24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsانوار البیان

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ (ایک) سورة ہے جس کو ہم نے نازل کیا اور اسکے (احکام کو) فرض کردیا اور اس میں واضح المطالب آیتیں نازل کیں تاکہ تم یاد رکھو

24:1) سورۃ۔ خبر۔ جس کا مبتدا محذوف ہے ای ھذہ سورۃ۔ فرضنھا۔ ماضی جمع متکلم۔ فرض مصدر ھاضمیر واحد مؤنث غائب جس کا مرجع لفظا سورة ہے لیکن اس سے مراد وہ احکام ہیں جو اس سورة میں بیان ہوئے ہیں۔ ای فرضنا احکامھا۔ ہم نے (ان احکام کو جو) اس میں ہیں (ان کا بجا لانا سلف وخلف پر) فرض کردیا ہے۔
Ayah 24:2

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد (جب ان کی بدکاری ثابت ہوجائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کو سو درے مارو اور اگر تم خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو شرع خدا (کے حکم) میں تمہیں ہرگز ترس نہ آئے اور چاہیے کہ انکی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت بھی موجود ہو

(24:2) اجلدوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم کوڑے مارو، تم درے لگائو۔ جلدۃ جلد (باب ضرب) کوڑے مارنا۔ درہ لگانا۔ جلد (کھال) پر مارنا۔ رأفۃ۔ ترس۔ مہربانی ۔ شفقت۔ نرمی رأف یرأف (فتح) کا مصدر ہے۔ رؤف بروزن فعول صفت مشبہ۔ بہت شفقت کرنے والا۔ بہت مہربان۔ رء ف، حروف مادہ۔ ولا تاخذکم بھما رأفۃ۔ اور تم کو ان دونوں پر (ذرا بھی) رحم نہ آنے پائے۔
Ayah 24:3

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

بدکار مرد تو بدکار یا مشرک عورت کے سوا نکاح نہیں کرتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (یعنی) بدکار عورت سے نکاح کرنا مومنوں پر حرام ہے

(24:3) ذلک۔ سے مراد یا زنا ہے ۔ یا ایک نیک مومن مرد کا پیشہ ورزانیہ سے یا عفیفہ مومنہ کا عادی زانی سے نکاح مراد ہے۔
Ayahs 24:4–7

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں کو بدکاری کا الزام لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی درے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو اور یہی بد کردار ہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

ہاں جو ان کے بعد توبہ کرلیں اور (اپنی حالت) سنوار لیں تو خدا (بھی) بخشنے والا مہربان ہے

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور خود ان کے سوا ان کے گواہ نہ ہوں تو ہر ایک کی شہادت یہ ہے کہ پہلے تو چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بیشک وہ سچا ہے

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں بار یہ (کہے) کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر خدا کی لعنت

(24:4) یرمون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ رمی یرمی (ضرب) رمی ورمایۃ مصدر بمعنی پھینکنا۔ مادی چیزوں مثلاً تیر وغیرہ کے متعلق ہو تو اپنے اصلی معنوں میں اس کا مفہوم ہوتا ہے مثلاً وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی (8:17) اے پیغمبر جب تو نے تیر چلائے تو تم نے تیر نہیں چلائے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تیر چلائے۔ لیکن جب اقوال کے متعلق ہو تو ” قذف “ کی طرح اس کے معنی تہمت طرازی کے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آیت ہذا میں یا آگے آیت نمبر 9 میں۔ یرمون وہ تہمت لگاتے ہیں۔ المحصنت۔ پاکدامن عورتیں۔ اسم مفعول جمع مؤنث۔ ثعلب نے کہا ہے کہ پاکدامن عورت کو محصنۃ (اسم فاعل) بھی کہا جاتا ہے اور محصنۃ (اسم مفعول) بھی۔ اور شوہر والی کو محصنۃ (اسم مفعول) کہیں گے ۔ کیونکہ اس کی حفاظت اس کا شوہر کرتا ہے ۔ یعنی وہ شوہر کی حفاظت میں ہوتی ہے (نیز ملاحظہ ہو 4:24) ۔
Ayah 24:8

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور عورت سے سزا کو یہ بات ٹال سکتی ہے کہ وہ پہلے چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بیشک یہ جھوٹا ہے

(24:8) یدروا۔ مضارع واحد مذکر غائب ورء مصدر (باب فتح) سے وہ دور کرتا ہے وہ دور کر دے گا۔ دور کرسکتا ہے ۔ ٹال سکتا ہے۔ عنھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع وہ عورت جس کے خاوند نے اس پر زنا کی تہمت لگائی ہو۔ العذاب سے مراد دنیوی عذاب حد ہے۔ تشھد۔ مضارع منصوب واحد مؤنث غائب منصوب بوجہ عمل ان کے ہے۔ وہ (عورت) شہادت دے۔ وہ گواہی دے اس جملہ میں یدرؤا فعل العذاب مفعول ان تشھد اربع شھدت باللہ فاعل ہے یدرؤ کا۔ اس کا اللہ کی قسم چار بار کھانا اس سے (اس تہمت کا) عذاب کو ٹال سکتا ہے۔ یعنی اگر وہ چا ربار اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ اس کا خاوند جس نے تہمت لگائی ہے جھوٹوں میں سے ہے تو یہ قسم کھانا اس سے عذاب کو ٹال سکتا ہے۔
Ayah 24:9

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں دفعہ یوں (کہے) کہ اگر یہ سچا ہو تو مجھ پر خدا غضب نازل ہو

(24:9) والخامسۃ اس کا عطف اربع شھدت پر ہے اور بدیں وجہ منصوب ہے۔
Ayah 24:10

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی (تو بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتیں) مگر وہ صاحب کرم امین ہے اور یہ کہ خدا توبہ قبول کرنے والا اور حکیم ہے

(24:10) ولولا فضل اللہ علیکم ورحمۃ اللہ کے بعد جواب شرط محذوف ہے ای ولو لا فضل اللہ علیم ورحمتہ لفضحکم وعا جلکم بالعقوبۃ۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو وہ ضرور تم کو رسوا کرتا اور تمہارے فعل مؤاخذہ کر کے تم کو سزا دیتا ۔ اس میں خطاب تہمت لگانے والے مردوں اور مرمیات (عورتیں جن پر تہمت لگائی گئی ہو) سے ہے۔
Ayah 24:11

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے ان میں سے جس شخص نے گناہ میں جتنا حصہ لیا اس کے لئے اتنا وبال ہے اور جن نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا

(24:11) افک۔ الافک ہر وہ چیز جو اپنے صحیح رخ سے پھیر دی گئی ہو۔ اسی بنا پر ان ہوائوں کو جو اپنا اصل رخ چھوڑ دیں۔ مؤتفکۃ کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے والمؤتفکۃ اھوی (53:53) اور الٹی ہوئی بستیوں کو دے ٹپکا۔ (اس میں مؤتفکت سے مراد وہ بستیاں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مع ان کے بسنے والوں کے الٹ دیا تھا) ۔ جھوٹ بھی چونکہ اصلیت اور حقیقت سے پھرا ہوا ہوتا ہے اس لئے اس پر بھی افک کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یہاں اس سے مراد جھوٹ۔ بہتان۔ افترا پردازی ہے۔ افک یافک (ضرب) افک یافک (سمع) افک کسی شے کا اپنے اصل رخ سے پھرنا۔ عصبۃ منکم۔ عصبۃ جماعت۔ گروہ۔ یہ عصب سے ماخوذ ہے۔ العصب کے معنی بدن کے پٹھے جو جوڑوں کو تھامے ہوئے ہیں۔ لحم عصب بہت پٹھوں والا گوشت۔ پھر عام طور پر مضبوطی کے ساتھ باندھنے پر عصف کا لفظ بولا جاتا ہے العصبۃ وہ جماعت جس کے افراد ایک دوسرے کے ھامی اور مددگار ہوں۔ جیسے ونحن عصبۃ (12:8) حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت ہیں) یعنی ہم باہم متفق ہیں اور ایک دوسرے کے یارومددگار تم میں سے ایک جماعت۔ تم میں سے ایک گروہ۔ عصبۃ منکم خبر ہے ان کی۔ لا تحسبوہ۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم اس کے متعلق خیال مت کرو۔ تم اس کے بارے میں گمان مت کرو۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع الافک ہے۔ شرا۔ برائی ۔ شر۔ خیر کی ضد ہے۔ لکم تمہارے لئے۔ لا تحسبوہ شرا لکم۔ تم اسے اپنے لئے برا مت خیال کرو۔ اس میں خطاب حضرت عائشہ ؓ اور آپ کے والدین اور رسول مقبول ﷺ وصفوان بن معطل سے ہے یا جملہ مومنین سے جو اس افترا سے رنجیدہ اور غمگین تھے۔ لکل امری منہم۔ ان میں سے ہر شخص کے لئے۔ اس میں ہم ضمیر کا مرجع وہ گروہ ہے جو اس افترا میں شریک تھا۔ ای من الذین جاؤا بالافک۔ تولی۔ اس نے اٹھایا۔ وہ متولی ہوا۔ تولی سے ماضی واحد مذکر غائب۔ کبرہ۔ اسم مصدر مضاف ہ مضاف الیہ۔ اس کی بڑی ذمہ داری۔ اس کا بڑا بوجھ والذی تولی کبرہ منہم۔ اور جس شخص نے ان میں سے اس افترا کا سب سے بڑا بوجھ اٹھایا۔ (یعنی سب سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا) یعنی عبداللہ بن ابی۔
Ayah 24:12

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

جب تم نے وہ بات سنی تھی تو مومن مردوں اور عورتوں نے کیوں اپنے دلوں میں نیک گمان نہ کیا ؟ اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح طوفان ہے ؟

(24:12) لولا اذ سمعتموہ ظن المؤمنون والمؤمنت بانفسہم خیرا۔ جب تم نے یہ (افواہ افک) سنی تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے کیوں نہ اپنون کے حق میں نیک گمان کیا۔ ضیاء القرآن میں ہے :۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کو عتاب فرما رہے ہیں اور سرزنش کر رہے ہیں کہ تم نے سنتے ہی اس بہتان کی تردید کیوں نہ کردی اس میں تردد کی غلطی کیوں کی تمہیں تو فورا کہہ دینا چاہیے تھا۔ ھذا افک مبین۔ یہ کھلا ہوا جھوٹ ہے۔ بانفسہم سے مراد بعض نے باخوانہم واھل دینہم لیا ہے یعنی جب تم نے یہ افواہ سنی تو کیوں نہ مومنین اور مومنات نے اپنے دینی بھائیوں (حضرت عائشہ ؓ اور حضرت صفوان بن معطل) کے متعلق نیک گمان کیا۔ بانفسہم بمعنی اپنے دلوں میں۔ ازخود۔ اپنے اعتماد نفس کی بنا پر اور اپنے ساتھ نیکی کا گمان کر کے۔ بھی لیا گیا ہے (حقانی، مولانا ابوالکلام آزاد) یعنی جب تم نے یہ افواہ سنی تو کیوں نہ مومن مردوں (مثلاً حسان بن ثبت۔ مسطح بن اثاثہ) اور مومن عورتوں (مثلاً حمنہ بنت حجش ) نے خود ہی اپنے اعتماد نفس کی بناء پر اور اپنے ساتھ نیکی کا گمان کر کے کہہ دیا کہ یہ تو کھلی ہوئی تہمت ہے۔
Ayah 24:13

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

یہ (افترا پرداز) اپنی بات (کی تصدیق) کے (لئے) چار گواہ کیوں نہ لائے ؟ تو جب یہ گواہ نہیں لاسکے تو خدا کے نزدیک یہی جھوٹے ہیں

(24:13) علیہ۔ ای علی القذف۔ اپنی تہمت کے ثبوت میں۔
Ayah 24:14

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات کا تم چرچا کرتے تھے اس کی وجہ سے تم پر بڑا (سخت) عذاب نازل ہوتا

(24:14) افتضتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ افاضۃ (افعال) سے مصدر۔ تم نے پھیلایا۔ تم منتشر ہوئے۔ی ض مادہ۔ فاض الماء کے معانی کسی جگہ سے پانی کا اچھل کر باہر نکلنے کے ہیں۔ آنسووں کے بہنے کے لئے بھی آتا ہے مثلاً تری اعینہم تفیض من الدمع (5:83) تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں۔ فاض صدرہ بالسر بھید ظاہر کرنا۔ اور اسی سے افاضوا فی الحدیث کا محاورہ مستعار ہے جس کے معنی باتوں میں مشغول ہوجانے اور چرچا کرنے کے ہیں۔ پس لمسکم فیما افضتم فیہ کا ترجمہ ہوا : تو جس بات کا تم چرچا کرتے تھے اس کی وجہ سے تم پر عذاب عظیم نازل ہوتا۔
Ayahs 24:15–16

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور جب تم نے اسے سنا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں شایان نہیں کہ ایسی بات زبان پر لائیں (پروردگار) تو پاک ہے یہ تو (بہت) بڑا بہتان ہے

(24:15) تلقونہ۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تلقی سے (باب تفعل) اصل میں تتلقون تھا ایک تا حذف ہوگئی۔ تلقی یا تلقاہ کے معنی کسی چیز کو پالینے یا اس کے سامنے آنے کے ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں ہے وتتلقہم الملئکۃ (21:103) اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے۔ اور وانک لتلقی القران (27:6) اور تم کو قرآن عطا کیا جاتا ہے۔ باب افعال سے (الالقائ) بمعنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دینا کہ وہ دوسرے کو سامنے نظر آئے۔ پھر عرف میں مطلق کسی چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے۔ جیسے وکذلک القی السامری (20:78) اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا۔ تلقونہ بالسنتکم (جب) تم اس (افواہ) کو اپنی زبانون سے لے رہے تھے یعنی تمہاری زبانیں اس افواہ کو (ایک دوسرے سے) لیتی چلی جا رہی تھیں۔ کہ تم اپنی زبانوں سے اس کا چرچا کر رہے تھے۔ ھینا۔ ہلکی۔ معمولی۔ آسان۔ ھان یھون ھون سے (باب نصر) صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
Ayahs 24:17–18

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

خدا تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر مومن ہو تو پھر کبھی ایسا (کام) نہ کرنا

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور خدا تمہارے (سمجھانے کے لئے) اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے

(24:17) یعظکم اللہ۔ یعظ مضارع واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر وعظ مصدر۔ اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے۔ تعودوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ عود مصدر (باب نصر) اصل میں تعودون تھا۔ ان کے عمل کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ تم پھر آئو۔ تم پھر کرو۔ یعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ ابدا۔ اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر اسی قسم کی حرکت کبھی نہ کرنا۔
Ayah 24:19

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بےحیائی (یعنی تہمت بدکاری کی خبر) پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

(24:19) تشیع۔ مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ عمل ان۔ شیوع مصدر (باب ضرب) (کہ) وہ آشکار ہو وے۔ وہ فاش ہو وے۔ اس کا چرچا ہو وے۔ الشیاع کے معنی ہیں منتشر ہونا۔ تقویت دینا۔ شاع الخبر خبر پھیل گئی اور قوت پکڑ گئی۔ شاع القوم قوم منتشر ہوگئی اور زیادہ ہوگئی۔ الفاحشۃ۔ اسم ۔ حد سے بڑھی ہوئی بدی۔ ایسی بےحیائی جس کا اثر دوسروں پر پڑے۔ یہاں مراد زنا ہے۔ یا تہمت زنا ہے۔ فی الذین امنوا۔ متعلق بہ ان تشیع۔
Ayah 24:20

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اسکی رحمت نہ ہوتی (تو کیا کچھ نہ ہوتا مگر وہ کریم ہے) اور یہ کہ خدا نہایت مہربان و رحیم ہے

(24:20) ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ۔ جواب شرط محذوف ہے (ملاحظہ ہو 24:10) ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کا تکرار مبالغہ کے لئے ہے اور مخاطبین کی توبیخ کے لئے۔
Ayah 24:21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

مومنو ! شیطان کے قدموں پر نہ چلنا اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو شیطان تو بےحیائی (کی باتیں) اور برے کام ہی بتائے گا اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم میں پاک نہ ہوسکتا مگر خدا جس کو چاہتا ہے پاک کردیتا ہے (اور) خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

(24:21) خطوت الشیطن۔ مضاف مضاف الیہ۔ خطوت اخطو۔ کے معنی چلنے کے قدم اٹھانے کے ہیں۔ خطوۃ ایک بار قدم اٹھانا الخطوۃ وہ فاصلہ جو دو قدموں کے درمیان ہو۔ اس کی جمع خطوت ہے۔ لا تتبعوا خطوت الشیطن۔ شیطان کے قدموں پر مت چلو۔ یعنی شیطان کی اتباع نہ کرو۔ فانہ میں ضمیر واحد مذکر غائب شیطن کے لئے ہے۔ المنکر۔ برا کام۔ وہ قول یا فعل جس کو عقل سلیم برا جانتی ہو یا شریعت نے اسے برا قرار دیا ہو۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ انکار مصدر۔ ما زکی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ وہ پاک صاف نہ ہوا۔ منکم من احد۔ تم میں سے کوئی بھی۔ ابدا۔ کبی بھی۔ یزکی۔ مضارع واحد مذکر غائب تزکیۃ مصدر (باب تفعیل) وہ پاک کرتا ہے پاک قرار دیتا ہے۔
Ayah 24:22

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں صاحب فضل (اور صاحب) وسعت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دیں گے ان کو چاہیے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں کیا تم پسند نہیں کرتے ہو کہ خدا تم کو بخش دے ؟ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

(24:22) لا یاتل۔ فعل نہی واحد مذکرغائب۔ (جمع کے معنی میں استعمال ہوا ہے) ایتلاء (باب افتعال) اصل یا تلی تھا لا کے آنے سے آخری حرف محرک ساکن ہوگیا۔ لام کے سکون سے ی گرگئی ی کی رعایت سے لام کا کسرہ بحال ہوگیا۔ لا یاتل وہ قسم نہ کھا لیں۔ الوۃ۔ الیۃ اور الی قسم۔ اولوا الفضل۔ اولوا السعۃ۔ ای الزیادۃ فی الدین والزیادۃ فی المال۔ جو دین میں بلند مرتبہ کے مالک ہیں اور جو مال و دولت میں وسعت رکھتے ہیں۔ ان یؤتوا۔ ای علی ان لا یؤتوا۔ اوکراھۃ ان یؤتوا۔ (اس بات کی قسم کہ) وہ نہ دیں گے۔ یا دینے میں کراہت محسوس کریں۔ لیعفوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر غائب۔ عفو سے۔ چاہیے کہ وہ معاف کردیں۔ ولیصفحوا۔ فعل امر جمع مذکر غائب صفح مصدر (باب فتح) چاہیے کہ وہ درگذر کریں۔
Ayahs 24:23–24

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

جو لوگ پرہیزگار اور برے کاموں سے بیخبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت (دونوں) میں لعنت ہے اور ان کو سخت عذاب ہوگا

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

(یعنی قیامت کے روز) جس دن ان کی زبانیں ہاتھ اور پاؤں (سب) ان کے کاموں کی گواہی دیں گے

(24:23) یرمون۔ ملاحظہ ہو (24:6) ۔ لعنوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب لعن مصدر (باب فتح) ان پر لعنت کی گئی وہ ملعون ہوئے۔ وہ رحمت سے دور کئے گئے۔
Ayah 24:25

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن خدا ان کو (ان کے اعمال کا) پورا پورا (اور) ٹھیک بدلہ دے گا اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا برحق (اور حق کو) ظاہر کرنے والا ہے

(24:25) یوفیہم اللہ۔ یوفی فعل مضارع واحد مذکر غائب۔ توفیۃ تفعیل سے مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اللہ فاعل۔ اللہ ان کو پورا پورا دے گا۔ دینہم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یوفی کا مفعول ثانی۔ بمعنی جزا ان کا بدلہ۔ الحق۔ منصوب بوجہ صفت دین موصوف کے۔ پورا پورا۔ واجب۔ جس کے وہ مستحق ہیں یعنی اس روز اللہ تعالیٰ ان کو ان کا واجبی بدلہ پورا پورا دے گا۔ الحق المبین۔ یعنی ٹھیک ٹھیک صحیح فیصلہ کرنے والا۔ اور ہر امر کے پہلو کو ب وضاحت تامہ بیان کرنے والا۔
Ayah 24:26

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے یہ (پاک لوگ) ان (بد گویوں) کی باتوں سے بری ہیں (اور) ان کے لئے بخشش اور نیک روزی ہے

(24:26) مبرون۔ اسم مفعول۔ جمع مذکر۔ مبرء واحد۔ تبرئۃ (تفعیل) مصدر بری کئے ہوئے (اللہ کی طرف سے) بری قرار دئیے ہوئے۔ برء وبراء کا اصل مفہوم کسی بری بات اور امر مکروہ سے چھٹکارا۔ اسی لئے کہا جاتا ہے یرات من المرض۔ میں تندرست ہوگیا ابراتہ من کذا میں نے اس کو تہمت سے بری کردیا۔ براء ۃ بمعنی بیزاری جیسے براء ۃ من اللہ ورسولہ (9:1) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیزاری کا اعلان۔ اسی مادہ سے الباری پیدا کرنے والا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
Ayahs 24:27–28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

مومنو ! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں کے) گھروں میں گھر والوں سے اجازت لئے اور ان کو سلام کئے بغیر داخل نہ ہوا کرو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے (اور ہم یہ نصیحت اس لئے کرتے ہیں کہ) شاید تم یاد رکھو

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

اگر تم گھر میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو جب تک تم کو اجازت نہ دی جائے اس میں مت داخل ہو اور اگر یہ کہا جائے کہ (اس وقت) لوٹ جاؤ تو لوٹ جایا کرو یہ تمہارے لئے پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام تم کرتے ہو خدا سب جانتا ہے

(24:27) تستانسوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر استیناس (استفعال) جس کے معنی انس پکڑنے کے ہیں۔ یعنی جب تک تم (اہل خانہ سے انس (نہ ) پیدا کرلو۔ تم ان سے اجازت نہ لے لو۔ تم ان سے اذن نہ لے لو۔ تسلموا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم سلام (نہ) کرلو۔ تسلیم (تفعیل) سے بمعنی سلام کرنا۔
Ayahs 24:29–30

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

(ہاں) اگر تم کسی ایسے گھر میں جاؤ جس میں کوئی بستا نہ ہو (اور) اس میں تمہارا اسباب (رکھا) ہو تم پر کچھ گناہ نہیں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں یہ انکے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے (اور) جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اللہ ان سے خبردار ہے

(24:29) جناح۔ گناہ جرم۔ الجناح پرندہ کا بازو۔ قرآن مجید میں ہے ولا طائرا یطیر بجناحیہ (6:38) اور نہ کوئی پرندہ جو اپنے دونوں بازوئوں پر اڑتا ہے پھر کسی چیز کے دونوں جانب کو بھی جناحینکہتے ہیں۔ مثلاً جناحا السفینۃ (سفینہ کے دونوں جانب یا جناحا الانسانانسان کے دونوں پہلو۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے واضمم یدک الی جناحک (20:22) اپنا ہاتھ اپنے پہلو سے لگالو۔ پھر جنح بمعنی مائل ہونا۔ ایک جانب کو مائل ہونا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے جنحت السفینۃ۔ کشتی ایک جانب کو مائل ہوگئی۔ اسی لئے ہر وہ گناہ جو انسان کو حق سے دوسری طرف مائل کر دے اسے جناح کہا جاتا ہے پھر عام گناہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا غیر مسکونۃ۔ جس میں کوئی سکونت نہ رکھتا ہو۔ جس میں کوئی آباد نہ ہو۔ فیھا کا تعلق متاع لکم جس میں تمہارا سامان ہو۔ اور ھا کا مرجع بیوت ہے۔ یغضوا۔ اس میں لام امر مقدرہ ہے۔ یعنی کلام یوں ہے قل للمؤمنین لیغضوا مومنون سے کہو چاہیے کہ وہ (اپنی آنکھیں) نیچی رکھیں۔ یا یہ قل کے جواب میں ہے اور مفعول القول مقد رہے یعنی کہ کہا گیا ہے قل للمومنین غضوا فان تقل لہم غضوا یغضوا۔ تم مومنوں سے کہو اپنی (نگاہیں) نیچی رکھو اگر تم ان سے کہو گے اپنی نگاہیں نیچی رکھو (تو) وہ اپنی (نگاہیں) نیچی رکھیں گے۔ الغض آنکھوں کے ایک پپوٹے کا دوسرے پپوٹے پر منطبق ہوجانا۔ مراد نگاہوں کا جھک جانا۔ علامہ راغب اصفہانی المفردات میں رقمطراز ہیں :۔ الغض (نصر) کے معنی کمی کرنے کے ہیں خواہ نظر اور صورت میں ہو یا کسی برتن میں سے کچھ کم کرنے کی صورت میں ہو۔ جیسے قرآن مجید میں آواز کو کم کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ مثلاً واغضض من صوتک (31:19) اور بولتے وقت آواز نیچی رکھنا من ابصارہم۔ من صلہ کے طور پر استعمال ہوا ہے یغضوا من ابصارہم اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں۔ بعض کے نزدیک من تبعیضیہ ہے اور بعض کے نزدیک یہ زائدہ ہے۔ یحفظوا۔ یغضوا ۔ کی طرح یہاں بھی لام امر مقدرہ ہے ای لیحفظوا۔ چاہیے کہ وہ بچائیں ۔ محفوظ رکھیں۔ (حرام سے) فروجہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی شرم گاہیں۔ الفرج والفرجۃ کے معنی دو چیزوں کے درمیان شگاف کے ہیں۔ جیسے دیوار میں شگاف، یا دونوں ٹانگوں کے درمیان کشادگی کنایہ کے طور پر فرج کا لفظ شرم گاہ پر بولا جاتا ہے کثرت استعمال کی وجہ سے اسے حقیقی معنی سمجھا جاتا ہے۔ ازکی۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے زکا یزکو (باب نصر) زکاء وزکو بمعنی پاک ہونا نیک ہونا سے ازکی زیادہ ستھرا۔ زیادہ پاک۔
Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو اس میں سے کھلا رہتا ہو اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈیوں غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں سے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں کہ (چھنکار کی آواز کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے اور (مومنو ! ) سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ

(24:31) لا یبدین۔ فعل نہی جمع مؤنث غائب ابداء (افعال) مصدر وہ ظاہر نہ کریں۔ ما ظھر منھا۔ ما موصولہ ہے منھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع زینۃ ہے وہ اپنی آرائش وزیبائش کو ظاہر نہ کریں سوائے زینت کے اس حصہ کے (جو اکثر وعادۃ یا جبلۃ) کھلا ہی رہتا ہے (مثلاً چہرہ، ہتھیلیاں، پائوں) ۔ ولیضربن۔ لیضربن فعل امر جمع مؤنث غائب ضرب مصدر ۔ یہاں ضرب بمعنی وضع ہے بمعنی رکھنا۔ جیسے ضربت بیدی علی الحائط۔ ای وضعتھا علیہ۔ میں نے دیوار پر ہاتھ رکھا۔ لیضربن چاہیے کہ وہ عورتیں ڈال لیں۔ خمرھن۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی اوڑھنیاں۔ ان کی چادریں۔ خمار کی جمع۔ جیوبہن۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے گریبان۔ جیب کی جمع۔ لیضربن بخمرہن علی جیوبہن۔ چاہیے کہ وہ عورتیں اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈال لیں۔ بعولتہن۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان عورتوں کے شوہر۔ بعولۃ بعل کی جمع ہے جیسے کہ فحل کی جمع فحولۃ ہے۔ نسائہن۔ ان کی ہم مذہب عورتیں۔ مومن عورتیں۔ (کافرہ عورت شریعت میں اجنبی مرد کے حکم میں ہے اس سے سبھی پردہ واجب ہے) ۔ التبعین۔ طفیلیوں کے طور پر رہنے والے مرد۔ جس سے وہ لوگ مراد ہیں جو بچا کچھا کھانے کو پیچھے ہولیں۔ (خدمت گار، کمیرے، غلام وغیرہ) ۔ الاربۃ۔ کے معنی سخت حاجت کے ہیں جسے دور کرنے کے لئے حیلہ اور تدبیر کرنی پڑے۔ یہاں حاجت سے مراد حاجت نکاح ہے۔ اولی الاربۃ۔ جن کو نکاح کی حاجت ہو۔ غیر اولی الاربۃ وہ جن کو نکاح کی حاجت نہ ہو۔ التبعین غیر اولی الاربۃ من الرجال۔ مردوں میں سے ایسے طفیلی جن کو حاجت نکاح نہ ہو۔ لم یظھروا۔ مضارع نفی حجد بلم۔ جمع مذکر غائب علی کے صلہ کے ساتھ۔ جو عورات النساء سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ یعنی ایسے بچے جو ابھی شہوانیت کے معنی ہی سے واقف نہ ہوئے ہوں یہ معنی نہیں کہ ابھی باقاعدہ بالغ نہیں ہوئے ہیں۔ عورات النسائ۔ مضاف مضاف الیہ۔ چھپی باتیں۔ پردہ کی باتیں۔ عورۃ کی جمع ہے العورۃ انسان کے مقام ستر کو کہتے ہیں مگر یہ کنایۃ معنی ہیں۔ اصل میں یہ عار سے مشتق ہے اور مقام ستر کھلنے سے بھی انسان کو عار محسوس ہوتی ہے اس لئے اسے عورت کہا جاتا ہے۔ عورت کو بھی عورت اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اس کے بےستر رہنے کو باعث عار سمجھا جاتا ہے۔ لم یظھروا علی عورارت النسائ۔ (ایسے لڑکے جو) عورتوں کے پردے کی باتوں سے واقف نہ ہوئے ہوں۔ العورۃ کے معنی کپڑے یا مکان وغیرہ میں شگاف کے بھی ہیں مثلاً جیسے قرآن مجید میں ہے کہ ان بیوتنا عورۃ وماھی بعورۃ۔ (33:13) کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے۔ یعنی ان میں جگہ جگہ رخنے پڑے ہوئے ہیں جن میں سے جو چاہے کسی وقت بھی اندر گھس سکتا ہے (یعنی غیر محفوظ ہیں) ۔ لا یضرب بارجلہن۔ چاہیے کہ وہ نہ ماریں اپنے پائوں (زور سے زمین پر) یعنی پائوں زور سے مار مار کر نہ چلیں۔
Ayah 24:32

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور اپنی قوم کی بیوہ عورتوں کے نکاح کردیا کرو اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے بھی جو نیک ہوں (نکاح کردیا کرو) اگر وہ مفلس ہوں گے تو خدا ان کو اپنے فضل سے خوشحال کر دے گا اور خدا (بہت) وسعت والا اور (سب کچھ) جاننے والا ہے

(24:32) الایامی۔ بغیر بیوی والے مرد۔ بغیر شوہر والی عورتیں اس کا واحد ایم ہے یعنی بےنکاحوں کا نکاح کرو۔ امائکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری لونڈیاں۔ اماء امۃ کی جمع ہے اس کا عطف عبادکم پر ہے۔ الصلحین۔ یہاں صالحین سے مراد نیک اور مومن غلام وکنیزیں بھی ہوسکتا ہے اور ایسے غلام اور لونڈیاں جو خانہ داری کا بوجھ اٹھانے اور ازدواجی ذمہ داریاں نبھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یکونوا۔ فعل مضارع مجزوم بوجہ عمل ان۔ جمع مذکر غائب۔ اس میں تمام بغیر بیوی کے مرد بغیر خاوند کی عورتیں۔ صالحین غلام ولونڈیاں آئیں ۔ یعنی فقرہ غربت ان کے نکاح میں حائل نہ ہو کیونکہ فقرو غنا مشیت ایزدی پر منحصر ہے نکاح اس کا باعث نہیں۔ یغنہم۔ مضارع واحد مذکر غائب (جس کا مرجع اللہ ہے) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اللہ ان کو (اپنے فضل سے) غنی کر دے گا۔ واسع اسم فاعل واحد مذکر ۔ سعۃ مصدر۔ وسیع فضل والا۔ وسیع بخشش والا۔ ھو یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر حسبما تقتضیہ الحکمۃ والمصلحۃ وہی کشائش رزق عطا کرتا ہے جس کو چاہے اور کم کرتا ہے جس کے لئے چاہے جیسا جیسا اس کی حکمت اور مصلحت کا تقاضا ہوتا ہے۔
Ayah 24:33

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور جن کو بیاہ کا مقدور نہ ہو وہ پاک دامنی کو اختیار کئے رہیں یہاں تک کہ خدا ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے اور جو غلام تم سے مکاتبت چاہیں اگر تم ان میں (صلاحیت اور) نیکی پاؤ تو ان سے مکاتبت کرلو اور خدا نے جو مال تم کو بخشا ہے اس میں سے انکو بھی دو اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو (بےشرمی سے) دنیاوی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرنا اور جو ان کو مجبور کرے گا تو ان (بےچاریوں) کے مجبور کئے جانے کے بعد خدا بخشنے والا مہربان ہے

(24:33) لیستعفف۔ فعل امر، واحد مذکر غائب استعفاف (استفعال) مصدر وہ بچتا رہے۔ وہ پاکدامن رہے۔ العفۃ نفس میں ایسی حالت کا پیدا ہوجانا جس کے ذریعہ وہ غلبہ شہوت سے محفوظ رہے۔ اصل میں اس کے معنی تھوڑی سی چیز پر قناعت کرنے کے ہیں جو بمنزلہ عفافت یعنی بچی کچھی چیز کے ہو۔ والذین مما ملکت ایمانکم۔ تمہارے غلاموں میں سے وہ لوگ جو۔۔ یبتغون الکتب۔ ای یطلبون المکاتبۃ (جو ) مکاتبت کے خواہاں ہوں۔ یبتغون مضارع معروف جمع مذکر غائب۔ ابتغاء (افتعال) مصدر۔ وہ طلب کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں۔ وہ ڈھونڈھتے ہیں۔ مکاتبت اصطلاح شریعت میں غلام اور آقا کے مابین اس معاہدہ کو کہتے ہیں جس میں غلام اپنے آقا سے کہے کہ میں اتنی مدت میں اتنی رقم ادا کردوں گا یا میں فلاں خدمت انجام دوں گا تو مجھے اس کے بدلہ میں آزاد کیا جائے۔ معاہدہ کرنے والا غلام مکاتب کہلائے گا۔ فکاتبوہم۔ پس تم ان سے مکاتبت کرلو۔ اتوہم۔ اتوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ تم دو ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ جس کا مرجع وہ غلام جو مکاتبت کے خواہاں ہوں۔ یہ حکم عام مسلمانوں کے لئے ہے یعنی جب ایسے غلام اپنے آوقائوں سے مکاتبت کرلیں تو تم ان کو شرط معاہدہ پورا کرنے میں مالی امداد کرو۔ لا تکرھوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم جبر نہ کرو۔ تم مجبور نہ کرو۔ اکراہ (افعال) سے جس کا معنی کسی کو ایسے کام پر مجبور کرنا جو اسے ناپسند ہو۔ فتیتکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری لونڈیاں۔ تمہاری باندیاں ۔ فتاۃ واحد مؤنث ۔ فتی مذکر۔ نوجوان لڑکا۔ خادم ۔ فتیات۔ نوجوان عورتیں لیکن یہاں لونڈیاں مراد ہیں۔ البغائ۔ بغی سے مشتق ہے۔ البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں میانہ روی کی حد سے تجاوز کرنے کی خواہش کرنا۔ خواہ تجاوز کرسکے یا نہ۔ بغی محمود اور مذموم۔ ہر دو معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ محمود مثلاً حد عدل و انصاف سے تجاوز کر کے مرتبہ احسان حاصل کرنا۔ یا فرض سے بڑھ کر تطوع بجا لانا۔ باب افتعال سے قرآن مجید میں اکثر استعمال ہوا ہے مثلاً ابتغاء رحمۃ من ربک (17:28) اپنے پروردگار کی رحمت کے انتظار میں۔ یا الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلی۔ (93:20) اپنے خداوند اعلیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے۔ مذموم۔ مثلاً حق سے تجاوز کر کے باطل یا شبہات میں واقع ہونا۔ قرآن مجید میں اکثر بغی (باب ضرب ونصر) بمعنی مذموم ہی آیا ہے۔ جیسے یبغون فی الارض بغیر الحق (10:23) تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔ یا ۔ فان بغت احدہما علی الاخری۔ فقاتلوا التی تبغی۔ (49:9) اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو زنا کو بھی بغی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں بھی حدود عفت سے تجاوز کے معنی پائے جاتے ہیں۔ البغاء ای الزنا۔ بغی زنا کار۔ فاحشہ عورت ۔ بغایا زنا کار عورتیں (جمع) لا تکرھوا فتیتکم علی البغائ۔ اپنی باندیوں کو زنا پر مجبور نہ کرو۔ تحصنا۔ پرہیزگاری ۔ بچے رہنا۔ مصدر ہے (باب تفعل) تحصنا کے اصل معنی قلعہ بند ہونے کے ہیں۔ (حصن قلعہ) پھر اس کا استعمال ہر طرح کی حفاظت کے متعلق ہونے لگا یہاں پاک دامنی کے معنی میں آیا ہے۔ لتبتغوا۔ لام تعلیل کا ہے۔ تبتغوا جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تبتغون تھا۔ عامل کے آنے کی وجہ سے نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ (یہ) اس لئے کہ تم حاصل کرسکو۔ کہ تم چاہتے ہو۔ عرض۔ مال ومتاع۔ سامان۔ اسباب ۔ مضاف، الحیوۃ الدنیا۔ موصوف وصفت ۔ مل کر مضاف الیہ۔ دنیوی زندگی کا سامان۔ یا فائدہ۔ ولا تکرھوا فتیتکم علی البغاء لتبتغوا عرض الحیوۃ الدنیا ان ردن تحصنا۔ اور محض دنیوی زندگی کے عارضی فائدہ کی خواہش کے لئے اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو۔ اگر وہ اپنی عفت کو محفوظ رکھنا چاہتی ہیں۔ یکرھہن۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اکراہ (افعال) مصدر ہن ضمیر مفعول جمع مؤنث۔ جوان کو مجبور کرے گا۔ فان اللہ من بعد اکراہہن غفور رحیم۔ ای فان اللہ من بعد اکراہہن (لھن) غفوررحیم۔ سو اللہ ان کے مجبور کئے جانے کے بعد (ان کے لئے) بخشنے والا ہے بعض نے غفورلہم لیا ہے یعنی اگر انہوں نے توبہ کرلی تو کدا ان کو بخش دے گا۔ بعض نے لہم ولہن کہا ہے لیکن اصح یہی لہن ہے حضرت ابن مسعود ؓ ۔ جابر بن عبداللہ حضرت ابن عباس ؓ کی قرات یہی ہے قرآن حکیم میں اور جگہ ارشاد ہے الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان۔ (16:106) بجز اس صورت کے کہ اس پر زبردستی کی جائے درآں حالیکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تو وہ عذاب سے مستثنیٰ ہے) ۔ بعض نے اس کو یوں لیا ہے ومن یکرھھن (فعلیہ وبال اکراہہن لا یتعدی الیہن) فان اللہ بعد اکراہہن غفور رحیم لہن۔ جس نے ان کو مجبور کیا اس مجبوری کا بد انجام اسی پر ہوگا۔ ان پر نہیں پہنچے گا۔ سو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کئے جانے کے بعد ان کے لئے بخشنے والا ہے اور مہربان ہے۔ لیکن یہ ظاہر سے ہٹ کر ہے اور بلاضرورت متعدد اضما کا اضافہ ہوگیا ہے۔
Ayah 24:34

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں نازل کی ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کی خبریں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت

(24:34) انزلنا الیکم۔ کے مندرجہ ذیل چار مفعول ہیں۔ (1) کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ (2) ایت مبینت احکام و ہدایات کو واضح طور پر بیان کرنے والی آیات۔ (3) ان قوموں کی عبرتناک مثالیں جو تم سے پہلے گذر چکی ہیں۔ (4) متقیوں کے لئے نصیحت کی باتیں۔
Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے اور قندیل (ایسی صاف و شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارا ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (بڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اور خدا (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

(24:35) نور۔ اگرچہ نور کی تعریف میں علماء بڑی دقیق بحثوں میں گئے ہیں لیکن آسان فہم اس سے مراد وہ تعریف ہے جو صاحب لسان العرب اور حضرت امام غزالی (رح) نے کی ہے کہ :۔ نور اس کو کہتے ہیں جو خود ظاہر اور دوسروں کو ظاہر کرنے والا ہو۔ علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :۔ النور۔ وہ پھیلنے والی روشنی جو اشیاء کے دیکھنے میں مدد دیتی ہے اور یہ دو قسم پر ہے :۔ (1) دنیوی۔ اور ۔ (2) اخروی۔ نور دنیو پھر دو قسم پر ہے :۔ (1) معقول۔ جس کا ادراک بصیرت سے ہوتا ہے یعنی امور الٰہیہ کی روشنی میں جیسے عقل۔ یا قرآن کی روشنی ۔ (2) محسوس۔ جس کا تعلق بصر سے ہے جیسے چاند سورج۔ ستارے اور دیگر اجسام نیرہ۔ چناچہ نور الٰہی کے متعلق فرمایا :۔ قد جاء کم من اللہ نور وکتب مبین (5:15) بیشک خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب تمہارے پاس آچکی ہے۔ اور نور حسی کے کے متعلق فرمایا ھو الذی جعل الشمس ضیاء والقمر نورا (10:15) وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور فرمایا :۔ حضرت ابن عباس اور حضرت انس ؓ سے نور کا معنی ہادی بھی منقول ہے ۔ مشکوۃ۔ اسم۔ وہ طاق جس میں چراغ رکھتے ہیں ۔ چراغدان۔ ایسا طاق جو کہ دیوار کے آر پار نہ ہو بلکہ اس کی محض سامنے کی طرف کھلی ہو باقی تینوں اطراف سے بند ہو۔ شکو مادہ۔ مصباح۔ اسم آلہ۔ واحد مصابیح جمع۔ چراغ صبح مادہ۔ زجاجۃ۔ شیشہ (کا فانوس) ۔ کوکب۔ ستارہ۔ کو اکبجمع ۔ ستارے۔ دری۔ درخشندہ۔ چمکتا ہوا۔ ی نسبتی ہے در کی طرف منسوب ہے جس کے معنی موتی کے ہیں۔ یعنی موتی کی طرح چمکدار۔ کانھا کوکب دری۔ یہ زجاجۃ کی صفت ہے یعنی وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے جو موتی کی طرح چمک رہا ہے۔ یوقد۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب ایقاد مصدر (افعال) جو روشن کیا گیا ہے۔ وقد مادہ۔ اوقد یوقد۔ چراغ جلانا۔ آگ جلانا۔ وقود ایندھن۔ شجرۃ مبارکۃ زیتونۃ۔ مبارکۃ۔ صفت ہے شجرۃ کی۔ مبارک بوجہ کثیر المنافع ہونے کے۔ کہ اس کا تیل نسبتا زیادہ صاف۔ کم دھواں دینے والا۔ زیادہ روشنی دینے والا ہوتا ہے۔ یا اس سے مردا ملک شام کے درخت (زیتون) سے ہے اور شام بابرکت تختہ زمین ہے۔ جہاں ستر نبی پیدا ہوئے۔ زیتونۃ بدل ہے شجرۃ کا۔ لا شرقیۃ ولا غربیۃ (جو) نہ پورب رخ ہے اور نہ پچھم رخ ہے۔ اس جملہ کے علما نے متعدد معانی لئے ہیں۔ (1) نہ اس کے جانب شرقی میں کوئی آڑ ہے اور نہ جانب غربی میں۔ اس کا فیض شرق وغرب کے ساتھ مخصوص نہیں۔ کوئی جانب اس سے خالی نہیں وہ مقید کسی جہت کے ساتھ نہیں۔ (تفسیر ماجدی) ۔ (2) جو کھلے میدان میں یا اونچی جگہ واقع ہو۔ جہاں صبح سے شام تک اس پر دھوپ پڑتی ہو۔ کسی آڑ میں نہ ہو کہ اس پر صرف صبح کی یا صرف شام کی دھوپ پڑے۔ (تفہیم القرآن) ۔ (3) نہ ایسا درخت کہ اس پر ہر وقت دھوپ پڑتی رہے اور نہ ایسا کہ ہر وقت وہ سایہ میں رہے اور کبھی دھوپ پڑے ہی نہ۔ بلکہ ایسا کہ مناسب وقت میں دھوپ میں ہو اور مناسب وقت کے لئے سایہ میں۔ (ابوحیان۔ کذافی روح المعانی) (4) بمعنی الشامی۔ یعنی ملک شام کا کہ یہ ملک کرہ ارض کے وسط میں ہے (کذا فی الخازن) (5) یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شجر دنیا کے اشجار میں سے نہیں کیونکہ دنیا کے درختوں میں سے تو یا شرقی ہوگا یا غربی۔ لا شرقیۃ ولا غربیۃ یہ جملہ زیتونۃ کے موضع صفت میں ہے۔ یکاد زیتھا یضیئ۔ یضیء مضارع واحد مذکر غائب اضاء ۃ (افعال) مصدر قریب ہے کہ بھڑک اٹھے۔ یا جل اٹھے۔ یعنی یوں معلوم دیتا ہے کہ ابھی جل اٹھے گا۔ زیتھا مضاف مضاف الیہ اس کا تیل ھا ضمیر کا مرجع شجرۃ زیتونۃ ہے۔ لم تمسسہ نار۔ لم تمسس مضارع نفی حجد بلم ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع زیت ہے (اگرچہ) آگ اسے چھوئے بھی نہ۔ نور علی نور۔ نور کے اوپر نور۔ نور در نور۔ چنددر چندنور۔ مثال میں انتہائی تیز روشنی کے چراغ کا تصور دیا گیا ہے۔ چراغ کو انتہائی صاف اور روشن فانوس میں رکھا گیا ہے ۔ جو موتی کی طرح چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہے۔ پھر اسے ایک ایسے طاق میں رکھا گیا ہے ۔ جو موتی اطراف سے بند ہو اور صرف سامنے کی طرف ہی کھلا ہو یعنی اس کی روشنی چاروں طرف بکھرنے نہ پائے بلکہ ایک ہی طرف مرکوز ہو۔ پھر اس چراغ میں ایسا تیل ہو جو زیتون کے درخت کا ہو (زیتون کا تیل سب تیلوں سے زیادہ صاف شفاف اور خوبیوں والا شمار ہوتا ہے) اور وہ زیتون کا درخت بھی ایسا کہ جو نہ شرقی ہو اور نہ غربی اور اپنی خوبیوں کے انتہائی درجہ میں ہو کہ بغیر آگ دکھائے یوں معلوم ہو کہ ابھی بھڑک اٹھے گا۔ پس ایسے چراغ کی روشنی نور علی نور ہوگی۔ اس تمثیل کی مفسرین نے مختلف تاویلیں کی ہیں جو کتب تفسیر میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ لنورہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ لنورہ ای الی نورہ۔
Ayah 24:36

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

(وہ قندیل) ان گھروں میں (ہے) جن کے بارے میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلند کیے جائیں اور وہاں خدا کے نام کا ذکر کیا جائے (اور) ان میں صبح و شام اسکی تسبیح کرتے رہیں

(24:36) فی بیوت۔ ای ذلک المصباح یوقد فی بیوت۔ چراغ روشن کیا جاتا ہے (ان ) گھروں میں۔ یہاں بیوت سے مراد مساجد ہیں۔ اذن۔ ای امر۔ اس نے حکم دیا۔ اذن مصدر۔ باب سمع۔ ماضی کا صیغہ واحدمذکر غائب۔ فیھا۔ میں ھا ضمیر کا مرجع بیوت اور اسمہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ ترفع۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب (کہ) وہ بلند کی جائے۔ اوپر اٹھانا۔ اوپر اٹھانے سے مراد عمارت کو اٹھانا بھی ہوسکتا ہے جیسے اذ یرفع ابراہیم القواعد من البیت واسمعیل (2:127) اور جب (حضرت ) ابراہیم اور (حضرت) اسماعیل (علیہما السلام) خانہ (کعبہ) کی بنیادیں بلند کر رہے تھے۔ اور اس کا مطلب مرتبہ کی بلندی بھی ہوسکتا ہے۔ مثلاً نرفع درجت من نشاء (6:83) ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کرتے ہیں۔ آیت ہذا میں بھی دونوں معنی مراد لئے جاسکتے ہیں۔ رفع حقیقی بھی یعنی ان گھروں کی (یعنی مسجدوں کی) عمارت کو بلند کیا جائے ۔ یا رفع معنوی کہ ان گھروں کی تعظیم کی جائے اور وہاں کوئی ایسا فعل نہ کیا جائے جو ادب کے منافی ہو۔ اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ۔ بیوت کی صفت ہے جن کے لئے اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کی تعظیم کی جائے اور اس کا نام لیا جائے۔ یسبح۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اس کا فاعل رجال (آیتہ 37) ہے تسبیح (تفعیل) مصدر۔ وہ پاکی بیان کرتے ہیں۔ آیۃ ہذا میں عام اہل تفسیر نے اس سے مراد نماز پڑھنا لیا ہے۔ الغدو۔ الغدوۃ کی جمع ہے۔ الغدوۃ والغداۃ کے معنی دن کا ابتدائی حصہ کے ہیں۔ الاصال۔ یا اصل کی جمع ہے جس کا معنی شام کے وقت کے ہیں۔ یا یہ اصیل کی جمع ہے جس کے معنی عصر اور مغرب کے درمیانی وقت کے ہیں۔ بالغدو والاصال بمعنی صبح وشام ہے اور یہی معنی (7:205) میں مراد ہیں۔
Ayah 24:37

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

(یعنی ایسے) لوگ جن کو خدا کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے نہ خریدو فروخت۔ وہ اس دن سے جب دل (خوف اور گھبراہٹ کے سبب) الٹ جائیں گے اور آنکھیں (اوپر کو چڑھ جائیں گی) ڈرتے ہیں

(24:37) رجال۔ اس کا تعلق جملہ سابقہ (آیت 36) سے ہے۔ ای یسبح لہ فیھا بالغدو والاصال رجال۔ ان (مساجد) میں (مومن) مرد صبح وشام اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ لا تلہیہم۔ لا تلھی مضارع منفی واحد مؤنث غائب (جس کا مرجع تجارۃ ہے) الھاء (افعال) سے وہ غافل نہیں کرتی۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع رجال ہے وہ ان کو نہیں روکتی یا وہ ان کو غافل نہیں کرتی۔ لا تلھیہم تجارۃ ولا بیع یہ صفت رجال کی ہے۔ یعنی ایسے مرد مومن جن کو تجارت اور بیع (ذکر اللہ۔ اقام الصلوۃ وایتا الزکوۃ غافل نہیں کرتی۔ اگرچہ تجارت ہر دو خریدو فروخت کو مشتمل ہے لیکن بیع (فروخت) کو علیحدہ لایا گیا ہے یہ اس لئے کہ فروخت میں نقد حاصل کیا جاتا ہے اس میں مزید لالچ موجود ہوتا ہے جو انسان کو ذکر الٰہی سے روک سکتا ہے۔ لہٰذا اس کو جداگانہ بیان کر کے بتایا گیا ہے کہ نقد کا لالچ (بیع کی صورت میں) بھی ان کو یاد الٰہی سے غافل نہیں کرسکتا۔ یہ رجال کی صفت ہے۔ اقام۔ اقامۃ (افعال) مصدر سے ہے تا کو بوجہ تخفیف حذف کردیا گیا۔ قائم رکھنا۔ ایتائ۔ دینا۔ عطا کرنا۔ بروزن افعال مصدر سے ہے۔ یخافون۔۔ القلوب والابصار۔ یہ بھی رجال کی صفت ہے۔ یوما۔ ای یوم القیامۃ۔ فعل یخافون کا مفعول ہے۔ مضاف مقدرہ کا مضاف الیہ ہے ای عقاب یوم۔ ڈرتے ہیں یوم قیامت کے عذاب سے۔ تتقلب۔ مضارع واحد مؤنث غائب تقلب (تفعل) مصدر۔ وہ پھرجاتی ہے ۔ وہ پھر جائے گی۔ وہ پلٹتی ہے یا پلٹ جائے گی۔ یہاں بمعنی جمع (قلوب کے لئے) آیا ہے تتقلب فیہ القلوب۔ ای تتقلب القلوب من الخوف فترجع الی الحنجرۃ۔ دل ڈر کے مارے حلق میں اٹک جائیں گے۔ والابصار۔ ای وتتقلب الابصار من ھول الامر وشدتہ۔ اور امر واقع کی شدت اور خوف سے تاڑے لگ جائیں گی۔
Ayah 24:38

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ خدا ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھا بدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرے اور جس کو چاہتا ہے خدا بیشمار رزق دیتا ہے

(24:38) لیجزیہم اللہ۔ لام علت اور سبب بیان کرنے کے لئے ہے اور اس کا تعلق یسبح۔ لا تلھیہم اور لا یخافون سب سے ہے۔ یجزی مضارع منصوب (بوجہ لام تعلیل) واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اللہ فاعل۔ تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں جزا دے احسن۔ بہت اچھا۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے اس کا تعلق ما عملوا سے بھی ہوسکتا ہے (کہ اللہ انہیں ان کے بہترین اعمال کی جزا دے) ۔ اس صورت میں عملوا سے مراد عام عمل بلا تخصیص ہوگا۔ ورنہ تسبیح۔ ذکر اللہ۔ اقام الصلوٰۃ۔ ایتاء الزکوٰۃ۔ تو ازخود جزائے خیر کے مستحق ہیں۔ یا اس کا تعلق جزاء سے ہے ای لیجزیہم احسن جزاء عملہم۔ تاکہ وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزاء دے۔ جیسے کہ ارشاد الٰہی ہے وان تک حسنۃ یضعفہا ویؤت من الدنہ اجرا عظیما۔ (4:40) اور اگر ایک نیکی ہوگی تو اسے دگنا کر دے گا اور اپنے پاس سے اجر عظیم دے گا۔ یا واللہ یضعف لمن یشائ (2:161) اور اللہ جسے چاہے افزونی دیتا رہتا ہے ۔ یزیدہم۔ ای ولیزیدہم۔ مضارع منصوب بوجہ عمل لام واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔
Ayah 24:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال (کی مثال ایسی ہے) جیسے میدان میں ریت کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اسکے پاس آئے تو اسے کچھ نہ پائے اور خدا ہی کو اپنے پاس دیکھے تو وہ اس کا حساب پورا پورا چکا دے اور خدا جلد حساب کرنے والا ہے

(24:39) کسراب۔ کاف تشبیہ کا ہے۔ سراب (شدت گرما میں دوپہر کے وقت) بیابان میں جو پانی کی طرح چمکتی ہوئی ریت نظر آتی ہے اسے سراب کہا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ بظاہر دیکھنے ایسے معلوم ہوتی ہے جیسے پانی بہہ رہا ہو۔ پھر اس سے ہر بےحقیقت چیز کو تشبیہ کے طور پر سراب کہا جاتا ہے۔ کسراب۔ سراب کی طرح۔ قیعۃ۔ القیعۃ۔ ہموار میدان ۔ صحرا۔ دشت بےآب۔ کسراب بقیعۃ جیسے میدان میں سراب۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے و سیرت الجبال فکانت سرابا (78:20) اور پہاڑ چلائے جائیں گے پس وہ سراب ہو کر رہ جائیں گے۔ الظمان۔ ظمیء یظما کا مصدر ہے۔ لیکن یہاں بروزن فعلان صیغہ صفت آیا ہے۔ یعنی پیاسا۔ تشنہ۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے وانک لا تظمؤ فیھا ولا تضحی (20:119) اور تو نہ وہاں پیاسا رہے اور نہ دھوپ کھائے۔ ظ م ء مادہ۔ جاء ہ۔ ای جاء الی ما توھم انہ مائ۔ وہ اس کے پاس آیا جسے وہ پانی خیال کرتا تھا۔ یا ہ ضمیر سے مراد موضع سراب ہے۔ وہ جگہ جہاں اسے پانی نظر آتا تھا۔ لم یجدہ۔ میں بھی ہ ضمیر کا مرجع پانی ہے یا موضع سراب۔ شیئا۔ یا تو ہ ضمیر کے بدل ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یا لم یجد کا مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے۔ لم یجدہ شیئا اسے کچھ بھی نہ پایا۔ ووجد اللہ ۔ اس کا عطف جملہ لم یجد پر ہے اور یہ تشبیہ میں ہی شامل ہے۔ عندہ۔ میں ہ ضمیر کا مرجع ظمان ہے یا موضع سراب ہے۔ اپنے پاس۔ جائے سراب پر۔ ووجد اللہ عندہ۔ اور وہاں اس کے پاس (جائے سراب کے پاس) یا اپنے سامنے۔ اپنے نزدیک۔ اللہ کو پایا۔ (یعنی تڑپ کر مرگیا اور اپنے آپ کو اللہ کے حضور پایا) ۔ فوہ حسابہ۔ سو اللہ نے اس کا حساب پورا پورا چکا دیا۔ وفی یوفی توفیۃ (باب تفعیل) پورا پورا دینا۔ سریع الحساب۔ مضاف مضاف الیہ۔ بہت ہی جلدی حساب کردینے والا۔
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا (ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے دریائے عمیق میں اندھیرے جس پر لہر چلی آتی ہو اور اسکے اوپر اور لہر (آ رہی ہو) اور اس کے اوپر بادل ہو غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ایک پر ایک (چھایا ہوا) جب اپنا ہاتھ نکا لے تو کچھ دیکھ نہ سکے اور جس کو خدا روشنی نہ دے اس کو (کہیں بھی) روشنی نہیں (مل سکتی )

(24:40) او کظلمت۔ او حرف عطف۔ کظلمت معطوف۔ کسراب معطوف علیہ ۔ یہ کفار کے اعمال کی دوسری مثال ہے ک حرف تشبیہ۔ ظلمت تاریکیاں۔ اندھیرے۔ ظلمۃ کی جمع ۔ ظلمت کہتے ہیں روشنی کے نہ ہونے کو۔ اس کی ضد نور ہے۔ جیسے ارشاد الٰہی ہے یخرجہم من الظلمت الی (2:257) وہ (اللہ) ان کو اندھیروں سے اجالے میں نکال لاتا ہے۔ او کظلمت تا مجرور بوجہ ک حرف جار کے ہے جیسے کسراب۔ یا ان (کفار ) کے اعمال ایسے اندھروں کی مانند ہیں۔ لجی۔ یائے نسبتی ہے جس کی نسبت بحر سے ہے۔ بحر لجی بہت پانی والا دریا۔ اللجاج مصدر (باب ضرب وسمع) کے معنی کسی ممنوع کام کے کرنے میں بڑھتے چلے جانے کے اور اس پر ضد کرنے کے ہیں۔ مثلا بل لجوا فی عتو و نفور (67:21) لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ لجۃ البحر۔ سمندر کی موجوں کا تلاطم (ان کا باہر آنا اور پلٹنا) ۔ بحر لجی۔ صفت موصوف۔ بہت پانی والا دریا۔ عمیق ۔ ایسا سمندر جو نہایت عمیق اور متلاطم ہو۔ بحر الذی لا یدرک قعدہ۔ ایسا سمندر جس کی گہرائی معلوم نہ ہو سکے۔ یغشہ موج من فوقہ موج۔ یغشہ مضارع واحد مذکر غائب غشی (باب سمع) مصدر اس پر چھا رہی ہو۔ اس کو ڈھانکے ہوئے ہو۔ یغشی میں ضمیر مضارع برائے موج ہے اور ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب بحر کے لئے ہے۔ من فوقہ موج اس پر ایک دوسری موج۔ من فوقہ سحاب (پھر) اس موج پر بادل۔ ظلمت بعضھا فوق بعض۔ اندھیرے (جو تہہ در تہہ) ایک دوسرے پر امڈے چلے آرہے ہوں ۔ لم یکد یرھا۔ لم یکد مضارع نفی حجد بلم۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ جس کا مرجع یدہ ہے۔ فما لہ نور۔ اس کی کیفیت آیۃ 35 میں ملاحظہ ہو اور کفار اور ان کے اعمال کا بیان آیۃ ہذا میں ملاحظہ ہو۔ ظلمت بعضھا فوق بعض۔ تفسیر حقانی میں ہے بحر لجی۔ یعنی بڑے گہرے اور بہت عمیق سمندر کی تہ میں (بوجہ گہرائی اندھیرا ہوتا ہے۔ پھر جب اس پر امواج کا تلاطم ہو تو اور بھی اندھیرا زیادہ ہوجاتا ہے اور جب کہ امواج پر بادل اور گھنگھور گھٹا ہوتی ہے تو انتہا درجہ کا اندھیرا ہوجاتا ہے تو ایسی حالت میں ہاتھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ حالانکہ پاس کی چیزوں میں سے ہاتھ بہت قریب سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح کفار تین اندھیروں میں مبتلا ہیں :۔ (1) اعتقاد کی ظلمت جو بحر عمیق کے مشابہ ہے اور عقائد کا محل دل ہے جس کو مختلف موجیں مارنے میں اور خطرات شہوت کے تلاطم میں بڑی مناسب اور کامل تشبیہ ہے۔ (2) قول بد کی ظلمت جو ان کی زبان سے نکل کر دریا کی طرح موجیں مارتی ہے۔ (3) عمل بد کی ظلمت جو بادل کی طرح محیط ہے۔ یا ۔ اس کے قلب اور سمع وبصر کی اندھیریاں مراد ہیں۔ یا ۔ کافر کو جو اپنے کفر پر اصرار ہے اس ظلمات متراکمہ کو دریا اور امواج اور سحاب کی ظلمات متراکمہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ پس وہ کافر جو ان اندھیروں میں مبتلا ہے اگر اس کو اللہ تعالیٰ ہی اندھیروں سے نہ نکالے اور نور میں نہ لائے تو اسے کون نکال سکتا ہے اور نور میں لاسکتا ہے۔ اسی لئے فرمایا : ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور۔