An-Noor 24:63

An-Noor · from ayah 63

24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ؕ— قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا ۚ— فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۟لَا تَجۡعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَيۡنَكُمۡ كَدُعَآءِ بَعۡضِكُمۡ بَعۡضًا‌ ؕ قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ يَتَسَلَّلُوۡنَ مِنۡكُمۡ لِوَاذًا‌ ۚ فَلۡيَحۡذَرِ الَّذِيۡنَ يُخَالِفُوۡنَ عَنۡ اَمۡرِهٖۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ فِتۡنَةٌ اَوۡ يُصِيۡبَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ

مومنو پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ بےشک خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیئے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do not make [your] calling of the Messenger among yourselves as the call of one of you to another. Already Allah knows those of you who slip away, concealed by others. So let those beware who dissent from the Prophet's order, lest fitnah strike them or a painful punishment.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 9 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah An-Noor

All translations of 24:63

مسلمانو، اپنے درمیان رسولؐ کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سا بلانا نہ سمجھ بیٹھو اللہ اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چپکے سے سٹک جاتے ہیں رسولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنو پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ بےشک خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیئے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم اللہ تعالیٰ کے نبی کے بلانے کو ایسا بلاوا نہ کرلو جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کو ہوتا ہے۔ تم میں سے انہیں اللہ خوب جانتا ہے جو نظر بچا کر چپکے سے سرک جاتے ہیں۔ سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے لوگو) اپنے درمیان رسول کو بلانے کو ایسا (معمولی) نہ سمجھو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو بلایا کرتے ہو اللہ تم میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ایک دوسرے کی آڑ لے کر چپکے سے کھسک جاتے ہیں۔ لہذا جو لوگ اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ان کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی آفت نہ آپڑے، یا انہیں کوئی دردناک عذاب نہ آپکڑے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے بیشک اللہ جانتا ہے جو تم میں چپکے نکل جاتے ہیں کسی چیز کی آڑ لے کر تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر دردناک عذاب پڑے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے مسلمانو!) تم رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی مثل قرار نہ دو (جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلانا تمہارے باہمی بلاوے کی مثل نہیں تو خود رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی تمہاری مثل کیسے ہو سکتی ہے)، بیشک اللہ ایسے لوگوں کو (خوب) جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ میں (دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) چپکے سے کھسک جاتے ہیں، پس وہ لوگ ڈریں جو رسول ﷺ کے امرِ (ادب) کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کہ (دنیا میں ہی) انہیں کوئی آفت آپہنچے گی یا (آخرت میں) ان پر دردناک عذاب آن پڑے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

رسول کے بلانے کو اپنے درمیان اس طرح نہ بنالو جیسے تمہارے بعض کا بعض کو بلانا ہے۔ بیشک اللہ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں۔ سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کا حکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ آپہنچے، یا انھیں دردناک عذاب آپہنچے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(مسلمانو) ! رسول کے بلانے کو ایسا نہ سمجھ لو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے چپکے سے کھسک جاتے ہیں لہذا جو لوگ رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انھیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ وہ کسی مصیبت میں گرفتار نہ ہوجائیں یا انھیں کوئی دردناک عذاب پہنچ جائے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم لوگ رسول کے بلانے کو اس طرح کا بلانا نہ سمجھو جس طرح تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ اللہ تم میں سے ان لوگوں سے اچھی طرح باخبر رہا ہے جو ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک جایا کرتے رہے ہیں۔ پس وہ لوگ جو اس کے حکم سے گریز کرتے رہے ہیں اس بات سے ڈریں کہ ان پر کوئی آزمائش آجائے یا ان کو ایک درد ناک عذاب آپکڑے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ایمان والو، خبردار کہیں تم رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی طرح نہ سمجھ لینا۔ یقینا اللہ پوری اور اچھی طرح جانتا پہچانتا ہے ان لوگوں کو جو تم میں کھسک جاتے ہیں آنکھ بچا کر سو ڈرنا اور اپنے ہولناک انجام سے بچنا چاہیے ان لوگوں کو جو خلاف ورزی کرتے ہیں اس وحدہ لاشریک کے حکم و ارشاد کی اس بات سے کہ کہیں اچانک اس دنیا ہی میں آن پڑے ان پر کوئی ہولناک آفت یا آپکڑے ان کو آخرت کا دردناک عذاب

— مولانا اسحاق مدنی

تم لوگ رسول کے بلانے کو ایسا مت سمجھو جیسا تم میں ایک دوسرے کو بلا لیتا ہے۔ اللہ خوب جانتا ہے ان لوگوں کو جو تم میں سے آڑ میں ہو کر کھسک جاتے ہیں۔ ان لوگوں کو جو اللہ کے حکم کی مخالفت کررہے ہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر (دنیا میں ہی) کوئی آفت نازل ہوجائے یا انہیں کوئی درد ناک عذاب آپکڑے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تم لوگ رسول ﷺ کے بلانے کو ایسے نہ سمجھ لو جیسے تمہارا آپس میں ایک دوسرے کو بلانا اللہ خوب جانتا ہے تم میں سے ان لوگوں کو جو ایک دوسرے کی اوٹ لے کر کھسک جاتے ہیں تو جو لوگ رسول ﷺ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی آزمائش آجائے یا ان کو کوئی دردناک عذاب آپکڑے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مومنو ! پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو بیشک اللہ کو وہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں۔ تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیے کہ ایسا نہ ہو کہ ان پر کوئی آفت پڑجائے یا دردناک عذاب نازل ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O Believers, do not consider the summoning by the Messenger like the summoning among you by one another. Allah knows well those of you who steal away, concealing themselves behind others. Let those who disobey the order of the Messenger beware lest they should be involved in some affliction, or are visited by a woeful scourge.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do not take the call of the messenger among you as a call of one of you to another. Allah definitely knows those of you who sneak out hiding themselves under the cover of others. So, those who violate his (messenger‘s) order must beware, lest they are visited by a trial or they are visited by a painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

Do not take the call of the messenger among you as a call of one of you to another. Allah definitely knows those of you who sneak out hiding themselves under the cover of others. So, those who violate his (messenger‘s) order must beware, lest they are visited by a trial or they are visited by a painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Make not the calling of the Messenger among you as your calling one of another. Allah knows those of you who slip away under shelter. And let those beware who oppose the Messenger's commandment, lest some Fitnah should befall them or a painful torment be inflicted on them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Make not the calling of the messenger among you as your calling one of another. Allah knoweth those of you who steal away, hiding themselves. And let those who conspire to evade orders beware lest grief or painful punishment befall them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do not make [your] calling of the Messenger among yourselves as the call of one of you to another. Already Allah knows those of you who slip away, concealed by others. So let those beware who dissent from the Prophet's order, lest fitnah strike them or a painful punishment.

— Saheeh International

Do not address the Messenger as you would call each other. God knows those who secretly walk away from you and hide themselves. Those who oppose the Messengers should beware, lest some trouble or a painful torment should befall them.

— Muhammad Sarwar

Do not hold the Apostle's calling (you) among you to be like your calling one to the other; Allah indeed knows those who steal away from among you, concealing themselves; therefore let those beware who go against his order lest a trial afflict them or there befall them a painful chastisement.

— Muhammad Habib Shakir

Place not the apostle's calling among you on the same footing as your calling of each other. Of a surety Allah knoweth those who slip away privately; let therefore those who oppose His commandment beware lest there befall them a trial or there befall them a torment afflictive.

— Abdul Majid Daryabadi

Deem not the summons of the Messenger among yourselves like the summons of one of you to another: Allah doth know those of you who slip away under shelter of some excuse: then let those beware who withstand the Messenger's order, lest some trial befall them, or a grievous penalty be inflicted on them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 24:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

آپ ﷺ کو پکارنے کے آداب لوگ حضور ﷺ کو جب بلاتے تو آپ کے نام یا کنیت سے معمولی طور پر جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارا کرتے ہیں آپ کو بھی پکار لیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس گستاخی سے منع فرمایا کہ نام نہ لو بلکہ یا نبی اللہ یارسول اللہ کہہ کر پکارو۔ تاکہ آپ کی بزرگی اور عزت وادب کا پاس رہے۔ اسی کے مثل آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ۭ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ01004) 2۔ البقرة :104) ہے اور اسی جیسی آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 63–64

سورة النُّوْر 102 اصل میں لفظ دُعَآء استعمال ہوا ہے جس کے معنی بلانے کے بھی ہیں اور دعا کرنے اور پکارنے کے بھی۔ نیز دُعَآء الرَّسُوْلِ کے معنی رسول کا بلانا یا دعاء کرنا بھی ہوسکتا ہے اور رسول کو پکارنا بھی۔ ان مختلف معنوں کے لحاظ سے آیت کے تین مطلب ہو سکتے ہیں اور تینوں ہی صحیح و معقول ہیں اول یہ کہ " رسول کے بلانے کو عام آدمیوں میں سے کسی کے بلانے کی طرح نہ سمجھو " یعنی رسول کا بلاوا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دوسرا کوئی بلائے اور تم لبیک نہ کہو تو تمہیں آزادی ہے، لیکن رسول بلائے اور تم نہ جاؤ، یا دل میں ذرہ برابر بھی تنگی محسوس کرو تو ایمان کا خطرہ ہے۔ دوم یہ کہ " رسول کی دعا کو عام آدمیوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–64

دوسرا حکم آخری آیت میں یہ دیا گیا ہے۔ لَا تَجْعَلُوْا دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ الآیتہ اس کی ایک تفسیر تو وہ ہے جو اوپر خلاصہ تفسیر میں بیان کی گئی ہے کہ دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ سے مراد رسول اللہ ﷺ کا لوگوں کو بلانا ہے (جو نحوی قاعدہ سے اضافت الی الفاعل ہے) اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ جب لوگوں کو بلائیں تو اس کو عام لوگوں کے بلانے کی طرح نہ سمجھو کہ اس میں آنے نہ آنے کا اختیار رہتا ہے بلکہ اس وقت آنا فرض ہوجاتا ہے اور بغیر اجازت جانا حرام ہوجاتا ہے۔ آیت کے سیاق وسباق سے یہ تفسیر زیادہ مناسب رکھتی ہے اسی لئے مظہری اور بیان القرآن میں اس کو اختیار کیا ہے اور اس کی ایک دوسری تفسیر حضرت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

خطاب با اعتبار الفاظ، اگرچہ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ کلام کا رخ منافقین ہی کی طرف ہے۔ فرمایا کہ اگر رسول کسی اجتماعی کام کے لئے دعوت دیں تو اس کو دوسروں کے بلانے کی طرح نہ سمجھو بلکہ ہر شخص کا فرض ہے کہ رسول کی ہر دعوت پر لبیک کہتا ہوا ان کی خدمت میں حاضر ہو۔ قدیعلم اللہ الذین یتسلون منکم لواذا مضارع سے پہلے یہاں فعل ناقص محذوف ہے تسلسل کے معنی چل دینے اور چپکے سے کھسک جانے کے ہیں۔ لواذا کے معنی ایک دوسرے کی آڑ اور پناہ لیتے ہیں۔ یہ منافقین کو تنبیہ ہے کہ اللہ ان لوگوں سے برابر آگاہ رہا ہے جو رسول کے بلائے ہوئے اجتماعات سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چپکے سے کھسک جایا کرتے رہے ہیں کہ پرسش…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 63–64

48: برابر کے آدمی جب ایک دوسرے کو بلاتے ہیں تو اس کی زیادہ اہمیت نہیں سمجھی جاتی، اگر کوئی اس کے جواب میں نہ جائے تو اتنا برا نہیں سمجھا جاتا، اور اگر چلا بھی جائے تو بغیر اجازت کے واپس آجانے کو بھی گوارا کرلیا جاتا ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب رسول کریم ﷺ تمہیں کسی کام کے لئے بلائیں تو اسے آپس کا بلانا نہ سمجھو، چاہے گئے چاہے نہ گئے، بلکہ اہتمام کرکے جانا ہی ضروری ہے، دوسرے یہ بات بھی معمولی نہ سمجھو کہ جب چاہو بلا اجازت اٹھ کر چلے آؤ، بلکہ جب کہیں جانا ہو تو آپ سے اجازت لے کر جاؤ۔ اسی آیت کی ایک تفسیر یہ بھی ممکن ہے کہ جب تم حضور اقدس ﷺ کو مخاطب کرو تو اس طرح نہ کرو جیسے ایک دوسرے کو نام لے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لاتجعلوا دعآ الرسول بینکم کدعآء بعضکم بعضا (24 : 63) ” مسلمانو ‘ اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا بلانا نہ سمجھ بیٹھو “۔ چاہیے کہ تمہارے دل رسول اللہ ﷺ کی محبت سے بھرے ہوئے ہوں۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے احترام میں مناسب ترین الفاظ کا انتخاب کرو۔ یہ قیادت کے لیے ایک نہایت ہی ضروری اصول ہے اس لیے کہ کسی مربی ‘ کسی استاد ‘ کسی قائد کا مناسب احترام لازم ہے اور کارکنوں کے شعور اور سلوک میں فائدہ کے احترام اور محبت ہو۔ ایک کارکن اپنے قائد کے ساتھ ضرورت سے زیادہ بےتکلف نہ ہو۔ اس کے بعد منافقین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اجازت کے بغیر کھسک جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی اوٹ لے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی حضرت ﷺ کے بلانے پر حاضر ہونا فرض ہوجاتا ہے۔ آپ ﷺ کا بلانا اوروں کی طرح نہیں کہ چاہے اس پر " لبیک " کہے یا نہ کہے۔ اگر حضور ﷺ کے بلانے پر حاضر نہ ہو تو آپ کی بددعا سے ڈرنا چاہیے کیونکہ آپ کی دعا معمولی انسانوں جیسی نہیں۔ نیز مخاطبات میں حضور ﷺ کے ادب و عظمت کا پورا خیال رکھنا چاہیے۔ عام لوگوں کی طرح " یامحمد " وغیرہ کہہ کر خطاب نہ کیا جائے " یا نبی اللہ " اور " یا رسول اللہ " جیسے تعظیمی القاب سے پکارنا چاہیے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " حضرت ﷺ کے بلانے سے فرض ہوتا تھا حاضر ہونا جس کام کو بلائیں۔ پھر یہ بھی تھا کہ وہاں سے بےاجازت اٹھ کر چلے نہ جائیں۔ اب بھی سب مسلمان کو اپنے سرداروں کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 63 لَا تَجْعَلُوْا دُعَآء الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا ط ” یعنی رسول اللہ ﷺ کا بلاوا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کے بلانے پر تم نہ جاؤ تو کوئی بڑی بات نہیں ‘ لیکن رسول ﷺ کے بلانے پر تم لبیک نہ کہو تو اپنے ایمان کی خیر مناؤ۔ اب ایک بلانا یہ بھی ہے کہ کسی شخص کو اس کے کسی دوست نے اپنے گھر کھانے کی دعوت دی اور دوسری طرف رسول اللہ ﷺ نے بھی کسی کو اپنے ہاں کھانے کی دعوت دی۔ ایسی صورت میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کجا اور ایک عام آدمی کی دعوت کجا !۔۔ لیکن ایک بلانا اللہ کے رستے میں جہاد کے لیے بلانا ہے کہ ایک طرف رسول اللہ ﷺ لوگوں کو بلا رہے ہیں کہ آؤ اللہ کی راہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

100 اس جملہ کی تین مطلب ہوسکتے ہیں اور تینوں ہی دوست ہیں۔ ایک یہ کہ رسول کو ایسے نہ بلایا کرو جیسے تم ایک دوسرے کو بےتکلفی سے بلاتے رہتے ہو۔ بلکہ اسے بلانا ہو تو اس کا پورا ادب و احترام ملحوظ رکھا کرو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر رسول تمہیں بلائے تو ایسا نہ سمجھو جیسے کوئی عام آدمی بلا رہا ہے کہ جی چاہے تو جواب دے دو یا نہ دو یا اگر جی چاہے تو اس کے پاس حاضر ہوجاؤ اور چاہے تو نہ آؤ۔ بلکہ اس کے بلانے پر تم پر واجب ہوجاتا ہے کہ تم اس کے پاس حاضر ہوجاؤ اور اس کی بات سنو پھر اسے بجا لاؤ۔ اور یہ مطلب قرآن کریم کی ایک دوسری آیت ( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

138۔ (کہ جی چاہا آئے نہ جی چاہا نہ آئے۔ بلکہ رسول کا بلانا ایک حاکمانہ حیثیت رکھتا ہے اجابت واجب ہے اور بلااجازت چلا آنا حرام) این لاتقیسوا دعاء ہ (علیہ الصلوۃ والسلام) ایاکم علی دعاء بعضکم بعضا فی حال من الاحوال (روح) قیل ھذا ھم عن الابطاء والتاخیر اذا دعاھم واختارہ المبرد والقفال وھذا القول موافق لمساق الایۃ وانظمھا (بحر) فقہاء نے کہا کہ یہی حکم امام کے لیے بھی ہے، امام المسلمین اگر اب بھی بلائے تو جانا واجب ہوگا اور بلااجازت چلے آنا ناجائز۔ جو امور مباحات میں داخل نہیں امام کے حکم کے بعد واجب ہوجاتے ہیں۔ اور امت کا کسی جگہ جمع ہونا اور جمع رہنا، جب امام کے حکم سے ہوں، واجب ہوجائیں گے البتہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 62–64

آیت نمبر 62 تا 64 ترجمہ : بس مومن تو وہی ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں، اور جب وہ اس کے ساتھ یعنی رسول کے ساتھ کسی اہم معاملہ میں جمع ہوتے ہیں جیسا کہ جمعہ کا خطبہ تو عذر پیش آنے کی صورت میں بھی اس وقت تک نہیں جاتے جب تک کہ آپ سے اجازت نہ لے لیں، جو لوگ آپ سے اجازت لے لیتے ہیں بس وہ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں تو جب یہ لوگ اپنے کسی کام کے لئے آپ سے اجازت طلب کریں تو ان میں سے آپ جس کو چاہیں جانے کی اجازت دیدیں اور آپ ان کے لئے اللہ سے مغفرت کی دعاء کیجئے بلاشبہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے تم لوگ رسول کے بلانے کو ایسا مت سمجھو جیسا تم میں ایک دوسرے کو بلا لیتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا تجعلوا دعآء الرسول بینکم کدعآء بعضکم بعضا رسول کے بلانے کو آپس میں تم ایسا نہ قرار دو جیسا تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو 1 ؂۔ دُعَآء الرَّسُوْلِمیں فاعل کی طرف اضافت ہے اور مفعول محذوف ہے ‘ مطلب یہ کہ کسی امر جامع (اجتماعی امر) کے موقع پر رسول اللہ ﷺ تم کو بلائیں تو تم فوراً حکم کی تعمیل کرو اور یہ نہ سمجھو کہ رسول کا بلاوا بھی ایسا ہی ہے جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو کہ جس کو بلایا جاتا ہے اس کا دل چاہا گیا دل نہ چاہا نہ گیا اور چلا بھی گیا تو جب ارادہ ہوا بغیر اجازت لئے اٹھ کر چلا آیا ‘ رسول کی دعوت پر لبیک کہنی فرض ہے اور بلا اجازت لئے یونہی چھوڑ کر چلا آنا حرام ہے اس تفسیر پر اس آیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(63) اور تم لوگ رسول اکرم ﷺ کو اپ کا نام لے کر ایک دوسرے کی طرح مت پکارو بلکہ تعظیم و توقیر اور عظمت کے ساتھ آپ کو پکارو کہ یا نبی اللہ اور یا رسول اللہ کہہ کر آواز دو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو دوسروں کی آڑ میں ہو کر تم میں سے مجلس نبوی ﷺ سے کھسک جاتے تھے، منافقین مسجد نبوی میں سے جس وقت نکلتے تو بغیر اجازت کے اس طرح سے کھسکتے تھے کہ کوئی ان کو دیکھنے نہ پائے۔ سو جو لوگ رسول اکرم ﷺ یا حکم خداوندی کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس چیز سے ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی آٖت نہ آن پڑے یا کوئی درد ناک عذاب نازل نہ ہوجائے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ لا تجعلوا دعآء الرسول بینکم“۔ (الخ) ابونعیم ؒ نے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَا تَجْعَلُوْا دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ۔۔ : مفسرین نے اس آیت کے تین مطلب بیان فرمائے ہیں، پہلا یہ کہ ”دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ“ کا معنی ہے رسول کا بلانا۔ اس صورت میں لفظ ”دُعَاء“ اپنے فاعل کی طرف مضاف ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ تمہیں بلائیں تو آپ ﷺ کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی طرح معمولی نہ سمجھو، کیونکہ آپ ﷺ جب بلائیں تو حاضر ہونا واجب ہوتا ہے، جب کہ آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کا یہ حکم نہیں ہے۔ یہ مفہوم یہاں زیادہ مناسب ہے، کیونکہ اس سے پہلے اجازت طلب کرنے اور امر جامع میں موجود رہنے کا بیان ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے، تمہارا رسول کو بلانا۔ اس صورت میں ”دُعَاء“ اپنے مفعول کی طرف مضاف…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا تجعلوا دعآء الرسول بینکم کدعآء بعضکم بعضاً یعنی دور سے آواز دینا : اے ابوالقاسم ! بلکہ رسول مکرم کی تعظیم کرو جیسا کہ سورة الحجرات میں فرمایا : ان الذین یغضون اصواتھم عند رسول اللہ (الحجرات :3) سعید بن جبیر اور مجاہد نے کہا : اس کا مطلب ہے تم کہو : یا رسول اللہ ! اور نرم اور عزت آمیز ملائم لہجہ میں کہو، گستاخانہ انداز میں : یا محمد ! نہ کہو۔ قتادہ نے کہا : انہیں حکم دیا کہ رسول کریم کی عزت و احترام کرو۔ حضرت اببن عبب اس رضیی اللہ عنہما نے فرمایا : اس کا مطلب ہے رسول کریم ﷺ کو ناراض کر کے اپنے خلاف دعا کا موجب نہ ہو کیونکہ آپ کی دعا قبول ہوتی ہے۔ قد یعلم اللہ الذین…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 62–63

1۔ ابن اسحاق وابن المنذر والبیہقی نے الدلائل میں عروہ اور محمد بن کعب قرظی رحمہم اللہ دونوں حضرات سے روایت کیا کہ جب غزوہ احزاب کے دن قریش بیر روحہ کے پاس مدینہ منوہ کے قریب مجمع الاسیال (کے مقام) پر اترے ان کا قائد ابو سفیان تھا اور غطفان والے آئے یہاں تک کہ احد کی جانب کی طرف تغمین کے مقام پر اترے رسول اللہ ﷺ کو خبر ملی تو آپ نے مدینہ منورہ کے اردگرد خندق کھودنا شروع کیا آپ نے اس میں خود بھی کام کیا اور مسلمانوں نے بھی اس میں کام کیا اور منافقین نے دیر لگائی اور چھوٹے چھوٹے کاموں کی وجہ سے چھپنے لگے اور اپنے اہل و عیال کی طرف چپکے سے کسک جاتے تھے رسول اللہ ﷺ کو بتائے بغیر اور اجازت لیے بغیر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَا تَجْعَلُوْا [ اور تم لوگ مت بناؤ [ دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ [ ان رسول کے بلانے کو [ بَيْنَكُمْ [ تمہارے درمیان سے (کسی کو)][ كَدُعَاۗءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ۭ] تمہارے کسی کے کسی کو بلانے کی مانند [ قَدْ يَعْلَمُ [ جان چکا ہے ][ اللّٰهُ [ اللہ ][ الَّذِيْنَ ][ ان لوگوں کو جو ][ يَتَسَلَّـلُوْنَ [ چپکے سے سٹک جاتے ہیں ][ مِنْكُمْ ][ تم میں سے ][ لِوَاذًا ۚ[ کسی کی آڑ لیتے ہوئے ][ فَلْيَحْذَرِ [ پس چاہیے کہ بچیں ][ الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ][ يُخَالِفُوْنَ [ خلاف کرتے ہیں ][ عَنْ اَمْرِهٖٓ[ ان کے حکم کے ][ اَنْ [ کہ ][ تُصِيْبَهُمْ [ آلگے ان کو ][ فِتْنَةٌ ][ فتنہ ][ اَوْ يُصِيْبَهُمْ [ یا آلگے ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(لاَ تَجْعَلُوْا دُعَاء الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَاءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا) کا ایک مطلب تو مفسرین کرام نے یہ لیا ہے جو اوپر مذکور ہوا کہ جب رسول اللہ ﷺ بلائیں تو حکم ماننا واجب ہے ضرور حاضر خدمت ہوجاؤ آپ کے بلانے کو ایسا نہ سمجھو جیسا آپس میں ایک دوسرے کے بلاوے کو سمجھتے ہیں کہ جس بلاوے کو چاہا اہمیت دی اور جس کو چاہا نظر انداز کردیا (اگرچہ اس میں بھی حقوق مسلم میں یہ بتایا کہ و یجیبہ اذا دعاہ لیکن اس درجہ کی تاکید نہیں ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی بلاوے کی اہمیت ہے جس کی خلاف ورزی حرام ہے) اور بعض حضرات نے یوں فرمایا ہے کہ دعاء الرسول میں مصدر کی اضافت مفعول کی طرف ہے اور مطلب یہ ہے کہ رسول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 62–64

حکم پانزدھم متعلق بآداب مجلس نبوی قال اللہ تعالی۔ انما ال مومن ون الذین امنوا باللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ بکل شیء علیم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں عام مجالس کے آداب کا اور عام استیذان کا ذکر تھا اب ان آیات میں خاص مجلس نبوی کے آداب بیان کرتے ہیں کہ مجلس نبوی سے جاتے وقت استیذان و اجازت لینے کی ضرورت ہے اور آپ ﷺ کے بلانے کے وقت حاضری واجب ہے اور آپ ﷺ کی مجلس سے بغیر اجازت لئے اٹھ کر چلے جانا یا آپ ﷺ کے بلانے پر حاضر نہ ہونا یہ منافقین کا شیوہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور آپ ﷺ کا ادب اور احترام ایمان کا جز ہے، چناچہ فرماتے ہیں کہ جز ایں نیست کہ کامل ایمان دار تو وہی ہیں جو صدق دل سے اللہ اور اس کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

67:۔ ” لا تجعلوا الخ “ یہ بھی ادب رسول ہے ﷺ یعنی جب خدا کا پیغمبر تمہیں بلائے تو فوراً حاضر ہوجایا کرو اور آپ کے ارشاد کی تعمیل میں تاخیر یا سستی نہ کیا کرو۔ جس طرح آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہو جب آپ کے بلانے پر حاضر ہوجاؤ تو جہاں آپ حکم دیں وہاں بیٹھو اور جب اجازت دیں تب اٹھو۔ اس صورت میں دعاء مصدر کی طرف مضاف ہوگا۔ ای اذا احتاج رسول اللہ ﷺ الی اجتماعکم عندہ لامر فدعاکم فلا تقربوا منہ الا باذنہ ولا تقیسوا دعاءہ ایاکم علی دعاء بعضکم بعضا لاخ (مدارک ج 3 ص 120) یا دعاء اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے یعنی پیغمبر (علیہ السلام) کو آواز دیتے وقت آپ کے ادب و تعظیم کا خیال رکھو۔ نہ آپ کا نام لے کر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 63–64

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ نے اہل ایمان کو آداب رسالت سکھائے تھے ان میں سے ایک ادب یہ ہے کہ اگر مسلمان نبی کی مجلس میں کسی اجتماعی کام کے لئے شرکت کر رہے ہوں تو بغیر اجازت مجلس سے نہ جائیں بلکہ اللہ کے رسول سے اجازت طلب کریں۔ اور پھر آپ کو اختیار ہے کہ کسی کو اجازت دیں یا نہ دیں۔ اگر اجازت نہیں ملی تو ایسا شخص بیٹھنے کا پابند ہے۔ اللہ نے دوسرا ادب یہ سکھلایا کہ رسول کے بلانے کو عام لوگوں کے بلانے جیسا نہ سمجھو بلکہ فوراً تعمیل حکم کرتے ہوئے حاضر ہوجائو۔ پھر فرمایا کہ رسول کی دعا کو بھی عام آدمی کی دعا کی طرح خیال نہ کرو کیونکہ اللہ کا رسول جس شخص پر خوش ہو کر دعا کرے گا۔ وہ دعا یقینا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا تَجْعَلُوْا دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاۗءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا۝ 0ۭ قَدْ يَعْلَمُ اللہُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّـلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا۝ 0ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِيْبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ يُصِيْبَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ 63 جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 62–64

ترکیب : دعاء الرسول امصدر مضاف الی المفعول۔ اے دعائکم الرسول لواذا مصدر فی موضع الحال ویجوزا ان یکون منصوبابیتسللون۔ تفسیر : یہاں سے رسول کی اطاعت کے بارے میں مدینہ کے منافقوں کی مذمت بیان ہے جو وہ اس سے پہلو تہی کرتے تھے۔ اس مناسبت کے لیے سورة کا تتمہ اسی قسم کے آداب پر کرنا ان کے دل میں کیفیت نورانی کا پیدا کردینا ہے اور ان سب امور کے مصالح اور حکمتوں کی طرف اللہ بکل شیء علیم میں اشارہ کردیا اور علم چونکہ نور ہے اس لیے کلام کو اس کے ساتھ ختم کیا۔ ابن اسحاق اور بیہقی نے دلائل میں عروہ و محمد بن کعب قرظی وغیرہما سے روایت کی ہے کہ غزوہ احزاب کے ایام میں ابوسفیان قریش کو لے کر چڑھ آیا اور دومۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لاَ تَجْعَلُوْا دُعَآئَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَـآئِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا ط قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْکُمْ لِوَاذًا ج فَلْیَحْذَرِالَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِیْبَہُمْ فِـتْـنَۃٌ اَوْیُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (النور : 63) (اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سا بلانا نہ سمجھو، اللہ تم میں سے ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے جو ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں، پس وہ لوگ جو اللہ کے رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں انھیں ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی آزمائش آجائے یا ان کو ایک دردناک عذاب آپکڑے۔ ) دعاء الرسول سے مراد اور اس کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : معاشرتی آداب کے سلسلہ میں بالخصوص سرورگرامی ﷺ کے آداب کا خیال رکھنا فرض ہے۔ صحابہ کرام ؓ کو یہ بھی ادب سکھلایا گیا کہ رسول اکرم ﷺ سے عرض کرتے ہوئے آپ کو اس طرح نہ بلایا کریں جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو دکھلاوے کے لیے آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں پھر کسی نہ کسی بہانہ سے چپکے سے کھسک جاتے ہیں۔ ان لوگوں کو اللہ کے رسول کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کے رسول کی نافرمانی کرتے ہیں ان لوگوں کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ رسول ﷺ کی نافرمانی کے نتیجہ میں انہیں کوئی بڑی مصیبت آپہنچے یا وہ عذاب الیم میں مبتلا کیے جائیں۔ اللہ کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

63: لَاتَجْعَلُوْا دُعَآ ئَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَآ ئِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا (رسول اللہ ﷺ کے بلانے کو ایسا قرار نہ دو جیسا تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو) جب رسول اللہ ﷺ کو کسی اجتماعی معاملے کیلئے تمہاری ضرورت ہو اور وہ تمہیں بلائیں تو ان کے بلانے کو ایک دوسرے کے بعض امور کیلئے بلانے پر قیاس نہ کرو۔ اور بلا اذن مجمع سے لوٹنے کو اپنے مجمع کی طرح مت خیال کرو۔ آپ کا نام عظمۃً لو : یا نمبر 2۔ آپ ﷺ کا نام لے کر حضور ﷺ کو مت بلائو جیسا کہ تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ اس کا وہ نام لیتے ہو جو اس کے والدین نے رکھا ہو تم یا محمد (a) کہہ کر مت آواز دو ۔ بلکہ یا نبی اللہ اور یارسول اللہ جیسے تو قیرو عظمت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

63۔ لاتجعلوادعاء الرسول بینکم ، ،، ،،۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے فرماتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر یہ ہے کہ تم کو انکی بددعا سے ڈرتے رہنا چاہیے ، ان کی بددعا موجب عذاب ہے دوسروں کی بددعا کی طرح نہیں ہے مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ تم آپ کو نام لے کر نہ پکارو تم میں سے بعض بعض کو پکارتے ہیں اس طرح نہ پکارو، یامحمد، یاعبداللہ، لیکن تعظیم اور تکریم کے ساتھ بلاؤ، بلکہ یوں کہو، یانبی اللہ، یارسول اللہ (ﷺ ) ” قد یعلم اللہ الذین، ،، جو پوشیدہ طریقے سے نکالتے ہیں۔ منکم لواذا، ایک دوسرے کی آڑ میں جائیں جب ان کو کسی کا خوف آجائے پھر وہ خوف چلاجاتا ہے ، لواذا مصدر ہے ، لاوذ، یلاوذہ، ملاوذۃ، ولواذا، بعض…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

63:۔ اوپر ذکر تھا کہ بعضے منافق بغیر پروانگی اللہ کے رسول کے لشکر اسلام کا ساتھ چھوڑ کر گھر آن بیٹھے اور جھوٹے عذر پیش کر کے لشکر اسلام کی شراکت کو ٹال گئے ‘ ایسے لوگوں کے حق میں فرمایا کہ اے لوگو اس طرح کے دغا بازی کے کام کرکے اللہ کے رسول کی بددعا نہ لو ‘ کیونکہ اللہ کے رسول کی بد دعا عام لوگوں کی بددعا جیسی نہیں ہے ‘ مکہ کے سرکش لوگوں نے اللہ کے رسول کی بددعا کے اثر سے قحط کی سخت آفت جو اٹھائی ‘ اس قصہ سے تم لوگوں کو عبرت پکڑنی اور اللہ کے رسول جو چلے جاتے ہیں اور اپنے دل سے سمجھتے ہیں کہ تمہاری اس دغابازی کو کوئی نہیں جانتا یہ تمہاری نادانی ہے ‘ کیونکہ آسمان و زمین کی کوئی شے اللہ کے علم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 62–64

آیت نمبر 62 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سی اپنے مومن بندوں کے لئے ارشاد ہے کہ جب وہ کسی جامع معاملے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوں، یعنی آپ کی ضرورت اور مصلحت مثلاً جہاد اور مشاورت وغیرہ میں، جہاں اہل ایمان کا اشتراک عمل ہوتا ہے۔۔۔ تو اس معاملے میں اکٹھے رہیں کیونکہ مصلحت ان کے اجتماع و اتحاد اور عدم تفرق و تشتت کا تقاضا کرتی ہے۔۔۔ اللہ اور اس کے رسول پر سچا ایمان رکھنے والا رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد آپ کے نائب کی اجازت کے بغیر اپنے گھر لوٹتا ہے نہ اپنی کسی ضرورت سے دیگر مومنوں کو چھوڑ کرجاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اجازت کے بغیر نہ جانے کو موجب ایمان قرار دیا ہے اور اس فعل پر نیز رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 63–64

حضور ﷺ کو بلانے میں تعظیم وادب ملحوظ رہے قول باری ہے :(لا تجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا) مسلمانو، اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سا بلانا نہ سمجھ بیٹھو۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ” تم رسول کو ناراض نہ کرکے ان کی بددعا سے بچتے رہو ، کیونکہ ان کی بددعا قبول ہوجاتی ہے، ان کی مانگی ہوئی دعا دوسروں کی دعائوں کی طرح نہیں ہوتی۔ “ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ ” رسول کو بڑی نیاز مندی اور تعظیم سے بلا یا کرو مثلاً ” یارسول اللہ ! “ ، ” یانبی اللہ ! “ کہہ کر پکارا کرو۔ نام لے کر نہ پکارا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو اس کا نام لے کر پکارتے ہو۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 63–64

141 پیغمبر کی دعا و پکار کے بارے میں اہل ایمان کو ایک خاص ہدایت و تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ اے ایمان والو رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کے بلانے کی طرح نہ سمجھنا "۔ کہ جس طرح تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو ایسے حضور کو صریح نام کے ساتھ نہ پکارنا۔ یعنی آپ کو " یا محمد " یا " یا عبد اللہ " کہہ کر نہ پکارنا۔ (ابن کثیر، محاسن، صفوہ وغیرہ) کہ اس طرح آپ ﷺ کو نام لیکر پکارنا درست نہیں۔ بلکہ آپ ﷺ کو کسی و صف کے ساتھ پکارا کرو۔ جیسے " یا رسول اللہ "، " یانبی اللہ " وغیرہ کے صریح نام کے ساتھ پکارنا ایک طرح کا گنوار پن اور ادب کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ چناچہ پورے قرآن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 62–64

رسول کریم ﷺ کو بلانے کے آداب اور آپ کی نافرمانی پر سزا تشریح : لوگوں کو آپس میں مل جل کر رہنے سہنے اور معاملات زندگی کے بہت سے پہلوئوں کو واضح کرنے کے بعد اب اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے کہ تمام معاملات میں آنحضرت ﷺ کے معاملات میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا درجہ دیا ہے۔ بلکہ تمام انبیاء میں بھی آپ کو فضیلت اس طرح ملی ہے کہ آپ آخری نبی ہیں۔ کیونکہ آپ کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا نہ کوئی شریعت اور نہ کوئی دین۔ تو ظاہر ہے ایسے عظیم الشان محسن انسانیت، حامل قرآن کی عزت و توقیر کسی بھی عام انسان کی طرح نہیں ہوسکتی۔ بلکہ آپ کے بلاوے پر فوراً حاضر ہونا۔ محفل کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 62–64

(رکوع نمبر 9) اسرارومعارف یقینا ایماندار وہی لوگ ہیں جو ہر اہم بات پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے ہیں یا آپ ﷺ کے ارشاد کی تعمیل کے لیے جمع ہوجاتے ہیں اور کتنی بھی مجبوری ہو نہ غیر حاضر ہوتے ہیں اور نہ بغیر اجازت واپس جاتے ہیں ۔ (امیر اور شیخ کا منصب) یہی منصب اسلامی امیر یا شیخ کا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور اسلام پر عمل یا اس کی ضرورت ہی کے لیے طلب کرتا ہے تو مومن کبھی ارادۃ کوتاہی نہیں کرتا اگر بہت زیادہ مجبوری ہو تو حاضر ہو کر اجازت طلب کرتے ہیں اور جو بلانے پر حاضر ہوجاتے ہیں تب اپنی مجبوری کا اظہار کرکے اجازت چاہتے ہیں ، ایسے لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ایمان رکھنے والے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ یعنی معمولی نہ سمجھو کہ جی چاہا آگئے اور جی میں آیا تو نہ آئے بلکہ ان کی دعوت پر لبیک کہو۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : حضرت ﷺ کے بلانے سے فرض ہوتا تھا حاضر ہونا جس کام کو بلاویں۔ پھر یہ بھی تھا کہ بےحکم چلے نہ جاویں۔ یا آیت کے معنی یہ ہیں کہ : ” رسول ﷺ کی دعا کو عام لوگوں کی سی دعا نہ سمجھو “۔ یا ” رسول ﷺ کو ایسے نہ پکارو جیسے لوگ ایک دوسرے کو پکارتے ہیں “ یعنی آواز دھیمی رکھ کر نہایت ادب و احترام سے پکارو۔ “ ” دعاء لرسول “ کے یہ تینوں معنی مفسرین نے بیان کئے ہیں اور تینوں موقع و محل کے لحاظ سے صحیح ہے۔ (شکانی) 8 ۔ یہ منافقین کا شیوہ تھا جیسا کہ متعدد روایات میں اس کا ذکر ہے۔ 9 ۔ آیت میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(24:63) لا تجعلوا۔ فعل نہی جمع مذکر غائب۔ نہ سمجھو، نہ بنا لو۔ دعائ۔ پکارنا۔ بلانا۔ دعا کرنا۔ سوال کرنا وغیرہ۔ دعا یدعوا کا مصدر ہے۔ یہاں دعا سے اس کے جملہ معانی مراد ہیں۔ یتسللون۔ مضارع جمع مذکر غائب تسلل (تفعل) مصدر۔ وہ کھسک جاتے ہیں۔ وہ چپکے سے کھسک جاتے ہیں۔ لواذا۔ لواذ اور ملاوذۃ۔ لا وذ یلاوذ کے مصدر ہیں۔ باہم ایک دوسرے کی آڑ لینے اور پناہ لینے کو کہتے ہیں۔ یعنی ایک دوسرے کی آڑ میں ایک کے بعد ایک چپکے سے سرک جاتا ہے۔ فلیحذر الذین۔ فا تعقیب کی ہے۔ لیحذر۔ فعل امر۔ واحد مذکر غائب حذر مصدر۔ (باب سمع) ڈریں۔ ان کو چاہیے کہ ڈریں۔ یخالفون عن امرہ۔ ای یصدون عن امرہ۔ وہ اس کے حکم سے روکتے ہیں۔ وہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 62–64

لغات القرآن : آیت نمبر 62 تا 64 : امر جامع (اہم کام۔ اکٹھا کرنے والے کام) ‘ شأ ن (کام) ‘ دعاء الرسول (رسول کابلانا) یتسللون (تسلل) کھسک جاتے ہیں۔ چلے جاتے ہیں۔ لواذ (ایک دوسرے کے پیچھے چھپنا۔ آڑلینا۔ پناہ لینا ‘ (الا) سنو۔ غور سے سنو ‘ ینبیٔ(وہ بتادے گا۔ اگاہ کردے گا) ۔ تشریح : آیت نمبر 62 تا 64 : جب نبی کریم ﷺ کے سامنے کوئی اہم ‘ ضروری اور اجتماعی مسئلہ درپیش ہوتا تو آپ مشورے کے لئے صحابہ کرام ؓ کو جمع فرماتے اور مشورے کے بعد کوئی فیصلہ فرمایا کرتے تھے اور صحابہ کرام ؓ کو یہ بتاتے تھے کہ فلاں کام کو اس طرح کرو۔ ادب یہ سکھایا گیا کہ جب لوگوں کو بلایا جائے تو وہ حاضر ہوجائیں اور اس وقت تک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–64

(ف 2) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ بعض آدمی نبی ﷺ کو ان کے نام لے کربلایا کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ جس طرح تم لوگ باہم ایک دوسرے کو بلایا کرتے ہو اس طرح اللہ کے رسول کو نہ بلاؤ، بلکہ ان کے نام کی تعظیم و تکریم کیا کرو نرم آواز کے ساتھ متواضعانہ ومنکسرانہ لہجہ میں۔ یا نبی اللہ، یارسول اللہ، یا حبیب اللہ کہہ کر۔ ان رسول کی اللہ پاک کے ہاں وہ عزت ہے کہ اللہ پاک نے کبھی نام لے کر پکاراہی نہیں مگر جہاں غایت شفقت اور محبت کے ساتھ خطاب کیا جب ہم اپنے رسول کو نام لے کر بسبب ان کے کمال عزت کے نہیں پکارتے تو ہم غیروں سے کب گواراکریں کہ ان کا نام لے لے کر پکارا کریں جیسے آپس میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 61–64

[63] مطلب یہ ہے کہ معذور و محتاج لوگوں کو تندرستوں کے ساتھ کھانے میں کچھ حرج نہیں۔ جاہلیت میں اس قسم کے محتاج و معذور آدمی اغنیاء اور تندرستوں کے ساتھ کھانے سے رکتے تھے۔ انھیں خیال گزرتا تھا کہ شاید لوگوں کو ہمارے ساتھ کھانے سے نفرت ہو اور ہماری بعض حرکات سے ایذا پہنچتی ہو۔ اور واقعی بعضوں کو نفرت و وحشت ہوتی بھی تھی۔ نیز بعض مسلمانوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسے معذوروں اور مریضوں کے ساتھ کھانے میں شاید اصول عدل و مساوات قائم نہ رہ سکے۔ اسی بناء پر ساتھ کھلانے میں احتیاط کرتے تھے کہ حق تلفی نہ ہو۔ دوسری ایک اور صورت پیش آتی تھی کہ یہ معذور محتاج لوگ کسی کے پاس گئے۔ وہ شخص استطاعت نہ رکھتا تھا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 63–64

(ف 1) حرمت رسول ﷺ کے بارہ میں صاف طور پر فرمایا کہ رسول ﷺ کے حکموں کو ایسا نہ سمجھنا جس طرح تم ایک دوسرے کو مخاطب کرکے حکم دیتے ہو یعنی خواہ ان پر عمل کرو یا نہ کرو ، رسول کی ہر بات واجب تعمیل ہے ، اور جو لوگ اس کے ارشادات کو نہیں مانتے ، اور اپنے لئے ان ارشادات کو صحیح اور سند نہیں سمجھتے ان کو ڈرنا چاہئے ، کہ اس انکار کی بنا پر کسی آفت یا اللہ کے عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں ، بعض کی رائے میں آیت کا مقصد یہ ہے کہ رسول ﷺ کو عام تخاطب کے انداز میں مخاطب نہ کیا جائے بلکہ حرمت وحترام کو مدنظر رکھ کر یا رسول اللہ یا نبی اللہ وغیرہ الفاظ سے پکارا جائے ، بعض اکابر کی رائے میں اس سے مراد ہے کہ حضور ﷺ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(63) تم لوگ رسول (علیہ السلام) کے بلانے کو ایسا معمولی بلانا نہ سمجھو جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلا لیا کرتے ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے کسی کی آڑ میں ہوکر چپکے سے کھسک جاتے ہیں لہٰذا وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس بات سے ڈرناچاہئے کہ ان پر کوئی آفت و مصیبت آپڑے یا ان پر دردناک عذاب نازل ہوجائے۔ اس آیت میں مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو تعظیم و توقیر کے ساتھ پکارا کرو یہ نہیں جس طرح آپس میں ایک دوسرے کا نام لیکریا کنیت یا عرف سے پکارتے ہو اسی طرح پیغمبر ﷺ کو بھی یا محمد ابو القاسم کہہ کر پکارنے لگو بلکہ اگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 63–64

ف 6۔ کہ چاہئے آیا یا نہ آیا۔ پھر آکر بھی جب تک چاہا بیٹھا چاہا اٹھ کر بےاجازت لئے چل دیا۔ رسول اللہ ﷺ کا بلانا ایسا نہیں ہے اور بےاجازت جانا حرام۔ 7۔ یہ وجوب استیذان اس وقت ہے جب بلائے ہوئے آویں، یا کسی مشورہ وغیرہ کے لئے بذریعہ خاص اعلام یا عام اعلان کے، ورنہ حضور ﷺ کی مجلس میں بارہا لوگ خود حاضر ہوئے اور خود چلے گئے، ان پر ملامت نہیں کی گئی، اور اب بھی امام المسلمین اگر لوگوں کو جمع کرتے تو بےاجازت اس کی جانا جائز نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رسول اللہ ﷺ کا بلانا ایسا نہیں جیسا تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو : 106۔ مسلمانوں کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا بلانا تمہارے ایک دوسرے کو بلانے کی طرح نہیں کیونکہ ایکد وسرے کا بلانا ذاتی یا دنیوی ضروریات کے لئے ہوتا ہے اور رسول کا بلانا محض اللہ تعالیٰ کے لئے ہے ۔ زیر نظر آیت میں لفظ (دعآئ) استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی بلانے کے بھی ہیں اور دعا کرنے کے بھی اس لئے (دعآء الرسول) کے معنی رسول اللہ ﷺ کو بلانے کے بھی ہوسکتے ہیں اور دعا کرنے کے بھی اور اس طرح رسول کو پکارنے بھی اس لئے آیت کا مفہوم تین طریقہ سے بیان کیا جاسکتا ہے اور ہر طریقہ کا مفہوم مراد لیا جاسکتا ہے ۔ 1۔ ” رسول اللہ ﷺ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–64

لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّ‌سُولِ بَيْنَكُمْ Do not take the call of the messenger among you as a call of one of you to another - 24:63. One explanation of this verse is that "call of the messenger" means calling of the people by the Holy Prophet ﷺ (which implies that "call" is the act of the messenger). Thus the meaning of the verse is, when the Holy Prophet ﷺ call people, it should not be taken as a common call of an ordinary person, in which one has the choice to go or not to go. In the case of a call by the Holy Prophet ﷺ it becomes obligatory to go to him and leaving the meeting…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–64

102. Dua means to summon, to pray and to call. Dua-ar- Rasul, therefore, may mean summoning or praying by the Messenger or calling the Messenger. The verse can thus have three meanings which would all be equally correct; (a) The Prophet’s summons should not be treated as a common man’s summons, for the Prophet’s summon is of extraordinary importance, which you cannot ignore, because if you fail to respond to it, or feel hesitant about it, you will be doing so at the very risk of your faith. (b) Do not consider the Prophet’s prayer as a common man’s prayer. If he is pleased with you and prays…

Read the full tafseer →