Explained with ayahs 30–31
شکایت نبوی ﷺ . قیامت والے دن اللہ کے سچے رسول آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنی امت کی شکایت جناب باری تعالیٰ میں کریں گے کہ نہ یہ لوگ قرآن کی طرف مائل تھے نہ رغبت سے قبولیت کے ساتھ سنتے تھے بلکہ اوروں کو بھی اس کے سننے سے روکتے تھے جیسے کہ کفار کا مقولہ خود قرآن میں ہے کہ وہ کہتے تھے آیت (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ 26) 41۔ فصلت :26) اس قرآن کو نہ سنو اور اسکے پڑھے جانے کے وقت شور وغل کرو۔ یہی اس کا چھوڑ رکھنا تھا۔ نہ اس پر ایمان لاتے تھے، نہ اسے سچا جانتے تھے نہ اس پر غورو فکر کرتے تھے، نہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 42
یعنی آج جو دشمنی تمہارے ساتھ کی جا رہی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلے بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ جب کوئی نبی حق اور راستی کی دعوت دینے اٹھا تو وقت کے سارے جرائم پیشہ لوگ ہاتھ دھو کر پیچھے پڑگئے۔ یہ مضمون سورة انعام آیات 112۔ 113 میں بھی گزر چکا ہے۔
اور یہ جو فرمایا کہ ہم نے ان کو دشمن بنایا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا قانون فطرت یہی کچھ ہے، لہٰذا ہماری اس مشیت پر صبر کرو، اور قانون فطرت کے تحت جن حالات سے دو چار ہونا نا گزیر ہے ان کا مقابلہ ٹھنڈے دل اور مضبوط عزم کے ساتھ کرتے چلے چاؤ۔ اس بات کی امید نہ رکھو کہ ادھر تم نے حق پیش کیا اور ادھر ایک دنیا کی دنیا اسے…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ ، یعنی اگر آپ کے دشمن قرآن کو نہیں مانتے تو آپ کو اس پر صبر کرنا چاہئے کیونکہ سنت اللہ ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ ہر نبی کے کچھ مجرم لوگ دشمن ہوا کرتے ہیں اور انبیاء علہیم السلام اس پر صبر کرتے رہے ہیں۔
قرآن کو عملا ترک کردینا بھی گناہ عظیم ہے
اس سے ظاہر یہ ہے کہ قرآن کو مہجور ومتروک کردینے سے مراد قرآن کا انکار ہے جو کفار ہی کا کام ہے۔ مگر بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ جو مسلمان قرآن پر ایمان تو رکھتے ہیں مگر نہ اس کی تلاوت کی پابندی کرتے ہیں نہ اس پر عمل کرنے کی وہ بھی اس حکم میں داخل ہیں۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →نبی ﷺ کو تسلی
یہ نبی ﷺ کو تسلی دی گی ہے کہ یہ اشقیاء تمہاری مخالفت جو کر رہے ہیں یہ ابنیائ کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر دور کے مجرمین نے اسی طرح اپنے اپنے رسولوں کی مخالفت کی ہے۔ لفظ مجرمین اوپر آیت 24 میں گزر چکا ہے۔ یہ لفظ ان گمراہ کرنے والے لیڈروں کے لئے استعمال ہوا ہے جن کا رویہ اس سورة میں زیر بحث ہے۔ فرمایا کہ یہی جرائم پیشہ لوگ ان تمام فسادات کے ذمہ دار ہوتے ہیں جن کی نبی اصلاح کرنا چاہتا ہے اور ان تمام مفاسد سے ان کا مفاد وابستہ ہوتا ہے اس وجہ سے دونبی کی دعوت کو ٹھنڈے پٹیوں نہیں برداشت کرتے بلکہ اپنے تمام اوچھے ہتھیاروں سے اس کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن تم…
Read the full tafseer →31-1یعنی جس طرح اے محمد ﷺ تیری قوم میں سے وہ لوگ تیرے دشمن ہیں جنہوں نے قرآن کو چھوڑ دیا، اسی طرح گزشتہ امتوں میں بھی تھا، یعنی ہر نبی کے دشمن وہ لوگ ہوتے تھے جو گناہگار تھے، وہ لوگوں کو گمراہی کی طرف بلاتے تھے (مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِۨ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ ۭ لَا يَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰي شَيْءٍ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ) 6۔ الانعام :112) میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔
31-2یعنی یہ کافر گو لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں لیکن تیرا رب جس کو ہدایت دے اس کو ہدایت سے کون روک سکتا ہے ؟ اصل ہادی اور مددگار…
Read the full tafseer →10: آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ کفار مکہ آپ کے ساتھ جو دشمنی کررہے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں، ہر پیغمبر کے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے، پھر جن کے مقدر میں ہدایت قبول کرنا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے دیتے ہیں اور اپنے پیغمبروں کی مدد فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
(وقال الرسول۔۔۔۔۔۔۔ واضل سیلا) ”
انہوں نے اس قرآن کو چھوڑ دیا جو اللہ نے اپنے بندے پر نازل کیا تھا تاکہ ان کو ڈرائے۔ اور ان کو بصیرت عطا کرے۔ انہوں نے قرآن کو اس طرح چھوڑا کہ اسے سننے سے بھی دور بھاگے ‘ مارے اس خوف کے کہ اگر انہوں نے سن لیا تو وہ اپنی بےپناہ تاثیر سے ان کو متاثر کرے گا۔ اور وہ اس وے اثرات کو مسترد نہ کرسکیں گے۔ انہوں نے اگر سنا بھی تو اس کے مضامین پر غور و فکر نہ کیا تاکہ وہ سچائی کو پا سکیں اور اس کی راہ پر چلیں۔ انہوں نے اسے اس طرح چھوڑا کہ اسے اپنا دستور حیات نہ بنایا۔ حالانکہ وہ نازل اسی لیے کیا گیا تھا کہ وہ اسے نظام حیات بتائیں۔
(وقال الرسول یرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مھجورا) (25…
Read the full tafseer →1 جو نبی کی بات ماننے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں اور لوگوں کو قبول حق سے روکتے ہیں۔
2 یعنی کافر پڑے بہکایا کریں، جس کو اللہ چاہے گا راہ پر لے آئے گا یا یہ مطلب ہے کہ اللہ جس کو چاہے گا ہدایت کر دے گا اور جن کو ہدایت نصیب نہ ہوگی ان کے سب کے مقابلہ میں تیری مدد کرے گا۔ یا یہ کہ حق تعالیٰ تیری مدد کر کے مقام مطلوب تک پہنچا دے گا۔ کوئی رکاوٹ مانع نہ ہو سکے گی۔
Read the full tafseer →آیت 31 وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ ط ”
یہ مضمون سورة الانعام کی آیت 112 میں بھی آچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی آزمائش کے لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کی مخالفت کی بھٹی خوب گرم ہو ‘ ان کے خلاف کشمکش اور تصادم کا ماحول بنے اور باطل کے مقابلے میں انہیں عملی طور پر میدان کارزار میں اترنا پڑے تاکہ کھرے اور کھوٹے کی پہچان ہو اور ایمان کے سچے دعویدار نکھر کر سامنے آجائیں۔ ورنہ اگر ٹھنڈی سڑک پرچہل قدمی کرتے ہوئے جنت تک پہنچنا ہو تو کوئی بھی اس سعادت میں پیچھے نہیں رہے گا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے :
حُجِبَتِ النَّار بالشَّھَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّۃُ بالْمَکَارِہِ…
Read the full tafseer →41 یعنی نبی کی بعثت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ رسول کی اطاعت کریں۔ اب جو لوگ پہلے سے مطاع بنے بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ بھلا یہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں کہ جو لوگ پہلے ان کے فرمانبردار و اطاعت گزار تھے وہ انھیں چھوڑ کر یا ان کے ساتھ کسی دورے کی بھی اطاعت کرنے لگیں۔ بالفاظ دیگر معاشرہ کے آسودہ حال لوگ یا ایسے لوگ جن کا عوام پر کسی نہ کسی طرح کا اثر اور بالادستی ہوتی ہے اس نبی کو اپنا رقیب سمجھ کر اس کی مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسے ہی مجرموں کا ذکر قرآن نے بعض مقامات پر مترفین کے لفظ سے کیا ہے اور بعض مقامات پر ملا کے لفظ سے اور چونکہ ایسے لوگوں کی تعداد کافی ہوتی ہے۔ لہذا نبی کی دعوت دراصل بھڑوں کے…
Read the full tafseer →33۔ (اپنی تکوینی کے ماتحت) مطلب یہ ہے کہ ناحق شناس لوگ تو ہر زمانہ میں اپنے وقت کے پیغمبر کے دشمن رہے ہیں سو آپ کے بھی کفر پسند معاصرین آپ سے عداوت ٹھانے ہوئے ہیں آپ اس پر اتنا غم نہ کیجئے۔ عارفین کہتے ہیں چونکہ ہر ولی نبی ہی کے قدم پر ہوتا ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر ولی کا بھی ایک عدو ہوتا ہے۔
34۔ (چنانچہ جن کے لیے ہدایت منظور ہے انہیں ہدایت ہوتی رہے گی، اور مجرموں، سرکشوں سے مقابلہ کی جب ضرورت ہوگی، آپ کی مدد بھی ہوتی رہے گی) ” یعنی غم کے دو سبب ہوسکتے ہیں۔ ایک ان کا گمراہ رہنا، اور دوسرا ان کا درپے ایذا ہونا، سو اللہ تعالیٰ ہدایت کے لیے بھی کافی ہے اور اگر حکمت مقتضی ہوگی تو ہدایت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
آیت نمبر 21 تا 34
ترجمہ : جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے یعنی بعث (بعد الموت) کا خوف نہیں رکھتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ کہ ہماری طرف رسول ہوں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے پھر ہمیں وہ یہ بات تباتے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور دنیا ہی میں اللہ کی رویت کا مطالبہ کرکے بڑی سرکشی کی ہے اور عَتَوْ واؤ کے ساتھ اپنی اصل پر ہے بخلاف عُتِیَ کے ابدال کے ساتھ سورة مریم میں جس روز یہ منجملہ خلائق کے فرشتوں کو دیکھیں گے اور (یومَ ) کا نصب اذکر فعل مقدر کی وجہ سے ہے، اس روز مجرموں یعنی…
Read the full tafseer →وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا من المجرمین اور اسی طرح ہم نے مشرکوں میں سے ہر پیغمبر کے
دشمن بنا دیئے تھے اس لئے آپ بھی ویسے ہی صبر کریں جیسا گزشتہ پیغمبروں نے کیا میں یقیناً آپ کی مدد کرنے والا اور راستہ بتانے والا ہوں۔
وکفی بربک ہادیا ونصیرا۔ اور آپ کا رب آپ کو (دشمنوں پر) راستہ بتانے اور آپ کی مدد کرنے کے
لئے کافی ہے۔
ابن ابی حاتم اور حاکم نے اور المختار میں ضیاء نے بیان کیا اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘ مشرکوں نے کہا کہ اگر محمد ﷺ اپنے دعوئے نبوت میں سچے ہیں تو پھر ان کا رب اور ان کو دکھ کیوں دیتا ہے (اور کیوں باربار تھوڑی تھوڑی آیات بھیجتا ہے) یکدم پورا قرآن…
Read the full tafseer →(31) اور ہم اسی طرح جیسا کہ ابوجہل آپ کا دشمن ہے مشرک لوگوں میں سے ہر نبی کے دشمن بناتے رہتے ہیں کہ آپ سے پہلے انبیاء کرام ؑ کی ان کی قوم دشمن رہی ہے اور آپ کا رب آپ کی حفاظت کرنے اور آپ کے دشمن کے مقابلہ میں آپ کی مدد کرنے کے لیے کافی ہے۔
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ : چونکہ اس شکایت میں دل کی جلن اور شدید غم کا اظہار تھا، اس لیے اس آیت میں نبی ﷺ کو اور مسلمانوں کو تسلی دی کہ قرآن کو چھوڑنے والوں کا یہ طرز عمل صرف تمہارے ساتھ ہی نہیں ہے بلکہ پہلے انبیاء کے ساتھ بھی ایسے ہی رہا ہے۔ دیکھیے سورة انعام (112، 123)۔
وَكَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَّنَصِيْرًا : اس میں آپ ﷺ کو دو بشارتیں دی ہیں، ایک یہ کہ جو لوگ اب اعراض کر رہے ہیں ان میں سے کئی ہدایت قبول کریں گے، یا ان کی پشتوں سے آنے والے ہدایت قبول کریں گے، جیسا کہ پہاڑوں کے فرشتے نے اللہ کے حکم سے آکر رسول اللہ ﷺ کو پیش کش کی کہ اگر آپ چاہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
( وقال الرسول۔۔۔۔۔ )
(1 ؎۔ سنن ابی دائود کتاب الادب باب من یزمر یجالس، حدیث 4191، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
وقال الرسول یرب رسول سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ رسول اللہ ﷺ ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہیں :” ان قوی اتخذوا ھذا القرآن مجھورا “ کفار نے قرآن حکیم کے بارے میں ناحق بات کی تھی کہ یہ جادو ہے، یہ شعر ہے، یہ مجاہد اور نخعی سے مروی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مجھورا کا معنی متروک ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد : ” وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا من المجرمین “ کے ساتھ تسلی دی، جس طرح اے محمد ! ہم نے مشرکوں میں سے آپ کے دشمن بنائے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کے قول میں وہ ابو جہل تھا۔ اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
رسول ﷺ کی اتباع نہ کرنے والے خسارے میں ہوں گے
1۔ ابن مردویہ وابو نعیم فی الدلائل بسند صحیح من طریق سعید بن جبیر ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو معیط نبی ﷺ کے پاس مکہ میں بیٹھا کرتا تھا اور آپ کو تکلیف نہ دیتا تھا اور وہ بردبار آدمی تھا اور باقی قریش جب آپ کے ساتھ بیٹھتے تھے تو آپ کو تکلیف دیتے تھے۔ اور ابو معیط کا ایک دوست شام میں رہتا تھا جو موجود نہیں تھا قریش نے کہا ابو معیط نے دین تبدیل کرلیا اس کا دوست شام سے رات کو آیا اور اپنی بیوی سے کہا محمد ﷺ نے کیا کیا اس دین کے بارے میں جس پر وہ تھے اس کی بیوی نے کہا وہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ پھر اس نے پوچھا میرے دوست ابو معیط نے کیا کیا۔ اس…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] جَعَلْنَا [ ہم نے بنایا ] لِكُلِّ نَبِيٍّ [ ہر نبی کے لئے ] عَدُوًّا [ ایک دشمن ] مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ ۭ [ مجرموں میں سے ] وَكَفٰى [ اور کافی ہے ] بِرَبِّكَ [ آپ ﷺ کا رب ] هَادِيًا [ بلحاظ ہدایت دینے والے کے ] وَّنَصِيْرًا [ اور مدد کرنے والے کے ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 31 ۔ میں یہ جو فرمایا کہ ہم نے ان کو دشمن بنایا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا قانون فطرت یہی کچھ ہے۔ لہٰذا ہماری اس مشیت پر صبر کرو اور قانون فطرت کے تحت جن حالات سے دو چار ہونا ناگزیر ہے اس کا مقابلہ ٹھنڈے دل اور مضبوط عزم کے ساتھ کرتے چلے جاؤ۔ اس بات کی امید نہ رکھو کہ ادھر تم نے حق پیش کیا اور ادھر ایک…
Read the full tafseer →(وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ ) (اور اسی طرح ہم نے مجرم لوگوں میں سے ہر نبی کے لیے دشمن بنائے ہیں) یعنی یہ لوگ جو آپ کی مخالفت کر رہے ہیں کوئی نئی بات نہیں جس کا غم کیا جائے (وَکَفٰی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَّنَصِیْرًا) جس کو ہدایت دینا منظور ہو اس کے لیے آپ کا رب کافی ہے اور جو ہدایت سے محروم ہو اس کے مقابلہ میں آپ کی مدد کرنے کے لیے بھی آپ کا رب کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–31
منکرین نبوت کا چوتھا شبہ اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ وقال الذین لا یرجعون لقاء نا ...... الیٰ ..... ھادیا ونصیرا۔
(ربط) منکرین نبوت کا چوتھا شبہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں نازلکیے جو ہمارے سامنے آکر آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی شہادت دیتے کہ یہ شخص دعوائے نبوت میں صادق ہے یا ہم بلاوسطہ اللہ کو دیکھتے اور بلاوسطہ خود اللہ تعالیٰ سے آپکی بابت پوچھ لیتے اور اللہ تعالیٰ ہم کو خود بتلا دیتا کہ یہ شخص میرا نبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جاہلانہ اور احمقانہ اور گستاخانہ اور مغرورانہ سوال کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ بڑے ہی سرکش اور متبکر ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس مرتبہ…
Read the full tafseer →23:۔ ” وکذلک الخ “ کاف بیان کمال کے لیے ہے۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے نیز مشرکین کی طرف سے بےجا اعتراضات کی وجہ بیان کی گئی ہے یعنی مشرکین آپ سے یہ حجت بازی محض عداوت اور ضد وعناد کی بنا پر کرتے ہیں۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں، ہر زمانے میں ہر پیغمبر کے ایسے دشمن ہوئے ہیں اور ہر زمانے میں مشرکوں نے پیغمبروں کو اسی طرح ستایا ہے۔ اس لیے جس طرح انہوں نے صبر کیا اسی طرح آپ بھی صبر کریں۔ مدد کیلئے اور ان سے انتقام لینے کی راہ بتانے کے لیے میں آپ کو کافی ہوں۔ ای کذلک کان کل نبی قبلک مبتلی بعداوۃ قومہ وکفاک بی ھادیا الی طریق قھرہم والانتصار منھم وناصرا لک علیھم (مدارک ج 3 ص 126) ۔ وکذلک جعلنا لکل نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
ربطِ آیات
یہ آیات بھی گزشتہ آیات کے ساتھ ہی مربوط ہیں ۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا شکوہ کیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے ۔ نیز اللہ تعالیٰ خود ان کے سامنے کیوں نہیں آتا ؟ اللہ نے جواباً فرمایا کہ یہ لوگ بڑی گستاخی کی بات کرتے ہیں ۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ جب فرشتوں کے ظاہر ہونے کا وقت آئے گا تو اس دن ان مجرموں کا بہت برا حال ہوگا ۔ وہ افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ کاٹیں گے اور کہیں گے کاش کہ ہم نے رسول کے ساتھ راستہ پکڑا ہوتا ۔ اس کی اتباع کی ہوتی اور اس کے بجائے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا ۔ یہ سب شیطان کا بہکاوا ہے وہ انسان کو دھوکہ دیکر ذلیل و…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ 0ۭ وَكَفٰى بِرَبِّكَ ہَادِيًا وَّنَصِيْرًا 31
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
نبی
النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة «2» ، وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر…
Read the full tafseer →ترکیب : جملۃ واحدۃ حال من القرآن اے مجتمعاً ۔ کذلک اے انزل کذلک فالکاف فی موضع نصب علی الحال لنثبت اللام تتعلق بالفعل المحذوف۔
لیکن بعض مفسرین کہتے ہیں ان عام الفاظ میں کسی شخص خاص کی طرف بھی اشارہ ہے اور یہ ہوسکتا ہے پھر اس شخص خاص سے مراد وہ کہتے ہیں عقبہ ابن ابی معیط ہے کہ جب وہ سفر سے آتا تھا تو دعوت دیا کرتا تھا۔ چناچہ ایک بار اس نے آنحضرت ﷺ کو بلایا آپ نے اس کے کفر کی وجہ سے انکار کیا۔ اس نے کلمہ شہادت پڑھ لیا تب آپ تشریف لے گئے۔ اس کی خبر ابی بن خلف کو بھی ہوئی وہ اس کا بڑا دوست تھا اس نے اس کو بڑی ملامت کر کے اسلام سے برگشتہ کرا دیا اور حضرت ﷺ کی گستاخی پر آمادہ کیا (اس قصہ کو معالم…
Read the full tafseer →وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ ط وَکَفٰی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَّ نَصِیْرًا۔
(الفرقان : 31)
(اسی طرح ہم نے جرائم پیشہ لوگوں میں سے ہر نبی کے دشمن بنائے اور آپ کا رب کافی ہے آپ کے لیے منزل مقصود تک پہنچانے والا اور مدد فرمانے والا۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
آنحضرت ﷺ کو کفار کے رویئے سے شکایت پر تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ قریش اور دیگر اہل مکہ کا آپ ﷺ کے ساتھ سلوک کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔ ہم نے جس نبی اور رسول کو بھی اہل دنیا کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے ان کی قوم میں سے بگڑے ہوئے اور سربرآوردہ لوگوں نے (جنھیں یہاں مجرمین کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ) اسی طرح اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کو چھوڑ نے کا بنیادی سبب
اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ پر قرآن اس لیے نازل فرمایا تاکہ آپ لوگوں کو قرآن کی طرف بلائیں۔ لوگ اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں اور دنیا وآخرت میں کامیاب ہوجائیں۔ لیکن نبی کے دشمن اس بات کو گوارہ نہیں کرتے کہ لوگ آپ پر ایمان لائیں۔ یہاں رسول اکرم ﷺ کو یہ کہہ کر تسلی دی گئی ہے کہ اے رسول پریشان ہونے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجرموں میں سے بڑے مجرموں کو ہر نبی کا مخالف بنایا تھا۔ تاکہ حق و باطل کی کشمکش میں نبی اور اس کی امت کا امتحان لیا جائے۔ اسی اصول کے تحت یہ مجرم لوگ آپ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ آپ کو ان کی مخالفت کی…
Read the full tafseer →31: وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنْ الْمُجْرِمِیْنَ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَّنَصِیْرًا (اسی طرح ہم نے مشرکوں میں ہر پیغمبر کے دشمن بنا دیئے تھے۔ اور آپ کا رب آپ کو راستہ بتانے والا اور آپ کی مدد کرنے والا کافی ہے) یعنی اس طرح ہر پیغمبر کو اپنی قوم کو عدوات سے سابقہ پڑا اور آپ کے لئے آپ کا رب کافی ہے جو مغلوبیت کے راستہ کی طرف ان کو لے جارہا ہے اور ان سے بدلہ لے گا اور آپ کی ان کے خلاف مدد فرمائے گا۔
نحو : عدو کا لفظ واحدو جمع دونوں ہوسکتا ہے۔ باءؔ زائدہ ہے اے کفی ربک ھا دیا۔ ھادیًا یہ تمیز ہے۔
ھَادِیًا وَّ نَصِیْرًا۔
Read the full tafseer →31۔ وکذالک جعلنا، جس طرح ہم نے مشرکین میں سے ہر پیغمبر کے دشمن بنادیے تھے اس طرح آپ بھی ویسے ہی صبر کریں۔ جیسا کہ گزشتہ پیغمبروں نے کیا، لکل نبی عدوامن المجرمین، اس سے مراد مشرکین ہیں۔ مقاتل کا بیان ہے کہ ان کی باتوں سے تکلیف محسوس نہ کریں بلکہ ایسی تکالیف توماقبل انبیاء کو بھی آئیں۔ لہذا ہمارے حکم پر صبر کریں جیسا کہ پہلے انبیاء کرام نے صبر کیا تھا پھر ہم نے ان کی مدد کی اور ان کی قوموں کو ہدایت سے نوازا۔ وکفی بربک ھادیا ونصیرا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
30۔ 31:۔ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ نماز میں قرآن شریف پڑھتے تو مشرکین مکہ تالیاں اور سیٹیاں بجاتے تھے ‘ سورة لقمان اور حٰم السجدہ میں بھی اس مضمون کی آیتیں آویں گی ‘ صحیح بخاری ومسلم کی عبداللہ بن مسعود کی یہ حدیث 1 ؎ مشہور ہے کہ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے نماز پڑھتے وقت اونٹ کی اوجھری اللہ کے رسول کی پیٹھ پر ڈال دی تھی ‘ حاصل مطلب آیتوں کا یہ ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ نے قریش کی ان بےہودہ باتوں کی شکایت اللہ تعالیٰ کی جناب میں پیش کی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی کے طور پر فرمایا اے رسول اللہ کے پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کے قصے جو قرآن میں جگہ جگہ ذکر کئے گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت نمبر 30 سے 31
(وقال الرسول) اور کہا رسول ﷺ نے “ اپنے رب کو پکارتے، قرآن سے ان کی روگردانی کا شکوہ کرتے اور ان کے رویے پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے : (یرب ان قومی) ” اے میرے رب ! میری قوم نے۔ “ جن کی ہدایت اور جن میں تبلیغ کرنے کے لئے تو نے مجھے مبعوث کیا تھا (اتخذوا ھذا القرآن مھجورا) انہوں نے اس قرآن سے اعراض کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ان پر واجب ہے کہ وہ اسے کے فیصلے کے سامن سر تسلیم خم کرتے، اس کے احکام کو قبول کرتے اور اس کی پیروی کرتے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ ان کے گزشتہ آباء و اجداد نے بھی ایسا ہی کیا تھا جیسا یہ کہ کر رہے ہیں، چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
36 رسول کی اپنے رب کے حضور شکایت کا ذکر وبیان : سو اس سے رسول کی اپنے رب کے حضور اپنی قوم کے بارے میں شکایت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یعنی " قال " ماضی یہاں پر مضارع کے معنیٰ میں ہے۔ سو رسول کا یہ فرمانا اگرچہ قیامت کے روز ہوگا لیکن تحقق و قوع یعنی اس کے یقینی اور قطعی ہونے کے اعتبار سے یہ بات ایسی ہے کہ گویا یہ واقع ہوچکی ہے۔ اسلئے اس کو ماضی کے صیغے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یعنی " قال " کے ساتھ۔ جبکہ دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ پیغمبر کا یہ شکوہ اور فرمان و ارشاد آخرت میں نہیں بلکہ اسی دنیا میں ہوا ہے۔ اور یہیں پر آپ ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں اپنی قوم قریش کے اعراض اور ان کی بےرخی پر یہ شکوہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
نبی ﷺ کی قرآن مجید کو پس پشت ڈالنے والوں کے خلاف شکایت
تشریح : نبی اکرم ﷺ روز قیامت ایسے لوگوں کی شکایت کریں گے کہ جنہوں نے قرآن مجید کو پس پشت ڈال دیا یا اس پر طرح طرح کے اعتراضات کر کے اسے جھٹلاتے رہے اور مذاق کا نشانہ بناتے رہے ایسے لوگوں کے خلاف اللہ تعالیٰ کی بیشمار حکمتوں میں سے ایک بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ اس نے ہر زمانے میں گنہگاروں میں سے کچھ لوگ نبی کی مخالفت کے لیے ضرور مقرر کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ مثلاً آپ کسی کو کہتے ہیں جھوٹ نہ بولو۔ وہ کہتا ہے اچھا بات ختم ہوگئی۔ لیکن جب کوئی کہے کہ بھئی میں نہیں مانتا تو پھر کہنے والے کو اسے منانے کی مختلف تراکیب سوچنی پڑتی ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ آپ ﷺ کی ذات ہی پہ اعتراض کرتے ہیں انہیں آخرت کے انکار اور اللہ جل جلالہ کے روبرو پیشی سے انکار نے اس قدر گستاخ کردیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ فرشتہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا نبی ہی کے پاس کیوں آتا اور اللہ جل جلالہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ، اس قدر تکبر اور اپنی بڑائی میں اس قدر بڑھ چڑھ کر بات کر رہے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی ہوگا کہ یہ فرشتوں کو روبرو دیکھیں گے موت کے وقت بھی اور یوم قیامت بھی فرشتے تو ان کے سامنے ہوں گے مگر ایمان لانے اور غور وفکر سے راہ اپنانے کا وقت گذر چکا ہوگا اور ان بدکاروں کے لیے فرشتوں کا سامنے آنا کوئی سامان راحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
1 ۔ یہ کفار کا اعتراض تھا کہ اگر یہ واقعی سچی کتاب ہے تو اسے یکبارگی کیوں نازل نہیں کردیا گیا یہ جو تھوڑا تھوڑا کر کے آرہا ہے اس کا تو مطلب یہ ہے کہ محمد (ﷺ) اسے سوچ سوچ کر خود تصنیف کرلیتے ہیں۔ (شوکانی) 2 ۔ یعنی آپ ﷺ کو اطمینان رہے اور حفظ میں آسانی ہو اور پھر جیسے جیسے واقعات پیش آئیں ان پر اس کے احکام کا انطباق بآسانی سمجھ میں آتا رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(25:30) وقال الرسول۔ اس کا عطف وقال الذین لا یرجون لقاء نا ۔۔ الخ پر ہے۔ اور دونوں جملوں کے درمیان کا کلام بطور جملہ معترضہ ہے۔ اور یہاں الرسول سے مراد نبینا ﷺ ہیں۔
مھجورا۔ اسم مفعول واحد مذکر ھجر سے ای متروکا بالکلیۃ۔ کلی طور پر اس پر ایمان نہ لائے نہ سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ اور غور کیا اور نہ اس کے وعدہ اور وعید کی طرف توجہ کی ۔ یا ھجر سے مراد بکواس ۔ بدگوئی۔ نامناسب کلام۔ یعنی کسی نے قرآن کو بکواس کہا۔ کسی نے سحر کہا ۔ اور کسی نے شعر۔ نشانہ تضحیک۔
کفی۔ کفی یکفی (ضرب) کفایۃ۔۔ الشی کافی ہونا۔ کاف اسم صفت ۔ کہا جاتا ہے کفیتہ شر عدوہ میں نے اس کو اس کے دشمن کے شر سے بچا دیا۔ کفی بربک۔ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 34 :
(مھجور) چھوڑا ہوا۔ چھوڑا گیا ‘(عدو) دشمن ‘(ھادی) ہدایت دینے والا۔ راستے دکھانے والا ‘(نصیر) مدد کرنیوالا ‘(نزل ) اتارا گیا ‘(جملۃ واحدۃ) ایک ہی مرتبہ ‘(نثبت) ہم مضبوط کریں گے ‘(فئواد) دل ‘ (رتلنا) ہم نے آہستہ پڑھا ‘(احسن) بہترین ‘۔
تشریح : آیت نمبر 30 تا 34 :
جب کوئی قوم علم و عمل سے دور اور جہالت سے قریب ہوتی ہے تو ان میں ایک خاص ٹیڑھے پن کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے اور وہ سوائے بےتکی بحثوں ‘ کٹ حجتیوں ‘ ضد ‘ بےفائدہ سوالات اور بےعملی کے کچھ بھی نہیں کرتے۔ ان کو سچائی اور بھلی بات سے نفرت اور ہر جہالت سے خاص دلی لگائوہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
کفار کا قرآن پر اعتراض۔
(ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے عرض کی، اے میرے پروردگار البتہ میری قوم نے اس قرآن کو جو کہ واجب العمل تھا بےکار سمجھ کر چھوڑ دیا اور بعض نے اس کو سحر کہا اور کسی نے شعر اور وہ لوگ ایمان لانے سے محروم رہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو تسلی فرمائی اور آپ سے مدد کا وعدہ فرمایا اور ارشاد ہوا اے محبوب ﷺ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کے قصے جو قرآن میں جگہ جگہ ذکر کیے گئے ہیں ان سے تم کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ ہر نبی کے ساتھ بد نصیبوں کا یہی دستور رہا ہے۔
Read the full tafseer →[15] یعنی یہ سنت قدیمہ ہے کہ کفار انبیاء کے ساتھ دشمنی کرتے رہے ہیں، تو یہ کوئی نئی بات نہیں جس کا غم کیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
قرآنی تعلیمات کو پس پشت
1: یعنی ایک طرف تو مشرکین ومنکرین افسوس کا اظہار کریں گے دوسری جانب اللہ کا رسول کھڑا ہوگا اور کہ گا اے اللہ میں نے ہرچند ان لوگوں کو قرآن کی جانب بلایا اور صراط مستقیم کی دعوت دی ۔ مگر ان لوگوں نے ہمیشہ روگردانی کی اور قرآنی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ۔ اس لئے آج ان سے بھی ایسا ہی سلوک ہو کہ یہ تیری عنایتوں اور مہربانیوں کے امیدوار نہیں اور تیری طرف سے بالکل بےالتفاتی کا اظہار ہو ۔ جس طرح انہوں نے تیری کتاب کو پس پشت ڈال دیا تھا ۔ اسی طرح اب ان کی معروضات ناقابل اعتناء سمجھی جائیں ۔ آیت کا مفہوم کے اعتبار سے عام ہے اس میں وہ مسلمان بھی داخل ہیں جنہوں نے عملاً قرآن کو…
Read the full tafseer →(31) اور جس طرح اے پیغمبریہ کافر اور منکر آپ کے دشمن ہیں اسی طرح ہم مجرموں اور گناہگاروں میں سے ہر نبی کے دشمن بناتے رہے ہیں یعنی دین حق کی مخالفت اور اہل حق سے عداوت کا یہ سلسلہ پرانا ہے آج کل کفار مکہ آپ سے اور آپ کی جماعت سے جو سلوک کر رہے ہیں اور جس عداوت کا اظہار ان کی طرف سے ہورہا ہے یہی سلوک ہر زمانے کے نبی کے ساتھ ہوتا رہا ہے اس قسم کی مخالفت سے اندیشہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ہدایت دینے والا اور مدد کرنے والا آپ کا پروردگار ہے یعنی کافروں کے بہکانے کی پروا نہ کیجئے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا ہدایت سے بہرہ مند کردے گا اور جن کو ہدایت نہ ہوگی ان کے مقابلہ میں آپ کی مدد کرے گا۔
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی یہ سنت قدیمہ ہے کہ کفار انبیاء کے ساتھ عداوت کرتے رہے ہیں، سو یہ کوئی نئی بات نہیں جس کا غم کیا جاوے۔
Read the full tafseer →دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر کرکے رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی :
31۔ نبی اعظم وآخر ﷺ نے جو شکوہ بدرگاہ قاضی الحاجات پیش کیا تو آپ کو یوں تسلی دی گئی کہ اس معاملہ میں آپ اکیلے نہیں ہیں کہ آپ ہی سے آپ کی امت نے یہ سلوک کیا بلکہ دوسرے انبیاء کرام اور رسل عظام کا بھی یہی حال ہے اور ان کی اقوام نے بھی ان کے ساتھ یہی سلوک کیا لیکن ان سارے بدبختوں سے نمٹ لیں گے مجرمین کو جو ڈھیل دی گئی تھی وہ بلاشبہ ان کے فائدہ کے لئے دی گئی تھی اور ہم نے اپنے قانون کے مطابق دی تھی جب وہ مہلت پوری ہوگئی تو ان کا فیصلہ کرنے میں بھی کوئی زیادہ دیر نہیں لگے گی جن مجرموں نے آپ لوگوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا نہ…
Read the full tafseer →The next verse reads وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ (In a similar way We made for every prophet an enemy from among the sinners - 25:31). It means that if your adversaries do not accept Qur'an, it is not something new. In the past as well people have defied Our message and the messengers had to contend with that. The best course for you also is to be contended.
Abandoning to follow Qur'an is a great sin
On the face of it abandonment of Qur'an means its denial or non non-acceptance, which is expected only from the infidels. However, in certain traditions…
Read the full tafseer →42 That is, "It is not a new thing that the disbelievers have become your enemies, for it has always been so with all the former Prophets and Messengers. (See also Al-An'am: 112-113). This is inevitable because it is Our Law that the criminals will always oppose the Truth. You should, therefore, pursue your mission with full confidence and determination without expecting any immediate results."
43 "Guidance" does not only imply bestowing of the knowledge of the Truth, but it also means giving the right guidance at the right time to guide the Islamic Movement on the right lines and to defeat…
Read the full tafseer →