Al-Furqaan 25:33

Al-Furqaan · from ayah 33

25:33

وَلَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا ۟ؕوَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَـقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا

اور یہ لوگ تمہارے پاس جو (اعتراض کی) بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اس کا معقول اور خوب مشرح جواب بھیج دیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they do not come to you with an argument except that We bring you the truth and the best explanation.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 3 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:33

اور (اس میں یہ مصلحت بھی ہے) کہ جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات (یا عجیب سوال) لے کر آئے، اُس کا ٹھیک جواب بر وقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ لوگ تمہارے پاس جو (اعتراض کی) بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اس کا معقول اور خوب مشرح جواب بھیج دیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ آپ کے پاس جو کوئی مثال ﻻئیں گے ہم اس کا سچا جواب اور عمده توجیہ آپ کو بتادیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب کبھی یہ لوگ تمہارے پاس کوئی انوکھی بات لے کر آتے ہیں، ہم تمہیں (اس کا) ٹھیک ٹھیک) جواب اور زیادہ وضاحت کے ساتھ عطا کردیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے مگر ہم حق اور اس سے بہتر بیان لے آئیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ (کفار) آپ کے پاس کوئی (ایسی) مثال (سوال اور اعتراض کے طور پر) نہیں لاتے مگر ہم آپ کے پاس (اس کے جواب میں) حق اور (اس سے) بہتر وضاحت کا بیان لے آتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ تیرے پاس کوئی مثال نہیں لاتے مگر ہم تیرے پاس حق اور بہترین تفسیر بھیج دیتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اس لئے بھی کہ جب بھی یہ کافر آپ کے پاس کوئی مثال (اعتراض) لائیں تو اس کا ٹھیک اور برجستہ جواب اور بہترین توجیہ ہم نے آپ کو بتلا دیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ لوگ جو اعتراض بھی اٹھائیں گے ہم اس کا صحیح جواب اور اس کی بہترین توجیہ تمہیں بتا دیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ لوگ نہیں لاتے آپ کے پاس کوئی مثال اے پیغمبر مگر ہم اس کے مقابلے میں لے آتے ہیں آپ کے پاس حق اور اس کی نہایت عمدہ تفسیر

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ لوگ جیسا بھی عجیب سوال آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں ہم اس کا جواب ٹھیک اور وضاحت میں بڑھا ہوا آپ کو بتاتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ لوگ آپ ﷺ کے پاس کوئی بھی اعتراض نہیں لائیں گے مگر یہ کہ ہم (اس کے جواب میں) آپ ﷺ کے پاس حق اور اس کی بہترین وضاحت لے آئیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ لوگ تمہارے پاس جو اعتراض کی بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اس کا معقول اور خوب واضح جواب بھیج دیتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And (there is another wisdom in this: whenever they brought to you an odd thing (or a strange question), We sent its right answer to you in time and explained it all in the best manner,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They bring to you no hypothesis, but We bring to you the correct position and (an answer) better explained.

— Muhammad Taqi Usmani

They bring to you no hypothesis, but We bring to you the correct position and (an answer) better explained.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And no example or parable do they bring, but We reveal to you the truth, and the better explanation thereof.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they bring thee no similitude but We bring thee the Truth (as against it), and better (than their similitude) as argument.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they do not come to you with an argument except that We bring you the truth and the best explanation.

— Saheeh International

We will support you with the Truth and the best interpretation whenever the infidels argue against you.

— Muhammad Sarwar

And they shall not bring to you any argument, but We have brought to you (one) with truth and best in significance.

— Muhammad Habib Shakir

And they come not unto thee with a similitude but We bring thee the truth and an excellent interpretation.

— Abdul Majid Daryabadi

And no question do they bring to thee but We reveal to thee the truth and the best explanation (thereof).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–34

قرآن حکیم مختلف اوقات میں کیوں اتارا . کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جیسے توریت، انجیل، زبور، وغیرہ ایک ساتھ پیغمبروں پر نازل ہوتی رہیں۔ یہ قرآن ایک ہی دفعہ آنحضرت ﷺ پر نازل کیوں نہ ہوا ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں واقعی یہ متفرق طور پر اترا ہے، بیس برس میں نازل ہوا ہے جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی جو جو واقعات ہوتے رہے احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہوپڑے، وضاحت کے ساتھ بیان ہوجائے۔ سمجھ میں آجائے۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے۔ ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی زیادہ واضح…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 46 یہ نزول قرآن میں تدریج کا طریقہ اختیار کرنے کی ایک اور حکمت ہے۔ قرآن مجید کی شان نزول یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ " ہدایت " کے موضوع پر ایک کتاب تصنیف کرنا چاہتا ہے اور اس کی اشاعت کے لیے اس نے نبی کو ایجنٹ بنایا ہے۔ بات اگر یہی ہوتی تو یہ مطالبہ بجا ہوتا کہ پوری کتاب تصنیف کر کے بیک وقت ایجنٹ کے حوالے کردی جائے۔ لیکن دراصل اس کی شان نزول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کفر اور جاہلیت اور فسق کے مقابلہ میں ایمان و اسلام اور اطاعت وتقویٰ کی ایک تحریک برپا کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے اس نے ایک نبی کو داعی و قائد بنا کر اٹھایا ہے۔ اس تحریک کے دوران میں اگر ایک طرف قائد اور اس کے پیروؤں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–35

خلاصہ تفسیر اور یہ لوگ کیسا ہی عجیب سوال آپ کے سامنے پیش کریں مگر ہم (اس کا) ٹھیک جواب اور وضاحت میں بڑھا ہوا آپ کو عنایت کردیتے ہیں (تاکہ آپ مخالفین کو جواب دے سکیں۔ یہ بظاہر بیان اس تقویت قلب کا ہے جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہوا ہے کہ بتدریج نازل کرنے میں ایک حکمت آپ کی دلجمی اور تقویت قلب ہے کہ جب کفار کی طرف سے کوئی اعتراض آئے تو اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب نازل کردیا جائے) یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف لے جائے جاویں گے (یعنی گھسیٹ کر) یہ لوگ جگہ میں بھی بدتر ہیں اور طریقہ میں بھی بہت گمراہ ہیں۔ (یہاں تک انکار رسالت پر وعید اور قرآن پر اعتراضات کے جواب تھے، آگے اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 9 کے تحت ہم واضح کر آئے ہیں کہ ضرب مثل کا محاورہ اعتراض و نکتہ چینی کے لئے بھی آتا ہے یہاں موقع دلیل ہے کہ یہ اعتراض ہی کے مفہوم میں ہے اور آیت میں اس کا مقابللفظ حق استعمال ہوا ہے جس سے یہ بات نکلی کہ اس سے مراد یہاں اعتراض باطل ہے۔ آنحضرت ﷺ کو اطمینان دبانی معترضین کے تمام اعتراضوں کا مسکت اور دل نشین جواب دینے کے بعد یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم مطمئن رہو۔ یہ لوگ جو اعتراض باطل بھی تمہارے خلاف اٹھائیں گے اس کے جواب کی ذمہ داری ہمارے اوپر ہے۔ ہم اس کا صحیح جواب اور اس کی بہترین توجیہ و تفسیر تم پر نازل کردیں گے۔ اس اطمینان دہانی کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ نبی ﷺ نے اپنی نبوت و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 33–37

33-1یہ قرآن کے وقفے وقفے سے اتارے جانے کی حکمت و علت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مشرکین جب بھی کوئی مثال یا اعتراض اور شبہ پیش کریں گے تو قرآن کے ذریعے سے ہم اس کا جواب یا وضاحت پیش کردیں گے اور یوں انھیں لوگوں کو گمراہ کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

12: یہ قرآن کریم کو تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنے کا دوسرا فائدہ ہے کہ جب کوئی نیا اعتراض کافروں کی طرف سے آتا ہے تو قرآن کریم کی کسی نئی آیت کے ذریعے اس کا واضح جواب فراہم کردیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 30–34

(وقال الرسول۔۔۔۔۔۔۔ واضل سیلا) ” انہوں نے اس قرآن کو چھوڑ دیا جو اللہ نے اپنے بندے پر نازل کیا تھا تاکہ ان کو ڈرائے۔ اور ان کو بصیرت عطا کرے۔ انہوں نے قرآن کو اس طرح چھوڑا کہ اسے سننے سے بھی دور بھاگے ‘ مارے اس خوف کے کہ اگر انہوں نے سن لیا تو وہ اپنی بےپناہ تاثیر سے ان کو متاثر کرے گا۔ اور وہ اس وے اثرات کو مسترد نہ کرسکیں گے۔ انہوں نے اگر سنا بھی تو اس کے مضامین پر غور و فکر نہ کیا تاکہ وہ سچائی کو پا سکیں اور اس کی راہ پر چلیں۔ انہوں نے اسے اس طرح چھوڑا کہ اسے اپنا دستور حیات نہ بنایا۔ حالانکہ وہ نازل اسی لیے کیا گیا تھا کہ وہ اسے نظام حیات بتائیں۔ (وقال الرسول یرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مھجورا) (25…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی کفر جب کوئی اعتراض قرآن پر یا کوئی مثال آپ پر چسپاں کرتے ہیں تو قرآن اس کے جواب میں ٹھیک ٹھیک بات بتلا دیتا ہے جس میں کسی قسم کا ہیر پھیر نہیں ہوتا۔ بلکہ صاف واضح، معتدل اور بےغل و غش بات ہوتی ہے ہاں جن کی عقل اوندھی ہوگئی ہو وہ سیدھی اور صاف بات کو بھی ٹیڑھی سمجھیں، یہ الگ چیز ہے، ایسوں کا انجام اگلی آیت میں بیان فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 33–34

آیت 33 وَلَا یَاْتُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِءْنٰکَ بالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا ” قرآن حکیم کو جزءً ا جزءً ا نازل کرنے میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ جب کبھی بھی مخالفین اور معترضین کی طرف سے کوئی اعتراض یا سوال اٹھایا جاتا ہے تو وحی کے ذریعے اس کا مبنی برحق اور مفصل جواب آپ ﷺ کو بتادیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

44 کفار نے یہ اعتراض متعدد بار کیا اور مختلف مقامات پر قرآن نے اس اعراض کا جواب دیا ہے۔ اس مقام پر قرآن کو بتدریج نازل کرنے کے تین فوائد بتلائے گئے ہیں۔ 1۔ نبی کی دعوت پر جو معرکہ حق و باطل بپا ہوتا ہے اور جس طرح باطل ہجوم کرکے حق پر ایک دم ٹوٹ پڑتا ہے تو یہ معرکہ کوئی ایک دو دن کا قصہ نہیں ہوتا بلکہ نبی کی پوری زندگی کو محیط ہوتا ہے۔ اور جب بھی حالات مسلمانوں کے لئے حوصلہ شکن ہوتے ہیں تو انھیں تسلی دینے اور ان کی ڈھارس بندھانے کی ضرورت پیش آتی ہے اور ایک ہی دفعہ حوصلہ افزائی خواہ کتنی ہی کی جائے۔ وہ فائدہ نہیں دے سکتی۔ جو فائدہ ساتھ کے ساتھ اور بارہا حوصلہ افزائی کا ہوتا ہے۔ 2۔ قرآن کو حفظ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

37۔ یعنی ایسا جواب جو قطعی بھی ہوتا ہے اور قریب الفہم بھی۔” جواب کی دو خوبیاں ہیں۔ ایک ذاتی کہ فی نفسہ قاطع مادہ شبہ ہو اور دوسری اضافی کہ اپنی وضاحت کے سبب قریب الفہم ہو۔ الحق میں خوبی اول اور احسن تفسیر میں خوبی دوم کی طرف اشارہ ہے “۔ (تھانوی (رح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–34

آیت نمبر 21 تا 34 ترجمہ : جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے یعنی بعث (بعد الموت) کا خوف نہیں رکھتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ کہ ہماری طرف رسول ہوں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے پھر ہمیں وہ یہ بات تباتے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور دنیا ہی میں اللہ کی رویت کا مطالبہ کرکے بڑی سرکشی کی ہے اور عَتَوْ واؤ کے ساتھ اپنی اصل پر ہے بخلاف عُتِیَ کے ابدال کے ساتھ سورة مریم میں جس روز یہ منجملہ خلائق کے فرشتوں کو دیکھیں گے اور (یومَ ) کا نصب اذکر فعل مقدر کی وجہ سے ہے، اس روز مجرموں یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا یاتونک بمثل اور وہ کوئی عجیب سوال آپ ﷺ کے سامنے نہیں لاتے۔ مثل سے مراد ہے عجیب سوال گویا ان کا سوال مثالی ہوتا ہے جس سے وہ آپ کی نبوت کو مجروح کرنا چاہتے ہیں۔ انا جئنک بالحق مگر ہم آپ کو اس کا صحیح جواب عطا کردیتے ہیں۔ جس سے ان کے سوال کی صحیح تردید ہوجاتی ہے۔ واحسن تفسیرا۔ اور بہترین تشریح کے ساتھ۔ (جواب دیتے ہیں جس سے ان کا اعتراض دور ہوجاتا ہے) ۔ یا مثل سے مراد ہے عجیب حالت یعنی وہ جب آپ کی کوئی (گزشتہ) عجیب حالت بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس کا یہ حال تھا تو ہم آپ کو اپنی حکمت کے موافق حالت عطا کردیتے ہیں جس سے آپ کی نبوت کی غرض کا انکشاف ہوجاتا ہے۔ فسر کا معنی ہے ظاہر کردینا کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(33) اور اسی لیے ہم نے اس کو بہت ٹھہر اٹھہرا کر ایک ایک آیت کرکے نازل کیا ہے اور اوامرو نواہی اس میں صاف طور پر بیان کیے ہیں اور یہ لوگ آپ کے سامنے کیسا بھی عجیب سوال پیش کریں مگر ہم اس کا ٹھیک اور ٹھوس اور وضاحت کے ساتھ جواب آپ کو عنایت کردیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ۔۔ : ”مَثَلٌ“ کا معنی کسی چیز کے مشابہ چیز بھی ہے، ضرب المثل یا کہاوت بھی اور کسی چیز کی صفت بھی، جیسے فرمایا : (مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ) [ الرعد : 35 ] ”اس جنت کی صفت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔“ (راغب) سورت کے شروع سے اللہ تعالیٰ نے کفار کے پانچ اعتراض ذکر فرمائے ہیں اور سب کا دندان شکن جواب دیا ہے، آخر میں خلاصے کے طور پر فرمایا کہ ان لوگوں نے جو شکوک و شبہات اور طعن و اعتراض پیش کیے ہیں، یا قیامت تک پیش کریں گے ہم نے سب کا ایسا جواب دیا ہے اور دیتے رہیں گے جو سراسر حق ہے اور نہایت واضح ہے، ان کے اقوال کی طرح باطل یا غیر واضح…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–33

(وقال الذین کفرو۔۔۔۔۔۔ ) ” وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القرآن جملۃ واحدۃ “ اس کے تامل میں اختلاف کیا گیا ہے اس بارے میں دو قول ہیں : (1) قریش کے کفار ہیں : یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے (2) یہودی ہیں جب انہوں نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا نازل ہوتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا : یہ سارے کا سارا کیوں نہیں نازل کیا گیا جس طرح تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اور انجیل حضرت (علیہ السلام) اور زبور حضرت دائود (علیہ السلام) پر نازل کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” کذلک لنثت بہ فوادک “ ہم نے یہ اس طرح کیا تاکہ اس کے ذریعے آپ کے دل کو قول کریں، آپ اسے یاد کریں اور اس کو برداشت کر (1 ؎۔ اس روایت کی صحت پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–33

1۔ ابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والضیا فی المختارہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین نے کہا اگر محمد ﷺ نبی ہیں جیسے وہ گمان کرتے ہیں تو ان کا عذاب نہ دیتا اللہ تعالیٰ نے ان پر یکبارگی میں قرآن کیوں نازل نہیں کیا آپ پر کبھی ایک آیت کبھی دو آیتیں اور کبھی ایک سورت نازل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر جواب کو نازل فرمایا جو انہوں نے کہا تھا آیت ” وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القراٰن جملۃ واحدۃ “ سے لے کر آیت ” واضل سبیلا “ تک۔ 2۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القراٰن جملۃ واحدۃ “ یعنی ایک مرتبہ قرآن کیوں نہیں اتارا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَا يَاْتُوْنَكَ [ وہ لوگ نہیں لاتے آپ ؐ کے پاس ] بِمَثَلٍ [ کوئی مثال ] اِلَّا [ مگر یہ کہ ] جِئْنٰكَ [ ہم لے آتے ہیں آپ ﷺ کے پاس ] بِالْحَقِّ [ حق کو ] وَاَحْسَنَ [ اور زیادہ اچھے کو ] تَفْسِيْرًا [ بلحاظ معنی مراد بتانے کے ] س د (ن۔ ض) فسرا ڈھکی ہوئی چیز کو کھول دینا۔ مراد بتانا۔ واضح کرنا۔ (تفعیل) تفسیرا بتدریج اور تسلسل کے ساتھ مراد بتانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 33

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی مزید تقویت قلب اور تسلی کے لیے ارشاد فرمایا (وَلاَ یَاْتُوْنَکَ بِمَثَلٍ ) (الآیۃ) کہ یہ لوگ آپ پر اعتراض کرنے کے لیے جو بھی عجیب بات پیش کریں گے اس کے مقابلہ میں ہم ضرور حق لے آئیں گے اور واضح طور پر صحیح جواب نازل کردیں گے جس سے ان کا اعتراض باطل ہوجائے گا اور قیل و قال کا مادہ ختم ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–36

منکرین نبوت کا پانچواں شبہ اور اس کا جواب قال اللہ تعالیٰ الذین کفروا لولا نزل علیہ القران جعلۃ واحدۃ .... الیٰ .... واضل سبیلا۔ (ربط) قرآن مجید کے منجانب اللہ ہونے کے متعلق کفار کا ایک شبہ یہ تھا کہ تورایت اور انجیل کی طرح ایک ہی مرتبہ کیوں نہ نازل کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اسے مقصود اپنے رسول کے قلب کی تقویت ہے اور اس کے علاوہ اور بھی فوائد ہیں جو دوسری آیتوں میں مذکور ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور کافروں نے کہا کہ اس شخص پر یہ قرآن ایک ہی مرتبہ کیوں نازل کیا گیا۔ اگر یہ قرآن اللہ کا کلام ہوتا تو تدریجاً نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی اس تدریج سے شبہ ہوتا ہے کہ یہ قرآن محمد ﷺ کی تصنیف…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

25:۔ ” ولا یاتونک الخ “ مثل سے مشرکین کا عجیب و غریب اور باطل سوال مراد ہے اور ” الحق “ سے اس کا جواب با صواب مراد ہے۔ بمثل اور بالحق میں باء تعدیہ کیلئے ہے۔ یعنی جس طرح ہم نے مشرکین کے مذکورہ بالا سات شکو وں کے نہایت عمدہ جوابات دئیے ہیں اسی طرح آئندہ بھی ان کی طرف سے آپ پر جو بھی سوال باطل اور اعتراض فاسد وارد کیا جائیگا ہم اس کا ایسا عمدہ اور صحیح جواب دیں گے جو آپ کے مقصد رسالت کو بھی احسن طریق سے واضح کردے گا۔ ولا یاتونک بمثل بسؤال عجیب من سؤالاتھم الباطلۃ کانہ مثل فی البطلان الا اتیناک نحن بالجواب الحق الذی لا محیل عنہ۔ وما ھو احسن تکشیفا لما بعثت علیہ و دلالۃ علی صحتہ (بحر ج 6 ص 497) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–34

ربطِ آیات یہ آیات بھی گزشتہ آیات کے ساتھ ہی مربوط ہیں ۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا شکوہ کیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے ۔ نیز اللہ تعالیٰ خود ان کے سامنے کیوں نہیں آتا ؟ اللہ نے جواباً فرمایا کہ یہ لوگ بڑی گستاخی کی بات کرتے ہیں ۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ جب فرشتوں کے ظاہر ہونے کا وقت آئے گا تو اس دن ان مجرموں کا بہت برا حال ہوگا ۔ وہ افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ کاٹیں گے اور کہیں گے کاش کہ ہم نے رسول کے ساتھ راستہ پکڑا ہوتا ۔ اس کی اتباع کی ہوتی اور اس کے بجائے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا ۔ یہ سب شیطان کا بہکاوا ہے وہ انسان کو دھوکہ دیکر ذلیل و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا۝ 33ۭ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے مثل والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] . ( م ث ل ) مثل ( ک ) المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلاَ یَاْ تُوْنَـکَ بِمَثَلٍ اِلاَّ جِئْنٰـکَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا۔ (الفرقان : 33) (وہ آپ پر کوئی اعتراض پیش نہیں کریں گے مگر ہم اس کا صحیح جواب اور اس کی بہترین توجیہ آپ کو بتادیں گے۔ ) قرآن کریم کے تدریجاً نزول کی ایک اور حکمت قرآن کریم کیوں تدریجاً نازل کیا گیا، اس کی ایک حکمت پیش نظر آیت کریمہ میں بھی بیان فرمائی گئی، وہ یہ ہے کہ جب بھی نبی کریم ﷺ ان کے سامنے قرآن کریم کی دعوت یا قرآن کریم کا کوئی حکم پیش کرتے ہیں تو وہ اپنی عادت کے مطابق اس پر عجیب و غریب سوالات اٹھاتے ہیں، الٹے سیدھے اعتراض کرتے ہیں اور نئی سے نئی باتیں نکالتے ہیں۔ ” مثل “ کا اطلاق ان تمام باتوں پر ہوتا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–33

فہم القرآن ربط کلام : مجرمانہ کردار رکھنے والوں کا رسالت مآب ﷺ پر ایک اور اعتراض۔ کفار کو رسالت مآب ﷺ پر یہ بھی اعتراض تھا کہ آپ پر پورے کا پورا قرآن ایک ہی بار کیوں نہیں نازل ہوا ؟ جس کا جواب دیا گیا ہے کہ قرآن مجید کو اس لیے تھوڑا تھوڑا نازل کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ساتھ آپ ﷺ کا دل مضبوط ہو اور قرآن اچھی طرح آپ کے ذہن پر نقش ہوجائے، اس پر عمل کرنے میں آسانی ہو۔ کفار آپ پر جو بھی اعتراض کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اتنا جامع اور مدّلل جواب دیتے کہ کفار لاجواب ہو کر رہ جاتے۔ لیکن اس کے باوجود کفار اپنی ضد سے باز آنے والے نہیں تھے اس وجہ سے وہ وقفے وقفے کے بعد مختلف الفاظ اور انداز میں سوال…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

33: وَلَا یَاْتُوْنَکَ بِمَثَلٍ (وہ نہیں لاتے آپ کے پاس کوئی عجیب سوال) مثل سے یہاں عجیب سوال مراد جو وہ باطل سوالات کرتے رہتے تھے۔ گویا باطل ہونے میں ایک مثال ہے۔ اِلَّا جِئْنٰکَ بِالْحَقِّ (مگر ہم آپ کو اس کا صحیح جواب عطاء کردیتے ہیں) مگر ہم آپ کے پاس صحیح تردید جس سے بھاگنے کا راستہ نہ ہو لے آتے ہیں۔ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا (اور بہترین تشریح کے ساتھ) اور اس چیز کے ساتھ جو معنی میں زیادہ خوب ہو اور اس کے سوال کا جواب بھی ہو۔ یہاں مثلہمؔ کا لفظ حذف کردیا گیا کیونکہ خودکلام میں اس حذف کی دلیل ہے جیسا کہ تم کہو : رأیت زیدًا وعمروا وکان عمرو احسن وجھًا اس میں دلیل ہے کہ تمہارا مقصود احسن و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 32–33

32۔ وقال الذین کفروالولاانزل علیہ ، ،، جیسا کہ ہم نے توریت موسیٰ پر انجیل عیسیٰ پر زبور داؤد (علیہ السلام) پر اللہ نے ارشاد فرمایا، کذلک، اسی طرح ہم نے کیا، لنبث بہ فوداک، لیکن ہم نے اس کو متفرق طور پر نازل کیا تاکہ اس کی وجہ سے آپ کے دل کو تقویت اور جماؤ حاصل ہو اور آپ کو اس کے سجھنے اور یاد رکھنے میں دشواری ہ ہو۔ ماقبل انبیاء کرام پر جب کتاب نازل ہوتی تو وہ اس کو لکھتے اور پڑھتے تھے جب کہ اللہ نے قرآن ایسے نبی پر نازل فرمایا جو نہ لکھنا جانتا ہو اور نہ ہی پڑھنا جانتا ہے۔ تدریجا، اس لیے نازل فرمایا تاکہ اس کے ناسخ و منسوخ کا علم بھی ہوجائے۔ اور ہر آیت میں کسی کی بات کا جواب بھی ہوسکے جو سوال…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–34

32۔ 34:۔ مشرکین مکہ جہاں اور بےہودہ باتیں کرتے تھے وہاں یہ بھی کہتے تھے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) پر ساری تورات ایک ہی جگہ میں نازل ہوئی ‘ اگر یہ قرآن کلام الٰہی ہے تو یہ بھی تورات کی طرح ایک ہی دفعہ میں کیوں نہیں نازل ہوا ‘ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بات کا جواب دیا کہ ایک تو نبی آخر الزمان ان پڑھ ہیں اتنی بڑی کتاب ایک دفعہ ہی زبان پر چڑھانا مشکل تھا اس مصلحت سے قرآن کی آیتیں ٹھہر ٹھہر کر نازل ہوتی ہیں ‘ علاوہ اس کے دوسری بات یہ بھی ہے کہ ان مشرکین کی ہر ایک بےہودہ بات کا جواب وقت پر اچھی طرح کھول کردیا جاتا ہے پھر فرمایا ‘ اس پر بھی یہ سرکش لوگ نہ مانیں گے تو قیامت کے دن اوندھے منہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 32–33

آیت 32 سے 33 یہ کفار کے جملہ اعتراضات میں سے ایک اعتراض ہے جو ان کو ان کے نفس نے سمجھایا ہے، چناچہ ان کا قول ہے : (لو لا نزل علیہ القرآن جملۃ واحدۃ) یعنی وہ کونسی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے تمام قرآن ایک ہی دفعہ نازل نہیں ہوا، جیسا کہ اس سے پہلے کتابیں نازل ہوئیں ؟ بلکہ اس کا ایک ہی دفعہ نازل ہونا تو زیادہ اچھا ہے۔ اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : (کذلک) یعنی اسی طرح ہم نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے نازل کیا ہے (لنثبت بہ فوادک) ” تاکہ ہم اس کے ذریعے سے آپ کے دل کو مضبوط کریں۔ “ کیونکہ جب بھی آپ پر قرآن کا کوئی حصہ نازل ہوتا تھا آپ کے اطمینان اور ثابت قدمی میں اضافہ ہوجاتا تھا، خاص طور پر اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

40 مثل سے مقصود و مراد ؟ : " مثل " سے مراد ہیں ان لوگوں کے ایسے سوالات جن کے عجیب و غریب اور نہایت الٹے سیدھے ہونے کے باعث ان کو " مثل " سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور حق اور احسن تفسیر سے مراد ان کے ایسے سوالات کے ٹھیک ٹھیک جوابات اور صحیح مطالب ہیں جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے ارشاد فرمائے گئے۔ بہرکیف معترضین کے اعتراضوں کا دلنشین جواب دینے کے بعد اب پیغمبر کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ مطمئن رہیں کہ یہ لوگ جو بھی کوئی اعتراض آپ پر کریں گے اس کا جواب ہم دیں گے۔ اور ہم اس سے متعلق بہترین توجیہ و تفسیر آپ پر نازل کریں گے۔ لہذا آپ اس بارے مطمئن رہیں۔ بہرکیف ضرب مثل کا محاورہ جیسا کہ اس سے پہلے اسی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 33–34

حق پر اعتراض کرنے والوں کا انجام تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کفار کے الٹے سیدھے سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں انہی کے بارے میں اللہ رب العزت جہاں فرما رہے ہیں کہ کفار و مشرکین کا تو ہمیشہ سے ہی یہ کام رہا ہے کہ اپنے نبیوں کو جھٹلاتے تنگ کرتے بلکہ قتل تک کرتے رہے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کے لیے قرآن پاک میں شدید ترین عذاب کا اعلان کیا گیا ہے۔ اب اس سلسلے میں کچھ پچھلی قوموں کا ذکر مثال دینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–34

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ آپ ﷺ کی ذات ہی پہ اعتراض کرتے ہیں انہیں آخرت کے انکار اور اللہ جل جلالہ کے روبرو پیشی سے انکار نے اس قدر گستاخ کردیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ فرشتہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا نبی ہی کے پاس کیوں آتا اور اللہ جل جلالہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ، اس قدر تکبر اور اپنی بڑائی میں اس قدر بڑھ چڑھ کر بات کر رہے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی ہوگا کہ یہ فرشتوں کو روبرو دیکھیں گے موت کے وقت بھی اور یوم قیامت بھی فرشتے تو ان کے سامنے ہوں گے مگر ایمان لانے اور غور وفکر سے راہ اپنانے کا وقت گذر چکا ہوگا اور ان بدکاروں کے لیے فرشتوں کا سامنے آنا کوئی سامان راحت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

3 ۔ اور ظاہر ہے کہ اگر ہر اعتراض کا جواب بروقت دیا جاتا رہے تو اس کا فائدہ زیادہ ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ تمام اعتراضات کا جواب کسی مقع پر یکبارگی دیا جائے۔ یہاں ” مثل “ سے مراد طلب وسوال ہے اور ” الحق “ سے مراد شبہ کا ازالہ اور جواب۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:33) لا یاتونک۔ لا یاتون مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر نہیں لائیں گے تیرے پاس۔ نہیں پیش کریں گے تیرے سامنے۔ مثل۔ اعتراض۔ عجیب سوال۔ مثل یمثل (کرم) الشیء مثولا کے معنی کسی چیز کا سیدھا کھڑا رہنا۔ یا دوسری چیز کی شکل و صورت اختیار کرلینا کے ہیں۔ مثلاً حدیث شریف میں ہے من احب ان یمثل لہ الرجال فلیتبوا مقعدہ من النار۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کے سامنے سیدھے کھڑے رہیں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔ الممثل وہ چیز جو کسی نمونہ کے مطابق بنائی گئی ہو۔ تمثیل تصویر۔ المثل ایسی بات جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو۔ مثل ومثل دونوں ہم معنی ہیں المثلۃ عبرتناک سزا۔ جئنک۔ جئنا ماضی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–34

لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 34 : (مھجور) چھوڑا ہوا۔ چھوڑا گیا ‘(عدو) دشمن ‘(ھادی) ہدایت دینے والا۔ راستے دکھانے والا ‘(نصیر) مدد کرنیوالا ‘(نزل ) اتارا گیا ‘(جملۃ واحدۃ) ایک ہی مرتبہ ‘(نثبت) ہم مضبوط کریں گے ‘(فئواد) دل ‘ (رتلنا) ہم نے آہستہ پڑھا ‘(احسن) بہترین ‘۔ تشریح : آیت نمبر 30 تا 34 : جب کوئی قوم علم و عمل سے دور اور جہالت سے قریب ہوتی ہے تو ان میں ایک خاص ٹیڑھے پن کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے اور وہ سوائے بےتکی بحثوں ‘ کٹ حجتیوں ‘ ضد ‘ بےفائدہ سوالات اور بےعملی کے کچھ بھی نہیں کرتے۔ ان کو سچائی اور بھلی بات سے نفرت اور ہر جہالت سے خاص دلی لگائوہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–34

(ف 1) مشرکین جہاں اور بےہودہ باتیں کرتے تھے وہاں یہ بھی کہتے تھے کہ جس طرح مثلا موسیٰ (علیہ السلام) پر ساری تورات ایک ہی دفعہ میں نازل ہوئی اگر یہ قرآن کلام الٰہی ہے تو یہ بھی تورات کی طرح ایک ہی دفعہ میں کیوں نہیں نازل ہوا، اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بات یہ جواب دیا کہ کفار کا یہ اعتراض فضول اور مہمل ہے کیونکہ قرآن کریم کا معجزہ ہونا ہر حال میں یکساں ہے ایک ہی دفعہ نازل ہوا یاتھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہو، اور اے محبوب تھوڑا تھوڑا نازل کرنے تمہارے قلب کی تقویت مقصود ہے اور مسلمانوں پر اس کی تعمیل آسان ہے اس کے بعد فرمایا اے محبوب یہ بدبخت کافرجب تمہارے پاس کوئی مثال لے کر آتے ہیں تو ہم اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–33

[16] کفار مکہ کا اعتراض تھا کہ قرآن اگر واقعی اللہ کی کتاب ہے تو ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتارا گیا ؟ برسوں میں جو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا گیا تو کیا اللہ میاں کو کچھ سوچنا پڑتا تھا ؟ اس سے تو یہ شبہ ہوتا ہے کہ خود محمد ﷺ سوچ سوچ کر بناتے ہیں۔ پھر موقع مناسب دیکھ کر تھوڑا تھوڑا سناتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–33

قرآن آہستہ آہستہ کیوں نازل ہوا 1 مخالفین کا ایک اعتراض یہ تھا ۔ کہ قرآن وقفہ وقفہ کرکے کیوں نازل ہولا ہے ایک دم اکٹھا کیوں نہیں اتارا گیا ، اللہ نے اس کا جواب دیا ہے کہ اس سے مقصود یہ تھا کہ آپ کے قلب کو ڈھارس رہے اور تھوڑا تھوڑا نازل ہونے سے وہ جمعیت خاطر کے ساتھ اس کو محفوظ رکھ سکیں ۔ نیز بدقعات نازل کرنے کے یہ اور اللہ بھی ہیں :۔ اب اس لئے کہ مقامبلہ کرنے والوں کو آسانی رہے اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم اتنی بڑی ضخیم کتاب کا جواب کیونکر لکھ سکتے ہیں ۔ یہ بھی فائدہ ہے کہ آہستہ آہستہ نازل ہونے سے مسلمانوں کے دل میں شوق و اضطراب کے جذبات پیدا ہوں ۔ اور وہ جاننے کے لئے بےتاب منتشر رہیں ۔ کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(33) اور یہ لوگ کیسا ہی عجیب اور انوکھا سوال آپ کے سامنے پیش کریں مگر ہم اس کا ٹھیک اور خوب مشرح جواب آپ کو عنایت کردیتے ہیں یعنی یہ دین حق کے منکر آپ پر کوئی مثال کیسی ہی چسپاں کریں اور کوئی اعتراض کیسا ہی باطل آمیز بنا کرل ائیں جس سے آپ پر اور قرآن کریم پر طعن مقصود ہو مگر یہ کہ ہم اس کے مقابلہ میں حق بات نہایت تفصیل اور مشرح طورپر لے آتے ہیں جس سے ان کا باطل اعتراض ختم ہوجاتا ہے اور اس کا کوئی وزن باقی نہیں رہتا اور وہ ہمارا جواب مشرح ہونے کے اعتبار سے قریب الفہم بھی ہوتا ہے مگر وہ لوگ عقل وفہم سے عاری ہوچکے ہیں اور عقل و فہم سے کام نہیں لیناچاہتے ان کی سزا آگے بیان فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

غور کرو کہ کس طرح ہم ان کی ہر مثال کا ٹھیک ٹھیک جواب ان کو دے رہے ہیں : 33۔ کفار کا اعتراض تھا کہ قرآن کریم ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا ‘ ان کو جواب دیا گیا جو اوپر مذکور ہوا اور اب مزید اس کی وضاحت کی جارہی ہے فرمایا اے پیغمبر اسلام ! ﷺ یہ لوگ آپ پر جب بھی کوئی اعتراض کرتے ہیں تو ہم ان کے اوٹ پٹانگ اعتراض کو بھی سنتے ہیں اور باوجود اس کے کہ ایسے اعتراضات کا جواب ضروری نہیں ہوتا تاہم ہم ان کو معقول جواب دے دیتے ہیں ان ہی سے دریافت کرنے کی بات ہے کہ کیا تم کو سوال کرنے سے پہلے ہی جواب دے دینا چاہئے یا ہر سوال کرنے والے کو سوال کرنے کے بعد ہی جواب دیا جاسکتا ہے اور بعد میں جواب دینا چاہئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–35

Commentary Verse no. 33 supports and accentuates the explanation given above for the wisdom in the gradual revelation of Qur'an in as much as it promises Allah's support in any situation of awkward questions asked by the infidel.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

46 This is yet another point of wisdom of sending down the Qur'an by degrees. Allah did not intend to produce a book on "Guidance" and spread its teachings through the agency of His Prophet. Had it been so the disbelievers would have been justified in their objection as to why the Qur'an had not been sent down as a complete book all at once. The real object of the revelation of the Qur'an was that Allah intended to start a Movement of faith, piety and righteousness to combat disbelief, ignorance and sin, and He had raised a Prophet to lead and guide the Movement. Then, on the one hand, Allah…

Read the full tafseer →