24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ (ایک) سورة ہے جس کو ہم نے نازل کیا اور اسکے (احکام کو) فرض کردیا اور اس میں واضح المطالب آیتیں نازل کیں تاکہ تم یاد رکھو

تفسیر سورة النور آیت نمبر (1 (سورۃ) یعنی یہ عظیم القدر سورت (انزلنھا) ” ہم نے اسے (بندوں پر رحمت کے طور پر) نازل کیا “ اور ہر شیطان سے اس کو محفوظ رکھا (وفرضنھا) یعنی ہم نے اس میں حدود اور شہادات کا ضابطہ وغیرہ مقرر کیا (وانزلنا فیھا ایت بینت) اور ہم نے اس میں جلیل القدر احکام ‘ اور امر و نواہی اور عظیم الشان حکمتیں نازل کیں (لعلکم تذکرون) یعنی جس وقت ہم تمہارے سامنے یہ احکام بیان کریں اور ہم تمہیں ان امور کی تعلیم دیں جن کا تمہیں علم نہیں تھا تب شاید تم نصیحت پکڑو۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے وہ احکام بیان کرنا شروع کئے جن کی طرف گزشتہ آیت کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہے ‘ چناچہ فرمایا :
Ayah 24:2

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد (جب ان کی بدکاری ثابت ہوجائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کو سو درے مارو اور اگر تم خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو شرع خدا (کے حکم) میں تمہیں ہرگز ترس نہ آئے اور چاہیے کہ انکی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت بھی موجود ہو

(آیت نمبر (2 آیت میں مذکوریہ حکم غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لیے ہے کہ ان کو سو سو کوڑے مارے جائیں۔ البتہ شادی شدہ زنا کار ہو تو سنت صحیحہ مشہورہ دلالت کرتی ہے کہ اس کی حد رجم (یعنی سنگسار کرنا) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ زنا کار مردوزن پر حد جاری کرتے وقت ہم میں رحم و شفقت کا ایسا جذبہ پیدا ہو جو ہمیں ان پر حد قائم کرنے سے روک دے۔ خواہ یہ رحم طبعی ہو یا قرابت یا دوستی وغیرہ کی وجہ سے ہو۔ ایمان اس رحم کی نفی کا موجب ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے سے مانع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی حقیقی رحمت تو زانی پر حد نافز کرنے میں ہے۔ اگر زانی پر تقدیر کا فیصلہ جاری ہونے پر ہمیں رحم آئے تو یہ اور بات ہے مگر نفاذ حد کے پہلو سے ہمیں اس پر رحم نہیں آنا چاہیے ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ زنا کاروں پر حد جاری کرتے وقت اہل ایمان کی ایک جماعت موجود ہو تاکہ حد کا نفاذ مشتہر ہو ‘ مجرموں کی رسوائی ہو ‘ مجرم اس گھناؤنے جرم سے باز رہیں اور لوگ بالفعل نفاذ حد کا مشاہدہ کریں ‘ کیونکہ شریعت کے احکام کے بالفعل مشاہدے سے شریعت کا علم زیادہ پختہ اور اس کا فہم راسخ ہوجاتا ہے اور مشادہ کرنے والا منزل صواب کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ پس اس میں کوئی اضافہ کیا جاتا ہے نہ کمی واللہ اعلم۔
Ayah 24:3

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

بدکار مرد تو بدکار یا مشرک عورت کے سوا نکاح نہیں کرتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (یعنی) بدکار عورت سے نکاح کرنا مومنوں پر حرام ہے

آیت نمبر (3 اس آیت کریمہ میں زنا کی رذالت اور قباحت کا بیان ہے کہ یہ فعل بد ‘ فاعل اور اس کے ساتھ میل جول رکھنے والے لوگوں کی عزت پر ایسا دھبہ لگا دیتا ہے جو دیگر گناہوں سے نہیں لگتا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ زانی مرد صرف زنا کار عورت ہی سے نکاح کرے۔ اس کا حال ایسی ہی عورت کے حال سے مناسبت رکھتا ہے یا مشرک عورت اس کے مناسب حال ہے جو یوم آخرت اور جزا و سزا پر ایمان رکھتی ہے نہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا التزام کرتی ہے۔ اسی طرح زانیہ عورت سے صرف زانی مرد یا مشرک ہی نکاح کرے۔ (وحرم ذلک علی المومینین) ” اور اور اللہ تعالیٰ نے اسے مومنوں پر حرام ٹھہرا دیا ہے “ یعنی یہ کہ وہ کسی عفت مآب عورت کا زنا کار مرد کے ساتھ نکاح کریں یا عفت مآب مرد کسی زنا کار عورت کو اپنے نکاح میں لائے۔ اس آیت کریمہ کا معنی یہ ہے کہ وہ مرد یا عورت جو زنا میں ملوث ہے اور اس نے اس بدکاری سے توبہ نہیں کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحریم کے باوجود ‘ اس کے ساتھ نکاح کرنے والا ‘ دو میں سے ایک امر سے خالی نہیں۔ یا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا التزام نہیں کرتا اور یہ صرف مشرک شخص کا وغیرہ ہے یا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کا التزام کرتا ہے اور زنا کار کے زنا کا علم رکھنے کے باوجود ‘ اس کے ساتھ عفت مآب عورت کے نکاح کا اقدام کرتا ہے تو ایسا نکاح زنا ہے اور نکاح کرنے والا زنا کا مرتکب ہے۔ اگر وہ سچا مومن ہوتا تو کبھی بھی یہ کام نہ کرتا۔ یہ آیت کریمہ زانیہ عورت کے ساتھ نکاح کی تحریم پر صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہے جب تک کہ وہ توبہ نہ کرے۔ اسی طرح زانی کے ساتھ نکاح کی تحریم پر دلیل ہے کیونکہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سب سے بڑی مقارنت ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (احشرو الذین ظلموا و ازواجھم) (الصفت (22/37:” وہ لوگ جو ظلم کرتے تھے ‘ ان کو اور ان کے ساتھیوں کو اکٹھا کرو۔ “ یعنی ان کے جلیسوں کو۔ چونکہ اس میں بہت بڑا شر ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس نکاح کو حرام ٹھہرادیا ہے۔ اس سے غیرت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ خاوند کے ساتھ ایسی اولاد کا الحاق ہوتا ہے جو درحقیقت اس کی نہیں۔ نیز وہ دوسری عورتوں کے ساتھ مشغول ہونے کے سبب عفت سے محروم رہتا ہے۔ یہ آیت کریمہ صریحا دلالت کرتی ہے کہ زنا کار مومن نہیں ہوتا جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” جب زانی زنا کا ارتکاب کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا “ پس وہ اگرچہ مشرک بھی نہیں ہوتا تاہم وہ اسم مدح سے موسوم نہیں ہوتا جو کہ ایمان مطلق ہے۔
Ayahs 24:4–5

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں کو بدکاری کا الزام لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی درے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو اور یہی بد کردار ہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

ہاں جو ان کے بعد توبہ کرلیں اور (اپنی حالت) سنوار لیں تو خدا (بھی) بخشنے والا مہربان ہے

(آیت نمبر (4 چونکہ کوڑوں کی سزا کے وجوب کی وجہ سے زانی کے معاملہ کو بڑی اہمیت دی گئی ہے ‘ نیز اگر وہ شادی شدہ ہے تو رجم بہت بڑا معاملہ ہے اسی طرح زانی کے ساتھ ہم نیشنی اور اس سے اختلاط ‘ کسی بھی لحاظ سے جائز نہیں ‘ جس سے بندہ شر سے محفوظ نہ رہ سکے اس لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی عزت و ناموس پر زنا کی تہمت لگانے کو بہت بڑا اقدام قرار دیا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (والذین یرمون المحصنت) یعنی وہ لوگ جو پاک باز عورتوں پر بہتان لگاتے ہیں ‘ اسی طرح پاک باز مردوں پر بہتان طرازی کرتے ہیں۔ دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ یہاں بہتان سے مراد ‘ سیاق کے اعتبار سے زنا کا الزام لگانا ہے۔ (ثم لم یا تو ) ” پھر نہ پیش کرسکیں وہ “ یعنی اس پر جو انہوں نے بہتان لگایا (باربعۃ شھداء ) ” چار گواہ “ یعنی چار عادل مرد ‘ جو نہایت صراحت کے ساتھ زنا کی گواہی دیں۔ (فاجلد و ھم ثمنین جلدۃ ) ” تو انہیں (ایک متوسط کوڑے کے ساتھ) اسی (80) کوڑے مارو “ جن سے بہتان لگانے والے کو تکلیف پہنچے ‘ مگر کوڑے کی سختی اتنی زیادہ نہ ہو جس سے اس کی جان چلی جائے کیونکہ کوڑے لگانے سے مقصود تادیب ہے نہ کہ جان لینا۔ اس آیت کریمہ میں بہتان لگانے کی حد کا تعین ہے۔ البتہ یہ حد اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ جس پر بہتان لگایا گیا ہے وہ مومن اور پاک دامن ہو اور اگر وہ پاک دامن نہ ہو تو بہتان لگانے والے پر حد نہیں لگائی جائے گی یہ چیز صرف تعزیر کی موجب ہے۔ (ولا تقبلو لھم شھادۃ ابدا) ” یہ ایک اور سزا ہے یعنی بہتان طرازی کرنے والے کی گواہی قابل قبول نہیں خواہ اس پر قذف کی حد جاری کیوں نہ کردی گئی ہو۔ جب تک کہ وہ بہتان طرازی سے توبہ نہ کرے۔ جیسا کہ عنقریب اس کا بیان آئے گا۔ (واولئک ھم الفسقون ) ” یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل جانے والے ہیں “ اور جن کا شر بہت زیادہ ہے۔ یہ سزا اس لیے دی گئی ہے کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کیا اور اپنے بھائی کی ہتک عزت کی اور لوگوں کو اس کے بارے میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنانے کا موقع فراہم کیا اور اس قذف کے ذریعے سے وہ اس اخوت کو زائل کرنے کا باعث بنا جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے مابین قائم کی تھی اور اس نے چاہا کہ اہل ایمان میں فواحش پھیل جائیں۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قذف گناہ کبیرہ ہے۔ (الا الذین تابو من بعد ذلک واصلحوا فان اللہ غفورر رحیم) یہاں توبہ سے مراد یہ ہے کہ بہتان طرازی کرنے والا خود اپنی تکذیب کرے یعنی وہ اس بات کا اقرار کرے کہ اس نے جھوٹا الزام لگایا تھا اپنی تکذیب کرنا اس پر واجب ہے اگرچہ اس کو زنا کے وقوع کا یقین ہو مگر وہ چار گواہ مہیا نہ کرسکے تب بھی اس الزام کی تردید کرنا اس پر واجب ہے۔ اگر بہتان طرازی کرنے والا توبہ کر کے اپنے عمل کی اصلاح کرلے اور برائی کی بجائے بھلائی کو وتیرہ بنا لے تو اس کا فسق زائل ہوجائے گا اور صحیح مذہب ہے کہ اس کی شہادت بھی قابل قبول ہے کیونکہ جو کوئی توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ بہتان لگانے والے کو اس صورت میں کوڑے مارے جائیں گے جب وہ چار گواہ مہیا نہ کرسکے اور جس پر اس نے بہتان لگایا ہے وہ اس کی بیوی نہ ہو۔ اگر جس پر اس نے بہتان لگایا ہے وہ اس کی بیوی ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس صورت حال کا ذکر اس طرح کیا ہے۔
Ayahs 24:6–10

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور خود ان کے سوا ان کے گواہ نہ ہوں تو ہر ایک کی شہادت یہ ہے کہ پہلے تو چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بیشک وہ سچا ہے

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں بار یہ (کہے) کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر خدا کی لعنت

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور عورت سے سزا کو یہ بات ٹال سکتی ہے کہ وہ پہلے چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بیشک یہ جھوٹا ہے

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں دفعہ یوں (کہے) کہ اگر یہ سچا ہو تو مجھ پر خدا غضب نازل ہو

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی (تو بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتیں) مگر وہ صاحب کرم امین ہے اور یہ کہ خدا توبہ قبول کرنے والا اور حکیم ہے

(آیت نمبر (6 بیوی پر زنا کا الزام لگانے کی صورت میں شوہر کی چار گواہیاں اسے قذف کی حد سے بچا سکتی ہیں کیونکہ غالب حالات میں شوہر بیوی پر زنا کا بہتان نہیں لگاتا جس سے اس کی بیوی کے ساتھ ساتھ اس کی اپنی شخصیت بھی عیب دار ہوتی ہے سوائے اس صورت میں کہ جب وہ الزام لگانے میں سچا ہو۔ نیز شوہر کا اس بارے میں حق ہے اور اسے اس بات کا بھی خوف ہوتا ہے کہ کہیں ایسی اولاد کا اس سے الحاق نہ ہوجائے جو اس کی نہیں ہے ‘ نیز اس میں بعض دیگر حکمتیں بھی ہیں جو دوسرے احکام میں موجود نہیں ہیں۔ اس لیے فرمایا : (والذین یرمون ازاجھم) اور وہ جو تہمت لگائیں اپنی بیویوں پر “ یعنی لونڈیوں پر نہیں بلکہ آزاد عورتوں پر ‘ جو بیویاں ہوں ( ولم یکن لھم ) ” اور نہ ہوں ان کے لیے “ اس الزام پر (شھدآء الا انفسھم) ” اپنے سوا کوئی اور گواہ “ جنہیں وہ اپنے اس الزام پر اپنا گواہ بنا سکیں۔ ( فشھادۃ احدھم اربع شھدت با للہ انہ لمن الصدیق ) ” تو ان میں سے ایک کی گواہی ‘ چار گواہیاں دینی ہیں اللہ کی کہ وہ سچا ہے۔ “ ( یعنی اپنی سچائی پر چار قسمیں کھائے) اللہ تعالیٰ نے ان قسموں کو ( شھادت) کہا ہے کیونکہ یہ قسمیں گواہوں کے قائم مقام ہیں ‘ قسمیں اٹھانے والا یہ الفاظ کہتا ہے ” میں اللہ کو گواہ بنا کر گواہی دیتا ہوں کہ ‘ میں نے جو الزام لگایا ہے ‘ میں اس میں سچا ہوں۔ “ (والخامسۃ ان لعنت اللہ علیہ ان کان من الکذبین ) ” پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو ‘ اگر وہ جھوٹا ہو۔ “ یعنی ان گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے ان مذکورہ گواہیوں کے ساتھ پانچویں مرتبہ اپنے لیے لعنت کی بددعا کرے۔ جب لعال مکمل ہوجائے تو اس سے قذف کی حد ساقط ہوجائے گی۔ آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کے ساتھ اس نے اپنی بیوی کے ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے تبعاً اس کا حق بھی ساقط ہوجائے گا۔ ( یعنی اس کی طرف سے بھی اس خاوند پر حد قذف نہیں لگائی جائے گی۔ شوہر کے لعان کرنے اور بیوی کے لعان کرنے سے گریز کرنے پر ‘ کیا بیوی پر حد جاری کی جائے گی ‘ یا اس کو قید کیا جائے گا ؟ اس بارے میں اہل علم کی دو آراء ہیں۔ وہ رائے جس کی تائید دلیل کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس پر حد قائم کی جائے گی ‘ جیسے فرمایا ( وید روا عنھا العذاب ان تشھدا اربع شھدت با للہ انہ لمن الکذبین) ’ ’ اور اس عورت کا چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر ‘ یہ کہنے سے کہ وہ ( خاوند) جھوٹا ہے ‘ اس سے سزا کو ٹال دے گا۔ “ عذاب “ سے مراد وہ حد نہ ہوتی جو شوہر کے لعان کی وجہ سے واجب ہوئی ہے تو عورت کا لعان اس عذاب کو ہٹانہ سکتا اور عورت سے ہذاب کو دور کردیا جائے گا جب وہ شوہر کی گواہیوں کا اسی جیسی گواہیوں کے ذریعے سے مقابلہ کرے گی ( ان تشھد اربع شھدت باللہ انہ لمن الکذبین ) ” وہ چار مرتبہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ “ اور پانچویں گواہی میں ‘ جو ان چار گواہیوں کو موکد بنانے کے لیے ہے اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے غضب کی دعا کرے گی۔ پس جب اس طرح ان کے مابین لعان مکمل ہوجائے گا تو ہمیشہ کے لیے ان کو ایک دوسرے سے علییحدہ کردیا جائے گا اور شوہر سے بچے کے نسب کی نفی ہوجائے گی۔ آیات کریمہ کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ مرد اور عورت کی طرف سے لعان انہیں مذکورہ الفاظ اور ترتیب سے مشروط ہے ‘ ان میں کمی بیشی یا ردو بدل جائز نہیں ‘ نیز لعان صرف شوہر کے ساتھ مختص ہے ‘ جب وہ اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے ‘ مگر اس کی بیوی ایسا نہیں کرسکتی۔ لعان کے لیے بچے میں مشابہت معتبر نہیں ‘ جس طرح ” فراش “ ( یعنی نکاح کی موجودگی میں معتبر نہیں ‘ مشابہت تو صرف وہاں معتبر ہے جہاں مشابہت کے سوا کوئی اور ترجیح دینے والی چیز نہ ہو ‘ تو وہاں مشابہت یقینًا متعتبر ہوگی۔ (ولو لا فضل اللہ علیکم و رحمتہ وان اللہ تواب حکیم) شرط کا جواب محذوف ہے جس پر سیاق کلام دلالت کرتا ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل نہ ہوتا تو دونوں لعان کرنے والوں میں سے جھوٹے پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوجاتا جس کی اس نے دعا کی تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہے کہ اس نے یہ حکم نازل فرمایا جو میاں بیوی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ اس حکم کی سخت ضرورت تھی ‘ نیز اس نے تمہارے سامنے زنا اور قذف کی قباحت اور شدت کو واضح کیا اور اس نے ان کبیرہ گناہوں سے توبہ کو مشروع فرمایا۔
Ayahs 24:11–26

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے ان میں سے جس شخص نے گناہ میں جتنا حصہ لیا اس کے لئے اتنا وبال ہے اور جن نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

جب تم نے وہ بات سنی تھی تو مومن مردوں اور عورتوں نے کیوں اپنے دلوں میں نیک گمان نہ کیا ؟ اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح طوفان ہے ؟

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

یہ (افترا پرداز) اپنی بات (کی تصدیق) کے (لئے) چار گواہ کیوں نہ لائے ؟ تو جب یہ گواہ نہیں لاسکے تو خدا کے نزدیک یہی جھوٹے ہیں

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات کا تم چرچا کرتے تھے اس کی وجہ سے تم پر بڑا (سخت) عذاب نازل ہوتا

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور جب تم نے اسے سنا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں شایان نہیں کہ ایسی بات زبان پر لائیں (پروردگار) تو پاک ہے یہ تو (بہت) بڑا بہتان ہے

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

خدا تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر مومن ہو تو پھر کبھی ایسا (کام) نہ کرنا

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور خدا تمہارے (سمجھانے کے لئے) اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بےحیائی (یعنی تہمت بدکاری کی خبر) پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اسکی رحمت نہ ہوتی (تو کیا کچھ نہ ہوتا مگر وہ کریم ہے) اور یہ کہ خدا نہایت مہربان و رحیم ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

مومنو ! شیطان کے قدموں پر نہ چلنا اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو شیطان تو بےحیائی (کی باتیں) اور برے کام ہی بتائے گا اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم میں پاک نہ ہوسکتا مگر خدا جس کو چاہتا ہے پاک کردیتا ہے (اور) خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں صاحب فضل (اور صاحب) وسعت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دیں گے ان کو چاہیے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں کیا تم پسند نہیں کرتے ہو کہ خدا تم کو بخش دے ؟ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

جو لوگ پرہیزگار اور برے کاموں سے بیخبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت (دونوں) میں لعنت ہے اور ان کو سخت عذاب ہوگا

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

(یعنی قیامت کے روز) جس دن ان کی زبانیں ہاتھ اور پاؤں (سب) ان کے کاموں کی گواہی دیں گے

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن خدا ان کو (ان کے اعمال کا) پورا پورا (اور) ٹھیک بدلہ دے گا اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا برحق (اور حق کو) ظاہر کرنے والا ہے

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے یہ (پاک لوگ) ان (بد گویوں) کی باتوں سے بری ہیں (اور) ان کے لئے بخشش اور نیک روزی ہے

آیت (11 چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون ‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح ‘ سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔ اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ میں تھے ‘ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق ؓ عنھما بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ‘ حضرت عائشہ ؓ عنھما کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان کو ہودج میں حضرت عائشہ ؓ عنھما کی عدم موجودگی کا علم نہ ہوا اور لشکر کوچ کر گیا۔ حضرت عائشہ ؓ عنھما ہار کی تلاش کے بعد واپس اس جگہ پہنچیں تو لشکر موجود نہ تھا۔ حضرت عائشہ ؓ عنھما کو معلوم تھا کہ جب لشکر والے انہیں مودج میں مفقود پائیں گے تو واپس لوٹیں گے۔ پس انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا اور صفوان بن معطل سلمی ؓ عنھما افاضل صحابہ میں شمار ہوتے ہیں انہوں نے لشکر کے آخری لوگوں کے ساتھ رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا اور سوتے رہ گئے تھے۔ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ عنھما کو دیکھا تو پہچان لیا حضرت صفوان ؓ عنھما نے اپنی سواری بٹھائی اور حضرت عائشہ ؓ عنھما کو اس پر سوار کرایا۔ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ عنھما سے کوئی بات کی نہ حضرت عائشہ ؓ عنھما نے ان سے کوئی بات کی ‘ پھر وہ حضرت عائشہ ؓ عنھما کی سواری کی مہار پکڑے دوپہر کے وقت جبکہ لشکر بھی پڑاؤ کے لیے اتر اچکا تھا ‘ پڑاؤ میں پہنچ گئے۔ پس جب منافقیر میں سے ‘ جو اس سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھے ‘ کسی نے حضرت صفوان ؓ عنھما کو اس حالت میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما کے ساتھ آتے دیکھا تو اس نے بہتان طرازی کی خوب اشاعت کی ‘ بات پھیل گئی ‘ زبانیں ایک دوسرے سے اخذ کرتی چلی گئیں یہاں تک کہ بض مخلص مومن بھی دھوکہ کھاگئے اور وہ بھی بات پھیلانے کے مرتکب ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ پر طویل مدت تک وحی ناز ( علیہ السلام) نہ ہوئی بہت مدت کے بعد حضرت عائشہ ؓ عنھما کو منافقین کے بہتان کا علم ہوا اس پر انہیں شدید صدمہ پہنچا ‘ چناچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عائشہ ؓ عنھما کی براءت میں یہ آیات کریمہ نازل فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی اور ان کو مفید وصیتوں سے سرفراز کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان الذین جاء و بال افک ) ” وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں۔ “ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ (عصبۃ منکم) اے مومنو ! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمہاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ (لا تحسبوہ شرا لکم بل ھو خیر لکم ) ” تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو ‘ بلکہ وہ تمہارے بہتر ہے۔ “ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ عنھما کی براءت ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کردیتا ہے ‘ اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پر عیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت ‘ ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد و احد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب نہ لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیر خواہی کا نہ ہونا ہے۔ (لکل امری منھم ما اکتسب من الاثم) ” ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔ “ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنہوں نے حضرت عائشہ طاہرہ ؓ عنھما پر بہتان لگایا تھا اور انہیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی ‘ چناچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم ﷺ نے حد جاری فرمائی (والذی تولی کبرہ ) ” جس نے اس کے بڑے حصے کو سر انجام دیا ہے۔ “ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق ‘ عبداللہ بن ابی ابن سلول (لعنہ اللہ) (لعنہ اللہ) ( لہ عذاب عظیم) اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔ “ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انہیں کیا کرنا چاہیے ‘ چناچہ فررمایا : ( لو لآ اذسمعتموہ ظن المومنون والمومنت بانفسھم خیر) ” کیوں نہیں ‘ جب سنا تم نے اس ( بہتان) کو گمان کیا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کا۔ “ یعنی مومنین ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور وہ ہے اس بہتان سے محفوظ ہونا جو ان منافقین نے گھڑا ہے۔ ان کا ایمان ‘ ان کو اس بہتان طرازی سے روکتا ہے۔ (وقالو) “ اور وہ کہتے یعنی اس حسن ظن کی بنا پر : (سبحنک) اے اللہ ! تو برائی سے پاک اور منزہ ہے تو اپنے محبوب بندوں کو اس قسم کے مبیح امور میں مبتلا نہیں کرتا۔ (ھذا افک مبین ) ” یہ تو کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔ “ اس کا جھوٹ اور بہتان ہونا ‘ سب سے واضح اور سب سے بڑی بات ہے۔ بندہ مومن پر واجب ہے کہ جب وہ اپنے مومن بھائی کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے تو اپنی زبان سے اس کی براءت کا اظہار اور اس قسم کا بہتان لگانے والے کی تکذیب کرے۔ (لو لا جاؤ علیہ با ربعۃ شھداء) یعنی یہ بہتان طراز اپنے بہتان پر چار عادل اور متعتبر گواہ کیوں نہیں لائے۔ (فاذ لم یا توا بالشھداء فا ولئک عند اللہ ھم الکذبون ) ” پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے ہاں وہ جھوٹے ہیں۔ اگرچہ انہیں اپنے بارے میں یقین ہی کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ جھوٹے ہیں۔ ( کیونکہ انہیوں نے چار گواہ پیش نہیں کئے) اور اللہ تعالیٰ نے چار گواہوں کے بغیر ایسی بات منہ سے نکالنا حرام قرار دے دیا ہے۔ بناء بریں فرمایا : (فاولئک عند اللہ ھم الکذبون) اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : ( فاولئک ھم الکاذبون) ” وہ جھوٹے ہیں “ یہ سب کچھ مسلمان کی عزت و ناموس کی حرمت کی بنا پر ہے۔ شہادت کے پورے نصاب کے بغیر ‘ اس کی عزت و آبرو پر الزام لگانا جائز نہیں۔ ( ولو لا فضل اللہ علیکم و رحمتہ فی الدینا والاخرہ ) ” اور اگر دنیا و آخرت میں ( تمہارے دینی اور دنیاوی امور میں) تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی رحمت سایہ کناں نہ ہوتی “ ( لمسکم فی ما افضتم فیہ ) ” تو ضرور پہنچتا تمہیں اس بات کی وجہ سے جس کا چرچا تم نے کیا۔ “ یعنی جس بہتان طرازی میں تم شریک ہوئے ہو (عذاب عظیم) ” بہت بڑا عذاب۔ “ کیونکہ تم اپنی بہتان طرازی کی بنا پر اس عذاب کے مستحق ہوگئے تھے مگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی بےپایاں رحمت تھی کہ اس نے تمہارے لیے توبہ مشروع کی اور عقوبت کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔ (اذ تلقو نہ بالسنتکم) اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل درنقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے۔۔۔۔ حالانکہ وہ باطل قول تھا۔ (وتقولون بافواھکم ما لیس لکم بہ علم) ” اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں علم ہی نہیں تھا) دونوں امور حرام ہیں ‘ یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا (و تحسبونہ ھینا) ” اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے “ اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا ‘ بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے (و ھو عند اللہ عظیم) ” حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔ “ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجرو توبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے ‘ بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہوجاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہوجاتا ہے۔ (ولو لا اذ سمعتموہ) یعنی اے مومنو ! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ( قلتم) تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا ؟ (ما یکون لنا ان نتکلم بھذا) اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے مبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ (ھذا بھتان عظیم) ” یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔ “ (یعظکم اللہ ان تعودوالمثلہ) یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ( روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمہاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انہیں قبول کریں ان کے سامنے سر تسلیم خم کریں ‘ ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ (ان اللہ نعما یعظکم بہ) (النساء 58/4” اللہ تمہیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔ “ (ان کنتم مومنین) ” اگر تم مومن ہو۔ “ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق ‘ صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ (ویبین اللہ لکم الایت) ” اور اللہ تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔ ” جو احکامات ‘ وعظ و نصیحت ‘ زجرو توبیخ ‘ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے (واللہ علیم) یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے۔ (حکیم) اور اس کی حکمت عام ہے ‘ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمہیں علم سکھایا ‘ اگرچہ یہ علم ہر وقت تمہارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔ (ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ) ” جو لوگ بےحیائی پھیلانے کے آرز مند رہتے ہیں۔ “ یعنی جو چاہتے ہیں کہ قبیح امور کی اشاعت اور فواحش کا چلن ہو (فی الذین امنوا لھم عذاب الیم ) ” اہل ایمان میں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ “ یعنی قلب و بدن کو سخت تکلیف دینے والا عذاب اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھوکہ کیا ‘ ان کے لیے برا چاہا اور ان کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی جرات کی۔ صرف فواحش کی اشاعت کی خواہش اور دل میں ان کی چاہت کی بنا پر اتنی بڑی وعید سنائی ہے ‘ تو ان امور پر وعید کا کیا حال ہوگا جو اس سے زیادہ بڑے ہیں۔ مثلاً فواحش کا اظہار اور ان کو نقل کرنا ‘ خواہ فواحش صادر ہوں یا صادر نہ ہوں۔ یہ تمام احکامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ جس طرح اس نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی اور ان کو ایسے امور کا حکم دیا جو خالص اور باہمی محبت کا تقاضا ہیں ‘ نیز نہیں حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور وہ کچھ ان کے لیے بھی ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں۔ (واللہ یعلم و انتم لا تعلمون ) ” اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ “ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمہیں تعلیم دی اور تم پر وہ سب کچھ واضح کیا جس سے تم لا علم تھے۔ (ولو لا فضل اللہ علیکم ) ” اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا۔ “ جس نے تمہیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے (ورحمتہ و ان اللہ رؤف رحم) ” اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔ “ تو وہ تمہارے سامنے یہ احکام ‘ مواعظ اور جلیل القدر حکمتیں بیان نہ کرتا نیز وہ اس شخص کو ڈھیل اور مہلت بھی نہ دیتا ‘ جو اس کے حکم کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے اور یہ اس کا وصف لازم ہے کہ اس نے تمہارے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ترجیح دی جسے تم شمار نہیں کرسکتے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (یا یھا الذین امنو لا تتبعوا خطوت الشیطن) ” اے ایمان والو ! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔ “ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ ( خطوات الشیطان) ” شیطان کے نقش قدم “ میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب ‘ زبان اور بدن سے متعلق ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمہارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا : (ومن یتبع خطوت الشیطن فانہ ) ” اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی ‘ تو بیشک وہ “ یعنی شیطان (یامرو بالفحشاء) ” حکم دیتا ہے فحشاء کا۔ “ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔ (والمنکر) ” اور منکر کا “ اور (منکر) وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوس پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے ‘ اہس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔ (ولو لا فضل اللہ علیکم و رحمتہ ما زکی منکم من احد ابدا) ” اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی ‘ تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔ “ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قد کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نففس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے ‘ بندے کو برائے کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کردیا جائے تو کوئی شخض شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے سے پاک نہیں ہوسکتا کیونکہ ” تزکیہ “ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کرلیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں۔ نبی مصطفیٰ ( یہ دعا کیا کرتے تھے : ( اللھم رب نفسی تقواھ وزکھا انت خیر من زکاھ اٰنت ولیھا ومولھا ) ” اے اللہ ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر ‘ اسے پاک کر ‘ تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔ “ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولکن اللہ یزکی من یشاء) ” اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ “ ہے اسی لیے فرمایا (واللہ سمیع علیم) اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ “ (ولا یتل) یعنی قسم نہ اٹھائیں (اولوا الفضل منکم والسعۃ ان یوتو اولی القربی والمسکین والمھجرین فی سبیل اللہ ولیعفوا ولیصفحوا) ” جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں ‘ رشتے داروں مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کردیں اور درگزر سے کام لیں۔ “ واقعہ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہ ؓ بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیق ؓ کے رشتہ دار تھے ‘ وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہ ؓ کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق ؓ نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے ( جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انہیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔ پس فرمایا : (الا تحبون ان یغفر اللہ لکم واللہ غفور رحیم ) ” کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ “ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیق ؓ نے یہ آیت کریمہ سنی تو انہوں نے کہا :” کیوں نہیں اللہ کی قسم ! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔ “ چناچہ انہوں نے دوبارہ حضرت مسطح ؓ کی مالی مدد شروع کردی۔ (I) یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے ‘ نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سر زد کیوں نہ ہوا ہو ‘ اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا : (ان الذین یرمون المحصنت) ” وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔ “ یعنی فسق وفجور سے پاک عورتیں (الغفلت المومنت) بیخبر ‘ مومن عورتوں پر۔ “ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا (لعنوا فی الدنیا والاخرۃ) ” ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔ “ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اس طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مود قرار دیا گیا ہے (ولھم عذاب عظیم) ” اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔ “ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔ یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہوگا (یوم تشھد علیھم السنتھم و ایدیھم وارجلھم بما کانوا یعملون) جس (قیامت کے) روز ہر عضو اپنے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہسی انہیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے پس بندے سے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہوگا۔ یقیناً وہ ہستی جس نے بندوں کے نفوس ہی میں سے گواہ برپا کئے اس نے بندوں کے ساتھ انصاف کیا۔ (یومئذ یوفیھم اللہ دینھم الحق ) ” اس دن اللہ ان کو حق کے مطابق پوری پوری جزا دے گا۔ “ یعنی ان کے اعمال کا بدلہ حق کے ساتھ ہوگا جو عدل و انصاف پر مبنی ہوگا۔ ان کو اپنے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی اور وہ ان اعمال میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے۔ (ویقولون یویلتنا مال ھذا الکتب لا یغادرصغیرۃ و لا کبیرۃ الا احضھا وٰ وٰجدھوا ما عملو حاضرا لا یظلم ربک احد) (الکھف (49/18:” اور پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی ! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے چھوٹی اور بڑی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو اس میں درج نہ ہوئی ہو اور انہیوں نے جو عمل کئے ان سب کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب ذرہ بھر کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ “ اس عظیم مقام پر انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے ‘ انہیں یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ واضح حق اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے۔ اس کے تمام اوضاف عظیم حق ہیں ‘ اس کے افعال حق ہیں ‘ اس کی عبادت حق ہے ‘ اس سے ملاقات ہونا حق ہے ‘ اس کا وعدہ و وعید اور اسکا حکم دینی و جزائی حق ہے اور اس کے رسول حق ہیں۔ پس حق صرف اللہ تعالیٰ ہی میں منحصر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ حق ہے۔ (الخبیثت لل خبیثین والخبیثون للخبیثت) یعنی تمام ناپاک مردوزن ‘ تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال نا پاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال ‘ اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردو زن ‘ پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق ‘ اسی کے مناسب حال ‘ اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے ‘ انبیائے کرام (علیہ السلام) ‘ خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیھم السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ‘ کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہوسکتی ہیں۔ بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ میں جرح و قدح خود رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہونے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جاسکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے ؟ وہ عورتوں میں ” صدیقہ “ کے مرتبے پر فائز ہیں ‘ عورتوں میں سب سے افضل ‘ سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ و طاہرہ اور رب العالمین کے رسول ﷺ کی محبوبہ ہیں۔ صرف حضرت عائشہ ؓ عنھما تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو بھی آپ پر وحی نازل ہوجاتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی ‘ چناچہ فرمایا : (اولئک مبرون مما یقولون ) ” یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں۔ “ اصولا یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی طرف ہے اور تبعا دیگر مومن ‘ پاک دامن اور بھولی بھالی بیخبر عورتوں کی طرف ہے (لھم مغفرۃ ) ” ان کے لیے بخشش ہے۔ “ جو سارے گناہوں پر حاوی ہوگی (ورزق کریم ) ” اور با عزت رزق “ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہوگا۔
Ayahs 24:27–29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

مومنو ! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں کے) گھروں میں گھر والوں سے اجازت لئے اور ان کو سلام کئے بغیر داخل نہ ہوا کرو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے (اور ہم یہ نصیحت اس لئے کرتے ہیں کہ) شاید تم یاد رکھو

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

اگر تم گھر میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو جب تک تم کو اجازت نہ دی جائے اس میں مت داخل ہو اور اگر یہ کہا جائے کہ (اس وقت) لوٹ جاؤ تو لوٹ جایا کرو یہ تمہارے لئے پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام تم کرتے ہو خدا سب جانتا ہے

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

(ہاں) اگر تم کسی ایسے گھر میں جاؤ جس میں کوئی بستا نہ ہو (اور) اس میں تمہارا اسباب (رکھا) ہو تم پر کچھ گناہ نہیں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے

آیت نمبر (27 اللہ باری تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ وہ اپنے گھر کے سوا دوسرے گھروں میں اجازت لیے بغیر داخل نہ ہوا کریں ‘ کیونکہ اس میں متعدد مفاسد ہیں : (i) جس کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اجازت طلبی نظر پڑنے سے بچاؤ ہی کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ “ اجازت طلبی میں خلل واقع ہوجانے سے گھر کے اندر ستر پر نظر پڑتی ہے۔ کیونکہ گھر انسان کے لیے باہر کے لوگوں سے ستر اور پردہ ہے جیسے کپڑا جسم کو چھپاتا ہے۔ (2) اجازت طلب کئے بغیر گھر میں داخل ہونا ‘ داخل ہونے والے کے بارے میں شک کا موجب ہے اور وہ برائی یعنی چوری وغیرہ سے متہم ہوتا ہے کیونکہ گھر میں خفیہ طور پر داخل ہونا شر پر دلالت کرتا ہے۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے سے منع کردیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اجازت طلب کرلیں۔ یہاں ( استذان) کو ( استن اس) اس لیے کہا گیا ہے کہ اس سے انس حاصل ہوتا ہے اور اس کے معدوم ہونے سے وحشت حاصل ہوتی ہے۔ (وتسنموا علی اھلھا) ” اور گھر میں رہنے والوں کو سلام کرو “ حدیث شریف میں اس کا یہ طریقہ بیان ہوا ہے کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے کہو : ” السلام علیکم ! اور پھر پوچھو ‘ کیا میں اندر آجاؤں ؟ “ (ذلکم) ” یعنی یہ مذکورہ اجازت طلبی (خیر لکم لعلکم تذکرون) ” تمہارے لیے بہتر ہے ‘ تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ “ کیونکہ اجازت طلبی متعدد مصالح پر مشتمل ہے اور اس کا شمار ایسے مکارم اخلاق میں ہوتا ہے جن کو اپنا نا واجب ہے۔ پس اگر گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے تو اجازت طلب کرنے والے کو داخل ہونا چاہیے۔ (فان لم تجدو افیھا احدا فلا تد خلوھا حتی یوذن لکم وان قیل لکم ارجعوا فارجعو) ” اگر وہاں تمہیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر بھی اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ اور اگر تمہیں لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ جاؤ۔ “ یعنی اگر تمہیں واپس لوٹنے کے لیے کہا جائے تو انکار نہ کرو اور نہ اس پر ناراضگی کا ہی کا اظہار کرو کیونکہ صاحب خانہ نے تمہیں کسی ایسے امر سے نہیں روکا جو تمہارا حق واجب ہو یہ تو اس کی صوابدید اور نوازش ہے چاہے اجازت دے ‘ چاہے انکار کر دے۔ تم میں سے کسی کو ہتک اور انقباض محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ (ھواز کی لکم) تمہیں برائیوں سے پاک کرنے اور تمہاری نیکیوں میں اضافہ کنے کے لیے یہ طریق کار تمہارے لیے بہتر ہے (واللہ بما تعملون علیم ) ” اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔ “ پس اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے تھوڑے یا زیادہ ‘ اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دے گا۔ یہ حکم ان گھروں کے لیے ہو جو آباد ہیں خواہ ان میں آدمی کا مال و متاع موجود ہو یا نہی ہو۔ نیز یہ حکم ان گھروں کے لیے بھی ہے جن میں رہائش نہ ہو مگر اس میں آدمی کا کوئی مال و متاع موجود ہو۔ رہے وہ گھر جن میں گھر والے رہائش نہ رکھے ہوئے ہوں اس گھر میں داخل ہونے کے ضرورت مند شخص کا مال و متاع اس گھر میں موجود ہو ‘ اس گھر میں گھر کے مالکان میں سے کوئی ایسا شخص بھی موجود نہ ہو جس سے اجازت طلب کی جاسکتی ہو مثلاً : کرائے کے مکانات وغیرہ۔۔۔ تو ایسے گھروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( لیس علیکم جناح) ان گھروں میں داخل ہونے میں تمہارے لیے کوئی حرج ہے نہ گناہ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ بالا گھروں میں اجازت حاصل کئے بغیر داخل ہونا حرام ہے اور اس میں حرج اور گناہ ہے۔ (ان تدخلوا بیوتا غیر مسکونۃ فیھا متاع لکم) ” یہ کہ ایسے گھروں میں تم داخل ہو جن میں رہائش نہ ہو ‘ البتہ اس میں تمہارا سامان ہو۔ “ یہ حکم قرآن کریم کے تعجب انگیز احترازات میں سے ایک ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (لا تدخلوا بیوتا غیر بیوتکم) ” اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو۔ “ ہر گھر کے بارے میں لفظ عام ہے جو اس کی ملکیت میں تو نہیں ہیں البتہ اس کی کوئی متاع وہاں موجود ہے اور اس گھر میں کسی کی رہائش نہیں ہے ‘ پس اللہ تعالیٰ نے اس گھر میں داخل ہونے میں حرج کو ساقط کردیا۔ (واللہ یعلم ما تبدون و ماتکتمون) اللہ تعالیٰ تمہارے تمام ظاہری اور باطنی احوال کو خوب جانتا ہے اور اسے تمہارے مصالح کا بھی علم ہے اس لیے اس نے تمہارے لیے ایسے احکام کی تشریع کی ہے جن کے تم محتاج اور ضرورت مند ہو۔
Ayah 24:30

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں یہ انکے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے (اور) جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اللہ ان سے خبردار ہے

(آیت نمبر 30) (قل للمومنین) مومنوں سے فرمائیے اور ان لوگوں سے کہ دیجیے جن کے پاس کچھ ایمان ہے جو انہیں ایسے امور میں پڑنے سے روکتا ہے جو ایمان میں خلل ڈالتے ہیں۔ ( یغضوا من ابصارر ھم ) ” وہ اپنی نظروں کو پست رکھیں۔ “ یعنی قابل ستر اور اجنبی عورتوں کی طرف سے اپنی نظروں کو ہٹا لیا کریں ‘ ان بےریش لڑکوں پر سے بھی نظر ہٹا لیں جن کو دیکھنے سے فتنے میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو ‘ نیز دنیا کی زیب وزینت کی طرف بھی جن کو دیکھ کر فتنے میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو ‘ نیز دنیا کی زیب وزینت کی طرف بھی جن کو دیکھ کر فتنے میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو اور جو حرام میں مبتلا کردیتی ہیں۔ (وٰیحفظوا فروجھم) یعنی عورتوں یا مردوں کے ساتھ بدکاری یا ان کے علاوہ دوسری صورتوں سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ اسی طرح ان کو چھونے اور ان کو دیکھنے سے بچیں۔ (ذلک) آنکھوں اور شرم گاہ کی یہ حفاظت ( ازکی لھم) ان کے لیے زیادہ طہارت ‘ پاکیزگی اور ان کے اعمال خیر میں زیادہ اضافے کا باعث ہے کیونکہ جو کوئی اپنی نظر اور شرم گاہ کی حفاظت کرتا ہے اور اس گندگی سے پاک ہوجاتا ہے جس میں فواحش کے مرتکب لوگ ملوث ہوتے ہیں اور ان محرمات کو ترک کرنے سے ‘ نفس جن کی خواہش کرتا اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے ‘ اعمال خیر میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی چیز ترک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے۔ جو کوئی اپنی آنکھوں کو حرام پر پڑنے سے بچائے رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی بصیرت کو روشن کردیتا ہے۔۔۔ نیز اگر بندہ اپنی شرم گاہ اور نظر کو حرام اور اس کے کے مقدمات میں پڑنے سے بچا سکتا ہے درآنحالیکہ شہوت کا داعیہ پوری طرح موجود ہو ‘ تو وہ دوسرے حرام میں پڑنے سے اپنے آپ کو زیادہ بچا سکتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ” حفاظت “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ پس کسی محفوظ چیز کی حفاظت کے لیے نگرانی اور ان اسباب کو بروئے کار نہ لایا جائے جو اس کی حفاظت کے موجب بنیں تو وہ چیز محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اسی طرح نظر اور شرم گاہ کا معاملہ ہے ‘ اگر بندہ ان کی حفاظت کی کوشش نہیں کرتا تو وہ ان کو آزمائشوں اور مصیبتوں میں ڈال دیتی ہیں علاوہ ازیں غور کیجیے ‘ اللہ تعالیٰ نے کیسے شرم گاہ کی حفاظت کا مطلق طور پر حکم دیا ہے ‘ کیونکہ شرم گاہ ( کا غلط استعمال کسی حالت میں بھی جائز نہیں۔ لیکن نظر کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (یغضوا من ابصارھم) حرف جار (من) تبعیض پر دلالت کرتا ہے کیونکہ بعض حالات میں ‘ کسی ضرورت کے تحت غیر محرم چہروں کو دیکھنا جائز ہے۔ مثلاً گواہ ‘ حاکم اور نکاح کا پیغام دینے والے کے لیے غیر محرم چہروں پر نظر ڈالناجائز ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کئی اعمال کا ذکر فرمایا ہے تاکہ لوگ محرمات سے اپنے نفسوں کی حفاظت کرنے کی کوشش کریں۔
Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو اس میں سے کھلا رہتا ہو اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈیوں غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں سے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں کہ (چھنکار کی آواز کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے اور (مومنو ! ) سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ

(آیت نمبر (31 اللہ تعالیٰ نے مومنین کو نظریں جھکانے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا تو مومنات کو بھی نظر جھکانے اور شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا۔ فرمایا : (وقل للمومنت یغضضن من ابصار ھن) ” اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دیجیے ! کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ “ یعنی وہ ستر کی جگہوں اور مردوں پر شہوت کی نظر ڈالنے سے اپنی آنکھوں کو بچائے رکھیں (ویحفظنٰ فروجھن) اور جماع حرام سے اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ‘ نیز شرم گاہوں کو چھونے اور ان کی طرف حرام نظر سے ان کی حفاظت کریں۔ (ولا یبدین زینتھن) ” اور اپنی زیب وزینت کی نمائش نہ کریں “ مثلاً خوبصورت لباس ‘ زیورات اور تمام بدن زینت میں شمار ہوتے ہیں۔ چونکہ ظاہری لباس جس کو عادت کے مطابق پہنا جاتا ہے ‘ کی نمائش کو نہیں روکا جاسکتا اس لیے فرمایا : (الا ما ظھر منھا) ” مگر جو اس (زینت سے ظاہر ہو۔ “ یعنی وہ ظاہری لباس ‘ جو عام طور پر پہنا جاتا ہے ‘ اس لباس میں ایسی کوئی چیز نہ ہو جو فتنہ کو دعوت دیتی ہو۔ (ولیضریبن بخمر ھن علی جیوبھن ) ” اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں۔ “ اور یہ حکم کامل ستر پوشی کے لیے ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہ زینت جس کی نمائش حرام ہے اس میں تمام بدن داخل ہے جیسا کہ ہم اس کا ذکر کرچکے ہیں ‘ پھر زیب وزینت کی نمائش سے مکرر منع کرتے ہوئے اس میں سے ان لوگوں کو مستثنیٰ فرمایا : ( الا لبعولتھن) یعنی اپنے شوہروں کے سامنے زینت کا اظہار جائز ہے۔ (اواباءھن او اباء بعولتھن ) ” یا ان کے اپنے باپ دادا یا ان کے شوہروں کے باپ دادا کے سوا “ یعنی اس استثناء میں باپ دادا اوپر تک شامل ہیں۔ (او ابنا ءھن او ابناء بعولتھن) اور اس میں اپنے بیٹے ‘ اپنے خاوندوں کے بیٹے اور پوتے اور پر پتے بھی ‘ نیچے تک شامل ہیں۔ ( او اخوانھن او بنی اخوانھن ) ” یا بھائی یا بھتیجے “ خواہ وہ حققی (عینی) علاتی ( باپ شریک) یا اخیا فی ( ماں شریک) بھائی ہوں۔ ( اوبنی اخواتھن او نسا ءھن) “ یا بھانجے یا ان کی عورتیں۔ “ یعنی مسلمان عورتوں کے لیے ایک دوسری پر نظر ڈالنا مطلقاً جائز ہے۔ اس میں اس امر کا احتمال بھی ہے کہ اضافت جنسیت کی مقتضی ہو ‘ یعنی اپنی ” عورتوں “ سے مراد مسلمان عورتیں ہیں جو تمہاری جنس سے تعلق رکھتی ہیں تب اس میں ان لوگوں کے لیے دلیل ہے جن کا موقف ہے کہ مسلمان عورت کی طرف ذمی عورت کا دیکھنا جائز نہیں۔ (اوما ملکت ایمانھن) ” یا جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہوئے۔ “ یعنی اس غلام کے لیے جو گھر میں صرف خواتین کی خدمت کے لیے مامور ہے ‘ اپنی مالک کو اس وقت تک دیکھنا جائز ہے جب تک کہ مکمل طور پر اس کی ملکیت میں ہے جب ملکیت مکمل طور پر یا جزوی طور پر زائل ہوجائے تو مالکہ پر نظر ڈالنا جائز نہیں۔ (اوالتبعین غیر اولی الاربۃ من الرجال) یعنی وہ مرد جو تمہارے زیر دست ہیں اور تمہارے ساتھ ان کا تعلق ہے جو کسی قسم کی شہوانی اغراض نہ رکھتے ہوں ‘ مثلاً العقل لوگ ‘ جو شہوانی شعور نہیں رکھتے اور وہ لوگ جن میں عورتوں کے پاس جانے کی خواہش باقی نہ رہے ‘ ان کی شرمگاہ میں شہوت ہو نہ ان کے دل میں خواہش۔ ایسے شخص کے لیے نظر ڈالنا جائز ہے۔ (اوالطفل الذین لم یظھرو علی عورت النساء) یعنی وہ بچے جو اس قسم کی تمیز نہیں رکھتے ان کے لیے غیر عورتوں کو دیکھنا جائز ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ علت بیان کی ہے کہ وہ عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہیں نہ اس کا علم رکھتے ہیں اور نہ ان میں شہوت پائی جاتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایسے بچوں سے پردہ کرنا فرض ہے جو سن تمیز کو پہنچ چکے ہوں کیونکہ اب وہ عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہیں۔ (ولا یضرین با رجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن) یعنی وہ زمین پر پاؤں مار کر نہ چلیں تاکہ ان کے پہنے ہوئے زیورات مثلاً پازیب وغیرہ کی آواز نہ آئے اور اس سبب سے اس کی زینت ظاہر نہ ہو جو فتنے کا وسیلہ بن سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات سے ” سد ذرائع “ کے فقہی قاعدے کا استنباط کیا جاتا ہے ‘ یعنی کوئی امر ‘ اگرچہ وہ فی نفسہ مباح ہے مگر اس پر عمل کرنے سے کسی حرام امر کا ارتکاب ہوتا ہے یا اس کا خدشہ ہے ‘ تو سد ذریعہ کے طور پر یہ مباح امر ممنوع ہوجائے گا۔۔۔ زمین پر پاؤں مارنا فی نفسہ مباح ہے لیکن چونکہ یہ اظہار زینت کا ذریعہ ہے ‘ اس لیے پاؤں مار کر چلنے سے روک دیا گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین احکام کا حکم دیا ہے اور بہترین وصیتیں عنایت فرمائی ہیں۔ ان پر عمل کرنے میں بندہ مومن سے کوتاہی واقع ہونا ایک لابدی امر ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے توبہ کا حکم دیتے ہوئے فرمایا : (وتوبوا الی اللہ جمیع ایۃ المومنون) ” اور تمام مومنو ! اللہ کے ہاں توبہ کرو “ یہ حکم دینے کے بعد فلاح کو اس پر معلق رکھا ‘ چناچہ فرمایا : ( لعلکم تفلحون) ” تاکہ تم کامیابی حاصل کرو “ اور توبہ کیا ہے ؟ ان کا موں کو ظاہری اور باطنی طور پر ترک کر کے ‘ جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں ‘ ان امور کی طرف لوٹنا جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ہر مومن توبہ کا محتاج ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام اہل ایمان کو خطاب فرمایا ہے ‘ نیز اس آیت میں خالص توبہ کی ترغیب دی گئی ہے۔ ( وتو بوا الی اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے سوا اور کوئی مقصد نہ ہو۔ آفات دنیا ‘ ریاء اور شہرت وغیرہ جیسے فاسد مقاصد سے محفوظ ہو۔