Explained with ayahs 1–2
اللہ تعالیٰ ابن رحمت کا بیان فرماتا ہے تاکہ لوگوں پر اس کی بزرگی عیاں ہوجائے کہ اس نے اس پاک کلام کو اپنے بندے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمایا ہے۔ سورة کہف کے شروع میں بھی اپنی حمد اسی انداز سے بیان کی ہے یہاں اپنی ذات کا بابرکت ہونا بیان فرمایا اور یہی وصف بیان کیا۔ یہاں لفظ نزل فرمایا جس سے باربار بکثرت اترنا ثابت ہوتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَالْكِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰي رَسُوْلِهٖ01306) 4۔ النسآء :136) پس پہلی کتابوں کو لفظ انزل سے اور اس آخر کتاب کو لفظ نزل سے تعبیر فرمانا ہے اسی لئے ہے کہ پہلی کتابیں ایک ساتھ اترتی رہیں اور قرآن کریم تھوڑا تھوڑا کر کے حسب ضرورت اترتا رہا کبھی کچھ…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 5
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے لیے ہے "، یعنی وہی اس کا حق دار ہے اور اسی کے لیے وہ مخصوص ہے کسی دوسرے کو نہ اس کا حق پہنچتا ہے اور نہ کسی دوسرے کا اسمیں کوئی حصہ ہے۔
سورة الْفُرْقَان 6
یعنی نہ تو کسی سے اس کا کوئی نسبی تعلق ہے، اور نہ کسی کو اس نے اپنا متبنیٰ بنایا ہے۔ کوئی ہستی کائنات میں ایسی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ سے نسلی تعلق یا تبنیت کے تعلق کی بنا پر اس کو معبودیت کا استحقاق پہنچتا ہو۔ اس کی ذات یکتائے محض ہے، کوئی اس کا ہم جنس نہیں، اور کوئی خدائی خاندان نہیں ہے کہ معاذ اللہ، ایک خدا سے کوئی نسل چلی ہو اور بہت سے خدا پیدا ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا، تخلیق کے بعد تقدیر کا ذکر فرمایا گیا۔ تخلیق کے معنی تو اتنے ہیں کہ بغیر کسی سابق مادہ وغیرہ کے ایک چیز کو عدم سے وجود میں لایا جائے وہ کیسی بھی ہو۔
مخلوقات میں سے ہر ایک چیز میں خاص خاص حکمتیں
اور تقدیر کا مفہوم یہ ہے کہ جس چیز کو بھی پیدا فرمایا اس کے اجزاء کی ساخت اور شکل و صورت اور آثار و خواص بڑی حکمت کے ساتھ اس کام کے مناسب پیدا کئے جس کام کے لئے اس چیز کو پیدا کیا گیا ہے۔ آسمان کی ساخت اس کے اجزاء ترکیبی اس کی ہیئت اس کام کے مناسب ہے، جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے آسمان بنایا ہے۔ سیاروں اور ستاروں کی تخلیق میں وہ چیزیں رکھی گئیں جو ان کے منشاء وجود کے مناسب ہیں۔ زمین…
Read the full tafseer →قرآن کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ خالق کائنات کا فرمان واجب اور دعان ہے۔
اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی فیض بخشی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اب یہ اپنی توحید اور کبریائی دیکتائی کا حوالہ دیا ہے جس سے مقصود اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جس نے خلق کے انذار و تذکیر کے لئے یہ کتاب اتاری ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے، اس وجہ سے کوئی اس کتاب کو کسی سائل کی درخواست نہ سمجھے بلکہ یہ اس کائنات کے بادشاہی حقیقی کا فرمان واجب الاذعان ہے۔ اگر اس کی تکذیب کی گئی تو جس نے اس کو اتارا ہے وہ اس کی تکذیب کا اتنقام لنیے کے لئے کوئی کمزور ہستی نہیں ہے۔ وہ اس کا انتقام لے گا اور جب…
Read the full tafseer →2-1یہ پہلی صفت ہے یعنی کائنات میں تصرف کا مالک صرف وہی ہے، کوئی اور نہیں۔
2-2اس میں نصاریٰ ، یہود اور بعض ان عرب قبائل کا رد عمل جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔
2-3اس میں صنم پرست مشرکین اور (دو خداؤں کے خالق) کے قائلین کا رد عمل ہے۔
2-4ہر چیز کا خالق صرف وہی ہے اور اپنی حکمت و مشیت کے مطابق اس نے اپنی مخلوقات کو ہر وہ چیز بھی مہیا کی ہے جو اس کے مناسب حال ہے یا ہر چیز کی موت اور روزی اس نے پہلے سے ہی مقرر کردی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: مکہ کے بعض کافروں نے یہ الزام لگایا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے پچھلے انبیائے کرام کے واقعات کچھ یہودیوں سے سیکھ لیے ہیں، اور وہی واقعات لکھوا کر (معاذ اللہ) یہ قرآن بنا لیا ہے، حالانکہ جن یہودیوں کا وہ ذکر کرتے تھے، وہ اسلام لا چکے تھے۔ اگر آپ (معاذ اللہ) انہی سے سیکھ کر اس کلام الٰہی ہونے کا غلط دعوی کر رہے تھے تو یہ حقیقت سب سے پہلے ان یہودیوں پر ظاہر ہوتی، پھر وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کا سچا پیغمبر مان کر آپ پر ایمان ہی کیوں لاتے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
تبرک الذی نزل الفرقان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولا نشورا) (ا : 3)
یہ آغاز ہی صاف صاف ظاہر کردیتا ہے کہ اس سورت کا بڑا محور اور موضوع کیا ہے ؟ یہ کہ یہ کتاب من جانب اللہ نازل شدہ ہے اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت تمام انسانوں کے لیے ہے۔ یہ کہ اس دعوت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے ‘ اس کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی شریک ہے ‘ وہ وحدہ اس پوری کائنات کا مالک ہے ‘ وحدہ مدبر ہے اور اپنی حکمت و تدبیر کے ساتھ اسے چلارہا ہے۔ ان حقائق کے باوجود شرک کرنے والے شرک کرتے ہیں۔ افتراء پر دازی کرنے والے افتراء باندھتے ہیں اور جھگڑنے والے جھگڑتے ہیں اور حد سے بڑھنے والے حدود پار کرتے رہتے ہیں۔
(تبرک…
Read the full tafseer →6 یعنی ہر چیز کو ایک خاص اندازہ میں رکھا کہ اس سے وہی خواص و افعال ظاہر ہوتے ہیں جن کے لیے پیدا کی گئی ہے اپنے دائرہ سے باہر قدم نہیں نکال سکتی نہ اپنی حدود میں عمل و تصرف کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ غرض ہر چیز کو ایسا ناپ تول کر پیدا فرمایا کہ اس کی فطری موزونیت کے لحاظ سے ذرا کمی بیشی یا انگلی رکھنے کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ بڑے بڑے سائنس داں حکمت کے دریا میں غوطہ لگاتے ہیں اور آخرکار ان کو یہ ہی کہنا پڑتا ہے۔ (صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ ) 27 ۔ النمل :88) اور (فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ ) 23 ۔ المومنون :14)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا ”
یہ آیت اپنے مضمون کے اعتبار سے سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت سے بہت مشابہ ہے۔
Read the full tafseer →5 یعنی پوری کائنات کا مکمل اقتدار و اختیار) آج کی زبان میں اقتدار اعلیٰ (Sovereignty) اسی کے ہاتھ میں ہے اور جب یہ بات تسلیم کرلی جائے تو سب قسم کے شریکوں کی از خود نفی ہوجاتی ہے کیونکہ سب چیزیں اللہ کی مملوک اور وہ ان کا مالک ہے۔ اور بیٹا چونکہ مملوک نہیں ہوتا اور ہم یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ ہر چیز اللہ کے مملوک ہے تو اس کا کسی سے نسبی تعلق ہونے کی بھی از خود نفی ہوگئی۔
6 یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو، خواہ وہ جاندار ہے یا بےجان، پیدا بھی کیا پھر اس نے ہر ایک چیز کا وظیفہ اور اس کے لئے قوانین بھی بنا دیئے۔ جن سے وہ تجاوز نہیں کرسکتی۔ مثلاً کوئی جاندار ایسا نہیں جسے موت سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ (اور کوئی شے نہ اس کے دائرہ تخلیق سے باہر ہے نہ دائرہ تقدیر سے) (آیت) ’ الفرقان “۔ فرقان کے معنی پر حاشیہ سورة بقرہ پ 1 میں گزر چکا۔ یہاں (آیت) ” الفرقان “۔ سے مراد قرآن کے ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ ولا نزاع ان الفرقان ھو القران (کبیر) (آیت) ” عبدہ “۔ مراد رسول اللہ ﷺ کا ہونا ظاہر ہے۔ عبد پر حاشیہ سورة بقرہ پ 1 آیت (آیت) ” وان کنتم فی ریب مما “۔ الخ پر گزرچکا۔ (آیت) ’ ’ للعلمین “۔ عالمین کے لفظ نے ایک بار پھر واضح کردیا کہ اسلام ایک عالمگیر دین ہے کوئی نسلی، قومی یا وطنی مذہب نہیں، قرآن کی مخاطب ساری دنیا ہے، کوئی مخصوص قوم نہیں۔ وعموم الرسالۃ من خصائصہ (علیہ السلام) (مدارک) (آیت) ” لم یتخذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان اور نہایت رحم والا ہے، برکت والی برتر ہے وہ ذات جس نے فرقان یعنی قرآن اپنے بندے محمد ﷺ پر نازل کیا قرآن کو فرقان اس لئے کہا گیا ہے کہ اس نے حق و باطل کے درمیان فرق کردیا، تاکہ عالم والوں یعنی انسانوں اور جنوں کے لئے نہ کہ فرشتوں کے لئے ڈرانے والا ہو یعنی اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہو ایسی ذات کہ اس کے لئے آسمانوں اور زمین کی حکومت حاصل ہے اور اس نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ملک میں اس کا کوئی شریک ہے اور اس نے ہر اس شئ کو پیدا کیا جس کی شان مخلوق ہونا ہے پھر اس کو اچھی طرح درست کیا اور کفار نے…
Read the full tafseer →الذی لہ ملک السموت والارض وہ اللہ کہ اسی کا اقتدار آسمانوں اور زمین میں ہے۔
ولم یتخذ ولدا اور اس نے (اپنے لئے) کوئی بیٹا نہیں اختیار کیا (جیسا کہ عیسائیوں کا خیال ہے کہ مسیح ( علیہ السلام) خدا کا بیٹا تھا) ۔
ولم یکن لہ شریک فی الملک اور نہ حکومت میں کوئی اس کا ساجھی ہے۔ جیسا کہ مجوسی اور ثنویہ
فرقہ والے کہتے ہیں (مجوسی اور ثنویہ فرقہ والے دو خالق مانتے ہیں۔ ایک خیر اور بھلائی کا خالق ‘ دوسرا شر اور برائی کا خالق۔ مجوسی اوّل خالق کو یزداں اور دوسرے کو اہرمن کہتے ہیں) ۔ اس آیت میں اللہ نے اپنے لئے اقتدار ‘ مطلق ہونے کا اظہار فرمایا اور اس کی دلیل پر آئندہ آیت میں تنبیہ فرمائی۔
وخلق کل شی اور…
Read the full tafseer →(2) وہ ایسی ذات ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین یعنی نظام بارش ونباتات وغیرہ کی حکومت حاصل ہے اور بقول یہود و نصاری کے اس نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا اور نہ کوئی اس کا شریک ہے حکومت میں جیسا کہ مشرکین عرب بکتے رہتے ہیں اور اس نے ہر موجود چیز کو پیدا کیا خواہ وہ شے موجود اس کی عابد ہو یا نہ ہو اور پھر سب کی عمریں رزق اور اعمال کا الگ الگ انداز رکھا یا یہ کہ ہر ایک نر کے لیے مادہ بنائی۔
Read the full tafseer →الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفات بیان فرمائی ہیں جو اس کی توحید کی دلیل ہیں۔ پہلی یہ کہ آسمان و زمین کی بادشاہی اسی کی ہے، کسی اور کی نہیں۔ ان دونوں کو چلانے والا وہی ہے، دوسرے سب اپنے وجود اور اپنی بقا میں اسی کے محتاج ہیں۔
وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا : یہ دوسری صفت ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت کی تفسیر۔ اس میں یہود و نصاریٰ کا ردّ ہے اور ان جھوٹے مسلمانوں کا بھی جو نبی ﷺ کو یا علی، فاطمہ، حسن اور حسین ؓ کو، یا کسی اور کو اللہ کے نور کا ٹکڑا مانتے ہیں۔
وَّلَمْ يَكُنْ لَّهُ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ : یہ تیسری صفت ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(تبرک الذی۔۔۔۔۔۔ 1۔ 3)
تَبٰـرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ ۔ تَبٰـرَکَ کے معنی میں اختلاف ہے۔ فراء نے کہا : عربی لغت میں تَبٰـرَکَ اور تقدس ایک ہی ہیں دونوں لفظ عظمت کے لیے بولے جاتے ہیں۔ زجاج نے کہا : تبارک یہ برکت سے تفاعل کا وزن ہے۔ کہا : برکت کا معنی ہے ہر خیر والے کی جانب سے کثرت۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے۔ تبارک کا معنی ہے بلند ہونا۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے : تعالیٰ عطاء ہ، اس کی عطاء زیادہ اور کثیر ہوئی۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے : معنی ہے اس کا انعام دائمی ہے اور ثابت ہے۔ نحاس نے کہا : لغت اور اشتقاق میں یہ ان سب سے اولیٰ ہے، یہ برک الشثیٔ سے مشتق ہے، جب وہ ثابت ہو، سی سے برک الجمل والطیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ تبارک تفاعل کے وزن پر ہے برکت سے۔
2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ آیت تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ سے مراد یہ قرآن ہے جس میں اللہ کی حلال کردہ اور اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور اس کے شرائع اور دین کے احکام ہیں اللہ تعالیٰ نے فرق کردیا ہے حق اور باطل کے درمیان آیت لیکون للعالمین نذیرا یعنی اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا اللہ تعالیٰ سے ڈرانے والا بنا کر تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور ان واقعات سے ڈرائیں جو پہلی قوموں میں ہوئے آیت وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا اور اپنی مخلوق کی ہر چیز کے لیے اس…
Read the full tafseer →الَّذِيْ [ وہ ] لَهٗ [ جس کے لئے ہے ] مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ] وَلَمْ يَتَّخِذْ [ اور اس نے بنایا ہی نہیں ] وَلَدًا [ کوئی بیٹا ] وَّلَمْ يَكُنْ [ اور ہوا ہی نہیں ] لَّهُ [ اس کا ] شَرِيْكٌ [ کوئی شریک ] فِي الْمُلْكِ [ بادشاہت میں ] وَخَلَقَ [ اور اس نے پیدا کیا ] كُلَّ شَيْءٍ [ ہر چیز کو ] فَقَدَّرَهٗ [ پھر اس نے اندازہ مقرر کیا اس کا ] تَقْدِيْرًا [ جیسا اندازہ مقرر کرنے کا حق ہے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 2 ۔ میں ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کہ کائنات کی ہر چیز کو وجوہ بخشا ہے۔ بلکہ وہی ہے جس نے ایک ایک چیز کے لئے…
Read the full tafseer →پھر قرآن نازل فرمانے والی ذات بابرکات کی صفات بیان فرمائیں جس کی طرف سے ہر طرح کی برکت اور خیر کثیر ملتی ہے فرمایا (الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) (جس کے لیے ملک ہے آسمانوں کا اور زمین کا) (وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا) (اور اس نے اپنے لیے کوئی اولاد تجویز نہیں کی) (وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ ) (اور ملک میں اس کا کوئی شریک نہیں) (وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ ) (اور اس نے ہر چیز کو پیدا فرمایا) (فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا) یعنی جس چیز کو پیدا فرمایا اس کی ساخت اور شکل و صورت کا ایک خاص انداز بنایا اور اس کے آثار و خواص بھی پیدا فرمائے اور ہر چیز کو اپنی حکمت کے مطابق اعمال و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
توحید و رسالت وقیامت
قال اللہ تعالی۔ تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ۔۔۔ الی۔۔۔ ولا نشورا۔
(ربط) اس سورت کی ابتدا حق جل شانہ نے اپنی صفت برکت سے فرمائی اور برکت اس خیر و خوبی کو کہتے ہیں کہ جو قائم اور دائم ہو اور صفت برکت کی دلیل اور برہان میں فرقان یعنی قرآن کی تنزیل کو ذکر فرمایا۔ کیونکہ یہ قرآن حق اور باطل میں فرق کرنے کے لئے نازل کیا گیا ہے۔ اور حق اور باطل میں تمیز اور فرق سے بڑھ کر کوئی برکت اور خیرکثیر نہیں اس لئے فرماتے ہیں۔ بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جس نے اپنے برگزیدہ بندہ محمد ﷺ پر فرقان کو نازل کیا یعنی حق اور باطل میں فرق کرنے والا کلام نازل کیا جس سے بڑھ کر کوئی برکت والی چیز…
Read the full tafseer →4:۔ ” الذی لہ الخ “: یہ دوسری عقلی دلیل ہے زمین و آسمان کی سلطنت اور سارے جہان کا نظام کار اسی کے ہاتھ میں ہے۔ زمین و آسمان کی بادشاہی میں کوئی اس کا نائب اور شریک نہیں لہذا اس کے سوا برکات دہندہ بھی کوئی نہیں۔ ” وخلق کل شیء الخ “ یہ تیسری عقلی دلیل ہے اور اسی ہی نے ہر چیز کو اس کے صحیح معیار کے مطابق پیدا فرمایا۔ جب ہر چیز کا خالق ومالک وہی ہے اور تخت بادشاہی پر بھی بھی وہی متمکن ہے تو بتاؤ برکات دینے والا کوئی اور ہوگا ؟ ہرگز نہیں ! لہذا وہی برکات دہندہ ہے۔ ” لم یتخذ ولدا “ کی تعبیر بتا رہی ہے کہ یہاں نسبی ولدیت کی نفی مقصود ہے جو اللہ کے نیک بندوں کو اس کے لیے بمنزلہ اولاد سمجھتے تھے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
مذکورہ کوائف
اس سور ۃ مبارکہ کا نام سورة الفرقان ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے مآخوذ ہے ۔ فرقان قرآن کریم کے ناموں میں سے ایک نامہ ہے قرآن کا معنی پڑھی جانے والی کتاب جب کہ فرقان کا معنی حق و باطل میں فیصلہ کن کتاب ہے ۔ اس سورة میں چونکہ قرآن پاک کی عظمت و بزرگی اور اس کے منزل من اللہ ہونے کا بیان بھی ہے ۔ اس لیے اس سورة کا نام سورة الفرقان رکھا گیا ہے ۔ اس سورة کی ستر آیتیں اور چھ رکوع ہیں ۔ سورة 393 الفاظ اور 3673 حروف پر مشتمل ہے۔
ربط سورت
یہ سورة ملکی زندگی میں نازل ہوئی ، جب کہ اس سے پہلی سورة نور مدنی تھی ۔ ان دونوں سورتوں میں مکی اور مدنی بعد ہونے کے باوجود ان کے بعض مضامین…
Read the full tafseer →الَّذِيْ لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّہُ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِيْرًا 2
ملك) بادشاه)
المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور
وَالمِلْكُ ضربان :
مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20]
( م ل ک ) الملک
۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے .
اور ملک کا لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : لیکون کا اسم ضمیر جو عبد کی طرف راجع ہے یا فرقان کی طرف یا اللہ کی طرف پھرتی ہے لیکون کا لام نزل سے متعلق ہے الذین یا تو اول الذی سے بدل ہے یا خبر ہے مبتداء محذوف کی ولم یتخذ جملہ کلام سابق پر معطوف و واتخذوا جملہ مستانفہ۔
تفسیر : یہ سورة مکہ میں ہجرت سے پہلے اس وقت نازل ہوئی تھی جبکہ مشرکین مکہ کا آنحضرت ﷺ پر ہجوم تھا اور وہ حضرت کی رسالت اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر طرح طرح کے شبہات کیا کرتے تھے اور بت پرستی کے دریا میں غرق تھے اور خدا تعالیٰ کو اور اس کی صفات کو غلط طور پر اپنے اوہام باطلہ کے موافق سمجھ رکھا تھا۔ اس سورة میں ان سب باتوں کا جواب ہے۔ سورة نور کے آخیر میں یہ جملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
تَبٰـرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَانِ ۔ (الفرقان : 1)
(بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے یہ فرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ وہ اہل عالم کے لیے ہوشیار کردینے والا بنے۔ )
تبارک کا معنی و مفہوم
اس آیت میں متعدد الفاظ تشریح طلب ہیں۔ آیت کا سب سے پہلا لفظ تَبٰـرَکَ ایسا وسیع المعنی ہے جس کا پورا مفہوم کسی ایک لفظ تو درکنار، ایک فقرے میں بھی ادا ہونا مشکل ہے۔ اس کا مادہ ب ر ک ہے۔ اس سے دو مصدر مستعمل ہیں 1 بَرَکَۃٌ 2 بُرُوْکبرکت کے مفہوم میں رفعت و عظمت، افزائش اور فراوانی کے تصورات شامل ہیں۔ اور بُرُوْک میں ثبات، بقا اور لزوم کا تصور پایا جاتا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : آپ ﷺ نے سب سے پہلے لوگوں کو شرک کے انجام، مضمرات سے ڈرایا اور بتلایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات کے اعتبار سے وحدہ لا شریک ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس لیے بھی شرک نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ اکیلا ہی زمینوں آسمانوں کا مالک ہے اس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ ہی اس کی بادشاہی میں کوئی کسی اعتبار سے سھیم اور شریک ہے۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر ٹھیک ٹھیک اس کا اندازہ مقرر فرمایا۔ اس مختصر آیت میں چار طویل ترین مضامین کا احاطہ کیا گیا ہے۔ 1 زمین و آسمان کی بادشاہی صرف ایک اللہ کے لیے ہے۔ زمین و آسمانوں کی بادشاہی سے مراد جو کچھ بھی ان کے درمیان ہے وہسب کا سب اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →2: الَّذِیْ (وہ اللہ تعالیٰ )
نحو : نمبر 1۔ یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہونے کی بناء پر مرفوع ہے۔ نمبر 2۔ یہ الذی نزل کا بدل ہے۔ اور بدل مبدل منہ میں لیکون کا فاصلہ جائز ہے کیونکہ مبدل منہ کا صلہ نزل ہے اور لیکون اس کی علت ہے گویا مبدل منہ اسی سے مکمل ہوا۔ نمبر 3۔ یہ منصوب علی المدح ہے۔
ہر چیز کا ایک موجد :
لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اسی کا اقتدار آسمانوں اور زمین میں ہے) خالص۔ وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا (اور اس نے بیٹا نہیں بنایا) جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے عزیر اور مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں خیال کیا۔ وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ (اور نہ ہی حکومت میں اس کا کوئی حصہ دار…
Read the full tafseer →2۔ الذی لہ ملک السماوات والارض ولم یتخذ ولدا ولم یکن لہ شریک فی الملک وخلق کل شی، ،، جس پر مخلوق کی صفت کا اطلاق ہوتا ہے ، فقدرہ تقدیرا، یعنی اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو عدم سے وجود میں لایا ہے۔ پھر اس کی ایجاد میں ایک قدر خاص کا لحاظ رکھا تاکہ تفاوت نہ ہونے پائے بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ نے ہرچیز کے لیے مدت زندگی اور عمل اور رزق پہلے سے ہی مقرر کردیا، یہ تینوں اشیاء تخلیق کے مطابق ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3:۔ اگرچہ بعض سلف نے اس سورت کی ان تین آیتوں کو مدنی کہا ہے ‘ جس کا ذکر آگے آوے گا لیکن اس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہے اور اس تفسیر میں یہ ایک جگہ بیان کردیا گیا ہے کہ جس سورت کا شروع کا حصہ مکی ہو ‘ وہ سورت مکی کہلاتی ہے ‘ اس سورت کی قرأت کے باب میں حضرت عمر ؓ اور ہشام بن حکیم کا قصہ ہے جس کا ذکر صحیح بخاری اور مسلم کی حضرت عمر ؓ کو نئے معلوم ہوئے ‘ اس پر حضرت عمر ؓ ہشام بن حکیم کو اللہ کے رسول ﷺ کے پاس لے گئے۔ آپ نے حضرت عمر ؓ اور ہشام بن حکیم دونوں سے یہ سورت پڑھوا کر سنی اور فرمایا ‘ دونوں قراءتیں صحیح ہیں کیونکہ قرآن شریف کے جن لفظوں کو ایک طرح سے لے کر سات طرح تک پڑھے جانے کا حکم ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
تفسیر سورة الفرقان
آیت نمبر 1
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظمت کاملہ، ہر لحاظ سے واحدانیت میں اس کے متفرد ہونے، اس کی بھلائی اور احسان کی کثرت کا بیان ہے، چناچہ فرمایا : (تبرک) یعنی وہ بہت بڑا ہے اس کے تمام اوصاف نہایت کامل اور اس کے احسانات بہت زیادہ ہیں۔ اس کا سب سے بڑا احسان اور سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ عظیم قرآن نازل فرمایا جو حلال و حرام، ہدایت و ضلالت، اہل سعادت اور اہل شقاوت کے درمیان فرق بیان کرتا ہے۔ (علی عبدہ) یہ فرقان عظیم اس نے اپنے بندے محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمایا جنہوں نے تمام مراتب عبودیت مکمل کرلیے اور اللہ نے ان کو تمام انبیاء ومرسلین پر فوقیت عطا کی۔ (لیکون) ، ، تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →3 اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے کسی کو اپنی اولاد نہیں ٹھہرایا "۔ واضح رہے کہ یہاں پر یہ نہیں فرمایا کہ اس کا کوئی بیٹا نہیں ۔ " لَمْ یَکُنْ لَّہ وَلَدٌ " ۔ بلکہ یوں فرمایا کہ اس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا ۔ { لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا } ۔ کیونکہ ایسا تو شاید ہی کوئی گمراہ شخص ہوا ہو جس نے یہ کہا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اسی طرح کوئی اولاد ہوتی ہے جس طرح کہ اس کی مخلوق کے یہاں ہوتی ہے۔ بلکہ اصل گمراہی اس بارے میں لوگوں کے اندر شیطان کے اغواء واضلال اور اس کی دھوکہ دہی کی بناء پر ہمیشہ یہ رہی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کچھ ہستیوں کو ان کی محبت وتعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
تشریح : یہ آیات اللہ کی برکت اس کی حاکمیت اور وحدانیت کو واضح کر رہی ہیں۔ وہ کس قدر عظیم ہے یہ تو جب محسوس ہوتا ہے جب اس کی پیدا کی ہوئی کائنات پر غور و فکر کرتے ہیں۔ ایمان لانا تو بعد کی بات ہے پہلے تو یہ تمام کائنات اور اس کی ہر چیز اللہ کے موجود ہونے کا ثبوت بڑا اچھا پیش کردیتی ہیں۔ دنیا کی ہر چیز دو عدموں (غیب) میں قید ہے۔ ایک عدم پیدائش سے پہلے تھا اور دوسرا موت کے بعد ہوگا۔ پہلے عدم میں ایک ایسے خالق کا موجود ہونا ضروری ہے جو پیدائش کا باعث ہو۔ کیونکہ کوئی چیز کسی خالق کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی۔ اللہ ہی ایک ایسی ہستی ہے جو ہر تخلیق پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس حقیقت پر بیشمار شہادتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة الفرقان :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
یہ سورة بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور اسی مضمون کو آگے بڑھاتی ہے جو سورة نور میں زیر بحث ہے ۔
(آپ ﷺ کی نبوت سب جہانوں کے لیے)
اللہ کریم بہت ہی برکت والے اور خیر کے مالک ہیں جنہوں نے اپنے بندے حضرت محمد رسول ﷺ پر ایسی کتاب نازل فرمائی جس نے حق کو حق اور باطل کو باطل قرار دے کر دونوں میں حد فاصل قائم کردی اور تمام جہانوں کو ان کے غلط کاموں کے خطرناک انجام سے اللہ جل جلالہ کے رسول ﷺ نے بروقت مطلع فرما دیا کہ آپ ﷺ کی نبوت نہ صرف سارے جہان کے لیے ہے بلکہ سب جہانوں کے لیے ہے ، ہاں مکلف مخلوق یعنی انسان اور جن اطاعت احکام کے مکلف ہیں اور ساری مخلوق بھی آپ ﷺ کا…
Read the full tafseer →6 ۔ یعنی اسے ایک خاص اندازے میں رکھا جس کی بدولت اس سے وہی افعال و اثرات صادر ہوئے جن کے لئے وہ پیدا کی گئی ہے اور اسے وہی صورت جسامت اور صلاحیتیں عطا کیں جو اس کی ضرورت کے مطابق ہیں۔
Read the full tafseer →(25:2) لہ۔ میں لام اختصاص کے لئے ہے۔ خاص اسی کے لئے ۔ بلا شرکت غیرے۔ ملک۔ بادشاہت ۔ سلطنت۔
لم یتخذ۔ مضارع نفی حجد بلم مجزوم بوجہ عمل لم۔ اتخاذ (افتعال) مصدر۔ اس نے نہیں بنایا۔ اس نے قرار نہیں دیا۔ ولم یتخذ ولدا۔ اور نہیں بنایا اس نے (کسی کو اپنا) بیٹا۔ ای لم ینزل احدا منزلۃ الولد۔ کسی کو بطور پسر نہیں ٹھہرایا۔ یہ جملہ، جملہ ماقبل (الذی لہ ملک السموت والارض) پر معطوف ہے۔ اسی طرح جملہ ولم یکن لہ شریک فی الملک اور جملہ وخلق کل شیء اور جملہ فقدرہ تقدیرا کا عطف اسی جملہ (الذی لہ ملک السموت والارض) پر ہے۔
قذرہ۔ ماضی واحد مذکر غائب تقدیر (تفعیل) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع کل شیء ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 :
(تبارک) برکت والا۔ خود بخود بڑھنے والا ‘(الفرقان) حق و باطل میں فرق کرنے والا ‘(الملک) سلطنت۔ حکومت ‘ (قدر) اس نے اندازہ ٹھرایا ‘ (تقدیر) اندازہ متوازن ہونا ‘ (یخلقون) وہ پیدا کئے گئے ہیں۔ (ضر) نقصان ‘(نشور) دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا ‘ (افک) جھوٹ۔ بےبنیاد بات ‘(افتری) اس نے گھڑ لیا ‘ (اعان) اس نے مدد کی ‘(زور) جھوٹ۔ غلط بات ‘(تملی) پڑھی اور رٹی جاتی ہیں ‘( السر) بھید۔ چھپی باتیں۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 :
دنیا اور آخرت میں وہی افراد اور قومیں کامیاب و بامراد ہوتی ہیں جو اللہ کی ذات وصفات کو مان کر اس کے بھیجے ہوئے نبیوں اور رسولوں کی مکمل اطاعت و فرماں برداری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
توحید کا ذکر۔
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اس کی آسمان و زمین میں بڑی برکت ہے جس نے حق اور ناحق میں فرق بتادینے والا قرآن اپنے خاص بندے رسول پر تھوڑا تھوڑا کرکے حسب ضرورت نازل فرمایا کہ اللہ کے رسول لوگوں کو اس بات سے ڈراویں کہ جو کوئی اللہ کے حکم کو نہ مانے گا وہ عذاب الٰہی میں گرفتار ہوگا، پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمام عالم کو اپنی حکم کے اندازہ کے موافق اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو جو لوگ اللہ کو صاحب اولاد، یا اس کی حکومت میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں وہ بڑی غلطی پر ہیں کیونکہ جن کو یہ مشرک اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے…
Read the full tafseer →[2] یعنی ہر چیز کو پیدا کرنے سے پہلے یہ طے کردیا کہ اسے دنیا میں کیا کام کرنا ہے اور اس کام کے لئے اس کی مقدار کیا ہو، اس کی شکل کیا ہو، اس کی صفات کیا ہوں، اس کا مقام کس جگہ ہو، اس کی بقائ، قیام اور فعل کے لئے کیا مواقع فراہم کئے جائیں، کس وقت وہ وجود میں آئے، کب تک اپنے حصے کا کام کرے، اور کب اور کس طرح ختم ہوجائے۔ اس پوری اسکیم کا نام اس چیز کی '' تقدیر '' ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
اشتراکیت اور اسلامی تخیل ملک :
(ف 2) شرک اور بت پرستی کی تردید ہے ، ارشاد ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے پھر اس کو بیٹوں کی کیا ضرورت ہے ؟ اور کون ہے جو اس کے اختیارات میں دخل اندازی کرسکے ، اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے ، اور ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کردیا ہے ۔
اشتراکیت کا موجودہ تخیل اگر غور کیا جائے تو اس آیت کی رو سے درست نہیں ، کیونکہ اشتراکیت کے معنے یہ ہیں ، کہ تمام املاک کو حکومت کا ملک قرار دیا جائے ، حالانکہ ہر چیز کا مالک خدا ہے اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور اسی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ان کو مناسب اور موزوں طریقوں سے اپنے بندوں میں تقسیم کردے ۔ یہ خدا…
Read the full tafseer →(2) وہ ذات ایسی ہے کہ آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور نہ اس نے کسی کو اپنی اولاد بنایا اور قراردیا اور نہ اس کی حکومت میں کوئی اس کا شریک اور ساجھی ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر ہر چیز کا ایک مناسب اور موزوں انداز رکھا یعنی حضرت حق تعالیٰ کی ذات اقدس ایسی ہے کہ خواہ آسمانوں کی سلطنت ہو یا زمین کی سب اسی کی ہے اس کی کوئی اولاد بھی نہیں نہ اس نے کسی کو اولاد مقرر کیا نہ اس کی حکومت اور اس کے راج میں کوئی اس کا شریک ہوا اسی نے ہر موجود ہر چیز کو بنایا اور پیدا کیا پھر ہر چیز کا الگ الگ انداز رکھا جو نہایت موزوں اور مناسب ہے کسی چیز کے خواص کچھ رکھے اور کسی کے کچھ رکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 2۔ کسی چیز کے آثار و خواص کچھ ہیں کسی کے کچھ ہیں۔
Read the full tafseer →بادشاہ حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس نے کسی کو اولاد نہیں بنایا :
2۔ ” الفرقان “ کا نازل کرنے والا کون ہے ؟ وہی ذات جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی حکومت و بادشاہی ہے اور ہرچیز کا وہی اصل مالک ہے ۔ ” ملک “ کے معنی ہیں جس شے میں تصرف حاصل ہے حکم کے ساتھ اس کو ضبط میں رکھنا اور ” ملک “ اس سے بمنزلہ جس کے ہے یعنی ہر ملک ملک ہے مگر ہر ملک ملک نہیں اور یہ بھی تحریر ہے کہ ملک اور ملکوت جب اللہ تعالیٰ کی طرف مضاف ہوں تو ایک ہی معنی دیتے ہیں ” سلطانہ وعظمتہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا تسلط اور اس کی عظمت زیر نظر آیت میں اس کی مناسبت یہی ہے کہ ” الفرقان “ کا نزول کسی سائل کی درخواست کے باعث نہیں بلکہ خالق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
Special Wisdom in every creation
فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا (And designed it in a perfect measure - 25:2): Here تَقْدِير (designing in a perfect measure) is mentioned after تخلِیق (Creation). تخلِیق means to create something from nothing that is to bring in something without any pre-existing substance whatsoever. And (designed in a perfect measure) means that, whatever has been created, its components, appearance, properties and signs are made to suit the purpose of its creation. The form of the sky, its constituents and its shape are in conformity to that purpose for which Allah Ta’ ala has…
Read the full tafseer →5 Another translation may be: "To Him belongs the Sovereignty of the heavens and the earth." That is, He alone has an exclusive right to it, and no one else has any right to it nor any share in it
6 That is, "He has neither any relation of direct parenthood to anyone, nor has He taken anyone as a son. Therefore, none else in the universe is entitled to worship. He is Unique and there can be no partner in His Godhead. Thus alI those who associate with Him angels or jinns or saints as His offspring, are ignorant. Likewise, those who believe that some one, is His "son", are also ignorant. They…
Read the full tafseer →