلال میں یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
آیت 44-43
خواہشوں کے غلام چوپایوں سے بھی بدتر ہیں
ارءیت کے اسلوب خطاب پر اس کے محل میں ہم گفتگو کرچکے ہیں۔ یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ جن لوگوں نے اپنی عقل کو معطل کر کے اپنی باگ اپنی خواہشوں کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے بھلا تم ان کی ہدایت و اصلاح کے ذمہ دار کس طرح بن سکتے ہو ! انسان کے اندر رہنمائی کا چراغ عقل نہ کہ نفس کی خواہشیں تو جو لوگ اس چراغ کو گل کر کے اپنی خواہشوں کے پرستار بن جائیں گے آخر ان کو رستہ دکھانا کس کے بس میں ہے ! یہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ خواہشیں جتنی بھی ہیں وہ سب اندھی ہیں۔ وہ صرف اپنے مطالبے کو پورا کرنا چاہتی ہیں۔ ان کو اس سے کوئی بحث نہیں ہوتی کہ کیا حق…
Read the full tafseer →43-1یعنی جو چیز اس کے نفس کو اچھی لگی اسی کو اپنا دین و مذہب بنا لیا کیا ایسے شخص کو تو راہ یاب کرسکتا ہے یا اللہ کے عذاب سے چھڑا سکے گا ؟ اس کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا کیا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا پس وہ اسے اچھا سمجھتا ہے پس اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ یاب پس تو ان پر حسرت و افسوس نہ کر۔ فاطر۔ حضرت ابن عباس ؓ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں زمانہ جاہلیت میں آدمی ایک عرصے تک سفید پتھر کی عبادت کرتا رہتا جب اسے اس سے اچھا پتھر نظر آجاتا تو وہ پہلے پتھر کو چھوڑ کر دوسرے پتھر کی پوجا شروع کردیتا ابن کثیر۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے اشخاص جو عقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
15: آنحضرت ﷺ کو چونکہ اپنی امت پر بہت شفقت تھی، اس لیے آپ کی یہ خواہش رہتی تھی کہ جو لوگ کفر و شرک پر اڑے ہوئے ہیں وہ کسی طرح ایمان لے آئیں، اور جب وہ ایمان نہیں لاتے تھے تو آپ کو صدمہ ہوتا تھا۔ قرآن کریم نے جا بجا آپ کو تسلی دی ہے کہ آپ کا فریضہ حق بات کو پہنچانے کی حد تک محدود ہے۔ جن لوگوں نے اپنی خواہشات کو خدا بنا رکھا ہے، ان کی کوئی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ”
یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔
القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘…
Read the full tafseer →6 یعنی آپ ایسے ہوا پرستوں کو راہ ہدایت پر لے آنے کی کیا ذمہ داری کرسکتے ہیں جن کا معبود ہی محض خواہش ہو کہ جدھر خواہش لے گئی ادھر ہی جھک پڑے جو بات خواہش کے موافق ہوئی قبول کرلی، جو مخالف ہوئی رد کردی۔ آج ایک پتھر اچھا معلوم ہوا اسے پوجنے لگے کل دوسرا اس سے خوبصورت مل گیا پہلے کو چھوڑ کر اس کے آگے سر جھکا دیا۔
Read the full tafseer →آیت 43 اَرَءَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ہَوٰٹہُ ط ”
یہاں شرک کی ایک بہت اہم قسم بیان ہوئی ہے ‘ جو ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس پر بڑے بڑے موحدینّ کو غور کرنا چاہیے کہ دراصل شرک صرف ”یا علی مدد !“ کا نعرہ لگانے یا قبر پرستی تک ہی محدود نہیں ہے ‘ بلکہ اللہ کے کسی واضح حکم کے مقابلے میں خواہش نفس پر عمل پیرا ہونا بھی شرک کے زمرے میں آتا ہے۔ انسان کو اس کا نفس ہر وقت دنیا سمیٹنے اور زیادہ سے زیادہ مال و دولت جمع کرنے کے حسین خواب دکھاتا ہے۔ وہ حرام کو اپنانے کے لیے ُ پر کشش تو جیہات پیش کرتا ہے۔ مثلاً یہ کہ آج کے بینک کا سود حرام نہیں ہے ‘ پرانے دور میں تو سود کو اس لیے…
Read the full tafseer →55 یعنی جو شخص اللہ کے بجائے اپنی خواہش نفس کا بندہ یا غلام بن جائے اور اللہ کے احکام کے بجائے اپنی خواہش نفس کی بات ماننے کو ترجیح دے تو ایسے شخص کے راہ راست پر آنے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں، نہ ہی آپ ایسے ہوا پرستوں کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھا سکتے ہیں۔ قرآن کے اندر بیان ہے جو بات فوراً ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے خواہش نفس کی اتباع بھی شرک کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔ اور خواہش نفس کی اتباع ایک ایسا عام مرض ہے جس میں کافر و مشرک تو درکنار، مومن و مسلم اور عوام و خواص سب ہی تقریباً متبلا ہوتے ہیں۔ مثلاً عام لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ شریعت کے احکام میں سے آسان اور ان کے من پسند ہوں ان…
Read the full tafseer →49۔ یعنی آپ ان پر مسلط کرکے تو بھیجے نہیں گئے ہیں، پھر آپ ان کی بےراہی پر غم کیوں کیجئے۔ (آیت) ” من التخذ الھہ ھوہ “۔ سے یہ صاف ہوگیا کہ ان کی گمراہی کی بنیاد میں کوئی شبہ عقلی واجتہادی نہیں، بلکہ محض اتباع ہوائے نفس ہے۔ جاہلیت عرب کے لوگ آج ہی کل کی فرنگی قوموں کی طرح ایک نیم دہری قسم کے الحاد پسند لوگ تھے۔ ان کی طبیعت ذکر وفکر آخرت کی طرف آمادہ ہی نہیں ہوتی تھی، اور بت پرستی سے بھی بڑھ کر ہوا پرستی اور دنیوی لذات میں مبتلا رہتے تھے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیت نمبر 35 تا 44
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر (یعنی) معین بنادیا اور ہم نے دونوں کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری دلیلوں کو جھٹلایا ہے یعنی قبطیوں کی طرف جو کہ فرعون اور اس کی قوم ہے چناچہ (یہ دونوں) پیغام لیکر ان کے پاس گئے مگر ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو تہس نہس کردیا (یعنی) پوری طرح ہلاک کردیا اور قوم نوح کا تذکرہ کیجئے جبکہ انہوں نے (تمام) رسولوں کی تکذیب کی نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرکے، نوح (علیہ السلام) کے ان کے درمیان زمانہ دراز تک قیام کرنے کی وجہ سے، گویا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کئی…
Read the full tafseer →ارءیت من اتخذ الہہ ہوہہ اے پیغمبر آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی جس نے اپنا خدا اپنی خواہش
نفسانی کو بنا رکھا ہے ‘ یعنی اپنی خواہشات کا تابع ہوگیا۔ خواہشات پر ہی اس نے اپنے مذہب کی بنیاد رکھی (خواہشات نفس کا پرستار ہوگیا) نہ کسی دلیل کو سنتا ہے نہ دیکھتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کا تفسیری مطلب اس طرح بیان کیا ‘ کیا آپ اس شخص کو دیکھ رہے ہیں جس نے اللہ کی عبادت تو ترک کردی ہے جو اس کا خالق ہے اور پتھروں کی طرف جھک گیا ‘ ان کی پوجا کرنے لگا۔
افانت تکون علیہ وکیلا۔ تو کیا آپ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ یعنی کیا آپ اس کے ذمہ دار ہیں کہ
پتھروں کی پوجا سے اس کو روک دیں۔
وَکِیْل ذمہ دار…
Read the full tafseer →(43) اے پیغمبر ﷺ آپ نے اس شخص یعنی نضر بن حارث اور اس کے ساتھیوں کی حالت بھی دیکھی جنہوں نے عبادت کے لیے اپنا اللہ اپنی خواہشات نفسانی کو بنا رکھا ہے تو کیا آپ اس کی اس فساد سے نکالنے میں نگرانی کرسکتے ہیں اس آیت کو آیت جہاد نے منسوخ کردیا یا یہ کہ آپ اس کی عذاب سے نگرانی کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـهَهٗ هَوٰىهُ : یہ فطری بات ہے کہ کفار کا رسول اللہ ﷺ کو مذاق کا نشانہ بنانا اور اپنے باطل معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنا آپ ﷺ کے لیے سخت تکلیف دہ تھا، کیونکہ آپ کی شدید خواہش تھی کہ وہ ایمان لے آئیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے حال پر تعجب دلاتے ہوئے فرمایا : ”کیا تو نے وہ شخص دیکھا جس نے اپنی خواہش ہی اپنا معبود بنا لیا ؟“ ابوحیان نے فرمایا : ”وَالْمَعْنٰی أَنَّہُ لَمْ یَتَّخِذْ إِلٰھًا إِلَّا ھَوَاہُ“ ”معنی یہ ہے کہ اس نے اپنی خواہش کے سوا کسی کو معبود بنایا ہی نہیں۔“ زمخشری نے فرمایا : ”جو شخص اپنے دین میں خواہش ہی کا حکم مانے، کوئی بھی کام کرنے یا نہ کرنے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
( اریت من۔۔۔۔۔۔ )
ارء یت من اتخذ الھہٗ ھوہٗ اپنے نبی کو تعجب کرنے کا حکم دیا کہ وہ اپنے دل سے شرک کو چھپائے ہوئے ہیں، یہ اقرار کرنے کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق اور رازق ہے وہ شرک پر اصرار کرتے ہیں پھر ایسے پتھر کا قصد کرتے ہیں جس کی دلیل کے بغیر عبادت کرتے ہیں۔
کلبی اور دوسرے علماء نے کہا : عربوں میں سے کوئی جب کسی شی سے محبت کرتا تو اللہ تعالیٰ کی ذات کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتا، جب اس سے زیادہ خوبصورت چیز کو دیکھتا تو پہلی چیز کو چھوڑ دیتا اور زیادہ خوبصورت چیز کی عبادت کرنے لگتا۔
اس آیت کا یہ معنی بنتا ہے ارء یت من اتخذ الھہٗ بھواہ حرف جار کو حذف کردیا گیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ’ ’ ارءیت من اتخذ الہہ ہواہ “ کے بارے میں فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی ایک زمانے تک سفید پتھر کی عبادت کرتا تھا جب اس سے خوبصورت پتھر کو پاتا تھا تو اس کو پھینک دیتا تھا اور دوسرے کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ،۔
2۔ ابن مردویہ نے ابو رجاء عطاردی (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں خون کو بالوں کے ساتھ ملا کر کھاتے تھے اور پتھروں کی عبادت کرتے تھے جب بعد میں اس سے خوبصورت پتھر کو پاتے تو پہلے پتھر کو پھینک کر دوسرے کی عبادت کرتے تھے جب دوسرا گم ہوجاتا تو کسی منادی کرنے والے کو حکم کرتے تو وہ منادی دیتا اے لوگو !…
Read the full tafseer →اَرَءَيْتَ [ کیا دیکھا آپ ﷺ نے ] مَنِ [ اس کو جس نے ] اتَّخَذَ [ بنایا ] اِلٰـهَهٗ [ اپنا الہٰ ] هَوٰىهُ ۭ [ اپنی خواہش کو ] اَفَاَنْتَ [ تو کیا آپ ﷺ ] تَكُوْنُ [ ہوں گے ] عَلَيْهِ وَكِيْلًا [ اس کے وکیل ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 43 ۔ میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ جن لوگوں نے اپنی عقل کو معطل کرکے اپنی باگ اپنی خواہشوں کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے، بھلا آپ ﷺ ان کی ہدایت و اصلاح کے ذمہ دار کس طرح بن سکتے ہیں۔ انسان کے اندر رہنمائی کا چراغ عقل ہے نہ کہ نفس کی خواہشات۔ تو جو لوگ اس چراغ کو گل کرکے اپنی خواہشات کے پرستار بن جائیں، ان کو راستہ دکھانا کس کے بس میں ہے۔ واضح رہے کہ خواہشیں جتنی بھی ہیں وہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
اس کے بعد قریش مکہ کی سر کشی بیان فرمائی اور وہ یہ کہ یہ لوگ صرف آپ کی تکذیب ہی نہیں کرتے آپ کا مذاق بھی بناتے ہیں اور مسخرہ پن کرتے ہیں اور یوں کہتے ہیں (اَھٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوْلًا) (کیا یہی شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے) یہ ایسا ہی ہے جیسے قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے بارے میں کہا تھا (ءَاُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ بَیْنِنَا) (کیا ہمارے درمیان سے صرف اسی شخص پر ذکر نازل کیا گیا) مکذبین اور معاندین کا یہ عجیب سوال رہا کہ فلاں شخص ہی کو نبی کیوں بنایا گیا ؟ دوسرے شخص کو عہدہ کیوں نہیں دیا گیا یہ جہالت اور حماقت کا سوال ہے جس کسی بھی شخص کو رسالت کی ذمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
تشنیع کفار براستہزاء سید الابرار
قال اللہ تعالیٰ واذا اروک ان یتخذونک الا ھزوا .... الیٰ .... بل ھم اضل سبیلا۔
(ربط) اوپر سے سلسلہ کلام کفار کے اعتراضات اور ان کے جوابات کا چلا آرہا تھا جس سے مقصود کفار کی تشنیع اور ملامت تھی اب آئندہ آیات میں پھر کفار کے ذمائم اور شنائع قولیہ اور فعلیہ کو بیان کرتے ہیں کہ یہ منکرین نبوت آپ ﷺ کو غایت درجہ حقیر سمجھتے ہیں اور آپ کے ساتھ تمسخر کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنے دین پر مضبوطی کے ساتھ قائم نہ رہتے تو یہ محض ہم کو کبھی کا گمراہ کرچکا ہوتا حق تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ عنقریب یعنی مرنے کے بعد معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہ تھا۔
اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
30:۔ ” ارایت من الخ “ ان مشرکین سے قبول حق کی توقع بےسود ہے یہ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ محض ضد وعناد کی وجہ سے اپنی خواہشات نفسانیہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ نفس کے بندے ہیں اور خواہش نفس کو انہوں نے اپنا معبود بنا رکھا ہے یعنی اپنی خواہش سے معبودان باطلہ کو حاجت روا اور برکات دہندہ سمجھ رکھا ہے۔ وہ اپنی مرضی اور خواہش سے جس کو چاہتے ہیں اپنا کارساز اور معبود بنا لیتے ہیں۔ اس سے پہلے ” ان کاد لیضلنا عن الھتنا “ بھی قرینہ ہے کہ مشرکین اپنی خواہش سے جسے چاہتے برکات دہندہ بنا لیتے۔ فالایۃ شاملۃ لمن عبد غیر اللہ تعالیٰ حسب ھواہ ولمن اطاع الھوی فی سائر المعاصی وھو الذی یقتضیہ کلام الحسن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ربط ِ آیات
اس رکوع کی پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر کر کے حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دی ۔ ان انبیائے کرام کو بڑے سر کش اور مغرور لوگوں سے واسطہ پڑا ۔ اللہ نے ان کے غرور کو توڑا اور ان کو تباہ و برباد کیا ۔ اللہ نے نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی فرمایا کہ آپ کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا ، پھر قوم عاد ، ثمود اور کنوئیں والوں نے اللہ کے نبیوں کے ساتھ زیادتی کی تو ان کو بھی ہلاک کیا گیا ۔ درمیان میں بہت سی دیگر قومیں بھی گزر ی ہیں جن کا تذکرہ نہ تو کتب سماویہ نے کیا ہے اور نہ ہی تاریخ نے انہیں محفوظ رکھا ہے ہر قوم کے لیے اللہ نے رسول بھیجے ،…
Read the full tafseer →اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ 0ۭ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَيْہِ وَكِيْلًا 43ۙ
هوى
الْهَوَى: ميل النفس إلى الشهوة . ويقال ذلک للنّفس المائلة إلى الشّهوة، وقیل : سمّي بذلک لأنّه يَهْوِي بصاحبه في الدّنيا إلى كلّ داهية، وفي الآخرة إلى الهَاوِيَةِ ، وَالْهُوِيُّ : سقوط من علو إلى سفل، وقوله عزّ وجلّ : فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] قيل : هو مثل قولهم : هَوَتْ أمّه أي : ثکلت . وقیل : معناه مقرّه النار، والْهَاوِيَةُ : هي النار، وقیل : وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] أي : خالية کقوله : وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] وقد عظّم اللہ تعالیٰ ذمّ اتّباع الهوى،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
ترکیب : ہارون بدل من اخاہ وزیرا مفعول ثان بجعلنا وقوم یجوزان یکون معطوفا علی دمرنا یا مفعول اذکر محذوف۔ علی ہذا القیاس عادا و ثمودا الخ،
تفسیر : جبکہ توحیدِ و نفی انداد و اثبات نبوت میں کلام ہوچکا اور منکرین کے شبہات رد کردیے گئے اور قیامت کا حال اور منکرین کا وبال بھی بیان ہوچکا تو مجملاً انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ان کے دشمنوں پر آخر کار کیا کیا بلائیں نازل ہوئیں کیونکہ آپ کی تسلی کے لیے پہلے فرمایا تھا وکذالک جعلنا لکل نبی عدوًا اور قرآن کا یہی طریقہ ہے کہ ایسے موقعوں پر قصص انبیاء بیان ہوتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ ان کے تذکرہ بار بار آتے ہیں۔ فقال ولقد اتینا موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
اَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـھَہٗ ھَوٰ ہُ ط اَفَاَنْتَ تَـکُوْنُ عَلَیْہِ وَکِیْلاً ۔ اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَکْثَرَھُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْیَعْقِلُوْنَ ط اِنْ ھُمْ اِلاَّ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ سَبِیْلاً ۔
(الفرقان : 43، 44)
(کیا آپ نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے، کیا آپ ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہیں ؟ کیا آپ گمان رکھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں، یہ تو بس چوپایوں کے مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے۔ )
قریش کی گمراہی کا ایک بہت بڑا سبب اتباعِ ہَوائے نفس ہے
گزشتہ آیت کریمہ میں قریش کا آنحضرت ﷺ پر ایمان نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کی مخالفت اور استہزاء کے باوجود رسول معظم ﷺ کی جدوجہد کے بڑھتے ہوئے اثرات۔
دور نبوت کے ابتدائی سالوں میں کفار کو یہ خوش فہمی تھی کہ ہم توحید و رسالت کی دعوت کو روکنے میں کامیاب ہوجائیں گے جس کے لیے انھوں نے سر دھڑ کی بازی لگا رکھی تھی جس کے لیے انھوں نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ یہاں کفار کی انہی کوششوں کا ذکر ہے جس سے حق و باطل کے درمیان ہونے والی کشمکش کا پتہ چلتا ہے۔ قرآن مجید نے آپ ﷺ کو آگاہ فرمایا کہ کافر اور مشرک چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں لیکن اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ نور ہدایت دنیا پر پھیل کر رہے گا۔ (الصف : 8۔ 9)
اس کے…
Read the full tafseer →یہ خواہشات کے پجاری ہیں :
43: اَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـھَہٗ ھَوٰہُ (اے پیغمبر (ﷺ) آپ نے اس شخص کی حالت دیکھی جس نے اپنا خدا اپنی خواہش نفسانی کو بنا رکھا ہے) یعنی جس نے کئی چیز کو چھوڑنے اور کرنے کیلئے خواہش کی اطاعت کی تو وہ اپنی خواہش کا پیرو ہے اور اس کو معبود بنانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو فرما رہے ہیں۔ اس شخص کو اپنی خواہش ہی معبود نظر آتی ہے آپ اس کو ہدایت کی طرف کس طرح دعوت دے سکتے ہیں۔ روایت میں ہے ایک آدمی اہل جاہلیت میں سے پتھر کو پوجتا تھا جب وہ کوئی خوبصورت پتھر دیکھتا تو پہلا چھوڑ کر دوسرا اٹھا لیتا اور اس کی پوجا شروع کردیتا۔
قول حسن (رح) : اس سے مراد ہر خواہش…
Read the full tafseer →43۔ ارایت من اتخذ الھہ ھواہ ۔ مشرکین میں سے جو شخص پتھر کی پوجا کرتے جب وہ اس پتھر کو دیکھتا تو وہ اس کو بہت اچھامعلوم ہوتا اور اسی طرح وہ دوسرا پتھر بھی لے لیتا اور اس کی پوجا کرتا۔ ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ کیا آپ اس شخص کو دیکھ رہے ہیں جس نیا للہ کی عبادت ترک کردیا ہے جو اس کا خالق ہے اور پتھروں کی طرف جھک گیا، ہے ان کی پوجا کرنے لگا ہے۔ افانت تکون علیہ وکیلا۔ کیا آپ ان کے محافظ ہیں یاکفیل کہ ان کی خواہش نفس سے روکیں اور غیر اللہ کی عبادت سے ان کو روکیں۔ اس طرح آپ نہیں، کلبی کا بیان ہے کہ آیت قتال میں یہ آیت منسوخ ہوگئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
38۔ 44:۔ سیرۃ ابن اسحاق اور مسند عبد بن حمید وغیرہ میں ایک روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن سب سے پہلے ایک حبشی غلام جنت میں جاوے گا کس لیے کہ پہلے زمانہ میں ایک نبی کو ان نبی کی قوم نے ایک کنویں میں ڈال کر اس کنویں کے منہ پر ایک پتھر کی سل ڈھانک دی تھی ‘ وہ حبشی غلام ان نبی پر ایمان لے آیا تھا ‘ اس لیے ہر روز لکڑیاں جنگل میں سے چن کر لاتا تھا اور ان لکڑیوں کو بیچ کر کچھ کھانے کی چیز خریدتا تھا اور قوم کے لوگوں سے چھپ کر اس کنویں پر آتا تھا اور اللہ تعالیٰ اس کو اتنی قوت دے دیتا کہ وہ اس بھاری پتھر کی سل کو کنویں کے منہ پر سے ہٹا کر ان نبی کو کھانا کھلاتا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیت 35 سے 40
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے، تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً حجر کے علاقے میں صالح (علیہ السلام) کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →53 اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا دینے والوں کا حال : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم نے اس شخص کے حال پر بھی کبھی غور کیا جس نے اپنی خواہش کو ہی اپنا معبود بنا رکھا ہو ؟ "۔ یعنی نفس کی خواہش نے جو چاہا وہی کیا۔ جائز و ناجائز اور حرام و حلال کی کوئی پرواہ نہ کی۔ اور وہ شتر بےمہار کی طرح آزادانہ اپنی خواہشات کے پیچھے ہی چلا۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ کفار قریش کو جب کوئی عمدہ اور چمکتا پتھر نظر آتا تو وہ اسی کا بت بنا کر پوجنے لگتے۔ اور جب اس سے دوسرا کوئی اچھا اور چمکیلا پتھر مل جاتا تو اس کو چھوڑ کر اس کو پوجنے لگتے۔ جس طرح آج کل کے بہت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
پچھلی قوموں کا عبرت ناک انجام
تشریح : ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ سیدنا ابراہیم و اسمعٰیل (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور توحید کی ابتدا کی۔ مکہ میں خانہ کعبہ سب سے پہلا اللہ کا گھر بنایا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ لوگ ان کی تعلیمات بھولتے گئے۔ تو انہوں نے اپنی مرضی سے کئی مذہب بنا لیے تو عرب کے قدیم باشندوں نے عرب سے نکل کر بابل ‘ شام اور مصر میں حکومتیں قائم کی تھیں۔ ان کو عرب بائدہ یعنی جونا پید ہوگئے کہا جاتا ہے عاد اور ثمود کی قومیں اسی دور سے تعلق رکھتے تھے۔ سب کے پاس نبی بھیجے گئے، آسمانی کتابیں بھیجی گئیں جیسا کہ ان کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا جا چکا ہے کہ سب کے پاس کفار مکہ کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور اگر ان کی یہی دلیل ہو کہ قرآن یکبارگی نازل کیوں نہ ہوا تو قبل ازیں موسیٰ (علیہ السلام) کو تو یکبارگی کتاب عطا ہوئی تھی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی معاون بنا دیا گیا اور دونوں کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا یعنی فرعون اور آل فرعون کی طرف جنہوں نے ہماری آیات اور عظمت کے دلائل کو ماننے اور سمجھنے سے انکار کر رکھا تھا مگر انہوں نے کب مان کردیا تھا حتی کہ معجزات تک کا انکار کیا اور اپنے کفر پر قائم رہے تاآنکہ قہر الہی نے انہیں برباد کر کے نام ونشان مٹا دیا یعنی غرق دریا ہوگئے اگرچہ فرعون نزول کتاب سے قبل ہلاک ہوا مگر بعد کے کفار نے بھی تسلیم تو…
Read the full tafseer →2 ۔ اشارہ ہے کہ ان مشرکین کے پاس تقلید اور اتباع ہویٰ کے سوا دوسری کوئی دلیل نہیں ہے۔ (شوانی) اور ” ہویٰ “ ہی سب سے بڑی گمراہی کا سبب بنی ہوئی ہے۔ دنیا میں اللہ کے سوا جتنے خدائوں کی بندگی کی جاتی ہے ان میں سے سب بڑا خدا خواہش نفس ہے جس کی پیروی کی جائے۔ (طبرانی) 3 ۔ یعنی جس کی قسمت میں ہی سعادت و ضلالت لکھی گئی ہو، اس کو اللہ کے سوا کوئی راہ پر نہیں لاسکتا۔
Read the full tafseer →(25:43) ارء یت من اتخذ الہہ ھواہ : ارأیت فعل یا فاعل۔ من اسم موصول اتخذ فعل متعدی بدو مفعول ۔ الہہ مضاف مضاف الیہ۔ مل کر اتخذ کا مفعول اول ھواہ مضاف مضاف الیہ مل کر اتخذ کا مفعول ثانی۔ اتخذ الھہ ھواہ یہ جملہ اسم موصول کا صلہ۔ اسم موصول بمعہ صلہ کے رأیت کا مفعول۔ کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا۔ یعنی جو خواہش نفسانی کی پیروی میں لگ گیا۔
وکیلا۔ نگہبان۔ ذمہ دار۔ افانت تکون علیہ وکیلا۔ کیا تو اس کا ذمہ دار ہے ہمزاہ استفہام انکاری کا ہے۔ مطلب یہ کہ جب تو اس پر نگران مقرر نہیں ہے تو پھر تو نے کیوں اس کی خاطر اپنی جان کو عذاب میں ڈال رکھا ہے۔ اسی مضمون میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 44 :
اخاہ ( اس کا بھائی) ‘(وزیر) بوجھ اٹھانے والا۔ مددگار) ‘ دمرنا (ہم نے تباہ کردیا) ‘ تدمیر ( اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ اعتدنا ( ہم نے تیار کردیا) ‘ قرون (قرن) قومیں۔ جماعتیں ‘ اصحب الرس (کنویں والے) ‘ تتبیر (اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ امطرت (برسایا گیا) ‘ مطرالسوئ (بدترین بارش) ‘ نشور (مرنے کے بعد زندہ ہونا) ‘ ھزو (مذاق۔ ہنسی۔ اڑانا) ‘ بعث (اس نے بھیجا) ‘ کا د (قریب ہے) ‘ صبرنا ( ہم جمے رہے) ‘ اضل (زیادہ گمراہ) ‘۔
تشریح آیت نمبر 35 تا 44 :
دنیا میں ہر ظالم و جابر اور قوت و طاقت رکھنے والے شخص کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کی خواہش کے غلام اور حکم کے بندے بن کر رہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
مشرکین کے بتوں کی کیفیت۔
(ف 1) شان نزول : مشرکین کا یہ طریقہ تھا کہ جب کبھی ان کو کوئی خوبصورت چیز لکڑی یا پتھر وغیرہ نظرآتی تو اس کو فورا اٹھالیتے اور اس کا بت بنا کرپوجتے، اور وہ پہلا پرانا بت چھوڑ دیتے تھے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اے محبوب تم نے ان لوگوں کی نادانی دیکھی کہ جس بت کی پوجا کو ان کا جی چاہتا ہے اس کی پوجا کرتے ہیں پس انہوں نے اپنی خواہش نفسانی کو اپنا خدا بنارکھا ہے پھر کیا تم ان کی نگہبانی کا ذمہ لے سکتے ہو پھر فرمایا اے محبوب کیا تم اپنے جی میں یہ خیال کرتے ہو کہ یہ لوگ قرآن سنتے اور اس کی نصیحت کو سمجھتے ہیں نہیں یہ لوگ تو اپنی نادانی کے سبب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
[23] یعنی قوم لوط کی بستی۔
[24] یعنی پتھروں کی بارش۔
[25] یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے قائل نہ تھے کہ انھیں آخرت کے عذاب وثواب کی پروا ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
ف 3: یہ لوگ باوجود بت پرستی کے اپنے کو راہ راست پر سمجھتے اور کہتے کہ معاذ اللہ محمد ﷺ (ﷺ) نے تو ہمیں گمراہ کر ڈالا ہوتا ۔ یہ ہمارا استقلال اور عزائیت ہے کہ اپنے معتقدات سے نہیں پھرے ، ارشاد ہے کہ عنقریب جب اللہ کا عذاب و امتحان اور رسوائیوں کے ساتھ آموجود ہوگا ۔ اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ راہ راست پر کون ہے اور کون گمراہ ؟
Read the full tafseer →(43) اے پیغمبر ! آپ نے اس شخص کی حالت کو بھی دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور اپنی نفسانی خواہش کا پوجنا اختیار کر رکھا ہے تو کیا آپ ایسے ہوا پرست کی نگرانی کرسکتے ہیں یا ایسے شخص کی کوئی ذمہ داری لے سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 7۔ مطلب یہ کہ آپ ان کی ہدایت نہ ہونے سے مغموم نہ ہوجایئے، کیونکہ آپ ان پر مسلط نہیں کہ خواہی نخواہی ان کو راہ پر لاویں، اور نہ ہدایت کی ان سے توقع کیجئے کیونکہ ان کو نہ سماع ہے نہ عقل ہے۔
8۔ کیونکہ وہ اس راہ دین کے مکلف نہیں تو ان کا نہ سمجھنا مذموم نہیں، اور یہ مکلف ہیں، پھر نہیں سمجھتے۔
Read the full tafseer →جو شخص آپ ہی اپنا معبود ہیاے پیغمبر اسلام ! ﷺ کیا آپ ﷺ اس کے ذمہ دار ہیں ؟
43۔ کون کس کی پرستش کرتا ہے ؟ مختلف نام رکھ لئے گئے کہ فلاں بتوں کو پوجتا ہے اور فلاں قبروں کو ‘ فلاں نے نبیوں اور رسولوں کو خدا بنایا اور فلاں نے سورج اور چاند کو اگر صحیح طور پر اس کا تجزیہ کیا جائے تو کوئی کسی کی پرستش نہیں کرتا مگر صرف اپنی ذات کی ‘ اپنی خواہش کی یہ بت ‘ قبریں ‘ نبی ‘ رسول ‘ چاند اور سورج تو محض نام کے طور پر ہیں دراصل ان ساری صورتوں میں وہ اپنی ہی خواہش کی پرستش کر رہا ہوتا ہے اور چونکہ خواہش نظر آنے والی چیز نہیں ‘ اس لئے وہ کسے ایسے شے کو درمیان میں رکھ لیتا ہے جس کی کوئی نہ کوئی صورت تصور کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
Following forbidden things - a type of idolatry
أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَـٰهَهُ هَوَاهُ (Tell me about the one who has taken his desire as his god - 25:43). The one who practises forbidden things which are against the tenets of Islam to satisfy his personal desires is described in this verse as the worshiper of his own lust. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ said that the selfish desires are like an idol which is worshipped (by the infidels) and then he recited this verse to prove his point. (Qurtubi)
Read the full tafseer →56 "...the person who makes his lust his god" is the one who becomes the slave of his lusts and desires. As he serves his lust like the one who warships ' his deity, he becomes as much guilty of .shirk as the one who worships an idol. According to a Tradition, related by Hadrat Abu Hurairah, the Holy Prophet said, "Of all the false gods being worshipped and served, instead of Allah, the worst in the sight of Allah is one's own lust." (Tabarani). For further explanation, see E.N. 50 of Al-Kahf, The man who keeps his desires under control, and uses his common sense to make decisions, can be…
Read the full tafseer →