Al-Furqaan 25:3

Al-Furqaan · from ayah 3

25:3

وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْـًٔا وَّهُمْ یُخْلَقُوْنَ وَلَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا وَّلَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّلَا حَیٰوةً وَّلَا نُشُوْرًا ۟وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡئًـا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَمۡلِكُوۡنَ لِاَنۡفُسِهِمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا وَّلَا يَمۡلِكُوۡنَ مَوۡتًا وَّلَا حَيٰوةً وَّلَا نُشُوۡرًا‏

اور (لوگوں نے) اس کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں۔ اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اُٹھ کھڑے ہونا

— Fateh Muhammad Jalandhari

But they have taken besides Him gods which create nothing, while they are created, and possess not for themselves any harm or benefit and possess not [power to cause] death or life or resurrection.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:3

لوگوں نے اُسے چھوڑ کر ایسے معبود بنا لیے جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، جو نہ مار سکتے ہیں نہ جِلا سکتے ہیں، نہ مرے ہوئے کو پھر اٹھا سکتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (لوگوں نے) اس کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں۔ اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اُٹھ کھڑے ہونا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان لوگوں نے اللہ کے سوا جنہیں اپنے معبود ٹھہرا رکھے ہیں وه کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وه خود پیدا کئے جاتے ہیں، یہ تو اپنی جان کے نقصان نفع کا بھی اختیارنہیں رکھتے اور نہ موت وحیات کے اور نہ دوباره جی اٹھنے کے وه مالک ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور لوگوں نے اسے چھوڑ کر ایسے خدا بنا رکھے ہیں جو کچھ پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، اور جن کا خود اپنے نقصان یا فائدے پر بھی کوئی بس نہیں چلتا، اور نہ کسی کا مرنا یا جینا ان کے اختیار میں ہے، نہ کسی کو دوبارہ زندہ کرنا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور لوگوں نے اس کے سوا اور خدا ٹھہرالیے کہ وہ کچھ نہیں بناتے اور خود پیدا کیے گئے ہیں اور خود اپنی جانوں کے برے بھلے کے مالک نہیں اور نہ مرنے کا اختیار نہ جینے کا نہ اٹھنے کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان (مشرکین) نے اللہ کو چھوڑ کر اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں اور نہ ہی وہ اپنے لئے کسی نقصان کے مالک ہیں اور نہ نفع کے اور نہ وہ موت کے مالک ہیں اور نہ حیات کے اور نہ (ہی مرنے کے بعد) اٹھا کر جمع کرنے کا (اختیار رکھتے ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے اس کے سوا کئی اور معبود بنالیے، جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں اور اپنے لیے نہ کسی نقصان کے مالک ہیں اور نہ نفع کے اور نہ کسی موت کے مالک ہیں اور نہ زندگی کے اور نہ اٹھائے جانے کے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (لوگوں نے) اللہ کے سوا کئی اور الٰہ بنا ڈالے جو کوئی چیز پیدا تو کیا خاک کریں گے وہ تو خود پیدا کئے گئے ہیں، انھیں خود اپنے نفع و نقصان کا بھی کچھ اختیار نہیں اور نہ ہی انھیں کسی کو مارنے، زندہ کرنے اور مردہ کو اٹھا سکنے کا کچھ اختیار ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور لوگوں نے اس کے سوا دوسرے معبود بنائے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے، وہ خود مخلوق میں اور جو خود اپنے لئے بھی نہ کسی ضرر پر اختیار رکھتے ہیں نہ کسی نفع اور نہ ان کو موت پر کوئی اختیار ہے نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کرنے پر

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر اس کے باوجود لوگوں نے اس کے سوا ایسے خودساختہ معبود بنا رکھے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں اور پیدا کرنا تو درکنار وہ خود اپنے لیے بھی نہ کسی نقصان کو ٹالنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ کسی نفع کو حاصل کرنے کا اور نہ وہ مرنے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں نہ جینے کا اور نہ ہی دوبارہ اٹھنے کا۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور (مشرکوں نے) اللہ کے علاوہ (اور ایسے) خدا قرار دے رکھے ہیں جو کسی چیز کے خالق نہیں اور خود ہی مخلوق ہیں اور خود اپنے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ کسی نفع کا اور نہ (کسی کی) موت کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ (کسی کی) زندگی کا اور نہ (کسی کے) دوبارہ اٹھانے کا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انہوں نے اس کے سوا ایسے معبود بنالیے ہیں جو کچھ بھی تخلیق نہیں کرتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور وہ اختیار نہیں رکھتے خود اپنے بارے میں بھی کسی نقصان یا نفع کا اور نہ ہی انہیں اختیار ہے موت کا نہ زندگی کا اور نہ جی اٹھنے کا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور لوگوں نے اس کے سوا اور معبود بنا لیے ہیں ‘ جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے بلکہ خود پیدا کیے گئے ہیں ‘ اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں ‘ نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے ‘ اور نہ جینا اور نہ مر نے کے بعد اٹھ کھڑے ہونا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Yet the people have set up, besides Him, deities, who do not create anything but are themselves created: who can neither harm nor help even themselves: who have no power over life or death, nor can they raise up the dead.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Yet they have adopted other gods, beside Him, who do not create any thing, as they themselves are created, and they possess no power to cause harm or benefit even to themselves, nor do they have any control over death or life or resurrection.

— Muhammad Taqi Usmani

Yet they have adopted other gods, beside Him, who do not create any thing, as they themselves are created, and they possess no power to cause harm or benefit even to themselves, nor do they have any control over death or life or resurrection.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Yet they have taken besides Him other gods who created nothing but are themselves created, and possess neither harm nor benefit for themselves, and possess no power (of causing) death, nor (of giving) life, nor of raising the dead.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Yet they choose beside Him other gods who create naught but are themselves created, and possess not hurt nor profit for themselves, and possess not death nor life, nor power to raise the dead.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But they have taken besides Him gods which create nothing, while they are created, and possess not for themselves any harm or benefit and possess not [power to cause] death or life or resurrection.

— Saheeh International

Yet they have chosen for themselves other deities besides Him, who do not create anything but rather are themselves created, who have no power over their own benefits, or trouble, and who have no control over life, death, and resurrection.

— Muhammad Sarwar

And they have taken besides Him gods, who do not create anything while they are themselves created, and they control not for themselves any harm or profit, and they control not death nor life, nor raising (the dead) to life.

— Muhammad Habib Shakir

And they have taken beside Him gods creating not aught and are themselves created, owning for themselves neither hurt nor benefit, and owning not death nor life nor resurrection.

— Abdul Majid Daryabadi

Yet have they taken, besides him, gods that can create nothing but are themselves created; that have no control of hurt or good to themselves; nor can they control death nor life nor resurrection.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

مشرکوں کی حالت مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ خالق، مالک، قادر، مختار، بادشاہ کو چھوڑ کر ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو ایک مچھر کا پر بھی نہیں بنا سکتے بلکہ وہ خود اللہ کے بنائے ہوئے اور اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بھی کسی نفع نقصان کے پہنچانے کے مالک نہیں چہ جائیکہ دوسرے کا بھلا کریں یا دوسرے کا نقصان کریں۔ یا دوسری کوئی بات کرسکیں وہ اپنی موت زیست کا یا دوبارہ جی اٹھنے کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ پھر اپنی عبادت کرنے والوں کی ان چیزوں کے مالک وہ کیسے ہوجائیں گے ؟ بات یہی ہے کہ ان تمام کاموں کا مالک اللہ ہی ہے، وہی جلاتا اور مارتا ہے، وہی اپنی تمام مخلوق کو قیامت کے دن نئے سرے سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 9 جامع الفاظ ہیں جو ہر قسم کے جعلی معبودوں پر حاوی ہیں۔ وہ بھی جن کو خدا نے پیدا کیا اور انسان ان کو معبود مان بیٹھا، مثلاً فرشتے، جِن، انبیاء، اولیاء، سورج، چاند، سیارے، درخت، دریا، جانور وغیرہ۔ اور وہ بھی جن کو انسان خود بناتا ہے اور خود ہی معبود بنا لیتا ہے، مثلاً پتھر اور لکڑی کے بت۔ سورة الْفُرْقَان 10 حاصل کلام یہ ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ایک بندے پر فرقان اس لیے نازل کیا کہ حقیقت تو تھی وہ اور لوگ اس سے غافل ہو کر پڑگئے اس گمراہی میں، لہٰذا ایک بندہ نذیر بنا کر اٹھایا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اس حماقت کے برے نتائج سے خبردار کرے، اور اس پر بتدریج یہ فرقان نازل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–3

فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا، تخلیق کے بعد تقدیر کا ذکر فرمایا گیا۔ تخلیق کے معنی تو اتنے ہیں کہ بغیر کسی سابق مادہ وغیرہ کے ایک چیز کو عدم سے وجود میں لایا جائے وہ کیسی بھی ہو۔ مخلوقات میں سے ہر ایک چیز میں خاص خاص حکمتیں اور تقدیر کا مفہوم یہ ہے کہ جس چیز کو بھی پیدا فرمایا اس کے اجزاء کی ساخت اور شکل و صورت اور آثار و خواص بڑی حکمت کے ساتھ اس کام کے مناسب پیدا کئے جس کام کے لئے اس چیز کو پیدا کیا گیا ہے۔ آسمان کی ساخت اس کے اجزاء ترکیبی اس کی ہیئت اس کام کے مناسب ہے، جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے آسمان بنایا ہے۔ سیاروں اور ستاروں کی تخلیق میں وہ چیزیں رکھی گئیں جو ان کے منشاء وجود کے مناسب ہیں۔ زمین…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ اسی مضمون کی توضیح مزید ہے اور اس میں اظہار تعجب کا مضمون بھی مضمر ہے کہ اصل حقیقت تو یہ ہے جو بیان ہوئی لیکن قرآن اور رسول کے ان مخالفین کا حال یہ ہے کہ انہوں نے خدا کے سوا ایسی چیزوں کو اپنا مبعود بنا رکھا ہے جو نہ صرف یہ کہ کسی چیز کو پیدا کرسکنے پر قادر نہیں بلکہ وہ خود خدا کی پیدا کی ہوئی ہیں اور جو دوسروں کوئی نقصان یا نفع پہنچانا تو درکنار خود اپنے کو بھی کسی نقصان سے بچانے یا کوئی نفع پہنچانے پر قدرت نہیں رکھتی ہیں اور جن کو نہ موت پر کوئی اختیار نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کرنے پر ! …مطلب یہ ہے کہ ایسے بےبس فرض معبودوں کے بل پر قرآن کے پیش کردہ حقائق کو جھٹلانا محض ان کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3-1لیکن ظالموں نے ایسے ہمہ صفات موصوف رب کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو رب بنا لیا جو اپنے بارے میں بھی کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے چہ جائیکہ کہ وہ کسی اور کے لئے کچھ کرسکنے کے اختیارات سے بہرہ ور ہوں اس کے بعد منکرین نبوت کے شبہات کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: مکہ کے بعض کافروں نے یہ الزام لگایا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے پچھلے انبیائے کرام کے واقعات کچھ یہودیوں سے سیکھ لیے ہیں، اور وہی واقعات لکھوا کر (معاذ اللہ) یہ قرآن بنا لیا ہے، حالانکہ جن یہودیوں کا وہ ذکر کرتے تھے، وہ اسلام لا چکے تھے۔ اگر آپ (معاذ اللہ) انہی سے سیکھ کر اس کلام الٰہی ہونے کا غلط دعوی کر رہے تھے تو یہ حقیقت سب سے پہلے ان یہودیوں پر ظاہر ہوتی، پھر وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کا سچا پیغمبر مان کر آپ پر ایمان ہی کیوں لاتے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

تبرک الذی نزل الفرقان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولا نشورا) (ا : 3) یہ آغاز ہی صاف صاف ظاہر کردیتا ہے کہ اس سورت کا بڑا محور اور موضوع کیا ہے ؟ یہ کہ یہ کتاب من جانب اللہ نازل شدہ ہے اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت تمام انسانوں کے لیے ہے۔ یہ کہ اس دعوت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے ‘ اس کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی شریک ہے ‘ وہ وحدہ اس پوری کائنات کا مالک ہے ‘ وحدہ مدبر ہے اور اپنی حکمت و تدبیر کے ساتھ اسے چلارہا ہے۔ ان حقائق کے باوجود شرک کرنے والے شرک کرتے ہیں۔ افتراء پر دازی کرنے والے افتراء باندھتے ہیں اور جھگڑنے والے جھگڑتے ہیں اور حد سے بڑھنے والے حدود پار کرتے رہتے ہیں۔ (تبرک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی کس قدر ظلم اور تعجب و حیرت کا مقام ہے کہ ایسے قادر مطلق، مالک الکل، حکیم علی الاطلاق کی زبردست ہستی کو کافی نہ سمجھ کر دوسرے معبود اور حاکم تجویز کرلیے گئے جو گویا خدا کی حکومت میں حصہ دار ہیں۔ حالانکہ ان بیچاروں کا خود اپنا وجود بھی اپنے گھر کا نہیں۔ نہ وہ ایک ذرہ کے پیدا کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، نہ مارنا جلانا ان کے قبضہ میں ہے، نہ اپنے مستقل اختیار سے کسی کو ادنیٰ ترین نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ بلکہ خود اپنی ذات کے لیے بھی ذرہ برابر فائدہ حاصل کرنے یا نقصان سے محفوظ رہنے کی قدرت نہیں رکھتے ایسی عاجز و مجبور ہستیوں کو خدا کا شریک ٹھہرانا کس قدر سفاہت اور بےحیائی ہے۔ (ربط) یہ تو قرآن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 2–3

وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا ” یہ آیت اپنے مضمون کے اعتبار سے سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت سے بہت مشابہ ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے الوہیت کے کئی معیار بیان فرمائے ہیں اور مشرکوں کو عام دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو ان معیاروں پر جانچ کر دیکھیں اور پھر بتلائیں کہ آیا ان کے معبودوں میں الوہیت کا کوئی شائبہ تک بھی پایا جاتا ہے مثلاً (1) جو ہستی کوئی چیز پیدا نہ کرسکے یا کسی بھی چیز کی خالق نہ ہو۔ وہ معبود نہیں ہوسکتی۔ (2) جو چیز خود پیدا شدہ ہو یا مخلوق ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ جو چیز پیدا ہوئی ہے وہ فنا بھی ضرور ہوگی۔ اور فنا ہونے والی چیز الٰہ نہیں ہوسکتی۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ مشرکوں کے معبود خواہ وہ بت ہوں جنہیں انہوں نے خود ہی گھڑ رکھا ہے یا فرشتے ہوں یا کوئی اور چیز مثلاً : سورج،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ مشرکین کے جہل وغباوت کا بیان ہورہا ہے کہ ایسے قادر مطلق ہمہ بین وہمہ تواں، خدا کا شریک بےبس مخلوق کو بھی بنائے جاتے ہیں، ان گڑھے ہوئے معبودوں کا اختیار اتنا بھی تو نہیں کہ کوئی نقصان اپنے سے دور کرسکیں، کوئی نفع اپنے لیے حاصل کرسکیں، کسی کی جان نکال سکیں، کسی میں جان ڈال سکیں، حشر میں دوبارہ کسی کو اٹھا سکیں۔ (آیت) ” لا یملکون ...... نشورا “۔ مراتب وجود یہی تین، یعنی حیات وموت ونشور ہی ممکن ہیں۔ اور ان سب پر قدرت کی یہاں نفی کی جارہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان اور نہایت رحم والا ہے، برکت والی برتر ہے وہ ذات جس نے فرقان یعنی قرآن اپنے بندے محمد ﷺ پر نازل کیا قرآن کو فرقان اس لئے کہا گیا ہے کہ اس نے حق و باطل کے درمیان فرق کردیا، تاکہ عالم والوں یعنی انسانوں اور جنوں کے لئے نہ کہ فرشتوں کے لئے ڈرانے والا ہو یعنی اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہو ایسی ذات کہ اس کے لئے آسمانوں اور زمین کی حکومت حاصل ہے اور اس نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ملک میں اس کا کوئی شریک ہے اور اس نے ہر اس شئ کو پیدا کیا جس کی شان مخلوق ہونا ہے پھر اس کو اچھی طرح درست کیا اور کفار نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واتخذوا من دونہ الہۃ لا یخلقون شیئاً وہم یخلقون اور بنا رکھے ہیں انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود ان کو پیدا کیا جاتا ہے۔ اتَّخَذُوْا یعنی کفار مکہ نے بنا رکھے ہیں۔ مِنْ دُوْنِہٖاللہ کے سوا۔ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْءًا جو نہ کسی جوہر کو پیدا کرتے نہ عرض کو نہ عمل و فعل کو نہ حالت کو۔ 1 ؂] 1 ؂ جو ممکن خود مستقل بالذات ہو اپنے وجود خارجی میں دوسرے کا محتاج نہ ہو اس کو جوہر کہتے ہیں جیسے تمام اجسام اور وجود خارجی میں اگر دوسرے کا محتاج ہو تو اس کو عرض کہتے ہیں جیسے سیاہی ‘ سرخی جسم کی محتاج ہے۔[ وَہُمْ یُخْلَقُوْنَ اور وہ پیدا کئے جاتے ہیں ‘ وہ مخلوق ہیں ‘ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(3) مگر ان کفار مکہ یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبودوں کی پرستش شروع کردی ہے کہ ان میں اتنی بھی طاقت نہیں کہ وہ کسی چیز کو پیدا کرسکیں بلکہ وہ تو خود مخلوق ان بتوں کے بچاریوں نے انکو خود اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور یہ بت خود اپنے لیے نہ کسی نقصان کے رفع کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ فائدہ حاصل کرنے کا تو پھر دوسروں کا کیا کام کرسکتے ہیں اور نہ کسی کے مارنے پر ان کو قدرت ہے اور نہ کسی کی زندگی میں اضافہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں یا یہ کہ نہ یہ نطفہ پیدا کرنے اک اختیار رکھتے ہیں اور نہ اس میں روح ڈالنے کا اور نہ کسی کو مرنے کے بعد جلانے کا اختیار رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً لَّا يَخْلُقُوْنَ شَـيْـــــًٔا۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے معبود برحق ہونے کے چند معیار بیان فرمائے اور تمام مشرکوں کو دعوت دی کہ وہ اپنے خداؤں کو ان معیاروں پر پرکھیں اور بتائیں کہ وہ کسی طرح بھی معبود ہوسکتے ہیں۔ وہ معیار یہ ہیں : 1 جو ہستی کوئی چیز پیدا نہ کرسکے، یا کسی چیز کی بھی خالق نہ ہو وہ معبود نہیں ہوسکتی۔ 2 جو چیز خود مخلوق ہو، اسے کسی نے پیدا کیا ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتی۔ ظاہر ہے اللہ کے سوا جن کو بھی معبود بنایا گیا ہے سب مخلوق ہیں، وہ چاہے فرشتے ہوں یا جن، انسان، درخت، پتھر، بت، قبر، سورج، چاند، تارے یا کوئی اور، اس لیے انھیں معبود بنانا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

(تبرک الذی۔۔۔۔۔۔ 1۔ 3) تَبٰـرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ ۔ تَبٰـرَکَ کے معنی میں اختلاف ہے۔ فراء نے کہا : عربی لغت میں تَبٰـرَکَ اور تقدس ایک ہی ہیں دونوں لفظ عظمت کے لیے بولے جاتے ہیں۔ زجاج نے کہا : تبارک یہ برکت سے تفاعل کا وزن ہے۔ کہا : برکت کا معنی ہے ہر خیر والے کی جانب سے کثرت۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے۔ تبارک کا معنی ہے بلند ہونا۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے : تعالیٰ عطاء ہ، اس کی عطاء زیادہ اور کثیر ہوئی۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے : معنی ہے اس کا انعام دائمی ہے اور ثابت ہے۔ نحاس نے کہا : لغت اور اشتقاق میں یہ ان سب سے اولیٰ ہے، یہ برک الشثیٔ سے مشتق ہے، جب وہ ثابت ہو، سی سے برک الجمل والطیر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ تبارک تفاعل کے وزن پر ہے برکت سے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ آیت تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ سے مراد یہ قرآن ہے جس میں اللہ کی حلال کردہ اور اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور اس کے شرائع اور دین کے احکام ہیں اللہ تعالیٰ نے فرق کردیا ہے حق اور باطل کے درمیان آیت لیکون للعالمین نذیرا یعنی اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا اللہ تعالیٰ سے ڈرانے والا بنا کر تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور ان واقعات سے ڈرائیں جو پہلی قوموں میں ہوئے آیت وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا اور اپنی مخلوق کی ہر چیز کے لیے اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاتَّخَذُوْا [ اور ان لوگوں نے بنائے ] مِنْ دُوْنِهٖٓ [ اس کے علاوہ ] اٰلِهَةً [ کچھ ایسے الہٰ جو ] لَّا يَخْلُقُوْنَ [ پیدا نہیں کرتے ] شَـيْـــــًٔا [ کوئی چیز ] وَّهُمْ [ اور وہ لوگ (خود)] يُخْلَقُوْنَ [ پیدا کئے جاتے ہیں ] وَلَا يَمْلِكُوْنَ [ اور وہ اختیار نہیں رکھتے ] لِاَنْفُسِهِمْ [ اپنی جانوں کے لئے ] ضَرًّا [ کسی نقصان کا ] وَّلَا نَفْعًا [ اور نہ کسی نفع کا ] وَّلَا يَمْلِكُوْنَ [ اور وہ اختیار نہیں رکھتے ] مَوْتًا [ مرنے کا ] وَّلَا حَيٰوةً [ اور نہ زندہ رہنے کا ] وَّلَا نُشُوْرًا [ اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد مشرکین کی گمراہی کا تذکرہ فرمایا کہ ان لوگوں نے اس ذات پاک کو چھوڑ کر جو آسمان اور زمین کا خالق ہے جس کا ملک میں کوئی شریک نہیں اور جس کی کوئی اولاد نہیں بہت سے معبود بنا لیئے یہ معبود کسی بھی چیز کو پیدا نہیں کرتے وہ تو خود ہی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ان کی عاجزی کا یہ عالم ہے کہ وہ خود اپنی جانوں کے لیے کسی بھی ضرر اور نفع کے مالک اور مختار نہیں ہیں نہ اپنی ذات سے کسی ضرر کو دفع کرسکتے ہیں اور نہ اپنی جانوں کو نفع پہنچا سکتے ہیں نیز وہ موت وحیات کے بھی مالک نہیں، نہ زندوں کو موت دے سکتے ہیں اور نہ مردوں کو زندہ کرسکتے ہیں پھر جب قیامت کا دن ہوگا اس وقت ان کو بھی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

توحید و رسالت وقیامت قال اللہ تعالی۔ تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ۔۔۔ الی۔۔۔ ولا نشورا۔ (ربط) اس سورت کی ابتدا حق جل شانہ نے اپنی صفت برکت سے فرمائی اور برکت اس خیر و خوبی کو کہتے ہیں کہ جو قائم اور دائم ہو اور صفت برکت کی دلیل اور برہان میں فرقان یعنی قرآن کی تنزیل کو ذکر فرمایا۔ کیونکہ یہ قرآن حق اور باطل میں فرق کرنے کے لئے نازل کیا گیا ہے۔ اور حق اور باطل میں تمیز اور فرق سے بڑھ کر کوئی برکت اور خیرکثیر نہیں اس لئے فرماتے ہیں۔ بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جس نے اپنے برگزیدہ بندہ محمد ﷺ پر فرقان کو نازل کیا یعنی حق اور باطل میں فرق کرنے والا کلام نازل کیا جس سے بڑھ کر کوئی برکت والی چیز…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

5:۔ ” واتخذوا من دونہ الخ “ یہ مشرکین پر زجر ہے اور اس کے ضمن میں چوتھی عقلی دلیل مذکور ہے۔ یہ مشرکین کیسے ضدی ہیں کہ ایسے واضح عقلی دلائل کی موجودگی میں بھی اپنے ایسے عاجز معبودوں کو برکات دہندہ سمجھتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا کرنا تو درکنار وہ خود مخلوق ہیں اور دوسروں کو نفع نقصان پہنچانا تو ایک طرف وہ خود اپنے نفع نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ نہ موت وحیات ان کے قبضے میں ہے نہ دوبارہ زندہ کرنا ان کے اختیار میں۔ حالانکہ الہ اور برکات دہندہ وہی ہوسکتا ہے جو ان مذکورہ بالا صفات سے متصف ہو، مشرکین کے خود ساختہ معبود چونکہ ان صفات سے عاری ہیں اس لیے خیر و برکت بھی ان کے اختیار میں نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–3

مذکورہ کوائف اس سور ۃ مبارکہ کا نام سورة الفرقان ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے مآخوذ ہے ۔ فرقان قرآن کریم کے ناموں میں سے ایک نامہ ہے قرآن کا معنی پڑھی جانے والی کتاب جب کہ فرقان کا معنی حق و باطل میں فیصلہ کن کتاب ہے ۔ اس سورة میں چونکہ قرآن پاک کی عظمت و بزرگی اور اس کے منزل من اللہ ہونے کا بیان بھی ہے ۔ اس لیے اس سورة کا نام سورة الفرقان رکھا گیا ہے ۔ اس سورة کی ستر آیتیں اور چھ رکوع ہیں ۔ سورة 393 الفاظ اور 3673 حروف پر مشتمل ہے۔ ربط سورت یہ سورة ملکی زندگی میں نازل ہوئی ، جب کہ اس سے پہلی سورة نور مدنی تھی ۔ ان دونوں سورتوں میں مکی اور مدنی بعد ہونے کے باوجود ان کے بعض مضامین…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِہَۃً لَّا يَخْلُقُوْنَ شَـيْـــــًٔا وَّہُمْ يُخْلَقُوْنَ وَلَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِہِمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا وَّلَا يَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّلَا حَيٰوۃً وَّلَا نُشُوْرًا۝ 3 دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب : لیکون کا اسم ضمیر جو عبد کی طرف راجع ہے یا فرقان کی طرف یا اللہ کی طرف پھرتی ہے لیکون کا لام نزل سے متعلق ہے الذین یا تو اول الذی سے بدل ہے یا خبر ہے مبتداء محذوف کی ولم یتخذ جملہ کلام سابق پر معطوف و واتخذوا جملہ مستانفہ۔ تفسیر : یہ سورة مکہ میں ہجرت سے پہلے اس وقت نازل ہوئی تھی جبکہ مشرکین مکہ کا آنحضرت ﷺ پر ہجوم تھا اور وہ حضرت کی رسالت اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر طرح طرح کے شبہات کیا کرتے تھے اور بت پرستی کے دریا میں غرق تھے اور خدا تعالیٰ کو اور اس کی صفات کو غلط طور پر اپنے اوہام باطلہ کے موافق سمجھ رکھا تھا۔ اس سورة میں ان سب باتوں کا جواب ہے۔ سورة نور کے آخیر میں یہ جملہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِھَۃً لاَّیَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ وَلاَ یَمْلِکُوْن لِاَنْفُسِھِمْ ضَرًّا وَّلاَ نَفْعًا وَّلاَ یَمْلِکُوْنَ مَوْتًا وَّلاَحَیٰوۃً وَّلاَ نُشُوْرًا۔ (الفرقان : 3) (اور لوگوں نے اس کے سوا ایسے معبود بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، نہ ان کو موت پر کوئی اختیار ہے نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کرنے پر۔ ) سابق مضمون کی مزید تشریح گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کبریائی اور یکتائی کو بیان فرمایا۔ لیکن اب اظہارِ تعجب کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ جن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جب اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی بادشاہی میں شریک نہیں کیا اور نہ ہی اس نے کسی کو اپنی اولاد بنایا ہے پھر دوسروں کو اس کا شریک سمجھنا اور بنانے کا کیا مقصد ؟ شرک کرنے والے کے ذہن میں کسی نہ کسی حد تک یہ بات ضرور ہوتی ہے کہ فلاں زندہ یا فوت شدہ شخصیت۔ اللہ کے ہاں اتنی معتبر ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے احترام اور مقام کی وجہ سے اس کی بات مسترد نہیں کرسکتا۔ اسی تصور کے پیش نظر ہر دور میں لوگوں نے ملائکہ، جنات، انبیاء میں سے کچھ شخصیات کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح باپ اپنی اولاد کی محبت اور تعلق کی بنیاد پر اولاد کی بات مسترد نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ بھی اپنی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عاجز بندوں کو اس کی ذات پر ترجیح دی : 3: وَاتَّخَذُوْا (اور انہوں نے بنا لئے ہیں) اس میں ضمیر کفار کی طرف لوٹ رہی ہے کیونکہ عالمین کے تحت وہ بھی شامل ہیں۔ نمبر 2۔ دلالت کی وجہ سے کیونکہ نذیر کا لفظ فرمایا گیا۔ پس منذر وہی ہیں یعنی ڈرائے ہوئے اس سے معلوم ہوا کہ ضمیر کفار کی طرف لوٹ رہی ہے۔ مِنْ دُوْنِہٖٓ ٰالِھَۃً (اس کے سوا اور معبود) یعنی اصنام لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ (وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں) یعنی ان لوگوں نے اس ذات کی عبادت پر جو اپنی الوہیت، بادشاہی اور تخلیق میں منفرد ہے اور تقدیر میں اس کا کوئی ساجھی نہیں ایسے عاجز بندوں کو ترجیح دی جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 3۔ واتخذوا ، وہ بت جو کفار مکہ نے بنارکھے ہیں اور جن کی وہ عبادت کرتے ہیں۔ من دونہ، آلھۃ، ، اس سے مراد بت ہیں ، لایخلقون شیا وھم یخلقون، ،، ، یہ ضرر کو دور نہیں کرسکتے اور نہ ہی نفع دے سکتے ہیں۔ ولایملکون موتاولاحیاۃ، نہ وہ مردہ ہیں اور نہ ہی وہ زندہ ہیں۔ ولا نشوزا، ، اور نہ ہی ان کو قیامت کے دن دوسرے انسانوں کی طرح زندہ کرکے اٹھایاجائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–3

1۔ 3:۔ اگرچہ بعض سلف نے اس سورت کی ان تین آیتوں کو مدنی کہا ہے ‘ جس کا ذکر آگے آوے گا لیکن اس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہے اور اس تفسیر میں یہ ایک جگہ بیان کردیا گیا ہے کہ جس سورت کا شروع کا حصہ مکی ہو ‘ وہ سورت مکی کہلاتی ہے ‘ اس سورت کی قرأت کے باب میں حضرت عمر ؓ اور ہشام بن حکیم کا قصہ ہے جس کا ذکر صحیح بخاری اور مسلم کی حضرت عمر ؓ کو نئے معلوم ہوئے ‘ اس پر حضرت عمر ؓ ہشام بن حکیم کو اللہ کے رسول ﷺ کے پاس لے گئے۔ آپ نے حضرت عمر ؓ اور ہشام بن حکیم دونوں سے یہ سورت پڑھوا کر سنی اور فرمایا ‘ دونوں قراءتیں صحیح ہیں کیونکہ قرآن شریف کے جن لفظوں کو ایک طرح سے لے کر سات طرح تک پڑھے جانے کا حکم ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر 3 یہ عجیب ترین بات ہے اور ان کی بےوقوفی اور کم عقلی کی سب سے بڑی دلیل ہے بلکہ ان کے ظلم اور اپنے رب کے حضور ان کی جسارت پر بھی بہت بڑی دلیل ہے کہ انہوں نے کمال عجز سے موصوف ہستیوں کو اپنا معبود بنا لیا۔ ان کے خود ساختہ معبودوں کا عجز یہاں تک پہنچا ہوا ہے کہ وہ کسی چیز کی تخلیق پر قادر نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں بلکہ ان میں سے بعض تو خود ان کے اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں۔ (ولا یملکون لانفسھم ضراً ولا نفعاً ) ، ، اور وہ اپنے نفسوں کے لیے بھی نفع نقصان کے مالک نہیں ہے۔ ، ، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔ یہاں سیاق نفی میں نکرہ کا استعمال ہے جو عموم پر دلالت کرتا ہے۔ (ولا یملکون عوتاً ولا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

5 غیر اللہ کے پجاریوں کی مت ماری کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ " ایک طرف تو اس پوری کائنات کے خالق ومالک کی قدرت و حکمت اور اس کی عظمت شان کا یہ عالم ہے اور دوسری طرف غیر اللہ کے پجاریوں کی مت ماری کا نمونہ بھی ملاحظہ ہو کہ وہ اس کے سوا ایسے من گھڑت اور خود ساختہ معبودوں کی پوجا کرتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ اور وہ خود اپنے لیے بھی نہ کسی نفع کا اختیار رکھتے ہیں نہ نقصان کا اور نہ ہی وہ اپنی زندگی و موت کے مالک ہیں اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کا۔ واضح رہے کہ یہاں پر " گھڑے جاتے ہیں " یا " بنائے جاتے ہیں " ۔ " یَصْنَعُوْنَ " ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 3–9

منکرین حق اور نبی کے سوال و جواب تشریح : کفار مکہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری اتنی نعمتیں برکتیں لوگوں کو ملی ہوئی ہیں پھر بھی یہ لوگ دوسرے معبود بنا بیٹھے ہیں۔ اصل میں انسان خود بہت بڑا معمہ ہے اور سب سے بڑا معمہ اس کا دماغ ہے جس میں ذہانت ‘ عقل ‘ فکر ‘ جستجو ‘ حافظہ ‘ فہم اور حکمت سب کچھ موجود ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ تمام صلاحیتیں کس نے دی ہیں ؟ انسان کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس کا جواب ہر کوئی یہی دیتا ہے کہ ” اللہ نے “ جسے دل نے تو ہمشہ مان لیا لیکن عقل اس سے انکار کرتی ہے اور یہی لوگ مشرک ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ خالق کو چھوڑ کر مخلوق ( پیدا کیا ہوا) کے آگے جھکتے ہیں مرادیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

سورة الفرقان : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف یہ سورة بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور اسی مضمون کو آگے بڑھاتی ہے جو سورة نور میں زیر بحث ہے ۔ (آپ ﷺ کی نبوت سب جہانوں کے لیے) اللہ کریم بہت ہی برکت والے اور خیر کے مالک ہیں جنہوں نے اپنے بندے حضرت محمد رسول ﷺ پر ایسی کتاب نازل فرمائی جس نے حق کو حق اور باطل کو باطل قرار دے کر دونوں میں حد فاصل قائم کردی اور تمام جہانوں کو ان کے غلط کاموں کے خطرناک انجام سے اللہ جل جلالہ کے رسول ﷺ نے بروقت مطلع فرما دیا کہ آپ ﷺ کی نبوت نہ صرف سارے جہان کے لیے ہے بلکہ سب جہانوں کے لیے ہے ، ہاں مکلف مخلوق یعنی انسان اور جن اطاعت احکام کے مکلف ہیں اور ساری مخلوق بھی آپ ﷺ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ اگر وہ ستارے ہیں یا فرشتے، انبیا اور جن تو یہ سب اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اگر مٹی اور لکڑی کے بت ہیں تو خود ان مشرکوں نے اپنے ہاتھوں سے تراشے ہیں۔ 8 ۔ یعنی نہ اپنے تئیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ اپنے آپ کو نقصان سے بچا سکتے ہیں پھر دسروں کو کیا نفع پہنچائیں گے اور کیا انہیں نقصان سے بچائیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:3) واتخذوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اتخاذ (افتعال) مصدر۔ انہوں نے ٹھہرا لیا ۔ انہوں نے اختیار کرلیا۔ ضمیر جمع مذکر غائب مشرکین اور کفار کے لئے ہے۔ واو بمعنی لیکن ہے۔ نشورا۔ مصدر منصوب۔ جی اٹھنا۔ یعنی جزاوسزا کے لئے قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہوکر اٹھ کھڑا ہونا۔ محض میت کے از سر نو زندہ ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ نشر المیت نشورا۔ مردہ دوبارہ زندہ ہوگیا۔ اور فانشرنا بہ بلدۃ میتا (43:11) پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کردیا۔ اس آیت میں خداوند تعالیٰ کی صفات متذکرہ آیت 2 کے مقابلہ میں مشرکین کے معبودان باطل کی چھ کمزوریاں بیان کی گئی ہیں :۔ (1) انھا لا تخلق شیئا۔ وہ کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے۔ (2)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : (تبارک) برکت والا۔ خود بخود بڑھنے والا ‘(الفرقان) حق و باطل میں فرق کرنے والا ‘(الملک) سلطنت۔ حکومت ‘ (قدر) اس نے اندازہ ٹھرایا ‘ (تقدیر) اندازہ متوازن ہونا ‘ (یخلقون) وہ پیدا کئے گئے ہیں۔ (ضر) نقصان ‘(نشور) دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا ‘ (افک) جھوٹ۔ بےبنیاد بات ‘(افتری) اس نے گھڑ لیا ‘ (اعان) اس نے مدد کی ‘(زور) جھوٹ۔ غلط بات ‘(تملی) پڑھی اور رٹی جاتی ہیں ‘( السر) بھید۔ چھپی باتیں۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 : دنیا اور آخرت میں وہی افراد اور قومیں کامیاب و بامراد ہوتی ہیں جو اللہ کی ذات وصفات کو مان کر اس کے بھیجے ہوئے نبیوں اور رسولوں کی مکمل اطاعت و فرماں برداری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–6

قرآن شریف کی تصدیق۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ کافر لوگ نبوت سے پہلے چالیس سال تک جب یہ آزماچکے کہ رسول اللہ کی عادت ہرگز جھوٹ بولنے کی نہیں ہے تو اب نبوت کے بعد ان لوگوں کا اللہ کے رسول کو جھٹلانا، اور یہ کہنا بڑی ناانصافی اور بالکل جھوت ہے کہ مکہ میں چند یہودی رہتے ہیں وہ صبح وشام پچھلی قوموں کے کچھ قصے رسول اللہ کو لکھ دیتے ہیں رسول اللہ زبردستی ان باتوں کو اللہ کا کلام بتاتے ہیں آگے فرمایا، اے محبوب تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ قرآن میں جو آسمان و زمین کی غیب کی خبریں ہیں ان سے تم لوگ سمجھو تو یہ بات تمہاری سمجھ میں اچھی طرح آسکتی ہے کہ یہ قرآن اس اللہ کا کلام ہے جس کو آسمان و زمین کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–4

[3] یعنی وہ معبود بھی جن کو اللہ نے پیدا کیا اور انسان ان کو معبود بنا بیٹھا، مثلاً فرشتے، جنات، انبیائ، اولیاء، سورج، چاند، درخت وغیرہ اور وہ بھی جس کو انسان خود بناتا ہے اور پھر ان کی پوجا پرستش کرتا ہے، مثلاً پتھر اور لکڑی کے بت۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–5

اشتراکیت اور اسلامی تخیل ملک : (ف 2) شرک اور بت پرستی کی تردید ہے ، ارشاد ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے پھر اس کو بیٹوں کی کیا ضرورت ہے ؟ اور کون ہے جو اس کے اختیارات میں دخل اندازی کرسکے ، اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے ، اور ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کردیا ہے ۔ اشتراکیت کا موجودہ تخیل اگر غور کیا جائے تو اس آیت کی رو سے درست نہیں ، کیونکہ اشتراکیت کے معنے یہ ہیں ، کہ تمام املاک کو حکومت کا ملک قرار دیا جائے ، حالانکہ ہر چیز کا مالک خدا ہے اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور اسی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ان کو مناسب اور موزوں طریقوں سے اپنے بندوں میں تقسیم کردے ۔ یہ خدا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) اور مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی توحید کو چھوڑ کر اس کے سوا اور ایسے معبود بنا رکھے اور تجویز کر رکھے ہیں جو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرسکتے وہ کسی کے خالق نہیں ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ خود ہی پیدا شدہ ہیں اور وہ خود مخلوق ہیں اور نہ وہ خود اپنے برے اور بھلے کا کوئی اختیار رکھتے نہ اپنے نقصان اور نفع کے مالک ہیں اور نہ وہ کسی کے مرنے اور نہ وہ کسی کے زندہ کرنیکا اور نہ مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ جلا کر اٹھانے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ جو خالق اور مالک اور قادر مطلق ہے اس کو چھوڑ کر اور اس کی توحید کے منکر ہوکر اس کی مخلوق میں سے ایسے کمزوروں اور ناتواں کو معبود بناتے ہیں جو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–4

ف 3۔ مراد اس سے وہ اہل کتاب ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے یا آپ کی خدمت میں ویسے ہی حاضر ہوا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت فرمائی جا رہی ہے کہ یہ لوگ کن کن کو معبود بنا رہے ہیں : 3۔ اظہار تعجب کے طور پر کہا جا رہا ہے ان لوگوں پر کہ وہ جن کو خود مخلوق مانتے اور جانتے ہیں پھر ان کو خالق بھی قرار دیتے ہیں اور اتنی واضح اور صاف بات کو بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ جو خود مخلوق ہے وہ خالق کیسے ہو سکتا ہے ؟ مدد چاہنے والا تو اس لئے کسی بالاتر طاقت کی طرف استمداد کے لئے ہاتھ پھیلاتا ہے کہ وہ کمزور ہے مگر اس غرض کے لئے یہ لوگ جن کے آگے ہاتھ پھیلا رہے ہیں ان کی کمزور کا حال یہ ہے کہ وہ ایک مکھی کو پیدا نہیں کرسکتے تو ان کو بیٹے وہ کیونکر دے لیں گے ہاں ! مکھی پیدا کرنا تو درکنار اگر مکھی ان سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–5

Special Wisdom in every creation فَقَدَّرَ‌هُ تَقْدِيرً‌ا (And designed it in a perfect measure - 25:2): Here تَقْدِير‌ (designing in a perfect measure) is mentioned after تخلِیق (Creation). تخلِیق means to create something from nothing that is to bring in something without any pre-existing substance whatsoever. And (designed in a perfect measure) means that, whatever has been created, its components, appearance, properties and signs are made to suit the purpose of its creation. The form of the sky, its constituents and its shape are in conformity to that purpose for which Allah Ta’ ala has…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9 The words are comprehensive and cover aII the false gods whom the mushriks worship whether they are angels, jinns, Prophets, saints, the sun, the moon, the stars, trees, rivers, animals etc., which have been created by AIIah, or those which have been created by man, as the idols of stone, wood, etc. 10 That is, "Allah has sent down AI-Furqan on His servant so that he may invite the people to the Truth, which they have forsaken due to heedlessness and waywardness, and warn them of the evil consequences of their folly. The Furqan is being revealed piecemeal so that he may distinguish right…

Read the full tafseer →