Explained with ayahs 35–40
انبیاء سے دشمنی کا خمیازہ
اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی ان کی مخالفت کی میں نے انہیں تہس نہس کردیا۔ فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آگیا اور سب ہلاک کردیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے اس واسطے یہاں رسل جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
سورة الْفُرْقَان 52
اصحاب الرس کے متعلق تحقیق نہ ہوسکا کہ یہ کون لوگ تھے۔ مفسرین نے مختلف روایات بیان کی ہیں مگر ان میں کوئی چیز قابل اطمینان نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ یہی ہے کہ یہ ایک ایسی قوم تھی جس نے اپنے پیغمبر کو کنوئیں میں پھینک کر یا لٹکا کر مارا تھا۔ رَس عربی زبان میں پرانے کنوئیں یا اندھے کو کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
خلاصہ تفسیر
اور قوم نوح کو بھی (ان کے زمانہ میں) ہم ہلاک کرچکے ہیں (جن کی ہلاکت اور سبب ہلاکت کا بیان یہ ہے کہ) جب انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو (طوفان سے) غرق کردیا اور ہم نے ان (کے واقعہ) کو لوگوں (کی عبرت) کے لئے نشان بنادیا (یہ تو دنیا میں سزا ہوئی) اور (آخرت میں) ہم نے (ان) ظالموں کے لئے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔ اور ہم نے عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور ان کے بیچ بیچ میں بہت سی امتوں کو ہلاک کیا اور ہم نے (امم مذکورہ میں سے) ہر ایک (کی ہدایت) کے واسطے عجیب عجیب (یعنی موثر اور بلیغ) مضامین بیان کئے اور (جب نہ مانا تو) ہم نے سب کو بالکل ہی برباد کردیا۔ اور یہ (کفار ملک شام…
Read the full tafseer →یہاں فعل اھلکنا بربنائے قرینہ حذف ہے۔
اصحاب الرس کون تھے ؟
اصحاب الرس کی تحقیق میں مجھے افسوس ہے کہ اب تک کامیابی نہ ہوسکی۔ ابن جریر نے متعدد نام ذکر کئے ہیں لیکن ان میں سے کسی پر ان کو خود بھی اطمینان نہیں ہے۔ انہوں نے بحث کے آخر میں یہ ظاہر بھی کردیا ہے کہ ان میں سے کسی کے متعلق بھی وثوق کے ساتھ کوئی بات نہیں کہی جاسکتی۔
صاحب کشاف نے دوسرے ناموں کے ساتھ قوم شعیب کی طرف بھی اشارہ کیا ہے بلکہ اسی کو مقدم رکھا ہے لیکن یہ بات کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے اس لئے کہ سورة ق میں اصحاب الرس اور اصحاب الایکہ دونوں نام الگ الگ دو مستقبل قوموں کے لئے آئے ہیں اور اصحاب الایکہ سے خود قرآن کی تصریح کے مطابق…
Read the full tafseer →38-1رس کے معنی کنویں کے ہیں۔ اَصْحَاب الرَّس کنوئیں والے۔ اس کی تعین میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، امام ابن جریر طبری نے کہا کہ اس سے مراد اصحاب الاخدود ہیں جن کا ذکر سورة البروج میں ہے (ابن کثیر)
38-2قرن کے صحیح معنی ہیں ہم عصر لوگوں کا ایک گروہ۔ جب ایک نسل کے لوگ ختم ہوجائیں تو دوسری نسل دوسرا قدیم زمانہ کہلائے گی۔ (ابن کثیر) ، اس کے معنی ہیں ہر نبی کی امت بھی ایک زمانہ ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
13: عاد وثمود کا تعارف سورة اعراف : 65 تا 84 میں گذر چکا ہے اور ”اصحاب الرس“ کے لفطی معنی ہیں ”کنویں والے“۔ بظاہر یہ لوگ کسی کنویں کے پاس آباد تھے۔ قرآن کریم نے بس اتنا ذکر فرمایا ہے کہ انہیں ان کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کیا گیا، ان کے بارے میں مختلف تاریخی روایتیں ملتی ہیں، لیکن ان کے واقعے کی کوئی تفصیل نہ قرآن کریم نے بتائی ہے، نہ کسی مستند حدیث میں آئی ہے۔ اتنی بات ظاہر ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر بھیجے گئے تھے جن کی انہوں نے نافرمانی کی، اور اس کی وجہ سے ان کو ہلاک کیا گیا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں لٹکا کر پھانسی دی تھی۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ”
یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔
القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘…
Read the full tafseer →9 " اصحاب الرس " (کنوئیں والے) کون تھے ؟ اس میں سخت اختلاف ہوا ہے۔ " روح المعانی " میں بہت سے اقوال نقل کر کے لکھا ہے۔ " وَمُلَخِّصُ الْاَقْوَال اِنَّہُمْ قَوْمٌ اَہْلَکَہُمُ اللّٰہُ بِتَکْذِیْب مَنْ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ " (یعنی خلاصہ یہ ہے کہ وہ کوئی قوم تھی جو اپنے پیغمبر کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک ہوئی) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " ایک امت نے اپنے رسول کو کنوئیں میں بند کیا پھر ان پر عذاب آیا تب وہ رسول خلاص ہوا۔ "
Read the full tafseer →آیت 38 وَّعَادًا وَّثَمُوْدَا وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوْنًام بَیْنَ ذٰلِکَ کَثِیْرًا ”
”اصحاب الرس“ کے بارے میں صراحت نہیں ملتی کہ یہ کون سی قوم تھی اور ان کا زمانہ اور علاقہ کون سا تھا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کسی کنویں میں بند کردیا تھا۔ اس لیے انہیں کنویں والے کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →50 قوم عاد وثمود کا ذکر تو قرآن میں بہت سے مقامات پر مذکور ہے مگر اصحاب الرس یا کنویں والوں کا ذکر صرف دو مقامات پر آیا ہے۔ ایک اسی جگہ اور دوسری سورة ق کی آیت نمبر 12 میں۔ ان مقامات پر ان کا ذکر اس قدر مختصر ہے جس سے ان کے حالات پر کچھ روشنی نہیں پڑتی۔ نہ ہی یہ معلوم ہوسکا ہے کہ ان کی طرف کون سا نبی مبعوث ہوا تھا۔ لغوی لحاظ سے رس بڑے کنوئیں کو کہتے ہیں۔ جس میں پانی وافر مقدار میں موجود ہو (ل ص 263) اسی وجہ سے اصحاب الرس کے بارے میں مفسرین میں کئی قسم کے اختلافات ہیں۔ زیادہ مشہور یہی بات ہے اس سے مراد اہل انطاکیہ ہیں۔ ان کی طرف حبیب نجار نبی مبعوث ہوئے تو انہوں نے انھیں جھٹلایا لیکن آپ بدستور…
Read the full tafseer →42۔ (ان کے انکار، تکذیب ونافرمانی کی بنا پر) (آیت) ” اصحب الرس “۔ اصحاب رس سے متعلق مختلف قول نقل ہوئے ہیں، رس محققین کے قول کے مطابق ایک شہر علاقہ یمامہ میں تھا۔ یہاں قوم ثمود کا کوئی قبیلہ آباد تھا۔ الرس قریۃ بفلج الیمامۃ وھم بقیۃ ثمود (کبیر) ھم اھل قریۃ من قری ثمود (ابن کثیر عن ابن عباس ؓ موجودہ نقشوں میں یہ مقام وادی رمہ کے علاقہ میں ملتا ہے طلول البلد مشرقی 43۔ عرض البلد شمالی 26۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیت نمبر 35 تا 44
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر (یعنی) معین بنادیا اور ہم نے دونوں کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری دلیلوں کو جھٹلایا ہے یعنی قبطیوں کی طرف جو کہ فرعون اور اس کی قوم ہے چناچہ (یہ دونوں) پیغام لیکر ان کے پاس گئے مگر ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو تہس نہس کردیا (یعنی) پوری طرح ہلاک کردیا اور قوم نوح کا تذکرہ کیجئے جبکہ انہوں نے (تمام) رسولوں کی تکذیب کی نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرکے، نوح (علیہ السلام) کے ان کے درمیان زمانہ دراز تک قیام کرنے کی وجہ سے، گویا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کئی…
Read the full tafseer →وعادا وثمودا واصحب الرس اور عاد وثمود اور رس والوں (کا ذکر کرو کہ ان) کو ہم نے ہلاک کیا۔
عاد وثمود کے واقعات کا تذکرہ سورة اعراف وغیرہ میں آچکا ہے۔
اَصْحٰبُ الرَّسِّ قاموس میں ہے رس کسی چیز کی ابتداء۔ وہ کنواں جس کے گرداگرد من بنا دی گئی ہو۔ درست کرنا ‘ بگاڑنا ‘ کھودنا ‘ مردہ کو دفن کرنا۔ آذربائیجان کی ایک وادی کا نام رس الحمی ورسیسی ارلحمی بخار کا آغاز۔
اصحاب الرس جس قوم کو کہا گیا اس کی وجہ تسمیہ یا یہ ہے کہ وہ شرو کفر کی ابتداء کرنے والی تھی یا کنویں والی تھی (کنوئیں کے گرداگرد آباد ہوگئی تھی) یا اس وادی کے رہنے والی تھی جس کا نام رس تھا۔ یا یہ وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے نبی (غالباً حضرت…
Read the full tafseer →(38) اور ہم نے ان مشرکین بالخصوص مشرکین مکہ کے لیے دوزخ میں دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔
Read the full tafseer →وَّعَادًا وَّثَمُــوْدَا۟ وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ : نوح ؑ سب سے پہلے نبی ہیں جن کی امت انھیں جھٹلانے کی وجہ سے غرق ہوئی اور موسیٰ ؑ آخری نبی ہیں جن پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے فرعون اور اس کی آل غرق ہوئی۔ اس آیت میں ان کے درمیان کے لوگوں کا ذکر ہے جو پانی کے سوا ہلاک کیے گئے۔ ”الرَّسِّ“ کا معنی کنواں اور جمع ”رِسَاسٌ“ ہے۔ ابن جریر نے فرمایا : ”کلام عرب میں ”الرَّسِّ“ ہر کھودی ہوئی جگہ کو کہتے ہیں، مثلاً کنواں اور قبر وغیرہ۔“ اس لیے بعض نے اس سے مراد ”اصحاب الاخدود“ بھی لیے ہیں۔ شنقیطی نے فرمایا : ”عاد وثمود کا قصہ قرآن کی متعدد آیات میں آیا ہے، رہے ”اَصْحٰبَ الرَّسِّ“ تو قرآن میں نہ ان کے قصے کی…
Read the full tafseer →(وعاد اوثمود
” وعاد او ثمودا او اصحب الرس و قرونا بین ذلک کثیرا “ یہ سب قوم نوح پر معطوف ہیں جب قوم نوح معطوف یا اذکر فعل کی وجہ سے منصوبہ ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ قد مرنھم کیھم ضمیر پر عطف کی وجہ سے منصوب ہو یا جعلنھم کی ھم ضمیر پر عطف کی وجہ سے منصوب ہو، یہ نحاس کا پ سندیدہ نقطہ نظر ہے، کیونکہ یہی اسکے قریب تر ہے، یہ بھی جائز ہے کہ یہ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہو یعنی اس قوم عاد کو یاد کرو جنہوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے بانجھ ہوا کے ساتھ انہیں ہلاک کردیا اور قوم ثمود کو یاد کرو جنہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو انہیں زلزلہ کے ساتھ ہلاک کردیا۔
واصحب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
1۔ ابن جریر وابن المنذر ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اولئک شر مکانا “ سے مراد ہے کہ یہ کافر بری جگہ ہوں گے اہل جنت کے مقابلہ میں آیت ” واضل سبیلا “ یعنی طریقے کے لحاظ سے بھی بہت گمراہ ہیں۔
2۔ عبد بن حمدی وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجعلنا معہ اخاہ ہر وان وزیرا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کے بھائی ہارون کو ان کا مددگار اور سہارا بنادیا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فدمرنہم تد میرا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو عذاب کے ساتھ ہلاک کردیا۔
4۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت ” وعادا وثمودا “ یعنی ثمودا کو…
Read the full tafseer →وَّعَادًا [ اور (ہم نے ہلاک کیا) عدا کو ] وَّثَمُــوْدَا۟ [ اور ثمود کو ] وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ [ اور کنویں والوں کو ] وَقُرُوْنًــۢا بَيْنَ ذٰلِكَ كَثِيْرًا [ اور بہت سی قوموں کو ان کے درمیان (کے عرصہ میں)]
ر س س
(ن) رسا کنواں کھودنا۔
رس اسم ذات ہے ۔ کنواں۔ زیر مطالعہ آیت۔ 38 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
نوح (علیہ السلام) کی قوم اور فرعون عاد وثمود اور اصحاب الرس کی بربادی کا تذکرہ مشرکین کی گمراہی اور بدحالی کا حال
ان آیات میں امم سابقہ کی تکذیب اور ہلاکت و تعذیب کا تذکرہ فرمایا ہے جو قرآن مجید کے مخاطبین کے لیے عبرت ہے اس کے بعد مشرکین مکہ کی شر پسندی کا تذکرہ فرمایا۔
ہلاک شدہ اقوام میں یہاں جن کا ذکر ہے ان میں اولاً فرعون اور اس کی قوم کا اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو غرق کردیا اور بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت بنا دیا۔ یہ ان کی دنیاوی سزا تھی اور آخرت میں ظالموں کے لیے عذاب الیم تیار فرمایا ہے اس کے بعد عاد اور ثمود اور اصحاب الرس کی ہلاکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
قصہ سوم مشتمل بر ذکر قصہ قوم عاد وثمود و اصحاب رس و دیگر امم
وعادا و ثمودا واصحب الرس .... الیٰ .... وکلا تبرنا تتبیرا۔
اور اسی تکذیب کی وجہ سے ہم نے قوم عاد کو باد صر صر سے ہلاک کیا جو ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی اور قوم ثمود کا صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی وجہ سے صیحہ سے ہلاک کیا جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے اور کنوئیں والوں کو شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک کیا اور ” رس “ ایک کنوئیں کا نام ہے یا کسی بستی کا نام ہے جن کی طرف شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ کسی اور نبی کی قوم تھی جنہوں نے اپنے پیغمبر کو کنوئیں میں بند کردیا۔ ان پر اللہ کا عذاب آیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–39
27:۔ ” ولقد اتینا الخ “ یہ دعوی سورت پر پہلی نقلی دلیل ہے نیز منکرین دعوی کے لیے تخویف دنیوی ہے۔ یہاں اور اسی طرح اگلی نقلی دلیلوں میں اگرچہ دعوے کی صراحت نہیں لیکن جب ابتداء سورت میں تبارک سے دعوی ذکر کردیا گیا تو اب سورت میں جس قدر بھی دلائل مذکور ہوں گے خواہ عقلیہ ہوں خواہ نقلیہ وہ سب اسی دعوے کیلئے ہوں گے۔ فرمایا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جس میں مسئلہ توحید کو واضح کیا گیا اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت دے کر انکا معاون بنا دیا لیکن قوم نے ان کی تکذیب کی اور دلائل توحید کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں تباہ و برباد کردیا۔ ” وقوم نوح الخ “ یہ دوسری نقلی دلیل ہے اسی طرح حضرت نوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے رسالت کے بارے میں اعتراضات کے جوابات دیئے اور ان کے برے انجام کا ذکر کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے نبی اور اس کے پیرواکروں کو تسلی بھی دی ۔ فرمایا منکرین توحید و رسالت کی طرف سے صرف آپ کو ہی ایذا نہیں پہنچائی گئیں بلکہ اللہ کے ہر نبی کے ساتھ دشمنوں نے ایسا ہی سلوک کیا ۔ آپ گھبرائیں نہیں بلکہ اپنا کام کرتے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دینے والا اور آپ کا مددگار ہے۔
کفارو مشرکین نے یہ اعتراض بھی کیا کہ قرآن پاک کو اللہ کے نبی پر یکمشت کیوں نہیں نازل کیا گیا ۔ حالانکہ سابقہ کتب کا یہ توریت ، انجیل و دیگرصحیفے انبیاء (علیہم السلام) پر بیک…
Read the full tafseer →وَّعَادًا وَّثَمُــوْدَا۟ وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوْنًۢـــا بَيْنَ ذٰلِكَ كَثِيْرًا 38
ثمد
ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ النساء أي :
قطعن مادّة مائه لکثرة غشیانه لهنّ ، ومَثْمُود : إذا کثر عليه السّؤال حتی فقد مادة ماله .
( ث م د ) ثمود
( حضرت صالح کی قوم کا نام ) بعض اسے معرب بتاتے ہیں اور قوم کا علم ہونے کی ہوجہ سے غیر منصرف ہے اور بعض کے نزدیک عربی ہے اور ثمد سے مشتق سے ( بروزن فعول ) اور ثمد ( بارش) کے تھوڑے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
ترکیب : ہارون بدل من اخاہ وزیرا مفعول ثان بجعلنا وقوم یجوزان یکون معطوفا علی دمرنا یا مفعول اذکر محذوف۔ علی ہذا القیاس عادا و ثمودا الخ،
تفسیر : جبکہ توحیدِ و نفی انداد و اثبات نبوت میں کلام ہوچکا اور منکرین کے شبہات رد کردیے گئے اور قیامت کا حال اور منکرین کا وبال بھی بیان ہوچکا تو مجملاً انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ان کے دشمنوں پر آخر کار کیا کیا بلائیں نازل ہوئیں کیونکہ آپ کی تسلی کے لیے پہلے فرمایا تھا وکذالک جعلنا لکل نبی عدوًا اور قرآن کا یہی طریقہ ہے کہ ایسے موقعوں پر قصص انبیاء بیان ہوتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ ان کے تذکرہ بار بار آتے ہیں۔ فقال ولقد اتینا موسیٰ…
Read the full tafseer →وَّعَادًا وَّثَمُوْدَاْ وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوْنًا م بَیْنَ ذٰلِکَ کَثِیْرًا۔ (الفرقان : 38)
(اور عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور بیچ کی صدیوں کی بہت سی قوموں کو ہم نے ہلاک کردیا۔ )
یہاں فعل اَھَلَـکْنَا قرینے کی دلالت کے باعث محذوف ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہم نے قوم فرعون اور قوم نوح کو تباہ کیا صرف اس بنیاد پر کہ انھوں نے اپنے اپنے رسول کی تکذیب کی۔ اسی طرح ہم نے قوم عاد، قوم ثمود اور اصحابِ الرس اور ان کے درمیان کئی صدیوں میں گزرنے والی قوموں کو تباہ کردیا۔ ان کا جرم بھی صرف یہ تھا کہ جو رسول ان کی طرف مبعوث ہوئے انھوں نے ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا تھا۔ اور جب تک وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
فہم القرآن
ربط کلام : قوم موسیٰ کی تباہی کے بعد قوم نوح کے انجام کا مختصر بیان۔
حضرت آدم اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان ہزاروں سال کا وقفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس وقت نبوت سے سرفراز فرمایا جب ان کی قوم کے لوگ مجسموں کے پجاری بن چکے تھے۔ جس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نیک لوگ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی اولاد کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ جہاں تمہارے بزرگ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے تراش کر رکھ دیے جائیں تاکہ ان کا نام اور عقیدت باقی رہے۔ انھوں نے ایسا ہی کیا جب مجسمے رکھنے والے لوگ فوت ہوگئے تو ان کے بعد…
Read the full tafseer →38: وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَا (اور عاد وثمود کو ہم نے ہلاک کردیا۔ )
قراءت : حمزہ، حفص نے قبیلہ کی تاویل سے بلا تنوین پڑھا۔ اور دیگر قراء نے ثمود تنوین سے پڑھا خاندان کی تاویل نمبر 3۔ یہ بڑے باپ کا نام ہے۔
وَاَصْحٰبُ الرَّسِّ (کنوئیں والے) یہ قوم شعیب (علیہ السلام) ہے۔ وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ انہوں نے شعیب کو جھٹلایا ایک دن وہ کنوئیں کے گرد تھے۔ کنوئیں کی دیواریں گریں اور ان کو زمین میں گھروں سمیت دھنسا دیا۔
ایک قول یہ ہے کہ الرسؔ ایک بستی کا نام ہے انہوں نے اپنے پیغمبر کو قتل کردیا جس کے نتیجہ میں سب کو ہلاک کردیا گیا۔ اور ایک قول یہ ہے یہی اصحاب اخدود ہیں۔ الرسؔ خند قوں کو کہا جاتا ہے۔…
Read the full tafseer →38۔ وعاداوثمود، اور ہم نے عاد وثمود کو ہلاک کردیا۔ واصحاب الرس، ان کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔
اصحاب الرسول کی تفصیل۔
وہب بن منبہ کا قول ہے کہ وہ کنویں والے تھے اس کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔ اور یہ جانور پالتے اور بتوں کی پوجا کرتے تھے ان کی طر فاللہ نے حضرت شعیب کو بھیجا، انہوں نے ان کو اسلام کی دعوت دی انہوں نے سرکشی اختیار کی اور دعوت قبول نہ کی حضرت شعیب کو یہ لوگ طرح طرح کی اذیتیں دیتے رہے تھے آخر ان سب کو ہلاک کردیا گیا، زمین سب کو کھاگئی کنویں کو بھی ان کو بھی اور ان کے گھروالوں کو بھی۔
والرس، ہر وہ کنواں جس کے اردگرد دیوار بنادی گئی ہوا سے رس کہتے ہیں۔ قتادہ اور کلبی کا بیان ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
38۔ 44:۔ سیرۃ ابن اسحاق اور مسند عبد بن حمید وغیرہ میں ایک روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن سب سے پہلے ایک حبشی غلام جنت میں جاوے گا کس لیے کہ پہلے زمانہ میں ایک نبی کو ان نبی کی قوم نے ایک کنویں میں ڈال کر اس کنویں کے منہ پر ایک پتھر کی سل ڈھانک دی تھی ‘ وہ حبشی غلام ان نبی پر ایمان لے آیا تھا ‘ اس لیے ہر روز لکڑیاں جنگل میں سے چن کر لاتا تھا اور ان لکڑیوں کو بیچ کر کچھ کھانے کی چیز خریدتا تھا اور قوم کے لوگوں سے چھپ کر اس کنویں پر آتا تھا اور اللہ تعالیٰ اس کو اتنی قوت دے دیتا کہ وہ اس بھاری پتھر کی سل کو کنویں کے منہ پر سے ہٹا کر ان نبی کو کھانا کھلاتا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیت 35 سے 40
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے، تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً حجر کے علاقے میں صالح (علیہ السلام) کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
46 اصحاب الرسّ یعنی کنویں والوں سے مراد ؟ : ان کنوئیں والوں کی تعیین کے بارے میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں مگر ۔ " اَبْہِمُوْا مَا اَبْہَمَہُ الْقُرْآن " ۔ کے ضابطہ عام کے مطابق اس بارے میں زیادہ زور لگانے کی ضرورت نہیں۔ بس اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ یہ بھی کفار ناہنجار ہی کی کوئی ایسی قوم تھی جو اپنے کفر و انکار کی بناء پر تباہ ہوئی۔ رسّ کے معنیٰ پرانے کنوئیں یا اندھے کنوئیں کے آتے ہیں۔ سو یہ لوگ کسی ایسے ہی کنوئیں کے پاس رہتے تھے۔ اور ان بدبختوں نے اپنے پیغمبر کو اس کنویں میں ڈال کر یا اس میں لٹکا کر ہلاک کردیا۔ اور اس کے نتیجے میں ان کو تباہ کردیا گیا۔ علامہ آلوسی (رح) اپنی تفسیر میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
پچھلی قوموں کا عبرت ناک انجام
تشریح : ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ سیدنا ابراہیم و اسمعٰیل (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور توحید کی ابتدا کی۔ مکہ میں خانہ کعبہ سب سے پہلا اللہ کا گھر بنایا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ لوگ ان کی تعلیمات بھولتے گئے۔ تو انہوں نے اپنی مرضی سے کئی مذہب بنا لیے تو عرب کے قدیم باشندوں نے عرب سے نکل کر بابل ‘ شام اور مصر میں حکومتیں قائم کی تھیں۔ ان کو عرب بائدہ یعنی جونا پید ہوگئے کہا جاتا ہے عاد اور ثمود کی قومیں اسی دور سے تعلق رکھتے تھے۔ سب کے پاس نبی بھیجے گئے، آسمانی کتابیں بھیجی گئیں جیسا کہ ان کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا جا چکا ہے کہ سب کے پاس کفار مکہ کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور اگر ان کی یہی دلیل ہو کہ قرآن یکبارگی نازل کیوں نہ ہوا تو قبل ازیں موسیٰ (علیہ السلام) کو تو یکبارگی کتاب عطا ہوئی تھی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی معاون بنا دیا گیا اور دونوں کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا یعنی فرعون اور آل فرعون کی طرف جنہوں نے ہماری آیات اور عظمت کے دلائل کو ماننے اور سمجھنے سے انکار کر رکھا تھا مگر انہوں نے کب مان کردیا تھا حتی کہ معجزات تک کا انکار کیا اور اپنے کفر پر قائم رہے تاآنکہ قہر الہی نے انہیں برباد کر کے نام ونشان مٹا دیا یعنی غرق دریا ہوگئے اگرچہ فرعون نزول کتاب سے قبل ہلاک ہوا مگر بعد کے کفار نے بھی تسلیم تو…
Read the full tafseer →9 ۔ ” اصحاب الرش “ (کنویں والوں) سے مراد کون لوگ ہیں ؟ اس بارے میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ انطاکیہ کے لوگ مراد ہیں وہاں ایک کنواں تھا اس پر ان کے پیغمبر ” حبیب نجار “ انہیں وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ ان لوگوں نے انہیں قتل کر کے اس کنویں میں ڈال دیا۔ بعض نے آٰذربائیجان کے لوگ مراد لئے ہیں جنہوں نے اپنے پیغمبروں کو مار ڈالا۔ علامہ طبری نے لکھا ہے کہ ” اصحاب الرس “ ” اصحاب اخدود “ ہی ہیں۔ جن کا ذکر سورة بروج میں ہوا ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی)
Read the full tafseer →(25:38) عادا (قوم عاد) اس کا عطف قوم نوح پر ہے۔ ای دمرنا عادا۔ یا اس سے قبل اذکر محذوف ہے اور یہ اس کا مفعول ہے ثمودا۔ اصحب الرس۔ قرونا۔ (ای اھل قرون بہت سی امتوں کے لوگ ! بہت سی امتیں ، قومیں) عادا کی طرح ان کا عطف بھی قوم نوح پر ہے یا ان کے قبل فعل اذکر محذوف ہے۔
ثمودا۔ بوجہ عجمہ ومعرفہ غیر منصرف ہے اس لئے اس کے آخر میں تنوین نہیں آتی ! بین ذلک۔ ان کے درمیان۔
(1) جن کے علاقے ان قوموں کے علاقوں کے درمیان تھے۔ (2) جو ان قوموں کے درمیانی زمانہ میں گذریں۔
کثیرا۔ قرونا کی صفت ہے۔ ای کثیر التعداد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 44 :
اخاہ ( اس کا بھائی) ‘(وزیر) بوجھ اٹھانے والا۔ مددگار) ‘ دمرنا (ہم نے تباہ کردیا) ‘ تدمیر ( اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ اعتدنا ( ہم نے تیار کردیا) ‘ قرون (قرن) قومیں۔ جماعتیں ‘ اصحب الرس (کنویں والے) ‘ تتبیر (اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ امطرت (برسایا گیا) ‘ مطرالسوئ (بدترین بارش) ‘ نشور (مرنے کے بعد زندہ ہونا) ‘ ھزو (مذاق۔ ہنسی۔ اڑانا) ‘ بعث (اس نے بھیجا) ‘ کا د (قریب ہے) ‘ صبرنا ( ہم جمے رہے) ‘ اضل (زیادہ گمراہ) ‘۔
تشریح آیت نمبر 35 تا 44 :
دنیا میں ہر ظالم و جابر اور قوت و طاقت رکھنے والے شخص کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کی خواہش کے غلام اور حکم کے بندے بن کر رہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(ف 2) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے سے جس طرح قوم نوح اور قوم فرعون کے لوگ دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑے گئے وہی حال عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں کا اور بہت سی بستی والوں کا ہوا، کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیج کر ان لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا جب یہ لوگ اپنی عادت سے باز نہ آئے تو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے چناچہ ملک شام کے سفر میں قوم لوط کی الٹی ہوئی اور پتھروں کے مینہ سے اجڑی ہوئی بستیاں ان مشرکین کو نظر آتی ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
[22] کنوئیں والے کون تھے ؟ ان کے بارے میں مفسرین میں سخت اختلاف ہے۔
Read the full tafseer →حل لغات :۔ اصحاب الرس ۔ رس اس کنوئیں کا نام ہے جہاں قبیلہ ثمود نے ازراہ سرکشی اور عداوت اپنے پیغمبر کو چھپا دیا تھا اس لئے اصحاب الرس سے ہیں ۔
Read the full tafseer →(38) اور عاد کو ثمود کو اور اہل رس یعنی کنویں والوں کو اور ان کے درمیان اور بہت سی قوموں کو ہم نے ہلاک اور برباد کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
ف 4۔ رس لغت میں کہتے ہیں کنوئے کو، اور کچھ لوگ قوم ثمود کے رہ گئے تھے اور کسی کنوے پر آباد تھے، وہ اصحاب الرس ہیں۔
Read the full tafseer →عاد ‘ ثمود اور اصحاب الرس اور ان کے درمیان کتنی قومیں ہلاک کی گئیں :
38۔ قوم عاد اور قوم ثمود بھی قرآن کریم کی بیان کردہ اقوام میں سے بڑی اہم قومیں تھیں اور اسی طرح اصحاب الرس کو بھی اس زمین پر اللہ نے ایک وقت بہت بڑا اقتدار دیا تھا اور انکے درمیان بھی بہت سی اقوام گزر چکی ہیں ان سب کا رعب ودبدبہ اپنے اپنے وقت میں ضرب المثل رہا لیکن جب ان کے ختم ہونے کا وقت آیا تو اچانک ان کو اللہ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس طرح ملیامیٹ کیا کوئی نام لینے والا بھی باقی نہ رہا جب ان سب کے ساتھ ایسا ہوچکا تو آخر تمہارے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا ؟ تم کو ابھی وقت دیا جارہا ہے اس مہلت سے فائدہ اٹھاؤ گے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
Commentary
In the above verses it is mentioned that it had been the common practice of the people through the ages to rebuff the prophets and the message they had brought. In order to give weight to this assertion a few of the well known prophets are mentioned who were rejected by their people and then they were subjected to Allah's wrath and were annihilated completely. By drawing a parallel with the past generations it is elucidated that the pagans of Makkah would not listen to any reason as they were no better than the animals or even worse than that.
It is stated about the people of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
52 There is no definite knowledge about "the people of the Raas'' . Different commentators have said different things about them, but nothing is convincing. The only thing that may be said about them is that they were a people who had killed their Prophet by throwing him into or hanging him down a "Rass " (an old or dry well).
Read the full tafseer →