Explained with ayahs 35–40
انبیاء سے دشمنی کا خمیازہ
اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی ان کی مخالفت کی میں نے انہیں تہس نہس کردیا۔ فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آگیا اور سب ہلاک کردیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے اس واسطے یہاں رسل جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 50
چونکہ انہوں نے سرے سے یہی بات ماننے سے انکار کردیا تھا کہ بشر کبھی رسول بن کر آسکتا ہے، اس لیے ان کی تکذیب تنہا حضرت نوح کی تکذیب ہی نہ تھی بلکہ بجائے خود منصب نبوت کی تکذیب تھی۔
سورة الْفُرْقَان 51
یعنی آخرت کا عذاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
خلاصہ تفسیر
اور قوم نوح کو بھی (ان کے زمانہ میں) ہم ہلاک کرچکے ہیں (جن کی ہلاکت اور سبب ہلاکت کا بیان یہ ہے کہ) جب انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو (طوفان سے) غرق کردیا اور ہم نے ان (کے واقعہ) کو لوگوں (کی عبرت) کے لئے نشان بنادیا (یہ تو دنیا میں سزا ہوئی) اور (آخرت میں) ہم نے (ان) ظالموں کے لئے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔ اور ہم نے عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور ان کے بیچ بیچ میں بہت سی امتوں کو ہلاک کیا اور ہم نے (امم مذکورہ میں سے) ہر ایک (کی ہدایت) کے واسطے عجیب عجیب (یعنی موثر اور بلیغ) مضامین بیان کئے اور (جب نہ مانا تو) ہم نے سب کو بالکل ہی برباد کردیا۔ اور یہ (کفار ملک شام…
Read the full tafseer →ایک رسول کا انکار تمام رسولوں کا انکار ہے
حضرت نوح کی قوم نے اگرچہ تکذیب ایک ہی رسول …حضرت نوح … کی کی لیکن یہاں لفظ جمع الرسل استعمال ہوا ہے اس کی وجہ ہمارے نزدیک وہی ہے جس کا ذکر ہم سورة ہود کی آیت 59 کے تحت کر آئے ہیں کہ تمام رسولوں کا پیغام چونکہ ایک ہی اور ان کے بھیجنے والا بھی ایک ہی ہے اس وجہ سے ایک کا انکار سب کا انکار ہے۔ اس طریق تعبیر سے مقصود اس جرم کی سنگینی کی طرف توجہ دالانا ہے کہ جو لوگ کسی رسول کی تکذیب کرتے ہیں وہ سوچ لیں کہ یہ بات کہاں سے کہاں تک پہنچتی ہے۔ اس اسلوب کی مثالیں آگے والی سورة میں بھی آئیں گی۔
وجعلنھم للناس ایۃ یعنی ہم نے ان کے اس انجام کو بعد والوں کے لئے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
33-1یہ قرآن کے وقفے وقفے سے اتارے جانے کی حکمت و علت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مشرکین جب بھی کوئی مثال یا اعتراض اور شبہ پیش کریں گے تو قرآن کے ذریعے سے ہم اس کا جواب یا وضاحت پیش کردیں گے اور یوں انھیں لوگوں کو گمراہ کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
13: عاد وثمود کا تعارف سورة اعراف : 65 تا 84 میں گذر چکا ہے اور ”اصحاب الرس“ کے لفطی معنی ہیں ”کنویں والے“۔ بظاہر یہ لوگ کسی کنویں کے پاس آباد تھے۔ قرآن کریم نے بس اتنا ذکر فرمایا ہے کہ انہیں ان کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کیا گیا، ان کے بارے میں مختلف تاریخی روایتیں ملتی ہیں، لیکن ان کے واقعے کی کوئی تفصیل نہ قرآن کریم نے بتائی ہے، نہ کسی مستند حدیث میں آئی ہے۔ اتنی بات ظاہر ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر بھیجے گئے تھے جن کی انہوں نے نافرمانی کی، اور اس کی وجہ سے ان کو ہلاک کیا گیا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں لٹکا کر پھانسی دی تھی۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ”
یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔
القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘…
Read the full tafseer →8 ایک پیغمبر کا جھٹلانا سب کا جھٹلانا ہے۔ کیونکہ اصول دین میں سب انبیاء متحد ہیں۔
Read the full tafseer →وَاَعْتَدْنَا للظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا ”
یعنی پیغمبروں کی تکذیب کرنے والی ان قوموں کو عذاب استیصال کی صورت میں نقد سزا تو دنیا ہی میں مل گئی تھی مگر اصل عذاب ابھی ان کا منتظر ہے۔ یہ عذاب انہیں آخرت میں ملے گا اور وہ بیحد تکلیف دہ ہوگا۔
Read the full tafseer →48 اس سے معلوم ہوا ہے کہ قوم نوح کی طرف حضرت نوح سے پہلے بھی کچھ رسول آچکے تھے۔ جن کے قرآن میں نام مذکور نہیں ہیں یا اس کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا ہے کہ چونکہ اصول دین میں تمام انبیاء کی تعلیم ایک ہی رہی ہے تو اس لحاظ سے اسے ایک رسول کو جھٹلانے سے از خود باقی سب رسولوں کی تکذیب ہوجاتی ہے۔
49 نشانی اس لحاظ سے کہ ان ظالموں کی روئے زمین پر نسل ہی ختم ہوگئی۔ طوفان نوح کے بعد حضرت آدم کی نسل صرف ان لوگوں سے چلی جو حضرت نوح کے ہمراہ کشتی میں سوار تھے اور بعض کے نزدیک آئندہ نسل حضرت نوح کے تین بیٹوں حام، سام اور یافث سے چلی۔
Read the full tafseer →40۔ شرک وجاہلیت میں مبتلا قوم نوح کا انکار محض شخصی رسالت نوح کا انکار نہ تھا، سارے انبیاء کا اور نفس مسئلہ نبوت کا انکار تھا۔ امام رازی (رح) (اور ان کے اتباع میں بعض دوسرے مفسرین) کی بھی نظر اس نکتہ تک پہنچ گئی تھی کہ ممکن ہے یہ لوگ براہمہ ہند کی طرح سلسلہ نبوت ہی کے منکر ہوں۔ اما کانوا من البراھمۃ المنکرین بکل الرسل (کبیر) اوکذبوا بعثۃ الرسل مطلقا کالبراھمۃ (بیضاوی) اولم یروا بعثۃ الرسل کالبراھمۃ (بحر)
41۔ (آخرت میں، جیسا کہ دنیا میں سزا غرقابی کی ملی) (آیت) ” لظلمین “۔ ظالمون سے یہاں بھی مراد کافر ہی ہیں، جیسا کہ قرآن میں اکثر مقامات پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیت نمبر 35 تا 44
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر (یعنی) معین بنادیا اور ہم نے دونوں کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری دلیلوں کو جھٹلایا ہے یعنی قبطیوں کی طرف جو کہ فرعون اور اس کی قوم ہے چناچہ (یہ دونوں) پیغام لیکر ان کے پاس گئے مگر ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو تہس نہس کردیا (یعنی) پوری طرح ہلاک کردیا اور قوم نوح کا تذکرہ کیجئے جبکہ انہوں نے (تمام) رسولوں کی تکذیب کی نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرکے، نوح (علیہ السلام) کے ان کے درمیان زمانہ دراز تک قیام کرنے کی وجہ سے، گویا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کئی…
Read the full tafseer →وقوم نوح لما کذبوا الرسل اغرقنہم اور قوم نوح ( علیہ السلام) (کا بھی تذکرہ کرو) جب اس قوم نے پیغمبروں کو جھوٹا
قرار دیا تو ہم نے ان کو غرق کردیا۔
تکذیب رسل سے مراد ہے حضرت نوح ( علیہ السلام) کی اور آپ ( علیہ السلام) سے پہلے گزرے ہوئے پیغمبروں کی تکذیب ‘ یا یوں کہا جائے کہ صرف حضرت نوح ( علیہ السلام) کی تکذیب ہی مراد ہے ‘ لیکن ایک پیغمبر کی تکذیب حقیقت میں سب پیغمبروں کی تکذیب ہے (کیونکہ ہر پیغمبر دوسرے تمام پیغمبروں کی تصدیق کرتا ہے اس ایک کو جھوٹا جاننا حقیقت میں تمام پیغمبروں کو دروغ گو قرار دینا ہوتا ہے) ۔ اس لئے تکذیب نوح کو تکذیب رسل قرار دیا یا یہ مطلب ہے کہ پیغمبروں کی بعثت کی (سرے ہی…
Read the full tafseer →(37) اور قوم نوح ؑ کو بھی ہم ہلاک کرچکے ہیں جب انہوں نے حضرت نوح ؑ اور پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو طوفان سے غرق کردیا اور ہم نے ان کے واقعہ کو لوگوں کی عبرت کے لیے ایک نشان بنادیا تاکہ بعد میں آنے والے ان کی پیروی نہ کریں۔
Read the full tafseer →وَقَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ۔۔ : اس قوم کی طرف صرف نوح ؑ آئے تھے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انھوں نے رسولوں کو جھٹلا دیا، وجہ اس کی یہ ہے کہ ایک پیغمبر کو جھٹلانا سب کو جھٹلانا ہے، کیونکہ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہے۔ ان کی تکذیب اور غرق کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة ہود (25 تا 49)۔
Read the full tafseer →( وقوم نوح لما۔۔۔۔۔ )
وقوم نوح لفظ قوم کے منصوب ہونے میں چار قول ہیں : فد مرتھم، ھم کی ضمیر پر اس کا عطف ہے (2) اذکر فی کی وجہ سے نصب ہے (3) ایسا فعل مضمر ہے جس کی تفسیر ما بعد فعل کر رہا ہے تقدیرکلام یہ ہے ” اغرقنا قوم نوح اغرقناھم “ (4) اغرقتھم کی وجہ سے منصوب ہے : یہ فراء کا قول ہے۔ نحاس نے اسے رد کیا ہے، کہا اغرقنا ایسا فعل نہیں جو دو مفعولوں کی طرف متعدی ہو کہ وہ ضمیر اور قول نوح میں عامل ہیں۔
لما کذبو الرسل جنس کا ذکر کیا مراد صرف حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں، کیونکہ اس وقت سوائے حضرت نوح کے کوئی ان کی طرف رسول نہیں تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس لیے مبعوث کیا گیا تھا کہ وہ لوگوں کو لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
1۔ ابن جریر وابن المنذر ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اولئک شر مکانا “ سے مراد ہے کہ یہ کافر بری جگہ ہوں گے اہل جنت کے مقابلہ میں آیت ” واضل سبیلا “ یعنی طریقے کے لحاظ سے بھی بہت گمراہ ہیں۔
2۔ عبد بن حمدی وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجعلنا معہ اخاہ ہر وان وزیرا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کے بھائی ہارون کو ان کا مددگار اور سہارا بنادیا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فدمرنہم تد میرا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو عذاب کے ساتھ ہلاک کردیا۔
4۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت ” وعادا وثمودا “ یعنی ثمودا کو…
Read the full tafseer →وَقَوْمَ نُوْحٍ [ اور (یاد کرو) نوح (علیہ السلام) کی قوم کو ] لَّمَّا [ جب ] كَذَّبُوا [ انھوں نے جھٹلایا ] الرُّسُلَ [ رسولوں کو ] اَغْرَقْنٰهُمْ [ تو ہم نے غرق کیا ان کو ] وَجَعَلْنٰهُمْ [ اور ہم نے بنایا ان کو ] لِلنَّاسِ [ لوگوں کے لئے ] اٰيَةً ۭ[ ایک نشانی ] وَاَعْتَدْنَا [ اور ہم نے تیار کیا ] لِلظّٰلِمِيْنَ [ ظالموں کے لئے ] عَذَابًا اَلِـــيْمًا [ ایک دردناک عذاب ]
ترکیب : (آیت۔ 37) ۔ قوم نوح کے مضاف قوم کی نصب بتارہی ہے کہ یہاں یہ مفعول کے طور پر آیا ہے۔ لیکن یہاں اس کو اغرقنا کا مفعول مقدم ماننے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اغرقنا کے ساتھ ضمیر مفعولی ہم لگی ہوئی ہے۔ اس لئے قوم نوح کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
(الَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوْھِہِمْ ) (الآیۃ) اس آیت میں کافروں کا برا انجام بیان فرمایا اور وہ یہ کہ ان لوگوں کو چہروں کے بل گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا اور اس میں پھینک دیا جائے گا وہ جگہ عذاب کے اعتبار سے بری جگہ ہے یہاں دنیا میں ان کو بتایا جاتا تھا کہ اپنی حرکتوں کی سزا میں برے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے اور یہ کہ تم گمراہ ہو راہ حق سے ہٹے ہوئے ہو لیکن یہاں نہیں مانتے تھے وہاں عذاب میں مبتلا ہوں گے تو دونوں باتیں سمجھ میں آجائیں گی لیکن وہاں کا سمجھنا اور ماننا فائدہ مند نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →دوسرا قصہ قوم نوح (علیہ السلام)
وقوم نوح لما کذبوا الرسل .... الیٰ .... عذابا الیما۔
اور موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے ہم نے تم کو قوم نوح کو طوفان میں غرق کیا جبکہ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور ہم نے ان کے واقعہ کو لوگوں کے لیے نشانی بنا دیا تاکہ اس سے عبرت پکڑیں اور آخرت میں ان ظالموں کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ قوم نوح نے نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی جو ان سے پہلے گزرے تھے جیسے حضرت شعیب (علیہ السلام) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) ان کی بھی تکذیب کی یا یہ معنی ہیں کہ ایک رسول کی تکذیب سارے رسولوں کی تکذیب کے مساوی ہے یا یہ معنی ہیں کہ مطلقاً بعثت رسل کا انکار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–39
27:۔ ” ولقد اتینا الخ “ یہ دعوی سورت پر پہلی نقلی دلیل ہے نیز منکرین دعوی کے لیے تخویف دنیوی ہے۔ یہاں اور اسی طرح اگلی نقلی دلیلوں میں اگرچہ دعوے کی صراحت نہیں لیکن جب ابتداء سورت میں تبارک سے دعوی ذکر کردیا گیا تو اب سورت میں جس قدر بھی دلائل مذکور ہوں گے خواہ عقلیہ ہوں خواہ نقلیہ وہ سب اسی دعوے کیلئے ہوں گے۔ فرمایا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جس میں مسئلہ توحید کو واضح کیا گیا اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت دے کر انکا معاون بنا دیا لیکن قوم نے ان کی تکذیب کی اور دلائل توحید کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں تباہ و برباد کردیا۔ ” وقوم نوح الخ “ یہ دوسری نقلی دلیل ہے اسی طرح حضرت نوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے رسالت کے بارے میں اعتراضات کے جوابات دیئے اور ان کے برے انجام کا ذکر کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے نبی اور اس کے پیرواکروں کو تسلی بھی دی ۔ فرمایا منکرین توحید و رسالت کی طرف سے صرف آپ کو ہی ایذا نہیں پہنچائی گئیں بلکہ اللہ کے ہر نبی کے ساتھ دشمنوں نے ایسا ہی سلوک کیا ۔ آپ گھبرائیں نہیں بلکہ اپنا کام کرتے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دینے والا اور آپ کا مددگار ہے۔
کفارو مشرکین نے یہ اعتراض بھی کیا کہ قرآن پاک کو اللہ کے نبی پر یکمشت کیوں نہیں نازل کیا گیا ۔ حالانکہ سابقہ کتب کا یہ توریت ، انجیل و دیگرصحیفے انبیاء (علیہم السلام) پر بیک…
Read the full tafseer →وَقَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰہُمْ وَجَعَلْنٰہُمْ لِلنَّاسِ اٰيَۃً ۭ وَاَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِيْنَ عَذَابًا اَلِـــيْمًا 3 7 ۖ
نوح
نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه الرّيح نَيْحَة تلك . أي : مقابلتها، والنَّوَائِح : النّساء، والمَنُوح : المجلس .
( ن و ح ) نوح
۔ یہ ایک نبی کا نام ہے دراصل یہ ناح ینوح کا مصدر ہے جس کے معنی بلند آواز کے ساتھ گریہ کرنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ناحت الحمامۃ نوحا فاختہ کا نوحہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
ترکیب : ہارون بدل من اخاہ وزیرا مفعول ثان بجعلنا وقوم یجوزان یکون معطوفا علی دمرنا یا مفعول اذکر محذوف۔ علی ہذا القیاس عادا و ثمودا الخ،
تفسیر : جبکہ توحیدِ و نفی انداد و اثبات نبوت میں کلام ہوچکا اور منکرین کے شبہات رد کردیے گئے اور قیامت کا حال اور منکرین کا وبال بھی بیان ہوچکا تو مجملاً انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ان کے دشمنوں پر آخر کار کیا کیا بلائیں نازل ہوئیں کیونکہ آپ کی تسلی کے لیے پہلے فرمایا تھا وکذالک جعلنا لکل نبی عدوًا اور قرآن کا یہی طریقہ ہے کہ ایسے موقعوں پر قصص انبیاء بیان ہوتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ ان کے تذکرہ بار بار آتے ہیں۔ فقال ولقد اتینا موسیٰ…
Read the full tafseer →وَقَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا کَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰـہُمْ وَجَعَلْنٰـھُمْ لِلنَّاسِ اٰ یَۃً ط وَاَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (الفرقان : 37)
(اور قوم نوح کو بھی جبکہ انھوں نے رسولوں کی تکذیب کی ہم نے ان کو غرق کردیا، اور ہم نے انھیں لوگوں کے لیے ایک نشان عبرت بنادیا اور ہم نے ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب بھی تیار کر رکھا ہے۔ )
حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر اولین رسول اور دیگر بعض خصوصیات کے باعث
گزشتہ دو آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر سب سے پہلے شاید اس لیے کیا گیا کہ اہل کتاب کی وجہ سے قریش حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت سے آگاہ تھے۔ اور ان کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
فہم القرآن
ربط کلام : قوم موسیٰ کی تباہی کے بعد قوم نوح کے انجام کا مختصر بیان۔
حضرت آدم اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان ہزاروں سال کا وقفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس وقت نبوت سے سرفراز فرمایا جب ان کی قوم کے لوگ مجسموں کے پجاری بن چکے تھے۔ جس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نیک لوگ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی اولاد کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ جہاں تمہارے بزرگ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے تراش کر رکھ دیے جائیں تاکہ ان کا نام اور عقیدت باقی رہے۔ انھوں نے ایسا ہی کیا جب مجسمے رکھنے والے لوگ فوت ہوگئے تو ان کے بعد…
Read the full tafseer →قوم نوح اور دیگر ہلاک شدہ اقوام کی طرف اشارہ :
37: وَقَوْمَ نُوْحٍ (اور قوم نوح کو) یعنی ہم نے قوم نوح کو ہلاک کردیا۔ لَّمَّا کَذَّبُوا الرُّسُلَ (جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا) یعنی نوح (علیہ السلام) اور ادریس (علیہ السلام) کو یا ایک کی تکذیب تمام کی تکذیب ہے۔ اَغْرَقْنٰہُمْ (ہم نے ان کو ڈبو دیا) طوفان کے ذریعہ وَجَعَلْنٰھُمْ ( اور ہم نے بنادیا ان کو) یعنی ان کے غرق یا واقعہ کو لِلنَّاسِ ٰایَۃً (لوگوں کیلئے نشانی) عبرت جس سے وہ عبرت حاصل کرتے ہیں۔ وَاَعْتَدْنَا (ہم نے تیار کر رکھا ہے) لِلظّٰلِمِیْنَ (ظالموں کیلئے) قوم نوح کیلئے اور اصل عبارت اس طرح ہے واعتدنا لھم مگر ان کا ظلم بیان کرنے…
Read the full tafseer →37۔ وقوم نوح لما، ،، اس سے مراد بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ اور جس نے ایک رسول کی تکذیب کی گویا اس نے سارے انبیاء کو جھٹلایا۔ اسی وجہ سے جمع کا لفظ ذکر کیا، اغرقنا ھم وجعلنا ھم للناس آیہ۔ اور اس کے بعد آنے والوں کے لیے ان کو عبرت کانشان بنادیا۔ واعتدنا للظالمین ، اور ہم نے ظالموں کے لیے آخرت میں شمار کرکے رکھا ہوا ہے۔ عذاب الیما، سوائے اس عذاب کے جو وہ جلدی طلب کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
35۔ 37:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری کی حدیث 2 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں سب انبیاء سے اللہ تعالیٰ کے وحدانیت کے سکھانے کا اور سب مخلوقات سے اس پر قائم رہنے کا عہد لیا ہے ‘ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبداللہ بن عباس ؓ کی یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ پہلے پہلے بت پرستی قوم نوح سے دنیا میں شروع ہوئی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ قوم نوح ( علیہ السلام) سے لے کر قوم فرعون تک کسی قوم نے اس عہد کے موافق عمل نہیں کیا جب سزا میں وہ سب قومیں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئیں ‘ جن میں سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم ہے اور آخری قوم فرعون کی ‘ ان آیتوں میں ان ہی دونوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیت 35 سے 40
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے، تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً حجر کے علاقے میں صالح (علیہ السلام) کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →44 قوم نوح کی ہلاکت و تباہی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور قوم نوح کو بھی ہم نے ہلاک کیا جبکہ انہوں نے جھٹلایا اللہ کے رسولوں کو " کہ تکذیبِ حق کا نتیجہ وانجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہی ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور انہوں نے جھٹلایا اگرچہ ایک نوح کو ہی تھا مگر یہاں صیغہ جمع کا ۔ یعنی الرسل ۔ لایا گیا ہے۔ یہ اس لئے کہ ایک پیغمبر کی تکذیب دراصل سب کی تکذیب ہوتی ہے۔ اس لئے کہ تمام انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی دعوت ایک ہی ہوتی ہے اور اصول دین میں وہ سب مشترک اور باہم متفق ہوتے ہیں ۔ صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہم اجمعین ۔ سو اس طرز تعبیر میں جرم کی سنگینی کا بیان اور یہ درس عبرت ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
پچھلی قوموں کا عبرت ناک انجام
تشریح : ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ سیدنا ابراہیم و اسمعٰیل (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور توحید کی ابتدا کی۔ مکہ میں خانہ کعبہ سب سے پہلا اللہ کا گھر بنایا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ لوگ ان کی تعلیمات بھولتے گئے۔ تو انہوں نے اپنی مرضی سے کئی مذہب بنا لیے تو عرب کے قدیم باشندوں نے عرب سے نکل کر بابل ‘ شام اور مصر میں حکومتیں قائم کی تھیں۔ ان کو عرب بائدہ یعنی جونا پید ہوگئے کہا جاتا ہے عاد اور ثمود کی قومیں اسی دور سے تعلق رکھتے تھے۔ سب کے پاس نبی بھیجے گئے، آسمانی کتابیں بھیجی گئیں جیسا کہ ان کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا جا چکا ہے کہ سب کے پاس کفار مکہ کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور اگر ان کی یہی دلیل ہو کہ قرآن یکبارگی نازل کیوں نہ ہوا تو قبل ازیں موسیٰ (علیہ السلام) کو تو یکبارگی کتاب عطا ہوئی تھی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی معاون بنا دیا گیا اور دونوں کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا یعنی فرعون اور آل فرعون کی طرف جنہوں نے ہماری آیات اور عظمت کے دلائل کو ماننے اور سمجھنے سے انکار کر رکھا تھا مگر انہوں نے کب مان کردیا تھا حتی کہ معجزات تک کا انکار کیا اور اپنے کفر پر قائم رہے تاآنکہ قہر الہی نے انہیں برباد کر کے نام ونشان مٹا دیا یعنی غرق دریا ہوگئے اگرچہ فرعون نزول کتاب سے قبل ہلاک ہوا مگر بعد کے کفار نے بھی تسلیم تو…
Read the full tafseer →8 ۔ چونکہ ایک پیغمبر کو جھٹلانا تمام پیغمبروں کو جھٹلاتا ہے۔ اس لئے ” کذبوا الرسل “ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(25:37) قوم نوح۔ ای اذکر قوم نوح۔ اور قوم نوح کو یاد کرو۔ بعض کے نزدیک اس سے قبل دمرنا مضمر ہے۔ ای ودمرنا قوم نوح۔ ابوحیان کے نزدیک قوم نوح کا عطف دمرناہم کے مفعول پر ہے۔ اور یہ صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ قوم نوح کی ہلاکت فرعون اور اس کی تکذیب پر ترتب نہیں ہے اول الذکر (اذکر قوم نوح) ہی زیادہ صحیح ہے۔
لما۔ جب (کلمہ ظرف زمانی ہے) ۔ الرسل۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔
(1) اس سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں۔ ای رسولہم اپنے رسول (کی تکذیب کی) ومن کذب رسولا واحدا فقد کذب جمیع الرسل فلذا ذکرہ بلفظ الجمع۔ جس نے ایک رسول کی تکذیب کی اس نے جملہ رسولوں کی تکذیب کی (کیونکہ تمام کی تعلیم وہی توحید الٰہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 44 :
اخاہ ( اس کا بھائی) ‘(وزیر) بوجھ اٹھانے والا۔ مددگار) ‘ دمرنا (ہم نے تباہ کردیا) ‘ تدمیر ( اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ اعتدنا ( ہم نے تیار کردیا) ‘ قرون (قرن) قومیں۔ جماعتیں ‘ اصحب الرس (کنویں والے) ‘ تتبیر (اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ امطرت (برسایا گیا) ‘ مطرالسوئ (بدترین بارش) ‘ نشور (مرنے کے بعد زندہ ہونا) ‘ ھزو (مذاق۔ ہنسی۔ اڑانا) ‘ بعث (اس نے بھیجا) ‘ کا د (قریب ہے) ‘ صبرنا ( ہم جمے رہے) ‘ اضل (زیادہ گمراہ) ‘۔
تشریح آیت نمبر 35 تا 44 :
دنیا میں ہر ظالم و جابر اور قوت و طاقت رکھنے والے شخص کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کی خواہش کے غلام اور حکم کے بندے بن کر رہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
(ف 1) پیغمبروں کے واقعات :
ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب تورات دی تھی اور اس کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو وزیر کیا پھر ہم نے ان دونوں سے کہا کہ قوم قبطی کی طرف جاؤ جو ہماری آیتوں کو جھٹلارہی ہے مراد اس سے فرعون اور اس کے ساتھی ہیں موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) سمجھانے کو گئے مگر انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے اس قوم کو بالکل ہلاک کرڈالا اور قوم نوح نے تمام پیغمبروں کو جھٹلایا سو اس قوم کو ہم نے ڈبودیا اور بعد والوں کے لیے ان کو قصہ کو عبرت کیا اور ہم نے ظالموں کے لیے دردناک عذاب تیارکررکھا ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے فرعون کی قوم اور نوح (علیہ السلام) کی قوم اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے…
Read the full tafseer →[21] سب پیغمبروں کا دین ایک رہا ہے تو ایک پیغمبر کے جھٹلانے سے تمام پیغمبروں کا جھٹلانا لازم آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
ف 2 ۔ یعنی بطور سزا کے انہیں منہ کے بل دوزخ کی طرف لیجایا جائے گا ۔ حدیث میں ہے ۔ ان الذی امشاھم علی ارجلھم قادر علی ان یمشیھم علی وجوھھم کہ جس خدا نے دنیا میں ان لوگوں کے پاؤں کے بل چلنے کی استعداد عطا کی ہے ۔ وہ قیامت کے دن ان کو منہ کے بل چلنے کی قوت بخش سکتا ہے ۔
بعض صوفیا نے کہا ہے کہ منہ کے بل چلتا اس کیفیت سے تعبیر ہے ، کہ ان لوگوں کے دل اس عالم حشر میں بھی دنیا کے مرغوبات سے متعلق رہیں گے ۔ اور ماسواء اللہ خواہشات ہنوز باقی رہیں گی ۔
Read the full tafseer →(37) اور ہم نوح (علیہ السلام) کی قوم کو بھی ہلاک کرچکے ہیں جبکہ انہوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور رسولوں کو جھٹلا یا تو ہم نے ان کو سمندر کے طوفان میں غرق کردیا اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کو دوسرے لوگوں اور آئندہ نسلوں کے لئے ایک عبرت آموز نشان بنادیا اور ہم نے ان ظالموں کے لئے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ایک پیغمبر کو جھٹلانا ایسا ہے جیسے سب کو جھٹلانا کیوں کہ تمام انبیاء دین کے اصولوں میں ایک ہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
ف 4۔ رس لغت میں کہتے ہیں کنوئے کو، اور کچھ لوگ قوم ثمود کے رہ گئے تھے اور کسی کنوے پر آباد تھے، وہ اصحاب الرس ہیں۔
Read the full tafseer →قوم نوح نے رسولوں کی تکذیب کی تو ہم نے انکو بھی غرق کر کے رکھ دیا :
37۔ قوم نوح قوم موسیٰ سے مدتوں پہلے کی تھی تاہم قرب کے باعث پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر کیا گیا اور اب نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا تذکرہ قریش مکہ کو سنایا جا رہا ہے کہ غور کرو کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے قبل قوم نوح بھی ہمارے رسولوں کی مخالفت کی تھی اور ان کی یہ مخالفت ایک مدت مدید تک جاری رہی اور انجام کار ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور آپ پر ایمان لانے والے چند معدودے آدمیوں کو کشتی نوح میں سوار کرکے بچایا اور باقی ساری قوم کو غرق کرکے رکھ دیا اور اس طرح ان ظالموں کو دردناک عذاب میں مبتلا کر کے ختم کردیا ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
Commentary
In the above verses it is mentioned that it had been the common practice of the people through the ages to rebuff the prophets and the message they had brought. In order to give weight to this assertion a few of the well known prophets are mentioned who were rejected by their people and then they were subjected to Allah's wrath and were annihilated completely. By drawing a parallel with the past generations it is elucidated that the pagans of Makkah would not listen to any reason as they were no better than the animals or even worse than that.
It is stated about the people of…
Read the full tafseer →50 They did not charge only Prophet Noah with imposture because he was a man, but, in fact, charged all the Prophets with imposture because they were aII human beings.
51 That is, a painful chastisement in the Hereafter.
Read the full tafseer →