Ayah 24:11 یہ سورت بعض نہایت ضروری احکام و حدود، امثال و مواعظ، حقائق توحید اور بہت ہی اہم تنبیہات و اصلاحات پر مشتمل ہے اس کا سب سے زیادہ ممتاز اور سبق آموز حصہ وہ ہے جس کا تعلق قصہ " افک " سے ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر منافقین نے جو جھوٹی تہمت لگائی تھی اس میں بعض سادہ دل اور مخلص مسلمانوں کے پائے استقامت کو بھی قدرے لغزش ہوگئی تھی۔ جس کا خطرناک اثر نہ صرف عائشہ صدیقہ کی پوزیشن پر پڑتا تھا، بلکہ ایک حیثیت سے خود پیغمبر (علیہ السلام) کی بارگاہ مجدد شرف تک پہنچتا تھا، اس لیے ضروری ہوا کہ قرآن کریم پورے اہتمام اور قوت سے ایسی خوفناک غلط کاری یا غلط فہمی کی اصلاح کرے اور ہمیشہ کے لیے ایمانداروں کے کان کھول دے کہ آئندہ کبھی دشمنوں کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر ایسی ٹھوکر نہ کھائیں۔ پیغمبر ﷺ کا مرتبہ رفیع یا امہات المومنین کی پاک و محترم حیثیت ایسی نہیں جس کے سمجھنے اور یاد رکھنے میں کوئی مسلمان کسی وقت بھی ذرا سا تساہل روا رکھے۔ شاید اسی لیے سورت کا آغاز ان الفاظ سے فرمایا۔ " سُورَۃٌ اَنْزَلْنَاہَا وَفَرَضَنَاہَا الخ " تامخاطبین سمجھ لیں کہ اس کے مضامین ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں اور بہت زیادہ محفوظ رکھنے اور لازم پکڑنے کے مستحق ہیں۔ اور جو صاف صاف نصیحتیں اور کھری کھری باتیں اس سورت میں بیان فرمائی گئی ہیں، اس لائق ہیں کہ ہر مسلمان ان کو حرز جان بنائے اور یاد رکھے۔ ایک منٹ کے لیے اس سے غفلت نہ کرے ورنہ دین و دنیا کی تباہی ہے۔
Ayah 24:22 یہ سزا اس زانی اور زانیہ کی ہے جو آزاد، عاقل، بالغ اور نکاح کیے ہوئے نہ ہوں یا نکاح کرنے کے بعد ہم بستری نہ کرچکے ہوں اور جو آزاد نہ ہو اس کے پچاس درے لگتے ہیں، اس کا حکم پانچویں پارہ کے اول رکوع کے ختم پر مذکور ہے۔ اور جو عاقل یا بالغ نہ ہو وہ مکلف ہی نہیں اور جس مسلمان میں تمام صفتیں موجود ہوں (حریت، بلوغ، عقل، نکاح اور ہم بستری سے فراغ) ایسے شخص کو " محصن " کہتے ہیں۔ اس کی سزا " رجم " (سنگسار کرنا) ہے جیسا کہ سورة مائدہ میں " تورات " کے حوالہ سے فرمایا (وَكَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ وَعِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِيْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ) 5 ۔ المائدہ :43) اور وہ حکم اللہ رجم تھا جیسا کہ وہاں کے فوائد میں گزر چکا۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے اسی کے موافق فیصلہ کیا اور فرمایا " اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَوَّلُ مَنْ اَحْیَآ اَمْرَکَ اِذَامَاتُوہ، " (خدایا ! میں پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا جبکہ وہ اسے مٹا چکے تھے) پھر نہ صرف ان یہود کو بلکہ جس قدر واقعات اس قسم کے پیش آئے ان سب میں زانی محصن کو آپ ﷺ نے یہ ہی رجم کی سزا دی، اور آپ ﷺ کے بعد صحابہ ؓ کا عمل برابر اسی قانون رجم پر رہا۔ بلکہ اہل السنت والجماعت میں کسی ایک شخص نے بھی اس سے اختلاف کی جرأت نہ کی۔ گویا سنت متواترہ اور اجماع اہل حق نے بتلا دیا کہ اس مسئلہ میں شریعت محمدیہ نے تورات کے حکم کو باقی رکھا ہے جیسا کہ قتل عمد کی سزا قتل ہونا قرآن کریم نے بحوالہ تورات بیان فرمایا تھا (وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بالنَّفْسِ ) 5 ۔ المائدہ :45) الخ اور مرتدین کے قتل کا بنی اسرائیل کو حکم دینا سورة " بقرہ " میں بیان کیا گیا۔ (فَتُوْبُوْٓا اِلٰى بَارِىِٕكُمْ فَاقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِىِٕكُمْ ) 2 ۔ البقرۃ :54) پھر ان ہی احکام کو امت محمدیہ کے حق میں بھی قائم رکھا گیا۔ شاید رجم محصن اور مسئلہ قصاص کو نقل کرنے کے بعد جو بڑی شدت و تاکید سے ترک حکم بما انزل اللہ کی برائی بیان فرمائی اور آخر میں ارشاد ہوا (وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ عَمَّا جَاۗءَكَ مِنَ الْحَقِّ ) 5 ۔ المائدہ :48) اس سے یہ ہی غرض ہو کہ تورات کے یہ احکام اب قرآن کے زیر حفاظت ہیں جن کے قائم رکھنے میں پیغمبر کو کسی اہواء و آراء کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ چناچہ نہ آپ ﷺ نے پروا کی نہ آپ ﷺ کے خلفاء نے۔ حتٰی کہ حضرت عمر ؓ کو جب رجم محصن کے متعلق یہ اندیشہ ہوا بلکہ مکشوف ہوگیا کہ آگے چل کر بعض زائغین اس کا انکار کرنے لگیں گے (چنانچہ خوارج نے اور ہمارے زمانے کے ایک ممسوخ فرقہ نے کیا) تو آپ نے منبر پر چڑھ کر صحابہ وتابعین کے مجمع میں اس حکم خداوندی کا بہت شدومد سے اعلان فرمایا اور اس میں قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دیا جس میں رجم محصن کا صریح حکم تھا اور جس کی تلاوت گو بعد میں منسوخ ہوگئی مگر حکم برابر باقی رہا۔ (تنبیہ) کسی آیت کا محض منسوخ التلاوت ہونا اور حکم باقی رہنا یہ ایک مستقل مسئلہ ہے جس کی تحقیق ان مختصر فوائد میں درج نہیں ہوسکتی۔ انشاء اللہ العزیز اگر مستقل تفسیر قرآن لکھنے کی نوبت آئی تو وہاں لکھا جائے گا۔
3 یعنی اگر اللہ پر یقین رکھتے ہو تو اس کے احکام و حدود جاری کرنے میں کچھ پس و پیش نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ مجرم پر ترس کھا کر سزا بالکل روک لو یا اس میں کمی کرنے لگو یا سزا دینے کی ایسی ہلکی اور غیر موثر طرز اختیار کرو کہ سزا سزا نہ رہے۔ خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ حکیم مطلق اور تم سے زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہے اس کا کوئی حکم سخت ہو یا نرم مجموعہ عالم کے حق میں حکمت و رحمت سے خالی نہیں ہوسکتا۔ اگر تم اس کے احکام و حدود کے اجراء میں کوتاہی کرو گے تو آخرت کے دن تمہاری پکڑ ہوگی۔
4 یعنی سزا تنہائی میں نہیں، مسلمانوں کے مجمع میں دینی چاہیے کیونکہ اس رسوائی میں سزا کی تکمیل و تشہیر اور دیکھنے سننے والوں کے لیے سامان عبرت ہے۔ اور شاید یہ بھی غرض ہو کہ دیکھنے والے مسلمان اس کی حالت پر رحم کھا کر عفو و مغفرت کی دعا کریں گے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 24:35 زنا کی سزا ذکر کرنے کے بعد اس فعل کی غایت شناعت بیان فرماتے ہیں۔ یعنی جو مرد یا عورت اس عادت شنیع میں مبتلا ہیں حقیقت میں وہ اس لائق نہیں رہتے کہ کسی عفیف مسلمان سے ان کا تعلق ازدواج و ہمبستری قائم کی جائے ان کی پلید طبیعت اور میلان کے مناسب تو یہ ہے کہ ایسے ہی کسی بدکار و تباہ حال مرد عورت سے یا ان سے بھی بدتر کسی مشرک و مشرکہ سے ان کا تعلق ہو۔ کما قال تعالیٰ ۔ (اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ ۚ وَالطَّيِّبٰتُ للطَّيِّبِيْنَ وَالطَّيِّبُوْنَ للطَّيِّبٰتِ ) 24 ۔ النور :26) کندہم جنس باہم جنس پرواز۔ کبوتر با کبوتر باز با باز۔ ان کی حرکت کا اصلی اقتضاء تو یہ ہی تھا۔ اب یہ جداگانہ امر ہے کہ حق تعالیٰ نے دوسری مصالح و حکم کی بنا پر کسی نام نہاد مسلمان کا مشرک و مشرکہ سے عقد جائز نہیں رکھا۔ یا مثلاً بدکار مرد کا پاکپاز عورت سے نکاح ہوجائے تو بالکل باطل نہیں ٹھہرایا۔ (تنبیہ) آیت کی جو تقریر ہم نے کی وہ بالکل سہل اور بےتکلف ہے اس میں " لاینکح " کے معنی وہ لیے گئے جو " اَلْسُلْطَانُ لاَیَکْذِبُ " وغیرہ محاورات میں لیے جاتے ہیں۔ یعنی نفی لیاقت فعل کو نفی فعل کی حیثیت دے دی گئی۔ فاَفْہَمْ وَ اسْتَقِمْ ۔
6 یعنی زنا مومنین پر حرام ہے۔ ایک مومن مومن رہتے ہوئے یہ حرکت کیسے کرے گا۔ حدیث میں ہے " لاَیَزْنِی الزَّانِی حِیْنَ یَزْنِی وَہُوَ مُوْمِنُ " یا یہ مطلب ہو کہ زانیہ سے نکاح کرنا ان پاکباز مردوں پر حرام کردیا گیا ہے جو صحیح اور حقیقی معنوں میں مومنین کہلانے کے مستحق ہیں۔ یعنی تکوینی طور پر ان کے پاک نفوس کو ایسی گندی جگہ کی طرف مائل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ اس وقت " حرم " کے معنی وہ ہوں گے جو (وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ ) 28 ۔ القصص :12) میں، یا (وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ ) 21 ۔ الانبیآء :95) میں لیے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 24:47 یعنی ایسی پاکدامن عورتوں کو زنا کی تہمت لگائیں جن کا بدکار ہونا کسی دلیل یا قرینہ شرعیہ سے ثابت نہیں۔ اس کی سزا بیان فرماتے ہیں اور یہ ہی حکم پاکباز مردوں پر تہمت لگانے کا ہے۔ چونکہ یہ آیات ایک عورت کے قصہ میں نازل ہوئیں اس لیے ان ہی کا ذکر فرمایا۔ اگر چار گواہ پیش کردیے اور ان کی شہادت بقاعدہ شریعت پوری اتری تو مقذوف یا مقذوفہ پر حد زنا جاری کی جائے گی۔
8 یہ سزا قاذف (تہمت لگانے والے) کی ہوئی کہ (مقذوف کے مطالبہ پر) اسی درے لگائے جائیں اور آئندہ ہمیشہ کے لیے (معاملات) میں مردود الشہادت قرار دیا جائے۔ حنفیہ کے نزدیک توبہ کے بعد بھی اس کی شہادت معاملات میں قبول نہیں کی جاسکتی۔
9 اگر واقعی جان بوجھ کر جھوٹی تہمت لگائی تھی تب تو ان کا فاسق و نافرمان ہونا ظاہر ہے اور اگر واقعی سچ بیان کیا تھا لیکن جانتے تھے کہ چار گواہوں سے ہم اپنا دعویٰ ثابت نہیں کرسکیں گے تو ایسی بات کا اظہار کرنے سے بجز ایک مسلمان کی آبرو ریزی اور پردہ دری کے کیا مقصود ہوا جو بجائے خود ایک مستقل گناہ ہے اور علماء نے اس کو کبائر میں شمار کیا ہے۔
Ayah 24:510 یعنی توبہ اور اصلاح حال کے بعد اللہ کے نافرمان بندوں میں اس کا شمار نہ رہے گا۔ گو پچھلے قذف کی سزا میں مردود الشہادت پھر بھی رہے۔ یہ ہی مذہب سلف میں سے قاضی شریح، ابراہیم نخعی، سعید بن جبیر، کحول، عبدالرحمن بن زید بن جابر، حسن بصری، محمد بن سیرین اور سعید بن المسیب رحمہم اللہ کا ہے۔ کما فی الدرالمنثو وابن کثیر۔
Ayah 24:611 یعنی زنا کی تہمت لگائے یا اپنے بچہ کو کہے کہ یہ میرے نطفہ سے نہیں۔
Ayahs 24:7–91 یعنی جو اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اولاً اس سے چار گواہ طلب کیے جائیں گے، اگر پیش کر دے تو عورت پر حد زنا جاری کردی جائے گی۔ اگر گواہ نہ لاسکا تو اس کو کہا جائے گا کہ چار مرتبہ قسم کھا کر بیان کرے کہ وہ اپنے دعوے میں سچا ہے (یعنی جو تہمت اپنی بیوی پر لگائی ہے اس میں جھوٹ نہیں بولا) گویا چار گواہوں کی جگہ خود اس کی یہ چار حلفیہ شہادتیں ہوئیں اور آخر میں پانچویں مرتبہ یہ الفاظ کہنے ہوں گے کہ " اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہو تو اس پر خدا کی لعنت اور پھٹکار " اگر الفاظ مذکورہ بالا کہنے سے انکار کرے تو حبس کا کیا جائے گا اور حاکم اس کو مجبور کرے گا کہ یا اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کرے، تو حد قذف لگے گی جو اوپر گزری۔ اور یا پانچ مرتبہ وہ ہی الفاظ کہے جو اوپر مذکور ہوئے۔ اگر کہہ لیے تو پھر عورت سے کہا جائے گا کہ وہ چار مرتبہ قسم کھا کر بیان کرے کہ " یہ مرد تہمت لگانے میں جھوٹا ہے " اور پانچویں دفعہ یہ الفاظ کہے کہ " اللہ کا غضب آوے اس عورت پر اگر یہ مرد اپنے دعوے میں سچا ہو " تاوقتیکہ عورت یہ الفاظ کہے گی اس کو قید میں رکھیں گے اور مجبور کریں گے کہ یا صاف طور پر مرد کے دعوے کی تصدیق کرے تب تو حد زنا اس پر جاری ہوگی، اور یا بالفاظ مذکورہ بالا اس کی تکذیب کرے۔ اگر اس نے بھی مرد کی طرح یہ الفاظ کہہ دیے اور " لعان " سے فراغت ہوئی تو اس عورت سے صحبت اور داعی صحبت سب حرام ہوگئے۔ پھر اگر مرد نے اس کو طلاق دے دی فبہا ورنہ قاضی ان میں تفریق کر دے۔ گو دونوں رضامند نہ ہوں۔ یعنی زبان سے کہہ دے کہ میں نے ان میں تفریق کی۔ اور یہ تفریق طلان بائن کے حکم میں ہوگی۔ (تنبیہ) زوجین سے اس طرح الفاظ کہلوانے کو شریعت میں " لعان " کہتے ہیں اور لعان صرف قذف ازواج کے ساتھ مخصوص ہے عام محصنات کے قذف کا وہ ہی حکم ہے جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوچکا۔
Ayah 24:102 یعنی اگر یہ حکم لعان مشروع نہ ہوتا تو قذف کے عام قاعدہ کے موافق زوج پر حد قذف آتی اور یا ساری عمر خون کے گھونٹ پیتا۔ کیونکہ ممکن ہے وہ سچا ہو۔ بخلاف غیر شوہر کے کہ وہ اظہار میں مضطر نہیں، اس لیے اس کے قانون میں ان امور کی رعایت ضروری نہیں۔ دوسری طرف اگر محض خاوند کے قسمیں کھانے پر زنا کا ثبوت ہوجایا کرتا تو عورت کی سخت مصیبت تھی، حالانکہ ممکن ہے وہ ہی سچی ہو۔ اسی طرح اگر عورت کو قسمیں کھانے پر یقینا بری سمجھ لیا جاتا تو مرد پر حدقذف واجب ہوجاتی باوجود یہ کہ اس کے صادق ہونے کا بھی مساوی احتمال موجود ہے پس ایسے طور پر لعان کا مشروع کرنا کہ سب کی رعایت رہے۔ یہ اثر ہے حق تعالیٰ کے فضل و رحمت اور حکمت کا کیونکہ فریقین میں سے جو سچا ہو وہ بےمحل سزا سے بچ گیا۔ اور جھوٹے کی دنیا میں پردہ پوشی کر کے مہلت دی گئی کہ شاید توبہ کرے۔ پھر اس کی توبہ کا قبول کرلینا یہ اثر صفت توابیت کا ہوا۔
Ayah 24:113 یہاں سے اس طوفان کا ذکر ہے جو حضرت عائشہ صدیقہ پر اٹھایا گیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ 6 ھ میں غزوہ بنی المصطلق سے واپس مدینہ تشریف لا رہے تھے، حضرت عائشہ صدیقہ بھی ہمراہ تھیں، ان کی سواری کا اونٹ علیحدہ تھا، وہ ہودہ میں پردہ چھوڑ کر بیٹھ جاتیں۔ حمّال ہودے کو اونٹ پر باندھ دیتے۔ ایک منزل پر قافلہ ٹھہرا ہوا تھا، کوچ سے ذرا پہلے حضرت عائشہ کو قضاء حاجت کی ضرورت پیش آئی۔ جس کے لیے قافلہ سے علیحدہ ہو کر جنگل کی طرف تشریف لے گئیں، وہاں اتفاق سے ان کا ہار ٹوٹ کر گرگیا ۔ اس کی تلاش میں دیر لگ گئی۔ یہاں پیچھے کوچ ہوگیا۔ حمال حسب عادت اونٹ پر ہودہ باندھنے آئے، اور اس کے پردے پڑے رہنے سے گمان کیا کہ حضرت عائشہ اس میں تشریف رکھتی ہیں۔ اٹھاتے وقت بھی شبہ نہ ہوا۔ کیونکہ ان کی عمر تھوڑی تھی اور بدن بہت ہلکا پھلکا تھا۔ غرض حمالوں نے ہودہ باندھ کر اونٹ کو چلتا کردیا۔ حضرت عائشہ واپس آئیں تو وہاں کوئی نہ تھا۔ نہایت استقلال سے انہوں نے یہ رائے قائم کی کہ یہاں سے اب جانا خلاف مصلحت ہے۔ جب آگے جا کر میں نہ ملوں گی تو یہیں تلاش کرنے آئیں گے۔ آخر وہیں قیام کیا، رات کا وقت تھا، نیند کا غلبہ ہوا وہیں لیٹ گئیں حضرت صفوان بن معطل ؓ گرے پڑے کی خبر گیری کی غرض سے قافلہ کے پیچھے کچھ فاصلہ سے رہا کرتے تھے، وہ اس موقع پر صبح کے وقت پہنچے۔ دیکھا کوئی آدمی پڑا سوتا ہے۔ قریب آکر پہچانا کہ حضرت عائشہ ہیں (کیونکہ پردہ کا حکم آنے سے پہلے انہوں نے ان کو دیکھا تھا) دیکھ کر گھبرا گئے اور " اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا الَیْہِ رَاجِعُون " پڑھا۔ جس سے ان کی آنکھ کل گئی فوراً چہرہ چادر سے ڈھانک لیا۔ حضرت صفوان نے اونٹ ان کے قریب لا کر بٹھلا دیا۔ یہ اس پر پردہ کے ساتھ سوار ہوگئیں۔ انہوں نے اونٹ کی نکیل پکڑ کر دوپہر کے وقت قافلہ سے جا ملایا۔ عبد اللہ بن ابی بڑا خبیث، بدباطن، اور دشمن رسول اللہ ﷺ کا تھا، اسے ایک بات ہاتھ لگ گئی اور بدبخت نے واہی تباہی بکنا شروع کیا۔ اور بعض بھولے بھالے مسلمان بھی (مثلاً مردوں میں سے حضرت حسان، حضرت مسطح، اور عورتوں میں سے حضرت حمنہ بنت جحش) منافقین کے مغویان پراپیگنڈا سے متاثر ہو کر اس قسم کے افسوس ناک تذکرے کرنے لگے۔ عموماً مسلمانوں کو اور خود جناب رسول کریم ﷺ کو اس قسم کے واہیات تذکروں اور شہرتوں سے سخت صدمہ تھا۔ ایک مہینہ تک یہ ہی چرچا رہا۔ حضور ﷺ سنتے اور بغیر تحقیق کچھ نہ کہتے، مگر دل میں خفا رہتے۔ ایک ماہ بعد ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو اس شہرت کی اطلاع ہوئی شدت غم سے بیتاب ہوگئیں اور بیمار پڑگئیں۔ شب و روز روتی تھیں۔ ایک منٹ کے لیے آنسو نہ تھمتے تھے۔ اسی دوران میں بہت سے واقعات پیش آئے اور گفتگوئیں ہوئیں جو صحیح بخاری وغیرہ میں مذکور ہیں اور پڑھنے کے قابل ہیں۔ آخر حضرت صدیقہ کی برأت میں خود حق تعالیٰ نے قرآن کریم میں سورة " نور " کی یہ آیتیں " اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُ وَبِالْاِ فْکِ " الخ سے دور تک نازل فرمائیں جس پر عائشہ صدیقہ فخر کیا کرتی تھیں اور بلاشبہ جتنا فخر کریں تھوڑا تھا۔
4 یعنی طوفان اٹھانے والے خیر سے وہ لوگ ہیں جو جھوٹ یا سچ اسلام کا نام لیتے اور اپنے کو مسلمان بتلاتے ہیں۔ ان میں سے چند آدمیوں نے مل کر یہ سازش کی اور کچھ لوگ نادانستہ ان کی عیارانہ سازش کا شکار ہوگئے۔ تاہم خدا کا احسان ہے کہ جمہور مسلمان ان کے جال میں نہیں پھنسے۔
5 یہ خطاب ان مسلمانوں کی تسلی کے لیے ہے جنہیں اس واقعہ سے صدمہ پہنچا تھا بالخصوص عائشہ صدیقہ ؓ اور ان کے گھرانا کہ ظاہر ہے وہ سخت غمزدہ اور پریشان تھے۔ یعنی گو بظاہر یہ چرچا بہت مکروہ، رنجیدہ اور ناخوشگوار تھا۔ لیکن فی الحقیقت تمہارے لیے اس کی تہ میں بڑی بہتری چھپی ہوئی تھی۔ آخر اتنی مدت تک ایسے جگر خراش حملوں اور ایذاؤں پر صبر کرنا کیا خالی جاسکتا ہے۔ کیا یہ شرف تھوڑا ہے کہ خود حق تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں تمہاری نزاہت و برأت اتاری۔ اور دشمنوں کو رسوا کیا اور قیامت تک کے لیے تمہارا ذکر خیر قرآن پڑھنے والوں کی زبان پر جاری کردیا۔ اور مسلمانوں کو پیغمبر ﷺ کی ازواج و اہل بیت کا حق پہچاننے کے لیے ایسا سبق دیا جو کبھی فراموش نہ ہو سکے۔ فَلِلّٰہ الحمد علٰی ذلک۔
6 یعنی جس شخص نے اس فتنہ میں جس قدر حصہ لیا اسی قدر گناہ سمیٹا اور سزا کا مستحق ہوا۔ مثلاً بعض خوش ہو کر اور خوب مزے لے کر ان واہیات باتوں کا تذکرہ کرتے تھے۔ بعض اظہار افسوس کے طرز میں، بعض چھیڑ کر مجلس میں چرچا اٹھا دیتے آپ ﷺ خود چپکے سنا کرتے۔ بعض سن کر تردد میں پڑجاتے، بہت سے خاموش رہتے اور بہت سے سن کر جھٹلا دیتے۔ ان پچھلوں کو پسند فرمایا اور سب کو درجہ بدرجہ کم و بیش الزام دیا۔ اور بڑا بوجھ اٹھانے والا منافقوں کا سردار عبد اللہ بن ابی تھا جیسا کہ روایات کثیرہ میں تصریح ہے۔ یہ ہی خبیث لوگوں کو جمع کرتا اور ابھارتا اور نہایت چالاکی سے خود دامن بچا کر دوسروں سے اس کی اشاعت کرایا کرتا تھا۔ اس کے لیے آخرت میں بڑا عذاب تو ہے ہی، دنیا میں بھی ملعون خوب ذلیل و رسوا ہوا اور قیامت تک اسی ذلت و خواری سے یاد کیا جائے گا۔
Ayah 24:127 مسلمان کو چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائی بہنوں کے ساتھ حسن ظن رکھے۔ اور جب سنے کہ لوگ ایک نیک شخص پر یوں ہی رجماً بالغیب بری تہمتیں لگاتے ہیں تو اپنے دل میں ایسے خیالات کو راہ نہ دے بلکہ ان کو جھٹلائے۔ پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی پیٹھ پیچھے بھائی مسلمان کی مدد کرے۔ اللہ پیٹھ پیچھے اس کی مدد کرے گا۔ بےتحقیق تہمتیں تراشنا ایمان سے بعید ہے۔ چاہیے کہ آدمی خود اپنی آبرو پر دوسروں کی آبرو کو قیاس کرلے۔ جیسا کہ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ وغیرہ نے قصہ " افک " میں کیا۔ ایک روز ان کی بیوی نے کہا کہ لوگ عائشہ صدیقہ کی نسبت ایسا کہتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ جھوٹے ہیں۔ کیا ایسا کام تو کرسکتی ہے ؟ بولی ہرگز نہیں۔ فرمایا پھر (صدیق کی بیٹی اور نبی ﷺ کی بیوی) عائشہ صدیقہ تجھ سے کہیں بڑھ کر پاک و صاف اور طاہر و مطہر ہیں، ان کی نسبت بےوجہ ایسا گمان کیوں کیا جائے۔
Ayah 24:138 یعنی اللہ کے حکم اور اس کی شریعت کے موافق وہ لوگ جھوٹے قرار دیے گئے ہیں۔ جو کسی پر بدکاری کی تہمت لگا کر چار گواہ پیش نہ کرسکیں اور بدون کافی ثبوت کے ایسی سنگین بات زبان سے بکتے پھریں۔
Ayah 24:149 یعنی اللہ تعالیٰ نے اس امت کو پیغمبر کے طفیل دنیا کے عذابوں سے بچایا ہے۔ نہیں تو یہ بات قابل تھی عذاب کے۔ (موضح القرآن) نیز تم میں سے مخلصین کو توبہ کی توفیق دے کر خطا معاف کردی ورنہ منافقین کی طرح وہ بھی قیامت کے دن عذاب عظیم میں گرفتار ہوتے۔ (العیاذ باللہ)
Ayah 24:152 یعنی عذاب عظیم کے مستحق کیوں نہ ہوتے جبکہ تم ایسی بےتحقیق اور ظاہر البطلان بات کو ایک دوسرے کی طرف چلتا کر رہے تھے۔ اور زبان سے وہ اٹکل پچو باتیں نکالتے تھے جن کی واقعیت کی تمہیں کچھ خبر نہ تھی۔ پھر طرفہ یہ ہے کہ ایسی سخت بات کو (یعنی کسی محصنہ خصوصاً پیغمبر ﷺ کی زوجہ مطہرہ اور مومنین کی روحانی والدہ کو مہتم کرنا) جو اللہ کے نزدیک بہت بڑا سنگین جرم ہے محض ایک ہلکی اور معمولی بات سمجھنا، یہ اصل جرم سے بھی بڑھ کر جرم تھا۔
Ayah 24:163 یعنی اول تو حسن ظن کا اقتضاء یہ تھا کہ دل میں بھی یہ خیال نہ گزرنے پائے۔ جیسا کہ اوپر ارشاد ہوا۔ لیکن اگر شیطانی اغواء سے فرض کیجئے کسی کے دل میں کوئی برا وسوسہ گزرے تو پھر یہ جائز نہیں کہ ایسی ناپاک بات زبان پر لائی جائے۔ چاہیے کہ اس وقت مومن اپنی حیثیت اور دیانت کو ملحوظ رکھے اور صاف کہہ دے کہ ایسی بےسروپا بات کا زبان سے نکالنا مجھ کو زیب نہیں دیتا۔ اے اللہ تو پاک ہے۔ کسی طرح لوگ ایسی نامعقول بات منہ سے نکالتے ہیں۔ بھلا جس پاکباز خاتون کو تو نے سید الانبیاء اور راس المتقین کی زوجیت کے لیے چنا، کیا وہ (معاذ اللہ) خود بےآبرو ہو کر پیغمبر کی آبرو کو بٹہ لگائے گی (حاشاہا ثم حاشاہا) ہو نہ ہو دشمنوں نے ایک بےقصور پر بہتان باندھا ہے۔
Ayah 24:174 یعنی مومنین کو پوری طرح چوکس اور ہوشیار رہنا چاہیے۔ بدباطن منافقین کے چکموں میں کبھی نہ آئیں۔ ہمیشہ پیغمبر ﷺ اور آپ ﷺ کے اہل بیت کی عظمت شان کو ملحوظ رکھیں۔
Ayah 24:185 یعنی پتہ اس کا کہ یہ طوفان اٹھایا کس نے۔ معلوم ہوا کہ منافقین نے جو ہمیشہ چھپے دشمن تھے۔ اگلی آیت میں پتہ بتلا دیا۔ (کذافی الموضح) عموماً مفسرین نے آیات سے مراد احکام، نصائح، حدود اور قبول توبہ وغیرہ کے مضامین لیے ہیں۔ اس وقت صفات علم و حکمت کے ذکر سے یہ غرض ہوگی کہ اللہ تعالیٰ تم میں سے مخلصین کی ندامت قلبی کا حال خوب جانتا ہے۔ اس لیے توبہ قبول کی اور چونکہ حکیم مطلق ہے اس لیے نہایت حکمت و دانائی کے ساتھ تمہاری سیاست کی گئی۔
Ayah 24:196 یعنی بدکاری پھیلے یا بدکاری کی خبریں پھیلیں۔ یہ چاہنے والے منافقین تھے۔ لیکن ان کا تذکرہ کر کے مومنین کو بھی متنبہ فرما دیا کہ اگر فرض کرو کسی کے دل میں ایک بات کا خطرہ گزرا اور بےپروائی سے کوئی لفظ زبان سے بھی کہہ گزرا تو چاہیے کہ اب ایسی مہمل بات کا چرچا کرتا نہ پھرے۔ اگر خواہی نہ خواہی کسی مومن کی آبروریزی کرے گا تو خوب سمجھ لے کہ اس کی آبرو بھی محفوظ نہ رہے گی۔ حق تعالیٰ اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑے گا۔ کما فی حدیث احمد (رح) ۔
7 دنیا میں حد قذف، رسوائی اور قسم قسم کی سزائیں اور آخرت میں دوزخ کی سزا۔
8 یعنی اسے فتنہ پردازوں کو خدا خوب جانتا ہے گو تم نہ جانتے ہو۔ اور یہ بھی اسی کے علم میں ہے کہ کس کا جرم کتنا ہے اور کس کی کیا غرض ہے (تنبیہ) جب شیوع فاحشہ، حسد و کینہ وغیرہ کی طرح اعمال قلبیہ میں سے ہے مراتب قصد میں سے نہیں۔ اس لیے اس پر ماخوذ ہونے میں اختلاف نہ ہونا چاہیے۔ فتنبہ لہ۔
Ayah 24:209 یعنی یہ طوفان تو ایسا اٹھا تھا کہ نہ معلوم کون کون اس کی نذر ہوتے، لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و رحمت اور شفقت و مہربانی سے تم سے تائبین کی توبہ کو قبول فرمایا اور بعض کو حد شرعی جاری کر کے پاک کیا اور جو زیادہ خبیث تھے ان کو ایک گو نہ مہلت دی۔
Ayah 24:2110 یعنی شیطان کی چالوں سے ہوشیار رہا کرو۔ مسلمان کا یہ کام نہیں ہونا چاہیے کہ شیاطین الانس والجن کے قدم بقدم چلنے لگے۔ ان ملعونوں کا تو مشن ہی یہ ہے کہ لوگوں کو بےحیائی اور برائی کی طرف لے جائیں۔ تم جان بوجھ کر کیوں ان کے بھرے میں آتے ہو۔ دیکھ لو شیطان نے ذرا سا چرکا لگا کر کتنا بڑا طوفان کھڑا کردیا اور کئی سیدھے سادھے مسلمان کس طرح اس کے قدم پر چل پڑے۔
1 یعنی شیطان تو سب کو بگاڑ کر چھوڑتا ایک کو بھی سیدھے راستہ پر نہ رہنے دیتا۔ یہ تو خدا کا فضل اور اس کی رحمت ہے کہ وہ اپنے مخلص بندوں کی دستگیری فرما کر بہتیروں کو محفوظ رکھتا ہے اور بعض کو مبتلا ہوجانے کے بعد توبہ کی توفیق دے کر درست کردیتا ہے۔ یہ بات اسی خدائے واحد کے اختیار میں ہے اور وہ ہی اپنے علم محیط اور حکمت کاملہ سے جانتا ہے کہ کون بندہ سنوارے جانے کے قابل ہے اور کس کی توبہ قبول ہونی چاہیے۔ وہ سب کی توبہ وغیرہ کو سنتا اور ان کی قلبی کیفیات سے پوری طرح آگاہ ہے۔
Ayah 24:222 حضرت عائشہ پر طوفان اٹھانے والوں میں بعض مسلمان بھی نادانی سے شریک ہوگئے۔ ان میں سے ایک حضرت مسطح تھے جو ایک مفلس مہاجر ہونے کے علاوہ حضرت ابوبکر ؓ کے بھانجے یا خالہ زاد بھائی ہوتے ہیں۔ قصہ " افک " سے پہلے حضرت صدیق اکبر ان کی امداد اور خبر گیری کیا کرتے۔ جب یہ قصہ ختم ہوا اور عائشہ صدیقہ کی برأت آسمان سے نازل ہوچکی تو حضرت ابوبکر ؓ نے قسم کھائی کہ آئندہ مسطح کی امداد نہ کروں گا۔ شاید بعض دوسرے صحابہ کو بھی ایسی صورت پیش آئی ہو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی تم میں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے دین کی بزرگی اور دنیا کی وسعت دی ہے انھیں لائق نہیں کہ ایسی قسم کھائیں ان کا ظرف بہت بڑا اور ان کے اخلاق بہت بلند ہونے چاہیں۔ محتاج رشتہ داروں اور خدا کے لیے وطن چھوڑنے والوں کی اعانت سے دستکش ہوجانا بزرگوں اور بہادروں کا کام نہیں۔ اگر قسم کھالی ہے تو ایسی قسم کو پورا مت کرو۔ اس کا کفارہ ادا کردو۔ تمہاری شان یہ ہونی چاہیے کہ خطا کاروں کی خطا سے اغماض اور درگزر کرو۔ ایسا کرو گے تو حق تعالیٰ تمہاری کوتاہیوں سے درگزر کرے گا۔ کیا تم حق تعالیٰ سے عفو و درگزر کی امید اور خواہش نہیں رکھتے ؟ اگر رکھتے ہو تو تم کو اس کے بندوں کے معاملہ میں یہ ہی خو اختیار کرنی چاہیے۔ گویا اس میں " تخلق بِاَخْلَاق اللّٰہِ " کی تعلیم ہوئی۔ احادیث میں ہے کہ حضرت ابوبکر نے جب سنا ( اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ ) 24 ۔ النور :22) (کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کرے ؟ ) تو فوراً بول اٹھے۔ " بَلٰی یَارَبَّنَا اِنَّا نُحِبُّ " (بیشک اے پروردگار ! ہم ضرور چاہتے ہیں) یہ کہہ کر مسطح کی جو امداد کرتے تھے بدستور جاری فرما دی، بلکہ بعض روایات میں ہے کہ پہلے سے دگنی کردی۔ ؓ
Ayah 24:233 صحیحین کی حدیث میں ہے۔ " اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَات الشِّرْکِ باللّٰہ وَقَتْلَ النَّفْسُ الَّتِی حَرَّمَ اللّٰہ اِلَّا بالْحَقِّ وَاَکْلَ الرِّبٰوا وَاَکْلَ مَالِ الْیَتِیْم وَالتَّوَلّی یَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُوْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ ۔ " اس سے ظاہرہوتا ہے کہ قذف محصنات مطلقاً مہلکات میں سے ہے۔ پھر ان میں سے بھی ازواج مطہرات بالخصوص ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کا قذف تو کس درجہ کا گناہ ہوگا، علماء نے تصریح کی ہے کہ ان آیات کے نزول کے بعد جو شخص عائشہ صدیقہ یا ازواج مطہرات میں سے کسی کو متہم کرے وہ کافر، مکذب قرآن اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور طبرانی کی ایک حدیث میں ہے۔ " قَذَفَ الْمُحْصَنَۃِ یَہْدِمُ عَمَلَ مِائَۃِ سَنَۃٍ " (محصنہ پر تہمت لگانا سو برس کے عمل کو ڈھا دیتا ہے) ۔ العیاذ باللہ۔
Ayah 24:244 یعنی مجرم منہ سے بولنا اور ظاہر کرنا نہ چاہے گا۔ مگر خود زبان اور ہاتھ پاؤں بولیں گے اور ان میں سے ہر عضو اس عمل کو ظاہر کرے گا جو اس کے ذریعہ سے کیا گیا تھا (لطیفہ) قاذف نے زبان سے تہمت لگائی تھی اور چار گواہوں کا اس سے مطالبہ تھا جو پورا نہ کرسکا۔ اس کے بالمقابل یہاں یہی پانچ چیزیں ذکر ہوئیں۔ ایک زبان جو قذف کا اصلی آلہ ہے اور چار ہاتھ پاؤں جو اس کی شرارت کے گواہ ہوں گے۔
Ayah 24:255 جو رتی رتی عمل کھول کر سامنے رکھ دیتا ہے اور جس کا حساب بالکل صاف ہے اس کے ہاں کسی طرح کا ظلم وتعدی نہیں۔ یہ مضمون قیامت کے دن سب کو مکشوف و مشہود ہوجائے گا۔
Ayah 24:266 یعنی بدکار اور گندی عورتیں گندے اور بدکار مردوں کے لائق ہیں۔ اسی طرح بدکار اور گندے مرد اس قابل ہیں کہ ان کا تعلق اپنے جیسی گندی اور بدکار عورتوں سے ہو۔ پاک اور ستھرے آدمیوں کا ناپاک بدکاروں سے کیا مطلب۔ ابن عباس نے فرمایا کہ پیغمبر کی عورت بدکار (زانیہ) نہیں ہوتی، یعنی اللہ تعالیٰ ان کی ناموس کی حفاظت فرماتا ہے۔ نقلہ فی موضح القرآن۔ (تنبیہ) آیت کا یہ مطلب تو ترجمہ کے موافق ہوا۔ مگر بعض مفسرین سلف سے یہ منقول ہے کہ " الخبیثات " اور " الطیبات " سے یہاں عورتیں مراد نہیں۔ بلکہ اقوال و کلمات مراد ہیں۔ یعنی گندی باتیں گندوں کے لائق ہیں۔ اور ستھری باتیں ستھرے آدمیوں کے۔ پاکباز اور ستھرے مرد و عورت ایسی گندی تہمتوں سے بری ہوتے ہیں جیسا کہ آگے (اُولٰۗىِٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا يَقُوْلُوْنَ ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ) 24 ۔ النور :26) سے ظاہر ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ گندی باتیں گندوں کی زبان سے نکلا کرتی ہیں تو جنہوں نے کسی پاکباز کی نسبت گندی بات کہی، سمجھ لو کہ وہ خود گندے ہیں۔
7 یعنی ستھرے آدمی ان باتوں سے بری ہیں جو یہ گندے لوگ بکتے پھرتے ہیں۔
6 یعنی برا کہنے سے وہ برے نہیں ہوجاتے، بلکہ جب وہ اس پر صبر کرتے ہیں تو یہ چیز ان کی خطاؤں یا لغزشوں کا کفارہ بنتی ہے۔ اور یہاں مفسد لوگ جس قدر ان کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں وہاں اس کے بدلہ میں عزت کی روزی ملتی ہے۔
Ayah 24:272 یعنی خاص اپنے ہی رہنے کا جو گھر ہو اس کے سوا کسی دوسرے کے رہنے کے گھر میں یوں ہی بیخبر نہ گھس جائے کیا جانے وہ کس حال میں ہو اور اس وقت کسی کا اندر آنا پسند کرتا ہے یا نہیں۔ لہذا اندر جانے سے پہلے آواز دے کر اجازت حاصل کرے اور سب سے بہتر آواز سلام کی، حدیث میں ہے کہ تین مرتبہ سلام کرے اور اجازت داخل ہونے کی لے۔ اگر تین بار سلام کرنے کے بعد بھی اجازت نہ ملے تو واپس چلا جائے۔ فی الحقیقت یہ ایسی حکیمانہ تعلیم ہے کہ اگر اس کی پابندی کی جائے تو صاحب خانہ اور ملاقاتی دونوں کے حق میں بہتر ہے۔ مگر افسوس آج مسلمان ان مفید ہدایات کو ترک کرتے جاتے ہیں۔ جن کو دوسری قومیں ان ہی سے سیکھ کر ترقی کر رہی ہیں۔ (ربط) شروع سورت سے احکام زنا و قذف وغیرہ بیان ہوئے تھے۔ چونکہ بسا اوقات بلا اجازت کسی کے گھر میں چلا جانا ان امور کی طرف مفضی ہوجاتا ہے، اس لیے ان آیات میں مسائل استیذان کو بیان فرمایا۔
Ayah 24:283 اگر یہ معلوم ہوا ہو کہ گھر میں کوئی موجود نہیں تب بھی دوسرے کے گھر میں بدون مالک و مختار کی اجازت کے مت جاؤ۔ کیونکہ ملک غیر میں بدون اجازت تصرف کا کوئی حق نہیں۔ نہ معلوم بےاجازت چلے جانے سے کیا جھگڑا پیش آجائے ہاں صراحتًا یا دلالۃً اجازت ہو تو جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
4 یعنی ایسا کہے سے برا نہ مانو۔ بسا اوقات آدمی کی طبیعت کسی سے ملنے کو نہیں چاہتی یا حرج ہوتا ہے یا کوئی ایسی بات کر رہا ہے جس پر غیر کو مطلع کرنا پسند نہیں کرتا تو تم کو کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ اس پر بوجھ ڈالو۔ اس طرح بار خاطر بننے سے تعلقات صاف نہیں رہتے۔
5 وہ تمہارے تمام اعمال قلبیہ و قالبیہ سے باخبر ہے جیسا کچھ کرو گے اور جس نیت سے کرو گے حق تعالیٰ اس کے مناسب جزا دے گا۔ اور اس نے اپنے علم محیط سے تمام امور کی رعایت کر کے یہ احکام دیے ہیں۔
Ayah 24:296 یعنی جن مکانوں میں کوئی خاص آدمی نہیں رہتا، نہ کوئی روک ٹوک ہے مثلاً مسجد، مدرسہ، خانقاہ، سرائے وغیرہ۔ اگر وہاں تمہاری کوئی چیز ہے یا تم کو چندے اس کے برتنے کی ضرورت ہے تو بیشک وہاں جاسکتے ہو اور اس کے لیے استیذان کی ضرورت نہیں۔ اس طرح کے مسائل کی تفصیل فقہ میں دیکھی جائے۔
7 اس نے تمہارے تمام کھلے چھپے حالات کی رعایت سے یہ احکام مشروع کیے ہیں جن سے مقصود فتنہ و فساد کے مداخل کو بند کرنا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ اپنے دل میں اسی غرض کو پیش نظر رکھ کر عمل کرے۔
Ayah 24:308 بدنظری عموماً زنا کی پہلی سیڑھی ہے۔ اسی سے بڑے بڑے فواحش کا دروازہ کھلتا ہے۔ قرآن کریم نے بدکاری اور بےحیائی کا انسداد کرنے کے لیے اول اسی سوراخ کو بند کرنا چاہا۔ یعنی مسلمان مرد و عورت کو حکم دیا کہ بدنظری سے بچیں اور اپنی شہوات کو قابو میں رکھیں۔ اگر ایک مرتبہ بےساختہ مرد کی کسی اجنبی عورت پر یا عورت کی کسی اجنبی مرد پر نظر پڑجائے تو دوبارہ ارادہ سے اس طرف نظر نہ کرے۔ کیونکہ یہ دوبارہ دیکھنا اس کے اختیار سے ہوگا، جس میں وہ معذور نہیں سمجھا جاسکتا۔ اگر آدمی نگاہ نیچی رکھنے کی عادت ڈال لے اور اختیار و ارادہ سے ناجائز امور کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھا کرے تو بہت جلد اس کے نفس کا تزکیہ ہوسکتا ہے چونکہ پہلی مرتبہ دفعتاً جو بیساختہ نظر پڑتی ہے ازراہ شہوت و نفسانیت نہیں ہوتی۔ اس لیے حدیث میں اس کو معاف رکھا گیا ہے۔ شاید یہاں بھی من ابصارہم میں من کو تبعیضیہ لے کر اسی طرف اشارہ ہو۔
9 یعنی حرام کاری سے بچیں اور ستر کسی کے سامنے نہ کھولیں۔ اِلَّاعِنْدَ مَنْ اَبَاحَہ، الشَّارِعُ مِنَ الْاَزْوَاجِ وَمَامَلَکَتْ اَیْمَانَہُمْ ۔
10 یعنی آنکھ کی چوری اور دلوں کے بھید اور نیتوں کا حال اس کو سب معلوم ہے لہذا اس کا خیال کر کے بدنگاہی اور ہر قسم کی بدکاری سے بچو۔ ورنہ وہ اپنے علم کے موافق تم کو سزا دے گا۔ (يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ ) 40 ۔ غافر :19) حضرت شاہ صاحب نے " مایصنعون " سے مراد غالباً جاہلیت کی بےاعتدالیاں لی ہیں۔ یعنی جو بےاعتدالیاں پہلے سے کرتے آرہے ہو اللہ کو سب معلوم ہے اسی لیے اب اس نے اپنے پیغمبر کے ذریعہ سے یہ احکام جاری کیے تاکہ تمہارا تزکیہ ہو سکے۔
Ayah 24:3111 سنگار عرف میں خارجی اور کسبی آرائش کو کہتے ہیں جو مثلاً لباس یا زیور وغیرہ سے حاصل ہو۔ احقر کے نزدیک یہاں " زینت " کا ترجمہ " سنگار " کے بجائے " زیبائش " کیا جاتا تو زیادہ جامع اور مناسب ہوتا۔ زیبائش کا لفظ ہر قسم کی خلقی اور کسبی زینت کو شامل ہے، خواہ وہ جسم کی پیدائشی ساخت سے متعلق ہو یا پوشاک وغیرہ خارجی ٹیپ ٹاپ سے۔ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ عورت کو کسی قسم کی خلقی یا کسبی زیبائش کا اظہار بجز محارم کے جن کا ذکر آگے آتا ہے کسی کے سامنے جائز نہیں۔ ہاں جس قدر زیبائش کا ظہور ناگزیر ہے اور اس کے ظہور کو بسبب عدم قدرت یا ضرورت کے روک نہیں سکتی، اس کے بمجبوری یا بضرورت کھلا رکھنے میں مضائقہ نہیں (بشرطیکہ فتنہ کا خوف نہ ہو) حدیث و آثار سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرہ اور کفین (ہتھیلیاں) (اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا 31) 24 ۔ النور :31) میں داخل ہیں۔ کیونکہ بہت سی ضروریات دینی و دنیاوی ان کے کھلا رکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اگر ان کے چھپانے کا مطلقاً حکم دیا جائے تو عورتوں کے لیے کاروبار میں سخت تنگی اور دشواری پیش آئے گی۔ آگے فقہا نے قدمین کو بھی ان ہی اعضاء پر قیاس کیا ہے اور جب یہ اعضاء مستثنیٰ ہوئے تو ان کے متعلقات مثلاً انگوٹھی، چھلا یا مہندی، کا جل وغیرہ کو بھی استثناء میں داخل ماننا پڑے گا۔ لیکن واضح رہے کہ " اِلَّا مَاظَہَرَمِنْہَا " سے صاف عورتوں کو بضرورت ان کے کھلا رکھنے کی اجازت ہوئی۔ نامحرم مردوں کو اجازت نہیں دی گئی کہ وہ آنکھیں لڑایا کریں اور ان اعضاء کا نظارہ کیا کریں۔ شاید اسی لیے اس اجازت سے پیشتر ہی حق تعالیٰ نے غض بصر کا حکم مومنین کو سنا دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ایک طرف سے کسی عضو کے کھولنے کی اجازت اس کو مستلزم نہیں کہ دوسری طرف سے اس کو دیکھنا بھی جائز ہو۔ آخر مرد جن کے لیے پردہ کا حکم نہیں اسی آیت بالا میں عورتوں کو ان کی طرف دیکھنے سے منع کیا گیا۔ نیز یاد رکھنا چاہیے کہ ان آیات میں محض ستر کا مسئلہ بیان ہوا ہے یعنی اس سے قطع نظر کرتے ہوئے کہ اپنے گھر کے اندر ہو یا باہر، عورت کو کس حصہ بدن کا کس کے سامنے کن حالات میں کھلا رکھنا جائز ہے۔ باقی مسئلہ " حجاب " یعنی شریعت نے اس کو کن حالات میں گھر سے باہر نکلنے اور سیروسیاحت کرنے کی اجازت دی، یہاں مذکور نہیں۔ اس کی کچھ تفصیل انشاء اللہ سورة احزاب میں آئے گی۔ اور ہم نے فتنہ کا خوف نہ ہونے کی جو شرط بڑھائی وہ دوسرے دلائل اور قواعد شرعیہ سے ماخوذ ہے جو ادنیٰ تامل اور مراجعت نصوص سے دریافت ہوسکتی ہیں۔
12 بدن کی خلقی زیبائش میں سب سے زیادہ نمایاں چیز سینہ کا ابھار ہے، اس کے مزید تستر کی خاص طور پر تاکید فرمائی اور جاہلیت کی رسم کو مٹانے کی صورت بھی بتلا دی۔ جاہلیت میں عورتیں خمار (اوڑھنی) سر پر ڈال کر اس کے دونوں پلے پشت پر لٹکا لیتی تھیں۔ اس طرح سینہ کی ہیئت نمایاں رہتی تھی۔ یہ گویا حسن کا مظاہرہ تھا۔ قرآن کریم نے بتلا دیا کہ اوڑھنی کو سر پر سے لا کر گریبان پر ڈالنا چاہیے تاکہ اس طرح کان، گردن اور سینہ پوری طرح مستور رہے۔
1 چچا اور ماموں کا بھی یہ ہی حکم ہے اور ان محارم میں پھر فرق مراتب ہے، مثلاً جو زینت خاوند کے آگے ظاہر کرسکتی ہے دوسرے محارم کے سامنے نہیں کرسکتی۔ ابدائے زینت کے درجات ہیں جن کی تفصیل تفاسیر اور کتب فقہ میں دیکھنی چاہیے۔ یہاں صرف یہ بتلانا ہے کہ جس قدر تستر کا اہتمام اجنبیوں سے تھا، اتنا محارم سے نہیں۔ یہ مطلب نہیں کہ ہر ایک عضو کو ان میں سے ہر ایک کے آگے کھول سکتی ہے۔
2 یعنی جو عورتیں اس کے پاس اٹھنے بیٹھنے والی ہیں بشرطیکہ نیک چلن ہوں۔ بد راہ عورتوں کے سامنے نہیں۔ اور بہت سے سلف کے نزدیک اس سے مسلمان عورتیں مراد ہیں۔ کافر عورت اجنبی مرد کے حکم میں ہے۔
3 یعنی اپنی لونڈیاں (باندیاں) اور بعض سلف کے نزدیک مملوک غلام بھی اس میں داخل ہے اور ظاہر قرآن سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ لیکن جمہور ائمہ اور سلف کا یہ مذہب نہیں۔
4 یعنی کمیرے خدمت گار جو محض اپنے کام سے کام رکھیں اور کھانے سونے میں غرق ہوں، شوخی نہ رکھتے ہوں یا فاترالعقل پاگل جن کے حواس وغیرہ بھی ٹھکانے نہ ہوں، محض کھانے پینے میں گھر والوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔
5 یا جن لڑکوں کو ابھی تک نسوانی سرائر کی کوئی تمیز نہیں، نہ نفسانی جذبات رکھتے ہیں۔
6 یعنی چال ڈھال ایسی نہ ہونی چاہیے کہ زیور وغیرہ کی آواز سے اجانب کو ادھر میلان اور توجہ ہو۔ بسا اوقات اس قسم کی آواز صورت دیکھنے سے بھی زیادہ نفسانی جذبات کے لیے محرک ہوجاتی ہے۔
7 یعنی پہلے جو کچھ حرکات ہو چکیں ان سے توبہ کرو اور آئندہ کے لیے ہر مرد و عورت کو خدا سے ڈر کر اپنی تمام حرکات و سکنات اور چال چلن میں انابت اور تقویٰ کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ اس میں دارین کی بھلائی اور کامیابی ہے۔
Ayah 24:328 اوپر استیذان، غض بصر اور تستر وغیرہ کے احکام بیان ہوئے تھے، تاکہ بےحیائی اور بدکاری کی روک تھام کی جائے۔ اس آیت میں یہ حکم دیا کہ جن کا نکاح نہیں ہوا یا ہو کر بیوہ اور رنڈوے ہوگئے تو موقع مناسب ملنے پر ان کا نکاح کردیا کرو۔ حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ " اے علی ! تین کاموں میں دیر نہ کر، نماز فرض کا جب وقت آجائے، جنازہ جب موجود ہو، اور رانڈ عورت جب اس کا کفو مل جائے۔ " جو قومیں رانڈوں کے نکاح پر ناک بھوں چڑھاتی ہیں سمجھ لیں کہ ان کا ایمان سلامت نہیں۔
9 یعنی لونڈی غلام کو اگر اس لائق سمجھو کہ حقوق زوجیت ادا کرسکیں گے اور نکاح ہوجانے پر مغرور ہو کر تمہاری خدمت نہ چھوڑ بیٹھیں گے تو ان کا بھی نکاح کردو۔
10 بعض لوگ نکاح میں اس لیے پس و پیش کیا کرتے ہیں کہ نکاح ہوجانے کے بعد بیوی بچوں کا بار کیسے اٹھے گا۔ انھیں سمجھا دیا کہ ایسے موہوم خطرات پر نکاح سے مت رکو۔ روزی تمہاری اور بیوی بچوں کی اللہ کے ہاتھ میں ہے کیا معلوم ہے کہ خدا چاہے تو ان ہی کی قسمت سے تمہارے رزق میں کشایش کر دے۔ نہ مجرد رہنا غنا کا موجب ہے اور نہ نکاح کرنا فقر و افلاس کو مستلزم ہے۔ یہ باتیں حق تعالیٰ کی مشیت پر ہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ (وَاِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖٓ اِنْ شَاۗءَ ) 9 ۔ التوبہ :28) اور ظاہری اسباب کے اعتبار سے بھی یہ چیز معقول ہے کہ نکاح کرلینے یا ایسا ارادہ کرنے سے آدمی پر بوجھ پڑتا ہے اور وہ پہلے سے بڑھ کر کمائی کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ ادھر بیوی اور اولاد ہوجائے تو وہ بلکہ بعض اوقات بیوی کے کنبہ والے بھی کسب معاش میں اس کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ بہرحال روزی کی تنگی یا وسعت نکاح یا تجرد پر موقوف نہیں۔ پھر یہ خیال نکاح سے مانع کیوں ہو۔
11 جس کے حق میں مناسب جانتا ہے کشایش کردیتا ہے۔
Ayah 24:3312 یعنی جن کو فی الحال اتنا بھی مقدور نہیں کہ کسی عورت کو نکاح میں لاسکیں تو جب تک خدا تعالیٰ مقدور دے چاہیے کہ اپنے نفس کو قابو میں رکھیں۔ اور عفیف رہنے کی کوشش کریں۔ کچھ بعید نہیں کہ اسی ضبط نفس اور عفت کی برکت سے حق تعالیٰ ان کو غنی کر دے اور نکاح کے بہترین مواقع مہیا فرما دے۔
1 یعنی کسی کا غلام یا لونڈی کہے یا مزید توثیق کے لیے لکھوانا چاہے کہ میں اتنی مدت میں اس قدر مال تجھ کو کما دوں تو مجھے آزاد کر دے، تو مالک کو چاہیے کہ قبول کرلے اور لکھ دے (اس معاملہ کو " مکاتبت " کہتے ہیں اور یہ غلاموں کے آزاد کرانے کی ایک خاص صورت ہے) لیکن یہ مالک کو اس وقت قبول کرنا چاہیے جبکہ وہ سمجھے کہ واقعی اس غلام یا لونڈی کے حق میں آزادی بہتر ہوگی۔ قید غلامی سے چھوٹ کر چوری یا بدکاری یا اور طرح کی بدمعاشیاں کرتا نہ پھرے گا۔ اگر یہ اطمینان ہو تو بیشک اس کو آزادی کا موقع دینا چاہیے۔ تاکہ وہ آزاد ہو کر اپنی فلاح کے میدانوں میں خوب ترقی کرسکے اور کہیں نکاح کرنا چاہے تو باختیار خود نکاح کرلے۔ غلامی کی وجہ سے میدان تنگ نہ ہو۔
2 یہ دولت مند مسلمانوں کو فرمایا کہ ایسی لونڈی غلام کی مالی امداد کرو خواہ زکوٰۃ سے یا عام صدقات و خیرات وغیرہ سے، تاکہ وہ جلدی آزادی حاصل کرسکیں، اور اگر مالک بدل کتابت کا کوئی حصہ معاف کر دے، یہ بھی بڑی امداد ہے (تنبیہ) مصارف زکوٰۃ میں جو وفی الرقاب کا ایک مد رکھا ہے وہ ان ہی غلاموں کے آزاد کرانے کا فنڈ ہے۔ خلفائے راشدین کے عہد میں بیت المال سے ایسے غلاموں کی امداد ہوتی تھی۔
3 جاہلیت میں بعض لوگ اپنی لونڈیوں سے کسب کراتے تھے۔ عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین کے پاس کئی لونڈیاں تھیں جن سے بدکاری کرا کر روپیہ حاصل کرتا تھا۔ ان میں بعض مسلمان ہوگئیں تو اس فعل شنیع سے انکار کیا۔ اس پر وہ ملعون زدوکوب کرتا تھا، یہ آیت اسی قصہ میں نازل ہوئی۔ اور اسی شان نزول کی رعایت سے مزید تقبیح کے لیے " اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا " اور " لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا " کی قیود بڑھائی ہیں ورنہ لونڈیوں سے بدکاری کرانا بہرحال حرام ہے اور اس طرح جو کمائی کریں سب ناپاک ہے۔ خواہ لونڈیاں یہ کام رضاء ورغبت سے کریں یا زبردستی اور ناخوشی سے۔ ہاں اگر لونڈیاں نہ چاہیں اور یہ محض دنیا کے حقیر فائدے کے لیے زبردستی مجبور کرے تو اور بھی زیادہ وبال اور انتہائی وقاحت اور بےشرمی کی دلیل ہے۔
4 یعنی زنا ایسی بری چیز ہے جو جبرواکراہ کے بعد بھی بری رہتی ہے لیکن حق تعالیٰ محض اپنی رحمت سے " مکرہہ " کی بےبسی اور بیچارگی کو دیکھ کر درگزر فرماتا ہے۔ اس صورت میں مکرہ (زبرستی کرنے والے) پر سخت عذاب ہوگا اور مکرہ پر (جس پر زبردستی کی گئی) رحم کیا جائے گا۔
Ayah 24:345 یعنی قرآن میں سب کچھ نصیحتیں، احکام اور گذشتہ اقوام کے عبرتناک واقعات بیان کردیے گئے ہیں تاکہ خدا کا ڈر رکھنے والے سن کر نصیحت و عبرت حاصل کریں اور اپنے انجام کو سوچیں۔ یا مثلاً من الذین خلوا سے مراد یہ ہو کہ پہلی امتوں پر بھی اسی طرح کی حدود اور احکام جاری کیے گئے تھے جو اس سورت میں مذکور ہوئے۔ اور بعض قصے بھی اسی قصہ " افک " کے مشابہ پیش آئے جو سورت ہذا میں بیان کیا گیا ہے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم صدیقہ اور حضرت یوسف صدیق کی دشمنوں کے بہتان سے برأت ظاہر فرمائی، عائشہ صدیقہ بنت الصدیق کی برأت اور بزرگی بھی تاقیام قیامت صادقین کے قلوب میں نقش فی الحجر کردی۔ اور دشمنوں کا منہ کالا کیا۔
Ayah 24:356 یعنی اللہ سے رونق اور بستی ہے زمین اور آسمان کی، اس کی مدد نہ ہو تو سب ویران ہوجائیں (موضح القرآن) سب مخلوق کو نور وجود اسی سے ملا ہے۔ چاند، سورج، ستارے، فرشتے اور انبیاء و اولیاء میں جو ظاہری یا باطنی روشنی ہے اسی منبع النور سے مستفاد ہے۔ ہدایت و معرفت کا جو چمکارا کسی کو پہنچتا ہے اسی بارگاہ رفیع سے پہنچتا ہے۔ تمام علویات و سفلیات اس کی آیات تکوینیہ و تنزیلیہ سے منور ہیں۔ حسن و جمال یا خوبی و کمال کی کوئی چمک اگر کہیں نظر پڑتی ہے وہ اسی کے وجہ منور اور ذات مبارک کے جمال و کمال کا ایک پر تو ہے۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ طائف میں جب لوگوں نے حضور ﷺ کو ستایا تو یہ دعا زبان پر تھی۔ " اَعُوذُبِنُورِ وَجْہِکَ الَّذِیْ اَشْرَقْتَ لَہ، الظُّلُمَاتُ وَصَلُحَ عَلَیْہِ اَمْرُ الدُّنْیَا وَالْاَخِرَۃِ اَنْ یَحِلَّ بِیْ غَضَبُکَ اَوْیَنْزِلُ بِیْ سَخَطُکَ لَکَ الْعُتْبَی حَتّٰی تَرْضٰی وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللّٰہِ ۔ " رات کی تاریکی میں آپ ﷺ اپنے رب کو " انت نور السموات والارض " کہہ کر پکارا کرتے اور اپنے کان، آنکھ، دل، ہر ہر عضو بلکہ بال بال میں اس سے نور طلب فرماتے تھے اور اخیر میں بطور خلاصہ فرماتے۔ " وَاَعْظِمْ لِی نُورًا " یا " وَاجْعَلْنِی نُوْرًا " یعنی میرے نور کو بڑھا بلکہ مجھے نور ہی نور بنا دے۔ اور ایک حدیث میں ہے۔ " اِنَّ اللّٰہ خَلَقَ خَلْقَہُ فِی ظُلْمَۃٍ ثُمَّ اَلْقٰی عَلَیْہِمْ مِنْ نُّورِہٖ فَمَنْ اَصَابَہ، مِنْ نُورِہٖ یَوْمَئِذٍ اہْتَدَی وَمَنْ اَخْطَاہ، ضَلَّ " (فتح الباری، ص 6/430) یعنی جس کو اس وقت اللہ کے نور (توفیق) سے حصہ ملا وہ ہدایت پر آیا اور جو اس سے چوکا گمراہ رہا۔ واضح رہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی دوسری صفات مثلاً سمع بصر وغیرہ کی کوئی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی۔ ایسے ہی صفت نور بھی ہے ممکنات کے نور پر قیاس نہ کیا جائے تفصیل کے لیے امام غزالی کا رسالہ " مشکوٰۃ الانوار " دیکھو۔ "
1 یعنی یوں تو اللہ تعالیٰ کے نور سے تمام موجودات کی نمود ہے۔ لیکن مومنین مہتدین کو نور الٰہی سے ہدایت و عرفان کو جو خصوصی حصہ ملتا ہے اس کی مثال ایسی سمجھو گویا مومن قانت کا جسم ایک طاق کی طرح ہے جس کے اندر ایک ستارہ کی طرح چمک دار شیشہ (قندیل) رکھا ہو۔ یہ شیشہ اس کا قلب ہوا جس کا تعلق عالم بالا سے ہے۔ اس شیشہ (قندیل) میں معرفت و ہدایت کا چراغ روشن ہے، یہ روشنی ایسے صاف و شفاف اور لطیف تیل سے حاصل ہو رہی ہے جو ایک نہایت ہی مبارک درخت (زیتون) سے نکل کر آیا ہے اور زیتون بھی وہ جو کسی حجاب سے نہ مشرق میں ہو نہ مغرب میں یعنی کسی طرف دھوپ کی روک نہیں کھلے میدان میں کھڑا ہے جس پر صبح و شام دونوں وقت کی دھوپ پڑتی ہے۔ تجربہ سے معلوم ہوا کہ ایسے زیتون کا تیل اور بھی زیادہ لطیف و صاف ہوتا ہے۔ غرض اس کا تیل اس قدر صاف اور چمکدار ہے کہ بدون آگے دکھلائے ہی معلوم ہوتا ہے کہ خود بخود روشن ہوجائے گا۔ یہ تیل میرے نزدیک ایک اسی حسن استعداد اور نور توفیق کا ہوا جو نور مبارک کے القاء سے بدء فطرت میں مومن کو حاصل ہوا تھا۔ جیسا کہ اوپر کے فائدہ میں گزر چکا اور جس طرح شجرہ مبارکہ کو " لا شَرْقِیَّۃٍ وَلَا غَرْبِیَّۃٍ " فرمایا تھا وہ نور ربانی بھی جہت کی قید سے پاک ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ مومن کا شیشہ دل نہایت صاف ہوتا ہے اور خدا کی توفیق سے اس میں قبول حق کی ایسی زبردست استعداد پائی جاتی ہے کہ بدون دیا سلائی دکھائے ہی جل اٹھنے کو تیار ہوتا ہے۔ اب جہاں ذرا آگ دکھائی یعنی وحی و قرآن کی تیز روشنی نے اس کو مس کیا فوراً اس کی فطری روشنی بھڑک اٹھی۔ اسی کو " نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ " فرمایا۔ باقی یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے، جس کو چاہے اپنی روشنی عنایت فرمائے اور وہ ہی جانتا ہے کہ کس کو یہ روشنی ملنی چاہیے کس کو نہیں۔ ان عجیب و غریب مثالوں کا بیان فرمانا بھی اسی غرض سے ہے کہ استعداد رکھنے والوں کو بصیرت کی ایک روشنی حاصل ہو۔ حق تعالیٰ ہی تمثیل کے لیے مناسب موقع و محل کو پوری طرح جانتا ہے، کسی دوسرے کو قدرت کہاں کہ ایسی موزوں و جامع مثال پیش کرسکے۔ آگے فرمایا کہ وہ روشنی ملتی ہے اس سے کہ جن مسجدوں میں کامل لوگ صبح و شام بندگی کرتے ہیں وہاں دھیان لگا رہے۔ (تنبیہ) مفسرین نے تشبیہ کی تقریر بہت طرح کی ہے، حضرت شاہ صاحب نے بھی موضح القرآن میں نہایت لطیف و عمیق تقریر فرمائی ہے مگر بندہ کے خیال میں جو توجیہ آئی وہ درج کردی۔ وللناس فیما یعشقون مذاہب۔ واضح رہے کہ " یوقد " اور " وَلَوْلَمْ تَمْسَسْہ، نَارٌ" میں جس نار کی طرف اشارہ ہے میں نے مشبہ میں اس کی جگہ وحی و قرآن کو رکھا ہے۔ اس کا ماخذ وہ فائدہ ہے جو حضرت شاہ صاحب نے (مَثَلُھُمْ كَمَثَلِ الَّذِى اسْـتَوْقَدَ نَارًا) 2 ۔ البقرۃ :17) پر لکھا ہے اور جس کی تائید صحیحین کی ایک حدیث سے ہوتی ہے جس میں آپ نے یہ الفاظ فرمائے ہیں۔ " اِنَّمَا مَثَلِی وَ مَثَلَ النَّاسِ کَرَجُلٍ اسْتَوْقَدَنَاراً فَلَمَّا اَضَآءَت مَاحَوْلَہٌ جَعَلَ الفَرَاش وَہٰذِہِ الدَّوَابَّ الَّتِی یَقَعْنَ فِیْہَا الخ "