Explained with ayahs 32–34
قرآن حکیم مختلف اوقات میں کیوں اتارا . کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جیسے توریت، انجیل، زبور، وغیرہ ایک ساتھ پیغمبروں پر نازل ہوتی رہیں۔ یہ قرآن ایک ہی دفعہ آنحضرت ﷺ پر نازل کیوں نہ ہوا ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں واقعی یہ متفرق طور پر اترا ہے، بیس برس میں نازل ہوا ہے جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی جو جو واقعات ہوتے رہے احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہوپڑے، وضاحت کے ساتھ بیان ہوجائے۔ سمجھ میں آجائے۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے۔ ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی زیادہ واضح…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 47
یعنی جو لوگ سیدھی بات کو الٹی طرح سوچتے ہیں اور الٹے نتائج نکالتے ہیں ان کی عقل اوندھی ہے۔ اسی وجہ سے وہ قرآن کی حقانیت پر دلالت کرنے والی حقیقتوں کو اس کے بطلان پر دلیل قرار دے رہے ہیں، اور اسی وجہ سے وہ اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
خلاصہ تفسیر
اور یہ لوگ کیسا ہی عجیب سوال آپ کے سامنے پیش کریں مگر ہم (اس کا) ٹھیک جواب اور وضاحت میں بڑھا ہوا آپ کو عنایت کردیتے ہیں (تاکہ آپ مخالفین کو جواب دے سکیں۔ یہ بظاہر بیان اس تقویت قلب کا ہے جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہوا ہے کہ بتدریج نازل کرنے میں ایک حکمت آپ کی دلجمی اور تقویت قلب ہے کہ جب کفار کی طرف سے کوئی اعتراض آئے تو اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب نازل کردیا جائے) یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف لے جائے جاویں گے (یعنی گھسیٹ کر) یہ لوگ جگہ میں بھی بدتر ہیں اور طریقہ میں بھی بہت گمراہ ہیں۔ (یہاں تک انکار رسالت پر وعید اور قرآن پر اعتراضات کے جواب تھے، آگے اس…
Read the full tafseer →گمراہوں کی گمراہی کی اصل منزل
یحشرون کے بعد علی کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ یسحبون کے مفہوم پر متضمن ہے۔ دوسرے مقام میں اس کی وضاحت بھی ہوگئی ہے۔ فرمایا ہے یوم یسحبون فی النار علی وجوھھم جس دن وہ اپنے من ہوں کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے۔
یہ آیت اوپر کی آیت 24 کے مقابل میں ہے اس میں اہل جنت کو اچھے انجام کی بشاتر دی ہے اس میں اہل دوزخ کے انجام کا ذکر فرمایا ہے کہ سب سے زیادہ برے ٹھکانے میں اور سب سے زیادہ راہ کھوئے ہوئے وہ لوگ ہوں گے جو من ہوں کے بل گھسیٹ کر دوزخ کی طرف لے جائے جائیں گے۔
افضل سبیلاً میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس دنیا میں گمراہوں کو اپنی گمراہی کی اصل منزل کا پتہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
33-1یہ قرآن کے وقفے وقفے سے اتارے جانے کی حکمت و علت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مشرکین جب بھی کوئی مثال یا اعتراض اور شبہ پیش کریں گے تو قرآن کے ذریعے سے ہم اس کا جواب یا وضاحت پیش کردیں گے اور یوں انھیں لوگوں کو گمراہ کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
13: عاد وثمود کا تعارف سورة اعراف : 65 تا 84 میں گذر چکا ہے اور ”اصحاب الرس“ کے لفطی معنی ہیں ”کنویں والے“۔ بظاہر یہ لوگ کسی کنویں کے پاس آباد تھے۔ قرآن کریم نے بس اتنا ذکر فرمایا ہے کہ انہیں ان کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کیا گیا، ان کے بارے میں مختلف تاریخی روایتیں ملتی ہیں، لیکن ان کے واقعے کی کوئی تفصیل نہ قرآن کریم نے بتائی ہے، نہ کسی مستند حدیث میں آئی ہے۔ اتنی بات ظاہر ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر بھیجے گئے تھے جن کی انہوں نے نافرمانی کی، اور اس کی وجہ سے ان کو ہلاک کیا گیا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں لٹکا کر پھانسی دی تھی۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
(وقال الرسول۔۔۔۔۔۔۔ واضل سیلا) ”
انہوں نے اس قرآن کو چھوڑ دیا جو اللہ نے اپنے بندے پر نازل کیا تھا تاکہ ان کو ڈرائے۔ اور ان کو بصیرت عطا کرے۔ انہوں نے قرآن کو اس طرح چھوڑا کہ اسے سننے سے بھی دور بھاگے ‘ مارے اس خوف کے کہ اگر انہوں نے سن لیا تو وہ اپنی بےپناہ تاثیر سے ان کو متاثر کرے گا۔ اور وہ اس وے اثرات کو مسترد نہ کرسکیں گے۔ انہوں نے اگر سنا بھی تو اس کے مضامین پر غور و فکر نہ کیا تاکہ وہ سچائی کو پا سکیں اور اس کی راہ پر چلیں۔ انہوں نے اسے اس طرح چھوڑا کہ اسے اپنا دستور حیات نہ بنایا۔ حالانکہ وہ نازل اسی لیے کیا گیا تھا کہ وہ اسے نظام حیات بتائیں۔
(وقال الرسول یرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مھجورا) (25…
Read the full tafseer →6 یہ وہی لوگ ہیں جن کی عقل اوندھی ہوگئی اور علویات کو چھوڑ کر سفلی خواہشات پر جھک پڑے۔ آگے ایسی چند اقوام کا جو حشر ہوا عبرت کے لیے اس کو بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
آیت 33 وَلَا یَاْتُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِءْنٰکَ بالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا ”
قرآن حکیم کو جزءً ا جزءً ا نازل کرنے میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ جب کبھی بھی مخالفین اور معترضین کی طرف سے کوئی اعتراض یا سوال اٹھایا جاتا ہے تو وحی کے ذریعے اس کا مبنی برحق اور مفصل جواب آپ ﷺ کو بتادیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →45 یعنی کافروں کے اس قسم کے اعتراضات کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کی عقلیں اوندھی ہوچکی ہیں۔ جو سیدھی سادی باتوں پر غور کرنے کے لئے آمادہ ہی نہیں ہوتیں لہذا ہم قیامت کے دن اوندھے منہ جہنم کی طرف چلا کرلے جائیں گے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : یانبی اللہ ! قیامت کے دن کافر اپنے منہ کے بل حشر کئے جائیں گے ؟ آپ نے فرمایا : جس پروردگار نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل نہیں چلا سکتا ( بخاری۔ کتاب التفسیر (
Read the full tafseer →38۔ جگہ سے مراد دوزخ اور طریقہ سے مراد مسلک اور مذہب اور یہ سزا متناسب اس لیے ہے کہ اعتراضات نگونساری بدن سے ہوئی “۔ (تھانوی (رح) اشارہ النص سے یہ بات بھی صاف ہوئی کہ قادر مطلق اس پر پوری طرح قادرہ ہے کہ جس عضو جس قوت سے جو کام جس وقت چاہے لے لے، خواہ اس کی عام عادت ومعمول کے موافق خواہ اس کے مخالف۔ اور ان فطرت پرستوں کی سطحیت اور بےمغزی بالکل آشکارا ہوجاتی ہے جو ہمہ تو ان خدا کی قدرت کو ” نیچر کے قوانین “ کا تابع و محکوم سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
آیت نمبر 21 تا 34
ترجمہ : جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے یعنی بعث (بعد الموت) کا خوف نہیں رکھتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ کہ ہماری طرف رسول ہوں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے پھر ہمیں وہ یہ بات تباتے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور دنیا ہی میں اللہ کی رویت کا مطالبہ کرکے بڑی سرکشی کی ہے اور عَتَوْ واؤ کے ساتھ اپنی اصل پر ہے بخلاف عُتِیَ کے ابدال کے ساتھ سورة مریم میں جس روز یہ منجملہ خلائق کے فرشتوں کو دیکھیں گے اور (یومَ ) کا نصب اذکر فعل مقدر کی وجہ سے ہے، اس روز مجرموں یعنی…
Read the full tafseer →الذین یحشرون علی وجوہہم الی جہنم اولئک شر مکانا واضل سبیلا۔
جن لوگوں کو منہ کے بل جہنم کی طرف ہنکا کرلے جایا جائے گا وہ رہنے کے مقام کے لحاظ سے بھی بدتر ہوں گے اور طریقہ میں بھی بہت گمراہ ہوں گے۔
اَضَلُّکا مفضل علیہ محذوف ہے یعنی رسول۔ اس آیت کا اسلوب ویسا ہی ہے جیسے آیت ہَلْ انَبِّءُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکَ مَثُوْبَۃً عِنْدَ اللّٰہِ مَنْ لَعَنَہُ اللّٰہُ وَغَضَبَ عَلَیْہِ ۔
گویا آیت کا مطلب یوں ہوا کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے راستے کو گمراہی کا راستہ جانتے ہیں اور آپ کو حقیر سمجھتے ہیں اور اپنے حال سے واقف نہیں کہ وہ کس قدر برے مقام میں ہیں اور رسول سے (جو بقول ان کے گمراہ ہیں) کتنے زیادہ…
Read the full tafseer →(34) یہ ابوجہل اور اس کے ساتھی وہ لوگ ہیں جو قیامت کے دن اپنے مونہوں کے بل دوزخ میں ڈالے جائیں گے یہ لوگ آخرت میں جگہ کے اعتبار سے اور دنیا میں عمل کے اعتبار سے بھی بدتر اور حق وہدایت کے راستہ سے گمراہ ہیں۔
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يُحْشَرُوْنَ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ۔۔ : اس آیت کو پچھلی آیات کے ساتھ ملائیں تو ان الفاظ کا تقاضا ہے کہ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے، جو یہ ہے کہ ”نبی اور قرآن پر اعتراض کرنے والے یہ لوگ اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے“ اور وہ لوگ جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے وہی ٹھکانے میں نہایت برے اور راستے کے اعتبار سے بہت زیادہ گمراہ ہیں۔
اُولٰۗىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ سَبِيْلًا : ”شَرٌّ“ اصل میں ”أَشَرُّ“ ہے، جیسے ”خَیْرٌ“ اصل میں ”أَخْیَرُ“ ہے، دونوں اسم تفضیل کے صیغے ہیں، ”اَضَلُّ“ بھی اسم تفضیل ہے، مگر یہاں تفضیل مراد نہیں، نہ یہ معنی ہے…
Read the full tafseer →(اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ )
” اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ اِلٰی جَہَنَّمَ “ سورة اسراء میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
” اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا “ کیونکہ وہ جہنم میں ہیں۔ مقاتل نے کہا : کفار نے حضور ﷺ کے صحابہ کے مارے میں کہا : یہ مخلوق میں سے سب سے برے ہیں، تو یہ آیت نازل ہوئی :” اضل سبیلا “ دین اور طریقہ کے اعتبار سے گمراہ ہیں۔ معنی یہ بنتا ہے : وہ آپ پر کوئی مثال نہیں لائیں گے مگر ہم منبی بر حق اس کا جواب لائیں گے۔ ان کے خلاف واضح دلائل سے آپ کی مدد کی گئی ہے جب کہ انہیں منہ کے بل ہانکا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
1۔ ابن جریر وابن المنذر ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اولئک شر مکانا “ سے مراد ہے کہ یہ کافر بری جگہ ہوں گے اہل جنت کے مقابلہ میں آیت ” واضل سبیلا “ یعنی طریقے کے لحاظ سے بھی بہت گمراہ ہیں۔
2۔ عبد بن حمدی وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجعلنا معہ اخاہ ہر وان وزیرا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کے بھائی ہارون کو ان کا مددگار اور سہارا بنادیا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فدمرنہم تد میرا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو عذاب کے ساتھ ہلاک کردیا۔
4۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت ” وعادا وثمودا “ یعنی ثمودا کو…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ [ وہ لوگ جن کو ] يُحْشَرُوْنَ [ اکٹھا کیا جائے گا ] عَلٰي وُجُوْهِهِمْ [ ان کے چہروں کے بل ] اِلٰى جَهَنَّمَ ۙ [ جہنم کی طرف ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] شَرٌّ [ زیادہ برے ہیں ] مَّكَانًا [ ٹھکانے کے لحاظ سے ] وَّاَضَلُّ [ اور زیادہ گمراہ ہیں ] سَبِيْلًا [ راستے کے لحاظ سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
(الَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوْھِہِمْ ) (الآیۃ) اس آیت میں کافروں کا برا انجام بیان فرمایا اور وہ یہ کہ ان لوگوں کو چہروں کے بل گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا اور اس میں پھینک دیا جائے گا وہ جگہ عذاب کے اعتبار سے بری جگہ ہے یہاں دنیا میں ان کو بتایا جاتا تھا کہ اپنی حرکتوں کی سزا میں برے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے اور یہ کہ تم گمراہ ہو راہ حق سے ہٹے ہوئے ہو لیکن یہاں نہیں مانتے تھے وہاں عذاب میں مبتلا ہوں گے تو دونوں باتیں سمجھ میں آجائیں گی لیکن وہاں کا سمجھنا اور ماننا فائدہ مند نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
منکرین نبوت کا پانچواں شبہ اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ الذین کفروا لولا نزل علیہ القران جعلۃ واحدۃ .... الیٰ .... واضل سبیلا۔
(ربط) قرآن مجید کے منجانب اللہ ہونے کے متعلق کفار کا ایک شبہ یہ تھا کہ تورایت اور انجیل کی طرح ایک ہی مرتبہ کیوں نہ نازل کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اسے مقصود اپنے رسول کے قلب کی تقویت ہے اور اس کے علاوہ اور بھی فوائد ہیں جو دوسری آیتوں میں مذکور ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور کافروں نے کہا کہ اس شخص پر یہ قرآن ایک ہی مرتبہ کیوں نازل کیا گیا۔ اگر یہ قرآن اللہ کا کلام ہوتا تو تدریجاً نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی اس تدریج سے شبہ ہوتا ہے کہ یہ قرآن محمد ﷺ کی تصنیف…
Read the full tafseer →26:۔ ” الذین یحشرون الخ “ : یہ تخویف اخروی ہے جو لوگ محض ضد وعناد اور بےانصاری سے انکار کرتے اور لا یعنی اعتراض کرتے ہیں قیامت کے دن انہیں مونہوں کے بل گھسیٹا جائیگا اور ان کا ٹھکانا بہت ہی برا ہوگا یہ لوگ راہ راست اور ہدایت سے بہت ہی دور ہیں ضد وعناد نے ان کو راہ حق سے اس قدر دور کردیا ہے کہ اب ان کے راہ راست پر آنے کا امکان ختم ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
ربطِ آیات
یہ آیات بھی گزشتہ آیات کے ساتھ ہی مربوط ہیں ۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا شکوہ کیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے ۔ نیز اللہ تعالیٰ خود ان کے سامنے کیوں نہیں آتا ؟ اللہ نے جواباً فرمایا کہ یہ لوگ بڑی گستاخی کی بات کرتے ہیں ۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ جب فرشتوں کے ظاہر ہونے کا وقت آئے گا تو اس دن ان مجرموں کا بہت برا حال ہوگا ۔ وہ افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ کاٹیں گے اور کہیں گے کاش کہ ہم نے رسول کے ساتھ راستہ پکڑا ہوتا ۔ اس کی اتباع کی ہوتی اور اس کے بجائے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا ۔ یہ سب شیطان کا بہکاوا ہے وہ انسان کو دھوکہ دیکر ذلیل و…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يُحْشَرُوْنَ عَلٰي وُجُوْہِہِمْ اِلٰى جَہَنَّمَ 0ۙ اُولٰۗىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ سَبِيْلًا 34ۧ
حشر
، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة .
( ح ش ر ) الحشر ( ن )
اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔
وجه
أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6]
( و ج ہ ) الوجہ
کے اصل معنی چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
1 ؎ یعنی رسول پر۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ اِلٰی جَھَنَّمَ لا اُوْلٰٓئِکَ شَرٌّمَّکَانًا وَّاَضَلُّ سَبِیْلاً ۔ (الفرقان : 34)
(جو لوگ ہانکے جائیں گے اوندھے منہ جہنم کی طرف، ان کا بہت برا ٹھکانہ ہوگا اور وہ سب سے زیادہ گم کردہ راہ ہوں گے۔ )
سابقہ آیت میں آنحضرت ﷺ کو اپنی تائید و نصرت سے نوازنے کا یقین دلایا اور اس طرح سے آپ ﷺ کو تسلی اور اطمینان کا سامان فراہم کیا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان لوگوں کا انجام ذکر فرمایا جن کی سوچ الٹی، دماغ ٹیڑھا اور ارادے فاسد ہیں۔ وہ ہر وقت الٹے سیدھے اعتراضات سوچتے اور الجھائو ڈالنے کے لیے الجھے ہوئے سوالات کرتے ہیں۔ تو جس طرح ان کے دماغوں نے ہمیشہ الٹا سفر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نبی کے دشمنوں اور قرآن پر اعتراض کرنے والوں کا انجام :
جو لوگ تعصّب اور ہٹ دھرمی کی بناء پر رسالت مآب ﷺ پر اعتراض اور قرآن مجید کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں چہروں کے بل جہنم میں اکٹھا کرے گا یہ لوگ اپنے مقام اور انجام کے لحاظ سے بدترین ہوں گے۔ کیونکہ یہ پرلے درجے کے گمراہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید لوگوں کی ہدایت کے لیے نازل کیا ہے۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرے اور اس پر غور کرے گا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے سرفراز کرے گا۔ ہاں وہ شخص کبھی ہدایت نہیں پاسکتا جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت پر اعتراض کرے اور اس کا انکار کرتا ہو۔ ایسا شخص گمراہی…
Read the full tafseer →34: اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ اِلٰی جَھَنَّمَ اُولٰٓپکَ شَرٌّ (وہ لوگ جن کو منہ کے بل جہنم کی طرف ہنکا کرلے جایا جائے گا وہ بدتر ہوں گے)
نحو : الذین مبتدأ اور اولپک مبتدأ ثانی اور شرٌ خبر ہے اور اولئک بمع شرٌ الذین کی خبر ہے۔
مَّکَانًا (مقام کے اعتبار سے) مقام و مرتبہ یا رہائش و ٹھکانہ وَّاَضَلُّ سَبِیْلًا (اور طریقہ میں بھی بہت گمراہ ہوں گے) یعنی راستہ کے لحاظ سے خطاء کرنے والے ہونگے یہ اسناد مجازی ہے مطلب یہ ہے کہ تمہیں ان سوالات پر یہ چیز آمادہ کرتی ہے کہ تم اسکے راستہ کو گمراہی قرار دیتے ہو اور اسکے مقام و مرتبہ کو حقیر قرار دیتے ہو۔ اگر تم انصاف کی آنکھ سے دیکھتے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
تفسیر۔
34۔ الذین وہ لوگ ، یحشرون علی وجوھھم، ان کو ہنکایا اور چلاجائے گا، الی جھنم ، اولئک شر مکانا، ان کی جگہ اور ٹھکانا اور بعض نے کہا کہ منزل اور رہنے کی جگہ ، واضل سبیلا۔ وہ سیدھاراستہ بھول گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
32۔ 34:۔ مشرکین مکہ جہاں اور بےہودہ باتیں کرتے تھے وہاں یہ بھی کہتے تھے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) پر ساری تورات ایک ہی جگہ میں نازل ہوئی ‘ اگر یہ قرآن کلام الٰہی ہے تو یہ بھی تورات کی طرح ایک ہی دفعہ میں کیوں نہیں نازل ہوا ‘ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بات کا جواب دیا کہ ایک تو نبی آخر الزمان ان پڑھ ہیں اتنی بڑی کتاب ایک دفعہ ہی زبان پر چڑھانا مشکل تھا اس مصلحت سے قرآن کی آیتیں ٹھہر ٹھہر کر نازل ہوتی ہیں ‘ علاوہ اس کے دوسری بات یہ بھی ہے کہ ان مشرکین کی ہر ایک بےہودہ بات کا جواب وقت پر اچھی طرح کھول کردیا جاتا ہے پھر فرمایا ‘ اس پر بھی یہ سرکش لوگ نہ مانیں گے تو قیامت کے دن اوندھے منہ…
Read the full tafseer →آیت 34
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے احوال اور ان کے انجام کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : (یحشرون علی وجوھھم) ” وہ منہ کے بل جمع کیے جائیں گے۔ “ یعنی ان کو جمع کئے جانے کا منظر بدترین منظر ہوگا۔ عذاب کے فرشتے انہیں (چہروں کے بل) گھسیٹ رہے ہوں گے (الی جھنم) ” جہنم کی طرف۔ “ جس میں ہر قسم کا بدترین عذاب اور عقاب جمع ہے۔ (اولئک) یعنی جن کا حال یہ ہے (شرمکانا) ان کی جگہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والوں کی جگہ کی نسبت سے بدترین جگہ ہے۔ (واضل سبیلا) ” اور بہت زیادہ گمراہ راستے والے ہیں۔ “ یہ اسلوب بیان اس تفصیل کے اس باب میں سے ہے جس کے بالمقابل دوسرا پہلو موجود نہیں ہوتا۔ پس اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →41 دوزخیوں کی تذلیل و تحقیر اور ان کی بدحالی کی ایک تصویر : سو ان کی تذلیل و تحقیر اور بدحالی کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو ان کے مونہوں کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ انکا ٹھکانا بھی بہت برا اور ان کا راستہ بھی سخت گمراہی کا "۔ یعنی جس طرح دنیا میں یہ لوگ حق کے مقابلے میں الٹے اور اوندھے ہو کر چلتے رہے تھے اسی طرح وہاں یہ الٹے اور اوندھے کر دئیے جائیں گے اور ان کو پاؤں کی بجائے مونہوں کے بل چلا کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ سے جب اس بارے عرض کیا گیا کہ وہ لوگ مونہوں کے بل کس طرح چلیں گے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس ذات نے ان کو پاؤں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
حق پر اعتراض کرنے والوں کا انجام
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کفار کے الٹے سیدھے سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں انہی کے بارے میں اللہ رب العزت جہاں فرما رہے ہیں کہ کفار و مشرکین کا تو ہمیشہ سے ہی یہ کام رہا ہے کہ اپنے نبیوں کو جھٹلاتے تنگ کرتے بلکہ قتل تک کرتے رہے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کے لیے قرآن پاک میں شدید ترین عذاب کا اعلان کیا گیا ہے۔ اب اس سلسلے میں کچھ پچھلی قوموں کا ذکر مثال دینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–34
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ آپ ﷺ کی ذات ہی پہ اعتراض کرتے ہیں انہیں آخرت کے انکار اور اللہ جل جلالہ کے روبرو پیشی سے انکار نے اس قدر گستاخ کردیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ فرشتہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا نبی ہی کے پاس کیوں آتا اور اللہ جل جلالہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ، اس قدر تکبر اور اپنی بڑائی میں اس قدر بڑھ چڑھ کر بات کر رہے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی ہوگا کہ یہ فرشتوں کو روبرو دیکھیں گے موت کے وقت بھی اور یوم قیامت بھی فرشتے تو ان کے سامنے ہوں گے مگر ایمان لانے اور غور وفکر سے راہ اپنانے کا وقت گذر چکا ہوگا اور ان بدکاروں کے لیے فرشتوں کا سامنے آنا کوئی سامان راحت…
Read the full tafseer →4 ۔ صحیح یعنی بخاری میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا : ” لوگ اپنے منہ کے بل کیوں کرہانکے جائیں گے ؟ فرمایا : جس خدا نے انہیں پائوں کے بل چلایا وہ انہیں منہ کے بل بھی چلا سکتا ہے۔ “ اکثر مفسرین نے اس آیت کی یہی تفسیر بیان کی ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
(25:34) یحشرون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب ان کو جمع کیا جائے گا۔ ان کو سمیٹ کرلے جایا جائے گا۔ ای یساقون۔ گھسیٹ کرلے جایا جائے گا۔
شر۔ اضل۔ افعل التفضیل کے صیغے ہیں۔ شر کو بصیغہ تفضیل اور جگہ بھی استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً قل ھل انبئکم بشر من ذلک مثوبۃ عند اللہ۔ ہے (5:60) آپ کہہ دیجئے کیا میں تمہیں بتائوں وہ جو اللہ کے ہاں پاداش کے لحاظ سے اس سے بھی برا شر۔ بدترین۔ اضل۔ زیادہ گمراہ۔
ترکیب :۔ ہم (مبتدا محذوف) الذین یحشرون ۔۔ سبیلا خبر۔ یا اولئک اسم اشارہ مبتدا۔ شر مکانا۔ اس کی خبر اول واضل سبیلا۔ خبر ثانی۔ مبتدا وخبر مل کر یہ جملہ الذین اسم موصول مبتدا کی خبر ہوا۔
الذین۔۔ یہ وہ لوگ ہیں (یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 34 :
(مھجور) چھوڑا ہوا۔ چھوڑا گیا ‘(عدو) دشمن ‘(ھادی) ہدایت دینے والا۔ راستے دکھانے والا ‘(نصیر) مدد کرنیوالا ‘(نزل ) اتارا گیا ‘(جملۃ واحدۃ) ایک ہی مرتبہ ‘(نثبت) ہم مضبوط کریں گے ‘(فئواد) دل ‘ (رتلنا) ہم نے آہستہ پڑھا ‘(احسن) بہترین ‘۔
تشریح : آیت نمبر 30 تا 34 :
جب کوئی قوم علم و عمل سے دور اور جہالت سے قریب ہوتی ہے تو ان میں ایک خاص ٹیڑھے پن کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے اور وہ سوائے بےتکی بحثوں ‘ کٹ حجتیوں ‘ ضد ‘ بےفائدہ سوالات اور بےعملی کے کچھ بھی نہیں کرتے۔ ان کو سچائی اور بھلی بات سے نفرت اور ہر جہالت سے خاص دلی لگائوہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
(ف 1) مشرکین جہاں اور بےہودہ باتیں کرتے تھے وہاں یہ بھی کہتے تھے کہ جس طرح مثلا موسیٰ (علیہ السلام) پر ساری تورات ایک ہی دفعہ میں نازل ہوئی اگر یہ قرآن کلام الٰہی ہے تو یہ بھی تورات کی طرح ایک ہی دفعہ میں کیوں نہیں نازل ہوا، اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بات یہ جواب دیا کہ کفار کا یہ اعتراض فضول اور مہمل ہے کیونکہ قرآن کریم کا معجزہ ہونا ہر حال میں یکساں ہے ایک ہی دفعہ نازل ہوا یاتھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہو، اور اے محبوب تھوڑا تھوڑا نازل کرنے تمہارے قلب کی تقویت مقصود ہے اور مسلمانوں پر اس کی تعمیل آسان ہے اس کے بعد فرمایا اے محبوب یہ بدبخت کافرجب تمہارے پاس کوئی مثال لے کر آتے ہیں تو ہم اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
[17] جگہ سے مراد دوزخ ہے۔
[18] یعنی جو لوگ سیدھی بات کو الٹی طرح سوچتے ہیں ان کی عقل بالکل اوندھی ہے اس وجہ سے وہ اوندھے منہ جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے۔ آگے ایسی چند اقوام کا جو حشر ہوا عبرت کے لئے ان کا حال بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
ف 2 ۔ یعنی بطور سزا کے انہیں منہ کے بل دوزخ کی طرف لیجایا جائے گا ۔ حدیث میں ہے ۔ ان الذی امشاھم علی ارجلھم قادر علی ان یمشیھم علی وجوھھم کہ جس خدا نے دنیا میں ان لوگوں کے پاؤں کے بل چلنے کی استعداد عطا کی ہے ۔ وہ قیامت کے دن ان کو منہ کے بل چلنے کی قوت بخش سکتا ہے ۔
بعض صوفیا نے کہا ہے کہ منہ کے بل چلتا اس کیفیت سے تعبیر ہے ، کہ ان لوگوں کے دل اس عالم حشر میں بھی دنیا کے مرغوبات سے متعلق رہیں گے ۔ اور ماسواء اللہ خواہشات ہنوز باقی رہیں گی ۔
Read the full tafseer →(34) یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے منھوں کے بل دوزخ کی طرف گھیر کرلے جائے جائیں گے یہ لوگ ازروئے مکان کے بھی بدتر ہیں اور با اعتبار راہ کے بھی بہت گمراہ ہیں منہ کے بل جانے کا مطلب یہ ہے کہ سر کے بل جائیں گے یا یہ کہ گھسیٹتے ہوئے لے جایاجائے گا ان کو جگہ بھی جہنم میں بہت بری ملے گی تو جگہ کے اعتبار سے بدتر اور چونکہ اپنی کج روی سے صحیح راستہ اختیار نہیں کیا اس لئے راہ کے اعتبار سے بھی گم کردہ راہیں اوندھی عقل تھی ویسا ہی سلوک ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
ف 1۔ جگہ سے مراد دوزخ اور طریقہ سے مراد مسلک اور مذہب۔
Read the full tafseer →ہاں ! ان کی جب یہ زندگی ختم ہوجائے گی تو ہم ان کو دوزخ کی طرف ہانک لائیں گے :
34۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو ہم نے ان کو اختیار دیا ہے اس کا تعلق انکی اس دنیوی زندگی کے ساتھ ہے تاکہ یہ لوگ اپنے مکمل اختیار سے عمل کریں جو بھی کریں اور جب ان کو اس دنیوی زندگی کا باب بند ہوجائے گا تو ہم انکو دوزخ کی طرف ہانک لائیں گے کیوں ؟ اس لئے کہ جو اختیار ہم نے ان کو دیا اس سے ناجائز فائدہ حاصل کرتے ہوئے انہوں نے اس کا غلط استعمال کیا اور وہ ہر معاملہ میں الٹی راہ چلے اور جب ہم ان کو الٹے کر کے منہ کے بل دوزخ کی طرف گھسیٹ لائیں گے تو یہ گویا ان کے کئے کی پوری پوری جزا ہوگی ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
Commentary
Verse no. 33 supports and accentuates the explanation given above for the wisdom in the gradual revelation of Qur'an in as much as it promises Allah's support in any situation of awkward questions asked by the infidel.
Read the full tafseer →47 That is, "They will be driven towards Hell upon their faces because of their perversion and their perverted thinking."
Read the full tafseer →