ہر ایک اس کے علم میں ہے
مالک زمین و آسمان عالم غیب وحاضر بندوں کے چھپے کھلے اعمال کا جاننے والا ہی ہے۔ قد یعلم میں قد تحقیق کے لئے ہے جیسے اس سے پہلے کی آیت (قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّـلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا 63) 24۔ النور :63) میں۔ اور جیسے آیت (قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِيْنَ مِنْكُمْ وَالْقَاۗىِٕلِيْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَيْنَا ۚ وَلَا يَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِيْلًا 18 ۙ) 33۔ الأحزاب :18) میں۔ اور جیسے آیت (قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ) 58۔ المجادلة :1) میں اور جیسے آیت (قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
سورة النُّوْر 102
اصل میں لفظ دُعَآء استعمال ہوا ہے جس کے معنی بلانے کے بھی ہیں اور دعا کرنے اور پکارنے کے بھی۔ نیز دُعَآء الرَّسُوْلِ کے معنی رسول کا بلانا یا دعاء کرنا بھی ہوسکتا ہے اور رسول کو پکارنا بھی۔ ان مختلف معنوں کے لحاظ سے آیت کے تین مطلب ہو سکتے ہیں اور تینوں ہی صحیح و معقول ہیں
اول یہ کہ " رسول کے بلانے کو عام آدمیوں میں سے کسی کے بلانے کی طرح نہ سمجھو " یعنی رسول کا بلاوا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دوسرا کوئی بلائے اور تم لبیک نہ کہو تو تمہیں آزادی ہے، لیکن رسول بلائے اور تم نہ جاؤ، یا دل میں ذرہ برابر بھی تنگی محسوس کرو تو ایمان کا خطرہ ہے۔
دوم یہ کہ " رسول کی دعا کو عام آدمیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
دوسرا حکم آخری آیت میں یہ دیا گیا ہے۔ لَا تَجْعَلُوْا دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ الآیتہ اس کی ایک تفسیر تو وہ ہے جو اوپر خلاصہ تفسیر میں بیان کی گئی ہے کہ دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ سے مراد رسول اللہ ﷺ کا لوگوں کو بلانا ہے (جو نحوی قاعدہ سے اضافت الی الفاعل ہے) اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ جب لوگوں کو بلائیں تو اس کو عام لوگوں کے بلانے کی طرح نہ سمجھو کہ اس میں آنے نہ آنے کا اختیار رہتا ہے بلکہ اس وقت آنا فرض ہوجاتا ہے اور بغیر اجازت جانا حرام ہوجاتا ہے۔ آیت کے سیاق وسباق سے یہ تفسیر زیادہ مناسب رکھتی ہے اسی لئے مظہری اور بیان القرآن میں اس کو اختیار کیا ہے اور اس کی ایک دوسری تفسیر حضرت…
Read the full tafseer →یہ اسی سورة میں منافقین کو آخری تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے کسی اور کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ جس حال میں تم رہے ہو، یا یا ہو اس سے اللہ برابر باخبر رہا ہے اور ہے اس کے بعد ان سے منہ پھیر کر فرمایا کہ یہ لوگ اس دن کو یاد رکھیں جس دن اللہ کے حضور ان کی پیشگی ہوگی اور اللہ ان کا سارا کچا چٹھا ان کے سامنے رکھ دے گا۔ اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔
ان سطروں پر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس گروپ کی اس آخری سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ اللہ تعالیٰ لغزشوں سے درگزر فرمائے اور صحیح باتوں کے لئے دلوں میں جگہ پیدا کرے۔ فالحمد للہ علی ذلک
Read the full tafseer →64-1خلق کے اعتبار سے بھی، ملک کے اعتبار سے بھی اور ماتحتی کے اعتبار سے بھی۔ وہ جس طرح چاہے تصرف کرے اور جس چیز کا چاہے، حکم دے۔ پس اس کے رسول ﷺ کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیئے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ رسول کے کسی حکم کی مخالفت نہ کی جائے اور جس سے اس نے منع کردیا ہے، اس کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ اس لئے رسول ﷺ کے بھیجنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔
64-2یہ مخالفین رسول ﷺ کو تنبیہ ہے کہ جو کچھ حرکات تم کر رہے ہو، یہ نہ سمجھو کہ وہ اللہ سے مخفی رہ سکتی ہیں۔ اس کے علم میں سب کچھ ہے اور وہ اس کے مطابق قیامت والے دن جزا اور سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
48: برابر کے آدمی جب ایک دوسرے کو بلاتے ہیں تو اس کی زیادہ اہمیت نہیں سمجھی جاتی، اگر کوئی اس کے جواب میں نہ جائے تو اتنا برا نہیں سمجھا جاتا، اور اگر چلا بھی جائے تو بغیر اجازت کے واپس آجانے کو بھی گوارا کرلیا جاتا ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب رسول کریم ﷺ تمہیں کسی کام کے لئے بلائیں تو اسے آپس کا بلانا نہ سمجھو، چاہے گئے چاہے نہ گئے، بلکہ اہتمام کرکے جانا ہی ضروری ہے، دوسرے یہ بات بھی معمولی نہ سمجھو کہ جب چاہو بلا اجازت اٹھ کر چلے آؤ، بلکہ جب کہیں جانا ہو تو آپ سے اجازت لے کر جاؤ۔ اسی آیت کی ایک تفسیر یہ بھی ممکن ہے کہ جب تم حضور اقدس ﷺ کو مخاطب کرو تو اس طرح نہ کرو جیسے ایک دوسرے کو نام لے…
Read the full tafseer →(الآ ان للہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکل شیء علیم) (24 : 63) ” “۔
یوں اس سورة کا خاتمہ اس مضمون پر ہوتا ہے کہ اہل ایمان کی نظریں اللہ سے متعلق ہوجاتی ہیں اور ان کو اللہ کے خوف اور خثیت سے ڈرایا جاتا ہے کیونکہ صرف خدا اور خشیت الٰہی اور تقویٰ انسان کو درست رکھنے کی آخری گارنٹی ہے۔ اللہ نے جو احکام اور نواہی دیئے ہیں ان پر عمل کرانے کا یہ آخری نگران ہے جو ہر مومن کے دل میں بیٹھا ہوتا ہے۔ اس سورة میں جو اخلاق ‘ جو آداب اور جو قوانین وضع کیے گیے ہیں اور سب کو اسلامی نظام کا برابر حصہ بنایا گیا ہے ان کا محافظ تقویٰ اور خدا خوفی کو قرار دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →2 یعنی ممکن ہے مخلوق سے آنکھ بچا کر کوئی کام کر گزرو، لیکن حق تعالیٰ سے تمہارا کوئی حال پوشیدہ نہیں رہ سکتا نہ اس کی زمین و آسمان میں سے نکل کر کہیں بھاگ سکتے ہو۔ وہ جس طرح تمہارے احوال موجودہ سے باخبر ہے ایسے ہی اس دن کی کیفیت مجازات سے بھی پورا آگاہ ہے۔ جب تمام مخلوق حساب و کتاب کے لیے اس کی طرف لوٹائی جائے گی اور ہر ایک کے سامنے اس کا ذرہ ذرہ عمل کھول کر رکھ دیا جائے گا۔ ایسے علیم الکل اور مالک الکل کی سزا سے مجرم کس طرح اپنے کو بچا سکتا ہے۔ " تَمَّ سُورَۃٌ النُّوْرِ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَتُوفِیقِہٖ اَللّٰہُمَّ نَوِّرْ قُلُوبَنَا باا لْاِ یْمَانِ وَالْاِحْسَانِ وَنَوِّرْ قُبُورَنَا وَاَتْمِمْ…
Read the full tafseer →آیت 64 اَلَآ اِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط قَدْ یَعْلَمُ مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ ط ”
اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم ایمان و یقین کے حوالے سے کس مقام پر کھڑے ہو۔ وہ تمہارے ایمان کی کیفیت ‘ نیت کے اخلاص اور عمل کی تڑپ کو بہت اچھی طرح جانتا ہے۔
Read the full tafseer →103 یعنی جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی مجلس سے کھسک جاتے ہیں یا اسلام اور مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ اور اس کی راہ روکنے کے لئے سازشیں تیار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ رسول یا دوسرے مسلمانوں کی نظروں سے تو اوجھل رہ سکتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ تو ان کے اعمال و افعال تو درکنار ان کے دلوں کے خیالات تک سے واقف ہے اور انھیں سزا دینے پر قادر بھی ہے۔ لہذا قیامت کے دن وہ سب کو اپنے حضور اکٹھا کرکے انھیں ان کی کرتوتیں بتلا بھی دے گا اور ان کی سزا بھی دے گا۔
Read the full tafseer →141۔ (اور اختیار واقتدار اسی کا کامل ہے)
142۔ (تو کیا بعید ہے کہ یہیں دنیا میں گرفت ہوجائے)
143۔ (اس کا علم جب دارین کے ساتھ متعلق ہے تو وہ سزا جب اور جہاں چاہے دے سکتا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
آیت نمبر 62 تا 64
ترجمہ : بس مومن تو وہی ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں، اور جب وہ اس کے ساتھ یعنی رسول کے ساتھ کسی اہم معاملہ میں جمع ہوتے ہیں جیسا کہ جمعہ کا خطبہ تو عذر پیش آنے کی صورت میں بھی اس وقت تک نہیں جاتے جب تک کہ آپ سے اجازت نہ لے لیں، جو لوگ آپ سے اجازت لے لیتے ہیں بس وہ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں تو جب یہ لوگ اپنے کسی کام کے لئے آپ سے اجازت طلب کریں تو ان میں سے آپ جس کو چاہیں جانے کی اجازت دیدیں اور آپ ان کے لئے اللہ سے مغفرت کی دعاء کیجئے بلاشبہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے تم لوگ رسول کے بلانے کو ایسا مت سمجھو جیسا تم میں ایک دوسرے کو بلا لیتا ہے…
Read the full tafseer →الا ان للہ ما فی السموت والارض خوب سن لو کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ درحقیقت
اللہ ہی کا ہے۔ یعنی اللہ ہی اس کا خالق ومالک ہے۔
قد یعلم ما انتم علیہ تم جس حالت پر ہو وہی اس کو جانتا ہے یعنی ایمان ہو یا نفاق موافقت امر ہو یا مخالفت۔
یہ تمام مکلفین کو خطاب ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ صرف منافقوں کو خطاب ہو اور قَدْ یَعْلَمُسے سابق مضمون کی تاکید مراد مقصود ہو کیونکہ جو ذات ساری کائنات کی خالق اور مالک ہے تو لازمی بات ہے کہ وہ تمام مخلوقات و مملوکات کے احوال سے واقف بھی ہوگی۔
ویوم یرجعون الیہ فینبۂم بما عملوا اور جس روز لوگ اللہ کی طرف لوٹا کر لائے جائیں گے (اس روز)
اللہ ان کو ان کے کئے…
Read the full tafseer →(64) تمام مخلوقات اللہ ہی کی مملکت ہیں اللہ تعالیٰ اس حالت کو بھی جانتا ہے جس پر تم اب ہو یعنی ایمان و کفر تصدیق وتکذیب اخلاص ونفاق اور استقامت وتذبذب وغیرہ اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کو بھی جانتا ہے جس دن سب اس کے پاس لائے جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان سب کو جتا دے گا جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا تھا اور وہ ان کے اعمال سے بخوبی واقف ہے۔
Read the full tafseer →اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : طبری نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، یاد رکھو، سارے آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور مملوک کو لائق نہیں کہ اپنے مالک کے حکم کی نافرمانی کرے اور اس کی سزا کا حق دار بنے۔ فرماتے ہیں، لوگو ! اسی طرح تمہارے لیے بھی اپنے رب کے حکم کی جو تمہارا مالک ہے، خلاف ورزی کرنا درست نہیں، سو اس کی اطاعت کرو، اس کے حکم پر عمل کرو اور جب تم اس کے رسول کے ساتھ کسی جامع کام میں حاضر ہو تو اس کی اجازت کے بغیر مت نکلو۔“ (طبری : 26476)
قَدْ يَعْلَمُ مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ : یعنی تم جس روش پر قائم ہو، وہ اچھی ہے یا بری، اللہ تعالیٰ یقیناً اسے جانتا…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا ان للہ ما فی السموت والارض یعنی تخلیق اور ملک سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ قد یعلم ما انتم علیہ وہ تمہیں اس پر جزاء دے گا اور یہاں یعلم بمعنی علم ہے۔ ویوم یرجعون الیہ پہلے خطاب کے صیغے ذکر فرمائے اب خبر کی طرف رجوع فرمایا اس کو خطاب التلوین کہا جاتا ہے۔ فینبھم بما عملوا ان کے اعمال کے متعلق انہیں خبر دے گا اور انہیں ان کی جزا دے گا۔ واللہ بک شیء علیم۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال اور احوال کو خوب جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →1۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قد یعلم ما انتم علیہ الایۃ سے مراد ہے کہ کبھی کوئی قوم کسی کام پر یا کسی حال پر نہیں ہوتی مگر وہ اللہ کی نظر میں ہوتی ہے اور اس پر ایک گواہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔
2۔ ابو عبید فی فضائلہ والطبرانی بسند حسن بن عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے دیکھا یعنی سورة نور کی آخری آیت اور آپ ﷺ کی انگلیاں مبارک اپنی آنکھوں کے نیچے رکھتے ہوئے فرما رہے تھے آیت ” واللہ بکل شیء علیم “ اور اللہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ (واللہ اعلم)
الحمدللہ سورة النور ختم ہوئی
Read the full tafseer →اَلَآ : (کان کھول کر) سن لو ][ اِنَّ لِلّٰهِ [ بیشک اللہ ہی کا ہے ][ مَا : وہ جو ][ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ[ آسمان اور زمین میں ہے ][ قَدْ يَعْلَمُ : اس نے جان لیا ہے ][ مَآ : اس کو ][ اَنْتُمْ : تم لوگ ][ عَلَيْهِ ۭ: جس پر ہو ][ وَيَوْمَ : اور جس دن ][ يُرْجَعُوْنَ : وہ لوگ لوٹائے جائیں گے ][ اِلَيْهِ فَيُنَبِّئُهُمْ : اس کی طرف تو وہ بتادے گا ان کو ][ بِمَا عَمِلُوْا ۭ: وہ جو انہوں نے عمل کیا ][ وَاللّٰهُ : اور اللہ ][ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کا ][ عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے ]
Read the full tafseer →آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے، اسے سب کچھ معلوم ہے
یہ سورة نور کی آخری آیت ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کی مخلوق اور مملوک ہے اسے اختیار ہے کہ جو چاہے حکم دے، کوئی شخص کچھ بھی کرے اللہ تعالیٰ کو سب کا حال معلوم ہے۔ قیامت کے دن حاضر ہونگے تو سب بتادے گا۔ کوئی چیز اور کوئی عمل اس کے علم سے باہر نہیں لہٰذا سب فرماں برداری کریں اور آخرت کے مواخذہ سے بچیں۔
و قد تم تفسیر سورة النور لیلۃ الحادی عشر من جمادی الثانیۃ سنۃ 1415 ھجریہ والحمد للّٰہ علی الافضال و الانعام والصلوۃ علی رسولہ سید الانام و علی الہ و اصحابہ الذین اتبعوہ فاھتدوا بہ واستناروا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
حکم پانزدھم متعلق بآداب مجلس نبوی
قال اللہ تعالی۔ انما ال مومن ون الذین امنوا باللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ بکل شیء علیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں عام مجالس کے آداب کا اور عام استیذان کا ذکر تھا اب ان آیات میں خاص مجلس نبوی کے آداب بیان کرتے ہیں کہ مجلس نبوی سے جاتے وقت استیذان و اجازت لینے کی ضرورت ہے اور آپ ﷺ کے بلانے کے وقت حاضری واجب ہے اور آپ ﷺ کی مجلس سے بغیر اجازت لئے اٹھ کر چلے جانا یا آپ ﷺ کے بلانے پر حاضر نہ ہونا یہ منافقین کا شیوہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور آپ ﷺ کا ادب اور احترام ایمان کا جز ہے، چناچہ فرماتے ہیں کہ جز ایں نیست کہ کامل ایمان دار تو وہی ہیں جو صدق دل سے اللہ اور اس کے…
Read the full tafseer →69:۔ ” الا ان للہ الخ “ آخر میں دعویٰ توحید کا ذکر کیا گیا جس کی وجہ سے منافقین نے تہمت لگائی تھی یعنی سارے جہان کا مالک، متصرف فی الامور اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے اور کوئی نہیں۔ ” للہ ما فی السموت والارض “ یعنی زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کا مخلوق و مملوک اور اسی کے زیر تصرف ہے من الموجودات باسرھا خلقا و ملکا و تصرفا ایجادا واعدا ما بدا واعادۃ لا لاحد غیرہ شرکۃ او استقلالا (روح ج 18 ص 228) ۔
70:۔ ” قد یعلم الخ “ وہ تمہارے تمام موجودہ حالات و کوائف کو بخوبی جانتا ہے تمہارا اخلاص و نفاق بھی اسے معلوم ہے اس لیے قیامت کے دن جب تم سب اس کے پاس جمع ہوگے تو وہ تمہارے اعمال ظاہرہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ نے اہل ایمان کو آداب رسالت سکھائے تھے ان میں سے ایک ادب یہ ہے کہ اگر مسلمان نبی کی مجلس میں کسی اجتماعی کام کے لئے شرکت کر رہے ہوں تو بغیر اجازت مجلس سے نہ جائیں بلکہ اللہ کے رسول سے اجازت طلب کریں۔ اور پھر آپ کو اختیار ہے کہ کسی کو اجازت دیں یا نہ دیں۔ اگر اجازت نہیں ملی تو ایسا شخص بیٹھنے کا پابند ہے۔ اللہ نے دوسرا ادب یہ سکھلایا کہ رسول کے بلانے کو عام لوگوں کے بلانے جیسا نہ سمجھو بلکہ فوراً تعمیل حکم کرتے ہوئے حاضر ہوجائو۔ پھر فرمایا کہ رسول کی دعا کو بھی عام آدمی کی دعا کی طرح خیال نہ کرو کیونکہ اللہ کا رسول جس شخص پر خوش ہو کر دعا کرے گا۔ وہ دعا یقینا…
Read the full tafseer →اَلَآ اِنَّ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0 ۭ قَدْ يَعْلَمُ مَآ اَنْتُمْ عَلَيْہِ 0 ۭ وَيَوْمَ يُرْجَعُوْنَ اِلَيْہِ فَيُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا 0ۭ وَاللہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ 64ۧ
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم،
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
ترکیب : دعاء الرسول امصدر مضاف الی المفعول۔ اے دعائکم الرسول لواذا مصدر فی موضع الحال ویجوزا ان یکون منصوبابیتسللون۔
تفسیر : یہاں سے رسول کی اطاعت کے بارے میں مدینہ کے منافقوں کی مذمت بیان ہے جو وہ اس سے پہلو تہی کرتے تھے۔ اس مناسبت کے لیے سورة کا تتمہ اسی قسم کے آداب پر کرنا ان کے دل میں کیفیت نورانی کا پیدا کردینا ہے اور ان سب امور کے مصالح اور حکمتوں کی طرف اللہ بکل شیء علیم میں اشارہ کردیا اور علم چونکہ نور ہے اس لیے کلام کو اس کے ساتھ ختم کیا۔ ابن اسحاق اور بیہقی نے دلائل میں عروہ و محمد بن کعب قرظی وغیرہما سے روایت کی ہے کہ غزوہ احزاب کے ایام میں ابوسفیان قریش کو لے کر چڑھ آیا اور دومۃ…
Read the full tafseer →اَ لَآاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط قَدْیَعْلَمُ مَـآ اَنْـتُمْ عَلَیْہِ ط وَیَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْہِ فَیُنَبِّئُھُمْ بِمَا عَمِلُوْا ط وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ۔ (النور : 64)
(خبردار ! اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، تم جس حال پر ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے اور جس دن یہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو وہ انھیں ان کے کرتوتوں سے باخبر کرے گا اور اللہ ہر چیز سے اچھی طرح واقف ہے۔ )
روئے سخن چونکہ گزشتہ آیات میں بھی منافقین کی طرف رہا ہے اس لیے قرین قیاس یہ ہے کہ یہ منافقین ہی کو اس سورة میں آخری تنبیہ کی جارہی ہے، اور تنبیہ کے تیور بہت تیکھے ہیں۔…
Read the full tafseer →” اُخْرِجْ اَلِیْنَا یَامحَمَّدُ “ اے محمد باہر آئیں۔ اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کا اس طرح آواز دینا بہت ہی ناگوار گزرا۔ جس پر فرمایا کہ جو لوگ آپ ﷺ کے حجرے سے باہر آواز دے رہے تھے ان کی اکثریت بےعقل ہے دوسری آیت میں فرمایا کہ پیغمبر کو اس طرح آواز نہ دیا کرو جس طرح تم ایک دوسرے کو آواز دیتے ہو اگر تم باز نہ آئے تو تمہارے تمام کے تمام اعمال تباہ کردیے جائیں گے (الحجرات : 2) جو لوگ فرقہ واریت میں آکر یہ کہتے ہیں کہ ہم نے یا محمد کہنا ہے اور فلاں نے جلتے رہنا ہے یا اس طرح کے الفاظ کہتے ہیں کہ ” یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اُنْظُرْ حَالَنَا یَا حَبِیْبَ اللّٰہ اِسْمَعْ قَالَنَا “ ے رسول ہماری طرف دیکھیں…
Read the full tafseer →مالک عالم الغیب وہی ہے اس سے کسی کی جہالت کیسے چھپ سکتی ہے :
64: اَلَآ اِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (خبردار بیشک اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے) الاؔ یہ حرف تنبیہ ہے اس لئے لایا گیا تاکہ وہ اس ذات کے حکم کی مخالفت نہ کریں۔ جو آسمان و زمین کا مالک ہے۔ قَدْیَعْلَمُ مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ (تم جس حالت پر ہو وہی اس کو جانتا ہے) یہاں قدؔ کو لائے تاکہ تا کید کردی جائے کہ جس منافقت اور دین کی مخالفت پر وہ چل رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں قطعی طور پر ہے۔ جب علم میں ہے تو انہیں پھر اس کی پکڑ سے ڈرنا چاہیے۔
مطلب یہ ہے آسمان و زمین کی ہر چیز تخلیق میں اس کی ذات…
Read the full tafseer →تفسیر۔
64۔ الاان للہ مافی السماوات والارض، سب اسی کی ملکیت ہے اور ہم اس کے بندے ہیں۔ قد یعلم ماانتم علیہ ، یعنی ایمان ہو یا نفاق سب کو وہ جانتا ہے ، قدصلہ ہے ، ویوم یرجعون الیہ، اس سے مراد قیامت کا دن ہے ، فینبئھم بماعملوا، خواہ اس کا تعلق خیر سے ہو یا شر سے ، واللہ بکل شئی علیم، حضرت عائشہ کی روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا عورتوں کو بالاخانہ نہ پر نہ رکھو، اور ان کو لکھنانہ سکھاؤ ان کو چرخہ کاتنے کی اور سو رہ نور کی تعلیم دو ۔
الحمدللہ سورة نور کی تفسیر مکمل ہوئی۔
Read the full tafseer →64:۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اپنے رسول کی مخالفت سے ڈرایا اور فرمایا جو لوگ رسول کے طریقہ اور رسول کی سنت کی مخالفت کرتے ہیں ان کو دین و دنیا کے وبال سے ڈرنا چاہیے ‘ اب یہ خوب جان لینا چاہیے کہ رسول کی مخالفت ایک تو ظاہری ہے جس طرح کافر لوگ کھلم کھلا رسول کی ہدایت کو نہیں مانتے اور دنیا میں گمراہ ہیں اور عاقبت میں اس گمراہی کا عذاب بھگتیں گے اور ایک مخالفت رسول کی منافق لوگوں کی ہے کہ ظاہر میں تو وہ لوگ اپنے آپ کو رسول کا فرمانبردار کہتے ہیں مگر دل سے رسول کے وہ لوگ فرمانبردار نہیں جس وقت قرآن شریعت نازل ہوتا تھا اس وقت تو ایسے لوگوں کا حال وحی کے ذریعہ معلوم ہوجاتا تھا ‘ اب وحی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
آیت نمبر 62
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سی اپنے مومن بندوں کے لئے ارشاد ہے کہ جب وہ کسی جامع معاملے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوں، یعنی آپ کی ضرورت اور مصلحت مثلاً جہاد اور مشاورت وغیرہ میں، جہاں اہل ایمان کا اشتراک عمل ہوتا ہے۔۔۔ تو اس معاملے میں اکٹھے رہیں کیونکہ مصلحت ان کے اجتماع و اتحاد اور عدم تفرق و تشتت کا تقاضا کرتی ہے۔۔۔ اللہ اور اس کے رسول پر سچا ایمان رکھنے والا رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد آپ کے نائب کی اجازت کے بغیر اپنے گھر لوٹتا ہے نہ اپنی کسی ضرورت سے دیگر مومنوں کو چھوڑ کرجاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اجازت کے بغیر نہ جانے کو موجب ایمان قرار دیا ہے اور اس فعل پر نیز رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
حضور ﷺ کو بلانے میں تعظیم وادب ملحوظ رہے
قول باری ہے :(لا تجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا) مسلمانو، اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سا بلانا نہ سمجھ بیٹھو۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ” تم رسول کو ناراض نہ کرکے ان کی بددعا سے بچتے رہو ، کیونکہ ان کی بددعا قبول ہوجاتی ہے، ان کی مانگی ہوئی دعا دوسروں کی دعائوں کی طرح نہیں ہوتی۔ “ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ ” رسول کو بڑی نیاز مندی اور تعظیم سے بلا یا کرو مثلاً ” یارسول اللہ ! “ ، ” یانبی اللہ ! “ کہہ کر پکارا کرو۔ نام لے کر نہ پکارا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو اس کا نام لے کر پکارتے ہو۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
141 پیغمبر کی دعا و پکار کے بارے میں اہل ایمان کو ایک خاص ہدایت و تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ اے ایمان والو رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کے بلانے کی طرح نہ سمجھنا "۔ کہ جس طرح تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو ایسے حضور کو صریح نام کے ساتھ نہ پکارنا۔ یعنی آپ کو " یا محمد " یا " یا عبد اللہ " کہہ کر نہ پکارنا۔ (ابن کثیر، محاسن، صفوہ وغیرہ) کہ اس طرح آپ ﷺ کو نام لیکر پکارنا درست نہیں۔ بلکہ آپ ﷺ کو کسی و صف کے ساتھ پکارا کرو۔ جیسے " یا رسول اللہ "، " یانبی اللہ " وغیرہ کے صریح نام کے ساتھ پکارنا ایک طرح کا گنوار پن اور ادب کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ چناچہ پورے قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
رسول کریم ﷺ کو بلانے کے آداب اور آپ کی نافرمانی پر سزا
تشریح : لوگوں کو آپس میں مل جل کر رہنے سہنے اور معاملات زندگی کے بہت سے پہلوئوں کو واضح کرنے کے بعد اب اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے کہ تمام معاملات میں آنحضرت ﷺ کے معاملات میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا درجہ دیا ہے۔ بلکہ تمام انبیاء میں بھی آپ کو فضیلت اس طرح ملی ہے کہ آپ آخری نبی ہیں۔ کیونکہ آپ کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا نہ کوئی شریعت اور نہ کوئی دین۔ تو ظاہر ہے ایسے عظیم الشان محسن انسانیت، حامل قرآن کی عزت و توقیر کسی بھی عام انسان کی طرح نہیں ہوسکتی۔ بلکہ آپ کے بلاوے پر فوراً حاضر ہونا۔ محفل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
(رکوع نمبر 9)
اسرارومعارف
یقینا ایماندار وہی لوگ ہیں جو ہر اہم بات پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے ہیں یا آپ ﷺ کے ارشاد کی تعمیل کے لیے جمع ہوجاتے ہیں اور کتنی بھی مجبوری ہو نہ غیر حاضر ہوتے ہیں اور نہ بغیر اجازت واپس جاتے ہیں ۔
(امیر اور شیخ کا منصب)
یہی منصب اسلامی امیر یا شیخ کا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور اسلام پر عمل یا اس کی ضرورت ہی کے لیے طلب کرتا ہے تو مومن کبھی ارادۃ کوتاہی نہیں کرتا اگر بہت زیادہ مجبوری ہو تو حاضر ہو کر اجازت طلب کرتے ہیں اور جو بلانے پر حاضر ہوجاتے ہیں تب اپنی مجبوری کا اظہار کرکے اجازت چاہتے ہیں ، ایسے لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ایمان رکھنے والے…
Read the full tafseer →1 ۔ یہاں لفظ ’ او ‘ منح الخلو کے لئے ہے پھر جب صرف ایک معاملہ میں رسول ﷺ کی عدم اطاعت پر یہ وعید سنائی گئی ہے تو ان لوگوں کو اپنے معاملہ پر ضرور غور کرنا چاہیے جنہوں نے رسول کو سرے سے اطاعت کا مستحق ہی نہیں سمجھا بلکہ دوسروں کو بھی اس سے بےنیاز ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ 2 ۔ حضرت عقبہ ؓ بن عامر کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ اپنی آنکھوں پر انگلیاں رکھے ہوئے سورة نور کی یہ آخری آیت پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے بکل شیء بصیر : واقعی تو ہر چیز کو دیکھتا اور جانتا ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(24:64) ما انتم علیہ۔ جس (حالت) پر تم (اب) ہو۔ یعنی طاعت و معصیت وغیرہ کی جس حالت میں تم ہو۔ کیونکہ وہ علیم بذات الصدور ہے۔ اللطیف الخبیر ہے۔ ینبئہم۔ مضارع واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تنیئۃ (تفعیل) مصدر وہ بتادے گا۔ وہ خبر دے دے گا ان کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
لغات القرآن : آیت نمبر 62 تا 64 :
امر جامع (اہم کام۔ اکٹھا کرنے والے کام) ‘ شأ ن (کام) ‘ دعاء الرسول (رسول کابلانا) یتسللون (تسلل) کھسک جاتے ہیں۔ چلے جاتے ہیں۔ لواذ (ایک دوسرے کے پیچھے چھپنا۔ آڑلینا۔ پناہ لینا ‘ (الا) سنو۔ غور سے سنو ‘ ینبیٔ(وہ بتادے گا۔ اگاہ کردے گا) ۔
تشریح : آیت نمبر 62 تا 64 :
جب نبی کریم ﷺ کے سامنے کوئی اہم ‘ ضروری اور اجتماعی مسئلہ درپیش ہوتا تو آپ مشورے کے لئے صحابہ کرام ؓ کو جمع فرماتے اور مشورے کے بعد کوئی فیصلہ فرمایا کرتے تھے اور صحابہ کرام ؓ کو یہ بتاتے تھے کہ فلاں کام کو اس طرح کرو۔ ادب یہ سکھایا گیا کہ جب لوگوں کو بلایا جائے تو وہ حاضر ہوجائیں اور اس وقت تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
(ف 2) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ بعض آدمی نبی ﷺ کو ان کے نام لے کربلایا کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ جس طرح تم لوگ باہم ایک دوسرے کو بلایا کرتے ہو اس طرح اللہ کے رسول کو نہ بلاؤ، بلکہ ان کے نام کی تعظیم و تکریم کیا کرو نرم آواز کے ساتھ متواضعانہ ومنکسرانہ لہجہ میں۔ یا نبی اللہ، یارسول اللہ، یا حبیب اللہ کہہ کر۔ ان رسول کی اللہ پاک کے ہاں وہ عزت ہے کہ اللہ پاک نے کبھی نام لے کر پکاراہی نہیں مگر جہاں غایت شفقت اور محبت کے ساتھ خطاب کیا جب ہم اپنے رسول کو نام لے کر بسبب ان کے کمال عزت کے نہیں پکارتے تو ہم غیروں سے کب گواراکریں کہ ان کا نام لے لے کر پکارا کریں جیسے آپس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
[63] مطلب یہ ہے کہ معذور و محتاج لوگوں کو تندرستوں کے ساتھ کھانے میں کچھ حرج نہیں۔ جاہلیت میں اس قسم کے محتاج و معذور آدمی اغنیاء اور تندرستوں کے ساتھ کھانے سے رکتے تھے۔ انھیں خیال گزرتا تھا کہ شاید لوگوں کو ہمارے ساتھ کھانے سے نفرت ہو اور ہماری بعض حرکات سے ایذا پہنچتی ہو۔ اور واقعی بعضوں کو نفرت و وحشت ہوتی بھی تھی۔ نیز بعض مسلمانوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسے معذوروں اور مریضوں کے ساتھ کھانے میں شاید اصول عدل و مساوات قائم نہ رہ سکے۔ اسی بناء پر ساتھ کھلانے میں احتیاط کرتے تھے کہ حق تلفی نہ ہو۔ دوسری ایک اور صورت پیش آتی تھی کہ یہ معذور محتاج لوگ کسی کے پاس گئے۔ وہ شخص استطاعت نہ رکھتا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
(ف 1) حرمت رسول ﷺ کے بارہ میں صاف طور پر فرمایا کہ رسول ﷺ کے حکموں کو ایسا نہ سمجھنا جس طرح تم ایک دوسرے کو مخاطب کرکے حکم دیتے ہو یعنی خواہ ان پر عمل کرو یا نہ کرو ، رسول کی ہر بات واجب تعمیل ہے ، اور جو لوگ اس کے ارشادات کو نہیں مانتے ، اور اپنے لئے ان ارشادات کو صحیح اور سند نہیں سمجھتے ان کو ڈرنا چاہئے ، کہ اس انکار کی بنا پر کسی آفت یا اللہ کے عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں ،
بعض کی رائے میں آیت کا مقصد یہ ہے کہ رسول ﷺ کو عام تخاطب کے انداز میں مخاطب نہ کیا جائے بلکہ حرمت وحترام کو مدنظر رکھ کر یا رسول اللہ یا نبی اللہ وغیرہ الفاظ سے پکارا جائے ، بعض اکابر کی رائے میں اس سے مراد ہے کہ حضور ﷺ…
Read the full tafseer →(64) خبردار ہو آگاہ رہو یا درکھو جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کی مملوک ہے اللہ تعالیٰ اس حالت کو بھی خوب جانتا ہے جس پر تم ہو اور اس دن کو بھی خوب جانتا ہے جس دن پر سب لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اور ان سب کی بازگشت اس دن اسی کی طرف ہوگی پھر اللہ تعالیٰ ان کی ان تمام کارروائیوں سے جو وہ کرتے رہتے ہیں ان سب کو آگاہ کردے گا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے یعنی اوپر کی آیت میں دنیا اور آخرت کی سزا اور تعذیب کی طرف اشارہ تھا اس آخری آیت میں اپنے مالک ہونے اور تمام اشیاء کو خواہ وہ اس عالم سے تعلق رکھتی ہوں خواہ عالم اخروی سے تعلق رکھتی ہوں اس سب کے جاننے کا اظہار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
ف 6۔ کہ چاہئے آیا یا نہ آیا۔ پھر آکر بھی جب تک چاہا بیٹھا چاہا اٹھ کر بےاجازت لئے چل دیا۔ رسول اللہ ﷺ کا بلانا ایسا نہیں ہے اور بےاجازت جانا حرام۔
7۔ یہ وجوب استیذان اس وقت ہے جب بلائے ہوئے آویں، یا کسی مشورہ وغیرہ کے لئے بذریعہ خاص اعلام یا عام اعلان کے، ورنہ حضور ﷺ کی مجلس میں بارہا لوگ خود حاضر ہوئے اور خود چلے گئے، ان پر ملامت نہیں کی گئی، اور اب بھی امام المسلمین اگر لوگوں کو جمع کرتے تو بےاجازت اس کی جانا جائز نہیں۔
Read the full tafseer →آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے وہ سب کچھ جانتا ہے :
109۔ تنبیہہ کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ خبردار ! اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ زمین و آسمان کا نظام ابتدا سے اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے قبضہ واقتدار میں ہے وہ جس قوم میں ان اصول وکلیات کی پابندی دیکھتا ہے اس کو روحانی وجسمانی برکات سے مستفید ہونے کا پورا پورا موقع دیتا ہے یہ لوگ دنیا میں اپنی قومی حکومت قائم کرکے آزادانہ زندگی بسر کرتے ہیں اور اخرت میں اپنے اعمال حسنہ کی وجہ سے جنت میں آرام کریں گے ، جس وقت یہ قرآن کریم نازل ہو رہا تھا اللہ تعالیٰ کو اس بات کی پوری خبر تھی کہ ان اصول اساس کی اس وقت سب سے زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ
Do not take the call of the messenger among you as a call of one of you to another - 24:63.
One explanation of this verse is that "call of the messenger" means calling of the people by the Holy Prophet ﷺ (which implies that "call" is the act of the messenger). Thus the meaning of the verse is, when the Holy Prophet ﷺ call people, it should not be taken as a common call of an
ordinary person, in which one has the choice to go or not to go. In the case of a call by the Holy Prophet ﷺ it becomes obligatory to go to him and leaving the meeting…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
102. Dua means to summon, to pray and to call. Dua-ar- Rasul, therefore, may mean summoning or praying by the Messenger or calling the Messenger. The verse can thus have three meanings which would all be equally correct; (a) The Prophet’s summons should not be treated as a common man’s summons, for the Prophet’s summon is of extraordinary importance, which you cannot ignore, because if you fail to respond to it, or feel hesitant about it, you will be doing so at the very risk of your faith. (b) Do not consider the Prophet’s prayer as a common man’s prayer. If he is pleased with you and prays…
Read the full tafseer →