Explained with ayahs 35–40
انبیاء سے دشمنی کا خمیازہ
اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی ان کی مخالفت کی میں نے انہیں تہس نہس کردیا۔ فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آگیا اور سب ہلاک کردیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے اس واسطے یہاں رسل جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 49
یعنی ان آیات کو جو حضرت یعقوب اور یوسف (علیہم السلام) کے ذریعے سے ان کو پہنچی تھیں، اور جن کی تبلیغ بعد میں ایک مدت تک بنی اسرائیل کے صلحاء کرتے رہے۔
Read the full tafseer →معارف و مسائل
الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا، اس میں قوم فرعون کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ انہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے۔ حالانکہ اس وقت تک تورات حضرت موسیٰ ؑ پر نازل بھی نہیں ہوئی تھی اس لئے اس تکذیب سے آیات تورات کی تکذیب تو مراد نہیں ہوسکتی، بلکہ مراد آیات سے یا تو توحید کے دلائل عقلیہ ہیں۔ جو ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق سمجھ میں آسکتے ہیں ان میں غور نہ کرنے کو تکذیب آیات فرمایا اور یا یہ کہ انبیاء سابقین کی روایات جو کچھ نہ کچھ ہر قوم میں نقل ہوتی آئی ہیں ان کا انکار مراد ہے جیسے قرآن کریم میں فرمایا وَلَقَدْ جَاۗءَكُمْ يُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بالْبَيِّنٰتِ ، اس میں انبیاء سابقین کی…
Read the full tafseer →مقصود یہاں چونکہ اجمالی اشارہ ہے اس وجہ سے پوری بات دو فقروں میں سمیٹ دی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنے ان دونوں رسولوں کو اپنی نشانیوں کے ساتھ ان لوگوں کی طرف بھیجا لیکن انہوں نے ان تمام نشانیوں کو سحرقرار دے کر ان کی تکذیب کردی جس کی سزا بالآخر ان کو یہ ملی کہ ہم نے ان کو یک قلم پامال کردیا۔ اس میں نبی ﷺ کے لئے یہ تسلی ہے کہ جن کے دل مسخ ہوچکے ہوتے ہیں وہ کسی طرح بھی ہدایت قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ دو دو رسولوں اور ان کے تمام معجزات کی بکے وقت تکذیب کردیتے ہیں اور اس میں ساتھ ہی قریش کو یہ تنبہ ہے کہ اگر انہوں نے بھی فرعون اور اس کی قوم کی روش کی تقلید کی تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
33-1یہ قرآن کے وقفے وقفے سے اتارے جانے کی حکمت و علت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مشرکین جب بھی کوئی مثال یا اعتراض اور شبہ پیش کریں گے تو قرآن کے ذریعے سے ہم اس کا جواب یا وضاحت پیش کردیں گے اور یوں انھیں لوگوں کو گمراہ کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
13: عاد وثمود کا تعارف سورة اعراف : 65 تا 84 میں گذر چکا ہے اور ”اصحاب الرس“ کے لفطی معنی ہیں ”کنویں والے“۔ بظاہر یہ لوگ کسی کنویں کے پاس آباد تھے۔ قرآن کریم نے بس اتنا ذکر فرمایا ہے کہ انہیں ان کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کیا گیا، ان کے بارے میں مختلف تاریخی روایتیں ملتی ہیں، لیکن ان کے واقعے کی کوئی تفصیل نہ قرآن کریم نے بتائی ہے، نہ کسی مستند حدیث میں آئی ہے۔ اتنی بات ظاہر ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر بھیجے گئے تھے جن کی انہوں نے نافرمانی کی، اور اس کی وجہ سے ان کو ہلاک کیا گیا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں لٹکا کر پھانسی دی تھی۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
(ولقد اتینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرا) (35 تا 40) ”
یہ چند مثالیں سرسری مثالیں ہیں جن میں مکذبین کا انجام دکھایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جاتی ہے ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور امدادی رسول بنایا جاتا ہے اور ان کو اس قوم کے مقابلے میں بھیجا جاتا ہے جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا۔
القوم الذین کذبوا بایتنا (25 : 36) یہ تھے فرعون اور اس کے سردار جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے تھے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آیات الہیہ کا انکار حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو منصب رسالت عطا کیے جانے سے پہلے بھی کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی آیات تو قائم و دائم ہیں۔ اس کائنات میں بھی ہیں اور انفس میں بھی ہیں ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
7 یعنی آیات تکوینیہ کو جو اللہ کی توحید وغیرہ پر دال ہیں اور انبیائے سابقین کے متفقہ بیانات کو جن کا تھوڑا بہت چرچا پہلے سے چلا آتا تھا، جھٹلا کر خدائی کے دعوے کرنے لگے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 36 فَقُلْنَا اذْہَبَآ اِلَی الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاط فَدَمَّرْنٰہُمْ تَدْمِیْرًا ”
یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا گیا اور ان لوگوں کے مسلسل انکار کے باعث بالآخر انہیں سمندر میں غرق کر کے نیست و نابود کردیا گیا۔
Read the full tafseer →47 یہاں آیات سے مراد غالباً وہ وحی تھی جو حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف (علیہم السلام) پر نازل ہوئی تھی کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے تو ان فرعونیوں کو ابھی اپنی طرف نازل شدہ کوئی وحی سنائی ہی نہ تھی۔ یا پھر آیت اللہ سے مراد کائنات میں ہر سو اللہ کی بکھری ہوئی نشانیاں ہیں جن سے غور و فکر کرنے والے اللہ کی معرفت حاصل کرسکتے ہیں۔ اور فرعون ایسی نشانیوں سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے خود ہی خدائی کا دعویدار بن بیٹھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
39۔ (چنانچہ قوم فرعون کی غرقابی مشہور واقعہ ہے۔ قرآن میں بھی بار بار اس کا ذکر آچکا ہے) کلمہہمیشہ تأخر زمانی ہی کے لیے نہیں آتا۔ چناچہ یہاں بھی معلوم ہے کہ نزول کتاب (توراۃ) کا واقعہ مخاطبہ قوم فرعون سے قبل کا نہیں بہت بعد کا ہے۔ (آیت) ” اذھبا “۔ کا عطف قبل والی آیت کے ” جعلنا “۔ پر ہے اور جعل اور قول دونوں کے ماتحت واقعات کا وقوع ایتاء کتاب کے قبل کا ہے۔ فقولہ فقلنا اذھبا معطوف علی جعلنا وکل من الجعل والقول کان قبل ایتاء الکتب (جمل) (آیت) ” الکتب “۔ سے مراد توریت کا ہونا بالکل ظاہر ہے۔ (آیت) ” بایتنا “۔ ایتنا میں دلائل سے مراد یا تو دلائل عقلیہ ہیں اور ظاہر ہے کہ بعد سمجھ جانے ان دلائل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیت نمبر 35 تا 44
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر (یعنی) معین بنادیا اور ہم نے دونوں کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری دلیلوں کو جھٹلایا ہے یعنی قبطیوں کی طرف جو کہ فرعون اور اس کی قوم ہے چناچہ (یہ دونوں) پیغام لیکر ان کے پاس گئے مگر ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو تہس نہس کردیا (یعنی) پوری طرح ہلاک کردیا اور قوم نوح کا تذکرہ کیجئے جبکہ انہوں نے (تمام) رسولوں کی تکذیب کی نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرکے، نوح (علیہ السلام) کے ان کے درمیان زمانہ دراز تک قیام کرنے کی وجہ سے، گویا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کئی…
Read the full tafseer →فقلنا اذہبا الی القوم الذین کذبوا بایتنا اور ہم نے کہہ دیا کہ تم دونوں اس قوم (کی ہدایت کے لئے اس)
کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ہے یعنی اللہ کی بنائی ہوئی آیات فطرت جو اللہ کی ذاتی و صفاتی توحید پر دلالت کر رہی ہیں اور بتارہی ہیں کہ اللہ اپنی ذات وصفات میں ایک ہے ان آیات کا وہ لوگ انکار کرتے ہیں جو (دہریہ ہیں) صانع اور خالق کے منکر ہیں یا مشرک ہیں دوسروں کو خدا کا ساجھی قرار دیتے ہیں اور بتوں کو پوجتے ہیں تم دونوں جا کر ان کو اللہ کی ذات وصفات کو ماننے اور اللہ کو ایک سمجھنے کی دعوت دو ۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیات سے مراد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے معجزات ہوں۔ اس مطلب پر…
Read the full tafseer →(36) پھر ہم نے ان دونوں کو حکم دیا کہ فرعون اور اس کی قبطی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری نو نشانیوں کو جھٹلایا ہے مگر ان کے سمجھانے کے باوجود بھی وہ لوگ ایمان نہیں لائے نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان سب کو غرق کرکے بالکل ہی نیست ونابود کردیا۔
Read the full tafseer →فَقُلْنَا اذْهَبَآ اِلَى الْقَوْمِ۔۔ : اس سے پہلی آیت اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ اور فرعون کے قصے کی ابتدا کا ذکر فرمایا، پھر سارا طویل قصہ حذف کرکے ان دونوں کے قصے کی انتہا کا ذکر فرما دیا، کیونکہ یہاں مقصود اتنی بات ہی تھی، یہ اختصار کا کمال ہے۔
اِلَى الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا : ان آیات سے مراد یا تو وہ معجزے ہیں جو موسیٰ ؑ لے کر آئے تھے، یا ایک اللہ کی عبادت، موسیٰ ؑ کی نبوت تسلیم کرنے اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے کے احکام ہیں، جو اللہ کی طرف سے موسیٰ ؑ لے کر فرعون کے پاس گئے تھے۔ رسول بھیجنے سے پہلے ہی انھیں آیات جھٹلانے والے اس لیے قرار دیا کہ اللہ تعالیٰ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
( ولقد اتینا موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ )
وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ ، کتاب سے مراد ہے وَجَعَلْنَا مَعَہٗٓ اَخَاہُ ہٰـرُوْنَ وَزِیْرًا۔ سورة طہٰ میں بحث گزر چکی ہے۔ فقلنا اذھبا خطاب ان دونوں کو ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اکیلے جانے کا حکم دیا گیا تھا یہ کلام اس طرح ہے جس طرح ارشاد ہے :” نسیا حوتھما “ ( الکہف : 61) ” یخرج منھما اللولو والمرجان۔ “ ( الرحمن) حالانکہ یہ ایک سمندر سے نکلتے ہیں یعنی صیغہ تثنیہ کا ذکر کیا گیا ہے اور مراد ایک ہے۔ نحاس نے کہا : یہ ایسی بات جو مناسب نہیں کی تھی کہ کتاب اللہ پر اس سے جرأت کی جاتی، جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” فَقُوْلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
1۔ ابن جریر وابن المنذر ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اولئک شر مکانا “ سے مراد ہے کہ یہ کافر بری جگہ ہوں گے اہل جنت کے مقابلہ میں آیت ” واضل سبیلا “ یعنی طریقے کے لحاظ سے بھی بہت گمراہ ہیں۔
2۔ عبد بن حمدی وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجعلنا معہ اخاہ ہر وان وزیرا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کے بھائی ہارون کو ان کا مددگار اور سہارا بنادیا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فدمرنہم تد میرا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو عذاب کے ساتھ ہلاک کردیا۔
4۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت ” وعادا وثمودا “ یعنی ثمودا کو…
Read the full tafseer →فَقُلْنَا [ پھر ہم نے کہا ] اذْهَبَآ [ تم دونوں جاؤ] اِلَى الْقَوْمِ الَّذِيْنَ [ اس قوم کی طرف جنہوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا ۭ [ ہماری نشانیوں کو ] فَدَمَّرْنٰهُمْ [ پھر ہم نے ہلاک کیا انہیں ] تَدْمِيْرًا [ جیسے ہلاک کرتے ہیں ]
آیت۔ 36 ۔ میں جن آیات کے جھٹلانے کا ذکر ہے اس سے مراد آیات ہیں جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) کے ذریعے سے مصر پہنچی تھیں اور جن کی تبلیغ بعد میں ایک مدت تک بنی اسرائیل کے صلحاء کرتے رہے۔ (تفہیم القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
(الَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوْھِہِمْ ) (الآیۃ) اس آیت میں کافروں کا برا انجام بیان فرمایا اور وہ یہ کہ ان لوگوں کو چہروں کے بل گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا اور اس میں پھینک دیا جائے گا وہ جگہ عذاب کے اعتبار سے بری جگہ ہے یہاں دنیا میں ان کو بتایا جاتا تھا کہ اپنی حرکتوں کی سزا میں برے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے اور یہ کہ تم گمراہ ہو راہ حق سے ہٹے ہوئے ہو لیکن یہاں نہیں مانتے تھے وہاں عذاب میں مبتلا ہوں گے تو دونوں باتیں سمجھ میں آجائیں گی لیکن وہاں کا سمجھنا اور ماننا فائدہ مند نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
منکرین نبوت کا پانچواں شبہ اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ الذین کفروا لولا نزل علیہ القران جعلۃ واحدۃ .... الیٰ .... واضل سبیلا۔
(ربط) قرآن مجید کے منجانب اللہ ہونے کے متعلق کفار کا ایک شبہ یہ تھا کہ تورایت اور انجیل کی طرح ایک ہی مرتبہ کیوں نہ نازل کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اسے مقصود اپنے رسول کے قلب کی تقویت ہے اور اس کے علاوہ اور بھی فوائد ہیں جو دوسری آیتوں میں مذکور ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور کافروں نے کہا کہ اس شخص پر یہ قرآن ایک ہی مرتبہ کیوں نازل کیا گیا۔ اگر یہ قرآن اللہ کا کلام ہوتا تو تدریجاً نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی اس تدریج سے شبہ ہوتا ہے کہ یہ قرآن محمد ﷺ کی تصنیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–39
27:۔ ” ولقد اتینا الخ “ یہ دعوی سورت پر پہلی نقلی دلیل ہے نیز منکرین دعوی کے لیے تخویف دنیوی ہے۔ یہاں اور اسی طرح اگلی نقلی دلیلوں میں اگرچہ دعوے کی صراحت نہیں لیکن جب ابتداء سورت میں تبارک سے دعوی ذکر کردیا گیا تو اب سورت میں جس قدر بھی دلائل مذکور ہوں گے خواہ عقلیہ ہوں خواہ نقلیہ وہ سب اسی دعوے کیلئے ہوں گے۔ فرمایا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جس میں مسئلہ توحید کو واضح کیا گیا اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت دے کر انکا معاون بنا دیا لیکن قوم نے ان کی تکذیب کی اور دلائل توحید کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں تباہ و برباد کردیا۔ ” وقوم نوح الخ “ یہ دوسری نقلی دلیل ہے اسی طرح حضرت نوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے رسالت کے بارے میں اعتراضات کے جوابات دیئے اور ان کے برے انجام کا ذکر کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے نبی اور اس کے پیرواکروں کو تسلی بھی دی ۔ فرمایا منکرین توحید و رسالت کی طرف سے صرف آپ کو ہی ایذا نہیں پہنچائی گئیں بلکہ اللہ کے ہر نبی کے ساتھ دشمنوں نے ایسا ہی سلوک کیا ۔ آپ گھبرائیں نہیں بلکہ اپنا کام کرتے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دینے والا اور آپ کا مددگار ہے۔
کفارو مشرکین نے یہ اعتراض بھی کیا کہ قرآن پاک کو اللہ کے نبی پر یکمشت کیوں نہیں نازل کیا گیا ۔ حالانکہ سابقہ کتب کا یہ توریت ، انجیل و دیگرصحیفے انبیاء (علیہم السلام) پر بیک…
Read the full tafseer →فَقُلْنَا اذْہَبَآ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا 0ۭ فَدَمَّرْنٰہُمْ تَدْمِيْرًا 36ۭ
ذهب
الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ،
( ذ ھ ب ) الذھب
ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ۔
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل میں صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
ترکیب : ہارون بدل من اخاہ وزیرا مفعول ثان بجعلنا وقوم یجوزان یکون معطوفا علی دمرنا یا مفعول اذکر محذوف۔ علی ہذا القیاس عادا و ثمودا الخ،
تفسیر : جبکہ توحیدِ و نفی انداد و اثبات نبوت میں کلام ہوچکا اور منکرین کے شبہات رد کردیے گئے اور قیامت کا حال اور منکرین کا وبال بھی بیان ہوچکا تو مجملاً انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ان کے دشمنوں پر آخر کار کیا کیا بلائیں نازل ہوئیں کیونکہ آپ کی تسلی کے لیے پہلے فرمایا تھا وکذالک جعلنا لکل نبی عدوًا اور قرآن کا یہی طریقہ ہے کہ ایسے موقعوں پر قصص انبیاء بیان ہوتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ ان کے تذکرہ بار بار آتے ہیں۔ فقال ولقد اتینا موسیٰ…
Read the full tafseer →فَـقُـلْنَا اذْھَبَـآ اِلَی الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰـتِـنَا ط فَدَمَّرْنٰـھُمْ تَدْمِیْرًا۔ (الفرقان : 36)
(پس ہم نے ان سے کہا کہ تم دونوں اس قوم کی طرف جاؤ جنھوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی، آخرکار ان لوگوں کو ہم نے تباہ کرکے رکھ دیا۔ )
یہاں نہایت اجمال کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کی سرگزشت کی طرف اشارہ مقصود ہے اس لیے صرف دو فقروں میں اس کو سمیٹ دیا گیا۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو حکم دیا کہ تم دونوں قوم فرعون کی طرف ان کی ہدایت کے لیے جاؤ اور انھیں اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دعوت دو ۔ وہ جس کفر اور شرک کا شکار ہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء (علیہ السلام) کے دشمن اور آسمانی کتابوں کا انکار کرنیوالی اقوام میں سے ایک قوم کا انجام۔
جن قوموں نے انبیاء (علیہ السلام) کی مخالفت اور آسمانی کتابوں کا انکار کیا ان میں سرفہرست حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے تورات عنایت فرمائی اور ان کی درخواست پر ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ان کا معاون نامزد فرمایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اس قوم کی طرف جاؤ جنھوں نے ہمارے احکام اور ارشادات کو ٹھکرا دیا ہے۔ اس ارشاد کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں۔ (1) موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے دین…
Read the full tafseer →36: فَقُلْنَا اذْھَبَآ اِلَی الَْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا (اور ہم نے کہہ دیا کہ تم دونوں اس قوم کے پاس جائو جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلادیا ہے) مراد فرعون اور اس کی قوم ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ فذھبا الیھم وانذر افکذ بوھما۔ وہ ان کے پاس دونوں گئے اور ان کو ڈرایا مگر انہوں نے جھٹلا دیا۔
تکذیب کی وجہ سے فرعونیوں کو ہلاک کردیا :
فَدَ مَّرْ نٰھُمْ تَدْمِیْرًا (پس ہم نے ان کو ملیا میٹ کردیا) التدمیرؔ کسی عجیب انداز سے ہلاک کرنا۔ قصہ کو مختصر فرمایا اس کا اول و آخر ذکر کردیا۔ کیونکہ مقصود قصہ یہی ہے۔ میری مراد یہ ہے کہ بعث رسل کے ذریعہ حجت تمام کردی جائے اور تکذیب کی وجہ سے استحقاق…
Read the full tafseer →36۔ فقلنااذھبا، ، یعنی قبطی قوم کی طرف، فدمرناھم، یہاں پر اضمار ہے ۔ حضرت موسیٰ ہارون قوم کے پاس گئے دعوت دی لیکن ان دونوں کی انہوں نے تکذیب کی۔ تد میرا، پھر ہم نے اس قوم والوں کو ہلاک کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
35۔ 37:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری کی حدیث 2 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں سب انبیاء سے اللہ تعالیٰ کے وحدانیت کے سکھانے کا اور سب مخلوقات سے اس پر قائم رہنے کا عہد لیا ہے ‘ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبداللہ بن عباس ؓ کی یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ پہلے پہلے بت پرستی قوم نوح سے دنیا میں شروع ہوئی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ قوم نوح ( علیہ السلام) سے لے کر قوم فرعون تک کسی قوم نے اس عہد کے موافق عمل نہیں کیا جب سزا میں وہ سب قومیں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئیں ‘ جن میں سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم ہے اور آخری قوم فرعون کی ‘ ان آیتوں میں ان ہی دونوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیت 35 سے 40
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے، تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً حجر کے علاقے میں صالح (علیہ السلام) کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →43 حق کی تکذیب و انکار کا نتیجہ ہلاکت و تباہی : سو حضرت موسیٰ اور ہارون دونوں کو فرعونیوں کی طرف بھیجا گیا تاکہ وہ ان کو حق کا پیغام پہنچا سکیں مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی اور ان دونوں کو جادو گر کہہ کر ان کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ جس کے نتیجے میں آخر کار ان کو ہلاکت و تباہی کے گھاٹ اتار کر ہمیشہ ہمیش کے لیے مٹا دیا۔ اور ایسا مٹایا کہ دنیا میں غرقابی کے بعد ان کو ہمیشہ ہمیش کے لیے دوزخ کا ایندھن بنادیا گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس جو قومیں حق کو جھٹلاتی ہیں اور وہ داعیانِ حق کے مقابلے میں کفر و انکار ہی سے کام لیتی ہیں ان کا آخری انجام بہرحال ہلاکت اور ہمیشہ کی تباہی اور بربادی ہی ہوتا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
پچھلی قوموں کا عبرت ناک انجام
تشریح : ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ سیدنا ابراہیم و اسمعٰیل (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور توحید کی ابتدا کی۔ مکہ میں خانہ کعبہ سب سے پہلا اللہ کا گھر بنایا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ لوگ ان کی تعلیمات بھولتے گئے۔ تو انہوں نے اپنی مرضی سے کئی مذہب بنا لیے تو عرب کے قدیم باشندوں نے عرب سے نکل کر بابل ‘ شام اور مصر میں حکومتیں قائم کی تھیں۔ ان کو عرب بائدہ یعنی جونا پید ہوگئے کہا جاتا ہے عاد اور ثمود کی قومیں اسی دور سے تعلق رکھتے تھے۔ سب کے پاس نبی بھیجے گئے، آسمانی کتابیں بھیجی گئیں جیسا کہ ان کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا جا چکا ہے کہ سب کے پاس کفار مکہ کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور اگر ان کی یہی دلیل ہو کہ قرآن یکبارگی نازل کیوں نہ ہوا تو قبل ازیں موسیٰ (علیہ السلام) کو تو یکبارگی کتاب عطا ہوئی تھی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی معاون بنا دیا گیا اور دونوں کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا یعنی فرعون اور آل فرعون کی طرف جنہوں نے ہماری آیات اور عظمت کے دلائل کو ماننے اور سمجھنے سے انکار کر رکھا تھا مگر انہوں نے کب مان کردیا تھا حتی کہ معجزات تک کا انکار کیا اور اپنے کفر پر قائم رہے تاآنکہ قہر الہی نے انہیں برباد کر کے نام ونشان مٹا دیا یعنی غرق دریا ہوگئے اگرچہ فرعون نزول کتاب سے قبل ہلاک ہوا مگر بعد کے کفار نے بھی تسلیم تو…
Read the full tafseer →7 ۔ یعنی فرعون اور اس کی قوم کے لوگوں کے پاس۔ یہاں آیات سے وہ نشانیاں بھی مراد ہوسکتی ہیں جو حضرت موسیٰ کو بطور معجزہ دی گئیں اور ارسال کے وقت ان کو مکذب کہنا اس کے اعتبار سے ہے اور اگر ان سے مراد ” آیات الٰہیہ “ یعنی دلائل توحید ہوں جو کائنات میں پائے جاتے ہیں تو کوئی اشکال لازم نہیں آتا۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(25:36) دمرنا ہم۔ ماضی جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تدمیر (تفعیل) مصدر۔ ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ ہم نے ان کو اکھیڑ مارا۔ تباہ کر کے چھوڑا۔ التدمیر اشد الا ھلاک واصلہ کسر الشیء علی وجہ لا یمکن اصلاحہ۔ تدمیر اہلاک کی شدید ترین شکل ہے اور اس کی اصل کسی شے کو اس طرح توڑ پھوڑ دینا کہ اس کی اصلاح ہی ممکن نہ رہے۔ یعنی بالکل چور چور و ریزہ ریزہ ہی کر ڈالا۔ کلام کچھ یوں ہے :۔
فقلنا اذھبا الی القوم فذھبا الیہم ودعوہم الی الایمان فکذبوھما واستمروا علی ذلک فدمرنہم۔ ہم نے کہا کہ تم دونوں قوم کے پاس جائو پس وہ دونوں ان کی طرف گئے اور ان کو ایمان کی دعوت دی لیکن (اس قوم کے ) لوگوں نے ان دونوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 44 :
اخاہ ( اس کا بھائی) ‘(وزیر) بوجھ اٹھانے والا۔ مددگار) ‘ دمرنا (ہم نے تباہ کردیا) ‘ تدمیر ( اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ اعتدنا ( ہم نے تیار کردیا) ‘ قرون (قرن) قومیں۔ جماعتیں ‘ اصحب الرس (کنویں والے) ‘ تتبیر (اچھی طرح تباہ کرنا) ‘ امطرت (برسایا گیا) ‘ مطرالسوئ (بدترین بارش) ‘ نشور (مرنے کے بعد زندہ ہونا) ‘ ھزو (مذاق۔ ہنسی۔ اڑانا) ‘ بعث (اس نے بھیجا) ‘ کا د (قریب ہے) ‘ صبرنا ( ہم جمے رہے) ‘ اضل (زیادہ گمراہ) ‘۔
تشریح آیت نمبر 35 تا 44 :
دنیا میں ہر ظالم و جابر اور قوت و طاقت رکھنے والے شخص کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کی خواہش کے غلام اور حکم کے بندے بن کر رہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
(ف 1) پیغمبروں کے واقعات :
ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب تورات دی تھی اور اس کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو وزیر کیا پھر ہم نے ان دونوں سے کہا کہ قوم قبطی کی طرف جاؤ جو ہماری آیتوں کو جھٹلارہی ہے مراد اس سے فرعون اور اس کے ساتھی ہیں موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) سمجھانے کو گئے مگر انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے اس قوم کو بالکل ہلاک کرڈالا اور قوم نوح نے تمام پیغمبروں کو جھٹلایا سو اس قوم کو ہم نے ڈبودیا اور بعد والوں کے لیے ان کو قصہ کو عبرت کیا اور ہم نے ظالموں کے لیے دردناک عذاب تیارکررکھا ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے فرعون کی قوم اور نوح (علیہ السلام) کی قوم اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے…
Read the full tafseer →[19] مراد فرعون اور اس کی قوم ہے۔
[20] یعنی ان آیتوں کو جو یعقوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہما السلام) کے ذریعے ان کو پہنچی تھیں اور جن کی تبلیغ ایک مدت تک بنی اسرائیل کے صالح لوگ کرتے رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
ف 2 ۔ یعنی بطور سزا کے انہیں منہ کے بل دوزخ کی طرف لیجایا جائے گا ۔ حدیث میں ہے ۔ ان الذی امشاھم علی ارجلھم قادر علی ان یمشیھم علی وجوھھم کہ جس خدا نے دنیا میں ان لوگوں کے پاؤں کے بل چلنے کی استعداد عطا کی ہے ۔ وہ قیامت کے دن ان کو منہ کے بل چلنے کی قوت بخش سکتا ہے ۔
بعض صوفیا نے کہا ہے کہ منہ کے بل چلتا اس کیفیت سے تعبیر ہے ، کہ ان لوگوں کے دل اس عالم حشر میں بھی دنیا کے مرغوبات سے متعلق رہیں گے ۔ اور ماسواء اللہ خواہشات ہنوز باقی رہیں گی ۔
Read the full tafseer →(36) پھر ہم نے ان سے کہا کہ تم دونوں ان لوگوں کے پاس جائو جنہوں نے ہمارے دلائل توحید کی تکذیب کی ہے پھر ہم نے ان سب تکذیب کرنے والوں کو بالکل ہلاک کردیا یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) وہاں گئے اور فرعون کو سمجھایا مگر وہ اور اس کی قوم متاثر نہ ہوئی اور بالآخر وہ سب ہلاک و برباد کردئیے گئے آیات کی تکذیب جو فرمائی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے وہاں شاید حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دین رائج تھا لوگ اس کی تکذیب کرتے ہوں گے یا عقلی دلائل مراد ہوں گے جسکی وجہ سے ہر شخص توحید الٰہی کا مکلف ہے۔
Read the full tafseer →ف 3۔ مراد اس قوم سے فرعون اور اس کی قوم ہے۔
Read the full tafseer →فرعونیوں نے دونوں رسولوں کی ایک نہ مانی اور ہم نے ان کو نیست ونابود کردیا :
36۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے مقابل فرعون اور اس کے گروہ کی تفصیل پیچھے کئی ایک مقامات پر گزر چکی اس جگہ بالکل مختصر ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ فرعون اور اس کے گروہ نے ہمارے دونوں نبیوں اور رسولوں کی کوئی بات نہ مانی اور ایک مدت تک یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا پھر انکو مختلف نشانیاں دی گئیں لیکن انہوں نے نشانی کو جھٹلایا اور انکو ایک جادو اور سحر قرار دیا انجام کار وہ وقت بھی آیا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنی قوم کو لے کر یہاں سے نکل چلو اور تمہارے پیچھے ہم فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کو بھی تمہارے…
Read the full tafseer →الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا (who have rejected Our signs - 25:36). Here it is described that the people of Pharaoh had denied Allah's verses. It is to be noted that by that time Torah was not revealed to Sayyidna Musa (علیہ السلام) . Therefore it cannot be Torah which was denied. Hence it is either the proofs of the Oneness of Allah, which can be understood by any one according to his mental level, or the traditions of the past prophets which are passed on through generations, no matter in what little detail, are referred here as rejection of His message. The same thing is referred in…
Read the full tafseer →49 "Revelations": The Divine teachings which had reached them through Prophets Jacob and Joseph, and which had been preached to them by the righteous people of Israel for centuries
Read the full tafseer →