Explained with ayahs 35–40
انبیاء سے دشمنی کا خمیازہ
اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی ان کی مخالفت کی میں نے انہیں تہس نہس کردیا۔ فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آگیا اور سب ہلاک کردیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے اس واسطے یہاں رسل جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
سورة الْفُرْقَان 53
یعنی قوم لوط کی بستی۔ بدترین بارش سے مراد پتھروں کی بارش ہے جس کا ذکر کئی جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ اہل حجاز کے قافلے فلسطین و شام جاتے ہوئے اس علاقے سے گزرتے تھے اور نہ صرف تباہی کے آثار دیکھتے تھے بلکہ آس پاس کے باشندوں سے قوم لوط کی عبرت ناک داستانیں بھی سنتے رہتے تھے۔
سورة الْفُرْقَان 54
یعنی چونکہ یہ آخرت کے قائل نہیں ہیں اس لیے ان آثار قدیمہ کا مشاہدہ انہوں نے محض ایک تماشائی کی حیثیت سے کیا، ان سے کوئی عبرت حاصل نہ کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آخرت کے قائل کی نگاہ اور اس کے منکر کی نگاہ میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایک تماشا دیکھتا ہے، یا زیادہ سے زیادہ یہ کہ تاریخ مرتب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
خلاصہ تفسیر
اور قوم نوح کو بھی (ان کے زمانہ میں) ہم ہلاک کرچکے ہیں (جن کی ہلاکت اور سبب ہلاکت کا بیان یہ ہے کہ) جب انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو (طوفان سے) غرق کردیا اور ہم نے ان (کے واقعہ) کو لوگوں (کی عبرت) کے لئے نشان بنادیا (یہ تو دنیا میں سزا ہوئی) اور (آخرت میں) ہم نے (ان) ظالموں کے لئے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔ اور ہم نے عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور ان کے بیچ بیچ میں بہت سی امتوں کو ہلاک کیا اور ہم نے (امم مذکورہ میں سے) ہر ایک (کی ہدایت) کے واسطے عجیب عجیب (یعنی موثر اور بلیغ) مضامین بیان کئے اور (جب نہ مانا تو) ہم نے سب کو بالکل ہی برباد کردیا۔ اور یہ (کفار ملک شام…
Read the full tafseer →آنکھوں میں بصیرت آخرت کے تصورت سے پیدا ہوتی ہے
یہ اشارہ قوم لوط کی بستی کی طرف ہے۔ امطرت مطر السوء سے مراد وہ عذاب ہے جو ان پر آیا۔ اس عذاب کی نوعیت ہم نے اس کتاب میں اس کے محل میں واضح کی ہے۔ اگر اس کی پوری تحقیق مطلوب ہو تو مجموعہ تفاسیر فراہمی میں سورة ذاریات کی تفسیر پڑھیے۔
یہ قریش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ دوسری قوموں کے احوال و مقامات سے دور یا نابلد ہیں تو کیا اس قوم کے آثار سے بھی نا آشنا ہیں جو ہمارے نہایت ہولناک عذاب کا نشانہ بنی ! اس بستی پر سے تو یہ آئے دن اپنے تجارتی سفروں میں گزرتے ہیں ! کیا اس کے آثار بھی یہ نہیں دیکھتے رہے ہیں ! دیکھتے تو رہے ہیں لیکن چونکہ یہ…
Read the full tafseer →40-1بستی سے، قوم لوط کی بستیاں سدوم اور عمورہ وغیرہ مراد ہیں اور بری بارش سے پتھروں کی بارش مراد ہے۔ ان بستیوں کو الٹ دیا گیا تھا اور اس کے بعد ان پر کھنگر پتھروں کی بارش کی گئی تھی جیسا کہ (فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّيْلٍ ڏ مَّنْضُوْدٍ) 11۔ ہود :82) میں بیان ہے۔ یہ بستیاں شام فلسطین کے راستے میں پڑتی ہیں، جن سے گزر کر ہی اہل مکہ آتے جاتے تھے۔
40-2اس لئے ان تباہ شدہ بستیوں اور ان کے کھنڈرات دیکھنے کے باوجود عبرت نہیں پکڑتے۔ اور آیات الٰہی اور اللہ کے رسول کو جھٹلانے سے باز نہیں آتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
14: اس سے مراد حضرت لوط ؑ کی قوم ہے جس کا واقعہ سورة ہود : 77 تا 83 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ”
یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔
القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘…
Read the full tafseer →1 یعنی قوم لوط کی بستیاں جن کے کھنڈرات پر سے مکہ والے " شام " کے سفر میں گزرتے تھے۔
2 یعنی کیا ان کے کھنڈرات کو عبرت کی نگاہ سے نہ دیکھا۔
3 یعنی عبرت کہاں سے ہوتی جب ان کے نزدیک یہ احتمال ہی نہیں کہ مرنے کے بعد پھر جی اٹھنا اور خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ عبرت تو وہ ہی حاصل کرتا ہے جس کے دل میں تھوڑا بہت ڈر ہو اور انجام کی طرف سے بالکل بےفکر نہ ہو۔
Read the full tafseer →آیت 40 وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَی الْقَرْیَۃِ الَّتِیْٓ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ ط ”
اس سے سدوم اور عامورہ کی بستیاں مراد ہیں جن کی طرف حضرت لوط علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔ بدترین بارش سے مراد پتھروں کی بارش ہے ‘ جس کا ذکر قرآن حکیم میں کئی جگہ آیا ہے۔
اَفَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرَوْنَہَا ج ”
سفر شام کے دوران آتے جاتے قریش کے تجارتی قافلے جب ان بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرتے ہیں تو کیا یہ لوگ انہیں نگاہ عبرت سے نہیں دیکھتے ؟
بَلْ کَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا ”
اصل بات یہ ہے کہ انہیں بعث بعد الموت پر یقین نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ ایسے عبرت انگیز حقائق پر سے یہ لوگ بغیر کوئی سبق حاصل کیے…
Read the full tafseer →52 اس سے مراد لوط (علیہ السلام) کی بستی یا سدوم کا علاقہ ہے۔ ان کفار مکہ کے جو تجارتی قافلے شام کی طرف جاتے اور واپس آتے ہیں تو یہ علاقہ ان کے راستہ میں پڑتا ہے اس علاقہ کی ویرانی اور خستہ حالی یہ کئی بار بچشم خود دیکھ چکے ہیں مگر یہ لوگ اس علاقہ کو محض ایک تماشائی کی حیثیت سے دیکھ کر آگے چلے جاتے ہیں۔ اس سے کچھ بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور ان کی یہ کیفیت محض اس لئے کہ یہ لوگ اللہ کے حضور پیش ہونے اور اپنے اعمال کی سزا پانے کا یقین ہی نہیں رکھتے۔ اور یہی وہ فرق ہے جو ایک آخرت کے منکر پر یقین رکھنے والے میں ہوتا ہے۔ آخرت کا منکر ایسے مقامات کو محض ایک تماشائی کی حیثیت سے دیکھتا ہے جبکہ آخرت پر…
Read the full tafseer →44۔ (اور جہاں ہو کر یہ منکرین اپنی آمد ورفت شام میں گزرتے رہتے ہیں) مراد ہیں سدوم وغیرہ قوم لوط کے علاقے۔
45۔ (اور پھر بھی عبرت نہیں پکڑتے ؟ ) مطلب یہ ہے کہ خدائی قانون سے بغاوت وسرکشی کرنے والی قوموں کی عبرتناک سزائیں اور بربادیاں خوب ان کے علم میں ہیں۔ ان کے کھنڈر اور مٹے ہوئے آثار ان کے مشاہدہ میں آچکے ہیں۔
46۔ یعنی یہ اس کا یقین ہی نہیں رکھتے کہ عمل کی جزاو سزا کا ایک ضابطہ اور دستور ونظام ہے۔ اور ہر عمل پر ایک ثمرہ دنیا وآخرت میں مرتب ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کفر کو موجب سزا وہلاکت ہی نہیں تصور کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیت نمبر 35 تا 44
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر (یعنی) معین بنادیا اور ہم نے دونوں کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری دلیلوں کو جھٹلایا ہے یعنی قبطیوں کی طرف جو کہ فرعون اور اس کی قوم ہے چناچہ (یہ دونوں) پیغام لیکر ان کے پاس گئے مگر ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو تہس نہس کردیا (یعنی) پوری طرح ہلاک کردیا اور قوم نوح کا تذکرہ کیجئے جبکہ انہوں نے (تمام) رسولوں کی تکذیب کی نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرکے، نوح (علیہ السلام) کے ان کے درمیان زمانہ دراز تک قیام کرنے کی وجہ سے، گویا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کئی…
Read the full tafseer →ولقد اتوا علی القریۃ التی امطرت مطرا السوء اور بلاشبہ وہ (مکہ والے) اس بستی کی طرف سے
گزرے ہیں جن پر بری بارش کردی گئی تھی۔
یعنی بہت سے مکہ کے باشندے ملک شام کو جاتے آتے ہیں اس بستی پر سے گزرے ہیں جس پر بری بارش کی گئی تھی۔
الْقَرْیَۃِسے مراد ہے سدوم کا شہر اور اس سے تعلق رکھنے والی دوسری بستیاں جہاں قوم لوط رہتی تھی اور امرد پرستی جیسی خبیث حرکتوں میں مبتلا تھی۔ اللہ نے ان پر پتھروں کی بارش کرکے تاخت و تاراج کردیا۔ سب اہل مکہ تو نہیں گئے تھے لیکن بعض کے فعل کو (جبکہ دوسرے سب لوگ اس فعل پر راضی ہوں) سب کا فعل کہہ دیا جاتا ہے جیسے آیت فَکَذَّبُوْہُ فَفَقَعُرْوہا میں اونٹنی کو قتل کرنے کی نسبت…
Read the full tafseer →(40) اور یہ کفار مکہ اپنی آمد و رفت میں حضرت لوط ؑ کی بستی سے ہو کر گزرے ہیں جس پر بری طرح پتھر برسائے گئے تو اس بستی اور وہاں کے رہنے والوں کے ساتھ کیا کیا گیا ؟ کیا یہ لوگ اس کو دیکھتے نہیں رہتے کہ پھر بھی عبرت نہیں حاصل کرتے کہ آپ کو نہ جھٹلائیں، بلکہ اصل وجہ یہ ہے یہ ہے کہ یہ لوگ مر کر جی اٹھنے کا احتمال ہی نہیں رکھتے ،
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَي الْقَرْيَةِ۔۔ : ”وَلَقَدْ“ کا لفظ قسم کا مفہوم رکھتا ہے، یعنی قسم ہے کہ یہ لوگ شام کی طرف جاتے ہوئے قوم لوط کی بستیوں کے پاس سے گزرتے ہیں، کیونکہ وہ مکہ سے شام کو جانے والے راستے پر تھیں۔ دیکھیے سورة حجر (79) اور صافات (137)۔
اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ : مراد کھنگر پتھروں کی بارش ہے۔ دیکھیے سورة ہود (82) ، حجر (74) ، اعراف (84) ، شعراء (173) اور نمل (58)۔rnۭ اَفَلَمْ يَكُوْنُوْا يَرَوْنَهَا۔۔ : ”تو کیا وہ اسے دیکھا نہ کرتے تھے ؟“ یعنی یقیناً دیکھا کرتے تھے۔ تو ان کے ایمان نہ لانے کی یہ وجہ نہ تھی کہ انھوں نے ان تباہ شدہ بستیوں کے آثار نہیں دیکھے تھے، بلکہ اصل وجہ یہ…
Read the full tafseer →(ولقد اتوا۔۔۔۔۔ )
ولقد اتوا علی القریۃ وائو ضمیر سے مراد مشرکین مکہ ہیں قریۃ سے مراد قوم لوط کی بستی ہے۔ مطر السوء وہ پتھر جو ان پر برسائے گئے۔ افلم یکونو یرونھا کیا انہوں نے اپنے سفروں میں نہیں دیکھا تاکہ وہ عبرت حاصل کریں ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قریش شام کی طرف تجارتی سفر میں قوم لوط کے شہروں کے پاس سے گزرتے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَاِنَّـکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْہِمْ مُّصْبِحِیْنَ ۔ “ (الصافات) فرمایا :” وانھما لبامام مبین “ ( الحجر) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے ” بل گانو لا یرجون نشورا۔ “ وہ بعث کی تصدیق نہیں کرتے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یرجون کا معنی ہے وہ خوف کرتے ہیں۔ یہ بھی جائز ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی ” وکلا ضربنا لہ الامثال وکلا تبرنا تتبیرا “ سے مراد ہے کہ ہر ایک کے لیے اللہ تعالیٰ نے حجت تمام کی ہر ایک کے لیے دلائل کو واضح کیا پر ان سے انتقام لیا آیت ” ولقد اتوا علی القریۃ التی امطرت مطر السوء “ سے مراد ہے لوط (علیہ السلام) کی بستی آیت ” بل کانوا لایرجون نشورا “ (یعنی وہ لوگ نہ امید رکھتے تھے نہ اٹھنے کی اور نہ حساب کی۔
2۔ عبدالرزاق وابن اجریر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وکلا تبرنا تتبیرا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو عذاب کے ذریعے ہلاک کردیا۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَتَوْا [ اور بیشک وہ لوگ آچکے ہیں ] عَلَي الْقَرْيَةِ الَّتِيْٓ [ اس بستی پر جس پر ] اُمْطِرَتْ [ برسائی گئی ] مَطَرَ السَّوْءِ ۭ[ برائی کی بارش ] اَفَلَمْ يَكُوْنُوْا يَرَوْنَهَا ۚ [ تو کیا وہ لوگ دیکھتے نہیں تھے ان کو ] بَلْ [ بلکہ ] كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ [ وہ امید نہیں رکھا کرتے تھے ] نُشُوْرًا [ جی اٹھنے کی ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 40 ۔ سے معلوم ہوا کہ چونکہ وہ لوگ آخرت کے قائل نہیں تھے اس لئے ان آثار قدیمہ یعنی عبرت کے مقامات کا مشاہدہ انھوں نے محض ایک تماشائی کی حیثیت سے کیا اور ان سے کوئی عبرت حاصل نہ کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آخرت کے قائل کی نگاہ اور اس کے منکر کی نگاہ میں کتنا فرق…
Read the full tafseer →(اَفَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرَوْنَہَا) (کیا یہ لوگ ان بستیوں کو دیکھتے نہیں رہے) (بَلْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا) یعنی یہ لوگ ان بستیوں پر گزرتے ہیں لیکن ان کا عبرت نہ پکڑنا بےعلمی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ مر کر جی اٹھنے کی امید ہی نہیں رکھتے یعنی آخرت کے منکر ہیں اور ہلاک شدہ بستیوں کو یوں ہی امور اتفاقیہ پر محمول کرتے ہیں اور اپنے کفر کو دنیا یا آخرت میں موجب سزا نہیں سمجھتے۔
جن لوگوں کو کفر کی وجہ سے ہلاک کیا گیا ہے ان میں اصحاب الرس کا ذکر بھی فرمایا الرس عربی میں کنویں کو کہتے ہیں یہ کنویں والے لوگ کون تھے کس علاقہ میں تھے ان کی طرف کس نبی کی بعثت ہوئی تھی ؟ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
قصہ سوم مشتمل بر ذکر قصہ قوم عاد وثمود و اصحاب رس و دیگر امم
وعادا و ثمودا واصحب الرس .... الیٰ .... وکلا تبرنا تتبیرا۔
اور اسی تکذیب کی وجہ سے ہم نے قوم عاد کو باد صر صر سے ہلاک کیا جو ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی اور قوم ثمود کا صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی وجہ سے صیحہ سے ہلاک کیا جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے اور کنوئیں والوں کو شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک کیا اور ” رس “ ایک کنوئیں کا نام ہے یا کسی بستی کا نام ہے جن کی طرف شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ کسی اور نبی کی قوم تھی جنہوں نے اپنے پیغمبر کو کنوئیں میں بند کردیا۔ ان پر اللہ کا عذاب آیا اور…
Read the full tafseer →28:۔ ” ولقد اتوا الخ “ یہ ساتویں نقلی دلیل ہے ” اتو “ کی ضمیر اہل مکہ سے کنایہ ہے اور ” القریۃ “ سے قوم لوط کی بستیاں مراد ہیں جن پر پتھروں کی بارش کر کے اللہ نے ان کو برباد کیا تھا مشرکین ملک شام کی طرف جاتے ہوئے ان بستیوں کے پاس سے گذرتے تھے۔ ” افلم یکونوا یرونھا “ کیا مشرکین مکہ نے ان تباہ شدہ بستیوں کو نہیں دیکھا ؟ استفہام انکاری ہے یعنی خوب دیکھا ہے مگر پھر بھی عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرتے یعنی اذا مرو بھم فی اسفارھم فیعتبروا و یتفکروا لن مدائن قوم لوط کنت علی طریقھم عند ممرھم الی الشام (معالم و خازن ج 5 ص 102) ۔ ” بل لا یرجون نشورا “ ہلاک شدہ اقوام کی بستیوں کو دیکھ کر بھی عبرت نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے رسالت کے بارے میں اعتراضات کے جوابات دیئے اور ان کے برے انجام کا ذکر کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے نبی اور اس کے پیرواکروں کو تسلی بھی دی ۔ فرمایا منکرین توحید و رسالت کی طرف سے صرف آپ کو ہی ایذا نہیں پہنچائی گئیں بلکہ اللہ کے ہر نبی کے ساتھ دشمنوں نے ایسا ہی سلوک کیا ۔ آپ گھبرائیں نہیں بلکہ اپنا کام کرتے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دینے والا اور آپ کا مددگار ہے۔
کفارو مشرکین نے یہ اعتراض بھی کیا کہ قرآن پاک کو اللہ کے نبی پر یکمشت کیوں نہیں نازل کیا گیا ۔ حالانکہ سابقہ کتب کا یہ توریت ، انجیل و دیگرصحیفے انبیاء (علیہم السلام) پر بیک…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَي الْقَرْيَۃِ الَّتِيْٓ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ 0ۭ اَفَلَمْ يَكُوْنُوْا يَرَوْنَہَا 0ۚ بَلْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ نُشُوْرًا 40
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه
( ا ت ی ) الاتیان
۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے
قرية
الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية .
( ق ر ی ) القریۃ
وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
ترکیب : ہارون بدل من اخاہ وزیرا مفعول ثان بجعلنا وقوم یجوزان یکون معطوفا علی دمرنا یا مفعول اذکر محذوف۔ علی ہذا القیاس عادا و ثمودا الخ،
تفسیر : جبکہ توحیدِ و نفی انداد و اثبات نبوت میں کلام ہوچکا اور منکرین کے شبہات رد کردیے گئے اور قیامت کا حال اور منکرین کا وبال بھی بیان ہوچکا تو مجملاً انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ان کے دشمنوں پر آخر کار کیا کیا بلائیں نازل ہوئیں کیونکہ آپ کی تسلی کے لیے پہلے فرمایا تھا وکذالک جعلنا لکل نبی عدوًا اور قرآن کا یہی طریقہ ہے کہ ایسے موقعوں پر قصص انبیاء بیان ہوتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ ان کے تذکرہ بار بار آتے ہیں۔ فقال ولقد اتینا موسیٰ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَ تَوْا عَلَی الْقَرْیَۃِ الَّتِیْٓ اُمْطِرَتْ مَطَرَالسَّوْئٍ ط اَفَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرَوْنَھَا ج بَلْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا۔ (الفرقان : 40)
(اور یہ لوگ تو اس بستی پر سے گزر چکے ہیں جس پر بدترین بارش برسائی گئی، کیا یہ اس کو دیکھتے نہیں رہے ہیں بلکہ یہ لوگ موت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے۔ )
قومِ لوط کی بستی سے استشہاد
اس آیت کریمہ میں معذب قوموں کی تاریخ کے سلسلے میں قوم لوط کی بستی کی طرف اشارہ کیا گیا، اور ایک مشاہداتی دلیل قائم کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ بستی ان کے لیے اجنبی نہیں، اپنے تجارتی اسفار میں یہ بارہا اس بستی کے کھنڈرات سے گزرتے ہیں۔ ملک شام یا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : عاد، ثمود اور دیگر قوموں کی تباہی کے ذکر کے بعد قوم لوط کی تباہی کا ذکر۔
جن قوموں کی عبرت ناک تاریخ کا ذکر کیا گیا ہے ان کی اکثریت کا تعلق سرزمین عرب کے ساتھ ہے جس بناء پر عام لوگوں کے ساتھ بالخصوص اہل مکہ کو توجہ دلائی گئی ہے کہ ان اقوام کی تاریخ تمہارے سامنے ہے اور ان کے علاقے تمہاری راہ گزر پر واقع ہیں۔ یاد رہے کہ اہل مکہ کی تجارت کا عام طور پر دار و مدار انہی علاقوں کی منڈیوں پر تھا جس وجہ سے وہ قافلوں کی صورت میں مغضوب قوموں کی سرزمین سے گزرتے اور ان کے آثار قدیمہ کو دیکھتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود عبرت حاصل کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوئے۔ عبرت حاصل کرنے کے لیے بنیادی اصول…
Read the full tafseer →40: وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَی الْقَرْیَۃِ (اور تحقیق ان کا گزر اس بستی کی طرف سے ہوتا ہے۔ )
نحو : اتواؔ کا فاعل اہل مکہ ہیں۔
القریہؔ سے مراد سدوم وغیرہ ہیں۔ یہ قوم لوط کا سب سے بڑا مرکزی شہر تھا۔ کل پانچ شہر تھے چار کو اللہ تعالیٰ نے اہل سمیت ہلاک کردیا۔ اور ایک ان میں سے باقی رہ گیا۔
الَّتِیْ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْ ئِ (جن پر بری بارش کی گئی) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر پتھر برسائے۔ قریش مکہ کا اکثر قافلوں میں گزر ان بسیتوں کے پاس سے ہوتا تھا یہ شام کی شارع پر واقع ہوتے تھے۔ ان بسیتوں کو پتھروں کی آسمانی بارش سے ہلاک کردیا گیا۔
نحو : مطر السوءؔ یہ مفعول ثانی ہے۔ اور اصل عبارت اس طرح ہے امطرت…
Read the full tafseer →40۔ ولقد اتوا علی القریۃ ، ،، مطرالسوء ، سے مراد پتھروں کی بارش ہے اور یہ بارش قوم لوط پر برسی۔ اس کی پانچ بستیاں تھیں۔ اللہ نے چار بستیوں کو ہلاک کرڈالا، اور ایک بستی بچ گئی۔ یہ چھوٹی سی بستی تھی اور یہ قوم لوط والابرا عمل نہیں کرتے تھے۔ افلم یکونوا یرونھا، جب یہ لوگ سفر کرتے ہیں اور اس بستی کے پاس سے گزرتے ہیں تو اس پر غور و فکر کرکے عبرت نہیں پکڑتے۔ کیونکہ شہر مدین مدینہ سے شام جانے والوں کے راستے کے درمیان میں آتا تھا، بل کانو لایرجون، وہ اس سے نہیں ڈرتے ۔ نشورا دوبارہ جی اٹھنے کی امید نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
38۔ 44:۔ سیرۃ ابن اسحاق اور مسند عبد بن حمید وغیرہ میں ایک روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن سب سے پہلے ایک حبشی غلام جنت میں جاوے گا کس لیے کہ پہلے زمانہ میں ایک نبی کو ان نبی کی قوم نے ایک کنویں میں ڈال کر اس کنویں کے منہ پر ایک پتھر کی سل ڈھانک دی تھی ‘ وہ حبشی غلام ان نبی پر ایمان لے آیا تھا ‘ اس لیے ہر روز لکڑیاں جنگل میں سے چن کر لاتا تھا اور ان لکڑیوں کو بیچ کر کچھ کھانے کی چیز خریدتا تھا اور قوم کے لوگوں سے چھپ کر اس کنویں پر آتا تھا اور اللہ تعالیٰ اس کو اتنی قوت دے دیتا کہ وہ اس بھاری پتھر کی سل کو کنویں کے منہ پر سے ہٹا کر ان نبی کو کھانا کھلاتا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیت 35 سے 40
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے، تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً حجر کے علاقے میں صالح (علیہ السلام) کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →47 قوم لوط کی بستی سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا " اور یقینا ان لوگوں کا گزر اس بستی پر بھی ہوتا ہے جس پر بڑی بری بارش برسائی گئی ہے "۔ اس سے مراد قوم لوط کی وہ تباہ شدہ اور الٹی ہوئی بستیاں ہیں جسکے باشندے اپنے خلاف وضع فطری فعل کے ارتکاب کی بنا پر اس ہولناک اور عبرتناک انجام سے دوچار ہوئے تھے۔ اور اہل مکہ اپنے تجارتی سفروں کے دوران ان کی ان تباہ شدہ بستیوں پر سے گزرا کرتے تھے۔ اس لئے ان کو اس طرح دعوت غور و فکر دی گئی ہے کہ یہ لوگ دوسری قوموں کے حالات سے اگر ناواقف و نابلد ہیں تو کیا یہ اس بدبخت قوم کے انجام سے بھی ناواقف ہیں جو کہ ان سے زیادہ دور بھی نہیں ؟ جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
پچھلی قوموں کا عبرت ناک انجام
تشریح : ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ سیدنا ابراہیم و اسمعٰیل (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور توحید کی ابتدا کی۔ مکہ میں خانہ کعبہ سب سے پہلا اللہ کا گھر بنایا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ لوگ ان کی تعلیمات بھولتے گئے۔ تو انہوں نے اپنی مرضی سے کئی مذہب بنا لیے تو عرب کے قدیم باشندوں نے عرب سے نکل کر بابل ‘ شام اور مصر میں حکومتیں قائم کی تھیں۔ ان کو عرب بائدہ یعنی جونا پید ہوگئے کہا جاتا ہے عاد اور ثمود کی قومیں اسی دور سے تعلق رکھتے تھے۔ سب کے پاس نبی بھیجے گئے، آسمانی کتابیں بھیجی گئیں جیسا کہ ان کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا جا چکا ہے کہ سب کے پاس کفار مکہ کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور اگر ان کی یہی دلیل ہو کہ قرآن یکبارگی نازل کیوں نہ ہوا تو قبل ازیں موسیٰ (علیہ السلام) کو تو یکبارگی کتاب عطا ہوئی تھی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی معاون بنا دیا گیا اور دونوں کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا یعنی فرعون اور آل فرعون کی طرف جنہوں نے ہماری آیات اور عظمت کے دلائل کو ماننے اور سمجھنے سے انکار کر رکھا تھا مگر انہوں نے کب مان کردیا تھا حتی کہ معجزات تک کا انکار کیا اور اپنے کفر پر قائم رہے تاآنکہ قہر الہی نے انہیں برباد کر کے نام ونشان مٹا دیا یعنی غرق دریا ہوگئے اگرچہ فرعون نزول کتاب سے قبل ہلاک ہوا مگر بعد کے کفار نے بھی تسلیم تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
10 ۔ استفہام توبیخے لئے ہے مطلب یہ ہے کہ ضرور یکھا ہوگا کیونکہ وہ شام کے راستہ پر واقع تھیں اور قریش اپنے سفروں میں آتے جاتے وہاں سے گزرتے تھے۔ 11 ۔ ” اس لئے سب کچھ دیکھتے ہیں مگر کسی چیز سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →(25:40) اتوا۔ اتیان سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب وہ پہنچے ۔ وہ آئے۔ وہ گذرے ۔ وہ لائے۔ ضمیر فاعل اہل مکہ کے لئے ہے۔ اتوا علی۔ کسی شے کے پاس سے گذرے ہیں۔
لقد اتوا علی میں لام تاکید کا ہے۔ اور قد اگرچہ ماضی کے ساتھ تقریب کا فائدہ دیتا ہے یعنی اس کو زمانہ حال سے نزدیک بنا دیتا ہے لیکن فعل ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے جیسے قولہ تعالی۔ قد افلح المومنون (23:1) بیشک بامراد ہوگئے ایمان والے۔ یہاں آیت ہذا (25:40) میں بھی یہ تحقیق کے معنی دیتا ہے۔ لقد اتوا علی القریۃ بیشک وہ ضرور گذرے ہیں اس بستی کے پاس سے۔ القریۃ سے مراد سدوم وغیرہ قوم لوط کے علاقے ہیں۔
امطرت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب امطار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 44 :
اخاہ ( اس کا بھائی) ‘(وزیر) بوجھ اٹھانے والا۔ مددگار) ‘ دمرنا (ہم نے تباہ کردیا) ‘ تدمیر ( اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ اعتدنا ( ہم نے تیار کردیا) ‘ قرون (قرن) قومیں۔ جماعتیں ‘ اصحب الرس (کنویں والے) ‘ تتبیر (اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ امطرت (برسایا گیا) ‘ مطرالسوئ (بدترین بارش) ‘ نشور (مرنے کے بعد زندہ ہونا) ‘ ھزو (مذاق۔ ہنسی۔ اڑانا) ‘ بعث (اس نے بھیجا) ‘ کا د (قریب ہے) ‘ صبرنا ( ہم جمے رہے) ‘ اضل (زیادہ گمراہ) ‘۔
تشریح آیت نمبر 35 تا 44 :
دنیا میں ہر ظالم و جابر اور قوت و طاقت رکھنے والے شخص کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کی خواہش کے غلام اور حکم کے بندے بن کر رہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
(ف 1) ارشاد ہوتا ہے یہ لوگ کچھ اس لیے اللہ کے رسول کو نہیں جھٹلاتے کہ قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں ان لوگوں کی نظر سے نہیں گزری بلکہ یہ لوگ تو اس لیے اللہ کے رسول کو مسخراپن میں اڑاتے ہیں کہ ان لوگوں کو ایک دن اللہ کے روبرو کھڑے ہونے کا جزاوسزا کا یقین نہیں ہے پھر فرمایا کہ کافر نبی ﷺ کے ساتھ تمسخر کیا کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اگر ہم اپنے دین پر قائم نہ رہتے تو انہوں نے ہمیں کبھی کا گمراہ کردیا ہوتا، اسی واسطے ان لوگوں نے بت پرستی کے وبال کو دل سے بھلا رکھا ہے عنقریب بوقت عذاب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کے رسول جو طریقہ ان کو بتلاتے تھے وہ اچھا تھا یابت پرستی کا طریقہ اچھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
[23] یعنی قوم لوط کی بستی۔
[24] یعنی پتھروں کی بارش۔
[25] یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے قائل نہ تھے کہ انھیں آخرت کے عذاب وثواب کی پروا ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
سنت اللہ
1: ان آیات میں اللہ کے اس قانون جاریہ کی تشریح ہے کہ جب کہ قوموں کے پاس اللہ کے رسول آئیں اور وہ ان کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دیں ۔ تو وہ ان کو تسلیم نہ کریں اور کج روی کو ترجیح دیں وہ پاکبازی کی جانب بلائیں ۔ اور ان کو فسق وفجور پسند ہو ۔ اگر اس وقت عذاب الٰہی آتا اور ان کا نام صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے ۔
موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرعون کو دعوت دی کہ وہ بنی اسرائیل پر مظالم ڈھانا چھوڑ دے ! اور ہرچند معجزات وخوارق سے اس کے حجاب کبرہ غرور کو اس کی آنکھوں سے دور کرنے کی کوشش کی ۔ مگر ناکامی ہوئی ۔ اس کو اپنی طاقت مادی پر بڑا ناز تھا ۔ اس لئے حقائق کو بصیرت کی آنکھ سے نہ دیکھ…
Read the full tafseer →(40) اور یہ مشرکین مکہ اس بستی پر ہوکر گزرے ہیں جس پر بری طرح کی بارش برسائی گئی تھی اور بڑا برسائو برسایا گیا تھا تو کیا انہوں نے اس بستی کو دیکھا نہیں یہ بات نہیں ہے بلکہ ان کو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا خوف ہی نہیں ہے قوم لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کی طرف اشارہ ہے یہ بستیاں شام کے راستے میں الٹی پڑی ہیں جن پر برے کاموں کی وجہ سے عذاب آیا تھا اور پھر کھنگر کے پتھر برسے تھے پھر بھی ان کو عبرت نہیں ہوئی کہ یہ کفر سے باز آجائیں چونکہ یہ آخرت کے منکر اس لئے کفر کو موجب سزا ہی نہیں سمجھتے بلکہ اس قسم کے عذاب کو اتفاقی بات سمجھتے ہیں ایک بستی جو بڑی تھی یعنی سدوم کا ذکر فرمایا اور بستیاں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
ف 5۔ یعنی ایسا آدمی رسول نہ ہونا چاہئے، اگر رسالت کوئی چیز ہے تو کوئی رئیس ہونا چاہئے تھا، پس یہ رسول نہیں۔
Read the full tafseer →بری بارش برسائی گئی بستی پر یہ لوگ اکثر گزرتے ہیں لیکن درس عبرت نہی لیتے :
40۔ قوم لوط کی بسیتوں کا ذکر پیچھے کئی مقامات پر گزر چکا ہے انہیں بستیوں کی معروف وہ بستی تھی جس کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے اور اہل مکہ کی متنبہ کیا گیا ہے کہ جب تمہارے تجارتی کارواں شام کی طرف جاتے ہوئے اس راستہ سے گزرتے ہیں جو راستہ سدوم کی ان بستیوں میں ہوتا ہوا گزرتا ہے اور اس کے نواح میں ان اجڑی پڑی بستیوں کے نشانات پر انکی نظر پڑتی ہے جہاں کبھی لوط (علیہ السلام) کی قوم آباد تھی تو کیا ان کے روئیں کھڑے نہیں ہوتے اور ان کے دلوں میں کبھی خطرہ پیدا نہیں ہوا کہ وہ بھی اس طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں جس طرح کی حرکتیں یہ قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
Commentary
In the above verses it is mentioned that it had been the common practice of the people through the ages to rebuff the prophets and the message they had brought. In order to give weight to this assertion a few of the well known prophets are mentioned who were rejected by their people and then they were subjected to Allah's wrath and were annihilated completely. By drawing a parallel with the past generations it is elucidated that the pagans of Makkah would not listen to any reason as they were no better than the animals or even worse than that.
It is stated about the people of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
53 The habitation referred to was that of the people of Prophet Lot, which was destroyed by a rain of stones. The people of Hijaz while traveling to Palestine and Syria, passed by its ruins and heard the horrible tales of its destruction .
54 As the disbelievers did not believe in the Hereafter, they looked at these ancient ruins as mere spectators and did not take any warning from them. Incidentally, this is the difference between the observation of a disbeliever and of a Believer in the Hereafter: the former looks at such things as a mere spectator or at the most as an archaeologist whereas…
Read the full tafseer →