24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

پانچویں رکوع کی پہلی آیت اللہ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ سے ماخوذ ہے۔

زمانہ نزول

یہ امر متفق علیہ ہے کہ یہ سورت غزوہ بنی الْمُصْطَلِق کے بعد نازل ہوئی ہے۔ خود قرآن کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا نزول واقعہ اِفْک کے سلسلے میں ہوا ہے (جس کا ذکر تفصیل کے ساتھ دوسرے اور تیسرے رکوع میں آیا ہے) اور وہ تمام معتبر روایات کی رو سے غزوہ بنی المصطلق کے سفر میں پیش آیا تھا۔ لیکن اختلاف اس امر میں ہے کہ آیا یہ غزوہ 5 ہجری میں غزوہ احزاب سے پہلے ہوا تھا یا 6 میں غزوہ احزاب کے بعد۔ اصل واقعہ کیا ہے، اس کی تحقیق اس لیے ضروری ہے کہ پردے کے احکام قرآن مجید کی دو ہی سورتوں میں آئے ہیں، ایک یہ سورت، دوسری سورة احزاب جس کا نزول بالاتفاق غزوہ احزاب کے موقع پر ہوا ہے۔ اب اگر غزوہ احزاب پہلے ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ پردے کے احکام کی ابتدا ان ہدایات سے ہوئی جو سورة احزاب میں وارد ہوئی ہیں، اور تکمیل ان احکام سے ہوئی جو اس سورت میں آئے ہیں۔ اور اگر غزوہ بنی المصطلق پہلے ہو تو احکام کی ترتیب الٹ جاتی ہے اور آغاز سورة نور سے مان کر تکمیل سورة احزاب والے احکام پر ماننی پڑتی ہے۔ اس طرح اس حکمت تشریع کا سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے جو احکام حجاب میں پائی جاتی ہے۔ اسی غرض کے لیے ہم آگے بڑھنے سے پہلے زمانہ نزول کی تحقیق کرلینا ضروری سمجھتے ہیں۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ غزوہ بنی المصطلق شعبان 5 ہجری میں پیش آیا اور پھر ذی القعدہ 5 ھ میں غزوہ احزاب (یا غزوہ خندق) واقع ہوا۔ اس کی تائید میں سب سے بڑی شہادت یہ ہے کہ واقعہ افک کے سلسلے میں حضرت عائشہ سے جو روایات مروی ہیں ان میں سے بعض میں حضرت سعد بن عبادہ اور سعد بن معاذ کے جھگڑے کا ذکر آتا ہے، اور تمام معتبر روایات کی رو سے حضرت سعد بن معاذ کا انتقال غزوہ بن قریظہ میں ہوا تھا جس کا زمانہ واقع غزوہ احزاب کے متصلاً بعد ہے، لہٰذا 6 ھ میں ان کے موجود ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ دوسری طرف محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ غزوہ احزاب شوال 5 ھ کا واقعہ ہے اور غزوہ بنی المصطلق شعبان 6 ھ کا۔ اس کی تائید وہ کثیر التعداد معتبر روایات کرتی ہیں جو اس سلسلہ میں حضرت عائشہ اور دوسرے لوگوں سے مروی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ افک سے پہلے احکام حجاب نازل ہوچکے تھے، اور وہ سورة احزاب میں پائے جاتے ہیں۔ ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت زینب (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح ہوچکا تھا، اور وہ غزوہ احزاب کے بعد ذی القعدہ 5 ھ کا واقعہ ہے اور سورة احزاب میں اس کا بھی ذکر آتا ہے۔ علاوہ بریں ان روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زینب کی بہن حمْنَہ بنت جحش نے حضرت عائشہ پر تہمت لگانے میں محض اس وجہ سے حصہ لیا تھا کہ حضرت عائشہ ان کی بہن کی سوکن تھیں، اور ظاہر ہے کہ بہن کی سوکن کے خلاف اس طرح کے جذبات پیدا ہونے کے لیے سوکناپے کا رشتہ شروع ہونے کے بعد کچھ نہ کچھ مدت درکار ہوتی ہے۔ یہ سب شہادتیں ابن اسحاق کی روایت کو مضبوط کردیتی ہیں۔ اس روایت کو قبول کرنے میں صرف یہ چیز مانع ہوتی ہے کہ واقعہ افک کے زمانے میں حضرت سعد بن معاذ کی موجودگی کا ذکر آیا ہے۔ مگر اس مشکل کو جو چیز رفع کردیتی ہے وہ یہ ہے کہ اس واقعہ کے متعلق حضرت عائشہ سے جو روایات مروی ہیں ان میں سے بعض میں حضرت سعد بن معاذ کا ذکر ہے اور بعض میں ان کے بجائے حضرت اُسَید بن حُضَیر کا۔ اور یہ دوسری روایت ان دوسرے واقعات کے ساتھ پوری طرح مطابق ہوجاتی ہے جو اس سلسلے میں خود حضرت عائشہ ہی سے مروی ہیں۔ ورنہ محض سعد بن معاذ کے زمانہ حیات سے مطابق کرنے کی خاطر اگر غزوہ بنی المصطلق اور قصہ افک کو غزوہ احزاب و قریظہ سے پہلے کے واقعات مان لیا جائے تو اس پیچیدگی کا کوئی حل نہیں ملتا کہ پھر آیت حجاب کا نزول اور نکاح زینب (رض) کا واقعہ اس سے بھی پہلے پیش آنا چاہیے، حالانکہ قرآن اور کثیر التعداد روایات صحیحہ، دونوں اس پر شاہد ہیں کہ نکاح زینب (رض) اور حکم حجاب احزاب و قریْظَہ کے بعد کے واقعات ہیں۔ اسی بنا پر ابن حزم اور ابن قیم اور بعض دوسرے محققین نے محمد بن اسحٰق کی روایت ہی کو صحیح قرار دیا ہے، اور ہم بھی اس کی صحیح سمجھتے ہیں۔

تاریخی پس منظر

اب یہ تحقیق ہوجانے کے بعد کہ سورة نور 6 ہجری کے نصف آخر میں سورة احزاب کے کئی مہینے بعد نازل ہوئی ہے، ہمیں ان حالات پر ایک نگاہ ڈال لینی چاہیے جن میں اس کا نزول ہوا۔ جنگ بدر کی فتح سے عرب میں تحریک اسلامی کا جو عروج شروع ہوا تھا وہ غزوہ خندق تک پہنچتے پہنچتے اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ مشرکین، یہود، منافقین اور متربصین، سب ہی یہ محسوس کرنے لگے تھے کہ اس نو خیز طاقت کو محض ہتھیاروں اور فوجوں کے بل پر شکست نہیں دی جاسکتی۔ جنگ خندق میں وہ لوگ متحد ہو کر 10 ہزار فوج کے ساتھ مدینے پر چڑھ آئے تھے، مگر ایک مہینے تک سر مارنے کے بعد آخر کار ناکام ہو کر چلے گئے اور ان کے جاتے ہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی الاعلان فرما دیا، لن تغزوکم قریش بعد عامکم ھٰذا، ولکنکم تغزونَھم (ابن ہشام، جلد 3، 266) ، " اس سال بعد اب قریش تم پر چڑھائی نہیں کریں گے بلکہ تم ان پر چڑھائی کرو گے "۔ یہ گویا اس امر کا اعلان تھا کہ مخالف اسلام طاقتوں کی قوت اقدام ختم ہوچکی ہے، اب اسلام بچاؤ کی نہیں بلکہ اقدام کی لڑائی لڑے گا اور کفر کو اقدام کے بجائے بچاؤ کی لڑائی لڑنی پڑے گی۔ یہ حالات کا بالکل صحیح جائزہ تھا جسے دوسرا فریق بھی اچھی طرح محسوس کر رہا تھا۔ اسلام کے اس روز افزوں عروج کی اصل وجہ مسلمانوں کی تعداد نہ تھی۔ بدر سے خندق تک ہر لڑائی میں کفار ان سے کئی گنی زیادہ قوت لے کر آئے تھے، اور مردم شماری کے لحاظ سے بھی مسلمان اس وقت تک عرب میں بمشکل 1/10 فی صدی تھے۔ اس عروج کی وجہ مسلمانوں کے اسلحہ کی بر تری بھی نہ تھی۔ ہر طرح کے ساز و سامان میں کفار ہی کا پلہ بھاری تھا۔ معاشی طاقت اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے بھی مسلمانوں کا ان سے کوئی مقابلہ نہ تھا۔ ان کے پاس تمام عرب کے معاشی وسائل تھے، اور مسلمان بھوکوں مر رہے تھے۔ ان کی پشت پر تمام عرب کے مشرک اور اہل کتاب قبائل تھے، اور مسلمان ایک نئے دین کی دعوت دے کر قدیم نظام کے سارے حامیوں کی ہمدردیاں کھو چکے تھے۔ ان حالات میں جو چیز مسلمانوں کو برابر آگے بڑھائے لیے جا رہی تھی، وہ دراصل مسلمانوں کی اخلاقی برتری تھی جسے تمام دشمنان اسلام خود بھی محسوس کر رہے تھے۔ ایک طرف وہ دیکھتے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کی بےداغ سیرتیں ہیں جن کی طہارت و پاکیزگی اور مضبوطی دلوں کو مسخر کرتی چلی جا رہی ہے۔ اور دوسری طرف انہیں صاف نظر آ رہا تھا کہ انفرادی و اجتماعی اخلاق کی طہارت نے مسلمانوں کے اندر کمال درجے کا اتحاد اور نظم و ضبط بھی پیدا کردیا ہے جس کے سامنے مشرکین اور یہود کا ڈھیلا نظام جماعت امن اور جنگ دونوں حالتوں میں شکست کھاتا چلا جاتا ہے۔ کمینہ خصلت لوگوں کا خاصہ ہوتا ہے کہ جب وہ دوسرے کی خوبیاں اور اپنی کمزوریاں صریح طور پر دیکھ لیتے ہیں، اور یہ بھی جان لیتے ہیں کہ اس کی خوبیاں اسے بڑھا رہی ہیں اور ان کی اپنی کمزوریاں انہیں گرا رہی ہیں، تو انہیں یہ فکر لاحق نہیں ہوتی کہ اپنی کمزوریاں دور کریں اور اس کی خوبیاں اخذ کریں، بلکہ وہ اس فکر میں لگ جاتے ہیں کہ جس طرح بھی ہو سکے اس کے اندر بھی اپنے ہی جیسی برائیاں پیدا کردیں، اور یہ نہ ہو سکے تو کم از کم اس کے اوپر خوب گندگی اچھالیں تاکہ دنیا کو اس کی خوبیاں بےداغ نظر نہ آئیں۔ یہی ذہنیت تھی جس نے اس مرحلے پر دشمانان اسلام کی سرگرمیوں کا رخ جنگی کارروائیوں سے ہٹا کر رذیلانہ حملوں اور داخلی فتنہ انگیزیوں کی طرف پھیر دیا۔ اور چونکہ یہ خدمت باہر کے دشمنوں کی بہ نسبت خود مسلمانوں کے اندر کے منافقین زیادہ اچھی طرح انجام دے سکتے تھے، اس لیے بالارادہ یا بلا ارادہ طریق کار یہ قرار پایا کہ مدینہ کے منافقین اندر سے فتنے اٹھائیں اور یہود و مشرکین باہر سے ان کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ اس نئی تدبیر کا پہلا ظہور ذی القعدہ 5 ھ میں ہوا جبکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرب سے تَبْنِیَت (دوسرے کے بیٹے کو اپنا بیٹا بنانا اور خاندان میں اسے بالکل صلبی بیٹے کی حیثیت دے دینا۔ ) کی جاہلانہ رسم کا خاتمہ کرنے کے لیے خود اپنے متبنیٰ (زیدرضی اللہ عنہ بن حارثہ) کی مطَلَّقہ بیوی (زینب (رض) بنت حجش) سے نکاح کیا۔ اس موقع پر مدینے کے منافقین پروپیگنڈا کا ایک طوفان عظیم لے کر اٹھ کھڑے ہوئے اور باہر سے یہود و مشرکین نے بھی ان کی آواز میں آواز ملا کر افترا پردازیاں شروع کردیں۔ انہوں نے عجیب عجیب قصے گھڑ گھڑ کر پھیلا دیے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس طرح اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی کو دیکھ کر اس پر عاشق ہوگئے، اور کس طرح بیٹے کو ان کی عشق کا علم ہوا اور وہ طلاق دے کر بیوی سے دست بردار ہوگیا، اور پھر کس طرح انہوں نے خود اپنی بہو سے بیاہ کرلیا۔ یہ قصے اس کثرت سے پھیلائے گئے کہ مسلمان تک ان کے اثرات سے نہ بچ سکے۔ چناچہ محدثین اور مفسرین کے ایک گروہ نے حضرت زینب (رض) اور زید کے متعلق جو روایتیں نقل کی ہیں ان میں آج تک ان من گھڑت قصوں کے اجزا پائے جاتے ہیں اور مستشرقین مغرب ان کو خوب نمک مرچ لگا کر اپنی کتابوں میں پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ حضرت زینب (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حقیقی پھوپھی (اُمَیمہ بنت عبدالمطلب) کی صاحبزادی تھیں بچپن سے جوانی تک ان کی ساری عمر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں کے سامنے گزری تھی، ان کو اتفاقاً ایک روز دیکھ لینے اور معاذ اللہ ان پر عاشق ہوجانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر اس واقعہ سے ایک ہی سال پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود ان کو مجبور کر کے حضرت زید سے ان کی شادی کی تھی۔ ان کے بھائی عبداللہ بن جحش اس شادی سے ناراض تھے۔ خود حضرت زینب (رض) اس پر راضی نہ تھیں، کیونکہ ایک آزاد کردہ غلام کی بیوی بننا قریش کے شریف ترین گھرانے کی بیٹی طبعاً قبول نہ کرسکتی تھی۔ مگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف اس لیے کہ مسلمانوں میں معاشرتی مساوات قائم کرنے کی ابتدا خود اپنے خاندان سے کریں، انہیں حکماً اس پر راضی کیا تھا۔ یہ ساری باتیں دوست اور دشمن سب کو معلوم تھیں، اور یہ بھی کسی سے چھپا ہوا نہ تھا کہ حضرت زینب کا احساس فخر نسبی ہی وہ اصل وجہ تھی جس کی بنا پر ان کا اور زید بن حارثہ کا نباہ نہ ہوسکا اور آخر کار طلاق تک نوبت پہنچی۔ مگر اس کے باوجود بےشرم افترا پردازوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بدترین اخلاقی الزامات لگائے اور ان کو اس کثرت سے رواج دیا کہ آج تک انکا یہ پروپیگنڈا اپنا رنگ دکھا رہا ہے۔ اس کے بعد دوسرا حملہ غزوہ بنی الصطلِق کے موقع پر کیا گیا، اور یہ پہلے سے بھی زیادہ سخت تھا۔ بنی المصطلق قبیلہ بنی خزاعہ کی ایک شاخ تھی جو ساحل بحر احمر پر جدے اور رابع کے درمیان قدید کے علاقے میں رہتی تھی۔ اس کے چشمے کا نام مریسیع تھا جس کے آس پاس اس قبیلے کے لوگ آباد تھے۔ اس مناسبت سے احادیث میں اس مہم کا نام غزوہ مُرَیسیع بھی آیا ہے۔ نقشے سے اس کی صحیح جائے وقوع معلوم ہو سکتی ہے۔ شعبان 6 ھ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع ملی کہ یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاریاں کر رہے ہیں اور دوسرے قبائل کو بھی جمع کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ اطلاع پاتے ہی آپ ایک لشکر لے کر ان کی طرف روانہ ہوگئے تاکہ فتنے کے سر اٹھانے سے پہلے ہی اسے کچل دیا جائے۔ اس مہم میں عبد اللہ بن ابی بھی منافقوں کی ایک بڑی تعداد لے کر آپ کے ساتھ ہوگیا۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ اس سے پہلے کسی جنگ میں منافقین اس کثرت سے شامل نہ ہوئے تھے۔ مریسیع کے مقام پر آنحضرت نے اچانک دشمن کو جالیا۔ اور تھوڑی سی رد و خورد کے بعد پورے قبیلے کو مال اسباب سمیت گرفتار کرلیا۔ اس مہم سے فارغ ہو کر بھی مریسیع ہی پر لشکر اسلام پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا کہ ایک روز حضرت عمر (رض) کے ایک ملازم (جَہْجَاہ بن مسعود غفاری) اور قبیلہ خزرج کے ایک حلیف (سِنَان بن دبر جُہنِی) کے درمیان پانی پر جھگڑا ہوگیا۔ ایک نے انصار کو پکارا۔ دوسرے نے مہاجرین کو آواز دی۔ لوگ دونوں طرف سے جمع ہوگئے اور معاملہ رفع دفع کردیا گیا۔ لیکن عبداللہ بن ابی نے جو انصار قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتا تھا، بات کا بتنگڑ بنادیا۔ اس نے انصار کو یہ کہہ کہہ کر بھڑکانا شروع کیا کہ " یہ مہاجرین ہم پر ٹوٹ پڑے ہیں اور ہمارے حریف بن بیٹھے ہیں۔ ہماری اور ان قریشی کنگلوں کی مثال ایسی ہے کہ کتے کو پال تاکہ تجھی کو بھنبھوڑ کھائے۔ یہ سب کچھ تمہارا اپنا کیا دھرا ہے۔ تم لوگوں نے خود ہی انہیں لا کر اپنے ہاں بسایا ہے اور ان کو اپنے مال و جائیداد میں حصہ دار بنایا ہے۔ آج اگر تم ان سے ہاتھ کھینچ لو تو یہ چلتے پھرتے نظر آئیں "۔ پھر اس نے قسم کھا کر کہا کہ " مدینے واپس پہنچنے کے بعد جو ہم میں سے عزت والا ہے وہ ذلیل لوگوں کو نکال باہر کر دے ( سورة منافقون میں اللہ تعالیٰ نے خود اس کا یہ قول نقل فرمایا ہے) گا "۔ اس کی ان باتوں کی اطلاع جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی تو حضرت عمر (رض) نے مشورہ دیا کہ اس شخص کو قتل کرا دینا چاہیے۔ مگر حضور نے فرمایا : فکیف یا عمر اذا تحدث الناس ان محمدا یقتل اصحابہ (عمر، دنیا کیا کہے گی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر رہا ہے ) ۔ پھر آپ نے فوراً ہی اس مقام سے کوچ کا حکم دے دیا اور دوسرے دن دوپہر تک کسی جگہ پڑاؤ نہ کیا، تاکہ لوگ خوب تھک جائیں اور کسی کو بیٹھ کر چہ میگوئیاں کرنے اور سننے کی مہلت نہ ملے۔ راستے میں اسید بن حضیر نے عرض کیا " یا نبی اللہ، آج آپ نے اپنے معمول کے خلاف نا وقت کوچ کا حکم دے دیا ؟ " آپ نے جواب دیا۔ " تم نے سنا نہیں کہ تمہارے صاحب نے کیا باتیں کی ہیں "۔ انہوں نے پوچھا " کون صاحب ؟ " آپ نے فرمایا " عبد اللہ بن ابی "۔ انہوں نے عرض کیا " یا رسول اللہ، اس شخص سے رعایت فرمائیے، آپ جب مدینے تشریف لائے ہیں تو ہم لوگ اسے اپنا بادشاہ بنانے کا فیصلہ کرچکے تھے اور اس کے لیے تاج تیار ہو رہا تھا۔ آپ کی آمد سے اس کا بنا بنایا کھیل بگڑ گیا۔ اسی کی جلن وہ نکال رہا ہے "۔ یہ شوشہ ابھی تازہ ہی تھا کہ اسی سفر میں اس نے ایک اور خطرناک فتنہ اٹھا دیا، اور فتنہ بھی ایسا کہ اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جاں نثار صحابہ کمال درجہ ضبط و تحمل اور حکمت و دانائی سے کام نہ لیتے تو مدینے کی نو خیز مسلم سوسائٹی میں سخت خانہ جنگی بر پا ہوجاتی۔ یہ حضرت عائشہ پر تہمت کا فتنہ تھا۔ اس کا واقعہ خود ان ہی کی زبان سے سنیے جس سے پوری صورت حال سامنے آجائے گی۔ بیچ بیچ میں جو امور تشریح طلب ہوں گے انہیں ہم دوسری معتبر روایات کی مدد سے قوسین میں بڑھاتے جائیں گے تاکہ جناب صدیقہ کے تسلسل بیان میں خلل نہ واقعہ ہو۔ فرماتی ہیں : " رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قاعدہ تھا کہ جب آپ سفر پر جانے لگتے تو قرعہ ڈال کر فیصلہ فرماتے کہ آپ کی بیویوں میں سے کون آپ کے ساتھ جائے (اس قرعہ اندازی کی نوعیت لاٹری کی سی نہ تھی۔ دراصل تمام بیویوں کے حقوق برابر کے تھے۔ ان میں سے کسی کو کسی پر ترجیح دینے کی کوئی معقول وجہ نہ تھی۔ اب اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود کسی کو انتخاب کرتے تو دوسری بیویوں کی دل شکنی ہوتی، اور ان میں باہم رشک و رقابت پیدا ہونے کے لیے بھی یہ ایک محرک بن جاتا۔ اس لیے آپ قرعہ اندازی سے اس کا فیصلہ فرماتے تھے۔ شریعت میں قرعہ اندازی ایسی ہی سورتوں کے لیے ہے جبکہ چند آدمیوں کا جائز حق بالکل برابر ہو، اور کسی کو کسی پر ترجیح دینے کے لیے کوئی معقول وجہ موجود نہ ہو، مگر حق کسی ایک ہی کو دیا جاسکتا ہو۔ ) غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر قرعہ میرے نام نکلا اور میں آپ کے ساتھ گئی۔ واپسی پر جب ہم مدینے کے قریب تھے، ایک منزل پر رات کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑاؤ کیا، اور ابھی رات کا کچھ حصہ باقی تھا کہ کوچ کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ میں اٹھ کر رفع حاجت کے لیے گئی، اور جب پلٹنے لگی تو قیام گاہ کے قریب پہنچ کر مجھے محسوس ہوا کہ میرے گلے کا ہار ٹوٹ کر کہیں گر پڑا ہے۔ میں اسے تلاش کرنے میں لگ گئی، اور اتنے میں قافلہ روانہ ہوگیا۔ قاعدہ یہ تھا کہ میں کوچ کے وقت اپنے ہودے میں بیٹھ جاتی تھی اور چار آدمی اسے اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے تھے۔ ہم عورتیں اس زمانے میں غذا کی کمی کے سبب سے بہت ہلکی پھلکی تھیں۔ میرا ہودہ اٹھاتے وقت لوگوں کو یہ محسوس ہی نہ ہوا کہ میں اس میں نہیں ہوں۔ وہ بیخبر ی میں خالی ہودہ اونٹ پر رکھ کر روانہ ہوگئے۔ میں جب ہار لے کر پلٹی تو وہاں کوئی نہ تھا۔ آخر اپنی چادر اوڑھ کر وہیں لیٹ گئی اور دل میں سوچ لیا کہ آگے جا کر جب یہ لوگ مجھے نہ پائیں گے تو خود ہی ڈھونڈتے ہوئے آجائیں گے۔ اسی حالت میں مجھ کو نیند آگئی۔ صبح کے وقت سفوان بن معطل سُلَمِی اس جگہ سے گزرے جہاں میں سو رہی تھی اور مجھے دیکھتے ہی پہچان گئے، کیونکہ پردے کا حکم آنے سے پہلے وہ مجھے بارہا دیکھ چکے تھے۔ (یہ صاحب بدری صحابیوں میں سے تھے۔ ان کو صبح دیر تک سونے کی عادت [ ابوداؤد اور دوسری کتب سنن میں یہ ذکر آتا ہے کہ ان کی بیوی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی شکایت کی تھی کہ یہ کبھی صبح کی نماز وقت پر نہیں پڑھتے۔ انہوں نے عذر پیش کیا کہ یا رسول اللہ یہ میرا خاندانی عیب ہے، دیر تک سوتے رہنے کی اس کمزوری کو میں کسی طرح دور نہیں کرسکتا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ اچھا جب آنکھ کھلے نماز ادا کرلیا کرو۔ بعض محدثین نے ان کے قافلے سے پیچھے رہ جانے کی وجہ بیان کی ہے۔ مگر بعض دوسرے محدثین اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس خدمت پر مقرر کیا تھا کہ رات کے اندھیرے میں کوچ کرنے کی وجہ سے اگر کسی کی کوئی چیز چھوٹ گئی ہو تو صبح اسے تلاش کر کے لیتے آئیں ] تھی، اس لیے یہ بھی لشکر گاہ میں کہیں پڑے سوتے رہ گئے تھے اور اب اٹھ کر مدینے جا رہے تھے) مجھے دیکھ کر انہوں نے اونٹ روک لیا اور بےساختہ ان کی زبان سے نکلا " اِنَّا للہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی یہیں رہ گئیں "۔ اس آواز سے میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اٹھ کر فوراً اپنے منہ پر چادر ڈال لی۔ انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہ کی، لا کر اپنا اونٹ میرے پاس بٹھا دیا اور الگ ہٹ کر کھڑے ہوگئے۔ میں اونٹ پر سوار ہوگئی اور وہ نکیل پکڑ کر روانہ ہوگئے۔ دوپہر کے قریب ہم نے لشکر کو جالیا جبکہ وہ ابھی ایک جگہ جا کر ٹھہرا ہی تھا اور لشکر والوں کو ابھی یہ پتہ نہ چلا تھا کہ میں پیچھے چھوٹ گئی ہوں۔ اس پر بہتان اٹھانے والوں نے بہتان اٹھا دیے اور ان میں سب سے پیش پیش عبداللہ بن ابی تھا۔ مگر میں اس سے بیخبر تھی کہ مجھ پر کیا باتیں بن رہی ہیں۔ (دوسری روایات میں آیا ہے کہ جس وقت صفوان کے اونٹ پر حضرت عائشہ لشکر گاہ میں پہنچیں اور معلوم ہوا کہ آپ اس طرح پیچھے چھوٹ گئی تھیں اسی وقت عبداللہ بن ابی پکارا اٹھا کہ " خدا کی قسم یہ بچ کر نہیں آئی ہے، لو دیکھو، تمہارے نبی کی بیوی نے رات ایک اور شخص کے ساتھ گزاری اور اب وہ اسے علانیہ لیے چلا آ رہا ہے " ) " مدینے پہنچ کر میں بیمار ہوگئی اور ایک مہینے کے قریب پلنگ پر پڑی رہی۔ شہر میں اس بہتان کی خبریں اڑ رہی تھیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کانوں تک بھی بات پہنچ چکی تھی، مگر مجھے کچھ پتہ نہ تھا۔ البتہ جو چیز مجھے کھٹکتی تھی وہ یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ توجہ میری طرف نہ تھی جو بیماری کے زمانے میں ہوا کرتی تھی۔ آپ گھر میں آتے تو بس گھر والوں سے یہ پوچھ کر رہ جاتے : کیف تیکم (کیسی ہیں یہ ؟ ) ۔ خود مجھ سے کوئی کلام نہ کرتے۔ اس سے مجھے شبہ ہوتا کہ کوئی بات ہے ضرور۔ آخر آپ سے اجازت لے کر میں اپنی ماں کے گھر چلی گئی تاکہ وہ میری تیمارداری اچھی طرح کرسکیں۔ ایک روز رات کے وقت حاجت کے لیے میں مدینے کے باہر گئی۔ اس وقت تک ہمارے گھروں میں یہ بیت الخلا نہ تھے اور ہم لوگ جنگل ہی جایا کرتے تھے۔ میرے ساتھ مِسْطَح بن اثاثہ کی ماں بھی تھیں جو میرے والد کی خالہ زاد بہن تھیں۔ (دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پورے خاندان کی کفالت حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اپنے ذمے لے رکھی تھی، مگر اس احسان کے باوجود مسطح بھی ان لوگوں میں شریک ہوگئے تھے جو حضرت عائشہ کے خلاف اس بہتان کو پھیلا رہے تھے ) ۔ راستے میں ان کو ٹھوکر لگی اور بےساختہ ان کی زبان سے نکلا غارت ہو مسطح۔ میں نے کہا اچھی ماں ہو جو بیٹے کو کو ستی ہو، اور بیٹا بھی وہ جس نے جنگ بدر میں حصہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا " بٹیا، کیا تجھے اس کی باتوں کی کچھ خبر نہیں ؟ پھر انہوں نے سارا قصہ سنایا کہ افتا پرداز لوگ میرے متعلق کیا باتیں اڑا رہے ہیں۔ (منافقین کے سوا خود مسلمانوں میں سے جو لوگ اس فتنے میں شامل ہوگئے تھے ان میں مسطح، حسَّان بن ثابت مشہور شاعر السلام، اور حمنہ بنت جحش، حضرت زینب کی بہن کا حصہ سب سے نمایاں تھا) ۔ یہ داستان سن کر میرا خون خشک ہوگیا، وہ حاجت بھی بھول گئی جس کے لیے آئی تھی، سیدھی گھر گئی اور رات بھر رو رو کر کاٹی "۔ آگے چل کر حضرت عائشہ فرماتی ہیں، " میرے پیچھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی (رض) اور اسامہ بن زید کو بلایا اور ان سے مشورہ طلب کیا۔ اسامہ نے میرے حق میں کلمہ خیر کہا اور عرض کیا " یا رسول اللہ، بھلائی کے سوا آپ کی بیوی میں کوئی چیز ہم نے نہیں پائی۔ یہ سب کچھ کذب اور باطل ہے جو اڑایا جا رہا ہے "۔ رہے علی (رض) تو انہوں نے کہا " یا رسول اللہ عورتوں کی کمی نہیں ہے، آپ اس کی جگہ دوسری بیوی کرسکتے ہیں، اور تحقیق کرنا چاہیں تو خدمت کار لونڈی کو بلا کر حالات دریافت فرمائیں "۔ چناچہ خدمت گار کو بلایا گیا اور پوچھ گچھ کی گئی۔ اس نے کہا " اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے ان میں کوئی برائی نہیں دیکھی جس پر حرف رکھا جاسکے۔ بس اتنا عیب ہے کہ میں آٹا گوندھ کر کسی کام کو جاتی ہوں اور کہہ جاتی ہوں کہ بیوی ذرا آٹے کا خیال رکھنا، مگر وہ سو جاتی ہیں اور بکری آ کر آٹا کھا جاتی ہے "۔ اسی روز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ میں فرمایا " مسلمانو ! کون ہے جو اس شخص کے حملوں سے میری عزت بچائے جس نے میرے گھر والوں پر الزامات لگا کر مجھے اذیت پہنچانے کی حد کردی ہے۔ بخدا میں نے نہ تو اپنی بیوی ہی میں کوئی برائی دیکھی ہے، اور نہ اس شخص میں جس کے متعلق تہمت لگائی جاتی ہے۔ وہ تو کبھی میری غیر موجودگی میں میرے گھر آیا بھی نہیں "۔ اس پر اسید بن حضیر (بعض روایات میں سعد بن معاذ) (غالباً اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ نے نام لینے کے بجائے سید اوس کے الفاظ استعمال فرمائے ہوں گے کسی راوی نے اس سے مراد حضرت معاذ کو سمجھ لیا، کیونکہ اپنی زندگی میں وہی قبیلہ اوس کے سردار تھے اور تاریخ میں وہی اس حیثیت سے زیادہ مشہور ہیں۔ حالانکہ دراصل اس واقعہ کے وقت ان کے چچا زاد بھائی اسید بن حضیر اوس کے سردار تھے) نے اٹھ کر کہا " یا رسول اللہ، اگر وہ ہمارے قبیلے کا آدمی ہے تو ہم اس کی گردن مار دیں، اور اگر ہمارے بھائی خزرجیوں میں سے ہے تو آپ حکم دیں، ہم تعمیل کے لیے حاضر ہیں "۔ یہ سنتے ہی سعد بن عبادہ، رئیس خَزْرَج اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے " جھوٹ کہتے ہو، تم ہرگز اسے نہیں مار سکتے۔ تم اس کی گردن مارنے کا نام صرف اس لیے لے رہے ہو کہ وہ خزرج میں سے ہے۔ اگر وہ تمہارے قبیلے کا آدمی ہوتا تو تم کبھی یہ نہ کہتے کہ ہم اس کی گردن مار دیں (حضرت سعد بن عبادہ اگرچہ نہایت صالح اور مخلص مسلمانوں میں سے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گہری عقیدت و محبت رکھتے تھے، اور مدینے میں جن لوگوں کے ذریعہ سے اسلام پھیلا تھا ان میں ایک نمایاں شخص وہ بھی تھے، لیکن ان سب خوبیوں کے باوجود ان کے اندر قومی حمیت [ اور عرب میں اس وقت قوم کے معنی قبیلے کے تھے ] بہت زیادہ تھی۔ اسی وجہ سے انہوں نے عبداللہ بن ابی کی پشت پناہی کی، کیونکہ وہ ان کے قبیلے کا آدمی تھا۔ اسی وجہ سے فتح مکہ کے موقع پر ان کی زبان سے یہ فقرہ نکل گیا کہ " الیوم یوم الملحمہ، الیوم تستحل الحرمہ " آج کشت و خون کا دن ہے۔ آج یہاں کی حرمت حلال کی جائے گی "، اور اس پر عتاب فرما کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے لشکر کا جھنڈا واپس لے لیا۔ پھر آخر کار یہی وہ سبب تھا جس کی وجہ سے انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں یہ دعویٰ کیا کہ خلافت انصار کا حق ہے، اور جب ان کی بات نہ چلی اور انصار و مہاجرین سب نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کرلی تو تنہا وہی ایک تھے جنہوں نے بیعت سے انکار کردیا اور مرتے دم تک قریشی خلیفہ کی خلافت تسلیم نہ کی [ ملاحظہ ہو الاصابہ لابن حجر، اور الاستیعاب لا بن بعدالبر، ذکر سعد بن عبادہ۔ صفحہ 10 ۔ 11]) گے "۔ اسید بن حضیر نے جواب میں کہا " تم منافق ہو اسی لیے منافقوں کی حمایت کرتے ہو "۔ اس پر مسجد نبوی میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا، حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف رکھتے تھے۔ قریب تھا کہ اوس اور خزرج مسجد ہی میں لڑ پڑتے، مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ٹھنڈا کیا اور پھر منبر سے اتر آئے "۔ حضرت عائشہ کے قصے کی باقی تفصیلات ہم اثنائے تفسیر میں اس جگہ نقل کریں گے جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی برأت نازل ہوئی ہے۔ یہاں جو کچھ بتانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ عبداللہ بن ابی نے یہ شوشہ چھوڑ کر بیک وقت کئی شکار کرنے کی کوشش کی۔ ایک طرف اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر صدیق کی عزت پر حملہ کیا۔ دوسری طرف اس نے اسلامی تحریک کے بلند ترین اخلاقی وقار کو گرانے کی کوشش کی۔ تیسری طرف اس نے یہ ایک ایسی چنگاری پھینکی تھی کہ اگر اسلام اپنے پیروؤں کی کایا نہ پلٹ چکا ہوتا تو مہاجرین اور انصار، اور خود انصار کے بھی دونوں قبیلے آپس میں لڑ مرتے۔

موضوع اور مباحث

یہ تھے وہ حالات جن میں پہلے حملے کے موقع پر سورة احزاب کے آخری 6 رکوع نازل ہوئے اور دوسرے حملے کے موقع پر یہ سورة نور اتری۔ اس پس منظر کو نگاہ میں رکھ کر ان دونوں سورتوں کا ترتیب وار مطالعہ کیا جائے تو وہ حکمت اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے جو ان کے احکام میں مضمر ہے۔ منافقین مسلمانوں کو اس میدان میں شکست دینا چاہتے تھے جو ان کے تفوق کا اصل میدان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے، بجائے اس کے کہ وہاں کے اخلاقی حملوں پر ایک غضبناک تقریر فرماتا، یا مسلمانوں کو جوابی حملے کرنے پر اکساتا، تمام تر توجہ مسلمانوں کو یہ تعلیم دینے پر صرف فرمائی کہ تمہارے اخلاقی محاذ میں جہاں جہاں رخنے موجود ہیں ان کو بھرو اور اس محاذ کو اور زیادہ مضبوط کرلو۔ ابھی آپ دیکھ چکے ہیں کہ نکاح زینب کے موقع پر منافقین اور کفار نے کیا طوفان اٹھایا تھا۔ اب ذرا سورة احزاب نکال کر پڑھیے، وہاں آپ دیکھیں گے کہ ٹھیک اسی طوفان کا زمانہ تھا جبکہ معاشرتی اصلاح کے متعلق حسب ذیل ہدایات دی گئیں : 1 ۔ ازواج مطہرات کو حکم دیا گیا کہ اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ بیٹھو، بناؤ سنگھار کر کے باہر نہ نکلو، اور غیر مردوں سے گفتگو کرنے کا اتفاق ہو تو دبی زبان سے بات نہ کرو کہ کوئی شخص بےجا توقعات قائم کرے (آیات 32 ۔ 33) 2 ۔ حضور کے گھروں میں غیر مردوں کے بلا اجازت داخل ہوجانے کو روک دیا گیا، اور ہدایت کی گئی کہ ازواج مطہرات سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔ (آیت 53 ) ۔ 3 ۔ غیر محرم مردوں اور محرم رشتہ داروں کے درمیان فرق قائم کیا گیا اور حکم دیا گیا کہ ازواج مطہرات کے صرف محرم رشتہ دار ہی آزادی کے ساتھ آپ کے گھروں میں آ جاسکتے ہیں۔ (آیت 55) ۔ 4 ۔ مسلمانوں کو بتایا گیا کہ نبی کی بیویاں تمہاری مائیں ہیں اور ٹھیک اسی طرح ایک مسلمان کے لیے ابداً حرام ہیں جس طرح اس کی حقیقی ماں ہوتی ہے۔ اس لیے ان کے بارے میں ہر مسلمان اپنی نیت کو بالکل پاک رکھے۔ (آیت 53 ۔ 54 ) ۔ 5 ۔ مسلمانوں کو متنبہ کردیا گیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت دینا دنیا اور آخرت میں خدا کی لعنت اور رسوا کن عذاب کا موجب ہے، اور اسی طرح کسی مسلمان کی عزت پر حملہ کرنا اور اس پر ناحق الزام لگانا بھی سخت گناہ ہے (آیت 57 ۔ 58) 6 ۔ تمام مسلمان عورتوں کو حکم دے دیا گیا کہ جب باہر نکلنے کی ضرورت پیش آئے تو چادروں سے اپنے آپ کو اچھی طرح ڈھانک کر اور گھونگھٹ ڈال کر نکلا کریں (آیت 59) ۔ پھر جب واقعہ افک سے مدینے کے معاشرے میں ایک ہلچل برپا ہوئی تو یہ سورة نور اخلاق، معاشرت اور قانون کے ایسے احکام و ہدایات کے ساتھ نازل فرمائی گئی جن کا مقصد یہ تھا کہ اول تو مسلم معاشرے کو برائیوں کی پیداوار اور ان کے پھیلاؤ سے محفوظ رکھا جائے، اور اگر وہ پیدا ہو ہی جائیں تو پھر ان کا پورا پورا تدارک کیا جائے۔ ان احکام و ہدایات کو ہم اسی ترتیب کے ساتھ یہاں خلاصۃً درج کرتے ہیں جس کے ساتھ وہ اس سورے میں نازل ہوئے ہیں۔ تاکہ پڑھنے والے اندازہ کرسکیں کہ قرآن ٹھیک نفسیاتی موقع پر انسانی زندگی کی اصلاح و تعمیر کے لیے کس طرح قانونی، اخلاقی، اور معاشرتی تدبیر بیک وقت تجویز کرتا ہے : 1) ۔ زنا، جسے معاشرتی جرم پہلے ہی قرار دیا جا چکا تھا ( سورة نساء، آیات 15 ۔ 16 ) ، اب اس کو فوجداری جرم قرار دے کر اس کی سزا سو 100 کوڑے مقرر کردی گئی۔ 2 ) ۔ بدکار مردوں اور عورتوں سے معاشرتی مقاطعے کا حکم دیا گیا اور ان کے ساتھ رشتہ مناکحت جوڑنے سے اہل ایمان کو منع کردیا گیا۔ 3 ) ۔ جو شخص دوسرے پر زنا کا الزام لگائے اور پھر ثبوت میں چار گواہ نہ پیش کرسکے، اس کے لیے 80 کوڑوں کی سزا مقرر کی گئی۔ 4) ۔ شوہر اگر بیوی پر تہمت لگائے تو اس کے لیے لعان کا قاعدہ مقرر کیا گیا۔ 5) ۔ حضرت عائشہ پر منافقین کے جھوٹے الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ ہدایت کی گئی کہ آنکھیں بند کر کے ہر شریف آدمی کے خلاف ہر قسم کی تہمتیں قبول نہ کرلیا کرو، اور نہ ان کو پھیلاتے پھرو۔ اس طرح کی افواہیں اگر اڑ رہی ہوں تو انہیں دبانا اور ان کا سد باب کرنا چاہیے، نہ یہ ایک منہ سے لے کر دوسرا منہ اسے آگے پھونکنا شروع کر دے۔ اسی سلسلے میں یہ بات ایک اصولی حقیقت کے طور پر سمجھائی گئی کہ طیب آدمی کا جوڑ طیب عورت سے ہی لگ سکتا ہے، خبیث عورت کے اطوار سے اس کا مزاج چند روز بھی موافقت نہیں کرسکتا۔ اور ایسا ہی حال طیب عورت کا بھی ہوتا ہے کہ اس کی روح طیب مرد ہی سے موافقت کرسکتی ہے نہ کہ خبیث سے۔ اب اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تم جانتے ہو کہ وہ ایک طیب، بلکہ اطیب انسان ہیں تو کس طرح یہ بات تمہاری عقل میں سما گئی کہ ایک خبیث عورت ان کی محبوب ترین رفیقہ حیات بن سکتی تھی۔ جو عورت عملاً زنا تک کر گزرے اس کے عام اطوار کب ایسے ہو سکتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسا پاکیزہ انسان اس کے ساتھ یوں نباہ کرے۔ پس صرف یہ بات کہ ایک کمینہ آدمی نے ایک بیہودہ الزام کسی پر لگا دیا ہے، اسے قابل قبول کیا معنی قابل توجہ اور ممکن الوقوع سمجھ لینے کے لیے بھی کافی نہیں ہے۔ آنکھیں کھول کر دیکھو کہ الزام لگانے والا ہے کون اور الزام لگا کس پر رہا ہے۔ 6) ۔ جو لوگ بےہودہ خبریں اور بری افواہیں پھیلائیں اور مسلم معاشرے میں فحش اور فواحش کو رواج دینے کی کوشش کریں، ان کے متعلق بتایا گیا کہ وہ ہمت افزائی کے نہیں بلکہ سزا کے مستحق ہیں۔ 7) ۔ یہ قاعدہ کلیہ مقرر کیا گیا کہ مسلم معاشرے میں اجتماعی تعلقات کی بنیاد باہمی حسن ظن پر ہونی چاہیے۔ ہر شخص بےگناہ سمجھا جائے جب تک کہ اس کے گنہگار ہونے کا ثبوت نہ ملے۔ نہ یہ کہ ہر شخص گناہ گار سمجھا جائے جب تک کہ اس کا بےگناہ ہونا ثابت نہ ہوجائے۔ 8) ۔ لوگوں کو عام ہدایت کی گئی کہ ایک دوسرے کے گھروں میں بےتکلف نہ گھس جایا کریں بلکہ اجازت لے کر جائیں۔ 9) عورتوں اور مردوں کو غضِّ بصر کا حکم دیا گیا اور ایک دوسرے کو گھورنے یا جھانک تاک کرنے سے منع کردیا گیا۔ 10) ۔ عورتوں کو حکم دیا گیا کہ اپنے گھروں میں سر اور سینہ ڈھانک کر رکھیں۔ 11) عورتوں کو یہ بھی حکم دیا گیا کہ اپنے محرم رشتہ داروں اور گھر کے خادموں کے سوا کسی کے سامنے بن سنور کر نہ آئیں۔ 12) ۔ ان کو یہ بھی حکم دیا گیا کہ باہر نکلیں تو نہ صرف یہ کہ اپنے بناؤ سنگھار کو چھپا کر نکلیں، بلکہ بجنے والے زیور بھی پہن کر نہ نکلیں۔ 13) معاشرے میں عورتوں اور مردوں کے بن بیا ہے بیٹھے رہنے کا طریقہ ناپسندیدہ قرار دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ غیر شادی شدہ لوگوں کے نکاح کیے جائیں، حتّیٰ کہ لونڈیوں اور غلاموں کو بھی بن بیاہا نہ رہنے دیا جائے۔ اس لیے کہ تجرد فحش آفریں بھی ہوتا ہے اور فحش پذیر بھی۔ مجرد لوگ اور کچھ نہیں تو بری خبریں سننے اور پھیلانے ہی میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔ 14 ) ۔ لونڈیوں ور غلاموں کی آزادی کے لیے مکاتبت کی راہ نکال دی گئی اور مالکوں کے علاوہ دوسروں کو بھی حکم دیا گیا کہ مکاتب غلاموں اور لونڈیوں کی مالی مدد کریں۔ 15) ۔ لونڈیوں سے کسب کرانا ممنوع قرار دیا گیا۔ عرب میں یہ پیشہ لونڈیوں ہی سے کرانے کا رواج تھا، اس لیے اس کی ممانعت دراصل قحبہ گری کی قانونی بندش تھی۔ 16) گھریلو معاشرت میں خانگی ملازموں اور نابالغ بچوں کے لیے یہ قاعدہ مقرر کیا گیا کہ وہ خلوت کے اوقات میں (یعنی صبح، دوپہر اور رات کے وقت) گھر کے کسی مرد یا عورت کے کمرے میں اچانک نہ گھس جایا کریں۔ اولاد تک کو اجازت لے کر آنے کی عادت ڈالی جائے۔ 17) ۔ بوڑھی عورتوں کو یہ رعایت دی گئی کہ اگر وہ اپنے گھر میں سر سے اوڑھنی اتار کر رکھ دیں تو مضائقہ نہیں، مگر حکم دیا گیا کہ تَبَرُّج (بن ٹھن کر اپنے آپ کو دکھانے) سے بچیں۔ نیز انہیں نصیحت کی گئی کہ بڑھاپے میں بھی اگر وہ اوڑھنیاں اپنے اوپر ڈالے ہی رہیں تو بہتر ہے۔ 18) اندھے، لنگڑے، لولے، اور بیمار کو یہ رعایت دی گئی کہ وہ کھانے کی کوئی چیز کسی کے ہاں سے بلا اجازت کھالے تو اس کا شمار چوری اور خیانت میں نہ ہوگا۔ اس پر کوئی گرفت نہ کی جائے۔ 19) ۔ قریبی عزیزوں اور بےتکلف دوستوں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ ایک دوسرے کے ہاں بلا اجازت بھی کھا سکتے ہیں، اور یہ ایسا ہی ہے جیسے وہ اپنے گھر میں کھا سکتے ہیں۔ اس طرح معاشرے کے افراد کو ایک دوسرے سے قریب تر کردیا گیا ور ان کے درمیان سے بیگانگی کے پردے ہٹا دیے گئے تاکہ آپس کی محبت بڑھے اور باہمی اخلاص کے رابطے ان رخنوں کو بند کردیں جن سے کوئی فتنہ پرداز پھوٹ ڈال سکتا ہو۔ ان ہدایات کے ساتھ ساتھ منافقین اور مومنین اور مومنین کی وہ کھلی کھلی علامتیں بیان کردی گئیں جن سے ہر مسلمان یہ جان سکے کہ معاشرے میں مخلص اہل ایمان کون لوگ ہیں اور منافق کون۔ دوسری طرف مسلمانوں کے جماعتی نظم و ضبط کو اور کس دیا گیا اور اس کے لیے چند مزید ضابطے بنا دیے گئے تاکہ وہ طاقت اور زیادہ مضبوط ہوجائے جس سے غیظ کھا کر کفار و منافقین فساد انگیزیاں کر رہے تھے۔ اس تمام بحث میں نمایاں چیز دیکھنے کی یہ ہے کہ پوری سورة نور اس تلخی سے خالی ہے جو شرمناک اور بیہودہ حملوں کے جواب میں پیدا ہوا کرتی ہے۔ ایک طرف ان حالات کو دیکھیے جن میں یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ اور دوسری طرف سورت کے مضامین اور انداز کلام کو دیکھیے۔ اس قدر اشتعال انگیز صورت حال میں کیسے ٹھنڈے طریقے سے قانون سازی کی جا رہی ہے، مصلحانہ احکام دیے جا رہے ہیں، حکیمانہ ہدایات دی جا رہی ہیں، اور تعلیم و نصیحت کا حق ادا کیا جا رہا ہے۔ اس سے صرف یہی سبق نہیں ملتا کہ ہم کو فتنوں کے مقابلے میں سخت سے سخت اشتعال کے مواقع پر بھی کس طرح ٹھنڈے تدبر اور عالی ظرفی اور حکمت سے کام لینا چاہیے، بلکہ اس سے اس امر کا ثبوت بھی ملتا ہے کہ یہ کلام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنا تصنیف کردہ نہیں ہے، کسی ایسی ہستی کا نازل کیا ہوا ہے جو بہت بلند مقام سے انسانی حالات اور معاملات کا مشاہدہ کر رہی ہے اور اپنی ذات میں ان حالات و معاملات سے غیر متاثر رہ کر خالص ہدایت و رہنمائی کا منصب اد کر رہی ہے۔ اگر یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنا کلام ہوتا تو آپ کی انتہائی بلند نظری کے باوجود اس میں اس فطری تلخی کا کچھ نہ کچھ اثر تو ضرور پایا جاتا جو خود اپنی عزت و ناموس پر کمینہ حملوں کو سن کر ایک شریف آدمی کے جذبات میں لازماً پیدا ہوجایا کرتی ہے۔

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ ایک سُورت ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، اور اسے ہم نے فرض کیا ہے، اور اس میں ہم نے صاف صاف ہدایات نازل کی ہیں، 1 شاید کہ تم سبق لو

سورة النُّوْر 1 ان سب فقروں میں " ہم نے " پر زور ہے۔ یعنی اس کا نازل کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ " ہم " ہیں، اس لیے اسے کسی بےزور ناصح کے کلام کی طرح ایک ہلکی چیز نہ سمجھ بیٹھنا۔ خوب جان لو کہ اس کا نازل کرنے والا وہ ہے جس کے قبضے میں تمہاری جانیں اور قسمتیں ہیں، اور جس کی گرفت سے تم مر کر بھی نہیں چھوٹ سکتے۔ دوسرے فقرے میں بتایا گیا ہے کہ جو باتیں اس سورے میں کہی گئی ہیں وہ " سفارشات " نہیں ہیں کہ آپ کا جی چاہے تو مانیں ورنہ جو کچھ چاہیں کرتے رہیں، بلکہ یہ قطعی احکام ہیں جن کی پیروی کرنا لازم ہے۔ اگر مومن اور مسلم ہو تو تمہارا فرض ہے کہ ان کے مطابق عمل کرو۔ تیسرے فقرے میں بتایا گیا ہے کہ جو ہدایات اس سورے میں دی جا رہی ہیں ان میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ صاف صاف اور کھلی کھلی ہدایات ہیں جن کے متعلق تم یہ عذر نہیں کرسکتے کہ فلاں بات ہماری سمجھ ہی میں نہیں آئی تھی تو ہم عمل کیسے کرتے۔ بس یہ اس فرمان مبارک کی تمہید (Preamble) ہے جس کے بعد احکام شروع ہوجاتے ہیں۔ اس تمہید کا انداز بیان خود بتارہا ہے کہ سورة نور کے احکام کو اللہ تعالیٰ کتنی اہمیت دے کر پیش فرما رہا ہے۔ کسی دوسری احکامی سورت کا دیباچہ اتنا پر زور نہیں ہے۔
Ayah 24:2

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ 2 اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامنگیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ 3 اور ان کو سزا دیتے وقت اہلِ ایمان کا ایک گروہ موجود رہے۔ 4

سورة النُّوْر 2 اس مسئلے کے بہت سے قانون، اخلاقی اور تاریخی پہلو تشریح طلب ہیں جن کو اگر تفصیل کے ساتھ بیان نہ کیا جائے تو موجودہ زمانے میں ایک آدمی کے لیے اس تشریع الہی کا سمجھنا مشکل ہے۔ اس لیے ذیل میں ہم اس کے مختلف پہلوؤں پر سلسلہ وار روشنی ڈالیں گے (1) زنا کا عام مفہوم جس سے ہر شخص واقف ہے، یہ ہے کہ " ایک مرد اور ایک عورت بغیر اس کے کہ ان کے درمیان جائز رشتہ زن و شوہر ہو، باہم مباشرت کا ارتکاب کریں "۔ اس فعل کا اخلاقا برا ہونا، یا مذہبا گناہ ہونا، یا معاشرتی حیثیت سے معیوب اور قابل اعتراض ہونا، ایک ایسی چیز ہے جس پر قدیم ترین زمانے سے آج تک تمام انسانی معاشرے متفق رہے ہیں۔ اور اس میں بجز ان متفرق لوگوں کے جنہوں نے اپنی عقل کو اپنی نفس پرستی کے تابع کردیا ہے، یا جنہوں نے خبطی پن کی اپچ کو فلسفہ طرازی سمجھ رکھا ہے، کسی نے آج تک اختلاف نہیں کیا ہے۔ اس عالمگیر اتفاق رائے کی وجہ یہ ہے کہ انسانی فطرت خود زنا کی حرمت کا تقاضا کرتی ہے۔ نوع انسانی کا بقاء اور انسانی تمدن کا قیام، دونوں اس بات پر منحصر ہیں کہ عورت اور مرد محض لطف اور لذت کے لیے ملنے اور پھر الگ ہوجانے میں آزاد نہ ہوں، بلکہ ہر جوڑے کا باہمی تعلق ایک ایسے مستقل اور پائیدار عہد وفا پر استوار ہو جو معاشرے میں معلوم و معروف بھی ہو اور جسے معاشرے کی ضمانت بھی حاصل ہو، اس کے بغیر انسانی نسل ایک دن کے لیے بھی نہیں چل سکتی، کیونکہ انسان کا بچہ اپنی زندگی اور نشو و نما کے لیے کئی برس کی درد مندانہ نگہداشت اور تربیت کا محتاج ہوتا ہے اور تنہا عورت اس بار کو اٹھانے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ مرد اس کا ساتھ نہ دے جو اس بچے کے جد میں آنے کا سبب بنا ہ۔ اسی طرح اس معاہدے کے بغیر انسانی تمدن بھی برقرار نہیں رہ سکتا، کیونکہ تمدن کی تو پیدائش ہی ایک مرد اور ایک عورت کے مل کر رہنے، ایک گھر اور ایک خاندان وجود میں لانے، اور پھر خاندانوں کے درمیان رشتے اور رابطے پیدا ہونے سے ہے۔ اگر عورت اور مرد گھر اور خاندان کی تخلیق سے قطع نظر کر کے محض لطف و لذت کے لیے آزادانہ ملنے لگیں تو سارے انسان بکھر کر رہ جائیں، اجتماعی زندگی کی جڑ کٹ جائے، اور وہ بنیاد ہی باقی نہ رہے جس پر تہذیب و تمدن کی یہ عمارت اٹھی ہے۔ ان وجوہ سے عورت اور مرد کا ایسا آزادانہ تعلق جو کسی معلوم و معروف اور مسلم عہد و وفا پر مبنی نہ ہو انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ انہی وجوہ سے انسان اس کو ہر زمانے میں ایک سخت عیب، ایک بڑی بد اخلاقی، اور مذہبی اصطلاح میں ایک شدید گناہ سمجھتا رہا ہے۔ اور انہی وجوہ سے ہر زمانے میں انسانی معاشروں نے نکاح کی ترویج کے ساتھ ساتھ زنا کے سدباب کی بھی کسی نہ کسی طور پر ضرور کوشش کی ہے۔ البتہ اس کوشش کی شکلوں میں مختلف قوانین اور اخلاقی و تمدنی اور مذہبی نظاموں میں فرق رہا ہے، جس کی بنیاد دراصل اس فرق پر ہے کہ نوع اور تمدن کے لیے زنا کے نقصان دہ ہونے کا شعور کہیں کم ہے اور کہیں زیادہ، کہیں واضح ہے اور کہیں دوسرے مسائل سے الجھ کر رہ گیا ہے۔ (2) زنا کی حرمت پر متفق ہونے کے بعد اختلاف جس امر میں ہوا ہے وہ اس کے جرم، یعنی قانونا مستلزم سزا ہونے کا مسئلہ ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے اسلام اور دوسرے مذاہب اور قوانین کا اختلاف شروع ہوتا ہے۔ انسانی فطرت سے قریب جو معاشرے رہے ہیں، انہوں نے ہمیشہ زنا، یعنی عورت اور مرد کے ناجائز تعلق کو بجائے خود ایک جرم سمجھا ہے اور اس کے لیے سخت سزائیں رکھی ہیں۔ لیکن جوں جوں انسانی معاشروں کو تمدن خراب کرتا گیا ہے۔ رویہ نرم ہوتا چلا گیا ہے۔ اس معاملہ میں اولین تساہل جس کا ارتکاب بالعموم کیا گیا، یہ تھا کہ " محض زنا " (Fornication) اور " زنا بزن غیر " (Adultery) میں فرق کر کے، اول الذکر کو ایک معمولی سی غلطی اور صرف موخر الذکر کو جرم مسلتزم سزا قرار دیا گیا۔ محض زنا کی تعریف جو مختلف قوانین میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ " کوئی مرد خواہ وہ کنوارا ہو یا شادی شدہ، کسی ایسی عورت سے مباشرت کرے جو کسی دوسرے شخص کی بیوی نہ ہو "۔ اس تعریف میں اصل اعتبار مرد کی حالت کا نہیں، بلکہ عورت کی حالت کا کیا گیا ہے۔ عورت اگر بےشوہر ہے تو اس سے مباشرت محض زنا ہے، قطع نظر اس سے کہ مرد بیوی رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔ قدیم مصر، بابل، آشور (اسیریا) اور ہندوستان کے قوانین میں اس کی سزا بہت ہلکی تھی۔ اسی قاعدے کو یونان اور روم نے اختیار کیا، اور اسی سے آخر کار یہودی بھی متاثر ہوگئے۔ بائیبل میں یہ صرف ایک ایسا قصور ہے جس سے مرد پر محض مالی تاوان واجب آتا ہے۔ کتاب " خروج " میں اس کے متعلق جو حکم ہے اس کے الفاظ یہ ہیں " اگر کوئی آدمی کسی کنواری کو، جس کی نسبت (یعنی منگنی) نہ ہوئی ہو، پھسلا کر اس سے مباشرت کرلے تو وہ ضرور ہی اسے مہر دے کر اس سے بیاہ کرلے، لیکن اگر اس کا باپ ہرگز راضی نہ ہو کہ اس لڑکی کو اسے دے، تو وہ کنواریوں کے مہر کے موافق (یعنی جتنا مہر کسی کنواری لڑکی کو دیا جاتا ہو) اسے نقدی دے "۔ (باب 22۔ آیت 16۔ 17) کتاب " استثناء " میں یہی حکم ذرا مختلف الفاظ میں بیان ہوا ہے، اور پھر تصریح کی گئی ہے کہ مرد سے لڑکی کے باپ کو پچاس مثقال چاندی (تقریبا 55 روپے) تاوان دلوایا جائے (باب 22۔ آیت 28۔ 29) البتہ اگر کوئی شخص کاہن (یعنی پروہت، Priest) کی بیٹی سے زنا کرے تو اس کے لیے یہودی قانون میں پھانسی کی سزا ہے، اور لڑکی کے لیے زندہ جلانے کی، (Everymans Talmud, p 319-2C) یہ تخیل ہندوؤں کے تخیل سے کس قدر مشابہ ہے اس کا اندازہ کرنے کے لیے منو کی دھرم شاستر سے مقابلہ کر کے دیکھیے، وہاں لکھا ہے کہ " جو شخص اپنی ذات کی کنواری لڑکی سے اس کی رضا مندی کے ساتھ زنا کرے وہ کسی سزا کا مستحق نہیں ہے۔ لڑکی کا باپ راضی ہو تو وہ اس کو معاوضہ دے کر شادی کرلے۔ البتہ اگر لڑکی اونچی ذات کی ہو اور مرد نیچ ذات کا تو لڑکی کو گھر سے نکال دینا چاہیے اور مرد کو قطع اعضا کی سزا دینی چاہیے "۔ (ادھیائے 8 اشلوک 365۔ 366) اور یہ سزا زندہ جلا دیے جانے کی سزا میں تبدیل کی جاسکتی ہے جبکہ لڑکی برہمن ہو (اشلوک 377) دراصل ان سب قوانین میں زنا بزن غیر ہی اصل اور بڑا جرم تھا یعنی یہ کہ کوئی شخص (خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ) کسی ایسی عورت سے مباشرت کرے جو دوسرے شخص کی بیوی ہو۔ اس فعل کے جرم ہونے کی بنیاد یہ نہ تھی کہ ایک مرد اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، بلکہ یہ تھی کہ ان دونوں نے ملک کر ایک شخص کو اس خطرے میں مبتلا کردیا ہے کہ اسے کسی ایسے بچے کو پالنا پڑے جو اس کا نہیں ہے۔ گویا زنا نہیں بلکہ اختلاط نسب کا خطرہ اور ایک کے بچے کا دوسرے کے خرچ پر پلنا اور اس کا وارث ہونا اصل بنائے جرم تھا جس کی وجہ سے عورت اور مرد دونوں مجرم قرار پاتے تھے۔ مصریوں کے ہاں اس کی سزا یہ تھی کہ مرد کو لاٹھیوں سے خوب پیٹا جائے اور عورت کی سزا یہ تھی کہ اس کو کتوں سے پھڑوا دیا جائے اور مرد کی یہ کہ اسے لوہے کے گرم پلنگ پر لٹا کر چاروں طرف آگ جلا دی جائے۔ یونان اور روم میں ابتداء ایک مرد کو یہ حق حاصل تھا کہ اگر وہ اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو زنا کرتے دیکھ لے تو اسے قتل کردے، یا چاہے تو اس سے مالی تاوان وصول کرلے۔ پھر پہلی صدی قبل مسیح میں قیصر آگسٹس نے یہ قانون مقرر کیا کہ مرد کی آدھی جائداد ضبط کر کے اسے جلا وطن کردیا جائے، اور عورت کا آدھا مہر ساقط اور اس کی 1/3 جائداد ضبط کر کے اسے بھی مملکت کے کسی دور دراز حصے میں بھیج دیا جائے۔ قسطنطین نے اس قانون کو بدل کر عورت اور مرد دونوں کے لیے سزائے موت مقرر کی۔ لیو (Leo) اور مارسین (Marcian) کے دور میں اس سزا کو حبس دوام میں تبدیل کردیا گیا، پھر قیصر جسٹینین نے اس میں مزید تخفیف کر کے یہ قاعدہ مقرر کردیا کہ عورت کو کوڑوں سے پیٹ کر کسی راہب خانے میں ڈال دیا جائے اور اس کے شوہر کو یہ حق دیا جائے کہ چاہے تو دو سال کے اندر اسے نکلوا لے، ورنہ ساری عمر وہیں پڑا رہنے دے۔ یہودی قانون میں زنا بزن غیر کے متعلق جو احکام پائے جاتے ہیں وہ یہ ہیں " اگر کوئی کسی ایسی عورت سے صحبت کرے جو لونڈی اور کسی شخص کی منگیتر ہو اور نہ تو اس کا فدیہ ہی دیا گیا ہو اور نہ وہ آزاد کی گئی ہو، تو ان دونوں کو سزا ملے، لیکن وہ جان سے نہ مارے جائیں اس لیے کہ عورت آزاد نہ تھی "۔ (احبار 19۔ 20) " جو شخص دوسرے کی بیوی سے، یعنی اپنے ہمسائے کی بیوی سے زنا کرے وہ زانی اور زانیہ دونوں ضرور جان سے مار دیے جائیں "۔ (احبار 20۔ 10) " اگر کوئی مرد کسی شوہر والی عورت سے زنا کرتے پکڑا جائے تو وہ دونوں مار ڈالے جائیں "۔ (استثناء 22۔ 22) اگر کوئی کنواری لڑکی کسی شخص سے منسوب ہوگئی ہو (یعنی اس کی منگنی ہو) اور کوئی دوسرا آدمی اسے شہر میں پاکر اس سے صحبت کرے تو تم ان دونوں کو اس شہر کے پھاٹک پر نکال لانا اور ان کو تم سنگسار کردینا کہ وہ مرجائیں۔ لڑکی کو اس لیے کہ وہ شہر میں ہوتے ہوئے نہ چلائی اور مرد کو اس لیے کہ اس نے اپنے ہمسائے کی بیوی کو بےحرمت کیا، پر اگر اس آدمی کو وہی لڑکی جس کی نسبت ہوچکی ہو، کسی میدان یا کھیت میں مل جائے اور وہ آدمی جبرا اس سے صحبت کرے تو فقط وہ آدمی ہی جس نے صحبت کی مار ڈالا جائے پر اس لڑکی سے کچھ نہ کرنا "۔ (استثناء 22۔ 22 تا 26) لیکن حضرت عیسیٰ ؑ کے عہد سے بہت پہلے یہودی علماء، فقہاء، امراء اور عوام سب اس قانون کو عملا منسوخ کرچکے تھے۔ یہ اگرچہ بائیبل میں لکھا ہوا تھا اور خدائی حکم اسی کو سمجھا جاتا تھا، مگر اسے عملا نافذ کرنے کا کوئی روادار نہ تھا، حتی کہ یہودیوں کی تاریخ میں اس کی کوئی نظیر تک نہ پائی جاتی تھی کہ یہ حکم کبھی نافذ کیا گیا ہو۔ حضرت عیسیٰ ؑ جب دعوت حق لے کر اٹھے اور علماء یہود نے دیکھا کہ اس سیلاب کو روکنے کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہورہی ہے تو وہ ایک چال کے طور پر ایک زانیہ عورت کو آپ کے پاس پکڑ لائے اور کہا اس کا فیصلہ فرمائیے (یوحنا باب 8۔ آیت 1۔ 11) اس سے ان کا مقصود یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ کو کنویں یا کھائی دونوں میں سے کسی ایک میں کودنے پر مجبور کردیں۔ اگر آپ رجم کے سوا کوئی اور سزا تجویز کریں تو آپ کو یہ کہہ کر بدنام کیا جائے کہ لیجیے، یہ نرالے پیغمبر صاحب تشریف لائے ہیں جنہوں نے دنیوی مصلحت کی خاطر خدائی قانون بدل ڈالا۔ اور اگر آپ رجم کا حکم دیں تو ایک طرف رومی قانون سے آپ کو ٹکرا دیا جائے اور دوسری طرف قوم سے کہا جائے کہ مانوان پیغمبر صاحب کو، دیکھ لینا، اب توراۃ کی پوری شریعت تمہاری پیٹھوں اور جانوں پر برسے گی۔ لیکن حضرت عیسیٰ ؑ نے ایک ہی فقرے میں ان کی چال کو انہی پر الٹ دیا۔ آپ نے فرمایا تم میں سے جو خود پاک دامن ہو وہ آگے بڑھ کر اسے پتھر مارے۔ یہ سنتے ہی فقیہوں کی ساری بھیڑ چھٹ گئی۔ ایک ایک منہ چھپا کر رخصت ہوگیا اور " حاملات شرح متین " کی اخلاقی حالت بالکل برہنہ ہو کر رہ گئی۔ پھر جب عورت تنہا کھڑی رہ گئی تو آپ نے اسے نصیحت فرمائی اور توبہ کرا کے رخصت کردیا، کیونکہ نہ آپ قاضی تھے کہ اس کے مقدمے کا فیصلہ کرتے نہ اس پر کوئی شہادت قائم ہوئی تھی اور نہ کوئی اسلامی حکومت قانون الہی نافذ کرنے کے لیے موجود تھی۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے اس واقعہ سے اور آپ کے چند اور متفرق اقوال سے جو مختلف مواقع پر آپ نے ارشاد فرمائے۔ عیسائیوں نے غلط استنباط کر کے زنا کے جرم کا ایک اور قصور قائم کرلیا۔ ان کے ہاں زنا اگر غیر شادی شدہ مرد، غیر شادی شدہ عورت سے کرے تو یہ گناہ تو ہے، مگر جرم مستلزم سزا نہیں ہے۔ اور اگر اس فعل کا کوئی ایک فریق خواہ وہ عورت ہو یا مرد، شادی شدہ ہو یا دونوں شادی شدہ ہوں، تو یہ جرم ہے، مگر اس کو جرم بنانے والی چیز دراصل " عہد شکنی " ہے نہ کہ محض زنا۔ ان کے نزدیک جس نے بھی شادی شدہ ہو کر زنا کا ارتکاب کیا وہ اس لیے مجرم ہے کہ اس نے اس عہد وفا کو توڑ دیا جو قربان گاہ کے سامنے اس نے پادری کے توسط سے اپنی بیوی یا اپنے شوہر کے ساتھ باندھا تھا۔ مگر اس جرم کی کوئی سزا اس کے سوا نہیں ہے کہ زانی مرد کی بیوی اپنے شوہر کے خلاف بےوفائی کا دعوی کر کے تفریق کی ڈگری حاصل کرلے اور زانیہ عورت کا شوہر ایک طرف اپنی بیوی پر دعوی کر کے تفریق کی ڈگری لے اور دوسری طرف اس شخص سے بھی تاوان لینے کا حق دار ہو جس نے اس کی بیوی کو خراب کیا۔ بس یہ سزا ہے جو مسیحی قانون شادی شدہ زانیوں اور زانیات کو دیتا ہے، اور غضب یہ ہے کہ یہ سزا بھی دو دھاری تلوار ہے۔ اگر ایک عورت اپنے شوہر کے خلاف " بےوفائی " کا دعوی کر کے تفریق کی ڈگری حاصل کرلے تو وہ بےوفا شوہر سے تو نجات حاصل کرلے گی، لیکن مسیحی قانون کی رو سے پھر وہ عمر بھر کوئی دوسرا نکاح نہ کرسکے گی۔ اور ایسا ہی حشر اس مرد کا بھی ہوگا جو بیوی پر " بےوفائی " کا دعوی کر کے تفریق کی ڈگری لے، کیونکہ مسیحی قانون اس کو بھی نکاح ثانی کا حق نہیں دیتا۔ گویا زوجین میں سے جس کو بھی تمام عمر راہب بن کر رہنا ہو وہ اپنے شریک زندگی کی بےوفائی کا شکوہ مسیحی عدالت میں لے جائے۔ موجودہ زمانے کے مغربی قوانین جن کی پیروی اب خود مسلمانوں کے بھی بیشتر ممالک کر رہے ہیں، انہی مختلف تصورات پر مبنی ہیں۔ ان کے نزدیک زنا عیب یا بد اخلاقی یا گناہ جو کچھ بھی ہو، جرم بہرحال نہیں ہے۔ اسے اگر کوئی چیز جرم بنا سکتی ہے تو وہ جبر ہے، جبکہ فریق ثانی کی مرضی کے خلاف زبردستی اس سے مباشرت کی جائے۔ رہا کسی شادی شدہ مرد کا ارتکاب زنا، تو وہ اگر وجہ شکایت ہے تو اس کی بیوی کے لیے ہے، وہ چاہے تو اس کا ثبوت دے کر طلاق حاصل کرلے۔ اور زنا کی مرتکب اگر شادی شدہ عورت ہے تو اس کے شوہر کو نہ صرف اس کے خلاف بلکہ زانی مرد کے خلاف بھی وجہ شکایت پیدا ہوتی ہے، اور دونوں پر دعوی کر کے وہ بیوی سے طلاق اور زانی مرد سے تاوان وصول کرسکتا ہے۔ (3) اسلامی قانون ان سب تصورات کے برعکس زنا کو بجائے خود ایک جرم مستلزم سزا قرار دیتا ہے اور شادی شدہ ہو کر زنا کرنا اس کے نزدیک جرم کی شدت کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے، نہ اس بنا پر کہ مجرم نے کسی سے " عہد شکنی " کی یا کسی دوسرے کے بستر پر دست درازی کی، بلکہ اس بنا پر کہ اس کے لیے اپنی خواہشات کو پورا کرنے کا ایک جائز ذریعہ موجود تھا، اور پھر بھی اس نے ناجائز ذریعہ اختیار کیا۔ اسلامی قانون زنا کو اس نقطہ نظر سے دیکھتا ہے کہ یہ وہ فعل ہے جس کی اگر آزادی ہوجائے تو ایک طرف نوع انسانی کی اور دوسرے طرف تمدن انسانی کی جڑ کٹ جائے۔ نوع کے بقاء اور تمدن کے قیام، دونوں کے لیے ناگزیر ہے کہ عورت اور مرد کا تعلق صرف قانون کے مطابق قابل اعتماد رابطے تک محدود ہو۔ اور اسے محدود رکھنا ممکن نہیں ہے اگر اس کے ساتھ ساتھ آزادانہ تعلق کی بھی گنجائش موجود رہے، کیونکہ گھر اور خاندان کی ذمہ داریوں کا بوجھ سنبھالے بغیر جہاں لوگوں کو خواہشات نفس کی تسکین کے مواقع حاصل رہیں، وہاں ان سے توقع نہیں کی جاسکتی کہ انہی خواہشات کی تسکین کے لیے وہ پھر اتنی بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے پر آمادہ ہوں گے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ریل میں بیٹھنے کے لیے ٹکٹ کی شرط بےمعنی ہے اگر بلا ٹکٹ سفر کرنے کی آزادی بھی لوگوں کو حاصل رہے۔ ٹکٹ کی شرط اگر ضروری ہے تو اسے موثر بنانے کے لیے بلا ٹکٹ سفر کو جرم ہونا چاہیے۔ پھر اگر کوئی شخص پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے بےٹکٹ سفر کرتے تو کم درجے کا مجرم ہے، اور مالدار ہوتے ہوئے بھی یہ حرکت کرے تو جرم اور زیادہ سخت ہوجاتا ہے۔ (4) اسلام انسانی معاشرے کو زنا کے خطرے سے بچانے کے لیے صرف قانونی تعزیر کے ہتھیار پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ اس کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحی اور انسدادی تدابیر استعمال کرتا ہے، اور یہ قانون تعزیر اس نے محض ایک آخری چارہ کار کے طور پر تجویز کی ہے۔ اس کا منشا یہ نہیں ہے کہ لوگ اس جرم کا ارتکاب کرتے رہیں اور شب و روز ان پر کوڑے برسانے کے لیے ٹکٹکیاں لگی رہیں، بلکہ اس کا منشا یہ ہے کہ لوگ اس کا ارتکاب نہ کریں اور کسی کو اس پر سزا دینے کی نوبت ہی نہ آنے پائے۔ وہ سب سے پہلے آدمی کے نفس کی اصلاح کرتا ہے، اس کے دل میں عالم الغیب اور ہمہ گیر طاقت کے مالک خدا کا خوف بٹھاتا ہے، اسے آخرت کی باز پرس کا احساس دلاتا ہے جس سے مر کر بھی آدمی کا پیچھا نہیں چھوٹ سکتا، اس میں قانون الہی کی اطاعت کا جذبہ پیدا کرتا ہے جو ایمان کا لازمی تقاضا ہے، اور پھر اسے بار بار متنبہ کرتا ہے کہ زنا اور بےعصمتی ان بڑے گناہوں میں سے ہے جن پر اللہ تعالیٰ سخت باز پرس کرے گا۔ یہ مضمون سارے قرآن میں جگہ جگہ آپ کے سامنے آتا ہے۔ اس کے بعد وہ آدمی کے لیے نکاح کی تمام ممکن آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ ایک بیوی سے تسکین نہ ہو تو چار چار تک سے جائز تعلق کا موقع دیتا ہے۔ دل نہ ملیں تو مرد کے لیے طلاق اور عورت کے لیے خلع کی سہولتیں بہم پہنچاتا ہے۔ اور ناموافقت کی صورت میں خاندانی پنچایت سے لے کر سرکاری عدالت تک سے رجوع کا راستہ کھول دیتا ہے تاکہ یا تو مصالحت ہوجائے، یا پھر زوجین ایک دوسرے سے آزاد ہو کر جہاں دل ملے نکاح کرلیں۔ یہ سب کچھ آپ سورة بقرہ، سورة نساء، اور سورة طلاق میں دیکھ سکتے ہیں۔ اور اسی سورة نور میں آپ ابھی دیکھیں گے کہ مردوں اور عورتوں کے بن بیا ہے بیٹھے رہنے کو ناپسند کیا گیا ہے اور صاف حکم دے دیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کے نکاح کردیے جائیں، حتی کہ لونڈیوں اور غلاموں کو بھی مجرد نہ چھوڑا جائے۔ پھر وہ معاشرے سے ان اسباب کا خاتمہ کرتا ہے جو زنا کی رغبت دلانے والے، اس کی تحریک کرنے والے، اور اس کے لیے مواقع پیدا کرنے والے ہوسکتے ہیں۔ زنا کی سزا بیان کرنے سے ایک سال پہلے سورة احزاب میں عورتوں کو حکم دے دیا گیا تھا کہ گھر سے نکلیں تو چادریں اوڑھ کر اور گھونگھٹ ڈال کر نکلیں، اور مسلمان عورتوں کے لیے جس نبی کا گھر نمونے کا گھر تھا اس کی عورتوں کو ہدایت کردی گئی تھی کہ گھروں میں وقار و سکینت کے ساتھ بیٹھو، اپنے حسن اور بناؤ سنگھار کی نمائش نہ کرو، اور باہر کے مرد تم سے کوئی چیز لیں تو پردے کے پیچھے سے لیں۔ یہ نمونہ دیکھتے دیکھتے ان تمام صاحب ایمان عورتوں میں پھیل گیا جن کے نزدیک زمانہ جاہلیت کی بےحیا عورتیں نہیں بلکہ نبی کی بیویاں اور بیٹیاں تقلید کے لائق تھیں۔ اس طرح فوجداری قانون کی سزا مقرر کرنے سے پہلے عورتوں اور مردوں کی خلط ملط معاشرت بند کی گئی، بنی سنوری عورتوں کا باہر نکلنا بند کیا گیا، اور ان اسباب و ذرائع کا دروازہ بند کردیا گیا جو زنا کے مواقع اور اس کی آسانیاں بہم پہنچاتے ہیں۔ ان سب کے بعد جب زنا کی فوجداری سزا مقرر کی گئی تو آپ دیکھتے ہیں کہ اس کے ساتھ ساتھ اسی سورة نور میں اشاعت فحش کو بھی روکا جارہا ہے، قحبہ گری (Prostitution) کی قانونی بندش بھی کی جارہی ہے، عورتوں اور مردوں پر بدکاری کے بےثبوت الزام لگانے اور ان کے چرچے کرنے کے لیے بھی سخت سزا تجویز کی جارہی ہے، غض بصر کا حکم دے کر نگاہوں پر پہرے بھی بٹھائے جارہے ہیں تاکہ دیدہ بازی سے حسن پرستی تک اور حسن پرستی سے عشق بازی تک نوبت نہ پہنچے، اور عورتوں کو یہ حکم بھی دیا جارہا ہے کہ اپنے گھروں میں محرم اور غیر محرم رشتہ داروں کے درمیان تمیز کریں اور غیر محرموں کے سامنے بن سنور کر نہ آئیں۔ اس سے آپ اس پوری اصلاحی سکیم کو سمجھ سکتے ہیں جس کے ایک جز کے طور پر زنا کی قانونی سزا مقرر کی گئی ہے۔ یہ سزا اس لیے ہے کہ تمام داخلی و خارجی تدابیر اصلاح کے باوجود جو شریر النفس لوگ کھلے ہوئے جائز مواقع کو چھوڑ کر ناجائز طریقے سے ہی اپنی خواہش نفس پوری کرنے پر اصرار کریں ان کی کھال ادھیڑ دی جائے، اور ایک بدکار کو سزا دے کر معاشرے کے ان بہت سے لوگوں کو نفسیاتی آپریشن کردیا جائے جو اس طرح کے میلانات رکھتے ہوں۔ یہ سزا محض ایک مجرم کی عقوبت ہی نہیں ہے بلکہ اس امر کا بالفعل اعلان بھی ہے کہ مسلم معاشرہ بدکاروں کی تفریح گاہ نہیں ہے جس میں ذواقین اور ذواقات اخلاقی قیود سے آزاد ہو کر مزے لوٹتے پھریں۔ اس نقطہ نظر سے کوئی شخص اسلام کی اس اصلاحی اسکیم کو سمجھے تو وہ بآسانی محسوس کرلے گا کہ اس پوری اسکیم کا ایک جز بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹایا جاسکتا ہے اور نہ کم و بیش کیا جاسکتا ہے۔ اس میں ردو بدل کا خیال یا تو وہ نادان کرسکتا ہے جو اسے سمجھنے کی صلاحیت رکھے بغیر مصلح بن بیٹھا ہو، یا پھر وہ مفسد ایسا کرسکتا ہے جس کی اصل نیت اس مقصد کو بدل دینے کی ہو جس کے لیے یہ اسکیم حکیم مطلق نے تجویز کی ہے۔ بقیہ تفسیر ریکارڈ نمبر 2819 پر ملاحظہ کریں
Ayahs 24:3–4

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ۔ اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے مگر زانی یہ مشرک۔ اور یہ حرام کر دیا گیا ہے اہلِ ایمان پر۔ 5

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں، ان کو اسی کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو، اور وہ خود ہی فاسق ہیں

سورة النُّوْر 5 یعنی زانی غیر تائب کے لیے اگر موزوں ہے تو زانیہ ہی موزوں ہے، یا پھر مشرکہ۔ کسی مومنہ صالحہ کے لیے وہ موزوں نہیں ہے، اور حرام ہے اہل ایمان کے لیے کہ وہ جانتے بوجھتے اپنی لڑکیاں ایسے فاجروں کو دیں۔ اسی طرح زانیہ (غیر تائبہ) عورتوں کے لیے اگر موزوں ہیں تو ان ہی جیسے زانی یا پھر مشرک۔ کسی مومن صالح کے لیے وہ موزوں نہیں ہیں، اور حرام ہے مومنوں کے لیے کہ جن عورتوں کی بد چلنی کا حال انہیں معلوم ہو ان سے وہ دانستہ نکاح کریں۔ اس حکم کا اطلاق صرف ان ہی مردوں اور عورتوں پر ہوتا ہے جو اپنی بری روش پر قائم ہوں۔ جو لوگ توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیں ان پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا، کیونکہ توبہ و اصلاح کے بعد " زانی " ہونے کی صفت ان کے ساتھ لگی نہیں رہتی۔ زانی کے ساتھ نکاح کے حرام ہونے کا مطلب امام احمد بن حنبل نے یہ لیا ہے کہ سرے سے نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ اس سے مراد محض ممانعت ہے، نہ یہ کہ اس حکم ممانعت کے خلاف اگر کوئی نکاح کرے تو وہ قانوناً نکاح ہی نہ ہو اور اس نکاح کے باوجود فریقین زانی شمار کیے جائیں۔ نبی ﷺ نے یہ بات ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر ارشاد فرمائی ہے کہ الحرام لا یحرم الحلال، " حرام حلال کو حرام نہیں کردیتا " (طبرانی، دارقطنی) یعنی ایک غیر قانونی فعل کسی دوسرے قانونی فعل کو غیر قانونی نہیں بنا دیتا لہٰذا کسی شخص کا ارتکاب زنا اس بات کا موجب نہیں ہوسکتا کہ وہ نکاح بھی کرے تو اس کا شمار زنا ہی میں ہو اور معاہدہ نکاح کا دوسرا فریق جو بد کار نہیں ہے، وہ بھی بد کار قرار پائے۔ اصولاً بغاوت کے سوا کوئی غیر قانونی فعل اپنے مرتکب کو خارج از حدود قانون (Out law) نہیں بنا دیتا ہے کہ پھر اس کا کوئی فعل بھی قانونی نہ ہو سکے۔ اس چیز کو نگاہ میں رکھ کر اگر آیت پر غور کیا جائے تو اصل منشا صاف طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کی بد کاری جانی بوجھی ہو ان کو نکاح کے لیے منتخب کرنا ایک گناہ ہے جس سے اہل ایمان کو پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے بد کاروں کی ہمت افزائی ہوتی ہے، حالانکہ شریعت انہیں معاشرے کا ایک مکروہ اور قابل نفرت عنصر قرار دینا چاہتی ہے۔ اسی طرح اس آیت سے یہ نتیجہ بھی نہیں نکلتا کہ زانی مسلم کا نکاح مشرک عورت سے، اور زانیہ مسلمہ کا نکاح مشرک مرد سے صحیح ہے۔ آیت کا منشا دراصل یہ بتانا ہے کہ زنا ایسا سخت قبیح فعل ہے کہ جو شخص مسلمان ہوتے ہوئے اس کا ارتکاب کرے وہ اس قابل نہیں رہتا کہ مسلم معاشرے کے پاک اور صالح لوگوں سے اس کا رشتہ ہو۔ اسے یا تو اپنے ہی جیسے زانیوں میں جانا چاہیے، یا پھر ان مشرکوں میں جو سرے سے احکام الٰہی پر اعتقاد ہی نہیں رکھتے۔ آیت کے منشا کی صحیح ترجمانی وہ احادیث کرتی ہیں جو اس سلسلے میں نبی ﷺ سے مروی ہیں۔ مسند احمد اور نسائی میں عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ ایک عورت ام مہزول نامی تھی جو قحبہ گری کا پیشہ کرتی تھی۔ ایک مسلمان نے اس سے نکاح کرنا چاہا اور نبی ﷺ سے اجازت طلب کی۔ آپ نے منع فرمایا اور یہی آیت پڑھی۔ ترمذی اور ابوداؤد میں ہے کہ مرثد بن ابی مرثد ایک صحابی تھے جن کے زمانہ جاہلیت میں مکہ کی ایک بد کار عورت عناق سے ناجائز تعلقات رہ چکے تھے۔ بعد میں انہوں نے چاہا کہ اس سے نکاح کرلیں اور حضور سے اجازت مانگی۔ دو دفعہ پوچھنے پر آپ خاموش رہے۔ تیسری دفعہ پھر پوچھا تو آپ نے فرمایا یا مرثد، الزانی لا ینکح الا زانیۃ او مشرکۃ فلا تنکحھا۔ اس کے علاوہ متعدد روایات حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عمار بن یاسر سے منقول ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا " جو شخص دیوث ہو (یعنی جسے معلوم ہو کہ اس کی بیوی بد کار ہے اور یہ جان کر بھی وہ اس کا شوہر بنا رہے) وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا "۔ (احمد، نسائی، ابو داؤد اور طیالسی)۔ شیخین، ابوبکر و عمر ؓ کا طرز عمل یہ رہا ہے کہ جو غیر شادی شدہ مرد و عورت زنا کے الزام میں گرفتار ہوتے ان کو وہ پہلے سزائے تازیانہ دیتے تھے اور پھر ان ہی کا آپس میں نکاح کردیتے تھے۔ ابن عمر کی روایت ہے کہ ایک روز ایک شخص بڑی پریشانی کی حالت میں حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آیا اور کچھ اس طرح بات کرنے لگا کہ اس کی زبان پوری طرح کھلتی نہ تھی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ اسے الگ لے جا کر معاملہ پوچھو۔ حضرت عمر ؓ کے دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ ایک شخص اس کے ہاں مہمان کے طور پر آیا تھا، وہ اس کی لڑکی سے ملوث ہوگیا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا قبحک اللہ، الا سترت علی ابنتک، " تیرا برا ہو، تو نے اپنی لڑکی کا پردہ ڈھانک نہ دیا " ؟ آخر کار لڑکے اور لڑکی پر مقدمہ قائم ہوا، دونوں پر حد جاری کی گئی اور پھر ان دونوں کا باہم نکاح کر کے حضرت ابوبکر ؓ نے ایک سال کے لیے ان کو شہر بدر کردیا۔ ایسے اور چند واقعات قاضی ابوبکر ابن العربی نے اپنی کتاب احکام القرآن میں نقل کیے ہیں (جلد 2۔ ص 86)۔