Explained with ayahs 41–44
انبیاء کا مذاق
کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ 10 ) 6۔ الانعام :10) تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ کہنے لگے وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے ؟ عذاب کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 55
کفار کی یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ پہلی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ کو حقیر سمجھ رہے ہیں ور مذاق اڑا کر آپ کی قدر گرنا چاہتے ہیں، گویا ان کے نزدیک آنحضرت نے اپنی حیثیت سے بہت اونچا دعویٰ کردیا تھا۔ دوسری بات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ کے دلائل کی قوت اور آپ کی شخصیت کا لوہا مان رہے ہیں اور بےساختہ اعتراف کرتے ہیں کہ اگر ہم تعصب اور ہٹ دھرمی سے کام لے کر اپنے خداؤں کی بندگی پر جم نہ گئے ہوتے تو یہ شخص ہمارے قدم اکھاڑ چکا ہوتا۔ یہ متضاد باتیں خود بتارہی ہیں کہ اسلامی تحریک نے ان لوگوں کو کس قدر بوکھلا دیا تھا۔ کھسیانے ہو کر مذاق بھی اڑاتے تھے تو احساس کمتری بلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
خلاصہ تفسیر
اور قوم نوح کو بھی (ان کے زمانہ میں) ہم ہلاک کرچکے ہیں (جن کی ہلاکت اور سبب ہلاکت کا بیان یہ ہے کہ) جب انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو (طوفان سے) غرق کردیا اور ہم نے ان (کے واقعہ) کو لوگوں (کی عبرت) کے لئے نشان بنادیا (یہ تو دنیا میں سزا ہوئی) اور (آخرت میں) ہم نے (ان) ظالموں کے لئے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔ اور ہم نے عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور ان کے بیچ بیچ میں بہت سی امتوں کو ہلاک کیا اور ہم نے (امم مذکورہ میں سے) ہر ایک (کی ہدایت) کے واسطے عجیب عجیب (یعنی موثر اور بلیغ) مضامین بیان کئے اور (جب نہ مانا تو) ہم نے سب کو بالکل ہی برباد کردیا۔ اور یہ (کفار ملک شام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
آیت (42-41)
یعنی اللہ نے تو ان پر یہ فضل فرمایا کہ تمہارے اور قرآن کے ذریعہ سے ان پر دنیا اور آخرت کے حقائق واضح کئے لیکن انکی محرومی اور بدبختی کا یہ حال ہے کہ جب بھی تمہیں دیکھتے ہیں تمہارا مذاق اڑاتے اور طنز و تحقیر کے انداز میں کہتے ہیں کہ اچھا یہی ہیں جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ! ان حضرت نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا اگر ہم ان کی عبادت پر جمے نہ رہتے ! فرمایا کہ آج تو ان کو اپنی حماقت پر جمے رہنے پر بڑا ناز ہے لیکن کل کو جب یہ اپنی اس جہالت کے نتیجہ میں عذاب سے دوچار ہوں گے تب انہیں اندازہ ہوگا کہ ہمارے پیغمبر نے ان کو گمراہ نہیں کرنا چاہا تھا بلکہ اس نے ان کی…
Read the full tafseer →42-1یعنی ہم ہی اپنے آباؤ اجداد کی تقلید اور روایتی مذہب سے وابستگی کی وجہ سے غیر اللہ کی عبادت سے باز نہیں آئے ورنہ اس پیغمبر ﷺ نے تو ہمیں گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کا یہ قول نقل فرمایا کہ کس طرح وہ شرک پر جمے ہوئے ہیں کہ اس میں فخر کر رہے ہیں
42-2یعنی اس دنیا میں تو ان مشرکین اور غیر اللہ کے پجاریوں کو اہل توحید گمراہ نظر آتے ہیں لیکن جب یہ اللہ کی بارگاہ میں پہنچیں گے اور وہاں انھیں شرک کی وجہ سے عذاب الہی سے دوچار ہونا پڑے گا تو پتہ لگے گا کہ گمراہ کون تھا ؟ ایک اللہ کی عبادت کرنے والے یا در در پر اپنی جبینیں جھکانے والے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
15: آنحضرت ﷺ کو چونکہ اپنی امت پر بہت شفقت تھی، اس لیے آپ کی یہ خواہش رہتی تھی کہ جو لوگ کفر و شرک پر اڑے ہوئے ہیں وہ کسی طرح ایمان لے آئیں، اور جب وہ ایمان نہیں لاتے تھے تو آپ کو صدمہ ہوتا تھا۔ قرآن کریم نے جا بجا آپ کو تسلی دی ہے کہ آپ کا فریضہ حق بات کو پہنچانے کی حد تک محدود ہے۔ جن لوگوں نے اپنی خواہشات کو خدا بنا رکھا ہے، ان کی کوئی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ”
یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔
القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
4 یعنی بجائے عبرت حاصل کرنے کے ان کا مشغلہ تو یہ ہے کہ پیغمبر سے ٹھٹھا کیا کریں۔ چناچہ آپ ﷺ کو دیکھ کر استہزاءاً کہتے ہیں کہ کیا یہ بزرگ ہیں جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ؟ بھلا یہ حیثیت اور منصب رسالت ؟ کیا ساری خدائی میں سے یہ ہی اکیلے رسول بننے کے لیے رہ گئے تھے ؟ آخر کوئی بات تو ہو۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کی تقریر جادو کا اثر رکھتی ہے۔ قوت فصاحت اور زور تقریر سے رنگ تو ایسا جمایا تھا کہ بڑے بڑوں کے قدم پھسل گئے ہوتے۔ قریب تھا کہ اس کی باتیں ہم کو ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دیتیں۔ وہ تو ہم پکے ہی ایسے تھے کہ برابر جمے رہے ان کی کسی بات کا اثر قبول نہ کیا۔ ورنہ یہ ہم سب کو کبھی کا گمراہ کر…
Read the full tafseer →آیت 42 اِنْ کَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِہَتِنَا لَوْلَآ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْہَا ط ”
اگر ہم نے اپنے ان معبودوں کے ساتھ وفاداری کا رشتہ استوار نہ کر رکھا ہوتا تو یہ شخص ضرور ہمیں ان سے برگشتہ کر کے راستے سے بھٹکا دیتا۔
وَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا ”
انہیں بہت جلد یہ حقیقت معلوم ہوجائے گی کہ اصل گمراہ کون تھا ؟ جنہیں یہ گمراہی کا الزام دیتے ہیں وہ یا یہ خود !
Read the full tafseer →54 البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جو کلام یہ پیش کرتا ہے اس میں جادو کا اثر ہوتا ہے۔ جو بڑے بڑوں کے قدم پھسلا سکتا ہے اور سننے والوں کو اپنا گرویدہ بنا سکتا ہے۔ اور اگر ہم لوگ پوری مستقل مزاجی اور ثابت قدمی سے اپنے باپ دادا کے دین پر جمے نہ رہتے تو اس نے تو کب سے ہمیں اپنے معبودوں سے برگشتہ کردیا ہوتا۔
اب دیکھئے اس نبی کی دعوت سے کچھ اس طرح بوکھلائے ہوئے تھے کہ خود ہی اپنی باتوں کی تردید بھی کرتے جاتے تھے۔ ایک طرف تو وہ یہ استہزاء کرتے تھے کہ آخر اس نبی میں کیا خوبی ہے کہ اللہ نے اسے ہی اپنی رسالت اور نبوت کے لئے منتخب کیا ہے ؟ پھر ساتھ ہی یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ التبہ اس نبی میں یہ خوبی ضرور ہے کہ…
Read the full tafseer →48۔ یعنی وہ تو کہوخیر ہوگئی کہ ہم اپنی استقامت سے اپنے طریق قدیم پر قائم رہے، ورنہ اس شخص میں قوت تسخیر وجادوبیانی اس غضب کی ہے کہ اس نے ہمیں اکھاڑ ہی دیا ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیت نمبر 35 تا 44
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر (یعنی) معین بنادیا اور ہم نے دونوں کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری دلیلوں کو جھٹلایا ہے یعنی قبطیوں کی طرف جو کہ فرعون اور اس کی قوم ہے چناچہ (یہ دونوں) پیغام لیکر ان کے پاس گئے مگر ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو تہس نہس کردیا (یعنی) پوری طرح ہلاک کردیا اور قوم نوح کا تذکرہ کیجئے جبکہ انہوں نے (تمام) رسولوں کی تکذیب کی نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرکے، نوح (علیہ السلام) کے ان کے درمیان زمانہ دراز تک قیام کرنے کی وجہ سے، گویا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کئی…
Read the full tafseer →ان کاد لیضلنا عن الہتنا قریب تھا کہ یہ ہم کو ہمارے معبودوں کی طرف سے بہکا لیتا ‘ یعنی ہمارے
معبودوں کی پرستش سے ہم کو پھیر دیتا۔ مقصد یہ کہ اس طرز سے توحید کی طرف بلاتا اور ایسی دلیلیں پیش کرتا ہے جن کی وجہ سے دماغوں میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ جو کچھ یہ پیش کر رہا ہے وہ اس کے معجزات ہیں۔
اِنْ (اِنَّکا) مخفف ہے۔ آیت میں دلیل ہے اس بات کی کہ رسول اللہ دعوت اسلام میں انتہائی کوشاں تھے اور بکثرت معجزات بھی آپ ﷺ نے پیش کئے تھے ‘ اتنے اور اس ڈھنگ سے کہ قریب تھا کہ وہ ضدی کافر بھی اپنے ٹیڑھے راستے کو چھوڑ کر اسلام کے سیدھے راستے پر آجاتے ‘ لیکن ان کی آڑ اور بت پرستی پر ہٹ نے ان کو اسلام سے محروم…
Read the full tafseer →(42) کہ اس نے ہمیں ہمارے معبودوں کی عبادت سے ہٹا ہی دیا ہوتا اگر ہم ان کی عبادت پر مضبوطی کے ساتھ قائم نہ رہتے۔
اللہ تعالیٰ بطور وعید کے فرماتا ہے کہ ان کو جلدی ہی معلوم ہوجائے گا جب عذاب کا معائنہ کریں گے کہ کون شخص دین وحجت کے اعتبار سے گمراہ تھا۔
Read the full tafseer →اِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا۔۔ : ”ان کاد“ اصل میں ”إِنَّہُ کَادَ“ تھا، یعنی بیشک وہ قریب تھا۔ یعنی یہ تو یقیناً قریب تھا کہ ہمیں ہمارے معبودوں کی عبادت ہی سے نہیں خود ان معبودوں ہی سے گمراہ کردیتا، یہ ہماری بہادری ہے کہ ہم ان کی عبادت پر ڈٹے رہے ہیں۔
3 اس سے کفار کا اپنے شرک پر شدت کے ساتھ ڈٹے رہنا ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اسے چھوڑنے کو گمراہ ہونا قرار دے رہے ہیں اور یہ بھی کہ ان کا یہ کام کسی دلیل کی بنا پر نہ تھا، بلکہ محض آبا و اجداد کی تقلید اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے تھا۔
3 اس آیت سے ان کا اعتراف ثابت ہو رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حق کی دعوت پیش کرنے، اس کے لیے دلائل و معجزات پیش کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
( اریت من۔۔۔۔۔۔ )
ارء یت من اتخذ الھہٗ ھوہٗ اپنے نبی کو تعجب کرنے کا حکم دیا کہ وہ اپنے دل سے شرک کو چھپائے ہوئے ہیں، یہ اقرار کرنے کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق اور رازق ہے وہ شرک پر اصرار کرتے ہیں پھر ایسے پتھر کا قصد کرتے ہیں جس کی دلیل کے بغیر عبادت کرتے ہیں۔
کلبی اور دوسرے علماء نے کہا : عربوں میں سے کوئی جب کسی شی سے محبت کرتا تو اللہ تعالیٰ کی ذات کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتا، جب اس سے زیادہ خوبصورت چیز کو دیکھتا تو پہلی چیز کو چھوڑ دیتا اور زیادہ خوبصورت چیز کی عبادت کرنے لگتا۔
اس آیت کا یہ معنی بنتا ہے ارء یت من اتخذ الھہٗ بھواہ حرف جار کو حذف کردیا گیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی ” وکلا ضربنا لہ الامثال وکلا تبرنا تتبیرا “ سے مراد ہے کہ ہر ایک کے لیے اللہ تعالیٰ نے حجت تمام کی ہر ایک کے لیے دلائل کو واضح کیا پر ان سے انتقام لیا آیت ” ولقد اتوا علی القریۃ التی امطرت مطر السوء “ سے مراد ہے لوط (علیہ السلام) کی بستی آیت ” بل کانوا لایرجون نشورا “ (یعنی وہ لوگ نہ امید رکھتے تھے نہ اٹھنے کی اور نہ حساب کی۔
2۔ عبدالرزاق وابن اجریر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وکلا تبرنا تتبیرا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو عذاب کے ذریعے ہلاک کردیا۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی…
Read the full tafseer →اِنْ [ یقینا ] كَادَ [ قریب تھا کہ ] لَيُضِلُّنَا [ وہ ضرور بھٹکا دے ہم کو ] عَنْ اٰلِهَتِنَا [ ہمارے معبودوں سے ] لَوْلَآ اَنْ [ اگر نہ ہوتا کہ ] صَبَرْنَا [ ہم ڈٹے رہے ] عَلَيْهَا ۭ [ ان پر ] وَسَوْفَ [ اور عنقریب ] يَعْلَمُوْنَ [ وہ لوگ جان لیں گے ] حِيْنَ [ جس وقت ] يَرَوْنَ [ وہ دیکھیں گے ] الْعَذَابَ [ عذاب کو ] مَنْ [ (کہ) کون ] اَضَلُّ [ زیادہ جھٹکنے والا ہے ] سَبِيْلًا [ راستے کے لحاظ سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
اس کے بعد قریش مکہ کی سر کشی بیان فرمائی اور وہ یہ کہ یہ لوگ صرف آپ کی تکذیب ہی نہیں کرتے آپ کا مذاق بھی بناتے ہیں اور مسخرہ پن کرتے ہیں اور یوں کہتے ہیں (اَھٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوْلًا) (کیا یہی شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے) یہ ایسا ہی ہے جیسے قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے بارے میں کہا تھا (ءَاُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ بَیْنِنَا) (کیا ہمارے درمیان سے صرف اسی شخص پر ذکر نازل کیا گیا) مکذبین اور معاندین کا یہ عجیب سوال رہا کہ فلاں شخص ہی کو نبی کیوں بنایا گیا ؟ دوسرے شخص کو عہدہ کیوں نہیں دیا گیا یہ جہالت اور حماقت کا سوال ہے جس کسی بھی شخص کو رسالت کی ذمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
تشنیع کفار براستہزاء سید الابرار
قال اللہ تعالیٰ واذا اروک ان یتخذونک الا ھزوا .... الیٰ .... بل ھم اضل سبیلا۔
(ربط) اوپر سے سلسلہ کلام کفار کے اعتراضات اور ان کے جوابات کا چلا آرہا تھا جس سے مقصود کفار کی تشنیع اور ملامت تھی اب آئندہ آیات میں پھر کفار کے ذمائم اور شنائع قولیہ اور فعلیہ کو بیان کرتے ہیں کہ یہ منکرین نبوت آپ ﷺ کو غایت درجہ حقیر سمجھتے ہیں اور آپ کے ساتھ تمسخر کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنے دین پر مضبوطی کے ساتھ قائم نہ رہتے تو یہ محض ہم کو کبھی کا گمراہ کرچکا ہوتا حق تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ عنقریب یعنی مرنے کے بعد معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہ تھا۔
اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
29:۔ ” و اذا راوک الخ “ یہ شکوی ہے مشرکین جبحضور ﷺ کو دیکھتے تو بطور استہزاء کہتے کیا یہی ہے جسے اللہ نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اگر ہم مستقل مزاجی سے اپنے معبودوں کی عبادت و پکار پر جمے نہ رہتے تو اس نے تو ہمیں گمراہ کردیا تھا اور ہمیں اپنے معبودوں سے ہٹا دیا تھا شکر ہے کہ ہم پکے رہے یعنون انہ کاد یفتنھم عن عبادۃ الاصنام لو لا ان صبروا و تجلدو واستمروا علیھا (ابن کثیر ج 3 ص 319) ۔ وسوف یعلمون الخ “ تخویف اخروی ہے۔ مشرکین دنیا میں اپنے کو ہدایت پر سمجھتے ہیں اور توحید خالص کو گمراہی کا نام دیتے ہیں لیکن جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو انہیں اچھی طرح معلوم ہوجائیگا گمراہ کون ہے اور ہدایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ربط ِ آیات
اس رکوع کی پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر کر کے حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دی ۔ ان انبیائے کرام کو بڑے سر کش اور مغرور لوگوں سے واسطہ پڑا ۔ اللہ نے ان کے غرور کو توڑا اور ان کو تباہ و برباد کیا ۔ اللہ نے نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی فرمایا کہ آپ کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا ، پھر قوم عاد ، ثمود اور کنوئیں والوں نے اللہ کے نبیوں کے ساتھ زیادتی کی تو ان کو بھی ہلاک کیا گیا ۔ درمیان میں بہت سی دیگر قومیں بھی گزر ی ہیں جن کا تذکرہ نہ تو کتب سماویہ نے کیا ہے اور نہ ہی تاریخ نے انہیں محفوظ رکھا ہے ہر قوم کے لیے اللہ نے رسول بھیجے ،…
Read the full tafseer →اِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ اٰلِہَتِنَا لَوْلَآ اَنْ صَبَرْنَا عَلَيْہَا 0ۭ وَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ حِيْنَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِيْلًا 42
كَادَ
ووُضِعَ «كَادَ» لمقاربة الفعل، يقال : كَادَ يفعل : إذا لم يكن قد فعل، وإذا کان معه حرف نفي يكون لما قد وقع، ويكون قریبا من أن لا يكون . نحو قوله تعالی: لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] ، وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] ، تَكادُ السَّماواتُ
[ مریم/ 90] ، يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] ، يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] ، إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] ولا فرق بين أن يكون حرف النّفي متقدما عليه أو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
ترکیب : ہارون بدل من اخاہ وزیرا مفعول ثان بجعلنا وقوم یجوزان یکون معطوفا علی دمرنا یا مفعول اذکر محذوف۔ علی ہذا القیاس عادا و ثمودا الخ،
تفسیر : جبکہ توحیدِ و نفی انداد و اثبات نبوت میں کلام ہوچکا اور منکرین کے شبہات رد کردیے گئے اور قیامت کا حال اور منکرین کا وبال بھی بیان ہوچکا تو مجملاً انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ان کے دشمنوں پر آخر کار کیا کیا بلائیں نازل ہوئیں کیونکہ آپ کی تسلی کے لیے پہلے فرمایا تھا وکذالک جعلنا لکل نبی عدوًا اور قرآن کا یہی طریقہ ہے کہ ایسے موقعوں پر قصص انبیاء بیان ہوتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ ان کے تذکرہ بار بار آتے ہیں۔ فقال ولقد اتینا موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
وَاِذَارَاَوْکَ اِنْ یَّـتَّـخِذُوْنَـکَ اِلاَّ ھُزُوًا ط اَھٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوْلاً ۔ اِنْ کَادَ لَـیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِھَتِنَا لَوْلَآ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْھَا ط وَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلاً ۔ (الفرقان : 41، 42)
(اور یہ لوگ جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کو مذاق بنا لیتے ہیں، (کہتے ہیں) کیا یہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس شخص نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا، اگر ہم ان پر جم نہ گئے ہوتے، اور وہ وقت دور نہیں جب یہ عذاب دیکھیں گے تو جان لیں گے کہ سب سے زیادہ گمراہ کون ہے۔ )
جب کوئی قوم اپنی گمراہی میں تباہی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کی مخالفت اور استہزاء کے باوجود رسول معظم ﷺ کی جدوجہد کے بڑھتے ہوئے اثرات۔
دور نبوت کے ابتدائی سالوں میں کفار کو یہ خوش فہمی تھی کہ ہم توحید و رسالت کی دعوت کو روکنے میں کامیاب ہوجائیں گے جس کے لیے انھوں نے سر دھڑ کی بازی لگا رکھی تھی جس کے لیے انھوں نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ یہاں کفار کی انہی کوششوں کا ذکر ہے جس سے حق و باطل کے درمیان ہونے والی کشمکش کا پتہ چلتا ہے۔ قرآن مجید نے آپ ﷺ کو آگاہ فرمایا کہ کافر اور مشرک چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں لیکن اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ نور ہدایت دنیا پر پھیل کر رہے گا۔ (الصف : 8۔ 9)
اس کے…
Read the full tafseer →42: اِنْ کَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِھَتِنَا لَوْلَآ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْھَا (قریب تھا کہ ہم کو ہمارے معبودوں کی طرف سے بہکا لیتا۔ اگر ہم ان معبودوں پر جمے نہ رہتے ) ۔
نحو : ان مخففۃ من المثقلۃ ہے اور لامؔ اس کی دلیل ہے۔ قریش کو دعوت دینے میں آپ ﷺ کیلئے کس قدر مشکلات تھیں اور ان کے سامنے معجزات کے پیش کرنے میں کتنا بڑا مجاہدہ تھا۔ کہ وہ اپنے خیال کے مطابق اپنا دین چھوڑنے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ اگر وہ اس پر اصرار نہ کرتے اور اپنے معبودوں کی عبادت کو تھامے نہ رکھتے۔
وَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ (وہ عنقریب جان لیں گے جب کہ وہ عذاب کو ملاحظہ کریں گے) اس میں کفار مکہ کیلئے وعید…
Read the full tafseer →42۔ ان کان لیضلنا ، قریب تھا کہ وہ ہمارے معبودوں کی طرف سے بہکا لیتا۔ عن الھتنا لولا ان صبرنا علیھا، اگر ہم اس پر صبر اختیار نہ کرتے توہ میں یہ بہکا ہی لیتے۔ وسوف یعلمون حین یرون العذاب من اضل سبیلا۔ ان کو یوں ہی نہیں چھوڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
38۔ 44:۔ سیرۃ ابن اسحاق اور مسند عبد بن حمید وغیرہ میں ایک روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن سب سے پہلے ایک حبشی غلام جنت میں جاوے گا کس لیے کہ پہلے زمانہ میں ایک نبی کو ان نبی کی قوم نے ایک کنویں میں ڈال کر اس کنویں کے منہ پر ایک پتھر کی سل ڈھانک دی تھی ‘ وہ حبشی غلام ان نبی پر ایمان لے آیا تھا ‘ اس لیے ہر روز لکڑیاں جنگل میں سے چن کر لاتا تھا اور ان لکڑیوں کو بیچ کر کچھ کھانے کی چیز خریدتا تھا اور قوم کے لوگوں سے چھپ کر اس کنویں پر آتا تھا اور اللہ تعالیٰ اس کو اتنی قوت دے دیتا کہ وہ اس بھاری پتھر کی سل کو کنویں کے منہ پر سے ہٹا کر ان نبی کو کھانا کھلاتا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیت 35 سے 40
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے، تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً حجر کے علاقے میں صالح (علیہ السلام) کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →51 منکرین کے اضطراب و بوکھلاہٹ کا نمونہ و مظہر : سو اس سے منکرین حق کے انکار اور ان کی بوکھلاہٹ و اضطراب کا ایک مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے۔ سو اس سے ان لوگوں کی بوکھلاہٹ اور انکے نفسیاتی اضطراب کی کیفیت ذرا ملاحظہ ہو۔ ادھر مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا یہی صاحب ہیں جن کو خدا نے رسول بنا کر بھیجنا تھا اور ادھر آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی تاثیر کلام کے احساس و اعتراف کا یہ عالم ہے کہ خود کہتے ہیں کہ اگر ہم پوری بےشرمی اور ہٹ دھرمی سے اپنے ان ٹھاکروں اور معبودان باطلہ پر جمے اور ڈٹے نہ رہتے تو یہ شخص محض اپنی قوت تاثیر سے ہمیں اس سے بھٹکا دیتا۔ سو حق و صداقت کے انکار اور اس کی راہ میں ہٹ دھرمی برتنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
پچھلی قوموں کا عبرت ناک انجام
تشریح : ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ سیدنا ابراہیم و اسمعٰیل (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور توحید کی ابتدا کی۔ مکہ میں خانہ کعبہ سب سے پہلا اللہ کا گھر بنایا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ لوگ ان کی تعلیمات بھولتے گئے۔ تو انہوں نے اپنی مرضی سے کئی مذہب بنا لیے تو عرب کے قدیم باشندوں نے عرب سے نکل کر بابل ‘ شام اور مصر میں حکومتیں قائم کی تھیں۔ ان کو عرب بائدہ یعنی جونا پید ہوگئے کہا جاتا ہے عاد اور ثمود کی قومیں اسی دور سے تعلق رکھتے تھے۔ سب کے پاس نبی بھیجے گئے، آسمانی کتابیں بھیجی گئیں جیسا کہ ان کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا جا چکا ہے کہ سب کے پاس کفار مکہ کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور اگر ان کی یہی دلیل ہو کہ قرآن یکبارگی نازل کیوں نہ ہوا تو قبل ازیں موسیٰ (علیہ السلام) کو تو یکبارگی کتاب عطا ہوئی تھی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی معاون بنا دیا گیا اور دونوں کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا یعنی فرعون اور آل فرعون کی طرف جنہوں نے ہماری آیات اور عظمت کے دلائل کو ماننے اور سمجھنے سے انکار کر رکھا تھا مگر انہوں نے کب مان کردیا تھا حتی کہ معجزات تک کا انکار کیا اور اپنے کفر پر قائم رہے تاآنکہ قہر الہی نے انہیں برباد کر کے نام ونشان مٹا دیا یعنی غرق دریا ہوگئے اگرچہ فرعون نزول کتاب سے قبل ہلاک ہوا مگر بعد کے کفار نے بھی تسلیم تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
“ 12 ۔ یعنی ہمیں نے تعصب اور ہٹ دھرمی سے کام لیا ورنہ اس نے تو ہمیں اس طرح لاجواب کردیا تھا کہ بت پرستی سے ہمارے قدم ڈگمگا گئے تھے۔ 1 ۔ یہ یا وہ لوگ جنہوں نے پیغمبر ﷺ کی پیروی اختیار کی ؟ اس میں ان کے قول کی تردید کی طرف اشارہ ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(25:42) ان ۔ نون تقیلہ سے مخففہ ہے۔ اور لیضلنا میں لام فارقہ ہے۔ جو ان مخففہ اور ان نافیہ میں فرق نمایاں کرنے کے لئے آیا ہے۔ ان کاد لیضلنا عن الھتنا قریب تھا کہ ہمیں یہ بہکا دیتا اپنے خداؤں سے۔
علیھا : ای علی عبادتھا۔ ان خداؤں کی عبادت سے ھا ضمیر کا مرجع الھتنا ہے۔
من اضل سبیلا : من استفہامیہ مبتدای۔ اضل خبر (بصیغہ تفضیل ) سبیلا تمیر۔ یہ جملہ یعلمون سے موضع مفعول میں ہے۔ اور یہ جواب ہے۔ مخالفین رسول ﷺ کا۔ کہ کاد لیضلنا۔ یعنی جب وہ عذاب آخرت دیکھیں گے تب ان کو علم ہوجائے گا کہ گمراہی میں وہ خود تھے یا خدا کا رسول جو درحقیقت ان کی راہ ہدایت کی طرف بلا رہا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 44 :
اخاہ ( اس کا بھائی) ‘(وزیر) بوجھ اٹھانے والا۔ مددگار) ‘ دمرنا (ہم نے تباہ کردیا) ‘ تدمیر ( اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ اعتدنا ( ہم نے تیار کردیا) ‘ قرون (قرن) قومیں۔ جماعتیں ‘ اصحب الرس (کنویں والے) ‘ تتبیر (اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ امطرت (برسایا گیا) ‘ مطرالسوئ (بدترین بارش) ‘ نشور (مرنے کے بعد زندہ ہونا) ‘ ھزو (مذاق۔ ہنسی۔ اڑانا) ‘ بعث (اس نے بھیجا) ‘ کا د (قریب ہے) ‘ صبرنا ( ہم جمے رہے) ‘ اضل (زیادہ گمراہ) ‘۔
تشریح آیت نمبر 35 تا 44 :
دنیا میں ہر ظالم و جابر اور قوت و طاقت رکھنے والے شخص کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کی خواہش کے غلام اور حکم کے بندے بن کر رہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
(ف 1) ارشاد ہوتا ہے یہ لوگ کچھ اس لیے اللہ کے رسول کو نہیں جھٹلاتے کہ قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں ان لوگوں کی نظر سے نہیں گزری بلکہ یہ لوگ تو اس لیے اللہ کے رسول کو مسخراپن میں اڑاتے ہیں کہ ان لوگوں کو ایک دن اللہ کے روبرو کھڑے ہونے کا جزاوسزا کا یقین نہیں ہے پھر فرمایا کہ کافر نبی ﷺ کے ساتھ تمسخر کیا کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اگر ہم اپنے دین پر قائم نہ رہتے تو انہوں نے ہمیں کبھی کا گمراہ کردیا ہوتا، اسی واسطے ان لوگوں نے بت پرستی کے وبال کو دل سے بھلا رکھا ہے عنقریب بوقت عذاب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کے رسول جو طریقہ ان کو بتلاتے تھے وہ اچھا تھا یابت پرستی کا طریقہ اچھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
[23] یعنی قوم لوط کی بستی۔
[24] یعنی پتھروں کی بارش۔
[25] یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے قائل نہ تھے کہ انھیں آخرت کے عذاب وثواب کی پروا ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
ف 3: یہ لوگ باوجود بت پرستی کے اپنے کو راہ راست پر سمجھتے اور کہتے کہ معاذ اللہ محمد ﷺ (ﷺ) نے تو ہمیں گمراہ کر ڈالا ہوتا ۔ یہ ہمارا استقلال اور عزائیت ہے کہ اپنے معتقدات سے نہیں پھرے ، ارشاد ہے کہ عنقریب جب اللہ کا عذاب و امتحان اور رسوائیوں کے ساتھ آموجود ہوگا ۔ اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ راہ راست پر کون ہے اور کون گمراہ ؟
Read the full tafseer →(42) اگر ہم لوگ سختی اور مضبوطی کے ساتھ اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے نہ رہتے تو اس شخص نے تو ہم کو ان معبودوں سے منحرف اور برگشتہ ہی کردیا ہوتا اور عنقریب ان کافروں کو جس وقت یہ عذاب کا معائنہ کریں گے تو ان کو یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ سیدھی راہ سے منحرف اور بھٹکا ہوا کون تھا یعنی استہزاء کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص ایسا چرب زبان ہے اگر ہم مضبوط نہ ہوتے تو اس شخص نے تو ہم کو ہمارے معبودوں سے باتیں بنا کر بچلا ہی دیا ہوتا وہ تو یوں کہو ہم اپنے عقیدے پر جمے رہے اور ا س کی باتوں میں نہیں آئے ورنہ یہ تو ہم کو گمراہی کردیتا۔
حضرت حق تعالیٰ نے جواب دیا کہ یہ بہت جلد جب عذاب الٰہی دیکھیں گے…
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی ہم تو ہدایت پر ہیں، اور یہ ہم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
Read the full tafseer →یہ اچھا نبی ہے جو ہم کو ہمارے معبودوں سے برگشتہ کردینا چاہتا ہے ؟
42۔ اس نبی ورسول نے تو ہمیں تعلیم دی کہ نہ گھر کا چھوڑا نہ گھاٹ کا اگر ہم اپنے حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں پر جمے نہ رہتے تو اس نبی ورسول نے تو ہم کو کب کا برگشتہ کردیا ہوتا ۔ اگر ہم تعصب اور ہٹ دھرمی سے کام نہ لیتے تو اس شخص کا زور بیان اور طرز استدلال تو آج تک بہا کر ہمیں ساتھ لے گیا ہوتا اور اب تک ہم اپنے معبودوں سے دور چلے گئے ہوتے لیکن ہم تو بڑی مشکل سے ڈٹے رہے اس لئے اس کی زد سے بچے رہے اس طرح وہ گویا اپنے کم درجہ کے لوگوں کو تلقین کر رہے ہیں کہ اس شخص کی باتیں تو بہت مؤثر ہیں جو دل میں جا لگتی ہیں اور دماغ کو فورا پکڑ لیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
Commentary
In the above verses it is mentioned that it had been the common practice of the people through the ages to rebuff the prophets and the message they had brought. In order to give weight to this assertion a few of the well known prophets are mentioned who were rejected by their people and then they were subjected to Allah's wrath and were annihilated completely. By drawing a parallel with the past generations it is elucidated that the pagans of Makkah would not listen to any reason as they were no better than the animals or even worse than that.
It is stated about the people of…
Read the full tafseer →55 Obviously there is a contradiction between the question posed by the disbelievers and the assertion made by them about their deities. The question was meant to bring the Holy Prophet into contempt, as if to say, "You are making a claim that is far above your low position." On the other hand, their assertion shows that ,they indirectly admitted the force of the arguments and the high character of the Holy Prophet and were even afraid of the effectiveness and success of his Message, because, according to them, it was going to turn them away from their false gods.
Read the full tafseer →