Explained with ayahs 32–34
قرآن حکیم مختلف اوقات میں کیوں اتارا . کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جیسے توریت، انجیل، زبور، وغیرہ ایک ساتھ پیغمبروں پر نازل ہوتی رہیں۔ یہ قرآن ایک ہی دفعہ آنحضرت ﷺ پر نازل کیوں نہ ہوا ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں واقعی یہ متفرق طور پر اترا ہے، بیس برس میں نازل ہوا ہے جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی جو جو واقعات ہوتے رہے احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہوپڑے، وضاحت کے ساتھ بیان ہوجائے۔ سمجھ میں آجائے۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے۔ ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی زیادہ واضح…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 44
یہ کفار مکہ کا بڑا دل پسند اعتراض تھا جسے وہ اپنے نزدیک نہایت زور دار اعتراض سمجھ کر بار بار دہراتے تھے، اور قرآن میں بھی اس کو متعدد مقامات پر نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے (تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل حواشی 101 تا 106 بنی اسرائیل، حاشیہ 119) ان کے سوال کا مطلب یہ تھا کہ اگر یہ شخص خود سوچ سوچ کر، یا کسی سے پوچھ پوچھ کر اور کتابوں میں سے نقل کر کر کے یہ مضامین نہیں لا رہا ہے، بلکہ یہ واقعی خدا کی کتاب ہے تو پوری کتاب اکٹھی ایک وقت میں کیوں نہیں آجاتی۔ خدا تو جانتا ہے کہ پوری بات کیا ہے جو وہ فرمانا چاہتا ہے۔ وہ نازل کرنے والا ہوتا تو سب کچھ بیک وقت فرما دیتا۔ یہ جو سوچ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ (پیغمبر) پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نازل نہیں کیا گیا (مقصود اس اعتراض سے یہ ہے کہ اگر خدا کا کلام ہوتا تو بتدریج نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس بتدریج نازل کرنے سے تو یہ شبہ ہوتا ہے کہ محمد ﷺ خود ہی سوچ سوچ کر تھوڑا تھوڑا بنالیتے ہیں آگے اس اعتراض کا جواب ہے کہ) اس طرح (تدریجاً) اس لئے (ہم نے نازل کیا) ہے تاکہ ہم اس کے ذریعے آپ کے دل کو قوی رکھیں اور (اسی لئے) ہم نے اس کو بہت ٹھہرا ٹھہرا کر اتارا ہے (چنانچہ تیئس سال کے عرصہ میں آہستہ آہستہ پورا ہوا)
معارف و مسائل
یہ وہی سلسلہ کفار و مشرکین کے اعتراضات و جوابات کا ہے جو شروع سورة سے چلا آرہا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →قرآن کے بیک وقت نہ اترنے کی وجہ
یہ ان معترضین کا چوتھا اعتراض نقل ہوا ہے۔ وہ قرآن کے خلاف لوگوں میں یہ خیال بھی پھیلاتے تھے کہ اگر یہ خدا کی اتاری ہوئی کتاب ہے تو آخر یہ پوری کی پوری بیک وقت کیوں نہیں نازل کردی گئی، خدا کے لئے تو کچھ سوچنے اور اہتمام کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اس کو تھوڑی تھوڑی اتارے ؟ یہ اعتراض وہ اپنے اسی پروپیگنڈے کو تقویت پہنچانے کے لئے کرتے تھے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ اس کتاب کی تیاری میں کچھ دوسرے لوگ بھی شریک ہیں۔ چناچہ جتنی مقدار میں و ہتیار کر پاتے ہیں اتنی اس شخص (محمد ﷺ کو سکھاتے ہیں اور یہ اس کو وحی الٰہی بنا کر ہمیں سناتے ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ ہم نے…
Read the full tafseer →32-1جس طرح تورات، انجیل اور زبور وغیرہ کتابیں بیک مرتبہ نازل ہوئیں۔
32-2اللہ نے جواب میں فرمایا کہ ہم نے حالات و ضروریات کے مطابق اس قرآن کو23سال میں تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا تاکہ اے پیغمبر ! تیرا اور اہل ایمان کا دل مضبوط ہو اور ان کے خوب ذہن نشین ہوجائے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا) 17۔ الاسراء :16) ' اور قرآن، اس کو ہم نے جدا جدا کیا، تاکہ تو اسے لوگوں پر رک رک کر پڑھے اور ہم نے اس کو وقفے وقفے سے اتارا '۔ اس قرآن کی مثال بارش کی طرح ہے بارش جب بھی نازل ہوتی ہے مردہ زمین میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے…
Read the full tafseer →11: یعنی قرآن کریم کو تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ آپ ﷺ کو مخالفین کی طرف سے جو نت نئی تکلیفیں پہنچتی رہتی ہیں، ہم کوئی نئی آیت نازل کر کے آپ کو تسلی دے دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
(وقال الرسول۔۔۔۔۔۔۔ واضل سیلا) ”
انہوں نے اس قرآن کو چھوڑ دیا جو اللہ نے اپنے بندے پر نازل کیا تھا تاکہ ان کو ڈرائے۔ اور ان کو بصیرت عطا کرے۔ انہوں نے قرآن کو اس طرح چھوڑا کہ اسے سننے سے بھی دور بھاگے ‘ مارے اس خوف کے کہ اگر انہوں نے سن لیا تو وہ اپنی بےپناہ تاثیر سے ان کو متاثر کرے گا۔ اور وہ اس وے اثرات کو مسترد نہ کرسکیں گے۔ انہوں نے اگر سنا بھی تو اس کے مضامین پر غور و فکر نہ کیا تاکہ وہ سچائی کو پا سکیں اور اس کی راہ پر چلیں۔ انہوں نے اسے اس طرح چھوڑا کہ اسے اپنا دستور حیات نہ بنایا۔ حالانکہ وہ نازل اسی لیے کیا گیا تھا کہ وہ اسے نظام حیات بتائیں۔
(وقال الرسول یرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مھجورا) (25…
Read the full tafseer →3 یعنی نبی کے دشمن لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ایسے ایسے اعتراض چھانٹتے ہیں کہ صاحب ! دوسری کتابوں کی طرح پورا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتارا گیا، برسوں میں جو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا، کیا اللہ میاں کو کچھ سوچنا پڑتا تھا، اس سے تو شبہ ہوتا ہے کہ خود محمد ﷺ سوچ سوچ کر بناتے ہیں۔ پھر موقع مناسب دیکھ کر تھوڑا تھوڑا سناتے رہتے ہیں۔
4 یعنی یہ کیا ضروری ہے کہ تھوڑا تھوڑا کر کے اتارنا اس سبب سے ہو جو تم نے سمجھا۔ اگر غور کرو گے تو اس طرح نازل کرنے میں بہت سے فوائد ہیں جو دفعتاً نازل کرنے کی صورت میں پوری طرح حاصل نہ ہوتے۔ مثلاً اس صورت میں قرآن کا حفظ کرنا زیادہ آسان ہوا، سمجھنے میں سہولت رہی، کلام…
Read the full tafseer →آیت 32 وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَۃً وَّاحِدَۃً ج ”
قریش مکہّ کا قرآن پر ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر واقعی یہ اللہ کا کلام ہے تو پھر اکٹھا ایک ساتھ ہی نازل کیوں نہیں ہوجاتا ؟ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پوری کی پوری تورات تختیوں پر لکھی ہوئی ایک ہی دفعہ دے دی گئی تھی۔ قرآن کو تھوڑا تھوڑا پیش کرنے سے مشرکین کو حضور ﷺ پر ایک شاعر کا گمان ہوتا تھا ‘ کیونکہ شاعر لوگ بھی ایک دم سے اپنا پورا کلام پیش نہیں کرسکتے۔ وہ ایک ایک دو دو غزلیں یا نظمیں لکھتے رہتے ہیں اور مدت کے بعد جا کر کہیں ان کے دیوان مکمل ہوتے ہیں۔
کَذٰلِکَج لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ…
Read the full tafseer →43 کفار کے اعتراض کے الفاظ تو یہی ہوتے تھے لیکن وہ ان الفاظ سے مطلب کچھ اور ہی لیتے تھے جو یہ تھا کہ یہ نبی جیسے جیسے حالات رخ اختیار کرتے ہیں ساتھ کے ساتھ یہ قرآن کو تصنیف کرتا جاتا ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کو تو آنے والے حالات کا پہلے سے ہی علم ہے۔ اگر قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہوتا۔ تو اس میں ہر قسم کے حالات کے مطابق احکام یکبارگی بھی نازل ہوسکتے تھے۔ یہ اعتراض کرکے وہ گویا اللہ، اس کے رسول اور اس کے قرآن سب کی تکذیب اور ان پر افترا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →35۔ یعنی اگر خدا کا کلام ہوتا تو رفتہ رفتہ کیوں نازل ہوتا۔ یہ تو (نعوذ باللہ) انہیں کا کلام ہے، سوچ سوچ کر حسب موقع تھوڑا تھوڑا تصنیف کرتے رہتے ہیں۔
36۔ یعنی ایک بڑی مصلحت اس تدریجی نزول قرآن میں تو رسول کی تقویت قلب ہے۔ مشائخ نے کہا ہے کہ ثمرات ومقامات میں جو تاخیر و تدریج ہوتی ہے اس میں بھی یہی حکمت ہے کہ ثبات ورسوخ حاصل ہوتا جائے، جو چیز جلدی آتی ہے، وہ جلدی نکل بھی جاتی ہے۔ سالک کو دیر ہونے سے تنگ نہ ہونا چاہیے بلکہ صبر کرنا چاہیے۔ علماء کے ہاں تعلیم کا سبقا سبقا ہونا اور مشائخ کے ہاں افادہ وافاضہ میں تدریج اسی آیت سراپا حکمت کی ماتحتی میں ہے۔ نیت کا مستحکم ہونا، قلب کا تحمل پر قادر ہونا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
آیت نمبر 21 تا 34
ترجمہ : جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے یعنی بعث (بعد الموت) کا خوف نہیں رکھتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ کہ ہماری طرف رسول ہوں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے پھر ہمیں وہ یہ بات تباتے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور دنیا ہی میں اللہ کی رویت کا مطالبہ کرکے بڑی سرکشی کی ہے اور عَتَوْ واؤ کے ساتھ اپنی اصل پر ہے بخلاف عُتِیَ کے ابدال کے ساتھ سورة مریم میں جس روز یہ منجملہ خلائق کے فرشتوں کو دیکھیں گے اور (یومَ ) کا نصب اذکر فعل مقدر کی وجہ سے ہے، اس روز مجرموں یعنی…
Read the full tafseer →وقال الذین کفروا لو لا نزل علیہ القرآن جملۃ واحدۃ کذلک لنثبت بہ فوادک ورتلنہ ترتیلا۔ اور کافروں نے کہا کہ محمد پر پورا قرآن نازل نہیں کیا گیا (جیسے موسیٰ پر توریت ‘ عیسیٰ پر انجیل اور داؤد پر زبور نازل
کی گئی تھی) ہم نے اس کو اسی طرح نازل کیا ہے تاکہ آپ کے دل کو مضبوط رکھیں اور ہم نے اس کو واضح طور پر کھول کر بیان کیا ہے۔
نُزِّلَبمعنی اُنْزِلَہے (یعنی تدریجاً نزول مراد نہیں ہے) کیونکہ آگے جُمْلَۃً وَاحِدَۃً کا لفظ آیا ہے ‘ جس سے مراد ہے یکدم پورا قرآن۔
بیضاوی نے لکھا ہے کافروں کا یہ اعتراض بےکار تھا ‘ کیونکہ قرآن یکدم نازل کیا جاتا ‘ یا تھوڑا تھوڑا ‘ بہرحال اس کے اعجاز میں تو کوئی فرق نہیں…
Read the full tafseer →(32) اور ابوجہل اور اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ جیسا کہ توریت موسیٰ ؑ اور زبور داؤد ؑ پر اور انجیل عیسیٰ ؑ پر ایک ہی دفعہ نازل کی گئی ہے اسی طرح یہ قرآن کریم ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا اسی طرح بذریعہ جبریل امین ؑ تدریجا اس لیے نازل کیا ہے تاکہ اس کے ذریعے ہم آپ کے دل کو قوی رکھیں اور آپ کے دل میں اس کو محفوظ کردیں۔
شان نزول : (آیت) ”۔ وقال الذین کفروا لوانزل“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ اور حاکم ؒ نے تصحیح کے ساتھ اور ضیاء نے مختارہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مشرکین کہنے لگے اگر محمد ﷺ اپنے دعوے کے مطابق نبی ہیں تو ان کا پروردگار ان کو عذاب نہیں دے گا باقی قرآن کریم ان پر ایک ہی بار…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ۔۔ : یہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے منکروں کا پانچواں اعتراض ہے جو بالکل ہی بےکار ہے۔ اعتراض یہ تھا کہ آپ ﷺ پر سارا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟ یہ تھوڑا تھوڑا کر کے جو آ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ سوچ سوچ کر اسے تصنیف کرلیتے ہیں اور یہ انسانی کلام ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ ہاں، اسے ایسے ہی تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا گیا ہے، کیونکہ اس میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ اعتراض بےکار اس لیے ہے کہ قرآن کا دعویٰ ہے کہ چونکہ یہ اللہ کا کلام ہے، اس لیے ساری کائنات مل کر بھی اس کی ایک سورت کی مثل نہیں بنا سکتی۔ اس سے پہلے قرآن کا جو حصہ نازل ہوا ہے اس کی مثل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
(وقال الذین کفرو۔۔۔۔۔۔ )
” وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القرآن جملۃ واحدۃ “ اس کے تامل میں اختلاف کیا گیا ہے اس بارے میں دو قول ہیں : (1) قریش کے کفار ہیں : یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے (2) یہودی ہیں جب انہوں نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا نازل ہوتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا : یہ سارے کا سارا کیوں نہیں نازل کیا گیا جس طرح تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اور انجیل حضرت (علیہ السلام) اور زبور حضرت دائود (علیہ السلام) پر نازل کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” کذلک لنثت بہ فوادک “ ہم نے یہ اس طرح کیا تاکہ اس کے ذریعے آپ کے دل کو قول کریں، آپ اسے یاد کریں اور اس کو برداشت کر (1 ؎۔ اس روایت کی صحت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
1۔ ابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والضیا فی المختارہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین نے کہا اگر محمد ﷺ نبی ہیں جیسے وہ گمان کرتے ہیں تو ان کا عذاب نہ دیتا اللہ تعالیٰ نے ان پر یکبارگی میں قرآن کیوں نازل نہیں کیا آپ پر کبھی ایک آیت کبھی دو آیتیں اور کبھی ایک سورت نازل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر جواب کو نازل فرمایا جو انہوں نے کہا تھا آیت ” وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القراٰن جملۃ واحدۃ “ سے لے کر آیت ” واضل سبیلا “ تک۔
2۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القراٰن جملۃ واحدۃ “ یعنی ایک مرتبہ قرآن کیوں نہیں اتارا…
Read the full tafseer →وَقَالَ [ اور کہا ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں نے جنہوں نے ] كَفَرُوْا [ انکار کیا ] لَوْلَا نُزِّلَ [ کیوں نہیں اتارا گیا ] عَلَيْهِ [ ان پر ] الْقُرْاٰنُ [ قرآن کو ] جُمْلَةً [ اکٹھا کیا ہوا ] وَّاحِدَةً ڔ [ ایک بار ] كَذٰلِكَ ڔ [ اسی طرح ہے ] لِنُثَبِّتَ [ تاکہ ہم جما دیں ] بِهٖ [ اس کے ذریعہ سے ] فُؤَادَكَ [ آپ ؐ کے دل کو ] وَرَتَّلْنٰهُ [ اور ہم نے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا اس کو ] تَرْتِيْلًا [ جیسا ترتیل کا حق ہے ]
ر ت ل
(س) رتلا کسی چیز کا اچھے انتظام اور ترتیب میں ہونا۔
(تفعیل) ترتیلا کسی چیز کو اچھی طرح ترتیب دینا۔ ادائیگی حروف کا لحاظ رکھ کر کسی کلام کو خوش اسلوبی سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا۔
زیر…
Read the full tafseer →قرآن کریم کو دفعۃً نازل نہ فرمانے میں کیا حکمت ہے
مشرکین مکہ اپنے عناد سے طرح طرح کے اعتراض تراشتے رہتے تھے انہیں اعتراضات میں سے ایک یہ اعتراض تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ جو یہ کہتے ہیں کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے اور یہ کلام جو تمہیں سناتا ہوں اللہ کا کلام ہے اور اللہ کی کتاب ہے اور اس نے یہ قرآن ایمان لانے کے لیے بھیجا ہے تو یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کیوں نازل ہوتا ہے بیک وقت ایک ہی ساتھ کیوں نازل نہیں ہوا ؟ ان لوگوں کا یہ اعتراض حماقت پر مبنی تھا جس کی کتاب ہے وہ جس طرح بھی نازل فرمائے اسے پورا اختیار ہے کذلک ای نزلناہ کذلک تنزیلا مغایرا لما اقترحوا النثبت بہ فؤادک (تاکہ ہم اس کے ذریعہ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
منکرین نبوت کا پانچواں شبہ اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ الذین کفروا لولا نزل علیہ القران جعلۃ واحدۃ .... الیٰ .... واضل سبیلا۔
(ربط) قرآن مجید کے منجانب اللہ ہونے کے متعلق کفار کا ایک شبہ یہ تھا کہ تورایت اور انجیل کی طرح ایک ہی مرتبہ کیوں نہ نازل کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اسے مقصود اپنے رسول کے قلب کی تقویت ہے اور اس کے علاوہ اور بھی فوائد ہیں جو دوسری آیتوں میں مذکور ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور کافروں نے کہا کہ اس شخص پر یہ قرآن ایک ہی مرتبہ کیوں نازل کیا گیا۔ اگر یہ قرآن اللہ کا کلام ہوتا تو تدریجاً نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی اس تدریج سے شبہ ہوتا ہے کہ یہ قرآن محمد ﷺ کی تصنیف…
Read the full tafseer →24:۔ ” وقال الذین الخ “: ساتواں شکوی۔ یہ قرآن اگر واقعی اللہ کا کلام ہے تو اللہ نے ایک بار سارا کیوں نہ نازل کردیا، تھوڑا تھوڑا کر کے کیوں نازل کرتا ہے ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے یہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد ﷺ خود ہی تھوڑا تھوڑا کر کے بناتا اور لوگوں کو سناتا ہے۔ ” کذلک لنثبت بہ الخ “ کذلک فعل مقدر سے متعلق ہے۔ ” ای انزلناہ “ یہ شبہہ مذکورہ کا جواب ہے یعنی بالتدریج نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے دل کو تقویت حاصل ہو اور آپ اسے آسانی کے ساتھ یاد کرسکیں۔ ” ورتلناہ ترتیلا “ یہ فعل مقدر مذکور الصدر پر معطوف ہے یعنی اور مذکورہ بالا مقصد کے پیش نظر ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے ترسل و ترتیل کے ساتھ آپ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
ربطِ آیات
یہ آیات بھی گزشتہ آیات کے ساتھ ہی مربوط ہیں ۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا شکوہ کیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے ۔ نیز اللہ تعالیٰ خود ان کے سامنے کیوں نہیں آتا ؟ اللہ نے جواباً فرمایا کہ یہ لوگ بڑی گستاخی کی بات کرتے ہیں ۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ جب فرشتوں کے ظاہر ہونے کا وقت آئے گا تو اس دن ان مجرموں کا بہت برا حال ہوگا ۔ وہ افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ کاٹیں گے اور کہیں گے کاش کہ ہم نے رسول کے ساتھ راستہ پکڑا ہوتا ۔ اس کی اتباع کی ہوتی اور اس کے بجائے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا ۔ یہ سب شیطان کا بہکاوا ہے وہ انسان کو دھوکہ دیکر ذلیل و…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْہِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَۃً وَّاحِدَۃً 0 كَذٰلِكَ ۛ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنٰہُ تَرْتِيْلًا 32
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
1 ؎ یعنی رسول پر۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَـۃً وَّاحِدَۃً ج کَذٰلِکَ ج لِنُـثَـبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنٰـہُ تَرْتِیْلاً ۔ (الفرقان : 32)
(اور ان کافروں نے کہا کہ محمد ﷺ پر پورا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتار دیا گیا، ہم نے ایسا ہی کیا تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم آپ کے دل کو مضبوط کردیں اور اسی لیے ہم نے اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا ہے (تدریج و اہتمام کے ساتھ نازل کیا ہے) ۔
قرآن کریم کے بیک وقت نہ اترنے کی وجہ
اس آیت کریمہ میں معترضین کا ایک اور اعتراض ذکر فرمایا گیا ہے اور یہ ان کا بڑا دلپسند اعتراض ہے جسے وہ بار بار لوگوں کو بدگمان کرنے کے لیے پیش کرتے رہتے تھے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
فہم القرآن
ربط کلام : مجرمانہ کردار رکھنے والوں کا رسالت مآب ﷺ پر ایک اور اعتراض۔
کفار کو رسالت مآب ﷺ پر یہ بھی اعتراض تھا کہ آپ پر پورے کا پورا قرآن ایک ہی بار کیوں نہیں نازل ہوا ؟ جس کا جواب دیا گیا ہے کہ قرآن مجید کو اس لیے تھوڑا تھوڑا نازل کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ساتھ آپ ﷺ کا دل مضبوط ہو اور قرآن اچھی طرح آپ کے ذہن پر نقش ہوجائے، اس پر عمل کرنے میں آسانی ہو۔ کفار آپ پر جو بھی اعتراض کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اتنا جامع اور مدّلل جواب دیتے کہ کفار لاجواب ہو کر رہ جاتے۔ لیکن اس کے باوجود کفار اپنی ضد سے باز آنے والے نہیں تھے اس وجہ سے وہ وقفے وقفے کے بعد مختلف الفاظ اور انداز میں سوال…
Read the full tafseer →قرآن اکٹھا کیوں نہ اترا :
32: وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ( اور کافروں نے کہا) کافر سے یہاں قریش مکہ یا نمبر 2۔ یہود مراد ہیں۔ لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَۃً وَّاحِدَۃً (کیوں اس پر قرآن مجید اکٹھا ایک مرتبہ نہیں اتا را گیا) جملۃ واحدۃ بمعنی اکٹھا اور یہ حال ہے مطلب یہ ہے اس پر قرآن ایک مرتبہ ایک ہی وقت میں کیوں نہیں اتارا گیا جیسا کہ تورات، انجیل و زبور اتاری گئی اس کو متفرق کیوں اتارا جارہا ہے۔ یہ فضول سوال ہے اور بےجا شک ہے کیونکہ اعجاز قرآنی اور دلائل قرآنی ایک مرتبہ اتارے جانے یا تھوڑا تھوڑا اتارے جانے سے اعجاز نمائی اور حجیت میں چنداں مختلف نہیں ہیں۔ نزلؔ یہاں انزل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
32۔ وقال الذین کفروالولاانزل علیہ ، ،، جیسا کہ ہم نے توریت موسیٰ پر انجیل عیسیٰ پر زبور داؤد (علیہ السلام) پر اللہ نے ارشاد فرمایا، کذلک، اسی طرح ہم نے کیا، لنبث بہ فوداک، لیکن ہم نے اس کو متفرق طور پر نازل کیا تاکہ اس کی وجہ سے آپ کے دل کو تقویت اور جماؤ حاصل ہو اور آپ کو اس کے سجھنے اور یاد رکھنے میں دشواری ہ ہو۔ ماقبل انبیاء کرام پر جب کتاب نازل ہوتی تو وہ اس کو لکھتے اور پڑھتے تھے جب کہ اللہ نے قرآن ایسے نبی پر نازل فرمایا جو نہ لکھنا جانتا ہو اور نہ ہی پڑھنا جانتا ہے۔ تدریجا، اس لیے نازل فرمایا تاکہ اس کے ناسخ و منسوخ کا علم بھی ہوجائے۔ اور ہر آیت میں کسی کی بات کا جواب بھی ہوسکے جو سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
32۔ 34:۔ مشرکین مکہ جہاں اور بےہودہ باتیں کرتے تھے وہاں یہ بھی کہتے تھے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) پر ساری تورات ایک ہی جگہ میں نازل ہوئی ‘ اگر یہ قرآن کلام الٰہی ہے تو یہ بھی تورات کی طرح ایک ہی دفعہ میں کیوں نہیں نازل ہوا ‘ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بات کا جواب دیا کہ ایک تو نبی آخر الزمان ان پڑھ ہیں اتنی بڑی کتاب ایک دفعہ ہی زبان پر چڑھانا مشکل تھا اس مصلحت سے قرآن کی آیتیں ٹھہر ٹھہر کر نازل ہوتی ہیں ‘ علاوہ اس کے دوسری بات یہ بھی ہے کہ ان مشرکین کی ہر ایک بےہودہ بات کا جواب وقت پر اچھی طرح کھول کردیا جاتا ہے پھر فرمایا ‘ اس پر بھی یہ سرکش لوگ نہ مانیں گے تو قیامت کے دن اوندھے منہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
آیت 32 سے 33
یہ کفار کے جملہ اعتراضات میں سے ایک اعتراض ہے جو ان کو ان کے نفس نے سمجھایا ہے، چناچہ ان کا قول ہے : (لو لا نزل علیہ القرآن جملۃ واحدۃ) یعنی وہ کونسی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے تمام قرآن ایک ہی دفعہ نازل نہیں ہوا، جیسا کہ اس سے پہلے کتابیں نازل ہوئیں ؟ بلکہ اس کا ایک ہی دفعہ نازل ہونا تو زیادہ اچھا ہے۔ اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : (کذلک) یعنی اسی طرح ہم نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے نازل کیا ہے (لنثبت بہ فوادک) ” تاکہ ہم اس کے ذریعے سے آپ کے دل کو مضبوط کریں۔ “ کیونکہ جب بھی آپ پر قرآن کا کوئی حصہ نازل ہوتا تھا آپ کے اطمینان اور ثابت قدمی میں اضافہ ہوجاتا تھا، خاص طور پر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
36 رسول کی اپنے رب کے حضور شکایت کا ذکر وبیان : سو اس سے رسول کی اپنے رب کے حضور اپنی قوم کے بارے میں شکایت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یعنی " قال " ماضی یہاں پر مضارع کے معنیٰ میں ہے۔ سو رسول کا یہ فرمانا اگرچہ قیامت کے روز ہوگا لیکن تحقق و قوع یعنی اس کے یقینی اور قطعی ہونے کے اعتبار سے یہ بات ایسی ہے کہ گویا یہ واقع ہوچکی ہے۔ اسلئے اس کو ماضی کے صیغے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یعنی " قال " کے ساتھ۔ جبکہ دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ پیغمبر کا یہ شکوہ اور فرمان و ارشاد آخرت میں نہیں بلکہ اسی دنیا میں ہوا ہے۔ اور یہیں پر آپ ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں اپنی قوم قریش کے اعراض اور ان کی بےرخی پر یہ شکوہ اپنے…
Read the full tafseer →کفار کی طرف سے ایک اور اعتراض اور جواب
تشریح : اس سورت کے شروع سے ہی کفار کے اعتراضات ہوتے چلے آئے ہیں تو ان میں سے ایک اعتراض کفار کی طرف سے یہ بھی ہوا کہ دیکھو قرآن پاک کتنے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا نازل ہوا۔ بیک وقت کیوں نہیں نازل ہوا ؟
اس کا جواب رب ذوالجلال اس طرح دیتے ہیں کہ اس کی کچھ وجوہات ہیں ایک تو یہ کہ آپ پر پوری کتاب کا بوجھ یکدم نہ پڑے آپ آہستہ آہستہ یاد کرتے چلے جائیں دوسرا یہ کہ تمام انسانی مسائل کا حل دلیل کے ساتھ ہر واقعہ کے مطابق اللہ کی طرف سے احکامات کے ساتھ نازل ہوتے چلے گئے اور انسان کو ہر مسئلہ پر بنے بنائے قانون ملتے چلے گئے۔ تیسرا یہ کہ اللہ کی نگہبانی اور مدد کا پتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ آپ ﷺ کی ذات ہی پہ اعتراض کرتے ہیں انہیں آخرت کے انکار اور اللہ جل جلالہ کے روبرو پیشی سے انکار نے اس قدر گستاخ کردیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ فرشتہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا نبی ہی کے پاس کیوں آتا اور اللہ جل جلالہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ، اس قدر تکبر اور اپنی بڑائی میں اس قدر بڑھ چڑھ کر بات کر رہے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی ہوگا کہ یہ فرشتوں کو روبرو دیکھیں گے موت کے وقت بھی اور یوم قیامت بھی فرشتے تو ان کے سامنے ہوں گے مگر ایمان لانے اور غور وفکر سے راہ اپنانے کا وقت گذر چکا ہوگا اور ان بدکاروں کے لیے فرشتوں کا سامنے آنا کوئی سامان راحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
1 ۔ یہ کفار کا اعتراض تھا کہ اگر یہ واقعی سچی کتاب ہے تو اسے یکبارگی کیوں نازل نہیں کردیا گیا یہ جو تھوڑا تھوڑا کر کے آرہا ہے اس کا تو مطلب یہ ہے کہ محمد (ﷺ) اسے سوچ سوچ کر خود تصنیف کرلیتے ہیں۔ (شوکانی) 2 ۔ یعنی آپ ﷺ کو اطمینان رہے اور حفظ میں آسانی ہو اور پھر جیسے جیسے واقعات پیش آئیں ان پر اس کے احکام کا انطباق بآسانی سمجھ میں آتا رہے۔
Read the full tafseer →(25:32) جملۃ واحدۃ۔ یکبارگی۔ ایک ہی دفعہ۔ ایک ہی وقت میں ۔ جملۃ بوجہ القران کے حال ہونے کے منصوب ہے۔ اور واحدۃ بوجہ جملۃ کی صفت کے منصوب ہے۔
کذلک۔ کاف حرف تشبیہ ہے اور ذلک اسم اشارہ۔ اسی طرح۔ یعنی یہ تنزیل اسی طرح ہی ہے۔ تھوڑی، تھوڑی، وقفے وقفے کے بعد۔ ضرورت کے پیش نظر۔ حکمت بالغہ کے مطابق مفہوم کو ذہن نشین کرنے کے لئے۔ لنثبت۔ لام تعلیل کی ہے۔ اس لئے کہ نثبت مضارع جمع متکلم منصوب بوجہ عمل لام تثبیت (تفعیل) مصدر۔ ہم قائم رکھیں۔ ہم جمائے رکھیں۔ ہم مضبوط رکھیں، ہم ثابت قدم رکھیں ہم محکم رکھیں۔
رتلناہ۔ رتلنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ جس کا مرجع القرآن ہے ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 34 :
(مھجور) چھوڑا ہوا۔ چھوڑا گیا ‘(عدو) دشمن ‘(ھادی) ہدایت دینے والا۔ راستے دکھانے والا ‘(نصیر) مدد کرنیوالا ‘(نزل ) اتارا گیا ‘(جملۃ واحدۃ) ایک ہی مرتبہ ‘(نثبت) ہم مضبوط کریں گے ‘(فئواد) دل ‘ (رتلنا) ہم نے آہستہ پڑھا ‘(احسن) بہترین ‘۔
تشریح : آیت نمبر 30 تا 34 :
جب کوئی قوم علم و عمل سے دور اور جہالت سے قریب ہوتی ہے تو ان میں ایک خاص ٹیڑھے پن کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے اور وہ سوائے بےتکی بحثوں ‘ کٹ حجتیوں ‘ ضد ‘ بےفائدہ سوالات اور بےعملی کے کچھ بھی نہیں کرتے۔ ان کو سچائی اور بھلی بات سے نفرت اور ہر جہالت سے خاص دلی لگائوہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
(ف 1) مشرکین جہاں اور بےہودہ باتیں کرتے تھے وہاں یہ بھی کہتے تھے کہ جس طرح مثلا موسیٰ (علیہ السلام) پر ساری تورات ایک ہی دفعہ میں نازل ہوئی اگر یہ قرآن کلام الٰہی ہے تو یہ بھی تورات کی طرح ایک ہی دفعہ میں کیوں نہیں نازل ہوا، اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بات یہ جواب دیا کہ کفار کا یہ اعتراض فضول اور مہمل ہے کیونکہ قرآن کریم کا معجزہ ہونا ہر حال میں یکساں ہے ایک ہی دفعہ نازل ہوا یاتھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہو، اور اے محبوب تھوڑا تھوڑا نازل کرنے تمہارے قلب کی تقویت مقصود ہے اور مسلمانوں پر اس کی تعمیل آسان ہے اس کے بعد فرمایا اے محبوب یہ بدبخت کافرجب تمہارے پاس کوئی مثال لے کر آتے ہیں تو ہم اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
[16] کفار مکہ کا اعتراض تھا کہ قرآن اگر واقعی اللہ کی کتاب ہے تو ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتارا گیا ؟ برسوں میں جو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا گیا تو کیا اللہ میاں کو کچھ سوچنا پڑتا تھا ؟ اس سے تو یہ شبہ ہوتا ہے کہ خود محمد ﷺ سوچ سوچ کر بناتے ہیں۔ پھر موقع مناسب دیکھ کر تھوڑا تھوڑا سناتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
قرآن آہستہ آہستہ کیوں نازل ہوا
1 مخالفین کا ایک اعتراض یہ تھا ۔ کہ قرآن وقفہ وقفہ کرکے کیوں نازل ہولا ہے ایک دم اکٹھا کیوں نہیں اتارا گیا ، اللہ نے اس کا جواب دیا ہے کہ اس سے مقصود یہ تھا کہ آپ کے قلب کو ڈھارس رہے اور تھوڑا تھوڑا نازل ہونے سے وہ جمعیت خاطر کے ساتھ اس کو محفوظ رکھ سکیں ۔ نیز بدقعات نازل کرنے کے یہ اور اللہ بھی ہیں :۔
اب اس لئے کہ مقامبلہ کرنے والوں کو آسانی رہے اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم اتنی بڑی ضخیم کتاب کا جواب کیونکر لکھ سکتے ہیں ۔
یہ بھی فائدہ ہے کہ آہستہ آہستہ نازل ہونے سے مسلمانوں کے دل میں شوق و اضطراب کے جذبات پیدا ہوں ۔ اور وہ جاننے کے لئے بےتاب منتشر رہیں ۔ کہ…
Read the full tafseer →(32) اور دین حق کے منکر کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر پورا قرآن کریم ایک ہی دفعہ کیوں نہ نازل کردیا گیا یہ اس طرح تھوڑا تھوڑا دقتاً فوقتاً اس لئے نازل کیا گیا کہ ہم اس قرآن کریم کے ذریعے آپ کے دل کو قوی اور مضبوط رکھیں اور ہم نے اس قرآن کریم ٹھہرا ٹھہرا کر اتارا اور سنایا ہے یعنی کافرانہ شبہات میں سے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت پر یہ شبہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ کتب سابقہ کی طرح یہ قرآن کریم ایک ہی دفعہ لکھا لکھایا کیوں نہیں دے دیا گیا تھوڑا تھوڑا نازل ہونے سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ یہ پیغمبر اس قرآن کریم کو سوچ سوچ کر خود ہی بناتا ہے۔
حضرت حق جل مجدہ نے جواب دیا کہ اس تدریجی نزول اور ترتیل کے ساتھ…
Read the full tafseer →ف 8۔ چناچہ تئیس سال میں پورا ہوا تاکہ نزول تدریجی کا فائدہ تمام ہو۔
Read the full tafseer →کفار کا اعتراض کہ قرآن کریم ایک ہی بار کیوں نہیں اتار دیا گیا ؟ ،
32۔ کفر کے اس اعتراض کو قرآن کریم نے کئی بار نقل کیا ہے چناچہ پیچھے سورة النحل کی آیت 103 سورة بنی اسرائیل کی آیت 106 میں تفصیل سے گزر چکا ہے کفار نے اس کو کیوں بار بار دھرایا ؟ وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے اس اعتراض کا جواب ممکن نہیں یا کم ازکم مشکل ضرور ہے اور پھر یہ کہ عوام اس کو جلدی سمجھ نہیں سکیں گے مطلب ان کا یہ تھا کہ اگر یہ شخص خود اس طرح سوچ سوچ کر اور لوگوں سے سن سن کر بیان نہیں کر رہا اور واقعی یہ اللہ کی کتاب ہے تو ایک ہی بار یہ کیوں ناز نہیں کی گئی جب کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اگر اس کو کچھ نازل کرنا ہوتا تو وہ اپنے…
Read the full tafseer →Commentary
The sequence of objections by the infidels and polytheists and their answers, which had started in the beginning of the Surah, is continuing. Here in this verse the objection as to why the Qur'an was revealed gradually bit by bit and not in one go is answered. The wisdom behind gradual revelation of the Qur'an as explained in the verse is that it was to keep the heart of the Holy Prophet ﷺ firm and strong. By gradual revelation the Holy Prophet's ﷺ heart was made strong in the following manner:
1. It was made easy for him to remember the Qur'an by heart. If the whole Book was…
Read the full tafseer →44 As the disbelievers of Makkah considered this objection to be very strong, they repeated it over and over again. The Qur'an also has cited it with its answer at several places; for instance, see E.N.'s 101-106 of Surah An-Naml and E.N. 119 of Bani Isra'il. Their question implied: "Had the Qur'an been really the Word of Allah, it would have been sent as a complete book aII at once; for Allah has the knowledge of everything and every human affair. Thus it is obvious that nothing is being sent down from above; but this man himself fabricates all its themes or gets these from other people or…
Read the full tafseer →