Al-Furqaan 25:41

Al-Furqaan · from ayah 41

25:41

وَاِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا ؕ— اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا ۟وَاِذَا رَاَوۡكَ اِنۡ يَّتَّخِذُوۡنَكَ اِلَّا هُزُوًا ؕ اَهٰذَا الَّذِىۡ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوۡلًا

اور یہ لوگ جب تم کو دیکھتے ہیں تو تمہاری ہنسی اُڑاتے ہیں۔ کہ کیا یہی شخص ہے جس کو خدا نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when they see you, [O Muhammad], they take you not except in ridicule, [saying], "Is this the one whom Allah has sent as a messenger?

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 4 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:41

یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) "کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ لوگ جب تم کو دیکھتے ہیں تو تمہاری ہنسی اُڑاتے ہیں۔ کہ کیا یہی شخص ہے جس کو خدا نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تمہیں جب کبھی دیکھتے ہیں تو تم سے مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ کہ کیا یہی وه شخص ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) جب یہ لوگ تمہیں دیکھتے ہیں تو ان کا کوئی کام اس کے سوا نہیں ہوتا کہ یہ تمہارا مذاق بناتے ہیں کہ : کیا یہی وہ صاحب ہیں جنہیں اللہ نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں نہیں ٹھہراتے مگر ٹھٹھا کیا یہ ہیں جن کو اللہ نے رسول بناکر بھیجا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اے حبیبِ مکرّم!) جب (بھی) وہ آپ کو دیکھتے ہیں آپ کا مذاق اڑانے کے سوا کچھ نہیں کرتے (اور کہتے ہیں:) کیا یہی وہ (شخص) ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب وہ تجھے دیکھتے ہیں تو تجھے نہیں بناتے مگر مذاق، کیا یہی ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے مذاق سے سوا انھیں کچھ سوجھتا ہی نہیں (کہتے ہیں) کیا یہی وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب بھی یہ تمہیں دیکھتے ہیں بس تمہیں مذاق بنا لیتے ہیں۔ اچھا یہی ہیں جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں اے پیغمبر تو ان کا اس کے سوا کوئی کام نہیں ہوتا کہ آپ کا مذاق اڑانے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا یہی ہیں وہ صاحب جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کو جب یہ دیکھ لیتے ہیں تو بس آپ کے حق میں تمسخر ہی کرنے لگتے ہیں کیا یہی وہ (حضرت) ہیں جنہیں خدا نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ لوگ جب بھی آپ ﷺ کو دیکھتے ہیں تو آپ ﷺ کا مذاق بنا لیتے ہیں کیا یہ ہیں جنہیں اللہ نے بھیجا ہے رسول بنا کر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب یہ لوگ تمہیں دیکھتے ہیں تو سوائے ٹھٹھہ مذاق کرنے کے انہیں اور کوئی کام نہیں (کہتے ہیں) کیا یہی ہے جسے اللہ نے پیغام دے کر بھیجا ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

When these people see you, they scoff at you, (saying), "Is this the man whom Allah has sent as His Messenger?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When they see you, they take you only as a laughing stock, (saying) :Is this the man whom Allah has sent as a messenger?

— Muhammad Taqi Usmani

When they see you, they take you only as a laughing stock, (saying) :Is this the man whom Allah has sent as a messenger?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when they see you, they treat you only in mockery (saying): "Is this the one whom Allah has sent as a Messenger"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when they see thee (O Muhammad) they treat thee only as a jest (saying): Is this he whom Allah sendeth as a messenger?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when they see you, [O Muhammad], they take you not except in ridicule, [saying], "Is this the one whom Allah has sent as a messenger?

— Saheeh International

(Muhammad), when they see you, they will only mock you and say, "Has God really sent him as a Messengers?

— Muhammad Sarwar

And when they see you, they do not take you for aught but a mockery: Is this he whom Allah has raised to be an apostle?

— Muhammad Habib Shakir

And when they behold thee, they hold thee up for mockery: is this the one whom Allah hath sent as an apostle

— Abdul Majid Daryabadi

When they see thee, they treat thee no otherwise than in mockery: "Is this the one whom Allah has sent as a messenger?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–44

انبیاء کا مذاق کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ 10 ؀) 6۔ الانعام :10) تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ کہنے لگے وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے ؟ عذاب کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 40–41

سورة الْفُرْقَان 53 یعنی قوم لوط کی بستی۔ بدترین بارش سے مراد پتھروں کی بارش ہے جس کا ذکر کئی جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ اہل حجاز کے قافلے فلسطین و شام جاتے ہوئے اس علاقے سے گزرتے تھے اور نہ صرف تباہی کے آثار دیکھتے تھے بلکہ آس پاس کے باشندوں سے قوم لوط کی عبرت ناک داستانیں بھی سنتے رہتے تھے۔ سورة الْفُرْقَان 54 یعنی چونکہ یہ آخرت کے قائل نہیں ہیں اس لیے ان آثار قدیمہ کا مشاہدہ انہوں نے محض ایک تماشائی کی حیثیت سے کیا، ان سے کوئی عبرت حاصل نہ کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آخرت کے قائل کی نگاہ اور اس کے منکر کی نگاہ میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایک تماشا دیکھتا ہے، یا زیادہ سے زیادہ یہ کہ تاریخ مرتب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–42

خلاصہ تفسیر اور قوم نوح کو بھی (ان کے زمانہ میں) ہم ہلاک کرچکے ہیں (جن کی ہلاکت اور سبب ہلاکت کا بیان یہ ہے کہ) جب انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو (طوفان سے) غرق کردیا اور ہم نے ان (کے واقعہ) کو لوگوں (کی عبرت) کے لئے نشان بنادیا (یہ تو دنیا میں سزا ہوئی) اور (آخرت میں) ہم نے (ان) ظالموں کے لئے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔ اور ہم نے عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور ان کے بیچ بیچ میں بہت سی امتوں کو ہلاک کیا اور ہم نے (امم مذکورہ میں سے) ہر ایک (کی ہدایت) کے واسطے عجیب عجیب (یعنی موثر اور بلیغ) مضامین بیان کئے اور (جب نہ مانا تو) ہم نے سب کو بالکل ہی برباد کردیا۔ اور یہ (کفار ملک شام…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 41–42

آیت (42-41) یعنی اللہ نے تو ان پر یہ فضل فرمایا کہ تمہارے اور قرآن کے ذریعہ سے ان پر دنیا اور آخرت کے حقائق واضح کئے لیکن انکی محرومی اور بدبختی کا یہ حال ہے کہ جب بھی تمہیں دیکھتے ہیں تمہارا مذاق اڑاتے اور طنز و تحقیر کے انداز میں کہتے ہیں کہ اچھا یہی ہیں جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ! ان حضرت نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا اگر ہم ان کی عبادت پر جمے نہ رہتے ! فرمایا کہ آج تو ان کو اپنی حماقت پر جمے رہنے پر بڑا ناز ہے لیکن کل کو جب یہ اپنی اس جہالت کے نتیجہ میں عذاب سے دوچار ہوں گے تب انہیں اندازہ ہوگا کہ ہمارے پیغمبر نے ان کو گمراہ نہیں کرنا چاہا تھا بلکہ اس نے ان کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

41-1دوسرے مقام پر اس طرح فرمایا (اَھٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ) 21۔ الانبیاء :36) کیا یہ وہ شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے ؟ یعنی ان کی بابت کہتا ہے کہ وہ کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ اس حقیقت کا اظہار ہی مشرکین کے نزدیک ان کے معبودوں کی توہین تھی۔ جیسے آج بھی قبر پرستوں کو کہا جائے کہ قبروں میں مدفون بزرگ کائنات میں تصرف کرنے کا اختیار نہیں رکھتے تو کہتے ہیں کہ یہ اولیاء اللہ کی شان میں گستاخی کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 41–43

15: آنحضرت ﷺ کو چونکہ اپنی امت پر بہت شفقت تھی، اس لیے آپ کی یہ خواہش رہتی تھی کہ جو لوگ کفر و شرک پر اڑے ہوئے ہیں وہ کسی طرح ایمان لے آئیں، اور جب وہ ایمان نہیں لاتے تھے تو آپ کو صدمہ ہوتا تھا۔ قرآن کریم نے جا بجا آپ کو تسلی دی ہے کہ آپ کا فریضہ حق بات کو پہنچانے کی حد تک محدود ہے۔ جن لوگوں نے اپنی خواہشات کو خدا بنا رکھا ہے، ان کی کوئی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 35–44

(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ” یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔ القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 41–42

4 یعنی بجائے عبرت حاصل کرنے کے ان کا مشغلہ تو یہ ہے کہ پیغمبر سے ٹھٹھا کیا کریں۔ چناچہ آپ ﷺ کو دیکھ کر استہزاءاً کہتے ہیں کہ کیا یہ بزرگ ہیں جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ؟ بھلا یہ حیثیت اور منصب رسالت ؟ کیا ساری خدائی میں سے یہ ہی اکیلے رسول بننے کے لیے رہ گئے تھے ؟ آخر کوئی بات تو ہو۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کی تقریر جادو کا اثر رکھتی ہے۔ قوت فصاحت اور زور تقریر سے رنگ تو ایسا جمایا تھا کہ بڑے بڑوں کے قدم پھسل گئے ہوتے۔ قریب تھا کہ اس کی باتیں ہم کو ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دیتیں۔ وہ تو ہم پکے ہی ایسے تھے کہ برابر جمے رہے ان کی کسی بات کا اثر قبول نہ کیا۔ ورنہ یہ ہم سب کو کبھی کا گمراہ کر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 41 وَاِذَا رَاَوْکَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ط ” قریش مکہ کے ہاں حضور ﷺ کی دعوت کی مخالفت کا یہ بھی ایک طریقہ تھا کہ وہ بات سننے کے لیے کبھی سنجیدہ نہ ہوتے اور آپ ﷺ کی دعوت کو ہمیشہ مذاق میں اڑا دیتے۔ نہ وہ آپ ﷺ کی بات کو کبھی سنجیدگی سے سنتے ‘ نہ کبھی اس پر غور کرتے اور نہ ہی اس کا کوئی سنجیدہ جواب دیتے۔ اَہٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوْلًا۔ ” یہ اور اس طرح کے دوسرے جملوں کے ذریعے وہ لوگ آپ ﷺ کا تمسخر اڑاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

53 یہ کفار مکہ ہدایت حاصل کرسکتے ہیں جبکہ ان کا محبوب مشغلہ ہی یہ ہے کہ وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو ایک دوسرے کو کہتے ہیں۔ اجی یہ ہی وہ صاحب جو اپنے آپ کو اللہ کا رسول ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ کیا یہی شخص اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری مخلوق میں سے رسالت کے لئے پسند آیا تھا ؟ اس کی حیثیت کو دیکھو اور اس کے بلند بانگ دعویٰ دیکھو۔ کیا ہم ہم اتنے ہی عقل کے اندھے ہیں کہ اس کے اس دعویٰ کو درست تسلیم کرلیں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

47۔ اور وہ یہ فقرہ طنز و استہزاء کے طور پر کہتے تھے، یعنی اگر رسالت کوئی چیز ہے تو رسول کسی بڑے رئیس کو ہونا چاہیے تھا۔ نہ کہ ایک عامی معمولی شخص کو۔ مشرکین عرب کے خیال میں منصب رسالت اگر واقعی کسی کو ملنا تھا ہی تو کسی سردار قریش کو ملتا نہ کہ ایک معمولی تاجر کو (آیت) ” ھذا “۔ یہاں تحقیر کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 35–44

آیت نمبر 35 تا 44 ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر (یعنی) معین بنادیا اور ہم نے دونوں کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری دلیلوں کو جھٹلایا ہے یعنی قبطیوں کی طرف جو کہ فرعون اور اس کی قوم ہے چناچہ (یہ دونوں) پیغام لیکر ان کے پاس گئے مگر ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو تہس نہس کردیا (یعنی) پوری طرح ہلاک کردیا اور قوم نوح کا تذکرہ کیجئے جبکہ انہوں نے (تمام) رسولوں کی تکذیب کی نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرکے، نوح (علیہ السلام) کے ان کے درمیان زمانہ دراز تک قیام کرنے کی وجہ سے، گویا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا راوک ان یتخذونک الا ہزوا اور جب (کفار قریش) آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ کو مذاق بنا لیتے ہیں۔ ہُزُوًامصدر ہے بمعنی اسم مفعول ‘ یعنی آپ کو مسخرہ بنا لیتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے یہ آیت ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کی بابت نازل ہوئی۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ : کی طرف سے گزرے اور بطور استہزاء کہنے لگے۔ اہذا الذی بعث اللہ رسولا۔ کیا یہ (محمد ﷺ وہی ہے جس کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ استفہام انکاری تعجبی ہے اور ہٰذَاکا لفظ تحقیر کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ (یعنی یہ رسول نہیں ‘ رسول ہونے کے قابل نہیں ‘ ایک حقیر آدمی کو رسول بنا کر بھیجنا بڑی عجیب بات ہے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(41) اور جب کفار مکہ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے تمسخر کرنے لگتے ہیں اور بطور مذاق کے کہتے ہیں کیا یہی بزرگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا رَاَوْكَ اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا : مشرکین رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا جس طرح شدت کے ساتھ انکار کرتے اور آپ کی نبوت اور قرآن پر متعدد اعتراضات کرتے رہتے تھے، اس کے ذکر کے بعد ان کی ایک خاص ایذا کا ذکر فرمایا کہ وہ جب تجھے دیکھتے ہیں تو اپنے مذاق کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ اَھٰذَا الَّذِيْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا : ”ھٰذَا“ کا اشارہ آپ ﷺ کی تحقیر کے لیے ہے، یعنی کیا یہی وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ رسول ہو کیسے گیا، جب کہ یہ ہمارے جیسا بشر ہے، جیسا کہ ایک جگہ ان کا قول ہے : (اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا) [ بني إسرائیل : 94 ] ”کیا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

( واذا راوک ان۔۔۔۔۔۔ ) واذا راوک ان یتخذو نک الا ھزوا، اذا کا جواب ان یتخذونک ہے کیونکہ اس کا معنی یتخذونک ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جواب مخذوف ہے وہ قالوایا یقولون اھذا الذی ہے۔ ان یتخذبونک الا ھزوا جملہ معترضہ ہے، یہ آیت ابوجہل کے متعلق میں نازل ہوئی۔ وہ استہزا کے طور پر نبی کریم ﷺ کے بارے میں کہتے تھے : اھذا الذی بعث اللہ رسولا ضمیر عائد منصوب ہے تقدیر کلام ہوگی۔ بعثہ اللہ۔ رسولا حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے تقدیر کلام یہ ہے اھذا الذی بعثہ اللہ مرسلا۔ اھذا مبتداء ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے۔ الذی اس کی خبر ہے رسولاحال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ بعث، الذی صلہ ہے لفظ اللہ اسم جلالت بعث کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 39–42

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی ” وکلا ضربنا لہ الامثال وکلا تبرنا تتبیرا “ سے مراد ہے کہ ہر ایک کے لیے اللہ تعالیٰ نے حجت تمام کی ہر ایک کے لیے دلائل کو واضح کیا پر ان سے انتقام لیا آیت ” ولقد اتوا علی القریۃ التی امطرت مطر السوء “ سے مراد ہے لوط (علیہ السلام) کی بستی آیت ” بل کانوا لایرجون نشورا “ (یعنی وہ لوگ نہ امید رکھتے تھے نہ اٹھنے کی اور نہ حساب کی۔ 2۔ عبدالرزاق وابن اجریر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وکلا تبرنا تتبیرا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو عذاب کے ذریعے ہلاک کردیا۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا [ اور جب کبھی ] رَاَوْكَ [ وہ دیکھتے ہیں آپ ﷺ کع ] اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ [ تو نہیں بناتے آپ ﷺ کو ] اِلَّا [ مگر ] هُزُوًا ۭ [ مذاق کا ذریعہ ] اَھٰذَا الَّذِيْ [ کیا یہ ہے وہ جس کو ] بَعَثَ [ بھیجا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] رَسُوْلًا [ رسول ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 41–43

اس کے بعد قریش مکہ کی سر کشی بیان فرمائی اور وہ یہ کہ یہ لوگ صرف آپ کی تکذیب ہی نہیں کرتے آپ کا مذاق بھی بناتے ہیں اور مسخرہ پن کرتے ہیں اور یوں کہتے ہیں (اَھٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوْلًا) (کیا یہی شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے) یہ ایسا ہی ہے جیسے قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے بارے میں کہا تھا (ءَاُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ بَیْنِنَا) (کیا ہمارے درمیان سے صرف اسی شخص پر ذکر نازل کیا گیا) مکذبین اور معاندین کا یہ عجیب سوال رہا کہ فلاں شخص ہی کو نبی کیوں بنایا گیا ؟ دوسرے شخص کو عہدہ کیوں نہیں دیا گیا یہ جہالت اور حماقت کا سوال ہے جس کسی بھی شخص کو رسالت کی ذمہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–44

تشنیع کفار براستہزاء سید الابرار قال اللہ تعالیٰ واذا اروک ان یتخذونک الا ھزوا .... الیٰ .... بل ھم اضل سبیلا۔ (ربط) اوپر سے سلسلہ کلام کفار کے اعتراضات اور ان کے جوابات کا چلا آرہا تھا جس سے مقصود کفار کی تشنیع اور ملامت تھی اب آئندہ آیات میں پھر کفار کے ذمائم اور شنائع قولیہ اور فعلیہ کو بیان کرتے ہیں کہ یہ منکرین نبوت آپ ﷺ کو غایت درجہ حقیر سمجھتے ہیں اور آپ کے ساتھ تمسخر کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنے دین پر مضبوطی کے ساتھ قائم نہ رہتے تو یہ محض ہم کو کبھی کا گمراہ کرچکا ہوتا حق تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ عنقریب یعنی مرنے کے بعد معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہ تھا۔ اور یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 41–42

29:۔ ” و اذا راوک الخ “ یہ شکوی ہے مشرکین جبحضور ﷺ کو دیکھتے تو بطور استہزاء کہتے کیا یہی ہے جسے اللہ نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اگر ہم مستقل مزاجی سے اپنے معبودوں کی عبادت و پکار پر جمے نہ رہتے تو اس نے تو ہمیں گمراہ کردیا تھا اور ہمیں اپنے معبودوں سے ہٹا دیا تھا شکر ہے کہ ہم پکے رہے یعنون انہ کاد یفتنھم عن عبادۃ الاصنام لو لا ان صبروا و تجلدو واستمروا علیھا (ابن کثیر ج 3 ص 319) ۔ وسوف یعلمون الخ “ تخویف اخروی ہے۔ مشرکین دنیا میں اپنے کو ہدایت پر سمجھتے ہیں اور توحید خالص کو گمراہی کا نام دیتے ہیں لیکن جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو انہیں اچھی طرح معلوم ہوجائیگا گمراہ کون ہے اور ہدایت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–44

ربط ِ آیات اس رکوع کی پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر کر کے حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دی ۔ ان انبیائے کرام کو بڑے سر کش اور مغرور لوگوں سے واسطہ پڑا ۔ اللہ نے ان کے غرور کو توڑا اور ان کو تباہ و برباد کیا ۔ اللہ نے نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی فرمایا کہ آپ کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا ، پھر قوم عاد ، ثمود اور کنوئیں والوں نے اللہ کے نبیوں کے ساتھ زیادتی کی تو ان کو بھی ہلاک کیا گیا ۔ درمیان میں بہت سی دیگر قومیں بھی گزر ی ہیں جن کا تذکرہ نہ تو کتب سماویہ نے کیا ہے اور نہ ہی تاریخ نے انہیں محفوظ رکھا ہے ہر قوم کے لیے اللہ نے رسول بھیجے ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا رَاَوْكَ اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا ہُزُوًا۝ 0ۭ اَھٰذَا الَّذِيْ بَعَثَ اللہُ رَسُوْلًا۝ 41 أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 35–44

ترکیب : ہارون بدل من اخاہ وزیرا مفعول ثان بجعلنا وقوم یجوزان یکون معطوفا علی دمرنا یا مفعول اذکر محذوف۔ علی ہذا القیاس عادا و ثمودا الخ، تفسیر : جبکہ توحیدِ و نفی انداد و اثبات نبوت میں کلام ہوچکا اور منکرین کے شبہات رد کردیے گئے اور قیامت کا حال اور منکرین کا وبال بھی بیان ہوچکا تو مجملاً انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ان کے دشمنوں پر آخر کار کیا کیا بلائیں نازل ہوئیں کیونکہ آپ کی تسلی کے لیے پہلے فرمایا تھا وکذالک جعلنا لکل نبی عدوًا اور قرآن کا یہی طریقہ ہے کہ ایسے موقعوں پر قصص انبیاء بیان ہوتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ ان کے تذکرہ بار بار آتے ہیں۔ فقال ولقد اتینا موسیٰ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 41–42

وَاِذَارَاَوْکَ اِنْ یَّـتَّـخِذُوْنَـکَ اِلاَّ ھُزُوًا ط اَھٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوْلاً ۔ اِنْ کَادَ لَـیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِھَتِنَا لَوْلَآ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْھَا ط وَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلاً ۔ (الفرقان : 41، 42) (اور یہ لوگ جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کو مذاق بنا لیتے ہیں، (کہتے ہیں) کیا یہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس شخص نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا، اگر ہم ان پر جم نہ گئے ہوتے، اور وہ وقت دور نہیں جب یہ عذاب دیکھیں گے تو جان لیں گے کہ سب سے زیادہ گمراہ کون ہے۔ ) جب کوئی قوم اپنی گمراہی میں تباہی کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کا رسول معظم ﷺ کے ساتھ رویہّ ۔ رسول معظم ﷺ کی عظیم اور پرخلوص جدوجہد کے باوجود مکہ کے ابتدائی دور میں چند لوگوں کے سوا کوئی شخص آپ پر ایمان نہ لایا۔ ایمان لانے والوں میں ایک دو حضرات کو چھوڑ کر باقی حضرات انتہائی غریب تھے اور کچھ ان میں مکہ والوں کے زرخرید غلام تھے۔ ان حالات کے باوجود نبی معظم ﷺ دو ٹوک اور کھلے الفاظ میں اعلان کرتے کہ لوگو ! لا الہ الا اللہ پڑھو اور اس کے تقاضے پورے کرو میں تمہیں معاشی خوشحالی، سیاسی اقتدار کی کامیابی اور دنیا و آخرت کی فلاح کی ضمانت دیتا ہوں۔ اس پر اہل مکہ آپ ﷺ کا استہزاء اڑاتے کہ یہ کس قدر ناعاقبت اندیش شخص ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

41: وَاِذَا رَ اَوْکَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ (اور جب آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ کا مذاق بنا لیتے ہیں) نحو : انؔ نافیہ ہے۔ استہزائے کفار : اِلَّا ھُزُوًا اتخذ ھزوًاکا معنی استھزأ بہٖ ہے اور اصل اتخذہ موضع ھزؤ یا مھزوءا بہٖ آپ کو استہزاء کی جگہ بنا لیتے ہیں یا مسخرہ بنا لیتے ہیں۔ اَھٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوْلًا (کیا یہ وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنایا ہے) قول کو مضمرقرار دیکر ھذا کو بطور استہزاء تحقیر لائے۔ ای قائلین اھذا۔ وہ یہ کہتے ہیں کیا یہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنایا ہے اور محذوف حال ہے اور الذی کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہے۔ ای بعثہٗ ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 41۔ واذارأوک ان یتخذونک۔ یہ نہیں بناتے مگر آپ کے ساتھ۔ الاھزوا، اس آیت کا نزول ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ رسول اللہ کی طرف سے گزرے اور بطور استہزاء کہنے لگے۔ اھذالذی بعث اللہ رسولا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–44

38۔ 44:۔ سیرۃ ابن اسحاق اور مسند عبد بن حمید وغیرہ میں ایک روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن سب سے پہلے ایک حبشی غلام جنت میں جاوے گا کس لیے کہ پہلے زمانہ میں ایک نبی کو ان نبی کی قوم نے ایک کنویں میں ڈال کر اس کنویں کے منہ پر ایک پتھر کی سل ڈھانک دی تھی ‘ وہ حبشی غلام ان نبی پر ایمان لے آیا تھا ‘ اس لیے ہر روز لکڑیاں جنگل میں سے چن کر لاتا تھا اور ان لکڑیوں کو بیچ کر کچھ کھانے کی چیز خریدتا تھا اور قوم کے لوگوں سے چھپ کر اس کنویں پر آتا تھا اور اللہ تعالیٰ اس کو اتنی قوت دے دیتا کہ وہ اس بھاری پتھر کی سل کو کنویں کے منہ پر سے ہٹا کر ان نبی کو کھانا کھلاتا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 35–44

آیت 35 سے 40 اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے، تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً حجر کے علاقے میں صالح (علیہ السلام) کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

50 حق اور اہل حق کا مذاق اڑانا محرومی دارین کا باعث۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان کے اس سنگین مرض اور اس میں اضافے کے بیان کے ضمن میں ارشاد فرمایا گیا اور درس عبرت و بصیرت لینا اور نور حق و ہدایت سے سرفراز ہونا تو درکنار یہ لوگ تو مرض کی اس انتہاء کو پہنچ چکے ہیں کہ الٹا ھادی برحق اور حضرت امام الرسل ۔ علیہ و علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کا مذاق اڑاتے ہیں کہ ان صاحب کو دیکھو اور ان کے دعوائے رسالت کو دیکھو۔ کیا اس منصب کے لئے بس یہی رہ گئے تھے وغیرہ وغیرہ۔ تو پھر ایسے بدنصیبوں کو دولت حق و ہدایت نصیب ہو تو کس طرح اور کیونکر ؟ سو اس سے معلوم ہوا کہ اہل حق اور دعوت حق کی تحقیر و توہین بڑا خطرناک جرم اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 35–44

پچھلی قوموں کا عبرت ناک انجام تشریح : ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ سیدنا ابراہیم و اسمعٰیل (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور توحید کی ابتدا کی۔ مکہ میں خانہ کعبہ سب سے پہلا اللہ کا گھر بنایا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ لوگ ان کی تعلیمات بھولتے گئے۔ تو انہوں نے اپنی مرضی سے کئی مذہب بنا لیے تو عرب کے قدیم باشندوں نے عرب سے نکل کر بابل ‘ شام اور مصر میں حکومتیں قائم کی تھیں۔ ان کو عرب بائدہ یعنی جونا پید ہوگئے کہا جاتا ہے عاد اور ثمود کی قومیں اسی دور سے تعلق رکھتے تھے۔ سب کے پاس نبی بھیجے گئے، آسمانی کتابیں بھیجی گئیں جیسا کہ ان کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا جا چکا ہے کہ سب کے پاس کفار مکہ کی طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 35–44

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اور اگر ان کی یہی دلیل ہو کہ قرآن یکبارگی نازل کیوں نہ ہوا تو قبل ازیں موسیٰ (علیہ السلام) کو تو یکبارگی کتاب عطا ہوئی تھی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی معاون بنا دیا گیا اور دونوں کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا یعنی فرعون اور آل فرعون کی طرف جنہوں نے ہماری آیات اور عظمت کے دلائل کو ماننے اور سمجھنے سے انکار کر رکھا تھا مگر انہوں نے کب مان کردیا تھا حتی کہ معجزات تک کا انکار کیا اور اپنے کفر پر قائم رہے تاآنکہ قہر الہی نے انہیں برباد کر کے نام ونشان مٹا دیا یعنی غرق دریا ہوگئے اگرچہ فرعون نزول کتاب سے قبل ہلاک ہوا مگر بعد کے کفار نے بھی تسلیم تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 41–42

“ 12 ۔ یعنی ہمیں نے تعصب اور ہٹ دھرمی سے کام لیا ورنہ اس نے تو ہمیں اس طرح لاجواب کردیا تھا کہ بت پرستی سے ہمارے قدم ڈگمگا گئے تھے۔ 1 ۔ یہ یا وہ لوگ جنہوں نے پیغمبر ﷺ کی پیروی اختیار کی ؟ اس میں ان کے قول کی تردید کی طرف اشارہ ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:41) ان۔ نافیہ ہے۔ ان یتخذونک۔ یتخذون مضارع جمع مذکر غائب ۔ اتخاذ (افتعال) مصدر ک ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تجھے نہیں بناتے ہیں۔ ھزوا ھزء یھزء (فتح) وھزء یھزا (سمع) کا مصدر ہے ۔ کسی سے مسخری کرنا۔ مخول کرنا۔ ٹھٹھا کرنا۔ یہاں اسم مفعول آیا ہے بمعنی وہ جس کا مذاق اڑایا جائے ۔ مادہ ھ ز ء ۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے واذا علم من ایتنا شیئان اتخذھا ھزوا (45:9) اور جب ہماری کچھ آیتیں اسے معلوم ہوتی ہیں تو وہ ان کی ہنسی اڑاتا ہے۔ ان یتخذونک الا ھزوا۔ نہیں بناتے تجھے مگر مرکز تضحیک ۔ یعنی آپ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اھذ الذی : ای قائلین اھذا الذی یہ کہتے ہوئے یا یہ کہہ کر۔ جملہ اھذا الذی بعث اللہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 35–44

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 44 : اخاہ ( اس کا بھائی) ‘(وزیر) بوجھ اٹھانے والا۔ مددگار) ‘ دمرنا (ہم نے تباہ کردیا) ‘ تدمیر ( اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ اعتدنا ( ہم نے تیار کردیا) ‘ قرون (قرن) قومیں۔ جماعتیں ‘ اصحب الرس (کنویں والے) ‘ تتبیر (اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ امطرت (برسایا گیا) ‘ مطرالسوئ (بدترین بارش) ‘ نشور (مرنے کے بعد زندہ ہونا) ‘ ھزو (مذاق۔ ہنسی۔ اڑانا) ‘ بعث (اس نے بھیجا) ‘ کا د (قریب ہے) ‘ صبرنا ( ہم جمے رہے) ‘ اضل (زیادہ گمراہ) ‘۔ تشریح آیت نمبر 35 تا 44 : دنیا میں ہر ظالم و جابر اور قوت و طاقت رکھنے والے شخص کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کی خواہش کے غلام اور حکم کے بندے بن کر رہیں۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 40–42

(ف 1) ارشاد ہوتا ہے یہ لوگ کچھ اس لیے اللہ کے رسول کو نہیں جھٹلاتے کہ قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں ان لوگوں کی نظر سے نہیں گزری بلکہ یہ لوگ تو اس لیے اللہ کے رسول کو مسخراپن میں اڑاتے ہیں کہ ان لوگوں کو ایک دن اللہ کے روبرو کھڑے ہونے کا جزاوسزا کا یقین نہیں ہے پھر فرمایا کہ کافر نبی ﷺ کے ساتھ تمسخر کیا کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اگر ہم اپنے دین پر قائم نہ رہتے تو انہوں نے ہمیں کبھی کا گمراہ کردیا ہوتا، اسی واسطے ان لوگوں نے بت پرستی کے وبال کو دل سے بھلا رکھا ہے عنقریب بوقت عذاب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کے رسول جو طریقہ ان کو بتلاتے تھے وہ اچھا تھا یابت پرستی کا طریقہ اچھا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 40–44

[23] یعنی قوم لوط کی بستی۔ [24] یعنی پتھروں کی بارش۔ [25] یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے قائل نہ تھے کہ انھیں آخرت کے عذاب وثواب کی پروا ہوتی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2 گذشتہ اقوام وملل کی تباہی اور بربادی کا ذکر کرتے ہے اور اب یہ بتایا ہے کہ مشرکین کہ بھی انہیں منکرین کے نقش قدم پر جارہے ہیں یہ بھی اس اس پر رشدوہدایت اور ذات والا صفات پر طعنہ زن ہوتے ہیں اور نہایت تحقیر کے لہجے میں کہتے ہیں ۔ کیا اس شخص کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ، گویا رسول کے ضروری ہے کہ وہ مالدار بھی ہو اور ان لوگوں کی طرح جھوٹی عزت اور جھوٹے وقار کا بھی مالک ہو ۔ ان کے خیال میں حضور ﷺ کے لئے لازم تھا کہ وہ ان کے منتخب اکار میں سے ہوتے ، تحقیر واستہزا کی کوئی وجہ نہیں ۔ بلکہ حضور کمالات روحانی اور وجاہت وحسن جسمانی کے لحاظ سے ان تمام لوگوں سے بہتر تھے یا یوں کہیے کہ آپ تمام…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(41) اور اے پیغمبر یہ دین حق کے منکر جب آپ کو کہیں دیکھتے ہیں تو ان کا سوائے اس کے اور کوئی کام اور مشغلہ نہیں ہوتا کہ آپ سے تمسخر کرنے لگتے ہیں اور آپ کا مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کیا یہی وہ صاحب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے یعنی استہزاء شروع کردیتے ہیں اور باتیں چھانٹنے لگتے ہیں منجملہ مذاق کے یوں کہتے ہیں کیا یہی وہ صاحب ہیں جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ نے ان کو اپنا پیغام دیکر بھیجا ہے یعنی یہ رسالت کا اہل نہیں کوئی رئیس اور ذی عزت شخص رسول ہوتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 39–41

ف 5۔ یعنی ایسا آدمی رسول نہ ہونا چاہئے، اگر رسالت کوئی چیز ہے تو کوئی رئیس ہونا چاہئے تھا، پس یہ رسول نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کو یہ لوگ دیکھتے ہیں تو مذاق کی راہ سے : 41۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کو رسول منتخب کیا گیا اور آپ ﷺ پر قرآن کریم جیسی کتاب نازل کی گئی اور یہ دونوں چیزیں یعنی آپ ﷺ بھی اور اللہ کی کتاب بھی اللہ کا فضل ہیں اس طرح اللہ تعالیٰ نے گویا ان لوگوں پر فضل کیا کہ آپ ﷺ جیسا رسول اور قرآن کریم جیسی کتاب ان کو مرحمت فرمائی لیکن ان کی بدبختی کی حالت یہ ہے کہ جب آپ ﷺ کو دیکھتے ہیں تو بےاختیار ان کو ہنسی آجاتی ہے اور پھر ہنستے ہی جاتے ہیں ‘ بھلا کیوں ؟ فقط اس لئے کہ ان کے ذہن و دماغ میں آپ ﷺ کا رسول بنایا جانا ہنسی کا باعث ہے اور دیکھتے ہی کہنے لگتے ہیں کہ اچھا یہ وہ آدمی ہے جس کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–42

Commentary In the above verses it is mentioned that it had been the common practice of the people through the ages to rebuff the prophets and the message they had brought. In order to give weight to this assertion a few of the well known prophets are mentioned who were rejected by their people and then they were subjected to Allah's wrath and were annihilated completely. By drawing a parallel with the past generations it is elucidated that the pagans of Makkah would not listen to any reason as they were no better than the animals or even worse than that. It is stated about the people of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–41

53 The habitation referred to was that of the people of Prophet Lot, which was destroyed by a rain of stones. The people of Hijaz while traveling to Palestine and Syria, passed by its ruins and heard the horrible tales of its destruction . 54 As the disbelievers did not believe in the Hereafter, they looked at these ancient ruins as mere spectators and did not take any warning from them. Incidentally, this is the difference between the observation of a disbeliever and of a Believer in the Hereafter: the former looks at such things as a mere spectator or at the most as an archaeologist whereas…

Read the full tafseer →