Al-Furqaan 25:1

25. Al-Furqaanالفرقان

The Criterion · Meccan · 77 ayahs · 6 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

25:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَا ۟ۙتَبٰـرَكَ الَّذِىۡ نَزَّلَ الۡـفُرۡقَانَ عَلٰى عَبۡدِهٖ لِيَكُوۡنَ لِلۡعٰلَمِيۡنَ نَذِيۡرَا

وہ (خدائے غزوجل) بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ اہل حال کو ہدایت کرے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Blessed is He who sent down the Criterion upon His Servant that he may be to the worlds a warner -

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Furqaan

All translations of 25:1

نہایت متبرک ہے وہ جس نے یہ فرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ سارے جہان والوں کے لیے نذیر ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ (خدائے غزوجل) بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ اہل حال کو ہدایت کرے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بہت بابرکت ہے وه اللہ تعالیٰ جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وه تمام لوگوں کے لئے آگاه کرنے واﻻ بن جائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بڑی شان ہے اس ذات کی جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کا فیصلہ کردینے والی یہ کتاب نازل کی، تاکہ وہ دنیا جہان کے لوگوں کو خبردار کردے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کو ڈر سنانے والا ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ اللہ) بڑی برکت والا ہے جس نے (حق و باطل میں فرق اور) فیصلہ کرنے والا (قرآن) اپنے (محبوب و مقرّب) بندہ پر نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈر سنانے والا ہو جائے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بہت برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر فیصلہ کرنے والی (کتاب) اتاری، تاکہ وہ جہانوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

متبرک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن) نازل کیا تاکہ وہ کل اہل عالم کے لئے (برے انجام سے) ڈرانے والا بن جائے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کے درمیان امتیاز کردینے والی کتاب اتاری تاکہ وہ اہل عالم کے لئے ہوشیار کردینے والا بنے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جس نے نازل فرمایا اپنے کرم بےپایاں سے اس فیصلہ کن کتاب کو اپنے بندہ خاص پر تاکہ وہ خبردار کرنے والا ہو دنیا جہاں کے لوگوں کے لیے۔

— مولانا اسحاق مدنی

بڑی عالی ذات ہے وہ جس نے یہ فیصلہ (کی کتاب) اپنے بندۂ (خاص) پر اتاری تاکہ وہ (بندہ) سارے دنیا جہان والوں کے لئے ڈرانے والا ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بڑی بابرکت ہے وہ ہستی جس نے الفرقان نازل فرمایا اپنے بندے پر تاکہ وہ ﷺ ہو تمام جہان والوں کے لیے خبردار کرنے والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن) نازل فرمایا تاکہ اہل دنیا کو ڈرائے (ہدایت کرے)۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Highly blessed is He, Who has sent down Al-Furqan, to His servant so that it may be a warner to all mankind:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Glorious is the One who has revealed the Criterion to His servant, so that he may be a warner to all the worlds,

— Muhammad Taqi Usmani

Glorious is the One who has revealed the Criterion to His servant, so that he may be a warner to all the worlds,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Blessed be He Who sent down (Nazzala) the criterion to His servant that he may be a warner to all nations.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Blessed is He Who hath revealed unto His slave the Criterion (of right and wrong), that he may be a warner to the peoples.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Blessed is He who sent down the Criterion upon His Servant that he may be to the worlds a warner -

— Saheeh International

Blessed is He who has revealed the criteria (for discerning truth from falsehood) to His servant so that He could warn mankind.

— Muhammad Sarwar

Blessed is He Who sent down the Furqan upon His servant that he may be a warner to the nations;

— Muhammad Habib Shakir

Blest be He who hath revealed the Criterion unto His bondman thathe may be unto the worlds a warner.

— Abdul Majid Daryabadi

Blessed is He who sent down the criterion to His servant, that it may be an admonition to all creatures;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 25:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–2

اللہ تعالیٰ ابن رحمت کا بیان فرماتا ہے تاکہ لوگوں پر اس کی بزرگی عیاں ہوجائے کہ اس نے اس پاک کلام کو اپنے بندے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمایا ہے۔ سورة کہف کے شروع میں بھی اپنی حمد اسی انداز سے بیان کی ہے یہاں اپنی ذات کا بابرکت ہونا بیان فرمایا اور یہی وصف بیان کیا۔ یہاں لفظ نزل فرمایا جس سے باربار بکثرت اترنا ثابت ہوتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَالْكِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰي رَسُوْلِهٖ01306) 4۔ النسآء :136) پس پہلی کتابوں کو لفظ انزل سے اور اس آخر کتاب کو لفظ نزل سے تعبیر فرمانا ہے اسی لئے ہے کہ پہلی کتابیں ایک ساتھ اترتی رہیں اور قرآن کریم تھوڑا تھوڑا کر کے حسب ضرورت اترتا رہا کبھی کچھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفُرْقَان 1 اصل میں لفظ تَبَارَکَ استعمال ہوا ہے جس کا پورا مفہوم کسی ایک لفظ تو درکنار ایک فقرے میں بھی ادا ہونا مشکل ہے۔ اس کا مادہ ب ر ک ہے جس سے دو مصدر بَرَکَۃ اور بُرُوک نکلے ہیں۔ بَرَکۃ میں افزونی، فراوانی، کثرت اور زیادتی کا تصور ہے اور بُرُوک میں ثبات، بقاء اور لزوم کا تصور۔ پھر جب اس مصدر سے تَبَارَکَ کا صیغہ بنایا جاتا ہے تو باب تفاعُل کی خصوصیت، مبالغہ اور اظہار کمال، اس میں اور شامل ہوجاتی ہے اور اس کا مفہوم انتہائی فراوانی، بڑھتی اور چڑھتی افزونی، اور کمال درجے کی پائیداری ہوجاتا ہے۔ یہ لفظ مختلف مواقع پر مختلف حیثیتوں سے کسی چیز کی فراوانی کے لیے، یا اس کے ثبات و دوام کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر بڑی عالی شان ذات ہے جس نے یہ فیصلہ کی کتاب (یعنی قرآن) اپنے خاص بندے (محمد ﷺ پر نازل فرمائی تاکہ وہ تمام دنیا جہاں والوں کے لئے (ایمان نہ لانے کی صورت میں عذاب الٰہی سے) ڈرانے والا ہو، ایسی ذات جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی حکومت حاصل ہے اور اس نے کسی کو (اپنی) اولاد قرار نہیں دیا اور نہ کوئی اس کا شریک ہے حکومت میں اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر سب کا الگ الگ انداز رکھا (کہ کسی چیز کے آثار و خواص کچھ ہیں کسی کے کچھ ہیں) اور ان مشرکین نے خدا کو چھوڑ کر اور ایسے معبود قرار دے لئے ہیں جو (کسی طرح معبود ہونے کے قابل نہیں کیونکہ وہ) کسی چیز کے خالق نہیں اور بلکہ وہ مخلوق ہیں اور خود…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قرآن اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے جس طرح تعاظم اور تعالیٰ اور اس باب کے دوسرے صیغوں کے اندر مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے اسی طرح تبارک کے اندر بھی مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی بڑی ہی بابرکت اور بافیض ہستی ہے وہ جس نے لوگوں کے انذار کے لئے، اپنے بندے پر، ایک ایسی کتاب اتاری جو حق اور باطل کے درمیان امتیاز کے لئے ایک حجت قاطع کی حیثیت رکھتی ہے۔ لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس نعمت کی قدر اور اس کتاب کی روشنی میں اپنی گمراہیوں کی اصلاح کریں، طرح طرح کے اعترضا ات اٹھا کر اس کی مخالفت اور اللہ کے رسول سے کسی معجزے یا کسی نشانی عذاب کا مطالبہ نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو اس کتاب کے بجائے وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1-1فرقان کے معنی ہیں حق و باطل، توحید و شرک اور عدل و ظلم کے درمیان کا فرق کرنے والا، اس قرآن نے کھول کر ان امور کی وضاحت کردی ہے، اس لئے اسے فرقان سے تعبیر کیا۔ 1-2اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کی نبوت عالم گیر ہے اور آپ تمام انسانوں اور جنوں کے لئے ہادی و رہنما بنا کر بھیجے گئے ہیں، جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعاً) 7۔ الاعراف :158) (صحیح مسلم) ' پہلے نبی کسی ایک قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں تمام لوگوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں ' رسالت و نبوت کے بعد، توحید کا بیان کیا جا رہا ہے۔ یہاں اللہ کی چار صفات بیان کی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: مکہ کے بعض کافروں نے یہ الزام لگایا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے پچھلے انبیائے کرام کے واقعات کچھ یہودیوں سے سیکھ لیے ہیں، اور وہی واقعات لکھوا کر (معاذ اللہ) یہ قرآن بنا لیا ہے، حالانکہ جن یہودیوں کا وہ ذکر کرتے تھے، وہ اسلام لا چکے تھے۔ اگر آپ (معاذ اللہ) انہی سے سیکھ کر اس کلام الٰہی ہونے کا غلط دعوی کر رہے تھے تو یہ حقیقت سب سے پہلے ان یہودیوں پر ظاہر ہوتی، پھر وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کا سچا پیغمبر مان کر آپ پر ایمان ہی کیوں لاتے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

تبرک الذی نزل الفرقان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولا نشورا) (ا : 3) یہ آغاز ہی صاف صاف ظاہر کردیتا ہے کہ اس سورت کا بڑا محور اور موضوع کیا ہے ؟ یہ کہ یہ کتاب من جانب اللہ نازل شدہ ہے اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت تمام انسانوں کے لیے ہے۔ یہ کہ اس دعوت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے ‘ اس کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی شریک ہے ‘ وہ وحدہ اس پوری کائنات کا مالک ہے ‘ وحدہ مدبر ہے اور اپنی حکمت و تدبیر کے ساتھ اسے چلارہا ہے۔ ان حقائق کے باوجود شرک کرنے والے شرک کرتے ہیں۔ افتراء پر دازی کرنے والے افتراء باندھتے ہیں اور جھگڑنے والے جھگڑتے ہیں اور حد سے بڑھنے والے حدود پار کرتے رہتے ہیں۔ (تبرک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 " فرقان " (فیصلہ کی کتاب) قرآن کریم کو فرمایا جو حق و باطل کا آخری فیصلہ اور حرام و حلال کو کھلے طور پر ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔ یہ ہی کتاب ہے جس نے اپنے اتارنے والے کی عظمت شان علو صفات اور اعلیٰ درجہ کی حکمت ورافت کو انتہائی مشکل میں پیش کیا اور تمام جہان کی ہدایت و اصلاح کا تکفل اور ان کو خیر کثیر اور غیر منقطع برکت عطا کرنے کا سامان بہم پہنچایا۔ 4 یعنی اپنے اس کامل و اکمل بندہ (محمد رسول اللہ ﷺ پر جن کا ممتاز لقب ہی کمال عبودیت کی وجہ سے " عبد اللہ " ہوگیا۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ 5 یعنی قرآن کریم سارے جہان کو کفر و عصیان کے انجام بد سے آگاہ کرنے والا ہے۔ چونکہ سورت ہذا میں مکذبین و…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1 تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ ” یہ تیسری سورت ہے جس کے مطلع پہلی آیت میں محمد رسول اللہ ﷺ کا ذکر ”عبد“ کی نسبت سے آیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی دو سورتیں سورة بنی اسرائیل اور سورة الکہف ہیں۔ سورة بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں فرمایا : سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ۔۔ ۔ اس کے بعد سورة الکہف کا آغاز اس طرح ہوا : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ۔۔ ۔ ”الفرقان“ سے مراد حق و باطل میں امتیاز کردینے والی کتاب یعنی قرآن حکیم ہے۔ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَا ” یعنی اس قرآن کے ذریعے سے حضور ﷺ کی رسالت تا قیام قیامت جاری وساری رہے گی۔ جس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 تبارک کا وہ مادہ ب ر ک ہے۔ اسی سے لفظ برکت ہے اور کسی چیز سے زیادہ سے زیادہ متوقع یا غیر متوقع فوائد حاصل ہوجانے کا نام برکت ہے۔ اور بابرکت وہ ذات ہے جو دوسروں کو زیادہ سے زیادہ متوقع اور غیر متوقع فوائد پہنچانے والی ہو۔ علاوہ ازیں تبارک کے لفظ میں تمہیدی اور تقدس کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اور یہ لفظ اللہ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے۔ 2 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر اپنے پیارے رسول کے لئے عبد کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی امتوں نے بھی اپنے رسول کی شان میں عقیدت مندی کی بنا پر غلو کیا تھا اور انھیں ان کے حقیقی مقام سے اٹھا کر اللہ کے ساتھ جا ملایا تھا۔ یہود نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ (اور کوئی شے نہ اس کے دائرہ تخلیق سے باہر ہے نہ دائرہ تقدیر سے) (آیت) ’ الفرقان “۔ فرقان کے معنی پر حاشیہ سورة بقرہ پ 1 میں گزر چکا۔ یہاں (آیت) ” الفرقان “۔ سے مراد قرآن کے ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ ولا نزاع ان الفرقان ھو القران (کبیر) (آیت) ” عبدہ “۔ مراد رسول اللہ ﷺ کا ہونا ظاہر ہے۔ عبد پر حاشیہ سورة بقرہ پ 1 آیت (آیت) ” وان کنتم فی ریب مما “۔ الخ پر گزرچکا۔ (آیت) ’ ’ للعلمین “۔ عالمین کے لفظ نے ایک بار پھر واضح کردیا کہ اسلام ایک عالمگیر دین ہے کوئی نسلی، قومی یا وطنی مذہب نہیں، قرآن کی مخاطب ساری دنیا ہے، کوئی مخصوص قوم نہیں۔ وعموم الرسالۃ من خصائصہ (علیہ السلام) (مدارک) (آیت) ” لم یتخذ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان اور نہایت رحم والا ہے، برکت والی برتر ہے وہ ذات جس نے فرقان یعنی قرآن اپنے بندے محمد ﷺ پر نازل کیا قرآن کو فرقان اس لئے کہا گیا ہے کہ اس نے حق و باطل کے درمیان فرق کردیا، تاکہ عالم والوں یعنی انسانوں اور جنوں کے لئے نہ کہ فرشتوں کے لئے ڈرانے والا ہو یعنی اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہو ایسی ذات کہ اس کے لئے آسمانوں اور زمین کی حکومت حاصل ہے اور اس نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ملک میں اس کا کوئی شریک ہے اور اس نے ہر اس شئ کو پیدا کیا جس کی شان مخلوق ہونا ہے پھر اس کو اچھی طرح درست کیا اور کفار نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تبارک بڑی خیر والا ہے۔ 1 ؂] 1 ؂ امام مالک ‘ امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت عمر ؓ بن خطاب کا بیان نقل کیا ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ : کی زندگی ہی میں میں نے ہشام بن حکیم کو سورة فرقان پڑھتے سنا اور کان لگا کر سنا تو محسوس کیا کہ ہشام ان کثیر الفاظ پر سورة فرقان پڑھ رہے تھے جن پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے نہیں پڑھایا تھا (کثیر الفاظ سے غالباً مراد الفاظ ادا کرنے کی کیفیت ہے جیسے امالہ اشمام وغیرہ۔ حروف کثیرہ کے مفہوم کی تشریح میں علماء کے 21 اقوال آئے ہیں اس فقیر کی نظر میں کیفیت ادا مراد لینا زیادہ مناسب ہے۔ واللہ اعلم۔ مترجم) قریب تھا کہ نماز ہی میں میں ان کو جا کو دوں لیکن میں رکا رہا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(1) بڑی برکتوں والی یا یہ کہ بڑی عالی شان شریک اور اولاد سے پاک ذات ہے جس نے قرآن کریم بذریعہ جبریل امین ؑ رسول اکرم ﷺ پر نازل فرمایا تاکہ آپ بذریعہ قرآن کریم تمام جن وانس کو عذاب الہی سے ڈرانے والے رسول ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں سب سے پہلے توحید پر کلام فرمایا، کیونکہ وہ سب سے پہلے اور سب سے اہم ہے، پھر نبوت پر، کیونکہ وہ رب اور بندے کے درمیان واسطہ ہے، پھر قیامت پر، کیونکہ وہ خاتمہ ہے۔ (شوکانی) ”تَبٰرَكَ“ ”بَرَکَۃٌ“ سے باب تفاعل ہے، ”بَرَکَۃٌ“ کا اشتقاق ”بِرْکَۃٌ“ (حوض) سے ہے کہ اس میں بہت زیادہ پانی ہوتا ہے، یا ”بَرَکَ الإِْبِلُ“ سے ہے، جس کا معنی اونٹ کا بیٹھنا ہے۔ باب تفاعل میں مبالغہ پایا جاتا ہے، اسی مناسبت سے اس کا ترجمہ ”بہت برکت والا ہے“ کیا گیا ہے۔ برکت سے مراد خیر میں زیادہ ہونا، بڑھا ہوا ہونا، دائمی خیر والا ہونا ہے۔ یعنی وہ خیر اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

(تبرک الذی۔۔۔۔۔۔ 1۔ 3) تَبٰـرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ ۔ تَبٰـرَکَ کے معنی میں اختلاف ہے۔ فراء نے کہا : عربی لغت میں تَبٰـرَکَ اور تقدس ایک ہی ہیں دونوں لفظ عظمت کے لیے بولے جاتے ہیں۔ زجاج نے کہا : تبارک یہ برکت سے تفاعل کا وزن ہے۔ کہا : برکت کا معنی ہے ہر خیر والے کی جانب سے کثرت۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے۔ تبارک کا معنی ہے بلند ہونا۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے : تعالیٰ عطاء ہ، اس کی عطاء زیادہ اور کثیر ہوئی۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے : معنی ہے اس کا انعام دائمی ہے اور ثابت ہے۔ نحاس نے کہا : لغت اور اشتقاق میں یہ ان سب سے اولیٰ ہے، یہ برک الشثیٔ سے مشتق ہے، جب وہ ثابت ہو، سی سے برک الجمل والطیر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ تبارک تفاعل کے وزن پر ہے برکت سے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ آیت تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ سے مراد یہ قرآن ہے جس میں اللہ کی حلال کردہ اور اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور اس کے شرائع اور دین کے احکام ہیں اللہ تعالیٰ نے فرق کردیا ہے حق اور باطل کے درمیان آیت لیکون للعالمین نذیرا یعنی اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا اللہ تعالیٰ سے ڈرانے والا بنا کر تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور ان واقعات سے ڈرائیں جو پہلی قوموں میں ہوئے آیت وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا اور اپنی مخلوق کی ہر چیز کے لیے اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تَبٰرَكَ [ بابرکت ہوا ] الَّذِيْ [ وہ جس نے ] نَزَّلَ [ اتارا ] الْفُرْقَانَ [ فرق واضح کرنے والے (قرآن) کو ] عَلٰي عَبْدِهٖ [ اپنے بندے پر ] لِيَكُوْنَ [ تاکہ وہ ہوجائے ] لِلْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے لئے ] نَذِيْرَۨا [ ایک خبردار کرنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اثبات توحید و رسالت، مشرکین کی حماقت اور عناد کا تذکرہ یہاں سے سورة فرقان شروع ہو رہی ہے اوپر پہلے رکوع کا ترجمہ لکھا کیا ہے، اس میں قرآن مجید کی صفت بیان فرمائی ہے اور اس کے ساتھ ہی صاحب قرآن رسول اللہ ﷺ کی صفت بھی بیان فرمائی، ارشاد فرمایا کہ وہ ذات بابرکت ہے جس نے اپنے بندہ پر فرمان یعنی فیصلہ کرنے والی کتاب یعنی قرآن نازل فرمایا جو حق اور باطل میں فرق کرنے والا ہے اور واضح طور پر ہدایت اور ضلالت کو متعین کر کے بتانے والا ہے یہ قرآن اپنے بندہ پر اس لیے نازل فرمایا ہے کہ وہ جہانوں کے لیے ڈرانے والا ہوجائے اس میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت عامہ کو بیان فرمایا ہے قیامت آنے تک جتنے بھی جنات اور انسان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

توحید و رسالت وقیامت قال اللہ تعالی۔ تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ۔۔۔ الی۔۔۔ ولا نشورا۔ (ربط) اس سورت کی ابتدا حق جل شانہ نے اپنی صفت برکت سے فرمائی اور برکت اس خیر و خوبی کو کہتے ہیں کہ جو قائم اور دائم ہو اور صفت برکت کی دلیل اور برہان میں فرقان یعنی قرآن کی تنزیل کو ذکر فرمایا۔ کیونکہ یہ قرآن حق اور باطل میں فرق کرنے کے لئے نازل کیا گیا ہے۔ اور حق اور باطل میں تمیز اور فرق سے بڑھ کر کوئی برکت اور خیرکثیر نہیں اس لئے فرماتے ہیں۔ بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جس نے اپنے برگزیدہ بندہ محمد ﷺ پر فرقان کو نازل کیا یعنی حق اور باطل میں فرق کرنے والا کلام نازل کیا جس سے بڑھ کر کوئی برکت والی چیز…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

2:۔ ” تبارک الخ “ یہ دعوی سورت ہے۔ یعنی ہر خیر و برکت اور ہر منفعت اللہ ہی کی جانب سے وہی برکات دہندہ ہے۔ اس کے سوا خیر و برکت کسی کے اختیار و تصرف میں نہیں جاء بکل برکۃ وخیر (خازن ج 5 ص 93) ۔ عن ابن عباس معناہ جاء بکل برکۃ دلیلہ قول الحسن مجیئ البرکۃ من قبلہ (معالم بحاشیہ خازن) ۔ برکات دہندہ چونکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں اس لیے یہ لفظ (تبارک) غیر اللہ کیلئے استعمال نہیں ہوتا۔ وھذا الفعل لا یسند فی الاغلب الی غیرہ تعالیٰ (روح ج 18 ص 320) ۔ وھی کلمۃ تعظیم لہ لا تستعمل الا للہ وحدہ (مدارک ج 3 ص 121) ۔ 3:۔ ” الذی نزل الخ “ یہ دعوی سورت پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ موصول مع صلہ ما قبل کے لیے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–3

مذکورہ کوائف اس سور ۃ مبارکہ کا نام سورة الفرقان ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے مآخوذ ہے ۔ فرقان قرآن کریم کے ناموں میں سے ایک نامہ ہے قرآن کا معنی پڑھی جانے والی کتاب جب کہ فرقان کا معنی حق و باطل میں فیصلہ کن کتاب ہے ۔ اس سورة میں چونکہ قرآن پاک کی عظمت و بزرگی اور اس کے منزل من اللہ ہونے کا بیان بھی ہے ۔ اس لیے اس سورة کا نام سورة الفرقان رکھا گیا ہے ۔ اس سورة کی ستر آیتیں اور چھ رکوع ہیں ۔ سورة 393 الفاظ اور 3673 حروف پر مشتمل ہے۔ ربط سورت یہ سورة ملکی زندگی میں نازل ہوئی ، جب کہ اس سے پہلی سورة نور مدنی تھی ۔ ان دونوں سورتوں میں مکی اور مدنی بعد ہونے کے باوجود ان کے بعض مضامین…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِہٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا۝ برك أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء . قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ( ب رک ) البرک اصل میں البرک کے معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب : لیکون کا اسم ضمیر جو عبد کی طرف راجع ہے یا فرقان کی طرف یا اللہ کی طرف پھرتی ہے لیکون کا لام نزل سے متعلق ہے الذین یا تو اول الذی سے بدل ہے یا خبر ہے مبتداء محذوف کی ولم یتخذ جملہ کلام سابق پر معطوف و واتخذوا جملہ مستانفہ۔ تفسیر : یہ سورة مکہ میں ہجرت سے پہلے اس وقت نازل ہوئی تھی جبکہ مشرکین مکہ کا آنحضرت ﷺ پر ہجوم تھا اور وہ حضرت کی رسالت اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر طرح طرح کے شبہات کیا کرتے تھے اور بت پرستی کے دریا میں غرق تھے اور خدا تعالیٰ کو اور اس کی صفات کو غلط طور پر اپنے اوہام باطلہ کے موافق سمجھ رکھا تھا۔ اس سورة میں ان سب باتوں کا جواب ہے۔ سورة نور کے آخیر میں یہ جملہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

تَبٰـرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَانِ ۔ (الفرقان : 1) (بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے یہ فرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ وہ اہل عالم کے لیے ہوشیار کردینے والا بنے۔ ) تبارک کا معنی و مفہوم اس آیت میں متعدد الفاظ تشریح طلب ہیں۔ آیت کا سب سے پہلا لفظ تَبٰـرَکَ ایسا وسیع المعنی ہے جس کا پورا مفہوم کسی ایک لفظ تو درکنار، ایک فقرے میں بھی ادا ہونا مشکل ہے۔ اس کا مادہ ب ر ک ہے۔ اس سے دو مصدر مستعمل ہیں 1 بَرَکَۃٌ 2 بُرُوْکبرکت کے مفہوم میں رفعت و عظمت، افزائش اور فراوانی کے تصورات شامل ہیں۔ اور بُرُوْک میں ثبات، بقا اور لزوم کا تصور پایا جاتا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن اس سورة مبارکہ کی ابتدا ” تَبَارَکَ الَّذِیْ “ “ کے الفاظ سے ہوتی ہے جس میں جلال کے ساتھ کمال بھی پایا جاتا ہے۔ تَبَارَکَ سُپرڈگری کا صیغہ ہے۔ جس کا معنٰی ہے ہر اعتبار سے بلندوبالا ذات جو لوگوں کی دعاؤں اور امیدوں سے بڑھ کر فائدہ پہنچانے والی ہے۔ سورة کی ابتدا میں قرآن مجید کے لیے دو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور دلائل اور برھان کے حوالے سے حق اور باطل، کھرے اور کھوٹے میں تمیز کردینے والی کتاب ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے حضرت محمد ﷺ کی ذات اطہر پر نازل فرمایا تاکہ آپ مجرموں کو ان کے برے انجام سے ڈرائیں۔ قرآن مجید میں نبی آخر الزماں ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تبارک اور فرقان کا معنی : 1: تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ (بڑی خیر والا ہے وہ جس نے قرآن کو اپنے بندے پر تھوڑا تھوڑا) عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا (اتار اتا کہ وہ سارے جہانوں کیلئے ڈرانے والا ہو) ۔ تبارکیہ البرکۃ سے تفاعل کے وزن پر ہے۔ اور البرکتؔ خیر کثیر اور اس کے اضافہ کو کہتے ہیں۔ تبارک اللہ ؔ کا معنی اس کی بھلائی بڑھنے والی ہے اور کثیر ہونے والی ہے۔ نمبر 2۔ ہر چیز سے بڑھنے والی ہے اور ہر چیز سے اپنی صفات و افعال میں بلند ہے۔ یہ تعظیمی کلمہ ہے جو اللہ وحدہ لا شریک کیلئے ہی استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مجرد حَسِبَ باب سے آتی ہے ( البتہ مزید کی گردان نہیں آتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 1۔ تبارک۔ باب تفاعل سے ماضی کا صیغہ ہے برکت س ہے اس کا معنی ہے کثرت خیر یعنی اس کی خیرکثیر ہے حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ ہر خیر اس کی طرف سے آئی ہے اس کی دلیل حضرت حسن (رح) کا قول ہے کہ برکت اسی کی طرف سے آئی ہے۔ ضحاک نے اس کا ترجمہ کیا ہے بڑی عظمت والا ہے۔ الذی نزل الفرقان ، اس سے مراد قرآن ہے علی عبدہ ، اس سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں ، لیکون للعالمین نذیرا، ، عالمین سے مراد ہیں جنات اور انسان، بعض نے کہا کہ نذیر سے مراد قرآن ہے بعض نے کہا محمد ﷺ ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–3

1۔ 3:۔ اگرچہ بعض سلف نے اس سورت کی ان تین آیتوں کو مدنی کہا ہے ‘ جس کا ذکر آگے آوے گا لیکن اس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہے اور اس تفسیر میں یہ ایک جگہ بیان کردیا گیا ہے کہ جس سورت کا شروع کا حصہ مکی ہو ‘ وہ سورت مکی کہلاتی ہے ‘ اس سورت کی قرأت کے باب میں حضرت عمر ؓ اور ہشام بن حکیم کا قصہ ہے جس کا ذکر صحیح بخاری اور مسلم کی حضرت عمر ؓ کو نئے معلوم ہوئے ‘ اس پر حضرت عمر ؓ ہشام بن حکیم کو اللہ کے رسول ﷺ کے پاس لے گئے۔ آپ نے حضرت عمر ؓ اور ہشام بن حکیم دونوں سے یہ سورت پڑھوا کر سنی اور فرمایا ‘ دونوں قراءتیں صحیح ہیں کیونکہ قرآن شریف کے جن لفظوں کو ایک طرح سے لے کر سات طرح تک پڑھے جانے کا حکم ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–2

تفسیر سورة الفرقان آیت نمبر 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظمت کاملہ، ہر لحاظ سے واحدانیت میں اس کے متفرد ہونے، اس کی بھلائی اور احسان کی کثرت کا بیان ہے، چناچہ فرمایا : (تبرک) یعنی وہ بہت بڑا ہے اس کے تمام اوصاف نہایت کامل اور اس کے احسانات بہت زیادہ ہیں۔ اس کا سب سے بڑا احسان اور سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ عظیم قرآن نازل فرمایا جو حلال و حرام، ہدایت و ضلالت، اہل سعادت اور اہل شقاوت کے درمیان فرق بیان کرتا ہے۔ (علی عبدہ) یہ فرقان عظیم اس نے اپنے بندے محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمایا جنہوں نے تمام مراتب عبودیت مکمل کرلیے اور اللہ نے ان کو تمام انبیاء ومرسلین پر فوقیت عطا کی۔ (لیکون) ، ، تاکہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–48

پانی کے مسائل قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

1{ تَبَارَکَ } کا معنیٰ و مفہوم ؟ : { تَبَارَکَ } کا مادہ " ب ر ک " ہے۔ جس کے معانی میں اس قدر عموم اور وسعت ہے کہ ایک لفظ تو درکنار کسی ایک جملے سے بھی اس کو ادا نہیں کیا جاسکتا۔ اس مادہ سے مصدر " برکۃ " بھی آتا ہے جس کے معنیٰ کثرت، بہتات اور زیادتی وغیرہ کے آتے ہیں۔ اور " بروک " بھی آتا ہے جس میں لزوم، ثبات اور دوام وغیرہ کا مفہوم بھی شامل ہوجاتا ہے۔ اسی لئے اونٹ کے بیٹھنے کو " بروک الابل " کہا جاتا ہے۔ اور اسی مادہ کو جب باب تفاعل میں لے جایا گیا تو اس میں مزید مبالغہ آگیا۔ چناچہ کہا جاتا ہے " تَبَارَکَتِ النَّخْلَۃُ " ۔ " کھجور کا درخت بہت بڑا ہوگیا "۔ اور اصمعی (رح) کہتے ہیں میں نے ایک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–2

تشریح : یہ آیات اللہ کی برکت اس کی حاکمیت اور وحدانیت کو واضح کر رہی ہیں۔ وہ کس قدر عظیم ہے یہ تو جب محسوس ہوتا ہے جب اس کی پیدا کی ہوئی کائنات پر غور و فکر کرتے ہیں۔ ایمان لانا تو بعد کی بات ہے پہلے تو یہ تمام کائنات اور اس کی ہر چیز اللہ کے موجود ہونے کا ثبوت بڑا اچھا پیش کردیتی ہیں۔ دنیا کی ہر چیز دو عدموں (غیب) میں قید ہے۔ ایک عدم پیدائش سے پہلے تھا اور دوسرا موت کے بعد ہوگا۔ پہلے عدم میں ایک ایسے خالق کا موجود ہونا ضروری ہے جو پیدائش کا باعث ہو۔ کیونکہ کوئی چیز کسی خالق کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی۔ اللہ ہی ایک ایسی ہستی ہے جو ہر تخلیق پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس حقیقت پر بیشمار شہادتیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

سورة الفرقان : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف یہ سورة بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور اسی مضمون کو آگے بڑھاتی ہے جو سورة نور میں زیر بحث ہے ۔ (آپ ﷺ کی نبوت سب جہانوں کے لیے) اللہ کریم بہت ہی برکت والے اور خیر کے مالک ہیں جنہوں نے اپنے بندے حضرت محمد رسول ﷺ پر ایسی کتاب نازل فرمائی جس نے حق کو حق اور باطل کو باطل قرار دے کر دونوں میں حد فاصل قائم کردی اور تمام جہانوں کو ان کے غلط کاموں کے خطرناک انجام سے اللہ جل جلالہ کے رسول ﷺ نے بروقت مطلع فرما دیا کہ آپ ﷺ کی نبوت نہ صرف سارے جہان کے لیے ہے بلکہ سب جہانوں کے لیے ہے ، ہاں مکلف مخلوق یعنی انسان اور جن اطاعت احکام کے مکلف ہیں اور ساری مخلوق بھی آپ ﷺ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

4 ۔ قرآن کو ” الفرقان “ فرمایا ہے یعنی اپنے احکام کے ذریعہ حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا، اور اسی کلمہ کی بنا پر اس سورة کا نام سورة الفرقان رکھا گیا ہے۔ 5 ۔ سارے جہان سے مراد قیامت تک کے تمام جن و انس ہیں اس لئے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت ان سب کے لئے تھی۔ کوئی دوسرا رسول ﷺ دنیا میں ایسا نہیں آیا۔ حدیث میں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : مجھے پانچ چیزوں میں تمام انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے جن میں سے ایک یہ بات ہے کہ پہلے نبی ( علیہ السلام) کسی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوئے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا۔ (ابن کثیر، شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(25:1) تبارک۔ وہ بہت برکت والا ہے۔ وہ بڑی برکت والا ہے تبارک (تفاعل) سے۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ یہ صرف ماضی کا صیغہ مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اللہ کے لئے اس کی گردان نہیں آتی۔ الفرقان۔ الفرق سے ہے جو الگ الگ ہونے کے معنی میں آتا ہے الفرق اور الفلق کے قریب قریب ایک ہی معنی ہیں۔ لیکن معنی انشقاق یعنی پھٹ جانا کے لحاظ سے فلق کا لفظ بولا جاتا ہے اور معنی انفصال یعنی الگ الگ ہونے کے لحاظ سے فرق آتا ہے مثلاً فانفلق فکان کل فرق کا طور العظیم (26:63) تو دریا پھٹ گیا اور ہر ایک ٹکڑ ایوں ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ ہے۔ دیکھو فرقہ (گروہ) فریق (جماعت ) تفریق (قاعدہ ریاضی) فرق (مانگ سر کے بالوں میں) سب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : (تبارک) برکت والا۔ خود بخود بڑھنے والا ‘(الفرقان) حق و باطل میں فرق کرنے والا ‘(الملک) سلطنت۔ حکومت ‘ (قدر) اس نے اندازہ ٹھرایا ‘ (تقدیر) اندازہ متوازن ہونا ‘ (یخلقون) وہ پیدا کئے گئے ہیں۔ (ضر) نقصان ‘(نشور) دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا ‘ (افک) جھوٹ۔ بےبنیاد بات ‘(افتری) اس نے گھڑ لیا ‘ (اعان) اس نے مدد کی ‘(زور) جھوٹ۔ غلط بات ‘(تملی) پڑھی اور رٹی جاتی ہیں ‘( السر) بھید۔ چھپی باتیں۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 : دنیا اور آخرت میں وہی افراد اور قومیں کامیاب و بامراد ہوتی ہیں جو اللہ کی ذات وصفات کو مان کر اس کے بھیجے ہوئے نبیوں اور رسولوں کی مکمل اطاعت و فرماں برداری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

توحید کا ذکر۔ (ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اس کی آسمان و زمین میں بڑی برکت ہے جس نے حق اور ناحق میں فرق بتادینے والا قرآن اپنے خاص بندے رسول پر تھوڑا تھوڑا کرکے حسب ضرورت نازل فرمایا کہ اللہ کے رسول لوگوں کو اس بات سے ڈراویں کہ جو کوئی اللہ کے حکم کو نہ مانے گا وہ عذاب الٰہی میں گرفتار ہوگا، پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمام عالم کو اپنی حکم کے اندازہ کے موافق اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو جو لوگ اللہ کو صاحب اولاد، یا اس کی حکومت میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں وہ بڑی غلطی پر ہیں کیونکہ جن کو یہ مشرک اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[1] یعنی خبردار کرنے والا، غفلت اور گمراہی کے برے نتائج سے ڈرانے والا۔ اس سے مراد '' فرقان '' بھی ہوسکتا ہے اور وہ '' بندہ '' بھی جس پر فرقان نازل کیا گیا۔ الفاظ ایسے جامع ہیں کہ دونوں مراد ہوسکتے ہیں کیونکہ حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہی کام کے لئے بھیجے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

مسلمان قرآن کے بعد کسی دوسرے صیحفہ کا متنظر نہیں : (ف 1) اللہ کی ذات بھرخیر اور ہمہ برکت ہے ، اور یہ اس کے فیوض عالیہ میں سے ہے کہ اس نے گمراہ انسانوں کیلئے ایک راہنما بھیجا اور ایک نہایت ہی شاندار کتاب عنایت فرمائی ، جو حق و باطل کے درمیان فارق ہے اور وہ راہنما ایسا ہے کہ اس کی نبوت تمام کائنات انسانی کے لئے ہے ، اس کا پیغام زمان ومکان کی قیود سے بالا ہے ، وہ ہر قوم اور جو قرن کے لئے پیغمبر ہے اس کی تعلیمات کا فیض عام ہے ، وہ ایک ایسا آفتاب رشد وہدایت ہے جو کسی غروب نہیں ہوتا ، یعنی قیامت تک مسلمان کو کسی نبوت اور کسی رسالت کی ضرورت نہیں کسی کتاب اور کسی صحیفے کی حاجت نہیں جہاں تک رشد وہدایت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) بڑی عالیشان اور بابرکت ذات ہے اس کی جس نے اپنے خاص بندے پر فیصلہ کرنے والی کتاب کو نازل فرمایا تاکہ وہ تمام اقوام عالم اور اہل عالم کے لئے ڈرانے والا ہو یعنی محمد ﷺ جو اس کے خاص بندے ہیں ان پر قرآن کریم جو حق و باطل کو جدا کرنے والا ہے نازل فرمایا تاکہ وہ قرآن کریم یا وہ بندہ جہان والوں کو ڈرانے والا ہو یعنی جو اس قرآن کریم پر ایمان نہ لائے اس کو عذاب الٰہی سے ڈرائیے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نہایت برکت والی ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر ” الفرقان “ نازل فرمایا : 1۔ (تبارک) کی اصل ب ر ک ہے اور یہ لفظ قرآن کریم میں نور بار راستعمال ہوا ہے ۔ الاعراف 54 میں اور المومنون کی آیت 14 میں پیچھے گزر چکا ہے زیر نظر سورة الفرقان میں تین بار آیا ہے آیت اول ‘ آیت 10 اور آیت 61 میں اور سورة غافر کی آیت 64 ‘ سورة الزخرف کی آیت 85 ‘ سورة الرحمن کی آیت 78 اور سورة الملک کی آیت 1 میں آگے آئے گا ۔ ” تبارک “ باب تفاعل کا ماضی ہے لیکن اس کی صرف گردان نہیں آتی اور کہا گیا ہے کہ اس کا استعمال صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے یہ لفظ برکت سے بنایا گیا ہے اور برکت کے معنی کثرت غیر کے کئے گئے ہیں اس لفظ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Special features of the Surah There is consensus among the commentators that this Surah was revealed in Makkah. However, Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and Qatadah ؓ contend that three of its verses are Madani and rest of the Surah is Makkan. Yet Qurtubi and a few others maintain that the Surah itself is Madani and only a few verses are Makkan. The gist of the subject matter of the Surah is to describe and define the greatness of the Holy Qur'an and the truth of the prophethood of the Holy Prophet ﷺ ، to which there were doubts expressed by the unbelievers. The Surah contains answers to their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 The Arabic word tabaraka is very comprehensive, and cannot be understood fully and completely by "highly blessed", not even by a sentence. However, its meanings may be grasped by keeping in view the remaining portion of vv. 1-2. Here it has been used to convey the following meanings: (1) He is the most Beneficent: that is why He has bestowed the great blessing of Al-Furqan by degrees on His servant so that he may admonish all mankind. (2)He is the most Exalted and Great: for the Sovereignty of the heavens and the earth belongs to Him. (3) He is the most Holy, Pure and Perfect: He is free…

Read the full tafseer →