Ayah 24:1(1) یہ سورت ہے جس کے الفاظ کو ہم نے بذریعہ جبریل امین ؑ نازل کیا ہے اور اس کے حلال و حرام کو بھی ہم ہی نے مقرر کیا ہے اور اس صورت میں ہم نے واضح طور پر اوامرو نواہی اور فرائض و حدود کو بیان کیا ہے تاکہ تم اوامرو نواہی کو سمجھو اور حدود کو معطل نہ کرو۔
Ayah 24:2(2) غیر شادی شدہ زنا کرنے والی عورت اور غیر شادی شدہ زنا کرنے والا مرد ان میں سے ہر ایک کو زنا کرنے پر سو سو درے مارو اور تم لوگوں کو ان دونوں پر حد قائم کرنے اور حکم الہی کو ان پر نافذ کرنے میں ذرا بھی رحم نہیں آنا چاہیے اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔
اور ان دونوں کو سزا دینے کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو موجود رہنا چاہیے تاکہ وہ حدود اللہ کو محفوظ کرلیں۔
Ayah 24:3(3) اور اہل کتاب میں سے علانیہ طور پر زنا کرنے والا مرد نکاح بھی کسی کے ساتھ نہیں کرتا سوائے اہل کتاب یا مشرکین میں سے کسی زانیہ کے اور اہل کتاب یا مشرکین کی زانیہ کے ساتھ بھی کوئی نکاح نہیں کرتا سوائے اہل کتاب میں سے کسی زانی یا مشرک کے اور یہ اس قسم کا نکاح جو اہل کتاب میں سے کسی زانیہ کے ساتھ من حیث الزانیہ ہو مشرکہ کے ساتھ ہو مسلمانوں پر حرام کردیا گیا ہے۔
یہ آیت کریمہ چند اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی، یہ لوگ اہل کتاب اور مشرکین عرب کی کنیزوں سے نکاح کرنا چاہتے تھے جو کہ کھلم کھلا زنا کاری میں مبتلا تھیں جس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی، انہوں نے اپنے ارادہ کو ترک کردیا۔
اور آیت کریمہ کی اس طرح بھی تفسیر کی گئی ہے کہ اہل قبلہ یا اہل کتاب کا زانی وہ اپنے ہی جیسی زانیہ یا اہل کتاب زانیہ یا مشرکہ ہی کے ساتھ نکاح کرتا ہے اور اہل قبلہ یا اہل کتاب کی زانیہ یا مشرکہ کے ساتھ اہل قبلہ یا اہل کتاب کا زانی یا مشرک ہی زنا کیا کرتا ہے اور یہ فعل زنا مسلمانوں پر حرام کردیا گیا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ الزانی لا ینکح الا زانیۃ“۔ (الخ)
امام نسائی ؒ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ ام مہزول نامی ایک عورت بدچلن تھی، اصحاب نبی اکرم ﷺ میں سے ایک صحابی نے اس سے نکاح کرنا چاہا تب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی، یعنی زانی نکاح بھی کسی کے ساتھ نہیں کرتا سوائے زانیہ یا مشرکہ کے، اور امام ابو داؤد ؒ، ترمذی ؒ نسائی ؒ اور امام حاکم ؒ نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے روایت نقل کی ہے کہ میرثد نامی ایک شخص مکہ مکرمہ سے قیدیوں کو لے جایا کرتے تھے۔
اور مکہ مکرمہ میں عناق نامی ایک عورت ان کی دوست تھی انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے اس عورت سے نکاح کرنے کی اجازت طلب کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی تب رسول اکرم ﷺ نے فرمایا اے مرثد کہ زانی نکاح بھی کسی کے ساتھ نہیں کرتا سوائے زانیہ یا مشرکہ کے لہذا تم اس عورت سے شادی مت کرو، اور سعید بن منصور ؒ نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زنا کو حرام کیا تو زانیہ عورتیں بہت خوبصورت تھیں تو لوگ آپس میں گفتگو کرنے لگے کہ پھر ان عورتوں سے نکاح ہی کیوں نہ کرلیں تب یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 24:4(4) اور جو لوگ آزاد مسلمان پاک دامن عورتوں کو زنا کی تہمت لگائیں پھر چار عادل مسلمان آزاد آدمیوں کو اپنے دعوے پر گواہ نہ لاسکیں تو ایسے لوگوں کو اس تہمت لگانے پر اسی درے لگاؤ اور ان کی کوئی گواہی کبھی قبول مت کرو، اور یہ لوگ فاسق ہیں۔
Ayah 24:5(5) لیکن جو لوگ یہ تہمت لگانے کے بعد اللہ کے سامنے توبہ کرلیں اور دیانت داری سے بھی اپنی پہلی حالت کی اصلاح کرلیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ تائب کی مغفرت فرمانے والا اور توبہ پر مرنے والے پر رحمت کرنے والا ہے۔
شروع سے لے کر یہاں تک کہ یہ آیت مبارکہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 24:6(6) اور جو لوگ اپنی منکوحہ بیویوں کو زنا کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس اس چیز پر اپنے علاوہ اور گواہ نہ ہو تو ایسا شخص چار مرتبہ اللہ وحدہ لاشریک کی قسم کھا کر یہ کہہ دے کہ میں نے اپنی عورت پر جو تہمت لگائی ہے اس میں، میں سچاہوں۔
شان نزول : (آیت) ”۔ والذین یرمون“۔ (الخ)
امام بخاری ؒ نے عکرمہ ؓ کے ذریعے سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی کو رسول اکرم ﷺ کے سامنے تہمت لگائی، رسول اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پشت پر حد قذف لگائی جائے گی انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر ہم میں کوئی شخص اپنی عورت کے ساتھ کسی کو برا کام کرتے دیکھے تو گواہ ڈھونڈتا پھرے۔ رسول اکرم ﷺ یہی فرماتے رہے گواہ لاؤ ورنہ تم پر حد قائم ہوگی۔
حضرت ہلال ؓ نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اپنی بات میں سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ضرور کوئی ایسا حکم نازل فرمائے گا جس سے میری پیٹھ سزا سے بچا دے گا۔ اس کے بعد جبریل امین ؑ تشریف لائے اور آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ”والذین یرمون ازواجھم“۔ (الخ) آپ نے (آیت) ”من الصادقین“۔ تک یہ آیات پڑھ کر سنائیں۔
اور نیز اسی روایت کو امام احمد ؒ نے انہی الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ”والذین یرمون المحصنات“ (الخ) تو حضرت سعد بن عبادہ ؓ انصار کے سردار کہنے لگے یا رسول اللہ کیا اسی طرح نازل ہوئی ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا اے انصار کی جماعت سن نہیں رہے کہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ان کو ملامت نہ کیجیے یہ بہت ہی باغیرت انسان ہیں اللہ کی قسم انہوں نے کنواری کے علاوہ اور کسی عورت سے کبھی شادی نہیں کی اور نہ کبھی کسی عورت کو طلاق دی ہے کہ ان کی غیرت کی شدت کی وجہ سے پھر ہم میں سے کسی کو جرأت ہو کہ وہ ان کی مطلقہ کے ساتھ شادی کرے، پھر حضرت سعد ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ میں جانتا ہوں کہ یہ بات حق ہے اور یہ حکم الہی ہے لیکن مجھے اس بات پر تعجب ہوا کہ اگر میں کسی بےوقوفہ کے ساتھ کسی نامحرم کو پاؤں تو مجھے اس نامحرم کو علیحدہ کرنے اور اس کو حرکت دینے کی بھی اجازت نہیں، جب تک کہ میں چار گواہ نہ لے آؤں تو خدا کی قسم میں گواہوں کو اس وقت تک نہیں لاؤں گا جب تک کہ وہ اپنی حاجت کو پورا نہ کرے اس کے بعد کچھ وقت نہیں گزرا تھا کہ ہلال بن امیہ آگئے اور وہ تین حضرات میں سے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول فرمائی ہے وہ اپنی زمین سے شام کو گھر آئے تو انہوں نے اپنی گھر والی کے پاس کسی شخص کو پایا یہ منظر انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے یہ باتیں سنیں تو وہ اس واقعہ سے بالکل نہیں گھبرائے یہاں تک کہ صبح ہوگئی وہ علی الصباح رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آکر عرض کیا کہ میں شام کے وقت اپنی گھر والی کے پاس آیا تو اس کے پاس ایک شخص کو دیکھا یہ چیز میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی اور یہ باتیں میں نے اپنے کانوں سے سنیں یہ جس واقعہ کی اطلاع لے کر آئے اس سے رسول اکرم ﷺ کو ناگواری ہوئی اور آپ پر یہ چیز گراں گزری، اتنے میں سب انصار جمع ہوگئے اور کہنے لگے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے اس وقت جو بات کہی تھی اس کی وجہ سے ہم سب آزمایش میں ڈال دیے گئے، رسول اکرم ﷺ ہلال بن امیہ کو سزا دیں گے اور ان کی گواہی کو مسلمانوں میں جھوٹی قرار دے دیں گے، حضرت ہلال ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم میں اس چیز کی امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس چیز سے میرے لیے نجات کا کوئی راستہ نکال دیں گے، سو اللہ کی قسم رسول اکرم ﷺ ان کو سزا دینے کے لیے حکم فرمانا ہی چاہ رہے تھے کہ آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوگئی تو سب ان سے رک گئے یہاں تک کہ آپ وحی سے فارغ ہوئے چناچہ آپ پر یہ آیات نازل ہوئیں یعنی جو لوگ اپنی منکوحہ عورتوں کو تہمت لگاتے ہیں، نیز ابویعلی نے اسی طرح حضرت انس ؓ سے روایت نقل کی ہے۔
اور امام بخاری ؒ اور مسلم ؒ نے مسہل بن سعد ؓ سے روایت کیا ہے کہ عویمر عاصم بن عدی کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میرا ایک مسئلہ رسول اکرم ﷺ سے پوچھو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی اجنبی آدمی کو پائے تو کیا کرے وہ اس کو مار ڈالے تو کیا وہ بھی بدلے میں قتل کردیا جائے گا تو پھر کرے تو کیا کرے چناچہ عاصم رسول اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے یہ مسئلہ دریافت کیا رسول اکرم ﷺ نے اس قسم کے سوال کو برا سمجھا، اس کے بعد عویمر سے ملاقات ہوئی، عویمر نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے کیا کیا عاصم نے جواب دیا میں کیا کرتا تم نے میرے ساتھ بھائی نہیں کی، میں نے آپ کا مسئلہ رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا تو آپ نے ایسے سوالات کو پسند نہیں فرمایا، عویمر بولے اللہ کی قسم میں تو رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور بغیر دریافت کیے ہوئے نہیں رہوں گا چناچہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے جا کر دریافت کیا، آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں حکم نازل کردیا ہے۔
حافظ بن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں کہ اس مقام پر ائمہ کرام کا اختلاف ہے کہ آیت مبارکہ کون سے واقعہ کے ماتحت نازل ہوئی ہے تو بعض حضرات نے اس چیز کو ترجیح دی ہے کہ یہ آیت حضرت عویمر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور بعض نے حضرت ہلال ؓ کے واقعہ کو ترجیح دی ہے کہ یہ آیت اس واقعہ میں نازل ہوئی ہے۔
اور بعض لوگوں نے دونوں واقعات میں موافقت میں موافقت کردی ہے کہ پہلے تو حضرت ہلال ؓ کا واقعہ پیش آیا اور پھر حضرت عویمر ؓ کے آنے سے اس واقعہ کی تائید ہوگئی پھر دونوں کے بارے میں ایک ساتھ آیت مبارکہ نازل ہوئی، امام نووی ؒ کا بھی اسی جانب رجحان ہے اور خطیب بھی یہی کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دونوں واقعے ایک ہی وقت پیش آئے ہوں۔
نیز حافظ بن حجر عسقلانی ؒ ان دونوں واقعات میں موافقت بیان کرتے ہیں کہ ممکن ہے حضرت ہلال ؓ کا واقعہ پیش آنے پر پہلے آیت کریمہ کا نزول ہوچکا ہو پھر جب حضرت عویمر ؓ اپنا واقعہ لے کر آئے اور انھیں اس بات کا علم نہ ہوا کہ حضرت ہلال ؓ کا کیا واقعہ ہوچکا ہے تو رسول اکرم ﷺ نے انھیں اس حکم سے مطلع فرما دیا یہی وجہ ہے کہ حضرت ہلال ؓ کے واقعہ میں تو یہ الفاظ ہیں کہ پھر جبریل امین نازل ہوئے اور حضرت عویمر ؓ کے واقعہ میں یہ الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں حکم نازل کردیا ہے یعنی تمہارے جیسا واقعہ پیش آچکا ہے اس کے اندر حکم نازل ہوگیا اور ابن الصباغ نے بھی شامل میں یہی جواب دیا ہے اور امام قرطبی کا میلان اس جانب ہے کہ دو مرتبہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہو کیوں کہ نزول آیت دو مرتبہ جائز ہے۔
اور بزار ؒ نے زیدبن مطیع ؒ کے ذریعے حضرت حذیفہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ؓ نے حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا اگر تم ام رومان کے ساتھ کسی اجنبی کو دیکھو تو تم کیا کرو گے، حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا میں ایسے شخص کے ساتھ بہت برا پیش آؤں گا پھر آپ حضرت عمر ؓ کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا عمر تم کیا کرو گے حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت بھیجوں گا اور ایسا شخص خبیث ہے، تب یہ آیت نازل ہوئی، حافظ بن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں اسباب النزول کے زیادہ تعداد میں ہونے میں کوئی حرج نہیں۔
Ayah 24:7(7) اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر میں اپنے دعوے میں جھوٹا ہوں۔
Ayah 24:8(8) اور اس کے بعد اس عورت سے زنا کی سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہے بیشک اس کا خاوند اپنے دعوے میں جھوٹا ہے۔
Ayah 24:9(9) اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہوا اگر میرا خاوند سچا ہو۔
Ayah 24:10(10) اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور کرم ہے تو وہ بیان فرما دیتا کہ تم میں سے جھوٹا کون ہے اور اللہ تعالیٰ تائب کی توبہ قبول فرمانیوالا اور حکمت والا ہے کہ اس نے مرد اور عورت کے درمیان ایسے موقع پر لعان کا فیصلہ فرمایا ہے، یہ آیت مبارکہ عاصم بن عدی انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ وہ اس غلطی میں پڑگئے تھے۔
Ayah 24:11(11) جن لوگوں نے حضرت عائشہ ؓ کی نسبت یہ طوفان بدتمیزی برپا کیا ہے وہ تم میں سے ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔
یہ آیات مبارکہ کذاب اور واقعہ کو گھڑنے والا عبداللہ بن ابی سلول منافق اور حسان بن ثابت انصاری اور مسطح بن اثاثہ اور عباد بن عبدالمطلب اور حمنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ ابی بن سلول منافق نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت صفوان ؓ پر تہمت لگائی تھی، اور یہ بقیہ مومن اس منافق کے کہنے میں آگئے تھے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس چیز کو اپنے حق میں آخرت میں بھی برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے حق میں ثواب و انجام کے اعتبار سے بہتر ہی بہتر ہے۔ ان میں سے ہر شخص کو جس نے جتنا اس معاملہ میں حصہ لیا تھا گناہ ہوا
اور ان میں سے جس نے یعنی عبداللہ بن ابی سلول منافق نے اس طوفان میں سب سے بڑا حصہ لیا ہے کہ اس واقعہ کو اس نے گھڑا اور سارے مدینہ میں اس کو پھیلایا اس کو سب سے بڑھ کر سخت سزا ہوگی کہ دنیا میں حد قذف اس پر لگائی جائے گی اور آخرت میں دوزخ میں جلے گا۔
شان نزول : (آیت) ”۔ ان الذین جآء و باالافک عصبۃ“۔ (الخ)
امام بخاری ؒ ومسلم ؒ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کی ہے فرماتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ جب کسی سفر پر تشریف لے جانا چاہتے تو بیویوں میں قرعہ ڈالتے جس کا نام نکل جاتا اس کو ساتھ لے جاتے ایک مرتبہ ایک جہاد پر تشریف لے گئے اور قرعہ میں میرا نام نکل آیا اس لیے میں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ چل دی یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہونے سے بعد کا ہے۔
چناچہ میں کجاوہ میں سوار ہو کر چلتی بھی تھی اور جہاں کہیں پڑاؤ ہوتا تھا میرا کجاوہ اتار لیا جاتا تھا غرض کہ ہم چل دیے جہاد سے فارغ ہونے کے بعد جب رسول اکرم ﷺ واپس ہوئے اور ہم سب مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے تو ایک رات کو حضور اکرم ﷺ نے کوچ کا اعلان فرما دیا، اعلان سنتے ہی میں بھی اٹھی اور پیدل جا کر لشکر سے نکل کر قضائے حاجت سے فارغ ہو کر منزل پر آئی سینہ کو ٹٹول کر دیکھا تو ظفاری نگینوں کا ہار جو میں پہنے ہوئی تھی نہ معلوم کہاں ٹوٹ کر نکل گیا فورا میں اس کی تلاش کے لیے لوٹی اور تلاش کرنے میں دیر لگ گئی جو گروہ میرا کجاوہ کستا تھا اس نے میرا کجاوہ کو اٹھا کر اسی اونٹ پر کس دیا جس اونٹ پر کہ میں سوار ہوتی تھی۔
کیوں کہ ان لوگوں کا خیال تھا کہ میں کجاوہ میں ہوں اور اس زمانہ میں عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں بھاری فربہ اندام نہیں ہوتی تھیں کھانا تھوڑا کھایا کرتی تھیں اور میں تو ویسے بھی نوخیز لڑکی تھی اس لیے جن لوگوں نے کجاوہ کو اونٹ پر اٹھا کر رکھا ان کو کجاوہ کی گرانی کا اندازہ نہ ہوا۔ غرض کہ اونٹ اٹھا کر وہ لوگ چل دیے اور لشکر کے چلے جانے کے بعد مجھ کو ہار مل گیا میں پڑاؤ پر آئی تو وہاں نہ کوئی کہنے والا تھا اور نہ کوئی جواب دینے والا میں اپنے پڑاؤ پر آگئی اور خیال کیا کہ جب میں لوگوں کو نہیں ملوں گی تو ضرور یہیں لوٹ کر آئیں گے میں اپنی جگہ بیٹھی ہوئی تھی کہ آنکھوں میں نیند غالب آگئی، اور میں سو گئی، صفوان بن معطل لشکر کے پیچھے پچھلی رات سے چلے آرہے تھے وہ صبح کو اس جگہ پہنچے، جہاں میں پڑی ہوئی سو رہی تھی دور سے انھیں ایک سوتا ہوا شخص معلوم ہوا میرے پاس آئے تو مجھ کو پہچان لیا کیوں کہ پردہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے میں ان کے سامنے نکلا کرتی تھی، انہوں نے جو مجھے دیکھ کر انا للہ پڑھی تو میری آنکھ کھل گئی انہوں نے مجھے پہچان لیا میں نے اپنا چہرہ چادر سے چھپا لیا اللہ کی قسم انہوں نے مجھ سے کوئی بات تک نہیں کی اور نہ میں نے سوائے انا للہ کے ان کی زبان سے اور کوئی کلمہ سنا، انہوں نے فورا یہ کیا کہ اپنی اونٹنی بٹھائی اور اس کا پاؤں اپنے پیر سے دبائے رکھا میں اونٹنی پر سوار ہوگئی وہ خود بےچارے پیدل چلتے رہے اور اونٹنی کو چلاتے رہے یہاں تک کہ ہم لشکر میں اس وقت پہنچے جب کہ عین دوپہر کو گرمی کی شدت میں وہ اترے ہوئے تھے اب لوگوں نے طوفان اٹھایا اور جس کی قسمت میں تباہی لکھی ہوئی تھی وہ تباہ ہوا اور سب سے بڑا اس طوفان کا بانی وموجد عبداللہ بن ابی بن سلول منافق ملعون تھا خیر ہم لوگ مدینہ منورہ پہنچے اور وہاں پہنچ کر میں بیمار ہوگئی اور ایک مہینہ تک میں بیمار رہی، لوگ طوفان برپا کرنے والوں کی باتوں کا چرچا کرتے رہے لیکن مجھ کو کچھ خبر نہ ہوئی ایک ذرا ساوہم مجھے اس بات سے پیدا ہوا کہ رسول اکرم ﷺ میری بیماری کے زمانہ میں جو مہربانیاں میرے حال پر فرمایا کرتے تھے وہ اس بیماری کے زمانہ میں نہیں پاتی تھی۔
رسول اکرم ﷺ میرے حجرے میں تشریف لاتے اور سلام کرنے کے بعد فرماتے اب کیسی ہو اور تشریف لے جاتے، اس سے بیشک مجھ کو وہم ہوا مگر اس طوفان کی مجھ کو خبر تک بھی نہ تھی، بیماری سے اچھی ہونے کے بعد لاغری اور کمزوری ہی کی حالت میں، میں باہر نکلی اور میرے ساتھ مسطح کی ماں مناصع کی طرف چلی مناصع اس زمانے میں ہمارا پائے خانہ تھا اور ہم راتوں رات وہاں جایا کرتے تھے اور اس زمانہ میں ہماری حالت بالکل ابتدائی عربوں کی طرح تھی، گھروں میں بیت الخلاء بنانے سے ہمیں تکلیف بھی ہوتی تھی، ام مسطح ابورہم بن مطلب بن عبد مناف کی لڑکی تھیں اور ان کی ماں ضمر بن عامر کی بیٹی تھیں جو حضرت ابوبکر ؓ کی خالہ تھیں اور ام مسطح کے شوہر کا نام اثاثہ بن عاد بن عبد المطلب تھا، غرض کہ ضرورت سے فارغ ہو کر میں اور ام مسطح گھر کی طرف آئے، راستہ میں ام مسطح اپنی چادر میں الجھ کر گریں اور بولیں مسطح ہلاک ہو میں نے کہا کہ تم نے برا کیا، کیا ایسے آدمی کو بددعا دیتی ہوں جو غزوہ بدر میں شریک ہوا ہے بولیں بھولی بھالی کیا تو نے اس کی بات نہیں سنی ؟ میں نے کہا اس کی کیا بات ہے چناچہ مسطح کی والدہ نے تہمت لگانے والوں کا قول بیان کیا یہ سن کر میری بیماری میں اور اس بیماری کا اضافہ ہوگیا گھر واپس آئی رسول اکرم ﷺ تشریف لائے انہوں نے سلام کرنے کے بعد پوچھا تمہارا کیا حال ہے میں نے عرض کیا کیا آپ کی اجازت ہے کہ میں اپنے والدین کے پاس چلی جاؤں، اس اجازت لینے کی غرض یہ تھی کہ میں اپنے والدین کی طرف سے اس بات کی تصدیق کرنا چاہتی تھی، چناچہ رسول اکرم ﷺ نے مجھے اجازت دے دی، میں اپنے والدین کے یہاں چلی آئی اور آکر والدہ سے پوچھا کہ لوگ کیا چہ میگوئیاں کر رہے ہیں انہوں نے کہا بیٹی تو غم مت کر کیوں کہ اللہ کی قسم اگر کوئی خوبصورت عورت ہوتی ہے اور اس کا خاوند اس سے محبت کرتا ہے اور اس کی سوکنیں بھی ہوتی ہیں تو سوکنیں اس پر بڑی بڑی باتیں رکھ دیا کرتی ہیں۔
میں نے کہا سبحان اللہ لوگ کیا کیا باتیں ملا رہے ہیں (اور آپ یہ کہہ رہے ہیں) غرض اس رات کو ساری رات میں روتی رہی اور میرے آنسو نہیں تھمے اور نہ نیند آئی، صبح کو میں رو ہی رہی تھی کہ رسول اکرم ﷺ نے حضرت علی ؓ اور حضرت اسامہ ؓ کو اپنی بیوی کے طلاق کے معاملہ میں مشورہ کے لیے طلب فرمایا کیوں کہ وحی آنے میں دیر ہوگئی تھی حضرت اسامہ ؓ نے تو وہی مشورہ دیا جو ان کو معلوم تھا کہ رسول اکرم ﷺ کی زوجہ مطہرہ پاک دامن ہے اور جیسا کہ ان کے دل میں آپ کی ازواج سے محبت تھی، چناچہ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ آپ کی بیوی ہیں ہمیں تو ان کے متعلق کسی برائی کا علم نہیں مگر حضرت علی ؓ نے عرض کیا یا رسول ﷺ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے تنگی نہیں رکھی ہے ان کے علاوہ عورتیں بہت ہیں اگر آپ خادمہ کو بلا کر دریافت کریں گے تو وہ آپ کو سچ سچ بیان کردیں گی اور عائشہ ؓ کی سچائی ظاہر ہوجائے گی، رسول اکرم ﷺ نے حضرت بریرہ ؓ کو بلایا اور فرمایا بریرہ ؓ تمہیں عائشہ ؓ کی طرف سے کبھی کوئی شک کی بات نظر آئی، حضرت بریرہ ؓ نے عرض کیا قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، میں نے تو عائشہ ؓ کی کوئی بات قابل گرفت کبھی دیکھی ہی نہیں۔ صرف اتنی بات ہے کہ وہ کمسن لڑکی ہیں، گھر کا گوندھا ہوا آٹا چھوڑ کر سو جاتی ہیں، بکری کا بچہ اس کو آکر کھا لیتا ہے اس کے بعد رسول اکرم ﷺ نے ممبر پر تشریف فرما ہو کر عبداللہ بن ابی سلول منافق مردود کے مقابل مدد چاہی، فرمایا مسلمانو ! کون میری حمایت کرتا ہے کون میری مدد کرتا ہے ایسے شخص کے مقابلہ میں جس کی جانب سے مجھے اپنے گھروالوں کے متعلق اذیت پہنچی ہے، اللہ کی قسم مجھے تو اپنی بیوی میں کوئی برائی نظر نہیں آتی لوگو میں ان کو نیک اور پاک دامن یہ سمجھتا ہوں اور جس شخص کا ذکر کیا ہے اس کو بھی نیک بخت جانتا ہوں وہ تو کبھی میرے گھر میں اکیلا نہیں آیا، ہمیشہ میرے ہی ساتھ آیا، یہ سن کر قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ ؓ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ میں اس شخص کے مقابلہ میں آپ کی مدد کو تیار ہوں، اگر یہ شخص اوس قبیلہ کا ہے تو ابھی میں اس کو قتل کردیتا ہوں اور اگر ہمارے بھائیوں میں سے خزرج کا ہے تو آپ جو حکم دیں ہم پورا کریں گے، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں سعد بن معاذ کی یہ بات سن کر سعد بن عبادہ ؓ اٹھ کھڑے ہوئے جو قبیلہ خزرج کے سردار تھے، وہ پہلے بہت نیک بخت آدمی تھے مگر اس وقت ان کو ایک قومی غیرت نے آگھیرا، سعد بن معاذ سے کہنے لگے اللہ کی بقاء کی قسم تو جھوٹ کہتا ہے تو نہ اس کو مارے گا اور نہ مار سکے گا، اتنے میں اسید بن حضیر ؓ جانثار صحابی جو سعد بن معاذ ؓ کے چچا زاد بھائی تھے کھڑے ہوگئے اور سعد بن عبادہ ؓ سے کہنے لگے اللہ کی بقاء کی قسم تو جھوٹا ہے ہم تو ضرور اس شخص کو قتل کریں گے کیا تو بھی منافق ہوگیا ہے جو منافقوں کی طرف داری کرتا ہے بس اس گفتگو پر اوس اور خزرج دونوں قبیلوں کے آدمی کھڑے ہوگئے اور آپس میں لڑنے والے ہی تھے مگر رسول اکرم ﷺ منبر پر ہی تھے آپ ان کو ٹھنڈا کرتے رہے یہاں تک کہ وہ سب خاموش ہوئے تب آپ بھی خاموش ہوگئے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں اس دن سارے دن میرا یہ حال رہا کہ نہ میرے آنسو بند ہوتے تھے اور نہ نیند ہی آتی تھی، صبح کو میرے والدین بھی میرے پاس موجود تھے اور میرا تو دو رات اور ایک دن سے یہی حال تھا کہ نہ نیند آتی تھی اور نہ آنسو ہی تھمتے تھے میرے والدین یہ سمجھے کہ روتے روتے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میرے والدین میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میں رو ہی رہی تھی اتنے میں ایک انصاری عورت نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، میں نے اسے اجازت دے دی وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگی اسی حالت میں رسول اکرم ﷺ ہمارے یہاں تشریف لائے، آپ نے سلام کیا اور سلام کر کے بیٹھ گئے اس سے قبل جب سے میرے اوپر یہ بہتان لگایا گیا تھا آپ کبھی میرے پاس نہیں بیٹھے تھے ایک مہینہ تک آپ رکے رہے، میرے بارے میں کوئی وحی نہ آئی، غرض کہ آپ نے بیٹھ کر تشہد پڑھا، پھر فرمایا اما بعد عائشہ ؓ مجھے تمہارے بارے میں ایسی ایسی خبر پہنچی ہے۔
اگر تو پاک ہے تو اللہ تعالیٰ تیری پاک دامنی عنقریب بیان فرمادے گا اور اگر واقعی تجھ سے کوئی قصور سرزد ہوگیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے اپنے قصور کی مغفرت مانگ اور توبہ کر کیوں کہ جب کوئی بندہ اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہے پھر اللہ کی درگاہ میں توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا گناہ بخش دیتا ہے جب رسول اکرم ﷺ یہ گفتگو ختم کرچکے تو اللہ کی قدرت یک بارگی میرے آنسو تھم گئے یہاں تک کہ ایک قطرہ بھی مجھ کو معلوم نہ ہوا، میں نے اپنے والد حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہا آپ آنحضرت ﷺ کی بات کا جواب دیں انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ آپ کو کیا جواب دوں پھر میں نے اپنی والدہ ام رومان سے کہا کہ آپ تو رسول اکرم ﷺ کی بات کا جواب دیں انہوں نے کہا میں نہیں جانتی کیا جواب دوں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں بالآخر میں ہی جواب کے لیے مستعد اور میں ایک کمسن لڑکی تھی قرآن کریم بھی مجھے زیادہ یاد نہ تھا خیر میں نے عرض کیا اللہ کی قسم میں جانتی ہوں کہ یہ بات جو آپ نے سنی ہے وہ آپ کے دلوں میں جم گئی ہے اور آپ اس کو سچ سمجھنے لگے ہیں تو ایسی صورت میں اگر میں یہ کہوں کہ میں پاک ہوں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں پاک ہوں جب بھی آپ مجھے سچا نہیں سمجھیں گے اور اگر میں فرضی طور پر ایک گناہ کا اقرار کرلو (جو میں نے نہیں کیا) اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے پاک ہوں تو آپ سمجھیں گے اللہ کی قسم میں اس وقت اپنی اور آپ کی مثال ایسی سمجھتی ہوں جو حضرت یوسف ؑ کے والد حضرت یعقوب ؑ کی تھی انہوں نے جو کچھ کہا تھا میں بھی وہی کہتی ہوں کہ (آیت) ”فصبر جمیل“۔ اور آپ کی باتوں پر اللہ ہی میری مدد فرمانے والا ہے، حضرت عائشہ ؓ ہیں کہ یہ کہہ کر میں نے اپنے بستر پر کروٹ بدل لی اور مجھے یہ یقین تھا کہ کیونکہ میں پاک ہوں تو اللہ تعالیٰ میری پاکی ضرور ظاہر فرمائے گا مگر اللہ کی قسم مجھے ہرگز یہ گمان نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں قرآن کریم کی ایسی آیتیں نازل فرمائے گا جو قیامت تک پڑھی جائیں گی میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتی تھی کہ میرے بارے میں اللہ ایسا کلام اتارے کہ جو ہمیشہ پڑھا جائے، البتہ مجھے یہ امید تھی کہ رسول اکرم ﷺ کو کوئی ایسا خواب نظر آجائے گا جس سے آپ کے سامنے میری پاکیزگی ظاہر ہوجائے گی۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں پھر اللہ کی قسم رسول اکرم ﷺ جس جگہ بیٹھے ہوئے تھے نہ آپ اپنی اس جگہ سے اٹھے اور اسی طرح گھر میں جو حضرات تھے نہ اس میں سے کوئی باہر گیا کہ آپ پر وحی اترنا شروع ہوگئی اور حسب معمول آپ پر وحی کی سختی ہونے لگی اور پسینہ موتی کی طرح آپ کے بدن مبارک سے ٹپکنے لگا حالانکہ وہ سردی کا دن تھا مگر نزول وحی کے وقت آپ پر ایسی ہی سختی ہوتی تھی، خیر جب وحی کی حالت ختم ہوگئی دیکھا تو آپ مسکرا رہے ہیں، پھر پہلی بات آپ نے جو کی وہ یہی فرمائی کہ عائشہ ؓ تمہیں پاک صاف کردیا، یہ سن کر میری والدہ کہنے لگیں اٹھ کر حضور ﷺ کا شکریہ ادا کرو میں نے کہا واہ اللہ کی قسم میں تو کبھی بھی آپ کے شکریہ کے لیے نہیں اٹھوں گی میں تو فقط اپنے پروردگار کا شکریہ ادا کروں گی جو عزت اور بزرگی والا ہے اور اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں (آیت) ”ان الذین جآء و بالافک“۔ (الخ) پوری دس آیتیں نازل ہوئیں، چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے میری پاک دامنی میں یہ آیتیں نازل فرمائیں تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ جو پہلے مسطح بن اثاثہ کے ساتھ اس کی غربت اور رشتہ داری کی وجہ سے جو مہربانی کا سلوک کیا کرتے تھے کہنے لگے اللہ کی قسم اب تو میں مسطح کو کچھ نہیں دوں گا جب اس نے حضرت عائشہ ؓ کے میں ایسی باتیں کیں اور رشتہ داری کا خیال نہیں کیا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں (آیت) ولا یاتل اولو الفضل منکم“۔ (الخ) یعنی تم سے وسعت اور بزرگی والوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس قسم کی قسم کھالیں کہ اپنے عزیزوں یا مسکین اور مہاجروں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کچھ نہ دیں گے، تو یہ آیتیں سن کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرمانے لگے اللہ کی قسم میں یہی چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے اور مسطح سے حسب عادت سلوک کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ میں مسطح کے ساتھ اس سلوک کو کبھی ختم نہیں کروں گا۔
اور اس باب میں طبرانی ؒ میں حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ اور بزار ؒ میں ابوہریرہ ؓ اور ابن مردویہ ؒ میں ابو الیسر ؓ سے روایات نقل ہیں۔
اور امام طبرانی ؒ نے خصیف ؒ سے روایت کیا ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر ؓ سے دریافت کیا کہ زنا اور قذف میں سے کون سی چیز زیادہ سخت ہے، فرمایا زنا، میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ جو لوگ تہمت لگاتے ہیں ان عورتوں کو جو کہ پاک دامن ہیں، انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت خاص طور پر حضرت عائشہ ؓ کی شان میں نازل ہوئی ہے اس روایت کی سند میں یحییٰ حمانی ہیں جو ضعیف ہیں۔
Ayah 24:12(12) جب تم لوگوں نے یہ طوفان سنا تھا تو مسلمان مردوں یعنی مسطح اور مسلمان عورتوں یعنی حمنہ نے اپنی ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ گمان نیک کیوں نہ کیا جیسا کہ تم اپنی ماؤں کے ساتھ گمان کرتے ہو اور زبان سے صاف طور پر یوں کیوں نہ کہا کہ یہ کھلا جھوٹ ہے۔
Ayah 24:13(13) یہ جھوٹے لوگ اپنے اس قول پر چار عادل گواہ کیوں نہ لائے جو ان کی تصدیق کرتے، سو جس حالت میں یہ لوگ گواہ قاعدہ مطابق نہیں لائے تو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹے ہیں۔
Ayah 24:14(14) اب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو ان مسلمانوں کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو اس منافق کے کہنے میں آگئے تھے اور انہوں نے اس میں حصہ لیا تھا کہ اے (حسان و مسطح) اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم نہ ہوتا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی تو جس شغل میں تم پڑے تھے یعنی اس طوفان بدتمیزی میں تو تم پر دنیا و آخرت میں سخت عذاب واقع ہوتا۔
Ayah 24:15(15) جب کہ تم اس جھوٹ بات کو اپنی زبانوں سے ایک دوسرے سے بیان کر رہے تھے اور اپنی زبانوں سے ایسی بات نکال رہے تھے جس کا تمہارے پاس کوئی ثبوت اور اس کی کوئی دلیل موجود نہیں تھی اور تم اس طوفان کو معمولی سا گناہ سمجھ رہے تھے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سزا اور گناہ کے اعتبار سے بہت بھاری بات ہے۔
Ayah 24:16(16) اور تم نے جب اس بات کو سنا تھا تو اسی وقت کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمارے لیے ہرگز مناسب نہیں کہ ایسی جھوٹی بےاصل بات اپنے منہ سے نکالیں، معاذ اللہ یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔
Ayah 24:17(17) اللہ تعالیٰ تمہیں ڈراتا اور روکتا ہے کہ پھر کبھی ایسی حرکت مت کرنا جب کہ تم اس کی تصدیق کرنے والے ہو۔
Ayah 24:18(18) اور اللہ تعالیٰ تم سے واضح طور پر اوامرو نواہی کو بیان کرتا ہے اور وہ تمہاری باتوں کو سننے والا ہے اور بڑی حکمت والا ہے کہ تم پر حد کا فیصلہ فرمایا۔
Ayah 24:19(19) جو لوگ یعنی عبداللہ بن ابی منافق یہ کوشش کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت صفوان ؓ میں بےحیائی کی بات کا چرچا ہو، ان سب کے لیے دنیا میں حد قذف ہے اور خاص طور پر عبداللہ بن ابی منافق کے لیے آخرت میں جہنم کی درد ناک سزا ہے۔
اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت صفوان ؓ پاک دامن وبری ہیں اور تم اس جرم کی سزا کو نہیں جانتے۔
Ayah 24:20(20) اور جن حضرات نے عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت صفوان ؓ پر بہتان نہیں لگایا اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم ہے اور اللہ تعالیٰ مومنین پر بڑا شفیق اور بڑا رحیم ہے تو تم بھی نہ بچتے۔
Ayah 24:21(21) اب اللہ تعالیٰ شیطان کی پیروی اور اس کے نقش قدم پر چلنے سے روکتا ہے کہ اے ایمان والو تلبیس ابلیس اور شیطانی وساوس کی پیروی مت کرو۔
کیوں کہ جو شخص تلبیس ووساوس شیطانی کی پیروی کرتا ہے تو شیطان تو نامعقول کام اور نامعقول باتیں کرنے اور ایسی ہی چیزوں کے ارتکاب کو کہے گا کہ جن کا شریعت اور سنت میں کہیں ثبوت نہیں اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم نہ ہوتا کہ اس نے تمہیں ان باتوں سے حفاظت اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی تو تم میں سے کبھی کوئی موحد اور نیکوکار نہ ہوتا لیکن جو شخص اس کا اہل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسی کو توبہ اور نیکی کی توفیق عطا فرماتا ہے اللہ تعالیٰ سب باتوں کو سنتا اور تمہیں اور تمہارے سب اعمال کو جانتا ہے۔
Ayah 24:22(22) آیات برأت ہونے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے شدت غیظ میں قسم کھالی تھی کہ اپنے ان رشتہ داروں کی کچھ مالی امداد نہ کریں گے جنہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے اس معاملہ میں حصہ لیا یعنی مسطح وغیرہ تو اگلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ تم میں سے جو حضرات بزرگی و شرافت والے اور دنیاوی وسعت والے ہیں ان کو یہ قسم نہیں کھانی چاہیے کہ وہ قرابت داروں کو اور مساکین کو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے اور حضرت مسطح ؓ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے خالہ زاد بھائی تھے مسکین بھی تھے اور مہاجر بھی تھے بلکہ وہ لوگ ایسی قسموں کو چھوڑ دیں اور درگزر کریں اے ابوبکر صدیق ؓ کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قصور معاف کرے اور اللہ تعالیٰ تو بڑا غفور رحیم ہے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا بیشک اے میرے پروردگار میں اس بات کو پسند کرتا ہوں چناچہ اس آیت کے نزول کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ بہت زیادہ نرمی اور احسان کا معاملہ شروع کردیا۔
Ayah 24:23(23) اگلی آیات اللہ تعالیٰ عبداللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں جنہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر اس اتہام لگانے میں بڑا حصہ لیا تھا نازل فرمائی ہیں، چناچہ فرماتا ہے کہ جو لوگ تہمت لگاتے ہیں ان عورتوں کو جو کہ آزاد پاک دامن ہیں اور ایسی باتوں سے بالکل بیخبر ہیں اور ایمان دار ہیں، توحید خداوندی کی تصدیق کرنے والی ہیں یعنی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ان لوگوں یعنی عبداللہ بن ابی منافق پر دنیا و آخرت میں لعنت کی جاتی ہے کہ دنیا میں تو اس کے کوڑے لگیں گے اور آخرت میں دوزخ میں جلے گا اور عبداللہ بن ابی، اور اس کے ساتھیوں کو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہوگا۔
شان نزول : (آیت) ”۔ ان الذین یرمون المحصنت“۔ (الخ)
نیز ضحاک بن مزاحم ؒ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ خاص طور پر ازواج مطہرات کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
ابن ابی حاتم ؒ نے سعید بن جبیر ؓ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ مذکورہ بالا آیت خاص طور پر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
اور ابن جریر ؒ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا ہے فرماتی ہیں کہ جو کچھ میرے خلاف طوفان برپا کیا گیا میں اس سے بالکل بیخبر تھی، بعد میں اس چیز کی مجھے خبر ہوئی اسی دوران میں رسول اکرم ﷺ میرے پاس تشریف فرما تھے کہ آپ پر وحی نازل ہوئی پھر وحی کے بعد آپ سیدھے ہو کر بیٹھے اور اپنے چہرہ انور سے پسینہ پونچھا، اس کے بعد فرمایا عائشہ صدیقہ ؓ خوشخبری قبول کرو میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے ساتھ خوشخبری قبول کرتی ہوں، آپ کے شکریہ کے ساتھ نہیں قبول کرتی، چناچہ آپ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں کہ جو لوگ تہمت لگاتے ہیں ان عورتوں کو جو پاک دامن ہیں، یہ اس بات سے پاک ہیں جو یہ بکتے پھرتے ہیں، اور امام طبرانی نے ثقہ راویوں کی سند سے عبدالرحمن بن زید بن اسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان الخبیثات کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیتیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ جس وقت منافق مردود نے انکے خلاف طوفان برپا کیا تھا، چناچہ اللہ تعالیٰ ان کو جو کچھ یہ بکتے پھرتے تھے اس سے بری کردیا۔
Ayah 24:24(24) اور وہ قیامت کا دن ہوگا کہ جس دن عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے خلاف ان کی زبانیں ان باتوں پر گواہی دیں گے اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں بھی گواہی دیں گے ان کاموں کی جو یہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔
Ayah 24:25(25) اس روز اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا واجبی بدلہ پورا پورا دے گا اور اس روز ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے جو دنیا میں فرمایا تھا وہ حق ہے۔
Ayah 24:26(26) اگلی آیت پھر ان منافقین افتراپردازوں کے بارے میں نازل فرما کر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے واقعہ کو اللہ تعالیٰ ختم فرماتا ہے کہ جو قول وفعل میں گندی عورتیں ہیں، وہ گندے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق ہوتے ہیں۔
اور کہا گیا کہ گندی عورتوں سے مراد حمۃ بن جحش اور گندے مردوں سے مراد عبداللہ بن ابی منافق اور اس کا ساتھ دینے والے ہیں جیسا کہ مسطح اور قول وفعل میں پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لائق ہوتے ہیں۔
تو پاکیزہ عورتوں سے مراد حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہیں اور پاکیزہ مردوں سے مراد رسول اکرم ﷺ ہیں یہ یعنی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت صفوان ؓ اس بات سے پاک ہیں جو منافقین بکتے پھر تے ہیں ان کے لیے آخرت میں مغفرت اور جنت میں عزت کا رزق ہے۔
چناچہ جب کسی مرد و عورت کی تعریف کی جاتی ہے اور وہ اس کے اہل ہوتے ہیں تو اس تعریف کی تصدیق کی جاتی ہے اور سننے والا بھی کہتا ہے کہ یقینا وہ ایسی تعریف کے قابل ہیں اور اس کے برعکس جب کسی مردوں کی برائی بیان کی جاتی ہے اور وہ اسی کے مستحق ہوتے ہیں تو اس برائی کی سب تائید کرتے ہیں اور سننے والا بھی کہتا ہے کہ وہ ایسے ہی ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”۔ الخبیثت للخبیثین“۔ (الخ)
نیز طبرانی ؒ نے دو ضعیف سندوں کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آیت کا یہ حصہ (آیت) ”الخبیثت للخبیثین“۔ (الخ) ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوا ہے جو رسول اکرم ﷺ کی زوجہ مطہرہ کے بارے میں چہ میگوئیاں کر رہے تھے نیز طبرانی ؒ نے حکم بن عتیبہ سے روایت کیا ہے کہ جب لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے واقعہ میں حصہ لیا تو رسول اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس قاصد بھیجا اور فرمایا کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ لوگ کیا کہہ رہے ہیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا میں خود سے اپنی کسی چیز کی برأت نہیں کرتی، جب تک کہ میری برأت آسمان سے نازل نہ ہو، چناچہ اللہ تعالیٰ نے سورة نور کی پندرہ آیتیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے بارے میں نازل فرمائیں، اس کے بعد حکم بن عتیبہ نے (آیت) ”للخبیثین“۔ تک آیتیں پڑھ کر سنائیں، یہ روایت مرسل اور صحیح الاسناد ہے۔
Ayah 24:27(27) اے ایمان والو تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم اپنے خاص گھروں کے علاوہ دوسرے گھروں میں داخل ہو جب تک کہ تم ان سے اجازت نہ لے لو اور اس سے پہلے ان کو سلام نہ کرلو اور یہ سلام کرنا اور اجازت لے کر جانا تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم اس کا خیال رکھو اور تم میں سے کوئی دوسرے کے گھر میں بغیر اجازت کے نہ داخل ہو۔
شان نزول : (آیت) ”۔ یایھا الذین امنوا لا تدخلوا“۔ (الخ)
فریابی ؒ اور ابن جریر ؒ نے عدی بن ثابت ؒ سے روایت کیا ہے کہ ایک انصاری عورت نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے گھر میں ایسی حالت میں ہوتی ہوں کہ میں چاہتی ہوں کہ اس حالت میں مجھے کوئی اور شخص نہ دیکھے اور میرے پاس میرے خاندان کے آدمی آتے رہتے ہیں اور میں اسی حالت میں ہوتی ہوں تو ایسی صورت میں، میں کیا کروں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اے ایمان والو تم اپنے گھروں کے علاوہ دوسرے گھروں میں نہ داخل ہو۔
Ayah 24:28(28) پھر اگر ان گروہوں میں تمہیں اجازت دینے والا معلوم نہ ہو تب بھی بغیر اجازت کے مت جاؤ جب تک کہ تمہیں گھر کے مالک کی طرف سے داخلہ کی اجازت نہ ملے اور اگر تم سے کہہ دیا جائے کہ اس وقت لوٹ جاؤ تو تم فورا لوٹ آیا کرو اور دو دروازوں پر جمے نہ رہا کرو، یہ فورا لوٹ آنا تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ تم وہیں دروازوں پر کھڑے رہو اور تم جو اجازت طلب کرتے ہو اور نہیں طلب کرتے، اللہ تعالیٰ کو اس کی سب خبر ہے۔
Ayah 24:29(29) اب اللہ تعالیٰ اس قسم کے گھروں میں جن میں گھر کے طور پر کوئی نہیں رہتا ہے جیسا کہ مسافر خانہ اور راستوں پر سرائے وغیرہ جانے کی اجازت مرحمت فرماتا ہے، چناچہ فرماتا ہے کہ تمہیں اس قسم کے مکانات میں خاص اجازت کے بغیر چلے جانے میں کوئی گناہ نہ ہوگا جن میں گھر کے طور پر کوئی نہ رہتا ہو، جیسا کہ مسافر خانہ اور اس میں تمہارے لیے گرمی اور سردی سے بچاؤ کا سامان بھی ہو اور تمہارا اجازت لینا اور سلام کرنا ایسے ہی سلام و اجازت کا جواب دینا ان سب باتوں کو اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ لیس علیکم جناح ان تدخلوا“۔ (الخ)
اور ابن ابی حاتم ؒ نے مقاتل بن حیان ؒ سے روایت کیا ہے کہ جب گھروں میں اجازت لے کر داخل ہونے کے بارے میں یہ حکم نازل ہوا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا یا رسول ﷺ پھر قریش کے ان تاجروں کے بارے میں کیا حکم ہے جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اور شام کے درمیان آتے جاتے رہتے ہیں اور راستوں پر ان کے متعین شدہ مکانات ہیں (یعنی مسافرخانے) تو وہ ان مکانوں میں کیسے اجازت طلب کریں اور کیوں کر وہاں سلام کریں جب کہ ان میں کوئی رہنے والا نہیں، تب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی تمہیں اس قسم کے مکانات میں خاص اجازت کے بغیر چلے جانے میں کوئی گناہ نہ ہوگا۔
Ayah 24:30(30) اور آپ مسلمان مردوں سے فرما دیجیے کہ وہ حرام چیزوں کے دیکھنے سے اپنی نگاہیں روکے رکھیں اور حرام کام سے اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں یہ آنکھ اور شرم گاہ کی حفاظت ان کے لیے زیادہ درستگی اور نیکی کا باعث ہے اور نیکی اور بدی جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ سب سے باخبر ہے۔
Ayah 24:31(31) اور اسی طرح آپ مسلمان عورتوں سے فرما دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں حرام مردوں اور مردوں کے دیکھنے سے نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کے مواقع اور زیورات وغیرہ کو ظاہر نہ کریں مگر جو اس کے کپڑوں میں سے غالبا کھلا رہتا ہے (جیسا کہ پیر) اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں اور پٹیوں پر ڈالے رکھا کریں اور ان کو باندھ لیا کریں اور اپنی زینت کے مواقع مذکورہ کو کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ پر خواہ نسبی ہوں یا رضاعی یا اپنے شوہروں کے باپ پر یا اپنا بیٹوں پر خواہ نسبی ہوں یا رضاعی یا اپنے شوہروں کے بیٹوں پر جو دوسری بیوی سے ہوں یا اپنے نسبی یا رضاعی بھائیوں پر یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں پر خواہ نسبی ہوں یا رضاعی یا اپنی نسبی یا رضاعی بہنوں کے بیٹوں پر یا اپنی مسلمان عورتوں پر کیونکہ یہودیہ، نصرانیہ، مجوسیہ، کافرہ عورتوں کے سامنے زینت کے مقامات کھولنا جائز نہیں یا ان باندیوں پر جو کہ تمہاری ملکیت میں داخل ہیں یا ان مردوں اور عورتوں پر جو کہ ان کے خاوندوں کے پاس محض طفیلی طور پر رہتے ہیں اور ان کو عورتوں کی طرف ذرا توجہ نہ ہو جیسا کہ خصی اور بہت بوڑھا آدمی یا ایسے کمسن لڑکوں پر جو عورتوں کے پردوں کی باتوں سے ابھی تک واقف نہیں ہوئے ہیں یعنی کمسنی کی وجہ سے عورتوں کے ساتھ صحبت نہیں کرسکتے اور نہ عورتیں ان کے ساتھ اپنی خواہش پوری کرسکتی ہیں تو ان کے سامنے زیورات ہاتھ پیر کے کھلے رہنے میں کوئی حرج نہیں اور پردے کا اہتمام یہاں تک رکھیں کہ ایک پیر کو دوسرے پیر پر مت ماریں کہ ان کا مخفی زیور مثلاا پازیب معلوم ہوجائے۔
اور اے مسلمانو ! تم سب اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے تمام گناہوں سے خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے توبہ کرو تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے غصہ اور اس کی ناراضگی سے نجات پاؤ۔
شان نزول : (آیت) ”۔ وقل للمؤمنت یغضضن“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے مقاتل سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ جابربن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اسماء بن مرثد اپنے کھجوروں کے باغ میں تھیں تو ان کے پاس عورتیں چادریں اچھی طرح اوڑھ کر نہیں آتی تھیں جس سے ان کے پیروں کے زیورات یعنی پازیب اور ان کے سینے اور مینڈھیاں کھل جاتی تھیں تو اس پر حضرت اسماء ؓ نے فرمایا کہ یہ کس قدر بڑی چیز ہے تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی یعنی آپ مسلمان عورتوں سے فرما دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔
اور ابن جریر ؒ نے حضرمی سے روایت کیا ہے کہ ایک عورت نے چاندی کے پازیب بنوائے تھے اور پاؤں کے کڑے بھی تو اس کا ایک قوم پر سے گزر ہوا۔ اس سے اپنا پیر زور سے رکھا تو پازیب کڑوں پر گر پڑے جس کی وجہ سے آواز پیدا ہوئی تب آیت کریمہ نازل ہوئی، (آیت) ”ولا یضربن بارجلھن“۔ (الخ) یعنی اپنے پیر زور سے نہ رکھیں۔
Ayah 24:32(32) اور تمہاری لڑکیوں اور بہنوں میں سے یا کہ تمہارے بیٹوں اور بھائیوں میں سے جو غیر شادی شدہ ہوں ان کی تم شادی کردیا کرو اور اسی طرح تمہارے غلام اور باندیوں میں جو نکاح کے لائق ہوں ان کا بھی نکاح کردیا کرو اور اگر وہ آزاد آدمی مفلس ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا اور اللہ تعالیٰ آزاد و غلام کو روزی میں بہت وسعت والا اور ان کی روزی کو جاننے والا ہے۔
Ayah 24:33(33) اور ایسے لوگ جن کے پاس نکاح کرنے کی گنجائش نہیں ان کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو زنا سے بچائیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ ولیستعفف الذین لایجدون“۔ (الخ)
اگلی آیت کریمہ جو یطب بن عبد العزی کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان کا ایک غلام تھا، اس نے ان سے مکاتب (غلام جس سے معاوضہ لے کر آزاد کیا جائے) ہونے کی درخواست کی تھی تو انہوں نے اس کو مکاتب نہیں کیا تھا۔
اور تمہارے غلاموں میں سے جو مکاتب ہونے کے خواہاں ہوں ان کو مکاتب بنادیا کرو، اگر ان میں بہترائی اور وفا عہد کے آثار پاؤ اور اللہ تعالیٰ کے دیے مال میں سے جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے ان کو بھی دو ، تاکہ یہ بدل کتابت جلدی ادا کر کے آزاد ہوجائیں، یا یہ کہ اس آیت میں مالک کو بدل کتابت کا تہائی حصہ چھوڑنے کی ترغیب دی ہے۔
اگلی آیت عبداللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان لوگوں کے پاس لونڈیاں تھیں یہ ان سے زبردستی زنا کراتے تھے تاکہ ان کی کمائی اور اولاد حاصل ہو اللہ تعالیٰ نے اس کام کو منع فرما دیا اور اس کو حرام کردیا، چناچہ فرماتا ہے کہ اپنی مملوکہ لونڈیوں کو زنا کرنے پر مجبور مت کرو، بالخصوص جب کہ وہ زنا سے پاک دامن رہنا چاہیں، محض اس لیے کہ ان کی کمائی اور اولاد تمہیں حاصل ہوجائے اور جو شخص ان باندیوں کو زنا پر مجبور کرے گا تو اللہ تعالیٰ مجبور کیے جانے اور ان کی توجہ کرنے کے بعد ان کی مغفرت فرمانے والے اور مرنے کے بعد ان پر رحمت فرمانے والا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ ولیستعفف الذین لا یجدون“۔ (الخ)
ابن السکن ؒ نے معرفۃ صحابہ میں عبداللہ بن صبیح ؒ سے ان کے والد کے ذریعے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں جو یطب بن عبد العزی کا غلام تھا میں نے ان سے مکاتب (وہ غلام جس سے معاوضہ لے کر آزاد کیا جائے) ہونے کی درخواست کی، انھوں نے مکاتب کرنے سے انکار کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی جو تم سے مکاتب ہونے کے خواہاں ہوں ان کو مکاتب کردیا کرو۔
شان نزول : (آیت) ”۔ ولا تکرھوا فتیاتکم علی البغآء“۔ (الخ)
امام مسلم ؒ نے ابی سفیان کے طریق سے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن ابی منافق اپنی باندی سے کہتا تھا کہ جا اور زنا کرکے ہمارے لیے کچھ لا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
نیز امام مسلم ؒ نے اسی طریق سے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن ابی کے ایک باندی مسیکہ اور امیمہ نامی تھی، یہ ان دونوں باندیوں کو زنا کرنے پر مجبور کیا کرتا تھا ان دونوں نے رسول اکرم ﷺ سے آکر شکایت کی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اپنی مملوکہ باندیوں کو زنا کرانے پر مجبور مت کیا کرو (الخ)۔
اور امام حاکم ؒ نے ابی الزبیر ؒ کے طریق سے جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ مسیکہ نامی انصار میں سے کسی کی باندی تھی اس نے آکر عرض کیا کہ میرا آقا مجھے زنا کرانے پر مجبور کرتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
اور بزاررحمۃ اللہ علیہ اور طبرانی ؒ نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن ابی کی ایک باندی تھی جو زمانہ جاہلیت میں زنا کیا کرتی تھی، جب اللہ تعالیٰ نے زنا کو حرام کیا تو اس نے کہا اللہ کی قسم میں تو اب کبھی بھی زنا نہیں کروں گی اور ابن ابی نے اس کو مجبور کیا تب یہ آیت نازل ہوئی اور بزار نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت بن دینار ؒ کے واسطہ سے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن ابی منافق کی مسیکہ اور معاذہ نامی دو باندیاں تھیں وہ ان کو زنا کرانے پر مجبور کرتا تھا تو ان میں سے ایک باندی کہنے لگی اگر یہ اچھی چیز ہے تو میں نے اس سے بہت فائدہ حاصل کرلیا اور اگر بری بات ہے تو مجھے اس کا چھوڑنا ضروری ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 24:34(34) اور ہم نے تمہارے نبی کے پاس بذریعہ جبریل امین حلال و حرام اور اوامرو نواہی زنا و فواحش سے بچنے کے واضح احکامات بھیجے ہیں اور مسلمان اور کافروں میں سے جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں ان کی بعض حکایات اور زنا اور فواحش سے بچنے والوں کے لیے نصیحت کی چیزیں بھیجی ہیں۔