Al-Furqaan 25:39

Al-Furqaan · from ayah 39

25:39

وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ ؗ— وَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا ۟وَكُلًّا ضَرَبۡنَا لَهُ الۡاَمۡثَالَ‌ ۖ وَكُلًّا تَبَّـرۡنَا تَـتۡبِيۡرًا

اور سب کے (سمجھانے کے لئے) ہم نے مثالیں بیان کیں اور (نہ ماننے پر) سب کا تہس نہس کردیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And for each We presented examples [as warnings], and each We destroyed with [total] destruction.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 4 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:39

اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے (پہلے تباہ ہونے والوں کی) مثالیں دے دے کر سمجھایا اور آخرکار ہر ایک کو غارت کر دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور سب کے (سمجھانے کے لئے) ہم نے مثالیں بیان کیں اور (نہ ماننے پر) سب کا تہس نہس کردیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے ان کے سامنے مثالیں بیان کیں پھر ہر ایک کو بالکل ہی تباه و برباد کردیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان میں سے ہر ایک کو سمجھانے کے لیے ہم نے مثالیں دیں، اور (جب وہ نہ مانے تو) ہر ایک کو ہم نے پیس کر رکھ دیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے سب سے مثالیں بیان فرمائیں اور سب کو تباہ کرکے مٹادیا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے (ان میں سے) ہر ایک (کی نصیحت) کے لئے مثالیں بیان کیں اور (جب وہ سرکشی سے باز نہ آئے تو) ہم نے ان سب کو نیست و نابود کر دیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہر ایک، ہم نے اس کے لیے مثالیں بیان کیں اور ہر ایک کو ہم نے تباہ کردیا، بری طرح تباہ کرنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان میں ہر ایک کے لئے ہم نے (پہلے تباہ شدہ قوموں کی) مثالیں بیان کرکے سمجھایا آخر ان سب کا نام و نشان تک مٹا دیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے ان میں سے ہر ایک کے لئے اپنی تعلیمات حکمت واضح کیں اور بالآخر ہر ایک کو نیست و نابود کردیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان میں سے ہر ایک شخص کو سمجھانے کے لیے پہلے تو ہم نے بڑی موثر اور بلیغ مثالیں بیان کیں اور آخرکار نہ ماننے پر ہم نے ان سب کو تہس نہس کر کے رکھ دیا

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے ہر ایک کے لئے عجیب عجیب مضامین بیان کئے اور ہر ایک کو ہم نے بالکل ہی برباد کردیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان سب کے لیے ہم نے مثالیں بیان کیں لیکن (ان کے انکار کی پاداش میں بالآخر) ہم نے ان سب کو غارت کردیا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور سب کے سمجھانے کے لیے ہم نے مثالیں بیان کیں اور نہ ماننے پر سب کو تہس نہس کردیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We admonished each one of them by citing the examples (of those who were destroyed before them) and ultimately annihilated all of them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

To each (of them) We cited examples, and each of them We brought to utter ruin.

— Muhammad Taqi Usmani

To each (of them) We cited examples, and each of them We brought to utter ruin.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And for each We put forward examples, and each We brought to utter ruin.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Each (of them) We warned by examples, and each (of them) We brought to utter ruin.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And for each We presented examples [as warnings], and each We destroyed with [total] destruction.

— Saheeh International

We gave guidance and drove each to destruction.

— Muhammad Sarwar

And to every one We gave examples and every one did We destroy with utter destruction.

— Muhammad Habib Shakir

And unto each! We propounded similitude thereunto; and each We ruined an utter ruin.

— Abdul Majid Daryabadi

To each one We set forth Parables and examples; and each one We broke to utter annihilation (for their sins).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 35–40

انبیاء سے دشمنی کا خمیازہ اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی ان کی مخالفت کی میں نے انہیں تہس نہس کردیا۔ فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آگیا اور سب ہلاک کردیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے اس واسطے یہاں رسل جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 38–39

سورة الْفُرْقَان 52 اصحاب الرس کے متعلق تحقیق نہ ہوسکا کہ یہ کون لوگ تھے۔ مفسرین نے مختلف روایات بیان کی ہیں مگر ان میں کوئی چیز قابل اطمینان نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ یہی ہے کہ یہ ایک ایسی قوم تھی جس نے اپنے پیغمبر کو کنوئیں میں پھینک کر یا لٹکا کر مارا تھا۔ رَس عربی زبان میں پرانے کنوئیں یا اندھے کو کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–42

خلاصہ تفسیر اور قوم نوح کو بھی (ان کے زمانہ میں) ہم ہلاک کرچکے ہیں (جن کی ہلاکت اور سبب ہلاکت کا بیان یہ ہے کہ) جب انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو (طوفان سے) غرق کردیا اور ہم نے ان (کے واقعہ) کو لوگوں (کی عبرت) کے لئے نشان بنادیا (یہ تو دنیا میں سزا ہوئی) اور (آخرت میں) ہم نے (ان) ظالموں کے لئے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔ اور ہم نے عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور ان کے بیچ بیچ میں بہت سی امتوں کو ہلاک کیا اور ہم نے (امم مذکورہ میں سے) ہر ایک (کی ہدایت) کے واسطے عجیب عجیب (یعنی موثر اور بلیغ) مضامین بیان کئے اور (جب نہ مانا تو) ہم نے سب کو بالکل ہی برباد کردیا۔ اور یہ (کفار ملک شام…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ضرب مثل کا مفہمو ضرب مثل یہاں پوری وضاحت و تفصیل اور تذکیر و تنبیہ کے تمام لوازم کے ساتھ حقائق وضاح کردینے کے مفہوم میں ہے۔ جب کسی کو کوئی بات اچھی طرح ذہن نشین اور اس کے عواقب و نتائج سے پوری طرح آگاہ کردینا ہو تو اس کے لئے حقائق کو مصور و ممثل کردینے والی تمثیلیں اور تاریخ کے احوال و واقعات سب سے زیادہ مئوثر ہوتے ہیں۔ حضرات انبیاء چونکہ لوگوں پر اللہ کی حجت تمام کرنے کے لئے آئے اس وجہ سے انہوں نے صرف اصول و ضوابط بیا نکر دینے ہی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ تمثیلات اور تاریخ کے احوال و واقعات سے ان کو اچھی طرح مدلل و مبرہن بھی کردیا۔ چناچہ آپ قرآن میں دیکھتے ہیں کہ ہر حقیقت امثال و واقعات سے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–40

14: اس سے مراد حضرت لوط ؑ کی قوم ہے جس کا واقعہ سورة ہود : 77 تا 83 میں گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 35–44

(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ” یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔ القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 39 وَکُلًّا ضَرَبْنَا لَہُ الْاَمْثَالَز ” اپنے اپنے وقت پر ان سب قوموں کو راہ ہدایت پر لانے کے لیے ان کے ماحول اور حالات کے مطابق ہم ٹھوس دلائل اور واضح حقائق پر مبنی تعلیمات ان کے سامنے پیش کرتے رہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

51 یعنی ہر قوم کے متعلق ہمارا طریقہ یہی رہا کہ ان کی طرف نبی بھیجا گیا جس نے اس قوم کو ساتھ اقوام کے انجام سے متنبہ کیا۔ پھر انھیں مختلف انداز سے مثالیں دے دے کر سمجھایا گیا۔ پھر انھیں غور و فکر کے لئے مہلت بھی دی گئی۔ ان سب باتوں کے بعد بھی جب وہ اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے رہے اور ان پر حجت قائم ہوگئی تو پھر ہم نے انھیں اس طرح تباہ کیا کہ ان کا نام و نشان نہ رہنے دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

43۔ یعنی ان میں سے ہر امت کو تبلیغ ہر اعتبار سے مؤثر وبلیغ ہوتی رہی، اس کے بعد بھی جب یہ لوگ ایمان نہ لائے تو عذاب سے ہلاک کردیئے گئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 35–44

آیت نمبر 35 تا 44 ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر (یعنی) معین بنادیا اور ہم نے دونوں کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری دلیلوں کو جھٹلایا ہے یعنی قبطیوں کی طرف جو کہ فرعون اور اس کی قوم ہے چناچہ (یہ دونوں) پیغام لیکر ان کے پاس گئے مگر ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو تہس نہس کردیا (یعنی) پوری طرح ہلاک کردیا اور قوم نوح کا تذکرہ کیجئے جبکہ انہوں نے (تمام) رسولوں کی تکذیب کی نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرکے، نوح (علیہ السلام) کے ان کے درمیان زمانہ دراز تک قیام کرنے کی وجہ سے، گویا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکلا ضربنا لہ الامثال وکلا تبرنا تتبیرا۔ اور ہم نے اقوام مذکورہ میں سے ہر ایک (کی ہدایت) کے لئے عجیب عجیب مضامین بیان کئے اور ہم نے سب کو برباد کردیا۔ ضَرَبْنَا لَہُ الْاَمْثَالَیعنی گزشتہ اقوام کے عجیب عجیب واقعات کا ہم نے بیان کیا ہے تاکہ لوگ ان سے عبرت حاصل کریں۔ وَکُلاًّ تَبَّرْنَا اور جب انہوں نے عبرت حاصل نہیں کی اور پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ اخفش نے تَبَّرْنا کا ترجمہ کیا ہے ہم نے ان کو توڑ دیا ‘ زجاج نے کہا کسی چیز کو توڑنے اور ریزہ ریزہ کرنے کو تتبیر کہتے ہیں۔ سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کو اسی لئے تبر کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(39) اور ہم نے قوم ہود ؑ قوم صالح ؑ اور قوم شعیب ؑ اور ان کے درمیان اور بہت سی امتوں کو ہلاک کیا ہے اور ان پہلی قوموں میں سے ہم نے ہر ایک قوم کو عذاب سے ڈرایا مگر اس کے باوجود وہ نہ مانے تو ہم نے ان سب کو یکے بعد دیگرے بالکل ہی تباہ کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ : یعنی ہم نے ہر ایک کو مثالیں اور دلائل دے دے کر سمجھایا۔ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے ہر ایک کو پہلی تباہ شدہ قوموں کی مثالیں بیان کرکے سمجھایا۔ وَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيْرًا : ”تَبَّرَ یُتَبِّرُ تَتْبِیْرًا“ کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کردینا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(وکلا ضربنا لہ۔۔۔۔ ) زجاج نے کہا : معنی ہے ہم نے سب کو ڈرایا، ان کے لیے امثال بیان کیں اور ان کے لیے حجت کو واضح کیا۔ ہم نے ان کی باطل امثال ذکر نہیں کیں جس طرح یہ کافر کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلا کو نصب، ذکرنا فعل کی وجہ سے ہے کیونکہ امثال کا ذکر کرنا یہ بھی وعظ و نصیحت ہے : مہدوی نے اس کا ذکر کیا۔ معنی ایک ہی ہے۔ ہم نے سب کو عذاب کے ساتھ ہلاک کردیا۔ تبرت الشئی میں نے اسے توڑ دیا۔ مورج اور اخفش نے کہا : ہم نے انہیں برباد کردیا، یعنی ” تبرنا تتبیرا “ کا معنی ” فد مرنھم تد میرا “ ہے تاء اور باء، دال اور میم سے بدلی ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 39–42

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی ” وکلا ضربنا لہ الامثال وکلا تبرنا تتبیرا “ سے مراد ہے کہ ہر ایک کے لیے اللہ تعالیٰ نے حجت تمام کی ہر ایک کے لیے دلائل کو واضح کیا پر ان سے انتقام لیا آیت ” ولقد اتوا علی القریۃ التی امطرت مطر السوء “ سے مراد ہے لوط (علیہ السلام) کی بستی آیت ” بل کانوا لایرجون نشورا “ (یعنی وہ لوگ نہ امید رکھتے تھے نہ اٹھنے کی اور نہ حساب کی۔ 2۔ عبدالرزاق وابن اجریر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وکلا تبرنا تتبیرا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو عذاب کے ذریعے ہلاک کردیا۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ [ اور ہم نے بیان کیں (ان میں سے) سب کے لئے ] الْاَمْثَالَ ۡ [ مثالیں (سمجھانے کو)] وَكُلًّا [ اور سب کو ] تَبَّرْنَا [ ہم نے برباد کیا ] تَتْبِيْرًا [ جیسے برباد کرنے کا حق ہے ] (آیت۔ 39) ۔ وَكُلًّا ضَرَبْنَا اور وَكُلًّا تَبَّرْنَا میں کلا مفعول مقدم ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 38–39

نوح (علیہ السلام) کی قوم اور فرعون عاد وثمود اور اصحاب الرس کی بربادی کا تذکرہ مشرکین کی گمراہی اور بدحالی کا حال ان آیات میں امم سابقہ کی تکذیب اور ہلاکت و تعذیب کا تذکرہ فرمایا ہے جو قرآن مجید کے مخاطبین کے لیے عبرت ہے اس کے بعد مشرکین مکہ کی شر پسندی کا تذکرہ فرمایا۔ ہلاک شدہ اقوام میں یہاں جن کا ذکر ہے ان میں اولاً فرعون اور اس کی قوم کا اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو غرق کردیا اور بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت بنا دیا۔ یہ ان کی دنیاوی سزا تھی اور آخرت میں ظالموں کے لیے عذاب الیم تیار فرمایا ہے اس کے بعد عاد اور ثمود اور اصحاب الرس کی ہلاکت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–40

قصہ سوم مشتمل بر ذکر قصہ قوم عاد وثمود و اصحاب رس و دیگر امم وعادا و ثمودا واصحب الرس .... الیٰ .... وکلا تبرنا تتبیرا۔ اور اسی تکذیب کی وجہ سے ہم نے قوم عاد کو باد صر صر سے ہلاک کیا جو ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی اور قوم ثمود کا صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی وجہ سے صیحہ سے ہلاک کیا جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے اور کنوئیں والوں کو شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک کیا اور ” رس “ ایک کنوئیں کا نام ہے یا کسی بستی کا نام ہے جن کی طرف شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ کسی اور نبی کی قوم تھی جنہوں نے اپنے پیغمبر کو کنوئیں میں بند کردیا۔ ان پر اللہ کا عذاب آیا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 35–39

27:۔ ” ولقد اتینا الخ “ یہ دعوی سورت پر پہلی نقلی دلیل ہے نیز منکرین دعوی کے لیے تخویف دنیوی ہے۔ یہاں اور اسی طرح اگلی نقلی دلیلوں میں اگرچہ دعوے کی صراحت نہیں لیکن جب ابتداء سورت میں تبارک سے دعوی ذکر کردیا گیا تو اب سورت میں جس قدر بھی دلائل مذکور ہوں گے خواہ عقلیہ ہوں خواہ نقلیہ وہ سب اسی دعوے کیلئے ہوں گے۔ فرمایا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جس میں مسئلہ توحید کو واضح کیا گیا اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت دے کر انکا معاون بنا دیا لیکن قوم نے ان کی تکذیب کی اور دلائل توحید کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں تباہ و برباد کردیا۔ ” وقوم نوح الخ “ یہ دوسری نقلی دلیل ہے اسی طرح حضرت نوح…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 35–40

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے رسالت کے بارے میں اعتراضات کے جوابات دیئے اور ان کے برے انجام کا ذکر کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے نبی اور اس کے پیرواکروں کو تسلی بھی دی ۔ فرمایا منکرین توحید و رسالت کی طرف سے صرف آپ کو ہی ایذا نہیں پہنچائی گئیں بلکہ اللہ کے ہر نبی کے ساتھ دشمنوں نے ایسا ہی سلوک کیا ۔ آپ گھبرائیں نہیں بلکہ اپنا کام کرتے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دینے والا اور آپ کا مددگار ہے۔ کفارو مشرکین نے یہ اعتراض بھی کیا کہ قرآن پاک کو اللہ کے نبی پر یکمشت کیوں نہیں نازل کیا گیا ۔ حالانکہ سابقہ کتب کا یہ توریت ، انجیل و دیگرصحیفے انبیاء (علیہم السلام) پر بیک…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَہُ الْاَمْثَالَ۝ 0ۡوَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيْرًا۝ 39 ضَرْبُ المَثلِ هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ، ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] خدا ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] اور ان سے قصہ بیان کرو ۔ ضَرَبَ لَكُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 35–44

ترکیب : ہارون بدل من اخاہ وزیرا مفعول ثان بجعلنا وقوم یجوزان یکون معطوفا علی دمرنا یا مفعول اذکر محذوف۔ علی ہذا القیاس عادا و ثمودا الخ، تفسیر : جبکہ توحیدِ و نفی انداد و اثبات نبوت میں کلام ہوچکا اور منکرین کے شبہات رد کردیے گئے اور قیامت کا حال اور منکرین کا وبال بھی بیان ہوچکا تو مجملاً انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ان کے دشمنوں پر آخر کار کیا کیا بلائیں نازل ہوئیں کیونکہ آپ کی تسلی کے لیے پہلے فرمایا تھا وکذالک جعلنا لکل نبی عدوًا اور قرآن کا یہی طریقہ ہے کہ ایسے موقعوں پر قصص انبیاء بیان ہوتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ ان کے تذکرہ بار بار آتے ہیں۔ فقال ولقد اتینا موسیٰ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَکُلاًّ ضَرَبْنَالَـہُ الْاَمْثَالَ ز وَکُلاًّ تَبـَّرْنَا تَتْبِیْرًا۔ (الفرقان : 39) (ہم نے ان میں سے ہر ایک کو مثالیں دے دے کر سمجھایا اور بالآخر ہر ایک کو نیست و نابود کردیا۔ ) ضربِ مثل کا مفہوم ضرب مثل کا معنی ہوتا ہے کسی بات کو تمام ممکن ذرائع اور لوازم کے ساتھ واضح کردینا۔ جس میں مثالیں بھی شامل ہیں، تذکیر و تنبیہ بھی، اور ہر بات کی پوری تفصیل بھی۔ پیش نظر صرف یہ ہوتا ہے کہ بات کو اتنا کھول دیا جائے اور اس کے عواقب و نتائج کو اتنا واضح کردیا جائے کہ سننے والے کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ کیونکہ حقائق کو سپاٹ انداز میں بیان کردینے سے بات کہنے کا حق تو ادا ہوجاتا ہے لیکن تفہیم و…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد قوم عاد، ثمود اور کنویں والوں کا انجام۔ یہاں چند الفاظ میں قوم عاد، ثمود، کنویں والوں اور ان کے بعد نامعلوم اقوام کی تباہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن کے بیان کا مقصد ان کے بعد آنے والی اقوام بالخصوص امت مسلمہ اور دیگر لوگوں کے لیے عبرت کے دلائل مہیا کرنا ہے تاکہ لوگ اپنے آپ کو ان جرائم سے بچانے کی کوشش کریں جن جرائم کی بنیاد پر ان قوموں کو تباہی کے گھاٹ اتار دیا گیا اور ان کی تاریخ رہتی دنیا کے لیے حسرت کا پیغام بنا دی گئی۔ یہاں قرآن مجید نے ان قوموں کی تاریخ کو چند الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ اسی اختصار کے پیش نظر اِ ن اقوام کی تباہی کی ایک جھلک پیش…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

39: وَکُلًّا ضَرَبْنَا لَہُ الْاَمْثَالَ (تمام کیلئے ہم نے مثالیں بیان کیں) یعنی پہلے لوگوں کے عجیب عجیب واقعات بیان کیے۔ وَکُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا (ہم نے تمام کو برباد کردیا) ان کو بالکل ہلاک کردیا۔ نحو : پہلا کلاً انذرنا کی وجہ سے محذوف یا حذرنا کی وجہ سے اور دوسرا کلاً تبرنا کی وجہ سے محذوف ہے وہ اس کے لئے فارغ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

39۔ وکلاضربنا لہ الامثال، ان جیسی مشابہ چیزیں تاکہ ان پر کوئی حجت تام ہوجائے ہم کسی کو بھی ہلاک نہیں کرتے مگر ڈرانے کے بعد۔ وکلاتبرتتبیرا۔ یعنی ہم ان کو ہلاک کریں گے ہلاک کرنا۔ اخفش نے ، تبرنا ، کا ترجمہ کیا ہے ہم نے ان کو توڑ دیا زجاج نے کہا کہ کسی چیز کو توڑنے اور ریزہ ریزہ کرنے کو تتبیر کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–44

38۔ 44:۔ سیرۃ ابن اسحاق اور مسند عبد بن حمید وغیرہ میں ایک روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن سب سے پہلے ایک حبشی غلام جنت میں جاوے گا کس لیے کہ پہلے زمانہ میں ایک نبی کو ان نبی کی قوم نے ایک کنویں میں ڈال کر اس کنویں کے منہ پر ایک پتھر کی سل ڈھانک دی تھی ‘ وہ حبشی غلام ان نبی پر ایمان لے آیا تھا ‘ اس لیے ہر روز لکڑیاں جنگل میں سے چن کر لاتا تھا اور ان لکڑیوں کو بیچ کر کچھ کھانے کی چیز خریدتا تھا اور قوم کے لوگوں سے چھپ کر اس کنویں پر آتا تھا اور اللہ تعالیٰ اس کو اتنی قوت دے دیتا کہ وہ اس بھاری پتھر کی سل کو کنویں کے منہ پر سے ہٹا کر ان نبی کو کھانا کھلاتا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 35–44

آیت 35 سے 40 اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے، تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً حجر کے علاقے میں صالح (علیہ السلام) کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 38–39

46 اصحاب الرسّ یعنی کنویں والوں سے مراد ؟ : ان کنوئیں والوں کی تعیین کے بارے میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں مگر ۔ " اَبْہِمُوْا مَا اَبْہَمَہُ الْقُرْآن " ۔ کے ضابطہ عام کے مطابق اس بارے میں زیادہ زور لگانے کی ضرورت نہیں۔ بس اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ یہ بھی کفار ناہنجار ہی کی کوئی ایسی قوم تھی جو اپنے کفر و انکار کی بناء پر تباہ ہوئی۔ رسّ کے معنیٰ پرانے کنوئیں یا اندھے کنوئیں کے آتے ہیں۔ سو یہ لوگ کسی ایسے ہی کنوئیں کے پاس رہتے تھے۔ اور ان بدبختوں نے اپنے پیغمبر کو اس کنویں میں ڈال کر یا اس میں لٹکا کر ہلاک کردیا۔ اور اس کے نتیجے میں ان کو تباہ کردیا گیا۔ علامہ آلوسی (رح) اپنی تفسیر میں ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 35–44

پچھلی قوموں کا عبرت ناک انجام تشریح : ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ سیدنا ابراہیم و اسمعٰیل (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور توحید کی ابتدا کی۔ مکہ میں خانہ کعبہ سب سے پہلا اللہ کا گھر بنایا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ لوگ ان کی تعلیمات بھولتے گئے۔ تو انہوں نے اپنی مرضی سے کئی مذہب بنا لیے تو عرب کے قدیم باشندوں نے عرب سے نکل کر بابل ‘ شام اور مصر میں حکومتیں قائم کی تھیں۔ ان کو عرب بائدہ یعنی جونا پید ہوگئے کہا جاتا ہے عاد اور ثمود کی قومیں اسی دور سے تعلق رکھتے تھے۔ سب کے پاس نبی بھیجے گئے، آسمانی کتابیں بھیجی گئیں جیسا کہ ان کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا جا چکا ہے کہ سب کے پاس کفار مکہ کی طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 35–44

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اور اگر ان کی یہی دلیل ہو کہ قرآن یکبارگی نازل کیوں نہ ہوا تو قبل ازیں موسیٰ (علیہ السلام) کو تو یکبارگی کتاب عطا ہوئی تھی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی معاون بنا دیا گیا اور دونوں کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا یعنی فرعون اور آل فرعون کی طرف جنہوں نے ہماری آیات اور عظمت کے دلائل کو ماننے اور سمجھنے سے انکار کر رکھا تھا مگر انہوں نے کب مان کردیا تھا حتی کہ معجزات تک کا انکار کیا اور اپنے کفر پر قائم رہے تاآنکہ قہر الہی نے انہیں برباد کر کے نام ونشان مٹا دیا یعنی غرق دریا ہوگئے اگرچہ فرعون نزول کتاب سے قبل ہلاک ہوا مگر بعد کے کفار نے بھی تسلیم تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 39–40

10 ۔ استفہام توبیخے لئے ہے مطلب یہ ہے کہ ضرور یکھا ہوگا کیونکہ وہ شام کے راستہ پر واقع تھیں اور قریش اپنے سفروں میں آتے جاتے وہاں سے گزرتے تھے۔ 11 ۔ ” اس لئے سب کچھ دیکھتے ہیں مگر کسی چیز سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:39) کلا ضربنا لہ الامثال۔ الامثال۔ مثالیں۔ مثل اور مثل کی جمع ہے۔ جس کے معنی مانند اور نظیر کے ہیں۔ قرآن حکیم میں مثالیں عبرت پکڑنے کی خاطر بیان کی گئی ہیں۔ ضربنا الامثال۔ ہم نے مثالیں بیان کیں (تاکہ مخاطبین عبرت حاصل کریں) ۔ یہاں ضربنا الامثال۔ بمعنی انذرنا وحذرنا ہے۔ یعنی ہم نے ڈرایا اور متنبہ کیا۔ اور اس معنی کی رعایت سے کلا منصوب ہے۔ ای حذرنا کل واحد منہم ہم نے ان میں سے ہر ایک کو مثالیں دے دے کر (اعمال بد کے انجام سے) ڈرایا۔ یا حذرنا کلہم ہم نے ان سب کو متنبہ کیا۔ کلا تبرنا تتبیرا۔ کلا مفعول ہے تبرنا کا ۔ مقدم لایا گیا ہے۔ التبر (ضرب) کے معنی توڑ دینے اور ہلاک کردینے کے ہیں جیسے کہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 35–44

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 44 : اخاہ ( اس کا بھائی) ‘(وزیر) بوجھ اٹھانے والا۔ مددگار) ‘ دمرنا (ہم نے تباہ کردیا) ‘ تدمیر ( اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ اعتدنا ( ہم نے تیار کردیا) ‘ قرون (قرن) قومیں۔ جماعتیں ‘ اصحب الرس (کنویں والے) ‘ تتبیر (اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ امطرت (برسایا گیا) ‘ مطرالسوئ (بدترین بارش) ‘ نشور (مرنے کے بعد زندہ ہونا) ‘ ھزو (مذاق۔ ہنسی۔ اڑانا) ‘ بعث (اس نے بھیجا) ‘ کا د (قریب ہے) ‘ صبرنا ( ہم جمے رہے) ‘ اضل (زیادہ گمراہ) ‘۔ تشریح آیت نمبر 35 تا 44 : دنیا میں ہر ظالم و جابر اور قوت و طاقت رکھنے والے شخص کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کی خواہش کے غلام اور حکم کے بندے بن کر رہیں۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–39

(ف 2) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے سے جس طرح قوم نوح اور قوم فرعون کے لوگ دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑے گئے وہی حال عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں کا اور بہت سی بستی والوں کا ہوا، کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیج کر ان لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا جب یہ لوگ اپنی عادت سے باز نہ آئے تو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے چناچہ ملک شام کے سفر میں قوم لوط کی الٹی ہوئی اور پتھروں کے مینہ سے اجڑی ہوئی بستیاں ان مشرکین کو نظر آتی ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 38–39

[22] کنوئیں والے کون تھے ؟ ان کے بارے میں مفسرین میں سخت اختلاف ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 39–40

سنت اللہ 1: ان آیات میں اللہ کے اس قانون جاریہ کی تشریح ہے کہ جب کہ قوموں کے پاس اللہ کے رسول آئیں اور وہ ان کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دیں ۔ تو وہ ان کو تسلیم نہ کریں اور کج روی کو ترجیح دیں وہ پاکبازی کی جانب بلائیں ۔ اور ان کو فسق وفجور پسند ہو ۔ اگر اس وقت عذاب الٰہی آتا اور ان کا نام صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرعون کو دعوت دی کہ وہ بنی اسرائیل پر مظالم ڈھانا چھوڑ دے ! اور ہرچند معجزات وخوارق سے اس کے حجاب کبرہ غرور کو اس کی آنکھوں سے دور کرنے کی کوشش کی ۔ مگر ناکامی ہوئی ۔ اس کو اپنی طاقت مادی پر بڑا ناز تھا ۔ اس لئے حقائق کو بصیرت کی آنکھ سے نہ دیکھ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(39) اور ہم نے ان سب کے سمجھانے کے لئے عجیب عجیب واقعات اور عمدہ عمدہ مضامین بیان کئے تھے اور ان کے انکار پر انجام کار ان سب کو ہلاک کرڈالا یعنی عاد اور ثمود اور اصحاب رس اور ان کے درمیان اور بہت سی بستیوں کو اور قوموں کو تباہ و برباد کردیا حالانکہ ان کے سامنے ہر قسم کے دلائل و شواہد اور اچھے اچھے مضامین بیان کئے گئے لیکن انہوں نے مان کر نہ دیا اور بالآخر ان سب کو ہلاک کردیا گیا کنویں والے شاید یہ بھی کوئی قوم ہوگی جو اپنی نافرمانی کے باعث ہلاک ہوئی شاید ثمود کی بقیہ قوم کی طرف اشارہ ہو رس کچے کنویں کو کہتے ہیں جس میں اینٹ نہ لگائی جائے صرف پتھررکھ دئیے مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں حضرت شاہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 39–41

ف 5۔ یعنی ایسا آدمی رسول نہ ہونا چاہئے، اگر رسالت کوئی چیز ہے تو کوئی رئیس ہونا چاہئے تھا، پس یہ رسول نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے سب کے سامنے اس طرح کی مثالیں پیش کیں لیکن انہوں نے ان پر کان نہ رکھا : 39۔ مطلب یہ ہے کہ قوم کو سمجھانا مقصود تھا ہم نے اس کے سامنے اس قوم سے پہلے گزرنے والی قوموں کی تباہی و بربادی کی مثالیں دے دے کر سمجھایا لیکن ان میں بہت کم قومیں ایسی تھیں جنہوں نے اس کو سمجھا لیکن زیادہ قوموں اور قوموں میں سے زیادہ تر لوگوں نے اس سننے کو ان سنا کردیا اور گزشتہ قوموں کی نقل میں وہی کیا جو گزشتہ قومیں کرتی آرہی تھیں لیکن اس کا نتیجہ کیا رہا ؟ بلاشبہ نتیجہ بھی وہی رہا جو گزشتہ قومیں دیکھ چکی تھیں کہ ان کو بھی صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–42

Commentary In the above verses it is mentioned that it had been the common practice of the people through the ages to rebuff the prophets and the message they had brought. In order to give weight to this assertion a few of the well known prophets are mentioned who were rejected by their people and then they were subjected to Allah's wrath and were annihilated completely. By drawing a parallel with the past generations it is elucidated that the pagans of Makkah would not listen to any reason as they were no better than the animals or even worse than that. It is stated about the people of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–39

52 There is no definite knowledge about "the people of the Raas'' . Different commentators have said different things about them, but nothing is convincing. The only thing that may be said about them is that they were a people who had killed their Prophet by throwing him into or hanging him down a "Rass " (an old or dry well).

Read the full tafseer →