Al-Furqaan 25:46

Al-Furqaan · from ayah 46

25:46

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا ۟ثُمَّ قَبَضۡنٰهُ اِلَـيۡنَا قَبۡضًا يَّسِيۡرًا

پھر اس کو ہم آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then We hold it in hand for a brief grasp.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:46

پھر (جیسے جیسے سورج اٹھتا جاتا ہے) ہم اس سائے کو رفتہ رفتہ اپنی طرف سمیٹتے چلے جاتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اس کو ہم آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ہم نے اسے آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ لیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ہم اسے تھوڑا تھوڑا کر کے اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ہم نے آہستہ آہستہ اسے اپنی طرف سمیٹا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ہم آہستہ آہستہ اس (سایہ) کو اپنی طرف کھینچ کر سمیٹ لیتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ہم نے اسے اپنی طرف سمیٹ لیا، تھوڑا تھوڑا سمیٹنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر (جیسے جیسے سورج بلند ہوتا جاتا ہے) ہم اس سائے کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹتے جاتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ہم سورج کو اس پر ایک دلیل راہ بناتے ہیں پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر ہم اسے آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹتے چلے جاتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ہم نے اس کو اپنی طرف آہستہ آہستہ سمیٹ لیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر ہم آہستہ آہستہ اس کو اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

then (as the sun climbs up), We roll it up little by little towards Ourselves.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then We pulled it toward Us in a gradual manner.

— Muhammad Taqi Usmani

Then We pulled it toward Us in a gradual manner.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then We withdraw it towards Ourselves -- a gradual withdrawal.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then We withdraw it unto Us, a gradual withdrawal?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then We hold it in hand for a brief grasp.

— Saheeh International

Then He reduces it in gradual steps.

— Muhammad Sarwar

Then We take it to Ourselves, taking little by little.

— Muhammad Habib Shakir

Then We draw it toward Us with an easy drawing.

— Abdul Majid Daryabadi

Then We draw it in towards Ourselves,- a contraction by easy stages.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–47

اگر وہ چاہے تو رات دن نہ بدلے اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت پر دلیلیں بیان ہو رہی ہے کہ مختلف اور متضاد چیزوں کو وہ پیدا کر رہا ہے۔ سائے کو وہ بڑھاتا ہے کہتے ہیں کہ یہ وقت صادق سے لے کر سورج کے نکلنے تک کا ہے اگر وہ چاہتا تو اسے ایک ہی حالت پر رکھ دیتا۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر وہ رات ہی رات رکھے تو کوئی دن نہیں کرسکتا اور اگر دن ہی دن رکھے تو کوئی رات نہیں لاسکتا۔ اگر سورج نہ نکلتا تو سائے کا حال ہی معلوم نہ ہوتا۔ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے سائے کے پیچھے دھوپ دھوپ کے پیچھے سایہ بھی قدرت کا انتظام ہے۔ پھر سہج سہج ہم اسے یعنی سائے کو یا سورج کو اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک گھٹتا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 59 اپنی طرف سمیٹنے سے مراد غائب اور فنا کرنا ہے، کیونکہ ہر چیز جو فنا ہوتی ہے وہ اللہ ہی کی طرف پلٹتی ہے۔ ہر شے اسی کی طرف سے آتی ہے اور اسی کی طرف جاتی ہے۔ اس آیت کے دو رخ ہیں۔ ایک ظاہری، دوسرا باطنی۔ ظاہر کے اعتبار سے یہ غفلت میں پڑے ہوئے مشرکین کو بتارہی ہے کہ اگر تم دنیا میں جانوروں کی طرح نہ جیتے اور کچھ عقل و ہوش کی آنکھوں سے کام لیتے تو یہی سایہ جس کا تم ہر وقت مشاہدہ کرتے ہو، تمہیں یہ سبق دینے کے لیے کافی تھا کہ نبی جس میں توحید کی تعلیم تمہیں دے رہا ہے وہ بالکل بر حق ہے۔ تمہاری ساری زندگی اسی سائے کے مد و جزر سے وابستہ ہے۔ ابدی سایہ ہوجائے تو زمین پر کوئی جاندار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–46

خلاصہ تفسیر اے مخاطب کیا تو نے اپنے پروردگار (کی اس قدرت) پر نظر نہیں کی کہ اس نے (جب آفتاب افق سے طلوع کرتا ہے اس وقت کھڑی ہوئی چیزوں کے) سایہ کو کیونکر (دور تک) پھیلایا ہے (کیونکہ طلوع کے وقت ہر چیز کا سایہ لمبا ہوتا ہے) اور اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک حالت پر ٹھہرایا ہوا رکھتا (یعنی آفتاب کے بلند ہونے سے بھی نہ گھٹتا اس طرح پر کہ اتنی دور تک آفتاب کی شعاعوں کو نہ آنے دیتا کیونکہ آفتاب کی شعاعوں کا زمین کے حصوں پر پہنچنا بارادہ حق ہے نہ کہ بالاضطرار مگر ہم نے اپنی حکمت سے اس کو ایک حالت پر نہیں رکھا بلکہ اس کو پھیلا ہوا بنا کر) پھر ہم نے آفتاب کو (یعنی اس کے افق کے قریب ہونے اور پھر افق سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 45–46

آگے کا مضمون …… آیات 62-45 اوپر کے مجموعہ آیات میں آپ نے دیکھا کہ تاریخ کے شواہد کی روشنی میں پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔ اب آگے کی آیات میں بعض آفاقی و کائناتی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جن سے ان تمام باتوں کی تصدیق و تائید ہو رہی ہے جو آپ اپنی قوم کے سامنے پیش کر رہے تھے۔ ان نشانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نبی ﷺ کو یہ تلقین بھی فرمائی گئی ہے کہ تمہیں اپنے مفوضہ فریضہ کے ادا کرنے کے لئے جن دلائل وبراہین سے مسلح ہونا چاہئے وہ گوناگوں اسلوبوں سے قرآن میں واضح کردیئے گئے ہیں تو تم اسی کتاب کے ذریعہ سے ان لوگوں پر اللہ کی حجت تمام کرنے کی کوشش کرو اور ان کے ان نت نئے مطالبات و اعتراضات کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

46۔-1یعنی وہ سایہ آہستہ آہستہ ہم اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور اس کی جگہ رات کا گمبیھر اندھیرا چھا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 44–46

16: یہاں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کی کئی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جن پر انسان غور کرے تو ان میں سے ہر چیز اللہ تعالیٰ کی توحید پر واضح دلیل ہے۔ سب سے پہلے یاد دلایا گیا ہے کہ دھوپ چھاؤں کی تبدیلیاں انسان کی زندگی کے لیے کتنی ضروری ہیں۔ اگر دنیا میں ہمیشہ دھوپ رہتی تب بھی زندگی دو بھر ہوجاتی، اور اگر ہر وقت سایہ ہی سایہ رہتا تو بھی انسان کا کاروبار زندگی معطل ہو کر رہا جاتا۔ اللہ تعالیٰ ہر روز ان دونوں کا حسین امتزاج اس طرح پیدا فرماتا ہے کہ صبح کے وقت سایہ زمین پر پھیلا ہوا ہوتا ہے، پھر جوں جوں سورج چڑھتا جاتا ہے، اس کا سایہ سمٹتا رہتا ہے۔ سورج کو سائے کا رہنما بنانے۔ کا مطلب یہی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 45–46

درس نمبر 159 ایک نظر میں اس سبق میں مشرکین کے اعتراضات اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے بحث و جدل کے موضوع کو چھوڑ کر اس کائنات کے مشاہد و مناظر کی سیر کرائی جاتی ہے۔ نبی ﷺ کے دل اور آپ کے احساسات کو اس کائنات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ مشرکین کے لایعنی اعتراضات کی وجہ سے پیدا ہونے والے غبار خاطر کو دور کرنے کے لیے ‘ مناظر کائنات کے ساتھ یہ اتصال اور ان کی طرف یہ توجہ کافی ہے۔ کائنات کی وسعتوں کی یہ سیر آپ کے دل کے سکون اور شرح صدر کے لیے ایک وسیع میدان ہے جس کے مقابلے میں سازشیں کرنے والوں کی چھوٹی چھوٹ سازشیں اور دشمنی کرنے والوں کی بےمقصد دشمنیاں نہایت ہی حقیر نظر آتی ہیں۔ قرآن کریم انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 45–46

8 صبح سے طلوع شمس تک سب جگہ سایہ رہتا ہے اگر حق تعالیٰ سورج کو طلوع نہ ہونے دیتا تو یہ ہی سایہ قائم رہتا، مگر اس نے اپنی قدرت سے سورج نکالا جس سے دھوپ پھیلنی شروع ہوئی اور سایہ بتدریج ایک طرف کو سمٹنے لگا۔ اگر دھوپ نہ آتی تو سایہ کو ہم سمجھ بھی نہ سکتے۔ کیونکہ ایک ضد کے آنے سے ہی دوسری ضد پہچانی جاتی ہے۔ (قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ سَرْمَدًا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَيْرُ اللّٰهِ يَاْتِيْكُمْ بِضِيَاۗءٍ ۭ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ ) 28 ۔ القصص :71) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اول ہر چیز کا سایہ لمبا پڑتا ہے۔ پھر جس طرف سورج چلتا ہے اس کے مقابل سایہ ہٹا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 46 ثُمَّ قَبَضْنٰہُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا ” جب سورج طلوع ہوتا ہے تو سائے بہت لمبے ہوتے ہیں۔ پھر جوں جوں سورج اوپر اٹھتا ہے تو آہستہ آہستہ سمٹنا شروع ہوجاتے ہیں جیسے کوئی ان کی طنابیں کھینچ رہا ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

58 یعنی اللہ تعالیٰ سایوں کو پھیلاؤ سے سمیٹتا ہے تو بھی آہستہ آہستہ بتدریج سمیٹتا ہے اور سایوں کا پورا سمٹ جانا عین نصف النہار کے وقت ہوتا ہے یا سر پر ہوتا ہے جبکہ زاویہ قائم بن جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد سائے آہستہ آہستہ اور بتدریج بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس تدریج میں بہت سے فوائد مضمر ہیں اور دنیا میں جو بھی تغیر واقع ہوتا ہے اس میں تدریح کا قانون کام کرتا ہے۔ اگر یہ تدریج کا قانون نہ ہوتا تو بھی ہر جاندار کے لئے زندگی دو بھر ہوجاتی مثلاً سورج طلوع ہوتے اتنی شدید گرمی ہوتی جیسے دوپہر کو ہوتی ہے اور یہ گرمی سورج غروب ہونے تک بدستور اتنی ہی تیزی سے رہتی پھر غروب ہونے پر یک لخت سردی ہوجاتی تو یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

53۔ یعنی وہ سایہ جو اس کے نزدیک معدوم ہوجاتا ہے۔ لیکن علم الہی سے غائب نہیں ہوجاتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–60

آیت نمبر 45 تا 60 ترجمہ : کیا تو اپنے رب کی صنعت کو نہیں دیکھتا وقت اسفار سے طلوع شمس کے وقت تک اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک ھالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا، یعنی ساکن رکھتا جو طلوع شمس سے زائل نہ ہوتا پھر ہم نے سورج کو اس سایہ کو اپنی طرف بتدریج سمیٹ لیا یعنی طلوع شمس کی وجہ سے شیئاً فشیئاً اور وہ ایسا ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات کا لباس یعنی لباس کے مانند ساتر بنایا اور نیند کو قطع کرنے والی یعنی جسموں کے لئے اعمال کو موقوف کرکے راحت کی چیز بنایا اور دن کو منتشر ہونے کا وقت بنایا اس میں رزق وغیرہ حاصل کرنے کے لئے اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں اور ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم قبضنہ الینا قبضا یسیرا۔ پھر ہم نے اس کو آسانی کے ساتھ (یا تھوڑا تھوڑا کر کے تدریجاً ) اپنی طرف سمیٹ لیا ‘ یعنی سورج کے نکلنے اٹھنے اور کرنوں کے پھیلنے سے سایہ جاتا رہتا ہے اور سایہ کی جگہ آفتاب کی شعاعیں لے لیتی ہیں اوّل تاریکی دھیرے دھیرے جاتی رہتی ہے یہاں تک کہ کامل اجالا ہوجاتا ہے پھر سورج نکل آتا ہے اور سورج کی شعاعیں ان مقامات پر پڑتی ہیں جہاں پہلے تاریکی ہوتی ہے۔ میرے نزدیک ان آیات کی تاویل دوسرے رنگ سے بھی کی جاسکتی ہے۔ ظل سے مراد عالم امکان ہے عالم امکان کا وجود ‘ خارجی ظلی ہے امکان مرتبۂ وجوب کا ظل ہے شمس سے مراد ہیں اللہ کی صفات و اسماء کے مراتب اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کیا آپ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 45–46

(45۔ 46) اے مخاطب کیا تو نے اپنے پروردگار کی اس قدرت وصنعت پر نظر نہیں کی کہ وہ صبح صادق کے بعد سورج نکلنے سے پہلے مشرق سے مغرب تک کس طرح سایہ کو پھیلاتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اس سایہ کو ہمیشہ ایک حالت پر ٹھہرایا ہوا رکھتا کہ آفتاب کی بلندی کا بھی اس پر کچھ اثر نہ پڑتا، پھر ہم نے آفتاب کو اس سایہ کی درازی وکوتاہی پر ایک ظاہری علامت مقرر کردیا کہ جہاں بھی سورج ہوتا ہے، سایہ فورا اس کے ساتھ ہوتا ہے، پھر ہم نے اس سایہ کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیا،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَيْنَا۔۔ : یعنی آہستہ آہستہ گھٹاتے ہوئے ہم اسے بالکل مٹا دیتے ہیں، جیسے جیسے سورج بلند ہوتا ہے سایہ بھی بتدریج کم ہوتا جاتا ہے، حتیٰ کہ نصف النہار کے وقت بالکل ختم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح سورج کے مغرب کی طرف ڈھلنے کے ساتھ سائے کو بڑھاتے بڑھاتے رات کے آنے پر اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ 3 اپنی طرف سمیٹنے سے مراد غائب کرنا اور فنا کردینا ہے، کیونکہ ہر چیز کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے، ہر چیز اسی کی طرف سے آتی ہے اور اسی کی طرف جاتی ہے، چناچہ فرمایا : (وَلِلّٰهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاِلَيْهِ يُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ) [ ھود : 123 ] ”اور اللہ ہی کے پاس آسمانوں اور زمین کا غیب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 45–46

( الم ترالی ربک۔۔۔۔۔۔۔ ) الم ترالی ربک کیف مدا الظل یہ جائز ہے کہ روایت سے مراد آنکھ سے دیکھنا ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس سے مراد علم ہو۔ حضرت حسن بصری، قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا : فجر کے طلوع سے لے کر سورج کے طلوع تک سایہ کو لمبا کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد سورج کے غائب ہونے سے اس کے طلوع تک کا وقت ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے، اس پر یہ دلیل یہ ہے کہ اس ساعت پر بڑھ کر کوئی ساعت اچھی نہیں کیونکہ اس میں مسافر ہو اور ہر بیمار راحت پاتا ہے، ان میں مرد و زن کی روحیں اور نفوس جسموں کی طرف لوٹائے جاتے ہیں، اس میں زندوں کے نفوس خوش ہوتے ہیں مغرب کے بعد یہ صفت مفقود ہوتی ہے۔ ابو العالیہ نے کہا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–47

1۔ سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” الم تر الی ربک کیف مد الظل “ سے مراد ہے فجر کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے (سایہ کو کیسے بڑھایا) 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” الم تر الی ربک کیف مد الظل سے مراد ہے کیا تو نے نہیں دیکھا جب تو نے فجر کی نماز پڑھی تو سورج کے طلوع ہونے سے لے کر اس کے غروب ہونے تک ایک سایہ ہوتا ہے ؟ پھر اللہ تعالیٰ اس پر سورج کو دلیل بنا کر بھیجتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سائے کو قبض کرلیتا ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” الم تر الی ربک کیف مد الظل “ یہاں سائے کے پھیلانے سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ [ پھر ہم نے سمیٹا اس کو ] اِلَيْنَا [ اپنی طرف ] قَبْضًا يَّسِيْرًا [ جیسے آسان سمیٹا ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 45–46

سایہ اور آفتاب، رات اور دن ہوائیں اور بارشیں سب تصرفات الہٰیہ کا مظہر ہیں اول ارشاد فرمایا کیا تم نے یہ نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے سایہ کو کس طرح پھیلایا ہے جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ہر چیز کا سایہ خوب لمبا ہوتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو اس کو ایک حالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا جو آفتاب کے بلند ہونے پر بھی نہ گھٹتا، نیز یہ بھی فرمایا کہ ہم نے آفتاب کو سایہ کی درازی اور کوتاہی پر ایک ظاہری علامت مقرر کردیا کہ آفتاب طلوع ہوا تو چیزوں کا سایہ لمبا ظاہر ہوا پھر آفتاب چڑھتا گیا تو سایہ گھٹتا گیا، حتیٰ کہ عین زوال کے وقت ذرا سا سایہ رہ گیا، پھر جب آفتاب آگے بڑھا تو سایہ کا رخ مشرق کی طرف ہوگیا جو زوال کے وقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–46

ذکر دلائل توحید و عجائب قدرت و صنعت قال اللہ تعالیٰ الم تر الیٰ ربک کیف مدا الظل .... الیٰ .... لمن اراد ان یذکر او اراد شکورا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور منکرین نبوت کی جہالت بیان فرما دی اور ان کی گمراہی ظاہر کردی اب آئندہ آیات میں منکرین وحدانیت کی تشنیع کے لیے اپنی قدرت کے آثار اور توحید کے چند دلائل بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اشیاء متضادہ اور مختلفہ کے پیدا کرنے پر قدرت تامہ رکھتا ہے جو خدا تعالیٰ کے قادر مطلق اور واحد قہار ہونے کی دلیل ہے اور ایسی چیزیں ہیں کہ کفار دن رات اسکا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں اگر ذرا غور کریں تو اللہ کی قدرت اور وحدانیت ان پر واضح ہوجائے۔ اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 43–49

30:۔ ” ارایت من الخ “ ان مشرکین سے قبول حق کی توقع بےسود ہے یہ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ محض ضد وعناد کی وجہ سے اپنی خواہشات نفسانیہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ نفس کے بندے ہیں اور خواہش نفس کو انہوں نے اپنا معبود بنا رکھا ہے یعنی اپنی خواہش سے معبودان باطلہ کو حاجت روا اور برکات دہندہ سمجھ رکھا ہے۔ وہ اپنی مرضی اور خواہش سے جس کو چاہتے ہیں اپنا کارساز اور معبود بنا لیتے ہیں۔ اس سے پہلے ” ان کاد لیضلنا عن الھتنا “ بھی قرینہ ہے کہ مشرکین اپنی خواہش سے جسے چاہتے برکات دہندہ بنا لیتے۔ فالایۃ شاملۃ لمن عبد غیر اللہ تعالیٰ حسب ھواہ ولمن اطاع الھوی فی سائر المعاصی وھو الذی یقتضیہ کلام الحسن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–47

ربط آیات گزشتہ آیات میں تسلی کا مضمون تھا۔ اس کے بعد مشرکوں کا رد تھا۔ عبرت کے لیے بعض سابقہ اقوام کا حال بیان ہوا اور ان کی سزا کا ذکر کیا گیا ۔ اللہ نے فرمایا کہ کافر اور مشرک لوگ اللہ کے نبی کو دیکھ کر اس کا تمسخر اڑاتے تھے ۔ اور اپنے باطل عقیدے پر پختگی کا اظہار کرتے تھے ۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ عنقریب عذاب الٰہی کو دیکھیں گے تو پھر انہیں پتہ چلے گا کہ گمراہ کون تھا اور راہ راست پر کون ۔ نیز یہ کہ ان لوگوں سے قبولیت حق کو توقع نہیں رکھنی چاہئے ، جو شخص اپنی خواہش کو ہی معبود بنا لیتا ہے ۔ وہ حق و باطل کی تمیز سے محروم ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگ نہ تو حق بات سنتے ہیں اور نہ اسے سمجھنے کی کوشش…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ قَبَضْنٰہُ اِلَيْنَا قَبْضًا يَّسِيْرًا۝ 46 قبض القَبْضُ : تناول الشیء بجمیع الکفّ. نحو : قَبَضَ السّيفَ وغیرَهُ. قال تعالی: فَقَبَضْتُ قَبْضَةً [ طه/ 96] ، فَقَبْضُ الید علی الشیء جمعها بعد تناوله، وقَبْضُهَا عن الشیء جمعها قبل تناوله، وذلک إمساک عنه، ومنه قيل لإمساک الید عن البذل : قَبْضٌ. قال : يَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ [ التوبة/ 67] ، أي : يمتنعون من الإنفاق، ويستعار الْقَبْضُ لتحصیل الشیء وإن لم يكن فيه مراعاة الكفّ ، کقولک : قَبَضْتُ الدّار من فلان، أي : حزتها . قال : تعالی: وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 67] ، أي : في حوزه حيث لا تمليك لأحد . وقوله :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–52

1 ؎ یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ ظل سے مراد سایہ الٰہی ہو وہ کسی قوم اور کسی شخص کے لیے خدا نے کیسا دراز کیا ہو ؟ مگر بقاء اسی کو ہے اس کو ٹھہرا نہیں رکھتا وہ پھر ڈھلنے لگتا ہے اور آفتاب عنایت و اقبال اس کی دلیل ہوتا ہے انسان کی عمر بھی ایک سایہ ہے باوجود درازی کے کس طرح سے ڈھلتی ہے اور یہ بیخبر غافل ہے۔ 12 منہ ترکیب : اناسی اصلا اناسین جمع انسان کسر حان و سراحین ابدلت النون فیہ یاء وادغمت وقیل جمع انسی علی القیاس صرفناہ الضمیر للماء۔ تفسیر : ان کے شبہات رد کر کے اور اس کجروی کا نتیجہ امم گزشتہ کے حالات میں بیان فرما کر اب یہ چند دلائل توحید اور کمال قدرت پر بیان فرماتا ہے : فقال الم ترابی ربک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 45–46

اَلَمْ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیْفَ مَدَّالظِّلَّ ج وَلَوْشَآئَ لَجَعَلَـہٗ سَاکِـنًا ج ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلاً ۔ ثُمَّ قَبَضْنٰـہُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا۔ (الفرقان : 45، 64) (اے مخاطب ! کیا تو نے اپنے رب کی قدرت کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح سایہ کو پھیلا دیتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا بنا دیتا، پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا۔ پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ) سابقہ آیات میں تاریخ کے شواہد کی روشنی میں مخالفین کو تنبیہ کی گئی ہے اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کو یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کی دعوت و تبلیغ کے جواب میں مخالفت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–46

فہم القرآن ربط کلام : نفس کی پیروی کرنے والا شخص اپنے گردوپیش کو دیکھے اور اس پر غور کرے تو اپنے نفس کی پیروی کرنے کی بجائے اپنے رب کا تابعدار بن جائے گا۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان کیا تو اس بات پر غور نہیں کرتا کہ تیرا رب سائے کو کس طرح زمین پر بچھاتا ہے ؟ اگر وہ چاہتا تو سائے کو ایک ہی جگہ جامد کردیتا۔ اس نے سورج کو اس پر دلیل بنایا ہے وہی رب سورج کو اپنی طرف آہستہ آہستہ سمیٹ لیتا ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے سورج اور سائے کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر پیش کیا ہے۔ سورج ایک مقررہ وقت کے مطابق طلوع ہوتا ہے اور دوپہر کے وقت اپنے شباب کو پہنچنے کے بعد آہستہ آہستہ ڈھلنا شروع ہوجاتا ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

46: ثُمَّ قَبَضْنٰہُ (پھر ہم نے اس کو سمیٹ لیا) یعنی اس دراز سایے کو سمیٹ لیا۔ اِلَیْنَا (اپنی طرف سے) مراد جہاں ہم نے چاہا اس طرف قَبْضًا یَّسِیْرًا (تھوڑا تھوڑا کر کے) آسانی کے ساتھ اس میں تکلیف قطعاً نہ تھی۔ نمبر 2۔ آہستہ آہستہ یعنی ایک ایک جزو کر کے اس سورج کے ذریعہ جو اس پر آتی ہے۔ نحو : یہاں ثمؔ امور کے مابین تفاضل کیلئے استعمال ہوا ہے گویا دوسرا پہلے سے بہت بڑا ہے اور تیسرا دوسرے سے بھی اعظم تر ہے فضیلت کے مراتب میں فرق کو وقت میں پیش آئندہ حوادث سے تشبیہ دی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 46۔ ثم قبضناہ ، اس سے مراد سایہ ہے ، الیناقبضا یسیرا۔ سورج کے نکلنے کے ساتھ ساتھ وہ سایہ جاتا رہتا ہے قبض کہتے ہیں پھیلی ہوئی چیز کو سمیٹنا جمع کرنا۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے سایہ پوری زمین پر پھیلاہوتا ہے۔ جب سورج طلوع ہوتا ہے توہم تدریجا اس سایہ کو جمع کردیتے ہیں یہاں تک کہ وہ سایہ ختم ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–47

45۔ 47:۔ صبح صادق کے شروع سے آفتاب کے نکلنے تک بغیر آفتاب کی دھوپ کے جو ایک سایہ ہوتا ہے اس آیت میں اس سایہ کا ذکر ہے ‘ یہ سایہ جنت میں ایک نشانی ہے ‘ جنت میں آفتاب کی دھوپ نہیں ہوگی یہی سایہ ہوگا ‘ تفسیر عبدالرزاق میں حسن بصری اور قتادہ کی روایت سے اور تفسیر ابن ابی حاتم میں علی بن طلحہ کی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے اس آیت میں جو سایہ کا ذکر ہے ‘ اس کی یہی تفسیر آئی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے اور یہی تفسیر امام بخاری نے صحیح بخاری 1 ؎ میں بیان کے ہے۔ بعضے مفسروں نے اس تفسیر پر یہ اعتراض کیا ہے کہ غروب آفتاب کے شروع سے رات کے اندھیرے کے شروع ہونے تک بھی بغیر آفتاب کی دھوپ کے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–46

آیت 45 سے 46 کیا تم نے اپنی آنکھ اور اپنی بصیرت سے اپنے رب کی قدرت کاملہ اور بےپایاں رحمت کا مشاہدہ نہیں کیا کہ وہ بندوں پر سائے کو پھیلا دیتا ہے اور یہ طلوع آفتاب سے قبل ہوتا ہے۔ (ثم جعلنا الشمس علیہ) ” پھر بنایا ہم نے سورج کو اس پر ” یعنی سائے پر (دلیلا) ” دلیل “ اگر سورج نہ ہوتا تو سایہ نہ پہنچانا جاتا کیونکہ تمام اشیاء اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ (ثم قبضنہ الینا قبضا یسیرا) ” پھر ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ لیا۔ “ پس جوں جوں سورج بلند ہوتا ہے تو سایہ آہستہ آہستہ سکڑتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ختم ہوجاتا ہے۔ مخلوق پر سائے اور دھوپ کا یکے بعد دیگرے واقع ہونا جس کا وہ اپنی آنکھوں سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

58 سائے کے سمٹنے سکڑنے میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اس کو ہم آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹتے چلے جاتے ہیں "۔ اپنی طرف سمیٹنے سے مراد ہے کہ اسے ہم مٹاتے رہتے ہیں۔ کیونکہ جو چیز مٹ جاتی ہے وہ اسی کی طرف لوٹتی ہے کہ مرجع و منتہٰی سب کا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { وَاِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجْعٰی } ۔ (العلق : 8) ۔ ورنہ اللہ پاک کی ذات جہت و مکان سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور سایہ کے اس بتدریج سمیٹنے میں بھی کئی حکمتیں کار فرما ہیں۔ سو تمہارے پیش افتادہ اس سائے میں ایک طرف تو پیدا ہونے اور مٹتے رہنے اور فنا وزوال کا درس عظیم ہے اور دوسری طرف یہ اپنے خالق ومالک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 45–49

سورج، دن رات، ہوائیں اور بارش پیدا کرنے کا مقصد تشریح : ان آیات میں اللہ کی تخلیقات میں سے سورج ‘ دن ‘ رات ‘ بارش اور ہوائوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور آخر میں بتایا گیا ہے کہ سب تخلیقات صرف انسانوں کے فائدے کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اور ہر تخلیق اپنی جگہ بےحد اہم اور عجیب و غریب ہے۔ سورج کا اپنے مدار میں گردش کرنا اور زمین کا اپنے مدار میں گردش کرنا ایک خاص اندازے اور خاص نظام کے تحت یہ لوگوں کے لیے رحمت سے کسی طرح کم نہیں کیونکہ اسی کی وجہ سے دھوپ مناسب اوقات میں زمین پر پڑتی ہے جس سے صبح دوپہر شام اور رات وجود میں آتے ہیں۔ بادل بنتے ہیں۔ پھول پھل اور فصلیں پکتی ہیں۔ سایہ جو سورج کی روشنی سے کبھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف اے مخاطب تو دیکھتا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہر شے میں اور ہر کام میں ایک رشتہ قائم کردیا ہے یہی رشتہ سبب اور اس کے نتیجے میں ہے سورج کی روشنی اور سائے میں ہے کس طرح قدرت باری نے چیزوں کو سایہ بخشا کہ دور تک پھیلا ہوتا ہے ، اگر اللہ جل جلالہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایسے ہی رکھنے پر قادر تھا مگر اس نے سائے کے بڑھنے گھٹنے کو سورج اور دھوپ سے متعلق کردیا ، سورج اوپر اٹھتا ہے تو سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں اور دھوپ اور گرمی کی تپش پھیلتی ہے اور پھر سورج ڈھلتا ہے تو دوبارہ سائے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ رشتے یہ اسباب ونتائج اللہ نے دنیا کی آبادی اور بنی آدم کے آرام کا سبب بنائے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

8 ۔ یعنی اسے محو کردیا۔ جوں جوں سورج بلند ہوتا ہے سایہ بھی بتدریج کم ہوتا جاتا ہے حتیٰ کہ نصف النہار کے وقت بالکل ختم ہوجاتا ہے۔ اور ” الینا “ سے مراد یہ ہے کہ اس کا مرجع و مآل ہماری طرف ہے جیسے اس کا پیدا کرنا ہماری طرف سے ہے۔ (فتح) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” اپنی طرف کھینچ لیا۔ “ یہ کہ اپنی اصل کو جا لگتا ہے سب کی اصل اللہ ہے۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:46) قبضنہ : قبضنا ماضی جمع متکلم ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الظل ہے۔ ہم اس کو سمیٹ لیتے ہیں۔ کھینچ لیتے ہیں۔ پکڑ لیتے ہیں۔ قبضہ کرلیتے ہیں (ماضی بمعنی حال قبض مصدر) ۔ یسیرا۔ صفت مشبہ واحد مذکر۔ منصوب یسر مادہ۔ آہستہ آہستہ (غیر محسوس طور پر) تھوڑا ۔ آسان ۔ سہل۔ فائدہ : آیات 45 - 46 کا ترجمہ : کیا تو نے اپنے رب (کی کاریگری) کو نہیں دیکھا کہ کس کس طرح سائے کو پھیلا دیتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا (دائمی) بنا دیتا ۔ پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا۔ (کہ آفتاب کی پوزیشن کے لحاظ سے گھٹتا بڑھتا ہے) پھر اس سایہ کو اپنی طرف آہستہ آہسۃ سمیٹتے چلے جاتے ہیں۔ صاحب تفہیم القرآن نے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–50

لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 50 : مد (پھیلایا) ‘ الظل (سایہ) ‘ ساکن (ٹھرا ہوا) ‘ دلیل (نشانی۔ راستہ بتانے والا) ‘ قبضنا ( ہم نے سمیٹ لیا) ‘ سبات (آرام و راحت کی چیز) ‘ الریاح ( ہوائیں) ‘ طھور (پاکیزہ۔ صاف ستھرا) ‘ بلدۃ ( بستی ۔ شہر) ‘ انعام (جو پائے جانور) ‘ ابی (انکار کیا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 50 : اللہ تعالیٰ کا نظام و انتظام ایسا ہے کہ وہ ہر آن اس کا ئنات کی کیفیات اور حالات کو تبدیل کرتارہتا ہے تاکہ انسان یکسانیت سے اکتانہ جائے کبھی دن کبھی رات ‘ کہیں بہار اور کسی جگہ خزاں ‘ کبھی سردی کبھی گمی یا برسات۔ اگر اللہ تعالیٰ ایک ہی کیفیت رکھتا تو زندگی بےکیف ہو کر رہ جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–47

اللہ کی قدرت کاملہ کا ذکر ۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ کیا تم نے اپنے پروردگار کی قدرت کی طرف نہیں دیکھا کہ جس طرح سایہ کو بڑھایا اور اگر چاہتا تو اس کو ایک ہی جگہ ٹھہرائے رکھتا پھر اس کے پہچاننے کے لیے سورج کو دلیل بنایا کہ سورج سے سای پہچان لیتے ہو پھر فرمایا سورج کے نکلنے کے بعد سورج سے پہلے کا وہ ٹھنڈا سایہ آہستہ آہستہ اللہ کے حکم سے سمیٹ لیاجاتا ہے اور بجائے اس ٹھنڈے سایہ کے تمام دنیا میں دھوپ پھیل جاتی ہے یہ ٹھنڈا سایہ رات کے اندھیرے کے بعد طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے اور پھر دن کے گزرجانے کے بعد رات ہوتی اس واسطے اس ٹھنڈے سایہ کے ذکر میں رات اور دن کا تذکرہ فرمایا۔ جس طرح اوڑھنے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[27] سائے کے معدوم ہوجانے کو فرمایا کہ سایہ اپنی اصل کو جا لگتا ہے اور سب کی اصل اللہ ہے۔ ہر چیز اللہ کی طرف سے آتی ہے اور اسی کی طرف جاتی ہے۔ اس آیت میں ایک لطیف اشارہ یہ ہے کہ جس طرح مادی دنیا میں سورج آہستہ آہستہ ہی چڑھتا اور سایہ آہستہ آہستہ ہی سکڑتا ہے اسی طرح روحانی دنیا میں بھی آفتاب ہدایت کا عروج اور سایہ ضلالت کو زوال آہستہ آہستہ ہی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 45–46

ف 2: یعنی جس طرح چوپاثوں میں عقل و شعور کی استعداد نہیں ہوتی ۔ اسی طرح یہ لوگ بھی سمجھ بوجھ سے محروم ہیں ۔ بلکہ انہیں لحاظ سے تو ان سے بھی بدتر ہیں کہ وہ کم از کم ان فرائض کو ادا کرتے ہیں ۔ جو فطرت نے ان پر عائد کی ہیں مگر یہ ہیں کہ انسان فرائض کو بھی بھول چکے ہیں اور انسانی شرافت اور بزرگی کو یکسر کھوچکے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(46) پھر اس سائے کو آہستہ آہستہ اور سہج سہج اپنی طرف کھینچ لیا ظل اس سائے کو کہتے ہیں جو طلوع شمس سے لیکر دوپہر تک ہوتا ہے اور دوپہر سے لیکر شام تک سائے کوفے کہتے ہیں سایہ شروع میں ہر چیز کا طویل ہوتا ہے پھر گھٹتے گھٹتے ہر چیز کا سایہ برابر ہوجاتا ہے اور زوال کے بعد پھر بڑھتا ہے اور آخر آفتاب کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے اور چونکہ یہ حضرت حق کی قدرت کاملہ سے ہوتا ہے اس لئے فرمایا کہ ہم نے اس سائے کو سمیٹ لیا آفتاب کو دلیل بنانے کا مطلب یہ ہے کہ سائے کو شناخت کرنے کی دلیل آفتاب کو ٹھہرایا کیونکہ سایہ آفتاب سے ہی پہچانا جاتا ہے بعض حضرات جن میں حضرت ابن عباس ؓ حضرت ابن عمر ؓ ابو مالک، ابو العالیہ حضرت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 45–47

ف 9۔ اس اعتبار سے کہ سونا مشابہ موت کے ہے اور دن کا وقت جاگنے کا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر ایسا ہوتا ہے کہ سایہ کو ہم آہستہ آہستہ لپیٹتے جاتے ہیں اور لپٹ کر رہ جاتا ہے : 46۔ ” پھر ایسا ہوتا ہے کہ ہم اس سایہ کو رفتہ رفتہ اپنی طرف سمیٹے چلے جاتے ہیں “ اس طرح جب وہ سمٹتے سمٹتے بالکل سمٹ جاتا ہے یعنی فنا ہوجاتا ہے اور اس طرح گویا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھا لیا جاتا اور اسی طرح ہرچیز اسی کی طرف لوٹتی ہے اور یہ بول چال میں عام ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ہرچیز کا وجود اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کی طرف سے ہے اور ہرچیز کے معدوم کرنے پر بھی وہی قادر وقدیر ہے کیونکہ یہ سارا نظام اس کا قائم کیا ہوا ہے اور وہی اکیلا اس کا چلانے والا ہے کسی دوسرے کا اس میں ذرہ برابر بھی داخل نہیں اور پھر یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–46

Commentary Relationship between causes and effects and their being subject to Allah's will The above verses describe complete and total omnipotence of Allah Ta’ ala and His bounties and favors showered on human kind. This also proves Oneness of Allah and that no one can share His right of worship. أَلَمْ تَرَ‌ إِلَىٰ رَ‌بِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ (Have you not turned your vision to your Lord, how He prolonged the shadow? - 25:45). Sunlight and shade are such blessings of God that without them it would not have been possible for mankind to survive and carry on its day to day functions. If…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

59 "We roll it up......Curselves": "We annihilate it or cause it to disappear", for everything which is annihilated returns to Allah, because everything comes from Elim and returns to Him. The Qur'an has used the phenomenon of the shadow caused by the sun for two purposes. (fit is taken literally, it is meant to warn the disbelievers that they should learn a lesson from this and should not behave like cattle, as if to say, "If you had considered the benefits of the shadow in regard to your everyday experience, you would have accepted without any hesitation the Doctrine of Tauhid. Had the…

Read the full tafseer →