24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsسراج البیان

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ ایک سورت ہے جسے ہم نے نازل کیا اور اسے فرض کیا اور اس میں ہم نے کھلی نشانیاں نازل کیں ، شاید تم نصیحت مانو (ف 2) ۔

رجم کی سزا : (ف 2) قرآن حکیم کی یہ پہلی صورت ہے ، جسے اس اہمیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے گو پورا قرآن اللہ کی جانب سے رہے ، اور مسلمانوں کے لئے اس کا ماننا اور تسلیم کرنا لازم اور ضروری ہے نیز قرآن کی ہر سورت میں آیات بینات کا ذخیرہ ہے مگر اس سورت کو ان خصوصیات کے ساتھ مختص کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمدن اور کلچر کے مسائل مہہ کو بیان کیا گیا ہے ، اور ان معاشرتی گھتیوں کو سلجھایا گیا ہے جن کی وجہ سے قومیں ترقی اور برتری کی منزلیں طے کرتی ہیں ، اور انہیں فراموش کردینے کا نتیجہ لازما ذلت اور ہلاکت ہوتا ہے ۔ حل لغات : فرضنھا : لازم ٹھہرایا ہے متعین کیا ہے ۔
Ayahs 24:2–4

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

زنا کار عورت اور زنا کار مرد ، ان میں سے ہر ایک کے سو در سے مارو ، اور چاہئے کہ تمہیں ان پر اللہ کا حکم جاری کرنے میں ترس نہ آئے ، اگر تم اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتے ہو ، اور چاہئے کہ انکی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہو (ف 1) ۔

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

زنا کار مرد صرف زانیہ یا مشرک عورت سے نکاح کرتا ہے اور زناکار عورت سے زانی یا مشرک ہی نکاح کرتا ہے ۔ اور یہ بات مؤمنین پر حرام ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ پاک دامن عورتوں کو تہمت لگائیں ، پھر وہ چار گواہ نہ لائیں ، تو ان کے اسی درے مارو ، اور کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو ، اور وہی فاسق ہیں ۔

(ف 1) تمام مذاہب نے زنا کو انسانیت کیلئے بہت بڑی لعنت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو وجود قوموں کیلئے اخلاقی تباہی کے مترادف ہے قرآن حکیم نے خصوصیت کیساتھ اس مسئلے کی متعلقہ تفصیلات بیان کی ہیں اور اس کے ذرائع و وسائل تک کا استقصاد و احوا کیا ہے قرآن کی نگاہیں دوسری مذہبی کتابوں سے کہیں دیادہ عمیق ہیں اس نے تمام انسانی کمزوریوں کو سامنے رکھ کر ایسے قوانین اور ضابطے مقرر فرمائے ہیں کہ ان کو ملحوظ رکھنے کے بعد زنا کا احتمال قطعا پسند نہیں ہوتا ۔ اس آیت میں زنا کی حد شرعی سے بحث فرمائی ہے ارشاد ہے کہ زانی کے سودرے لگائے جائیں اور اس معاملہ میں سوسائٹی جذبات رحم ورافت سے بالکل متاثر نہ ہو ، یہ سو درے جمع عام میں لگائے جائیں تاکہ دیکھنے والوں کو عبرت وتذکیر حاصل ہو ۔ زانی سے مراد یہاں وہ شخص ہے جو کنوارا زانی ہو ، بیا ہے ہوئے کیلئے اسلامی سزا رجم ہے ۔ خوارج نے رجم کا انکار کیا ہے اور یہ سمجھا ہے کہ یہ سزا ہر دو قسم کے زانیوں کے لئے ہے ان کے دلائل یہ ہیں ۔ (1) الزانیۃ والزانی “۔ میں کوئی تخصیص نہیں ، بلکہ عموم واستغراق مراد ہے ۔ (2) اگر رجم کی سزا مقرر و متعین ہوتی تو اس کو قرآن حکیم میں موجود ہونا چاہئے تھا ۔ (3) رجم کو ماننے کی شکل میں یہ لازم آئے گا کہ نص میں خبر واحد کی تخصیص کی جائے جو درست نہیں ۔ بعض موجودہ زمانے کے روشن خیالی مفسرین کے دلائل بھی تقریبا یہی ہیں جوابات یہ ہیں ۔ 1۔ قرآن حکیم نے یہاں بیشک صرف ” الزانیۃ اور الزانی “ کا ذکر فرمایا ہے ، مگر سنت ، تواتر اور اسلامی فیصلوں سے جو کتب فقہ اور تاریخ میں مذکور ہیں ، یہ ثابت ہے کہ رجم اسلامی سزا ہے کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ محض اس بنا پر کہ قرآن میں واضح الفاظ میں رجم کا ذکر نہیں ، ہم پوری اسلامی تاریخ کو جھٹلا دیں ، صحابہ کے فیصلوں کو غلط قرار دیاں رسول کے احکام کو ٹھکرائیں اور علمی وعملی تواتر کا انکار کردیں ۔ 2۔ رجم کی سزا یقینا قرآن میں موجود ہے مگر اس نہج پر نہیں جس طرح خوارج یا اس زمانے کے متنورین دیکھنا چاہتے ہیں ، بلکہ اشارہ اور برسبیل استطراد قرآن میں رجم کی سزا موجود ہے کیا انکو معلوم ہے کہ عہد رسالت میں اہل کتاب سے اس معاملہ میں بحث ہوئی تھی اور ان سے کہا گیا تھا کہ توراۃ لاؤ اور پڑھو ، اگر تم میں صداقت ہے تو تسلیم کرلو گے کہ اس میں رجم کی سزا کا حکم موجود ہے مگر انہوں نے آیات باب رجم کو چھپایا اور جب حضرت عبداللہ بن سلام نے بڑھ کر انکی چالاکی کا بھانڈا پھوڑ دیا تو وہ نادم ہوگئے اس پر ان کے جذبہ کتمان حق کے متعلق آیات کا نزول ہوا کیا یہ آیتیں رجم کی تائید میں نہیں ؟ اگر سوال اپنی جگہ پر ہنوز باقی ہے کہ اس قدر ضروری حکم کو قرآن نے بالتصریح کیوں ذکر نہیں کرا اور سزا کنواروں کے متعلق حد شرعی کے اعلان کرنے میں کیا مصلحت ہے ؟ بات یہ ہے کہ قرآن حکیم کا انداز بیان کچھ دوسروی کتابوں سے مختلف ہے ، اور وہ لوگ جو اس کی خصوصیات سے آگاہ نہیں ہوتے اس قبیل کی غلطیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ قرآن میں اکثر ان باتوں کا ذکر ہے جو گو اپنی جگہ پر اہم نہ ہوں مگر اس لحاظ سے اہمیت رکھتی ہیں کہ وہ نئی اور جدید ہیں ۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ نماز بہت اہم مسئلہ ہے ، اور اس کے قیام پر قرآن نے بہت زور دیا ہے مگر سارے قرآن میں اس کی ترتیب اور تفصیل بیان کردی ہے کیونکہ نماز کے متعلق اسلام نے بہت زیاہ جدتوں سے کام نہیں لیا ، اس کا تخیل اسلام سے قبل صابیوں میں اور خدا پرستوں میں موجود تھا ، مجوسی بھی تقریبا اسی قسم کی نماز کے قائل تھے ، اس لئے اللہ نے اس کی تفصیلات بیان فرما دیں ، اسی طرح رجم کی سزا میں پند شرائع کا قریبا اتفاق تھا اس لئے قرآن نے بالتخصیص اس کا ذکر نہیں فرمایا ، البتہ کنوارے کی سزا کی تخصیص چونکہ قرآن کو مقصود تھی ، اس لئے اس کا اظہار کردیا ۔ 3۔ جواب کی اس نوعیت کے بعد تیسرا سوال پیدا نہیں ہوتا ۔
Ayahs 24:5–9

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور درست ہوگئے ، تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف 1) ۔

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگائیں ، اور ان کے پاس خود اپنی جانوں کے اور گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی کی گواہی ہے کہ اللہ کی قسم کھا کر چار دفعہ گواہی دے ، کہ مقرر وہ سچوں میں ہے ۔

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں دفعہ کہے کہ اللہ کی لعنت ہو ، اس پر اگر وہ جھوٹوں میں ہو ،

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور عورت کا عذاب یوں دور ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر چار دفعہ گواہی دے ، کہ مقرر اس کا شوہر جھوٹوں میں ہے ۔

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں دفعہ کہے کہ اگر اس کا شوہر سچوں میں ہو ، تو اس عورت پر خدا کا غضب آئے ۔

عفیفہ عورت کو متہم کرنے کی سزا : (ف 1) ایک طرف قرآن نے زانی کی سزا اس قدر کڑی رکھی ہے کہ موجودہ مذاق کے لوگ اس کو تکلیف مالایطاق قرار دیتے ہیں ، اور دوسری طرف چار گواہوں کی شہادت ضروری بتائی ہے جن کا مہیا ہونا شاذو نادر ہی ہوسکتا ہے ، اس میں کیا حکمت ہے ؟ یہ ایک سوال ہے جو طبعا پیدا ہوتا ہے ۔ جواب یہ ہے کہ سزا اس لئے کڑی رکھی ہے ، تاکہ اس خبیث مرض کا کلیۃ انسداد ہوجائے ، چناچہ آپ عہد نبوی ﷺ میں دیکھئے گا کہ زنا کے واقعات دو تین سے زیادہ نہیں ملیں گے اور اس دور تہذیب جدید میں شاہد ہی چند آدمی ایسے مل سکیں ، جنہیں صحیح معنوں میں عفیف کہا جاسکتا ہے ۔ یہ ہیں تفاوت راہ از کجاست تابکجا ۔ چار شاہدوں کا ہونا اثبات واقعہ کے لئے اس لئے لازم ہے کہ معاملہ ایک جان کا ہے ، ایک کی زندگی ختم ہونے کا ہے چناچہ اس اہم واقعہ کے لئے معمولی شہادت ناکافی اور نامنصفانہ ہے ۔ اس آیت میں معامہ کی اہمیت کے پیش نظر گواہوں کو تنبیہ کردی ہے کہ اگر تم نے عفیف اور پاکباز عورتوں کو یونہی ختم کیا ، اور ثبوت میں عینی گواہ پیش نہ کرسکے ، تو حد قذف کیلئے تیار رہو ، تمہاری گواہی پر اسی درے مارے جائیں گے ، اس حد شرعی کے تعدر سے معلوم ہوا کہ اسلام کے نزدیک عورت کی عزت اور اس کا وقار کس درجہ قیمتی ہے ارشاد ہے کہ پرہیزگار عورتوں کو متہم کرنے والے لوگ فاسق مردود ہیں ، انہیں سزاد دو اور آئندہ کے لئے ان کی شہادت بھی قبول نہ کرو ۔
Ayahs 24:10–13

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم تم پر نہ ہوتا (ف 1) ۔ اور یہ کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا حکمتوں والا ہے ، (تو کیا کچھ نہ ہوتا)

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

جنہوں نے طوفان اٹھایا ہے وہ تمہیں میں سے ایک جماعت ہے ، اس تہمت کو تم اپنے حق میں برا نہ سمجھو ، بلکہ یہ تمہارے لئے بہتر ہے ، ان میں سے ہر آدمی کے لئے اس کا کمایا ہوا گناہ ہے ، اور جس نے ان میں سے اس تمہت کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کے لئے عذاب عظیم ہے ۔

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

جب تم نے اس کو سنا تھا ، تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنے لوگوں کی نسبت نیک گمان کیوں نہ کیا ، اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح جھوٹ ہے ؟

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

کیوں اس تہمت پر چار گواہ نہ لائے ، پھر جب وہ گواہ نہ لائے ، تو خدا کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں ۔

مسئلہ لعان : (ف 1) اس آیات میں مسئلہ لعان کی تفصیل بیان کی ہے اس کی صورت یہ ہے کہ مرد عورت کے کردار کے متعلق شبہات وشکوک کا اظہار کرے اور عورت برات کرے ، مرد یہ کہے کہ یہ فاحشہ اور زانیہ ہے اور عورت کہے کہ میں اس الزام سے پاک ہوں (تو صورت فیصلہ کیا ہو ؟ ) قرآن کہتا ہے کہ دونوں حاکم وقت یا اسلامی ہئیت حاکم کے سامنے چار دفعہ خدا کی قسم کھا کر یہ کہیں کہ وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں ، اور پانچویں دفعہ اپنے اوپر لعنت بھیجیں ، اگر واقعات کی رو سے جھوٹے ہوں ، تو پہلے مرد کھڑا ہو اور وہ الزام کو بیان کرے ، اور چار دفعہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ وہ سچا ہے ، اور پانچویں دفعہ یہ کہے کہ اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو ، اسی طرح عورت کھڑی ہو اور وہ بھی اسی طرح چار دفعہ خدا کی قسم کھا کر الزام کو رد کرے اور پانچویں دفعہ یہ کہے کہ اگر یہ سچا ہوا تو مجھ پر خدا غضب نازل ہو ۔ لعان کے بعد فریق کے سلسلہ میں فقہاء مجتہدین کے مختلف اقوال ہیں عثمان الغنی کی رائے ہے کہ نفس لعان سے تفریق وغیرہ واقع نہیں ہوتی ، امام مالک ، لیث اور زفر کا خیال ہے تفریق واقع ہوجاتی ہے ، ابوحنیفہ (رح) ، ابو یوسف (رح) اور امام محمد (رح) کی رائے ہے کہ تفریق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک کہ حاکم یا ہئیت حاکمہ ان میں تفریق کا اعلان نہ کر دے ، ان سب کے پاس دلائل ہیں ، اور یہ موضوع محل بحث ونظر ہے صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ تفریق واقع ہوجاتی ہے ، کیونکہ قطع نظر فقہی دلائل کے صورت مسئلہ یہ ہے کہ کشیدگی اپنی آخری حد تک پہنچ چکی ہے اس لئے یہ رشتہ عملا گویا منقطع ہی سمجھنا چاہئے ۔ حل لغات : الافک : جھوٹ ، بہتان ۔ عصبۃ : جماعت یا گروہ ۔
Ayahs 24:14–18

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر دنیا اور آخرت میں خدا کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی ، تو اس چرچا کرنے میں تم پر بڑا عذاب آتا (ف 1) ۔

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب اس تہمت کو تم اپنی زبانوں پر لیتے تھے ، اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہتے تھے جس کا علم تمہیں نہ تھا اور اسے ہلکی بات سمجھتے تھے اور (حالانکہ) وہ خدا کے نزدیک بڑی بات تھی ،

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور جب تم نے اس کو سنا تھا ، کیوں نہ کہا ، کہ ہمیں ایسی بات بولنا نہیں ، اے اللہ تو پاک ہے ۔ یہ بڑا بہتان ہے ۔

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

تمہیں اللہ نصیحت دیتا ہے کہ پھر ایسی بات کبھی نہ کرو ، اگر تم مومن ہو ۔

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور اللہ تمہارے لئے آیتیں بیان کرتا ہے ، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔

عائشہ عفیفہ ؓ کا المناک واقعہ ! (ف 1) ام المومنین حضرت عائشہ عفیفہ ؓ کی زبان سے واقعہ افک کی تفصیل سنئیے ۔ ارشاد فرماتی ہیں کہ میں حضور ﷺ کی معیت میں ایک عزوہ میں شریک ہوئی ، یہ عزوہ بنی المصطلق سے قبل کا واقعہ ہے پھر ہم واپس آئے ، مدینہ سے کچھ ادھر حضور ﷺ نے ایک منزل پر قیام کیا ، میں بھی محمل سے نیچے اتری اور قضائے حاجت کے لئے جیش نبوی ﷺ سے کچھ آگے نکل گئی جب لوٹ کر محمل تک پہنچی تو مجھے معلوم ہوا کہ میرا ہار کہیں گر گیا ، تلاش کی غرض سے پھر وہاں تک گئی اور ہار ڈھونڈتی رہی محمل والوں نے یہ سمجھا کہ میں محمل میں موجود ہوں اس لئے کہ میرا بوجھ کچھ زیادہ نہ تھا میں ان دونوں بالکل نوعمر اور ہلکے جسم کی تھی محمل والوں نے محمل ناقہ پر رکھا ، اور چلتے بنے میں جس وقت منزل پر پہنچی تو قافلہ روانہ ہوچکا تھا ، اب میں نے سوچا اور خیال کیا کہ مدینہ پہنچ کر جب وہ معلوم کریں گے کہ محمل میں موجود نہیں ہوں تو قافلہ والوں میں سے کوئی ضرور مجھے تلاش کرنے آئے گا ، اس لئے وہیں پڑ کر سو گئی ، صفوان بن معطل نامی ایک شخص اس خدمت پر مامور تھا کہ قافلہ کے پیچھے پچھے آئے اور گری پڑی چیز کا خیال رکھے ، اس نے مجھے دیکھا کہ قافلہ سے بچھڑ گئی ہوں ، اس نے بچھڑنے کا سبب پوچھا میں نے بتا دیا اس نے کہا کہ آپ اونٹ پر سوار ہوجائیے ، یہ کہہ کر وہ خود پیچھے ہٹ گیا ، اور میں اونٹ پر سوار ہوگئی ، اس حالت میں ہم مدینہ پہنچے لیکن یہاں جھوٹ اور بہتان کا ایک طوفان بپا تھا ، منافقین میرے اور صفوان کے متعلق عجیب عجیب ناپاک الزام پھیل ارہے تھے اور رسول اللہ ﷺ اس وجہ سے بہت زیادہ مغموم تھے میں ان حالات سے ناواقف تھی ، رات کے وقت ام مسطح کے ساتھ باہر قضاء حاجت کیلئے نکلی ، اور جب واپس آنے لگیں تو ام مسطح کا پاؤں اس کی چادر میں الجھ گیا ، اس نے کہا قعس مسطح یعنی مسطح ہلاک ہو ، میں نے کہا مسطح بدری صحابی ہے ، کیا اس کو گالیاں دیتی ہے ، اس نے تعجب سے کہا تمہیں نہیں معلوم مسطح تمہارے متعلق کیا کیا باتیں لوگوں میں پھیلا رہا ہے میں نے کہا نہیں ، تو اس نے مجھے حقیت حال سے آگاہ کیا اب مجھے بھی روحانی تکلیف محسوس ہوئی میں حضور ﷺ سے اجازت لے کر اپنے والدین کے گھر آگئی ، یہاں یہ عالم تھا کہ والد بھی میری وجہ سے بےچین تھے ، والدہ بھی مضطرب تھیں اس لئے ہم تینوں ملکر خوب روئے ، ایک دن حضور تشریف لائے اور نہایت اندومگین لہجہ میں فرمایا : عائشہ ! میں تیرے متعلق اس قسم کی باتیں سنی ہیں ، اگر تو صداقت شعار ہے تو اللہ ضرور تیری برات کرے گا ، اور اگر خدانخواستہ تجھ سے غلطی ہوگئی تو توبہ کرو ، اللہ تعالیٰ توبہ کے بعد گناہوں کو معاف کردیتے ہیں ، میں نے جب یہ آخری کلمات سنے تو بےاختیار آنکھوں سے آنسو گرنے لگے ، والد سے کہا ، آپ میری طرف سے جواب دیجیے وہ کہنے لگے میں کیا جواب دوں ، والدہ سے کہا آپ میری ترجمانی کیجئے وہ بھی اول تو خاموش رہیں پھر کہنے لگیں کہ آخر کیا کہا جائے میں نے ذرا جرات کی اور کہا کہ جو باتیں آپ نے سنی ہیں وہ غالبا آپ کے دل میں مرتسم ہوچکی ہیں ، اور آپ شاید مان چکے ہیں اب اگر میں تردید بھی کروں تو آپ کب مانیں گے میری حالت تو اس وقت ابو یوسف یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی طرح ہے اس لئے میں اس کے الفاظ میں کہتی ہوں (آیت) ” فصبر جمیل واللہ المستعان علی ما تصفون “۔ اللہ کی عنایت ونوازش دیکھئے کہ اسی مجلس اور اسی نشست میں حضور ﷺ پر اٹھارہ آیتیں نازل ہوئیں جن میں میری برات کی گئی منافقین کو ڈانٹا گیا ، حضور ﷺ نے فرمایا ، عائشہ ! خوش ہوجاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہاری برات کی آیتیں نازل فرمائی ہیں ، میں نے کہا اللہ کی حمد و ستائش اور اس کا ہزار ہزار شکر ہے ، آپ اور آپ کے صحابہ تو مجھے مجرم سمجھ ہی چکے تھے والدہ نے کہا بیٹی اٹھو اور حضور ﷺ کا شکریہ ادا کرو ، میں نے کہا میں تو ہرگز نہیں اٹھوں گی میں تو اپنے مولا کا شکریہ ادا کروں گی جس نے میری برات فرمائی ہے اور ان تمام الزامات سے پاک اور بری کیا ہے ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ واقعہ افک کو شہرت دینے والے منافقین ہیں ، مگر ان کی اغراض کی اس سے تکمیل نہیں ہوئی ، بلکہ انجام کے لحاظ سے یہ بہتر ہوا ، کیونکہ اس کی وجہ سے عورتوں کے حقوق اور ان کی عزت ووقعت سے متعلقہ مسائل کی توضیح ہوگئی ، فرمایا ، یہ قطعا جھوٹ تھا ، اور مسلمانوں کو چاہئے تھا ، کہ اول مرحلہ میں اس کا انکار کردیتے ، کیونکہ پیغمبر کی حرم محترم عفاف وعصمت کا سراپا مجسمہ ہوتی ہے ۔ ارشاد ہے کہ اس واقعہ کی صداقت کیلئے انہیں چار شاہد پیش کرنا چاہئے تھے اور اس کو پایہ ثبوت تک پہنچانا ضروری تھا ، مگر وہ تو بالکل جھوٹے تھے ، یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے ، کہ اس نے تمہیں عذاب عظیمہ سے بچا لیا ورنہ پیغمبر کے حرم پاک کے متعلق الزامات سراسر ناقابل برداشت جرم ہے تم نے اس معاملہ کو بہت آسان سمجھا اور اس میں دلچسپی لی ، مگر اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی معصیت ہے ، تمہیں لازم تھا کہ ہرگز اس واقعہ کو تسلیم نہ کرتے اور جب سنا تھا اسی وقت تردید کردیتے ، یاد رکھو آئندہ کبھی ایسے جرم کا ارتکاب نہ کرنا ۔
Ayahs 24:19–20

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بےحیائی کی بات کا چرچا ہو ، انہیں دکھ دینے والا عذاب ہوگا ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف 1) ۔

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ شفیق مہربان ہے (تو کیا کچھ نہ ہوتا)

واقعہ افک منافقین کی انتہائی خباثت باطنی اور شقاوت قلبی کا مظاہرہ تھا ، اور اس میں بعض صحابہ بھی سادگی سے شریک ہوگئے تھے ۔ اور کئی صحابہ بشری لغزش سے عائشہ عفیفہ ؓ کے متعلق جھوٹے افسانوں سے دلچسپی لینے لگے ہر محفل اور ہر مجلس میں یہی چرچا اور یہی باتیں ہونے لگیں جس کی وجہ سے اللہ کے رسول ﷺ نے سخت اذیت اور قلبی کوفت محسوس کی اور بالآخر برات کے لئے یہ آیات نازل ہوئیں ، اور بہتان لگانے والوں کی پشت پر اسی اسی درے لگائے گئے اس سے صحابہ کی جماعت میں جو غلط فہمیاں پھیل رہی تھیں وہ تو رک گئیں مگر منافقین اس کے بعد بھی مزے لے لے کر اس قصہ کو بیان کرتے رہے ۔ قرآن کی اس آیت میں ان لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ خبردار جو تم نے اس جرم کا ارتکاب کیا ، یاد رکھو مسلمانوں میں بےحیائی کی باتوں کو پھیلانا بہت بڑی معصیت ہے ، اگر تم باز نہ آئے تو دنیا وعقبی میں تمہارے لئے المناک عذاب مقرر ہے ۔
Ayah 24:21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

مومنو ! شیطان کے قدموں پر نہ چلو ، اور جو شیطان کے قدموں پر چلے گا ، تو وہ بےحیاء اور بری ہی بات کا حکم دے گا ، اور اگر اللہ کا فضل اور رحم تم پر نہ ہوتا ، تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک نہ ہوتا ، لیکن اللہ جسے چاہے پاک کرتا ہے ، اور اللہ سننے والا (ف 1) ۔ جاننے والا ہے ،

(ف 1) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ مسلمان مرد یا مسلمان عورت کو متہم کرنا شیطان کی پیروی کے مترادف ہے ، اس لئے اس گناہ عظیم سے قطعی احتراز کرو ، اور یاد رکھو کہ یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ اس نے تمہارے اس بہت بڑی معصیت کے کام کو توبہ کے بعد بخش دیا ہے ورنہ یہ گناہ ایسا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص بھی اس سے توبہ کرکے عنداللہ تطہیر حاصل نہ کرسکتا ۔
Ayah 24:22

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور چاہئے کہ تم میں سے جو لوگ بزرگی اور کشاشش والے ہیں قسم نہ کھائیں ، کہ رشتہ داروں ، اور محتاجوں ، اور خدا کی راہ میں وطن چھوڑنے والوں کو کچھ نہ دیں گے ، اور چاہئے کہ معاف کریں ، اور درگزر کریں ، کیا تم نہیں چاہئے ، کہ اللہ تمہیں بخشے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ (ف 2) ۔

بلند اخلاقی کا حیرت انگیز نمونہ : (ف 2) یہ شخص مسطح جس نے اس شرارت میں زیادہ سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا تھا حضرت ابوبکر ؓ پروردہ تھا ، حضرت ابوبکر ؓ نے اس کو اس کو اور اس کے متعلقین کو اپنے پاس رکھا ، اور عرصہ تک ان کی ہر طرح اعانت کی مگر اس نے اس طرح حق نمک ادا کیا تو صدیق ؓ قدرتا غصے سے بیتاب ہوگئے ، آپ نے کہا میرے ہاں سے تم لوگ نکل جاؤ اب مجھ میں اور تم میں کوئی رشتہ ناطہ نہیں ، یہ لوگ کئی دن تک پریشان رہے اور آخر قرآن حکیم کی یہ آیتیں نازل ہوئیں ، غور فرمائیے ایک اپنا نام لیوا اور اپنے لخت جگر کے متعلق اس نوع کا نازیبا سلوک روا رکھتا ہے اور حرم رسول اور بنت صدیق ؓ کی عصمت عفاف پر ناپاک حملے کرتا ہے ، مگر اس رسول کا خدا اور صدیق کا آقا یہ کہتا ہے کہ اس شخص کو معاف کر دو ، اور آئندہ اپنی اور عطاؤں اور بخششوں سے اس کو اور اس کے متعلقین کو محروم نہ رکھو ، کتنا بڑا اخلاق اور کتنی بڑی روحانی تعلیم ہے ، قاعدہ ہے کہ انسان اپنے دشمن کو تو معاف کرسکتا مگر ناممکن ہے کہ ناموس کے دشمن اور عزت کے دشمن سے تعاون کیا جائے ، مگر قرآں کی یہ آیت جب نازل ہوئی تو ایک طرف رسول ﷺ نے مسطح کو معاف کردیا ، اور دوسری جانب ابوبکر ؓ نے کہا ، میں اس کی اعانت نہ کرکے خدا کی مغفرت سے محروم نہیں رہنا چاہتا کیا اتنی بلند تعلیم اور اتنا زبردست عمل آپ کو اسلام اور مسلمانوں کے سوا کہیں اور مل سکتا ہے ۔
Ayahs 24:23–25

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

جو لوگ پاک دامن ، بیخبر ، مومن ، عورتوں کو تہمت لگاتے ہیں ، وہ دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں ، اور انہیں بڑا عذاب ہوگا (ف 3) ۔

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

جس دن انکی زبانیں اور ان کے ہاتھ ۔ اور ان کے پیر ان پر گواہی دیں گے ، جو وہ کرتے تھے ۔

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن ان کو اللہ ان کی سزا جس کے وہ مستحق ہیں ، پوری دے گا ، اور جان لیں گے اللہ جو ہے وہی سچا ظاہر کرنے والا ہے ۔

(ف 3) اس آیت میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ پرہیزگاروں اور پاکباز عورتوں کو متہم کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ یہ دین اور دنیا میں لعنت اور سخت عذاب کا موجب ہوگا ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک پرہیزگار اور ایماندار مردوں اور عورتوں کا درجہ اس قدر بلند ہے کہ ان کی تذلیل ملعونیت ہے اور عذاب عظیم کا باعث ۔
Ayah 24:26

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

گندی عورتیں گندے مردوں کیلئے ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کیلئے ہیں اور ستھری عورتیں ستھرے مردوں کیلئے ہیں ، اور ستھرے مر نہ ستھری عورتوں کیلئے ہیں یہ لوگ ان باتوں سے بری ہیں جو وہ کہتے ہیں ان کے لئے مغفرت اور عزت کی روزی ہے (ف 1) ۔

ازدواجی تعلقات کیلئے فریقین کو دیندار ہونا لازم ہے : (ف 1) قرآن حکیم کے نزدیک ازدواجی زندگی کیلئے سب سے زیادہ ضروری چیز جذبہ دینداری اور اخلاق کی پاکیزگی ہے حسن و جمال اور دوسری خصوصیات محض ثانوی حیثیت رکھتی ہیں ، کیونکہ جو تعلقات محض حسن و جمال یا مال و دولت کیوجہ سے قائم ہوں ، دیرپا اور مضبوط نہیں ہوتے ، ان کا تعلق عارضی ہوتا ہے جہاں امیری یا بےنیازی ہوئی فریقین ایک دوسرے سے الگ ہوگئے مگر جو تعلقات کہ اخلاق کی بلندی اور کیرکٹر کی اعلی بنیاد پر قائم ہوں اور روز بروز اور مستحکم ہوتے ہیں ، قرآن حکیم کہتا ہے جو لوگ صالح اور پاکباز ہیں وہ ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ انکی رفیقہ حیات بھی صالح ہو ، اور جو ناپاک اور گندے خیالات کا انسان ہوتا ہے وہ اپنے لئے اس عورت کو پسند کرتا ہے جو اس کے قماش اور مذاق کے عین مطابق ہوتی ہے ۔ الخبیثت اور الطیبت : کا مفہوم اس بات پر دال ہے کہ ازواج مطہرات ہبہمہ وجوہ الزامات سے پاک ہیں کیونکہ بدچلن عورتیں پاکباز مردوں کے پاس نہیں رہ سکتیں ، اسی طرح بااخلاق اور عفیف مرد فاحشہ عورتوں سے تعلق ازدواجی قائم نہیں کرسکتا ، قرآن نے اس آیت میں دراصل منافقین کو کوتاہی نظر اور بداخلاقی کی مذمت کی ہے ، کیونکہ منافقین کو چاہئے تھا کہ یہ تو دیکھتے کہ وہ کس ذات عصمت آب کے متعلق بیہودہ گوئی کا ارتکاب کر رہے ہیں ، واقعہ کے امکانات سے بحث کرتے اور سوچتے کہ حضور ﷺ کیونکر یہ گوارر کرسکتے تھے ، کہ اپنے حرم میں ایسی عورتوں کو جگہ دیں ، جو اخلاق کے لحاظ سے بلند نہ ہوں ۔
Ayahs 24:27–30

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

مومنو ! سوائے اپنے گھروں کے اور لوگوں کے گھروں میں بغیر اجازت لئے ، اور گھر والوں کو سلام کئے ، (بغیر) داخل نہ ہوا کرو ، یہ تمہارے حق میں بہتر ہے ، شاید تم نصیحت پکڑو (ف 1) ۔

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

پھر اگر تم اس گھر میں کوئی آدمی نہ پاؤ ، تو جب تک تمہیں اجازت نہ ملے ، اس کے اندر داخل نہ ہو ، اور جو تمہیں کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس چلے جایا کرو اس میں تمہارے لئے خوب ستھرائی ہے اور جو تم کرتے ہو ، اللہ جانتا ہے ۔

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ تم ان گھروں میں داخل ہو جہاں کوئی نہیں بستا ، اور اس میں تمہارا اسباب ہو ، اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو ، اور چھپاتے ہو ۔

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

مؤمنوں سے کہہ کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھیں ، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اس میں انکی خوب ستھرائی ہے ، بیشک اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اس میں انکی خوب ستھرائی ہے ، بیشک اللہ واقف ہے جو وہ کرتے ہیں ۔

پہلے اجازت طلب کرو : (ف 1) اسلام کی نگاہیں انسانی عادات وخصائل اور انسانی نفسیات و حالات سے متعلق بہت عمیق ہیں ، وہ یہ جانتا ہے کہ گناہ کا منبع کہاں ہے اور کن باتوں سے گناہ کی ترغیب ہوتی ہے ، اس لئے وہ سب سے پہلے اس گناہ کے سوتے کو بند کرتا ہے جہاں سے وہ پھوٹتا ہے ، اور اس کے بعد حفاظتی تدابیر کی تلقین کرتا ہے ۔ چنانچہ غور کرنے پر معلوم ہوگا ، کہ سب سے بڑی تحریک خلوت اور آزادی سے مرد اور عورت کا ملنا ہے اس لئے اسلام نے خلوت پر پابندیاں عائد کیں ، اور فرمایا دیکھو جب کسی عزیز یا دوست کے ہاں جاؤ ، جہاں کی عورتیں تم سے پردہ کرتی ہیں ، تو دھم سے ان کے ہاں نہ پہنچ جاؤ بلکہ پہلے اجازت طلب کرو تب اندر جاؤ تاکہ برائی کا کوئی احتمال پیدا نہ ہو سکے ۔ اذن کی تشریح آپ کو اس حدیث سے معلوم ہوگی ایک شخص حضور ﷺ کے پاس آیا اور دروازے کے پاس آکر کہا میں اندر آسکتا ہوں آپ نے روضہ نامی ایک عورت سے کہا کہ تم جاؤ اور اس کو اسلامی آداب سے آگاہ کرو ، اور کہو کہ السلام علیکم کہے چناچہ اس نے استیذان السلام علیکم کہا ، اور آپ نے اندر آنے کی اجازت دی ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ استیذان کا طریق السلام علیکم ہے یہ نہیں کہ کہا جائے جناب میں اندر آسکتا ہوں مجھے اجازت ہے ؟ (آیت) ” حتی تستانسوا وتسلموا “۔ میں واو عطف علی المترادف کیلئے ہے یعنی مقصد یہ ہے کہ بلا استیذان یعنی السلام علیکم کہنے کے بغیر اندر نہ جاؤ ارشاد ہے کہ اگر کوئی صاحب ملنے کی اجازت نہ دیں تو بغیر کسی ناراضگی کے واپس ہوجاؤ اللہ اللہ کی آداب اور عمدہ عوائد رسمیہ ہیں جن کو زندہ قومیں اپنا دستور العمل بناچ کی ہیں اور ہم ان سے نا آشنا سے محض ہیں ۔ حل لغات : تستانسوا : معلوم کرو ، اذن طلب کرو ، واقفیت بڑھا لو ، تینوں معنوں میں مستعمل ہوتا ہے ، مگر یہاں استیذان کے مترادف ہے ۔ ازکی لکم : یعنی ان آداب وعوائد کی پیروی تمہاری مجلسی اصلاح کے لئے از حد ضروری اور بہتر ہے ۔ یضغوا : غض سے ہے ، نگاہ جھکا لینا ، اصل میں اس کے معنی تحمل اور نقصان کرنے کے ہیں ۔
Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور مومن عورتوں سے کہہ کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھیں (ف 1) ۔ اور اپنی شرمگاہوں کی محافظت کریں اور اپنا سنگار ظاہر نہ کریں ، مگر جتنا اس میں سے ظاہر ہے اور چاہئے کہ اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں ، اور اپنی زینت (ف 2) ۔ کسی پر ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں کے باپوں پر ، یا اپنے بیٹوں پر یا اپنے شوہروں کے بیٹوں پر ، یا اپنے بھائیوں پر یا اپنے بھتیجوں پر ، یا اپنے بھانجوں پر ، یا اپنی عورتوں پر ، یا اپنے ہاتھ کے مال (یعنی لونڈی غلاموں) پر ، یا مردوں میں سے ان کمیروں پر جو عورتوں کی حاجت نہیں رکھتے ، یا لڑکوں پر ، جو عورتوں کی چھپی باتوں سے واقف نہیں ہوئے اور اپنی پوشیدہ زینت ظاہر کرنے کو زمین پر پیر مارتی نہ چلیں اور اے ایماندارو ! تم سب مل کر خدا کی طرف توبہ کرو ، شاید کہ تم نجات پاؤ ۔

آنکھوں کا زنا : (ف 1) گناہ کے اصل منبع اور حقیقی محرک سے روک دینے کے بعد ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ اس کا وسیلہ اور ذریعہ آنکھیں ہیں ، چناچہ تورات میں لکھا ہے کہ النظر تزرع فی القلب الشھوۃ ۔ یعنی دل میں برائی کے بیج نظریں بوتی ہیں ، اور پھر یہی بیج بڑھ کر بدی کا تناور درخت ہوجاتا ہے سردار دوجہاں کا ارشاد ہے ” العیضان تزنیان “۔ کہ آنکھیں بھی ایک قسم کے زنا کا ارتکاب کرتی ہیں ۔ فرماتے ہیں مرمن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کو قصد اور عمدا نہ دیکھیں بلکہ اس درجہ نگاہوں پر ضبط واختیار رکھیں ، کہ جہاں آنکھیں ایک دوسرے سے دو چار ہوں فورا خود بخود جھک جائیں ، کیونکہ مسلمان بجائے خود پاکبازی اور عفاف کا پیکر ہے اور لوگوں کے لئے اسوہ ونمونہ ہے اس کو انتہا درجہ کا شریف اور باحیا ہونا چاہئے ۔ (آیت) ” ان اللہ خبیر بما یصنعون “ َ سے فرض یہ ہے کہ گو لوگ یہ کہیں کہ صرف ایک نظر دیکھ لینے میں کیا مضائقہ ہے یا یہ کہ ان اللہ عند الحیان وجوھہم مگر خدا ہماری نفسیات کی گہرائیوں سے آگاہ ہے وہ جانتا ہے کہ یہ چھوٹی سی چنگاری زندگی کے بن کو جلا دے گی اس لئے خیر اسی میں ہے کہ آنکھوں کے چور دروازوں کو بند رکھیں ۔ زینت کا صحیح مفہوم : (ف 2) زینت کا لفظ عام ہے اس میں محاسن فطری بھی داخل ہیں اور محاسن اختیاری بھی حتی کہ معانی اور معقولات پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اس لئے اس میں بدن کے وہ حصے جو جنسی جذبات کو ابھاریں اور زینت و آرائش ظاہری کا سامان سب چیزیں داخل ہیں یعنی ہر چیز اور بدن کا ہر حصہ جو عموما ابتلا وفتنہ کا سبب بن سکتا ہے اس کو غیروں کی نظروں سے مستور رکھنا لازم ہے ۔ (آیت) ” الا ما ظھر منھا “۔ کی تفصیلات میں بحث ہے بعض لوگ چہرہ اور ہاتھوں کو تمدنی ضروریات وداعیات کے ماتحت مستثنی سمجھتے ہیں اور بعض کی رائے میں یہ استثناء چہرہ پر حاوی نہیں ہے ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ یہاں دو اصولی مسئلوں کو سمجھ لینا چاہئے ایک تو یہ ہے کہ اسلام کو اخلاق کا استحکام اور کیرکٹر کی بلندی بہت زیادہ منظور ہے اور وہ کسی حالت میں بھی مسلمان سے بدکرداری کی توقع نہیں کرسکتا وہ چاہتا ہے مسلمان کے دل میں ایسا انقلاب پیدا ہوجائے ، تو اسے تمام اس نوع کے عیوب اور اس قبیل کے برائیوں سے روک دے اور یہ پردہ و حجاب اس انقلاب کے پیدا کرنے میں بڑی حد تک ممدومعاون ہوتا ہے ، اور بجائے خود مقصود بالذات چیز نہیں ایک ذریعہ ووسیلہ ہے جس سے ناپاک گناہوں کو روکنا مطلوب ہے ۔ دوسرا اسلامی مدنیت میں عورت کے درجہ ومقام کا مسئلہ ہے اسلام نے عورت کو اجازت دیدی ہے ، کہ وہ کاروبار کرسکے مصالح اور مرافق میں مرد کا ہاتھ بٹا سکے ، اور زندگی کی تگ ودو میں موزوں اور مناسب طریق سے حصہ لے سکے ۔ اس لئے مطلقا چہرے کا مستور رکھنا یا کھلا رکھنا خارج از بحث ہے ان دونوں اصولوں کو بیک وقت سامنے رکھنا چاہئے عام حالات میں چہرہ بہت بڑی جاذب اور کشش کا باعث ہوتا ہے اور آنکھیں معصیت کی طرف دعوت دیتی ہیں ، اس لئے اس کا حجاب میں رہنا زیادہ قریب مصلحت ہے اور جب حالات اور مرافق کا تقاضا یہ ہو کہ منہ کھلا رکھا جائے تو پھر مدنی سہولتوں کے لئے منہ کا کھلا رکھنا جائز ہے یعنی (آیت) ” الا ما ظہر منھا “۔ کا ما استثناء حالات ومصالح پر مشتمل ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ الا وہ صورتیں جب کہ بند کے کسی حصہ کا ظاہر کرنا مصالح کے ماتحت ہو ۔ حل لغات : خمرھن : خمار کی جمع ہے دوپٹہ ، باریک چادر ، غیر اولی الاربۃ : ان لوگوں کے سوا ایسی جن میں جنسی راہ ہدایت نہ ہوں ۔
Ayah 24:32

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور اپنی رانڈوں اور اپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کرادو ‘ اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں تونگر کر دے گا اور اللہ سمائی والا جاننے والا ہے (ف 1) ۔

نکاح ایک مدنی ضرورت ہے : (ف 1) الا یای کا لفظ عام ہے ہر اس مرد کو کہتے ہیں جس کی بیوی نہ ہو ، اس طرح ہر اس عورت کو کہتے جس کے خاوند نہ ہو ، یہ ایم کی جمع ہے حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے زوجوا ایامکم “۔ ایک شاعر کہتا ہے ۔ فان تنکحوا الکم وان تتایمی وان کنت امتی منکم اتائم : یعنی اگر تم شادی میرے ساتھ منظور کرلو گی تو میں بھی منظور کرلوں گا ورنہ باوجود تم سب سے زیادہ طاقتور ہونے کے میں کنوار رہوں گا ، آیت کا مقصد ہے کہ نکاح چونکہ شرعی واخلاقی لحاظ سے سوسائٹی کی بہت بڑی خدمت ہے اس لئے ہر مسلمان اور ہر عورت کو شادی شدہ ہونا چاہئے خطاب اولیاء سے ہے ، ان یکونوا فقرآئ “۔ سے غرض یہ نہیں کہ نکاح یہ شادی کے بعد اللہ تعالیٰ ضرور افلاس کو دور کردیں گے ، بلکہ مقصود یہ ہے کہ اس میں مال و دولت کو بہت زیادہ اہمیت نہ دو ۔ اور اللہ سے توقع رکھو کہ وہ تمہارے حالات کو بدل دے گا ۔ اور تمہارا افلاس دور ہوجائے گا ۔
Ayahs 24:33–34

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور چاہیے کہ وہ لوگ جو نکاح کا مقدور نہیں رکھتے پرہیز گار ہیں (ف 2) ۔ یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے انہیں تونگر کرے ، اور جو لوگ تمہارے ہاتھ کے مال (باندی غلاموں) میں سے کچھ دے کر اپنی (آزادی کی) تحریر چاہتے ہیں ان کو تحریر لکھ دو ، اگر تم ان میں کچھ نیکی معلوم کرو اور اللہ کے مال میں سے جو اس نے تمہیں دیا ہے ‘ انہیں دو اور اپنی باندیوں پر اگر وہ پرہیز گاری چاہیں ‘ زنا کرانے کے لئے جبر نہ کرو تاکہ اس طریق سے حیات دنیا کا اسباب کمایا چاہو ، اور جو کوئی ان پر جبر کرے گا ، تو ان کی بےبسی پیچھے (ان کو) اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف 1) ۔

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں نازل کیں ، اور جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کے قصے اور ڈرنے والوں کے لئے نصیحت ۔

غیر شادی شدہ لوگوں کے لیے ایک نسخہ : (ف 2) یعنی جو لوگ شادی شدہ کا مقدور نہ رکھتے ہوں وہ جذبات پر قابو رکھیں حضور نے فرمایا یا معشر الشباب من استطاء منکم الباءۃ فلیتزوج فانہ اغض البصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فان الصوم لہ وجاء ۔ (ترجمہ : نوجوانو ! تم میں جو لوگ شادی کا مقدور نہ رکھتے ہوں وہ ضرور شادی کریں کیونکہ اس طرح انسان کا کرکٹر محفوظ ہوجاتا ہے ۔ اور جو شادی کا مقدور نہ رکھتے ہوں وہ روزے رکھیں ، کیونکہ اس طریق سے ضبط نفس کا سامان پیدا ہوجاتا ہے ۔ غلامی اور مکاتبت : (ف 1) اسلام غلامی کو طبعا ناپسند کرتا ہے اس لیے اس نے غلامی کے متعلق ایسی شروط وقیود کا اضافہ کردیا ہے کہ اس سے عملا یہ مفقود ہوجائے ۔ مکاتبت کے معنی ہوتے ہیں کہ غلام سے کہہ دیا جائے کہ تو اگر اتنی رقم مجھ کو ادا کردے تو آزاد ہے ۔ قرآن حکیم کہتا ہے کہ باحیثیت مسلمان جس کے ہاں غلام ہیں ان سے اگر وہ مکاتبت کی درخواست کریں تو ان کو چاہیے کہ وہ قبول کرلیں جبکہ یہ بھی چاہیے کہ اس سلسلہ میں ان کی مدد کریں اور اپنی طرف سے بھی دیں ۔ ان اردن میں تحصنا کی قید واقعی ہے ، احترازی نہیں ، یعنی بعض لونڈیاں چاہتی تھیں کہ عفت و عصمت کی زندگی بسر کریں مگر ان کے مالک انہیں بدکاری پر مجبور کرتے تھے ، قرآن کہتا ہے کہ اگر ان کے دل میں بدکاری کے خلاف نفرت کا جذبہ موجود ہے تو تم کیوں ان کو اس ذلیل کام پر مجبور کرتے ہو ، کیا تم دنیوی مال و دولت کے لیے ایک عفیف لونڈی کو زنا پر ابھارتے ہو ، کہ وہ اس طرح تمہیں کما کر کھلائے ۔ غفور رحیم کا تعلق لونڈیوں سے ہے یعنی ان کے مالک اگر ان کو مجبور کریں اور وہ دل میں اس کو ناپسند کرتی ہوں اور نفرت و بیزاری کا اظہار کرتی ہوں تو پھر اللہ ان کی معذوریوں سے آگاہ ہے ۔ حل لغات : تحصنا : پاکبازی ۔ مشکوۃ : روشنی کا طاق ، چراغ اور قندیل رکھنے کا فراخ طاق ۔ مصباح : دیا ، چراغ ۔
Ayahs 24:35–38

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے طاق جس میں چراغ ہو ، اور چراغ شیشہ میں دھرا ہو ، شیشہ گویا چمکتا تارا ہے ، (وہ چراغ) اس مبارک درخت زیتون سے جلایا جائے ، جو نہ شرقی ہے ، نہ غربی ، قریب ہے کہ اس کا تیل روشنی دے ، اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھوئے ، روشنی پر روشنی ہے جسے چاہے اللہ اپنے نور کی راہ بتا دے ، اور اللہ آدمیوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر شئے کو جانتا ہے (ف 1) ۔

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

وہ چراغ ان گھروں میں ہے جن کے بلند کرنے کا حکم خدا نے دیا ہے اور یہ کہ ان میں اس کا نام لیا جائے خدا کی ان گھروں میں صبح وشام تسبیح کرتے ہیں ۔

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

وہ لوگ جنہیں تجارت اور بیع اللہ کے ذکر اور نماز کے قائم کرنے ، اور زکوۃ دینے سے غافل نہیں کرتی ، وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی ۔

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

کہ اللہ انہیں ان کے بہترین کاموں کا بدلہ دے اور اپنے فضل سے انہیں زیادہ دے ، اور اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے ۔

اللہ نور ہے : (ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ کو آسمانوں اور زمینوں کے نور کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے ، اور قندیل ایسی صاف اور چمکدار ہے گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارا ہے ، اس میں برابر یکسان روشنی ہے نہ شرقی ہے اور نہ غربی تیل اس طرح کا مصفا کہ بغیر آگ جلنے کے تیار ہے ظاہر ہے کہ ایسی روشنی تیز ہوگی ، واضح ہوگی دور تک پہنچنے والی اور پاکیزہ ہوگی پس اپنے نور سے جسے چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھلاتا ہے ، کیونکہ اللہ کی ذات ہر قسم کی تشبیہ سے پاک ہے ۔ (آیت) ” لیس کمثلہ شیئ “۔ چناچہ آیت کے اختتام پر ارشاد ہے ۔ (آیت) ” یھدی اللہ لنورہ من یشآئ “۔ یعنی اس کا پیغام بہت روشن ہے منور ہے ، تابناک ہے ، اور گمراہیوں اور ظلمتوں کی تاریکیوں کو دور کرنے والا ہے جس کو چاہتا ہے اس نور سے کسب ضوء کا موقع دیتا ہے ۔ (آیت) ” ویضرب اللہ الامثال للناس “۔ اور اللہ ان تشبیہات کو مثالوں کے طور پر بیان کرتا ہے تاکہ اہل علم اکتساب معرفت کرسکیں ، اور وہ ہر چیز سے آگاہ ہے ۔ ہو سکتا ہے نور سے مراد یہ ہو کہ اللہ اپنی کائنات کیلئے مدبر ہے باعث رونق ہے ، روشنی ہے ۔ جررکہتا ہے ۔ ” وانت لھا نور وغیث وعصمۃ “۔ تیسرا امکان یہ ہے کہ جس طرح نور اور روشنی سے تمام اشیاء متجلی ہوجاتی ہیں ، اور سب کچھ نظر آنے لگتا ہے ، اسی طرح اللہ زمین آسمان کیلئے بمنرلہ نور کے ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ کو نہ تسلیم کیا جائے تو پھر کائنات کا نظام درہم وبرہم ہوجاتا ہے ، اور ہر طرف تاریکی ہی تاریکی دکھائی دیتی ہے ، اور انسان علل ومعلولات کے غیر متناہی سلسلہ میں پھنس کر رہ جاتا ہے ۔ بحث میں علت تاجلول کی ہر عقل علیل : اور اگر اس پر ایمان رکھا جائے اور اس کی ذات کو خالق اور رب مان لیا جائے تو کائنات کی تمام گتھیاں سلجھ جاتی ہیں ، اور کسی گوشہ میں تاریکی نہیں رہتی ۔ (آیت) ” ولولم تمسسہ نار “۔ میں قرآن حکیم نے ایک ایسی حقیقت کو بیان کیا ہے جس کا اظہار آج چودہ سو سال بعد ہوا ہے ۔ غور فرمائیے ، عربی لٹریچر میں چراغ کے لئے کوئی لفظ موجود نہیں چناچہ مصباح خاص خوبی اشتقاق کی رو سے صحیح نہیں ، یہ حبشی زبان کا لفظ ہے سراج فارسی سے معوب کیا گیا ہے یہ اس لئے کہ عربوں کا تمدن بہت سادہ تھا اور وہ کھلے میدانوں اور خیموں میں رہتے تھے اور روشنی کیلئے وہ آگ کو کافی سمجھتے تھے مگر قرآن ایک ایسا تخیل پیش کررہا ہے جو شیشے میں ہے اور سب طرف برابر نور پھینک رہی ہے ، نہ شرقی ہے نہ غربی جس میں ایسا تیل ہے جو بغیر آگ دکھانے کے جلتا ہے غور کیجئے کیا یہ بجلی اور قمقمہ کا اولین تصور نہیں ، اور اگر یہ صحیح ہے تو پھر یہ علم اور بالغ نظری کیا کسی انسانی کلام میں ہو سکتی ہے ۔
Ayahs 24:39–40

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے میدان میں ریت ، پیاسا اسے پانی سمجھے ، یہاں تک کہ جب اس کے پاس آیا تو اسے کچھ نہ پایا ، اور اس کے پاس خدا کو پایا ، پھر اس کو اس کا پورا حساب دیا ، اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے (ف 1) ۔

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا (ان کے اعمال) مثل ان تاریکیوں کے ہیں جو گہرے دریا میں ہوتی ہیں ، اس کافر پر موج پر موج چڑھی آتی ہے اور اس کے اوپر بادل ہے ، تاریکیاں ہیں ، ایک پر ایک جب اپنا ہاتھ نکالتا ہے تو اسے دیکھ نہیں سکتا ، اور جسے اللہ نے روشنی نہ دی اس کے لئے کچھ روشنی نہیں ۔

کفر کی تاریکیاں اور اس کی مثال : (ف 1) اس سے قبل کی تفصیل تھی یہ بتایا تھا کہ ان گھروں میں اللہ کے نور کا اجالا ہوتا ہے جن کا ادب اور احترام اللہ نے ضروری قرار دیا ہے اور جہاں اس کا نام لیا جاتا ہے اور صبح وشام تسبیح و تقدیس کے ترانے گائے جاتے ہیں ، اور وہ لوگ اس نور سے اپنے سینوں کو بھر لیتے ہیں وہ ذکر ہیں ، نماز پڑھتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں ، مگر اپنی عبادت پر مغرور ونازاں نہیں ہوتے بلکہ محاسبہ کے خوف سے لرزاں وترساں رہتے ہیں ، اس کے بعد یہ بتایا تھا کہ اس نور کے منکرین محض غلط توقعات اور موہوم امیدوں میں الجھے ہوتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ باوجود کفر و انکار کے ہمارے اعمال اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ضرور بخش دیگا اور زیادہ باز پرس نہیں کرے گا ، فرمایا ان لوگوں کی مثال اس پیاسے کی طرح ہے جو دور سے ریت کو چمکتے ہوئے دیکھے اور پانی سمجھ کر اس کی طرف دوڑے اور جب اس کے پاس پہنچے تو وہاں جز سراب کے اور کچھ نہ پائے ، یہ لوگ بھی آخرت میں اسی طرح مایوس ہوں گے ، دنیا میں ان کو اپنے اعمال بہت زیادہ وقیع اور قابل لحاظ نظر آتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے حضور میں جا کر انہیں معلوم ہوگا ، کہ یہ محض فریب نگاہ اور نفس کا دھوکا تھا ، اس آیت میں ایک اور تشبیہہ کے ذریعے ان کے اعمال کی بےوقری بیان فرمائی ہے ، ارشاد ہے کہ ان کے اعمال اور اعتقادات کی مثال تاریکی وظلمت میں ایسی ہے جیسے سمندر ہو ، اور اس میں تموج وتلاطم ہو ، اور اوپر سے گھنے بادل چھائے ہوں جس طرح اوپر تلے کی اندھیروں میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا اسی طرح یہ لوگ اعتقاد وعمل اور کردار وگفتار کی تاریکیوں میں مبتلا ہیں ، کہ قریب ترین ہدایت اور قریب ترین روشنی بھی ان کو محسوس نہیں ہوتی ۔ جو لوگ ذوق ادب رکھتے ہیں وہ محسوس کریں گے کہ اس آیت میں تشبیہات کا وہ نادر مجموعہ ہے کہ عقل انسانی محو حیرت ہے اور سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ الفاظ اس نوع کے استعمال فرمائے ہیں جن سے سمندر کی تاریکیوں کا ہولناک نقشہ کھنچ جاتا ہے ، تشبیہات کی اس سے بہتر مثال کسی ادب میں ملنا ممکن نہیں ۔ الفاظ کے چڑہاؤ اتار سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم سمندر کے بالکل سامنے ہیں ، اور اس کیفیت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ۔ حل لغات : قیعۃ : میدان ، جمع قیعان ۔